سر ورق / ناول / ان لمحوں کے دامن میں.. مبشرہ انصاری .. قسط نمبر 3

ان لمحوں کے دامن میں.. مبشرہ انصاری .. قسط نمبر 3

ان لمحوں کے دامن میں

مبشرہ انصاری

قسط نمبر 3

”یہ جو کچھ بھی تم کر رہی ہو…. ان سب کے پیچھے مقصد کیا ہے تمہارا؟“

وہ جو، خوبصورت نظاروں کو ذہن نشین کرنے میں گم تھی…. عقب سے اُبھرتی طنزیہ آواز سماعت سے ٹکراتے ہی پلٹی…. آشلے ایک ادا سے کھڑی، نفرت بھری نگاہوں سے اس کی جانب دیکھ رہی تھی….

”میں سمجھی نہیں…. تم کس بارے میں بات کر رہی ہو؟“

وہ واقعی حیران تھی…. آشلے کے انگلش میں پوچھے جانے والے سوال پر اس نے بھی انگلش میں ہی سوال پوچھ ڈالا….

”تم جان بوجھ کر خود کو اس طرح تن تنہا اور اکیلا ظاہر کر کے، الحان ابراہیم کی تمام تر توجہ اپنی جانب مبذول کرانے کی کوشش کر رہی ہو….“

آشلے کی نگاہوں میں نفرت اور الفاظ سے ٹپکتا زہر، واضح طور پر عیاں تھا۔ ایک طنزیہ مسکراہٹ اپنے آپ مانہ کے خوبصورت گلابی لبوں پر پھیلتی ہی چلی گئی….

”Yeah!…. تمہیں جو سوچنا ہے سوچو…. جو سمجھنا ہے سمجو…. مجھے کوئی پرواہ نہیں کہ تم میرے بارے میں کیا سوچتی سمجھتی ہو…. اس لیے پلیز…. اپنی یہ اکڑ اپنے اندر ہی رکھو تو زیادہ بہتر ہے….“

جواباً آشلے ایک لمبی سانس کھینچتی اپنی بڑی بڑی خوبصورت آنکھیں مزید پھیلاتے ہوئے بولی….

”تم کچھ بھی کر لو…. تمہیں آج (روز) کسی صورت نہیں ملنے والا….اور مجھے تو یہ بات سمجھ میں نہیں آ رہی کہ آخر کیا سوچ کر تم اس شو میں چلی آئی۔ اور تمہیں لگتاہے کہ یہ سب کر کے تمہارے اس شو میں ٹِکے رہنے کے چانسز بھی ہیں…. واﺅ! داد دینی پڑے گی تمہاری ہمت کی….“

”اوہ…. مجھے لگتا ہے کہ میں ایک رئیلٹی شو میں جانے کے بجائے، غلطی سے کسی رن وے پروجیکٹ کا حصہ بننے چلی آئی ہوں…. اوہ مائے گاڈ!“

مانہ کا تضحیکانہ انداز آشلے کو اچھاخاصہ سبق چکھا چکا تھا، تبھی وہ اپنے غصے کو کنٹرول کیے گھورتی نگاہوں سے مانہ کو دیکھتی لمبے لمبے سانس کھینچنے لگی تھی….

”اب تم جا سکتی ہو…. اور ہاں…. مجھے وزٹ کرنے کے لیے تمہارا بہت بہت شکریہ….“

اپنے ہی انداز میں بولتی مانہ ایک بار پھر سے پلٹ کر ان خوبصورت نظاروں کو ذہن نشین کرنے میں مصروف ہو گئی تھی…. آشلے جس کا بس نہ چل رہا تھا کہ وہ غصے میں نجانے کیا کر ڈالے…. خود پر کنٹرول کرنے کے باوجود اپنے زہرخند لہجے میں گویا ہوئی….

”تم جیسی لڑکیاں زندگی میں کامیابی حاصل کیوں نہیں کر پاتیں…. فنا کیوں ہو جاتی ہیں…. مجھے ہرگز تعجب نہیں…. کہ کیوں؟….“

وہ جاتے جاتے بھی زہر اُگل گئی تھی…. مانہ نے پلٹ کر اسے جواب دینا ضروری ہرگز نہ سمجھا تھا…. وہ اب مزید اس سے الجھنا نہیں چاہتی تھی…. اسے بس اپنے کام سے غرض تھی…. اور وہ وہی کر رہی تھی….

ض……..ض……..ض

یاٹ زور و شور سے اپنی منزل کی طرف رواں دواں تھی…. ہر طرف پانی ہی پانی تھا…. نیلا، شفاف، گہرا گہرا پانی…. پانی کے اوپر وسیع نیلا آسمان…. اور نیلے وسیع آسمان پر سفید بادل اٹکھیلیاں کرتے دکھائی دے رہے تھے…. اس گہرے نیلے پانی پر دور سے ہی ایک خوبصورت جزیرہ اُبھرتا دکھائی دیا تھا…. جوں جوں یاٹ جزیرے کے قریب تر پہنچتی جا رہی تھی…. وہ جزیرہ اپنی پوری آب و تاب سے اس یاٹ میں موجود تمام لوگوں کا استقبال کرتا دکھائی دے رہا تھا…. نیلے نیلے پانی کی لہریں سفید ریتلے ساحل کو چھوتیں، اٹھلاتی، بل کھاتی، واپس سمندر کی جانب بڑھ جاتیں….اونچے اونچے ہرے ہرے درخت پہلی ہی جھلک میںدل موہ لینے کے لیے کافی تھے…. ساحل پر پہنچتے ہی تمام حسینائیں اک خواب کی سی کیفیت چہروں پر سجائے بنا پلکیں جھپکائے، ٹکٹکی باندھے اس خوبصورت جزیرے کا جائزہ لینے لگی تھیں…. جزیرے کی فضا میں اک الگ قسم کی دل موہ لینے والی خوشبو معطر تھی…. مانہ آنکھیں موندے،ایک لمبا سانس کھینچتی اس دل موہ لینے والی فضا کو اپنے اندر جذب کرنے لگی تھی…. وہ جزیرہ اسے اس دنیا سے بالکل جدا سا لگ رہا تھا…. ایسے جیسے جنت کا ایک ٹکڑا سمندر کے بیچ و بیچ آن ٹھہرا ہو…. اگلے ہی پل سبزہ زاروں سے بھرپور خوبصورت ڈیکوریٹڈ جزیرہ چہکتی آوازوں سے گونج اٹھا تھا…. کچھ دور چلتے ہی ایک بڑے سے خوبصورت تراشیدہ لکڑی سے بنے محل نے ان تمام لوگوں کا استقبال کیا تھا…. عاشرزمان اپنی بقیہ تمام ٹیم سمیت پہلے سے ہی وہاں پر موجود تھا….

”لیڈیز!“

خوبصورت ڈیکوریٹڈ سٹنگ ایریا میں پہنچتے ہی شو کے ہوسٹ خرم نے اپنے پُرجوش انداز میں تمام حسیناﺅں کو اپنی جانب متوجہ کیا تھا…. اردگرد کا نظارہ کرتی تمام حسینائیں اب کے براہ راست خرم کی جانب دیکھنے لگی تھیں…. تمام کیمرے حسیناﺅں، خرم اور خرم کے ساتھ کھڑے الحان کو فوکس کیے ہوئے تھے….

”آپ تمام حسیناﺅں کے سوٹ کیسز، آپ کے حوالے کرنے سے پہلے ہمیں ایک کام کرنا ہے…. اور یہ مشکل کام ہم سب کو نہیں…. بلکہ صرف اور صرف الحان ابراہیم کو کرنا ہے….“

خرم نے مسکراتے ہوئے الحان کی جانب اشارہ کیا تھا….

”ٹاپ 15 کی سلیکشن کے لیے، الحان اس ٹیبل پر رکھے 15 وائٹ روزز پک کریں گے اور ون بائے ون ان لکی ٹاپ 15 لیڈیز کا نام پکاریں گے…. یہ روز ملتے ہی ان تمام لکی ٹاپ 15 لیڈیز کو اپنا اپنا سامان اَن پیک کرنے کا چانس ملے گا…. لیکن صرف ہماری اگلی ایلیمنیشن تک بس….“

تمام لڑکیاں منہ لٹکائے کھڑی تھیں…. خرم ان تمام لیڈیز کا ری ایکشن دیکھتے ہی دھیمے سے مسکرا کر ایک بار پھر سے گویا ہوا تھا….

”الحان! کیا تم تیار ہو…. اس مشکل فیصلے کے لیے؟“

خرم شرارت پر آمادہ تھا….

"No!”

الحان بجھی بجھی مسکراہٹ لبوں پر سجائے دھیمے سے گویا ہوا تھا…. مانہ، الحان کے انداز پر منہ چڑا کر رہ گئی تھی…. کیونکہ وہ جانتی تھی کہ الحان یہ سب صرف اور صرف کیمروں کے لیے کر رہا ہے…. ہاں…. وہ ایکٹنگ ہی تو کر رہا تھا….

”لیکن میرے پاس اور کوئی چوائس بھی تو نہیں ہے….“

کیا خوب ایکٹنگ کر رہا تھا…. وہ خود اپنی ایکٹنگ سے متاثر ہونے لگا تھا….

”تھوڑا ڈر لگ رہا ہے….“

اپنی بات مکمل کرتا وہ نظریں اٹھا کر سامنے کھڑی تمام 25 حسیناﺅں کی جانب دیکھنے لگا تھا…. ایک ایک کر کے تمام لڑکیوں پر نظر دوڑاتاآخر میں وہ سب سے اینڈ پر کھڑی مانہ کی جانب دیکھتے ہی ایک الگ انداز سے مسکرا دیا تھا…. اسکی اس مسکراہٹ میں اک شرارت سی چھپی تھی….

”گڈ لک لیڈیز!“

خرم ہاتھ کے اشارے سے گڈ لک کرتا کیمروں کے پیچھے، چھوٹی سی سکرین کے سامنے بیٹھے عاشرزمان کے عقب میں جا کھڑا ہوا تھا…. تمام کیمراز اب کے الحان ابراہیم پر فوکس کر دیئے گئے تھے….

”میں آپ تمام لیڈیز سے یہی کہنا چاہتا ہوں کہ آج مجھے آپ سب کے ساتھ وقت گزار کر بہت اچھا لگا…. لیکن مجھے افسوس ہے کہ آپ تمام لیڈیزمیں سے صرف 15 لیڈیز کو ہی مجھے سلیکٹ کرنا ہے…. یقینا آپ سب بہت اچھی نیچر اور ویل پرسنالٹی کی مالکہ ہیں…. بٹ…. آئی ایم رئیلی سوری!….“

تمام لیڈیز کے چہرے واضح طور پر مرجھائے دکھائی دے رہے تھے…. بس ایک مانہ تھی جو بالکل نارمل کھڑی کیمروں کے پیچھے ہوتی سب حرکات کا بہت باریک بینی سے جائزہ لیتی دکھائی دے رہی تھی…. وہ خوش بھی تھی…. آخرکار اس آخری مرحلے کے بعد اس کی اس سٹوپڈ شو سے جان چھوٹ جانے والی تھی….

الحان نے سامنے رکھی ٹیبل پر سے ایک وائٹ روزاٹھاتے ہی اگلے پل آشلے کا نام پکار ڈالا تھا….

اپنا نام سماعت سے ٹکراتے ہی آشلے نے خوشی کی اک لمبی سانس کھینچی اور بڑے پراﺅڈ سے چلتی الحان کے سامنے جا کھڑی ہوئی….

"I’m hoping to know you better!”

سفید گلاب آشلے کی جانب بڑھاتے ہی وہ اپنے انداز میں گویا ہوا تھا….

”تھینک یو!“

آشلے گلاب پکڑتی ممنون نگاہوںسے اس کا شکریہ ادا کرتی تمام لڑکیوں سے دور الحان کی دوسری جانب جاکھڑی ہوئی….اگلا گلاب اٹھاتے ہی اس نے سحر کا نام پکار ڈالا…. وہ بھی خوشی سے اچھلتی، گلاب پکڑتی، آشلے کے برابرجا کھڑی ہوئی…. ایک کے بعد ایک تیرہ لڑکیوں کے نام پکارے گئے…. یہ مرحلہ کافی دیر تک چلتا رہا تھا…. کھڑے کھڑے مانہ کے پاﺅں درد کرنے لگے تھے…. وہ بے چینی کے عالم میں کبھی ایک ٹانگ کے سہارے کھڑی ہوتی تو کبھی دوسری کے…. اب کے آخری مراحل میںوہ بالکل سیدھی ہو کھڑی ہوئی تھی…. دو روزز باقی رہ گئے تھے…. مانہ بے چینی سے یہ مرحلہ ختم ہونے کا انتظار کررہی تھی…. الحان نے سیکنڈ لاسٹ روز اٹھاتے ہی مسکان کا نام پکارا تھا…. اپنا نام پکارے جانے پر خوشی کی اک لہر واضح طور پرمسکان کے چہرے پر دوڑتی دکھائی دی تھی…. گلاب تھامتی وہ بھی سلیکٹ کی جانے والی تمام لڑکیوں کے برابر جا کھڑی ہوئی….

آخری گلاب اٹھاتے ہی الحان نے سامنے کھڑی گیارہ لڑکیوں کی جانب اک خاموش نگاہ دوڑائی…. سلیکٹ نہ کی جانے والی دس لڑکیاں منہ بسورے کھڑی تھیں…. گیارہویںلڑکی مانہ تھی…. اسے اس بات کی جلدی تھی کہ الحان اپنا آخری گلاب ان دس لڑکیوں میں سے کسی کو تھما کر جلدی سے اسے اس شو سے نجات دے ڈالے…. الحان چند ثانیے خاموش کھڑا ان گیارہ لڑکیوں کی جانب تکتا رہا…. اور پھر گہری سانس لیتے ہی اس نے وہ نام لے ڈالا جس نام کی وہاں موجود تمام لوگوں میں سے شاید کسی کو بھی توقع ہرگز نہ تھی….

”مانہ….!“

اسے اک دھچکا سا لگا…. اسے لگا کہ جیسے اس کی سماعت نے دھوکہ کھایا ہے۔ وہ بے یقینی کے عالم میں بھنویں اُچکا کر رہ گئی…. اسے تو گھر جانے کی جلدی تھی…. لیکن…. وہ اب براہ راست الحان کی جانب دیکھنے لگی تھی، جو اسی کی جانب دیکھتے ہوئے شرارت سے مسکرا رہا تھا….

”یہ نہیں ہو سکتا….“

وہ منہ ہی منہ میں بڑبڑائی….

”نہیں….“

وہ مکمل طور پر صدمے سے دوچار تھی….

”میں انکار کر سکتی ہوں….“

لیکن نہیں…. وہ انکار نہیں کر سکتی تھی…. عاشرزمان سے کیا گیا کانٹریکٹ اسے اچھی طرح سے یاد تھا…. سراسیمہ حیران کھڑی وہ کیمروں کے پیچھے بیٹھے عاشر زمان کی جانب دیکھنے لگی…. عاشرزمان خود حیران دکھائی دے رہا تھا…. مانہ کو اپنی جانب دیکھتے ہی عاشر نے اپنے دونوں ہاتھ اٹھا کر کندھے اُچکا ڈالے تھے….

وہ انکار نہیں کر سکتی تھی…. ایگریمنٹ کے دوران عاشر نے واضح طور پر اس شو کا رول اسے اچھی طرح سے سمجھا دیا تھا اور بتا دیا تھا کہ جب تک الحان خود اسے ایلیمنیٹ نہیں کرتا، وہ شو چھوڑ جانے اور گلاب لینے سے انکار ہرگز نہیں کر سکتی….

نڈھال قدموں سے چلتی وہ الحان کے سامنے جا کھڑی ہوئی….

شریر مسکان لبوں پر سجائے وہ گلاب تھامے مانہ ہی کی جانب دیکھ رہا تھا…. کھا جانے والی نظروں سے اس کی جانب دیکھتی،اس کے ہاتھوں سے گلاب کھینچتی وہ سلیکٹ کی جانے والی چودہ لڑکیوںکے بیچ جا کھڑی ہوئی…. کتنا غصہ، کتنی نفرت تھی ان آنکھوں میں…. الحان نے واضح طور پر محسوس کیا تھا…. اور پھر آندھی طوفان کی سی تیزی سے اس کا پھول کھینچ کر سلیکٹ کی جانے والی لڑکیوں میں جا کھڑا ہونا بھی الحان نے واضح طور پر محسوس کیا تھا…. خرم ایک بار پھر سے آن وارد ہوا تھا…. کیمرے جب تمام 15 سلیکٹ کی جانے والی لڑکیوںسے ہٹ کر خرم کو فوکس کرنے لگے تو موقع سے فائدہ اٹھاتی وہ بجلی کی سی تیزی سے مڑی اور تقریباً دوڑتی ہوئی غلام گردش میں چلی آئی…. شدید غصہ کے عالم میں وہ دوڑتی ہوئی نجانے کہاں کی جانب جا رہی تھی….

”کہاں جا رہی ہو تم؟“

فاطمہ کی آواز اس کے کانوں سے ٹکرائی تھی، مگر وہ سنی اَن سنی کرتی دوڑتی چلی گئی….

”رُک جاﺅ منہ!“

”پلیز مجھے کچھ دیر کے لیے اکیلا چھوڑ دیں….“

”میں ایسانہیں کر سکتی…. آپ لڑکیوں کی حفاظت کرنا میری جاب ہے….“

وہ رُکی اور پلٹ کر فاطمہ کی جانب دیکھنے لگی….

”میرے سر میں شدید درد ہے…. مجھے تنہائی اور آرام کی اشد ضرورت ہے….“

”چلو…. میں تمہیں تمہارے کمرے تک چھوڑ کر آتی ہوں….“

چند ثانیے خاموش رہنے کے بعد وہ فاطمہ کے تعاقب میں چلتی اپنے کمرے کی جانب بڑھنے لگی….

”تمہارے ساتھ مسکان روم شیئر کرنے والی ہے…. اکر طبیعت زیادہ خراب ہے تو ڈاکٹر کو بلا دوں….؟“

فاطمہ نے روم شیئر کرنے کی اطلاع دےتے ہی پوچھا….

”یہاں ڈاکٹر موجود ہے؟“

”بالکل موجود ہے…. Island پر کوئی ہوسپٹل تو واقع ہے نہیں کہ کسی کی طبیعت اچانک خراب ہو جانے پر ہوسپٹل لے جایا جائے…. اس لیے ہم نے پہلے ہی تمام انتظامات مکمل کر کے رکھے ہیں….“

فاطمہ روم کی جانب بڑھتے ہوئے تفصیلاً اسے اپنی ٹیم کے متعلق بتانے لگی تھی….

”اوکے! میں تھوڑا ریسٹ کروں گی تو ٹھیک ہو جاﺅں گی….“

اس نے جلدی سے ایک جھوٹ گھڑا….

لکڑی کی خوبصورت سیڑھیاں عبور کرتے ہی قطار میں بنے سامنے کمروں کی راہداری میں فاطمہ کے تعاقب میں چلتی وہ آخری ساتویں روم کے دروازے پر جا رُکی….

”تمہارا سامان روم میں رکھوا دیا گیا ہے….“

اثبات میں سر ہلاتی، دروازے کا ہینڈل گھماتی وہ پٹ سے دروازہ کھلتے ہی کمرے کے اندر داخل ہو گئی…. کمرہ زیادہ بڑا نہیں تھا…. لیکن اس کی ڈیکوریشن بہت عمدگی سے کی گئی تھی…. دو سنگل بیڈز ڈریسنگ ٹیبل، دیوارگیر قدآور الماری اور ساتھ ہی خوبصورت گارڈن ایریا کی جانب کھلتی ایک بالکونی تھی….

”تمہیں کچھ چاہیے؟“

”نہیں شکریہ….!“

پلٹ کر فاطمہ کو جواب دیتی وہ دھیمے سے مسکرا دی….

فاطمہ اثبات میں سر ہلاتی واپسی کے لیے مڑ گئیں…. مانہ اب بیڈ پر جا بیٹھی تھی…. بجھے بجھے دل سے وہ پورے کمرے کا جائزہ لینے لگی تھی۔ پھر اک جھٹکے سے اٹھتی وہ لکڑی سے بنے خوبصورت فرش پر ادھر سے اُدھر چکر کاٹنے لگی…. اس کے ہاتھ میں وہ سفید گلاب اب بھی موجود تھا….

”کمینا! وعدہ کر کے مکر گیا….“

غصہ کے عالم میں اس نے وہ گلاب کھینچ کر دو پھینکا…. گلاب کی ایک پتی ٹوٹ کر اس کے قدموں میں آن ٹھہری تھی….

”نہیں…. اس نے وعدہ تو نہیں کیا تھا….“

”لیکن ایک قسم کا وعدہ ہی تھا….“

”نہیں….“

”اُف….“

وہ اپنا سر تھام کر رہ گئی…. غصہ کے عالم میں وہ وہاں رکھی ہر چیز توڑ دینے کو بیقرار تھی…. سیڑھیوں کے نیچے اسے قہقہوں کی آوازیں گونجتی سنائی دی تھیں….

”یااللہ! کس مشکل میں آ پھنسی ہوں میں….“

دروازہ پٹاخ سے بند کرتی وہ غصے کے عالم میں پلٹی….

”یہ سب میری غلطی ہے…. مجھے وہ کانٹریکٹ سائن ہی نہیں کرنا چاہیے تھا….“

”زرین…. وہ تو مجھے کبھی معاف نہیں کرنے والی…. میں نے اس سے وعدہ کیا تھا….“

وہ اب رونے کو آئی تھی…. سر درد سے پھٹ رہا تھا…. وہ واپس بیڈ پر جا بیٹھی….

”لیکن الحان نے مجھے ٹاپ 15 کے لیے کیوں چنا؟“

تذبذب کے عالم میں بیڈ کی پشت سے ٹیک لگاتی وہ دل ہی دل میں ہمکلام ہوئی….

”مجھے تنگ کرنے کے لیے…. میرا مذاق اُڑانے کے لیے…. ہاں…. میرا مذاق اُڑانے کے لیے….“

سوچ سوچ کر دماغ کی رگیں پھٹنے کو تیار تھیں…. دور دور تک کوئی راہ فرار دکھائی نہ دے رہی تھی…. شدت درد کے عالم میں وہ آنکھیں میچتی اپنا سر تطام کر رہ گئی۔

ض……..ض……..ض

سورج کی کرنوں میں پہلے سی روشنی نہ تھی…. ریت کی چمک ماند پڑ گئی تھی، دور مشرق کی طرف سے اندھیرے کوچ کرتے ہوئے چلے آ رہے تھے…. سمندر کی لہریں ایک دوسرے کے تعاقب میں بھاگتی ہاپنتی دکھائی دے رہی تھیں…. یکایک سورج ڈوب گیا…. مشرق سے اندھیرے کا ریلا بڑھنے لگا…. مگر ابھی آسمان پر روشنی ٹمٹما رہی تھی…. پھر آسمان پر بھی اندھیرا چھا گیا…. چھوٹے چھوٹے ٹمٹماتے تاروں کی بارات وسیع آسمان پر پھیلتی دکھائی دی تھی…. سمندر کے بیچ و بیچ بنا جنت نما یہ خوبصورت جزیرہ بھی اب کے جگمگاتی روشنیوں سے ٹمٹمانے لگا تھا…. ڈنر کا اہتمام فل زورو شور سے کیا گیا تھا…. سب لوگ ڈنر انجوائے کرنے میں مصروف تھے…. سوائے اس ایک ذات کے، جو بند کمرے میں بیٹھی ٹپ ٹپ ٹپکتے آنسو بہائے چلی جا رہی تھی…. الحان نے مانہ کے گلاب ریسیو کرتے ہی غائب ہو جانے اور پھر ڈنر پر اسکی عدم موجودگی کی وجہ ہرگز پوچھنا ضروری نہ سمجھی تھی…. کیونکہ وہ اس کا جواب بہت اچھی طرح سے جانتا تھا…. مانہ کا غصے سے تپتا چہرہ تصور کرتے ہی ایک بار پھر سے شرارت آمیز مسکراہٹ اس کے لبوں پر رقص کرتی دکھائی دی تھی….

”وہ سنبھل جائے گی….“

اس نے سوچا….

”لیکن…. جب اسے اس شو میں رہنا ہی نہیں تھا…. تو وہ اس شو میں آئی ہی کیوں؟…. اور وہ کون سا ایسا اہم کام ہو سکتا ہے جس کے لیے اسے کل کہیں ضروری جانا تھا…. اس شو سے زیادہ اہم چیز اس کے لیے کیا ہو سکتی ہے؟“

وہ مسلسل سوچے چلاجا رہا تھا…. اگلے ہی پل وہ اپنے اردگرد بیٹھی ان تمام حسیناﺅں کی کمپنی انجوائے کرنے لگا تھا، جو گلاب مل جانے کے بعد سے خوشی کے مارے پھولی نہ سما رہی تھیں….

”ان تمام حسیناﺅں کی ایک ہی خوش فہمی ہے کہ شو کے اینڈ میں ان میں سے کوئی ایک حسینہ ہمیشہ کے لیے میری جیون ساتھی بن کر میرے دل پر راج کرنے والی ہے….“

غائبانہ شیطانی ہنسی ہنستا وہ لبوں پر خوبصورت مسکراہٹ بکھیر گیا تھا….

”مگر انہیں کیا معلوم کہ شو کے اینڈ میں ان تمام حسیناﺅں کے خواب دھرے کے دھرے رہ جانے والے ہیں….“

حسیناﺅں کی کمپنی انجوائے کرتا وہ من ہی من میں خود سے مسلسل ہمکلام تھا….

”الحان کے دل پر نہ کبھی کسی کی حکومت چلی ہے نہ چل سکتی ہے…. میرا یہ دل اپنے بس میں کرنا، کسی کے بس کی بات نہیں….“

استہزائیہ مسکراہٹ لبوں پر سجائے اس نے ایک شریر نگاہ تمام حسیناﺅں پر دوڑائی تھی….

ض……..ض……..ض

کل رات اس رئیلٹی شو کی پہلی ایپی سوڈ آن ایئر جانے والی تھی…. عاشرزمان اپنی ایڈیٹنگ ٹیم کے ہمراہ اس شو کا پہلا ایپیسوڈ ایڈٹ کرنے میں مصروف تھا…. تمام کیمرے آف ہو چکے تھے…. ڈنر کے فوراً بعد الحان تمام حسیناﺅں سمیت ساحل سمندرپر چلا آیا، جہاں وہ تمام حسینائیں، الگ الگ انداز سے اپنی لبھاتی اداﺅں سے الحان ابراہیم کو امپریس کرنے میں مصروف تھیں…. اسے ان سب حسیناﺅں کی ان تمام لبھاتی اداﺅں سے کوئی خاص غرض ہرگز نہ تھی…. وہ تو بس اپنا وقت انجوائے کر رہا تھا….

”تمہیں معلوم ہے الحان!…. ہم ایک بار پہلے بھی مل چکے ہیں….“

آشلے نائٹ ڈریس میں ملبوس، اک ادا سے چلتی الحان کے قریب، ساحل سمندر کی ریت پر آ بیٹھی تھی…. وہ جو اٹھلاتی، کھلکھلاتی لہروں اور حسیناﺅں کی اداﺅں کو انجوائے کرنے میں مگن تھا، آشلے کی آمد پر سر گھماکر براہ راست اس کی جانب دیکھنے لگا تھا….

”رئیلی؟…. کب؟…. کہاں؟….“

اس نے یاد کرتے ہوئے آئی برو اُچکائے تھے….

”ہاں…. ایک ڈانس پارٹی پر…. کافی عرصہ پہلے کی بات ہے….“

وہ ایک ترنگ سے بولی….

”ہوں…. تعجب ہے…. مجھے وہ ملاقات یاد کیوں نہیں آ رہی؟…. اگر میں تم سے ملا تھا تو مجھے وہ ملاقات یقینا یاد ہونی چاہیے….“

اسے یاد نہیں آ رہا تھا….

”ہاں…. میں اپنے بوائے فرینڈ کے ساتھ آئی تھی اس پارٹی پر…. ہماری وہ ملاقات بہت سرسری سی تھی….“

”ہوں…. سہی….“

”ایک مہینہ پہلے ہی ہم دونوں کا بریک اَپ ہواہے…. اس نے مجھے دھوکہ دیا…. وہ کسی اور کے ساتھ انوالو تھا….“

”اوہ…. سیڈ!….“

”اچھا ہی ہوا ناں…. ویسے بھی سب بولتے تھے کہ ہمارا کوئی جوڑ نہیں…. میں بہت خوبصورت ہوں…. میرے لیے کوئی بہت خاص انسان ہو گا جو میرے لیے بنا ہے….“

اس کی باتوں کا اشارہ سمجھتا وہ دھیرے سے مسکرا دیا….

”بہرحال! تم اندازہ بھی نہیں لگا سکتے کہ میں کتنی خوش ہوں….“

اپنی خوشی کا اظہار کرتی وہ ایک دم قہقہہ لگا بیٹھی تھی…. الحان بھی سانس کھینچتا سمندر کی لہروں کی جانب متوجہ ہو بیٹھا تھا…. قہقہہ لگانے والی لڑکیاں اسے شروع دن سے ناپسند تھیں…. زہر لگتی تھیں اسے آشلے جیسی بے باک سی لڑکیاں….

ض……..ض……..ض

وہ اپنے روم میں چلا آیا تھا…. جدید طرز سے کی گئی ڈیکوریشن کمرے کو چار چاند لگائے دے رہی تھی…. شرٹ کے بٹن کھولتا، وہ واش روم کی جانب بڑھ گیا…. کچھ ہی دیر میں وہ شاور لینے کے بعد، ٹاول گاﺅن پہنے، ٹپکتے گیلے بالوں سمیت واش روم سے باہر نکل آیا…. ریموٹ اٹھا کر ٹی وی آن کرتے ہی وہ دیوار گیر الماری کی جانب پلٹا تھا…. دروازے پر کسی نے دستک دی تھی…. اپنا نائٹ سوٹ اٹھانے کا ارادہ ترک کرتا وہ دروازے کی جانب لپکا…. دروازہ کھولتے ہی وہ ایک لمحے کے لیے چونک اٹھا…. سامنے کھڑی مانہ، چہرے پر بے پناہ غصہ سجائے، کھا جانے والی نگاہوں سے اس کی جانب گھور رہی تھی۔

”مانو!“

وہ دھیمے سے مسکرایا…. اور پھر تھوڑا نروس دکھائی دینے لگا…. وہ ٹاول گاﺅن پہنے ایک لڑکی کے سامنے کھڑا تھا…. اس کے لیے یہ کوئی بڑی یا دقیانوسی بات تو نہ تھی…. مگر پھر بھی نجانے کیوں وہ نروس دکھائے دے رہا تھا…. مانہ بے پناہ غصہ چہرے پر سجائے بے انتہا خوبصورت دکھائی دے رہی تھی…. اگلے ہی پل الحان بنا پلکیں جھپکائے ٹکرٹکر اس کے خوبصورت چہرے کی جانب تکتا چلا گیا….

”تم مجھ سے ناراض ہو؟….“

الحان کے پوچھنے پر وہ دانت پیستی اس کے مقابل آکھڑی ہوئی….

”آپ نے مجھ سے جھوٹ بولا…. آپ نے بولا تھا کہ آپ اج مجھے ایلیمنیٹ کر کے گھر واپس بھیج دیں گے….“

لہجہ بظاہر قدرے دھیما تھا،مگر لہجے میں چھپی کرختگی واضح طور پر چیختی دکھائی دے رہی تھی….

”نہیں…. میں نے ایسا کچھ نہیں بولا تھا….“

تیوری چڑھاتے ہی الحان نے اس کی شکایت کی تردید کر ڈالی تھی…. مانہ کی گھورتی نگاہوں میں چھپی سرخی مزید سرخی اختیار کیے جا رہی تھی….

”مجھے ایک بات سمجھ میں نہیں آ رہی کہ اگر تمہیں اس شو میں رہنا ہی نہیں تھا، تو تم اس شو میں آخر آئی ہی کیوں؟“

وہ براہ راست اس کی آنکھوں میں جھانکنے لگا تھا….

”کیونکہ…. میری ایک مجبوری تھی….“

شدت غصہ کے عالم میں وہ اپنی آنکھیں میچ گئی تھی…. الحان کو اس وقت مانہ کے چشمے سے شدید نفرت محسوس ہو رہی تھی…. وہ اندازہ نہیں لگا پا رہا تھا کہ اس بھدے چشمے کے پیچھے چھپی خوبصورت آنکھوں کی پلکیں کس قدر گہری اور لمبی ہیں….

”کیسی مجبوری؟“

وہ قدرے حیران دکھائی دیا تھا….

”میں نے ایک کانٹریکٹ سائن کیا ہے…. کیونکہ مجھے جاب کی ضرورت تھی….“

”تمہاری کہانی میری سمجھ سے باہر ہے…. آئی رئیلی ڈونٹ انڈرسٹینڈ!“

وہ واقعی حیران تھا….

”آپ سمجھ بھی نہیں سکتے….“

وہ دانت پیستے ہوئے بولی…. اور پھر ایک لمبا سانس کھینچتی خود پر کنٹرول کرتی ایک بار پھر سے مخاطب ہوئی….

”آپ نے مجھے وہ گلاب کیوں دیا؟“

وہ دھیمے سے مسکرایا….

”صرف تمہیں ہی نہیں دیا….“

”ریجیکٹ کی جانے والی دس لڑکیاں اور بھی موجود تھیں…. ان میں سے کسی ایک کے بجائے، مجھے وہ گلاب کیوں دیا؟“

وہ ایک لمحے کے لیے خاموش ہو رہا…. پھر کچھ سوچتے ہوئے بولا….

”کیونکہ…. کیونکہ آئی ایکچوئلی، اونیسٹلی لائیک یو!“

”اوہ رئیلی….؟…. یو لائیک می؟“

استہزائیہ انداز میں بولتی وہ دو قدم مزید آگے بڑھ آئی…. الحان ایک جھٹکے سے دو قدم پیچھے ہٹ کھڑا ہوا تھا…. وہ پیچھے کیوں ہٹا تھا…. اسے خود اس بات پر تعجب ہوا….

”ایک بات کان کھول کر سن لیجیے…. مجھے یہاں اس اسٹوپڈ شو میں رہنے کا شوق ہرگز نہیں…. آپ مجھے پسند کرتے ہیں…. اس بات پر ایمان لاتے ہوئے میں بھی آپ کو پسند کرنے لگوں گی…. غلطی سے بھی ایسی سوچ سوچنے کی کوشش بھی مت کیجیے گا….“

اگر مانہ اس وقت اپنا غصہ سے تپا چہرہ لیے الحان کے سامنے موجود نہ ہوتی…. یا اگر مانہ کی جگہ دوسری کوئی اور لڑکی ہوتی تو وہ باآسانی مانہ کی اس بات کو بطور چیلنج قبول کر لیتا کہ سامنے کھڑی لڑکی الحان کو اپنی محبت میں گرفتار کر لینے کے لیے اسے اس قسم کے چیلنجز سے دوچار کر رہی ہے…. لیکن یہ پہلی بار تھا…. بالکل پہلی بار…. اور اسے اس بات کا شدت سے احساس ہوا تھا کہ دنیا میں اب بھی کوئی ایک لڑکی ایسی موجود ہے…. جو اس کی مردانہ وجاہت، بے شمار دولت، بے انتہا خوبصورتی سے ہرگز متاثر نہ ہوتے ہوئے اس سے دور جانے کی کوششوں میں مگن لاوا کی صورت اختیار کیے چلی جا رہی تھی ہے…. باہر بیٹھی تمام لڑکیاں الحان کی ایک مسکراہٹ پر مر مٹنے کو تیار تھیں…. مگر وہ لڑکی جو اس پل اس کے سامنے دو قدم کے فاصلے پر لاوا بنی کھڑی تھی اسے الحان نام کی شخصیت سے نہ تو کوئی دلچسپی تھی نہ کوئی سروکار….

”یو ڈونٹ لائیک می؟“

وہ ششدر ہی تو رہ گیا….

”واہ….! کیا احمقانہ سوال ہے….“

وہ استہزائیہ اندازمیں بولی….

”صرف اور صرف ایک مہربانی کی درخواست ہے آپ سے الحان ابراہیم صاحب….!“

وہ ششدر کھڑے الحان کے سامنے، بھینچتے لہجے میں گویا تھی….

”برائے مہربانی…. اگلی ایلیمنیشن میں گلاب بانٹتے وقت آپ میرا نام ہرگز یاد نہیں رکھیں گے….“

”لیکن تمہارا نام تو ابھی سے میرے ذہن کی دیواروں پر گردش کر رہا ہے…. مانو!….“

وہ ایک لمحے کو رک کر بولا….

”مجھے نہیں لگتا کہ تمہارا نام میں زندگی میں کبھی بھول پاﺅں گا….“

وہ ایک بارپھر سے شرارت پر آمادہ تھا…. مانہ اسے گھور کر رہ گئی….

”مجھے مانو کہہ کر مت پکارئیے….“

”میرا جو دل چاہے گا…. میں اسی نام سے تمہیں پکاروں گا….“

شعلہ برساتی نگاہیں خود پر مرکوز دیکھتے ہی وہ ایک لمحے کی خاموشی کے بعد پھر سے گویا ہوا….

”اوکے، ریلیکس! مجھے بتاﺅ کہ جب تمہیں اس شو میں رہنا ہی نہیں تو آئی کیوں؟…. آخر کیا مجبوری تھی تمہاری؟“

تھکاوٹ چہرے پر سجائے وہ لمحہ بھر کی خاموشی کے بعد کچھ سوچتے ہوئے بولی….

”میں نے ٹی وی چینل پر سکرپٹ رائٹنگ جاب کے لیے اپلائی کیا تھا…. لیکن عاشرزمان نے مجھ سے کہا کہ ان کے اس شو کی ایک لڑکی مسنگ ہے…. مجھے صرف اس ایک مسنگ لڑکی کی جگہ فِل کرنے کے لیے اس شو کو جوائن کرنا پڑا….“

وہ دونوں بازو سینے پر باندھے، بغور اس کے چہرے کی جانب دیکھتا بڑی سنجیدگی سے اسکی واضح ڈیٹیل سن رہا تھا….

”اور کل…. مجھے میری اکلوتی بیسٹ فرینڈ کی برتھ ڈے پارٹی پر جانا تھا…. لیکن آپ کی وجہ سے سارا پلان چوپٹ ہو گیا…. اب اگر کل میں اس کی برتھ ڈے پر نہ پہنچی تو وہ ہمیشہ کے لیے مجھ سے ناراض ہو جائے گی….“

وہ رونے کو آئی تھی….

”کہاں پر تھی تمہاری بیسٹ فرینڈ کی برتھ ڈے پارٹی؟“

وہ سنجیدگی سے گویا ہوا….

”کوسٹا کافی، سٹراٹ فورڈ، لیکن اب میں وہاں نہیں جا سکتی کیونکہ آپ نے…. آپ نے اپنا پرامس توڑ دیا…. ایک نمبر کے جھوٹے انسان ہیں آپ….“

وہ غصہ اور شکست کے عالم میں بالوں میں انگلیاں پھنسائے ارد گرد کے چکر کاٹنے لگی تھی…. الحان اس کی اس حرکت کو بھی انجوائے کرنے لگا تھا…. لبوں پر رقص کرتی شرارتی مسکراہٹ واضح طور پر عیاں تھی….

مانہ اس کی مسکراہٹ پرمزید پھنکارتی، پیر پٹختی روم سے آناً فاناً باہر نکلتی تڑاخ سے دورازہ بند کر گئی تھی…. الحان کے لبوں پر پھیلی شرارتی مسکراہٹ مزید پھیلتی چلی گئی….

”ان محترمہ کے لیے کچھ کرنا پڑے گا…. اتنی آسانی سے تو جانے نہیں دوں گا اس شو سے…. گیم تو ابھی اسٹارٹ ہوئی ہے مانو بیٹا!…….. مزہ آنے والا ہے بہت….“

استہزائیہ انداز میں مسکراتا وہ دیوار گیر الماری کی جانب بڑھ گیا….

ض……..ض……..ض

دروازے کا ہینڈل گھماتی مانہ واپس اپنے روم میں لوٹ آئی تھی….

”تم کہاں تھیں مانہ؟“

مسکان بیڈ پر آلتی پالتی مارے بیٹھے اپنے تراشیدہ خوبصورت بالوں میں برش کرتی، اس پرنظر پڑتے ہی پوچھ بیٹھی….

”کہیں نہیں…. بس ایسے ہی…. کمرے میں بیٹھے بیٹھے دل گھبرایا تو سوچا باہرکا ایک چکر لگا آﺅں….“

وہ سپاٹ لہجے میں بولتی اپنے بیڈ پر جا بیٹھی….

”اچھا…. وہاں دیکھو….“

مسکان نے نظر اٹھاتے ہی ہاتھ کی انگلی کا اشارہ کرتے ہوئے اسے مخاطب کیا…. وہ شاید کسی چیز کی جانب اشارہ کر رہی تھی….

”وہاں، اس کارنر میں، کیمرہ لگا ہے….“

مسکان نے انگلی کا اشارہ کرتے ہی سرگوشی کی تھی….

”کہاں؟“

مانہ نے چونکتے ہی اس کے اشارے کے تعاقب میں دیکھا…. کمرے کے کارنر میں لگا چھوٹا سا کیمرہ ان دونوں کو ہی فوکس کیے ہوئے تھا….

”اوہ یاد آیا….“

مسکان لب بھینچتے ہوئے بولی….

”عاشرزمان نے پہلے ہی بتا دیا تھا کہ ہم لوگوں کے پاس زیادہ Privacy نہیں ہو گی….“

”باتھ روم Safe ہے ناں؟“

مانہ تذبذب کے عالم میں پوچھنے لگی….

”ہاں…. باتھ روم محفوظ ہے…. میں نے چیک کر لیا ہے سب….“

”گڈ!“

لمبی سانس کھینچتی وہ بیڈ پر نیم دراز ہو گئی۔

”تمہاری طبیعت کیسی ہے اب؟“

مسکان بغور اس کی جانب دیکھتے ہوئے متاسفانہ انداز سے پوچھ رہی تھی…. مانہ اس کے انداز پر مسکرا دی…. آخرکار کوئی تو وہاں پر موجود تھا جو اس عجیب و غریب لڑکی سے اچھا بی ہیو کر رہا تا….

”ہاں…. پہلے سے کچھ بہتر ہے….“

”چلو اچھا ہے…. جانتی ہو، کل کیا ہونے والا ہے؟“

مسکان اپنے ہی اندازمیں ہونٹ سکیڑے سیٹی بجانے لگی تھی…. مانہ نے نظریں گھما کر خاموشی سے اس کی جانب دیکھا….

”خرم بتا رہا تھا کہ کل الحان ابراہیم چند لڑکیوں کو اپنے ساتھ ڈیٹ پر لے کرجانے والا ہے….“

”اچھا….!“

بے حد خشک مزاجی سے جواب دیا گیا….

”نجانے وہ ڈیٹ پر کہاں لے کر جانے والا ہے…. اے کاش کہ وہ میرا انتخاب لازمی کرے….“

وہ اپنی ہی دھن میں مگن بولی چلی جا رہی تھی….

”مجھے لگتا ہے کہ وہ تمہارا انتخاب یقینا کرنے والا ہے…. تم ماشاءاللہ سے خوبصورت بھی ہو اور سمجھدار بھی…. آل دی بیسٹ!“

وہ اس کا دل رکھنے کو آہستگی سے بولتی آنکھیں موند گئی….

”دیٹس نائس آف یو!“

اپنی تعریف پر اٹھلاتی وہ شیریں لہجے میں بولی…. مانہ شاید سو چکی تھی…. تبھی اب کی بار اس کی جانب سے کوئی جواب موصول نہ ہوا تھا…. چند ثانییے اس کے جواب کا انتظار کرنے کے بعد مسکان بھی لیمپ کا بٹن آف کرتی اپنے بیڈ پر نیم دراز ہو گئی تھی….

ض……..ض……..ض

مشرق سے کرنیں پھوٹ کر بہنے لگیں…. پُرسکون، سوئے، خراٹے لیتے ہوئے سمندر پر کرنیں پھونک چھونک کر قدم دھرنے لگیں…. دبے پاﺅں چلنے لگیں…. لہروں پر تیرتی ہوئی جھاگ، سمندر کی نیلاہٹیں دمک اٹھیں…. سمندر کے سینے پر ننھی منی لہریں اٹھ اٹھ کر سورج کو خوش آمدید کہہ رہی تھیں….

وہ ابھی بھی اوندھے منہ لیٹی، نیند کی وادیوں میں گم تھی…. فاطمہ نے باری باری کمروں کے دروازوں پر دستک دے کر سب کو جگا دیا تھا…. مانہ نے چوبیس گھنٹوں سے کچھ نہ کھایا تھا جس کے باعث اب وہ کافی نڈھال بھی دکھائی دے رہی تھی…. کچن میں گھستے ہی اسے ہر چیز موجود دکھائی دی تھی…. مانہ اور ایک دوسری لڑکی کے سوا ابھی تک کچن میں کوئی دکھائی نہ دے رہا تھا…. شاید تمام لڑکیاں اپنے بناﺅ سنگھار میں مصروف تھیں…. مانہ نے آگے بڑھتے ہی اپنے لیے ٹھوس غذا کا انتخاب کرتے ہی چولہا آن کر دیا تھا…. وہ اپنے لیے چکن اسٹیک تیار کر رہی تھی…. یکے بعد دیگرے تقریباً تمام لڑکیاں کچن اور سٹنگ ایریا میں پھیلتی دکھائی دی تھیں…. تقریباً آدھ گھنٹے کے انتظار کے بعد مانہ سفید پلیٹ میں اپنا اسٹیک سجائے ڈائننگ ٹیبل پر آ بیٹھی تھی۔

”مانہ! اتنی صبح صبح اتنا ہیوی ناشتہ کرو گی؟“

برٹش لڑکی سحر نے اس کی پلیٹ دیکھتے ہی حیرانگی کا اظہار کرتے ہوئے انگلش میں پوچھا تھا….

”ہاں…. کیوں؟“

اس نے تعجب کااظہار کیا….

”پھول کرگول گپا ہو جاﺅ گی…. اور اس شو میں موٹے لوگوں کی کوئی جگہ نہیں….“

آئی برو اُچکاتی وہ ایک ادا سے بولی…. مانہ چپ چاپ اس کی جانب دیکھتی رہی، پھربے پناہ کنٹرول کے باوجود وہ نہایت روکھے لہجے میں گویا ہوئی….

”میں پھول کر گول گپا بن جاﺅں…. یا سوکھ کر سوکھی لکڑی…. تمہیں میری فکر میں دبلا ہونے کی ضرورت ہرگز نہیں…. اور رہی بات اس شو کی…. تو میں کسی ماڈلنگ شو میں نہیں بیٹھی…. نہ ہی تم ڈیسائیڈ کرنے والی ہو کہ میں اس شو میں رہوں گی یا نہیں….“

اپنی بات مکمل کرتے ہی اس نے سامنے کھڑی غصے سے پھنکارتی سوکھی لکڑی سحر کا سر تاپا جائزہ لیا تھا…. نک سک سی تیار ہوئی آشلے ابھی ابھی اپنے کمرے سے باہر تشریف لائی تھی….

”….Ewww“

مانہ کی پلیٹ میں نگاہ دوڑاتی، وہ عجیب سے شکل بناتی، منہ ہی منہ میں بڑبڑائی تھی….

سحرپرنظر پڑتے ہی آشلے نے خوش مزاجی کا مظاہرہ کیا تھا…. جواباً سحر نے بھی خوش اسلوبی سے جواب دیا….

”گڈ مارننگ!“

وہ دونوں مانہ کو نظرانداز کرتی کچن کی جانب بڑھ چکی تھیں….

مانہ ان آس پاس چلتی سوکھی لکڑیوں کو فل اگنورکرتی اپنی پلیٹ پر جھکی بیٹھی تھی…. چند ہی منٹ بعد آشلے سحر سمیت اپنی پلیٹ سلاد سے سجائے، مانہ سے کچھ فاصلے پر ڈائننگ ٹیبل پر آ بیٹھی تھی…. اس نے نہ چاہتے ہوئے بھی پل بھر کے لیے نظریں اٹھا کر ان دونوں نک چڑھیوں کی پلیٹوں کی جانب نگاہ دوڑائی تھی….

”گھاس پھوس کھانے والے لوگ….نہیں…. جانور…. اچھے کھانے کی قدر ہی کیا جانیں….“

منہ ہی منہ میں بڑبڑاتی وہ ایک بارپھر سے اپنی من پسند اسٹیک نوش فرمانے میں مصروف ہو گئی تھی….

ض……..ض……..ض

”گڈ مارننگ گرلز!“

الحان وائٹ شرٹ، بلیک جینز اور ارمانی کے خوبصورت ماڈرن سن گلاسز پہنے، لبوں پر قاتلانہ مسکان سجائے، ہشاش بشاش، پُرجوش اندازمیں چلتا لڑکیوں سے چند قدم کے فاصلے پر آن کھڑا ہوا تھا…. اس کی آمد پر سوائے ایک ذات کے تمام لڑکیوں کا چہرہ جیسے کھل سا اٹھا تھا…. وہ سب اپنا اپنا ناشتہ چھوڑ کر چہرے گھما کر چمکتی نگاہوں سے بغور اس خوبصورت شخصیت کا دیدار کرنے لگی تھیں….

”گڈمارننگ!“

یک آواز اُبھری تھی…. مانہ سامنے کھڑے اس شخص کو مکمل طور پر اگنور کیے،اس طرح اپنی پلیٹ پر جھکی، چکن اسٹیک نوش فرمانے لگی تھی کہ جیسے اس پل اس اسٹیک سے زیادہ اہم چیز اس کی زندگی میں اور کچھ نہیں….

”میرے پاس ایک چھوٹا سا سرپرائز ہے آپ سب کے لیے….“

اس نے اعلان کیا….

”واﺅ….“

سب لڑکیوں کے دمکتے چہرے مزید چمک اٹھے….

”آج…. میں آپ میں سے دو لڑکیوں کو اپنے ساتھ شاپنگ پر لے جانے والا ہوں….“

ہمیشہ کی طرح اس بار بھی تمام لڑکیوں کی جانب سے بے پناہ خوشی کا اظہار کیا گیا….

”ویل!…. سب کچھ ایمانداری کے ساتھ کرتے ہوئے میں نے ان دو لڑکیوں کا انتخاب ایک چھوٹے سے فش بال کی مدد کے ذریعہ سے کیا ہے….“

کہتے ہی اس ن ایک کھلنڈری نگاہ تمام خواتین پر دوڑائی….

”کیا میں وہ دو نام ابھی بتا دوں؟…. یاپھر آپ سب کے ناشتہ کرنے کے بعد؟“

”ابھی!“

آشلے نے بیقراری کا اظہارکیا….

”اوکے….! مسکان اور مانہ! دونوں تیار ہو جائیں….“

اگلے ہی پل اس نے بنا کسی توقف کے عجلت کا مظہرہ کرتے ہوئے تمام لڑکیوں کو ایک لمحے میں ہکا بکا کر ڈالا تھا…. جبکہ مانہ اپنی آنکھیں میچ کر رہ گئی تھی….

”اوہ مائے گاڈ!“

مسکان بے حد شاداں دکھائی دے رہی تھی….

الحان کے لبوں سے ادا کیے جانے والے دو نام سماعت سے ٹکرانے کے بعد سے باقی تمام لڑکیاں اب تک حواس باختہ، لبوں کو تالے لگائے بیٹھی تھیں….

”جلدی سے تیار ہو جاﺅ…. باہر یاٹ ہمارا انتظا کر رہی ہے….“

الحان بدسطور اسی انداز میں بولا….

”ہم لوگ شاپنگ کے لیے کہاں جانے والے ہیں؟“

مسکان نے ایکسائیٹمنٹ کا اظہار کیا….

مانہ جو مسلسل آنکھیں میچے بیٹھی تھی…. نظریں اٹھا کر اک اچٹتی سی نگاہ، سامنے کھڑی اس دلربا شخصیت پر دوڑانے لگی…. شرارتی مسکراہٹ لبوں پر سجائے کھڑا وہ شخص شریر نگاہوں سے اسی کی جانب ہی متوجہ تھا….

"Stratford Mall London”

وہ اپنے اندازمیں جواباً بولا…. نظریںملتے ہی مانہ ایک بار پھر سے اپنی پلیٹ پر جھک بیٹھی تھی…. آشلے کی شعلہ بھڑکاتی نگاہیں مسلسل مانہ کا احاطہ کیے ہوئے تھیں…. مگر اسے کسی کی پرواہ نہ تھی۔ (سٹراٹ فورڈ مال لندن) کا نام سنتے ہی وہ اندر ہی اندر سکون کا سانس لے رہی تھی….

”شکر ہے…. سنگدل نہیں ہے….“

اس نے من ہی من میں سوچا…. لیکن پھر بھی وہ اس شو میںنہیں رہنا چاہتی تھی…. صرف اور صرف الحان کی وعدہ خلافی کے باعث وہ ابھی بھی اس شو میںموجود تھی…. جس کی معافی وہ بہ آسانی اسے ہرگز نہیں دینا چاہتی تھی…. الحان کے اعلان کے بعد اس کے دل میں برپا غصے کا طوفان آہستہ آہستہ پُرسکون ہونے لگا تھا…. کیونکہ اس وقت وہ جہاں پر موجود ہوناچاہتی تھی…. الحان اسے وہیں لے کر جانے کا اعلان کر چکا تھا…. تمام سوچوں کو پس پشت ڈالتی وہ اٹھی اور عجلت سے چلتی سیڑھیوں کی طرف بڑھتی چلی گئی….

ض……..ض……..ض

گہرے نیلے آسمان پر یکایک بادل اُمڈ آئے تھے…. سورج چھپ چکا تھا…. برکھا کا گمان ہونے لگا تھا…. شریر فضا کا ریلا بھی گردانے لگا تھا…. اس طلسمی جزیے کا موسم ایک دم سے ازحد خوشگوار ہو چکا تھا….

”وہ آئے خدا کی قدرت!“

مانہ اور مسکان کو سہج سہج چوب محل سے نکلتے دیکھ کر وہ اپنے ہی انداز میں گویا ہوا تھا…. مسحورکن آوازمیں اُچھالا گیا جملہ سماعت سے ٹکراتے ہی مانہ نے ایک اچٹتی سی نگاہ سامنے کھڑی اس تمکنت شخصیت پر دوڑائی…. الحان ہنوز سفید شرٹ، بلیک جنز میںملبوس، چہرے پر وہی ماڈرن سن گلاسز سجائے یقینا انہیں دونوں کی جانب دیکھ رہا تھا…. شریر فضا کے جھونکوں کے باعث الحان کے گھنے سیاہ سٹائلش کٹ بالوں کی چھوٹی چھوٹی لٹیں اس کی فراخ پیشانی کو چھوتی دکھائی دے رہی تھیں…. لبوں پر وہی قاتلانہ مسکان سجی تھی…. سامنے کھڑا وہ شخص یقینا ایک کہربا شخصیت کا مالک تھا…. مانہ بظاہر نہ سہی مگر من ہی من میں اس کی شخصیت کو داد دینے لگی تھی…. اس نے دوسری جانب نظریں دوڑاویں…. عاشرزمان دو کھڑا کسی سے بات کرتا دکھائی دیا تھا….

”اللہ کرے عاشرزمان ہمارے ساتھ نہ جائے…. اگر وہ ساتھ گیا تو مجھے ایک پل کے لیے بھی کہیں کھسکنے نہیں دے گا….“

وہ تفکرانہ اندازمیں دل ہی دل میں بولی….

"Hey!”

ہاتھ لہراتے ہوئے اس نے خوشگوار انداز میں ان دونوں کو مخاطب کیا….

"Hi!”

مسکان چہچہائی تھی…. اگلے ہی پل اس کے ہائی ہیلز ریت میں دھنستے ہی اس کے دونوں پیروں کو ریت آلود کر چکی تھی…. اب کے وہ منہ بسورے پوری طرح سے اپنے پیروں کی جانب متوجہ ہوئے اپنے پاﺅں جھاڑنے میں مصروف ہو گئی تھی…. مانہ نے اپنے قدم یاٹ کی جانب بڑھا دئیے تھے….

”So…. مانو! اب تم خوش ہو؟ ہم لوگ سٹراٹ فورڈ مال جا رہے ہیں؟….“

الحان اس کے تعاقب میں چلتا،متانت سے پوچھنے لگا….

”ہاں! میں بہت خوش ہوں…. خوشی سے کودتی دکھائی نہیں دے رہی؟“

کس قدر خشک مزاجی کا مظاہرہ کیا گیا تھا….

”دیکھو!“

وہ نہایت آہستگی سے بولا….

”آئی ایم سوری….اگر تمہیں لگتا ہے کہ میں نے اپنا وعدہ توڑا ہے، تو میں یقینا آئندہ ایسی ہرگز نہیں کروں گا….“

”رہنے دیں اس بات کو…. آپ بس اتنا یاد رکھیے گا کہ کل رات میں نے آپ سے کیا کہا ؟“

وہ غصہ میں پھنکارتی، عجلت سے چلتی یاٹ کی جانب بڑھتی رہی….

”میری بھی ایک بات کان کھول کر سن لو…. میں اب تم سے کوئی پرامس نہیں کر رہا…. کہ اگلی ایلیمنیشن میں، میں تمہیں جانے دوں گا….“

اس بار اس کے دھیمے لہجے میں تھوڑا غصہ اورگھمنڈبھی شامل تھا…. آگے کی جانب تیزی سے بڑھتے قدم اک جھٹکے سے رُکے…. اب کے وہ بت بنی، حیران کن نگاہوں سے براہ راست اس کی جانب دیکھنے لگی….

”کیوں؟“

”کیونکہ…. مجھے تم اچھی لگتی ہو….“

گھمنڈ اور بے نیازی سے وہ کندھے اُچکا کر بولا….

”آپ مجھے جانتے تک نہیں….“

”ارے اسی لیے تو تمہیںابھی جانے نہیں دینا چاہتا…. مجھے، تمہیں مزید جاننا ہے….“

وہ شگفتگی سے بولا….

”ویل!…. مجھے آپ کو مزید جاننے میں قطعی کوئی دلچسپی نہیں….“

آئی برو اُچکاتی، اپنے ہٹ دھرم انداز میں بولتی وہ ایک بار پھر سے یاٹ کی جانب اپنے قدم بڑھانے لگی…. اس باراس کے قدم بڑی تیزی سے یاٹ کی جانب بڑھ رہے تھے…. الحان بھی تیزی سے چلتا اس کے برابر آن پہنچا تھا….

”تم جانے کے لیے اتنی اُتاولی کیوں ہو؟…. یہاں موجود کوئی بھی لڑکی اپنی زندگی میں آئے اس چانس کو ہرگز مِس نہیں کرنا چاہتی…. یہ چانس گنوانا نہیں چاہتی…. اور تم ہو کہ….“

”میں آپ سے پہلے بھی کہہ چکی ہوں کہ مجھے اس اسٹوپڈ شو میں آنے کا قطعی شوق نہیں تھا…. اس شو سے زیادہ اہم کام ہیں میری زندگی میں کرنے والے….“

”اس شو سے زیادہ اہم کیا کام ہو سکتا ہے تمہارے لیے؟“

”بہت کچھ…. آپ کو بتانا ضروری نہیں سمجھتی….“

یاٹ تک پہنچتے ہی وہ تیزی سے یاٹ پر چڑھ گئی….

الحان اسے یاٹ پر چڑھتے دیکھ، تحمل کا مظاہرہ کرتا لمبا سانس کھینچ کر رہ گیا تھا….

ض……..ض……..ض

جاری ہے ۔۔۔۔۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

ڈھل گیا ہجر کا دن.. نادیہ احمد .. قسط نمبر6

ڈھل گیا ہجر کا دن نادیہ احمد قسط نمبر6  مائے نی میں کینوں آکھاں درد …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے