سر ورق / ناول / ڈھل گیا ہجر کا دن.. نادیہ احمد .. قسط نمبر6

ڈھل گیا ہجر کا دن.. نادیہ احمد .. قسط نمبر6

ڈھل گیا ہجر کا دن

نادیہ احمد

قسط نمبر6

 مائے نی میں کینوں آکھاں

درد وچھوڑے دا حال نی

دکھا ں دی روٹی، سولاں دا سالن

آہیں دا بالن بال نی مائے

درد وچھوڑے دا حال نی

جنگل بیلے پھراں ڈھونڈیندی

اجے نا پاو ¿ لال نی

مائے نی میں کینوں آکھاں

درد وچھورے دا حال نی

”امی“۔ سفینہ بت بنی چارپائی پہ بیٹھی تھی۔ یکدم فاطمہ نے آکر اس کا بازو پوری قوت سے جھنجوڑا۔ وہ بے تحاشہ رو رہی تھی ۔ اس پل سفینہ کو فاطمہ کا ہر آنسو آہ بن کر لگا تھا۔ زبان سے حرف نہ نکلے تھے پر اس وقت اس کا پور پور شکوہ بنا کھڑا تھا جو فریاد کر رہا تھا کہ ماں یہ کیا ظلم ہونے جارہا ہے۔ اپنی ذات کو تو پہلے ہی تو جہنم کے آخری درجے میں گرائے زندگی گزار رہی ہے پر مجھے اس عارضی دوزخ سے نکال کر مستقل جہنم میں دھکیلا جانے لگا ہے۔ یہ ظلم ہے ماں یہ ظلم ہے اور اس ظلم کی وجہ تیری خاموشی ہے۔ یہ تابعداری وفا نہیں گناہ ہے جو میرے ننھے ننھے خوابوں کو قبر میں اتار رہی ہے۔ تو کیا بیٹی کے خوابوں کا قتلِ عام ہونے دے گی؟

سفینہ کا دماغ شل ہورہا تھا پر وہ پتھر بنی خاموش بیٹھی فاطمہ کے آنسوو ¿ں میں بھیگی آہیں سنتی رہی۔ ایک لمحے کو تو فاطمہ کو یہ لگا شائد وہ اب دوبارہ کبھی بول ہی نہیں پائے گی۔ اسے خوف نے آگھیرا۔

”امی کچھ تو بولیں“۔ روتے ہوئے ایک بار پھر اس نے ماں کا شانہ ہلایا۔سفینہ نے مڑ کر پاس کھڑی فاطمہ کو پھٹی پھٹی آنکھوں سے دیکھا۔

”اپنا سامان باندھو“۔ آنسو پونچھتے فاطمہ نے حیرت سے ماں کا بے تاثر چہرہ دیکھا جو ایک مردے سا سفید اور سرد تھا۔ اسے لگا وہ اپنے ہوش و حواس کھو بیٹھی ہے۔

”یہ کیا کہہ رہی ہیں“؟ فاطمہ نے بھیگے لہجے میں سوال کیا۔

”سنائی نہیں دیتا، میں نے کہا اپنا سامان باندھو“۔ سفینہ کا پتھر وجود ایکدم حرکت میں آیا تھا۔ وہ بجلی کی تیزی سے اٹھی اور کمرے میں رکھے ٹرنک کو کھول کر سامان نکالنے لگی۔

”یہاں سے بھاگ کر کہاں جائیں گے ہم؟“ فاطمہ پیر گھسٹی ماں تک پہنچی اور اس کے پاس گھٹنوں کے بل بیٹھتے مایوسی سے بولی۔ عقل ماو ¿ف ہوچکی تھی۔ یوں لگ رہا تھا ہر راستہ بند ہے۔ ہر طرف سو سر والے اژدھے پہرے دار بنا کر کھڑے کر دئیے گئے ہیں ۔ اس جہنم سے نکلے تو ایک ہی پھونک سے جلا کر بھسم کر دیں گے۔

”ہم نہیں صرف تم“۔ سفینہ نے جھڑکنے والے انداز میں سرگوشی کی۔ فاطمہ کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔ اسے اب احساس ہوا تھا کہ ٹرنک سے سفینہ اپنی نہیں بلکہ صرف فاطمہ کی چیزیں نکال رہی تھی۔

”میں؟ “سفینہ نے اس کے چند جوڑے ایک بیگ میں جلدی جلدی ٹھونسے۔ وہ اس وقت فاطمہ کی طرف متوجہ نہ تھی۔

”میں کہاں جا و ¿ں گی امی اور میں کیوں جاو ¿ں گی۔ آپ ابا سے بات کریں نا“۔وہیں فرش پہ بے دم سی ہوکر بیٹھتی فاطمہ فسردہ لہجے میں بولی۔ سفینہ نے سر اٹھایا۔ فاطمہ کے دودھیا چہرے پہ آنسوو ¿ں کی لکیریں نمایاں تھیں۔ آنکھیں بوجھل اور لال ہورہی تھیں۔

”یہ نشان دیکھ رہی ہو؟“سفینہ نے اپنے چہرے کی طرف اشارہ کیا جہاں شہباز سے مار کے تازہ نشان اس کے ظلم کی داستان رقم کر رہے تھے۔ پھٹے ہوئے ہونٹ سے رستا خون اور سوجا ہوا گال چیخ چیخ کر سب کہانی بتا رہا تھا۔ وحشت و خوف کی وہ داستان جسے دیکھ کر فاطمہ بڑی ہوئی تھی۔ جس کا چشم دید گواہ وہ دس سالہ بچہ اس کا چھوٹا بھائی جو آج ڈرا سہما کانپتے ہونٹوں سے دور بیٹھا ان دونوں کو تڑپتا سسکتا دیکھ رہا تھا۔

”یہ بات کرنے کے بعد بنے ہیں۔ ایسے کئی نشان آج بھی میرے جسم پہ موجود ہیں اور یہ کبھی نہیں بھریں گے کیونکہ تمہارے باپ کی خصلت نہیں بدلے گی”۔ سر جھکائے فاطمہ سفینہ کی بات سنتی رہی۔

”مجھے معاف کردو میری بچی اور اس بات کا یقین کرلو کہ تمہاری ماں ایک کمزور اور بزدل عورت ہے جو ساری زندگی اپنے حق کے لئے آواز نہ اٹھا سکی وہ اپنی اولاد کے لئے کیا خاک بولے گی“۔سفینہ نے فاطمہ کا چہرہ تھوڑی سے پکڑ کر اوپر اٹھایا اور یہ تو بس اس کا دل ہی جانتا تھا کہ اولادکے آنسوو ¿ں پہ حوصلہ کیسے کرنا ہے۔

”تو ٹھیک ہے، پھر ہم سب چلتے ہیں ۔ کہیں دوسرے شہر، کسی گاو ¿ں یا قصبے میں۔ اللہ کی زمین بہت بڑی ہے۔ ابا اور ان کے بدمعاش ساتھی کے شر سے نکل کر کہیں تو پناہ مل جائے گی نا امی“۔فاطمہ دو ٹوک انداز میں بولی اور ٹرنک سے سفینہ کے کپڑے بھی نکالنے لگی۔

”نہیں! میں ان لوگوں کو بہت اچھی طرح جانتی ہوں۔ یہ ماضی کے گناہ کی طرح سایہ بن کر ہمیشہ ہمارا پیچھا کرتے رہیں گے۔ اس وقت تمہارا یہاں سے نکلنا اہم ہے۔ پیچھے سے میں انہیں سنبھال لوں گی“۔سفینہ نے اس کا ہاتھ پکڑ کر روک لیا۔

”پر میں کہاں جاو ¿ں گی امی۔ کون ہے ہمارا جس کے در پہ جاکر مدد کی دستک دیں گے اور پھر میرے جانے پہ ابا آپ کے ساتھ کتنا برا سلوک کریں گے“۔فاطمہ نے اپنا ماتھا پیٹ لیا۔ سوچ سوچ کر اس کا دماغ شل ہورہا تھا پر کوئی سرا ہاتھ نہیں لگ رہا جس کو تھام کر اس آزمائش سے نکلا جاسکے۔

”وہ سب تم مجھ پہ چھوڑ دو۔ بس اپنے کاغذات وغیرہ رکھو اور جلدی چلو“۔بیگ کی زپ بند کرکے وہ اٹھ کھڑی ہوئی جبکہ اس کے حکم پر نا چاہتے ہوئے بھی فاطمہ میز پہ رکھی اپنی ضروری چیزیں سمیٹنے لگی۔ سامان کمرے میں چھوڑ کر سفینہ دبے قدموں باہر نکلی اور ساتھ والے کمرے میں جھانکا۔ بستر پہ شہباز نشے میں دھت ہوش و خرد سے بیگانہ پڑا تھا۔ سفینہ نے انتہائی محتاط انداز میں کمرے کا دروازہ بند کیا اور باہر سے کنڈی چڑھا دی۔ پھر اس کے بعد وہ واپس کمرے میں آئی اور ٹیپو کو ہدائت دی۔

”ٹیپو، میں اور فاطمہ باہر جارہے ہیں۔ خبردار میرے آنے تک ابا کے دروازے کی کنڈی کھولی۔ انہیں ہرگز مت پتا چلے ہم باہر گئی ہیں“۔وہ ہونق بنا ماں اور بہن کو دیکھ رہا تھا۔ اس عمر میں اس کے کچے ذہن میں بے تحاشہ سوالات کا انبار تھا پر ان میں سے ایک بھی وہ اس وقت ماں سے پوچھ نہیں پایا تھا کہ لفظ ساتھ نہیں دے رہے تھے سوائے اس ایک بات کے جو وہ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا تھا۔

”امی آپا کہیں جا رہی ہے؟“فاطمہ نے اسے گلے لگا لیا۔ وہ اب زارو قطار روتی اس کو پیار کر رہی تھی۔ کانپتے ہونٹوں سے اس کی پیشانی پہ بوسے دے رہی تھی۔ سفینہ لب بھینچے کھڑی ان دونوں کو دیکھتی رہی ۔

”چلو جلدی“۔ ٹیپو اب بھی فاطمہ سے لپٹا ہوا تھا۔ سفینہ کی آواز پہ فاطمہ نے پلٹ کر ماں کو التجائیہ نظروں سے دیکھا پر اس نے نگاہیں چرا لیں۔ سفینہ کے پیچھے مردہ قدموں سے چلتی وہ اپنا سامان اٹھائے باہر نکل آئی۔ صحن میں پہنچ کر اس نے ایک نظر اس بند دروازے کو دیکھا جس کے پیچھے ان کی بدقسمتی بند تھی اور پھر اگلے ہی پل وہ تیز تیز چلتی گھر سے باہر نکل گئی۔

٭….٭….٭

بیلوں سے ڈھکے اس بنگلہ نما گھر کے باہر پہنچ کر فاطمہ کے قدم رک گئے تھے۔ اس نے الجھی نگاہوں سے سفینہ کی طرف دیکھا جو بناءرکے اب آہنی دروازے سے اندر داخل ہورہی تھی۔ اپنے پیچھے فاطمہ کے قدموں کی آہٹ نہ پاکر اسے احساس ہوا تو مڑ کر دیکھا۔ اس کی خاموشی میں سوال تھا پر سفینہ اپنا وقت جواب دینے میں ضائع نہیں کرنا چاہتی تھی۔ مٹی کی پگڈنڈی پہ تیز قدموں سے چلتی وہ چبوترے کی طرف بڑھی جس کے آگے عمارت کا داخلی دروازہ تھا۔ اندھیرے میں بس ایک زرد مدہم بلب کی روشنی تھی جو اس پل سچ اور جھوٹ کے موہوم فرق کی طرح اندھیرے اور روشنی کا امتیاز کر رہی تھی۔ یہ ایک پرانی شکستہ چھوٹی سی بنگلہ نما عمارت تھی جس کی شکستہ حالی باہر سے واضح تھی۔ ان علاقوں میں اکثر سرکاری رہائش گاہیں کچھ اسی طرز کی ہوتی تھیں۔ دروازے پہ پہنچ کر کچھ سوچتے ہوئے سفینہ نے دھیمی دستک دی۔ دروازہ چند لمحوں بعد کھلا اور مالکِ مکان کے چہرے پر خوشگوار حیرت امڈی پر اگلے ہی پل اس کی نگاہ فاطمہ کے ستے ہوئے چہرے، روتی آنکھوں اور بکھرے حال سے ہو کر سفینہ کی گھبراہٹ تک پہنچی تو پریشانی کی چند لکیریں صبیح پیشانی پہ نمودار ہوئیں۔ اجازت پاکر وہ دونوں اندر داخل ہوئیں۔ باہر کی نسبت اندر کا ماحول و منظر مختلف تھا۔ سامان بہت زیادہ نہیں تھا پر صاف ستھرا اور قرینے سے آراستہ تھا ۔ دوسرے الفاظ میں جگہ آرام دہ تھی۔ کمرے کے وسط میں پہنچ کر سفینہ کے قدم رکے، فاطمہ بھی سر جھکائے چادر میں لپٹی اس کی اوٹ میں کھڑی تھی۔

”آپ کو یاد ہے آپ نے کہا تھا ضرورت پڑی تو آپ میری مدد کریں گے“؟سفینہ نے بلا تمہید سلسلہِ کلام کا آغاز کیا۔

”جی بالکل میں نے کہا تھا“۔ڈاکٹر زبیر نے دھیمے لہجے میں اعتراف کیا۔ پتلون کی جیب میں ہاتھ ڈالے وہ مکمل تیار تھا۔ اس کا سفری بیگ کمرے کے کونے میں دھرا تھا۔ یقینناََ وہ اب نکلنے ہی والا تھا۔

”تو پھر مجھ سے وعدہ کریں آپ میری مدد کریں گے، میری بات مانیں گے؟“سفینہ نے یقین دہانی چاہی۔

”آنٹی ہوا کیا ہے، آپ اتنی گھبرائی ہوئی اتنی پریشان۔۔۔اور یہ فاطمہ۔ “زبیر کے صبر کی انتہا ہوچکی تھی۔ بظاہر وہ نارمل تھا پر اندر ہی اندر اسے اچھی خاصی فکر لاحق تھی۔ وہ متفکر لہجے میں بولا تو سفینہ نے دونوں ہاتھ التجائیہ انداز میں جوڑے۔

”فاطمہ سے شادی کر لیں۔ “وہ دو قدم پیچھے ہٹا۔ فاطمہ نے حیرت سے سر اٹھا کر ماں کو دیکھا۔ وہ تو اس بات پہ سن ہی رہ گئی تھی۔

”جی؟“ اسے شاک لگا تھا ۔

”ایک ماں اپنی اولاد کی خاطر آپ کے در پر بھکاری بن کر آئی ہے ڈاکٹر صاحب اس مان کے ساتھ کہ آپ مجھے خالی نہیں لوٹائیں گے“۔سفینہ نے چادر کا پلو پھیلاتے روتے ہوئے کہا۔ زبیر کی عقل ماو ¿ف ہورہی تھی۔ سفینہ کی ذہنی کیفیت کا وہ اس پل اندازہ کیسے کرتا کہ وہ تو اس کی زندگی میں آئے طوفان سے بے خبر تھا۔

”آپ پلیز بیٹھیں تو سہی۔ تسلی سے بات کرتے ہیں“۔اس کا بازو تھام کر زبیر نے تسلی دی پر سفینہ اپنی جگہ سے نہیں ہلی۔

”یہ بیٹھ کر تسلی سے بات کرنے کا وقت نہیں ہے۔ وہ قصائی کسی بھی وقت جاگ جائے گا ۔ میری بیٹی کو اس کی حرام کاریوں کی بھینٹ چڑھنے سے بچا لیں۔میں جانتی ہوں آپ بہت اونچے لوگ ہیں۔ ہم خواب میں بھی آپ کی برابری نہیں کر سکتے۔ یہ۔۔۔۔یہ نوکرانی بن کر رہے گی آپ کی۔ کسی کونے میں ڈال دیجئیے گا کبھی اف تک نہیں کرے گی۔ بس اسے یہاں سے لے جائیں ۔ ابھی اور اسی وقت“۔ساری بات مختصر الفاظ میں بتا کر سفینہ نے ایک بار پھر اپنی بات دہرائی۔

”آپ بلاوجہ پریشان ہو رہی ہیں وہ انسان ہے کوئی جن بھوت نہیں جس سے خوفزدہ ہوکر ایسا احمقانہ قدم اٹھایا جائے۔ یوں رات کے اندھیرے میں چوروں کی طرح میں اسے لے کر چلا جاو ¿ں تاکہ صبح ہونے پر شہر میں آپ کی اور میری بدنامی کے جھنڈے لگ جائیں۔ آپ چلیں میرے ساتھ میں کرتا ہوں بات آپ کے شوہر سے“۔زبیر کا چہرہ غصے سے سرخ ہورہا تھا۔ وہ تصور بھی نہیں کرسکتا کوئی باپ اس درجہ گر سکتا ہے کہ اپنی ہی بیٹی کا سودا کر آئے۔

”آپ نے کہا تھا آپ میرے بیٹے جیسے ہیں۔۔۔۔ ایک ماں ہاتھ جوڑ کر آپ سے درخواست کرتی ہے۔ میری بیٹی کو ان بھوکے بھیڑیوں سے بچا لیں۔ اسے میری طرح معاشرے میں رسوا ہونے سے بچا لیں۔ یہ عزت سے جینا چاہتی ہے اسے اپنا نام اور پناہ دے دیں۔ “سفینہ نے ایک بار پھر ہاتھ جوڑے اور زبیر کا غصہ شرمندگی میں ڈھل گیا۔

”ایسے مت کریں کیوں مجھے گناہ گار کر رہی ہیں آپ۔ آپ جو چاہتی ہیں جیسے چاہتی ہیں میں کرنے کو تیار ہوں پر آپ مجھے اس سے بات تو کرنے دیں“۔عجیب سی سچویشن تھی سفینہ کچھ سننے کو تیار ہی نہیں تھی جبکہ وہ تو کب سے اسے یہی سمجھا رہا تھا کہ شہباز سے خوفزدہ ہونے کی بجائے اس کا مقابلہ کرے۔ اب بھی وہ یہی کرنا چاہتا تھا۔ اسے معلوم تھا ایسے لوگ بس دو ہاتھوں کی مار ہوتے ہیں۔ اتنا تو بحیثیت ڈاکٹر اس کا رسوخ تھا کہ وہ پولیس کو اس معاملہ میں انوالو کر سکتا تھا پر سفینہ کی رٹ پہ اسے چاروناچار ہاں کہنی پڑی۔

”امی ۔۔۔“پیچھے کھڑی فاطمہ نے پہلی بار مداخلت کی۔ وہ سراپاءاحتجاج بنی ماں کی طرف متوجہ تھی ۔ اس سے پہلے کہ وہ کچھ کہتی سفینہ نے ٹوکا۔

”چپ!تجھے میری قسم جو زبان سے ایک لفظ بھی نکالا تو ورنہ اپنی ماں کا مرا ہوا منہ دیکھے گی“۔وہ لب کاٹتی خاموش ہوگئی۔ ایک نظر سامنے کھڑے زبیر کو دیکھا جو شدید اپ سیٹ لگ رہا تھا۔ اسے اپنی حماقت پہ شدید غصہ آیا، یہ خیال بھی اگر چھو کر گزر جاتا کہ اس کی ماں اس وقت زبیر سے مدد مانگنے جا رہی ہے وہ بھی اس طرح کی مدد جس میں اس کی ساری انا اور عزتِ نفس مٹی میں ملنے والی ہے تو وہ گھر میں ہی زہر کھا کر اس اذیت بھری زندگی سے چھٹکارہ حاصل کرلیتی۔

”وہ انسان کے روپ میں سانپ ہے جو وقت آنے پر اپنی اولاد کو بھی نگل جاتا ہے اور آپ اس عارف کو نہیں جانتے۔ اکیلا شہباز اتنا خطرناک نہیں پر وہ بدمعاش۔۔۔۔۔میں آپ کی جان خطرے میں نہیں ڈال سکتی“۔سفینہ ایک بار پھر زبیر کی طرف متوجہ ہوچکی تھی ۔ اس نے نا ماننے والے انداز میں سر ہلایا پر سفینہ کا لہجہ اٹل تھا۔

”کسی کی جان کو خطرہ نہیں ہوگا۔ آپ کیوں پریشان ہوتی ہیں۔ اطمینان سے بیٹھیں اور میری بات سنیں“۔زبیر نے کندھا پکڑ کر صوفہ پہ بٹھانے کی کوشش کی ۔ سفینہ بمشکل بیٹھی پر وہ بے چین تھی۔

”نہیں سننی مجھے آپ کی کوئی بھی بات، آپ سمجھ کیوں نہیں رہے۔ مجھے آج اور ابھی فاطمہ کو اس شہر سے نکالنا ہے۔ کسی ایسی جگہ جہاں وہ ظالم لوگ کبھی اس تک نہ پہنچ پائیں ۔ “وہ تقریباََ چیخی تھی۔ ایک ماں ایسا فیصلہ کرتے کس کرب سے گزرتی ہے یہ کون جان سکتا ہے۔ کسی اور کو تو اس بات کا احساس بھی نہیں ہوسکتا پر وہ کسی صورت فاطمہ کو اس بھیڑیے کی بھینٹ چڑھنے نہیں دے سکتی تھی۔ اسے رات کی سیاہی میں یہ ذلت منظور تھی کہ بیٹی کو چوروں کی طرح ایک شریف انسان کے ساتھ رخصت کردے پر وہ کسی بھی طرح دن کے اجالے میں فاطمہ کی شادی عارف سے ہونے نہ دیتی۔

”ٹھیک ہے ایسا ہی ہوگا۔ وہ لوگ آپ میں سے کسی کا بھی کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ شائد آپ کو میرے خاندان کی پہنچ کا اندازہ نہیں ایسے لوگوں کو نبٹنا خوب جانتا ہوں میں“۔زبیر ہار مانتے ہوئے بولا ساتھ ہی پاس کھڑی پریشان فاطمہ کو دیکھا جس کی خشک آنکھیں سرخ ہو رہی تھیں اور چہرے پہ لکھا احساسِ اہانت چھپائے نہیں چھپتا تھا۔ زبیر کی نگاہ خود پہ محسوس کرتے بھی اس نے نظریں نہیں اٹھائیں۔ زبیر نے اگلے ہی پل توجہ سفینہ پہ مرکوز کرلی۔

”پر میں یہ نہیں چاہتی، آپ کا نام کسی صورت سامنے نہیں آنا چاہیئے۔ آپ ویسے بھی ابھی گھر جا رہے ہیں۔ اسے ساتھ لے جائیں۔ کسی کو کانوں کان خبر بھی نہ ہوگی“۔سفینہ نے اس کا ہاتھ تھام لیا۔ وہ سامنے پنجوں کے بل بیٹھا اسے تسلی دے رہا تھا پر سفینہ کے لئے اس وقت کوئی بھی بات قابلِ قبول نہیں تھی۔ یہ بھی علم تھا گھر پر فاطمہ کو نہ پاکر شہباز کتنا واویلا کرے گا پر وہ اب اپنی بیٹی کے حوالے سے کوئی رسک لینے کو تیار نہیں تھی۔

”اور کل اس شہر میں آپ کی بیٹی کی گمشدگی کا اشتہار لگا ہوگا“۔زبیر نے سمجھایا۔

”اپنے باپ کی لگائی آگ میں تمام عمر جلنے سے بہتر ہے یہ بدنامی۔ اور پھر آپ ہی نے تو کہا دنیا کی پرواہ نہیںکرنی چاہیئے“۔سفینہ نہیں مانی۔ اس کے پاس ہر توجیح کا بس ایک ہی جواب تھا۔

”آنٹی آپ۔۔۔۔“وہ زچ ہوا۔

”بحث مت کریں وقت بہت کم ہے۔ جتنی جلدی ہوسکے آپ دونوں کو یہاں سے نکلنا ہے“۔سفینہ فیصلہ کرچکی تھی ۔ نہ تو زبیر کا سمجھانا کام آیا نہ فاطمہ کی خاموش التجا۔ زبیر کو اس کی بات ماننا پڑی کہ دوسری کوئی بات وہ ماننے کو تیار ہی نہ تھی۔

”گو میں ایسا نہیں چاہتا پر آپ کی ضد اور خوف کے سامنے بے بس ہوگیا ہوں۔ آپ دونوں رکیں میں نکاح کا انتظام کرکے آتا ہوں“۔زبیر نے ایک گہرا سانس لیا اور کمرے سے نکل گیا۔ پیچھے سفینہ ہاتھ ملتی بیٹھی رہی جبکہ فاطمہ کا دل چاہا کاش یہ زمین آج اسے زندہ نگل لے پر نہیں اس دنیا میں ہر انسان کی سب خواہشیں پوری نہیں ہوتی ہیں۔ کچھ لوگوں کی زندگی ادھوری خواہشات کے پہاڑ تلے دبی حسرت و مایوس گزر جاتی ہے۔

٭….٭….٭

تقریباََ آدھے گھنٹے بعد زبیر اپنے ساتھ نکاح خواں اور چند دوست جو اسپتال کے ہی ڈاکٹر تھے ساتھ لئے گھر میں داخل ہوا۔ ان تمام لوگوں کو وہ پہلے ہی ساری بات بتا کر اعتماد میں لے چکا تھا اور اس بات کی تسلی تھی یہ راز ان سب سے باہر نہیں نکلے گا جب تک زبیر نہ چاہے۔ سفینہ کا چہرہ مستقل متحیر تھا کہ زبیر کی بارہا تسلی بھی اس کو اطمینان نہیں دے رہی تھی اس وقت تک جب تک نکاح نہیں ہوگیا۔ ایجاب و قبول کے وقت فاطمہ لب کاٹے خاموش بیٹھی رہی ۔ سفینہ کے ہاتھ کا دباو ¿ کاندھے پہ پڑا تو اس نے بمشکل سر ہلایا اور اس کے ساتھ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔ جلد از جلد سب کو رخصت کرکے سفینہ کے زور دینے پہ زبیر اب فاطمہ کو اپنے ساتھ لے جارہا تھا۔

”آپ کو اکیلا چھوڑ کر نہیں جاو ¿ں گی امی ۔ابا آپ کے ساتھ کیا سلوک کریں گے مجھے سوچ کر خوف آرہا ہے“۔وہ اپنا اور فاطمہ کا سامان گاڑی میں رکھ چکا تھا۔ فاطمہ نے ماں کا ہاتھ تھامے درخواست کی۔ زبیر ان دونوں کی گفتگو میں مخل نہ ہوا۔ وہ اس لمحہِ کرب میں کچھ بھی کہنے کے قابل نہ تھا۔

”کچھ نہیں ہوگا مجھے، وہی روز کی مار پیٹ ہوگی۔ اب تو عادت ہوچکی ہے۔ میں خاموشی سے سہہ لوں گی۔ “سفینہ کے لبوں پہ زخمی مسکراہٹ ابھری۔

”پر یہ سب میری وجہ سے ہوگا ۔۔۔۔۔“فاطمہ کو ایک بار پھر اسی تاسف نے آگھیرا تھا۔

”نہیں ! یہ سب میری وجہ سے ہوگا۔ سالوں پہلے تھوڑی ہمت دکھادی ہوتی تو شائد آج چوروں کی طرح بیٹی بیاہنی نہ پڑتی۔ تم فکر مت کرو ایک بار یہاں سب سکون ہوجائے پھر میں اور ٹیپو جلد تم سے ملنے آئیں گے“۔سفینہ نے اعتراف کیا پھر اگلے ہی پل اسے تسلی دی۔

”آپ پریشان نہ ہوں، فاطمہ کو بابا کے پاس چھوڑ کر میں صبح واپس آجاو ¿ں گا“۔زبیر بھی اب ان کی گفتگو میں شامل تھا۔

”پہلے ہی آپ کی مقروض ہوں یہی احسان تا قیامت رہے گا مجھ پر۔ میری پریشانی تو ختم ہوگئی۔ آپ کو بھی گھبرانے کی ضرورت نہیں سب ٹھیک رہے گا“۔سفینہ متشکر لہجے میں بولی۔

”اب آپ دونوں کو نکلنا چاہیئے“۔اس سے پہلے کہ زبیر کوئی جواب دیتا سفینہ نے انہیں جانے کا کہا۔ وہ خود ایک ایک پل سانسوں پہ گن رہی تھی۔ پھر فاطمہ کا ماتھ چومتے اس نے اسے گاڑی میں بٹھایا اور اس وقت تک وہاں کھڑی رہی جب تک گاڑی دھول اڑاتی اس کی نظروں سے اوجھل نہ ہوگئی۔ بے جان قدموں سے چلتی وہ اب واپس گھر جارہی تھی۔

٭….٭….٭

لاہور میں ایک میڈیکل کانفرنس تھی اور ڈاکٹر انصاری مدعو تھے۔ اسپتال کی وجہ سے نور ساتھ نہ جا سکیں کہ ان کے پاس چند اپائنٹمینٹس تھیں پر فریحہ اچانک چلنے پہ تیار ہوگئی۔ پروگرام صبح سویرے اور اچانک بنا اور ایکدم گھر خالی ہوگیا۔ حسبِ معمول علینہ گھر پہ ملازموں کے ساتھ تنہا تھی ۔ بیگ سے کتابیں نکالیں تو اپنی نوٹس کی فائل کا خیال آیا جو وہ گھر پہ ہی چھوڑ آئی تھی۔ گھر کی چابی اس کے پاس تھی تو بناءکسی سے پوچھے ، کسی کو بتائے وہ اپنی فائل لینے گھر کی طرف چل پڑی۔ ملازمہ نے اسے جاتا دیکھ کر ٹوکا پر اس کے سرد لہجے کی وجہ سے وہ کچھ کہہ نہیں پائی۔ دروازے پہ چوکیدار نے بھی اسے تشویش سے دیکھا اور پھر اس کے نکلتے ہی ملازمہ نے جھٹ نور انصاری کو کال کر دی۔ انہوں نے سر پیٹتے پہلے تو ملازمہ اور چوکیدار کی کلاس لی پھر فوراََ سے پہلے سمیر کو کال ملائی۔

”سمیر ایک پرابلم ہوگئی ہے“۔وہ اس وقت ایک میٹنگ سے نکل رہا تھا جب نور انصاری کی کال اس نے مسکرایتے ہوئے اٹینڈ کی۔ پر ان کا متفکر لہجہ اسے ہلا گیا۔ اتفاق سے کشمالہ بھی ساتھ ہی تھی۔ سمیر کے چہرے پہ پریشانی کی لکیریں اسے بھی ڈسٹرب کر رہی تھیں۔

”کیا ہوا ممی، فری اور ڈیڈ تو خیریت سے ہیں نا؟“اس کا دھیان سیکینڈ کے ہزارویں حصے میں اپنے والد اور بہن کی طرف گیا تھا جو اس وقت سفر میں تھے۔

”ہاں اللہ کا شکر وہ خیریت سے ہیں ابھی میری بات ہوئی تھی ان سے پر وہ علینہ۔۔۔“نور جلدی جلدی بتانے لگیں۔

”اسے کیا ہوا؟(حالانکہ نفسیاتی دورے تو اسے پڑتے ہی رہتے ہیں ۔۔۔خیر)وہ کچھ ریلیکس ہوا تھا۔

”وہ چلی گئی ہے“۔نور انصاری نے اعلان کیا۔

”چلی گئی ہے؟ (خس کم جہاں پاک)وہ متعجب تھا۔دل میں جو بھی سوچا ماں سے تو بہرحال نہیں کہہ سکتا تھا کیونکہ وہ پریشان تھیں۔

”پر کہاں؟“دل تو نہیں تھا کچھ پوچھنے کا پر مجبوری تھی۔

”اپنے گھر“۔نور نے مزید بتایا۔

”ہاں تو اس میں اتنی ٹینشن والی کیا بات ہے۔ آجائے گی“۔وہ اب قدرے ریلیکس تھا۔ اس کی بلا سے وہ کہیں بھی آئے جائے اسے کیا لینا دینا ۔

”تم سمجھ نہیں رہے ہو ۔ وہ ہماری ذمہ داری ہے خدوانخواستہ کوئی مسئلہ ہوگیا تو میں شاکرہ آنٹی کو کیا جواب دوں گی“۔نور انصاری نے مفصل بتایا۔

”آپ انہیں کیوں جواب دیں گیں، وہ اپنی نواسی کے میلو ڈرامہ سے اچھی طرح واقف ہیں“۔

”مجھے یہاں ایمرجنسی نہ ہوتی تو میں کبھی تمہاری منتیں نہ کرتی“۔نور چڑ کر بولیں۔ ایک تو پریشانی اس پہ سمیر کا لاپرواہ انداز۔ انہیں شدید غصہ آرہا تھا۔ پریشانی ہی کچھ ایسی تھی اس پہ وہ بیوقوف لڑکی ان کی کال بھی ریسیو نہیں کر رہی تھی۔

”اچھا اب غصہ تو نہ کریں۔ جا کر دیکھتا ہوں اس ڈرامہ کوئین کو ویسے بس اب یہی کام رہ گیا ہے میرا۔ ضلع انتظامیہ چھوڑ کر مس علینہ کو تلاش کرنا“۔اسے اندازہ نہیں تھا وہ اتنی پریشان ہیں اور ایکدم ری ایکٹ کریں گیں۔

”سب خیریت؟“ کال بند ہوئی تو کشمالہ نے سوال کیا۔

”پرفیکٹ“۔ سمیر اب نارمل تھا۔

”مسئلہ ہوا بھی تو تم کون سا شئیر کر لو گے“۔ کشمالہ نے جتایا۔ سمیر نے جواب دینے کی بجائے فقط مسکرانے پہ اکتفا کیا۔

”میں آتا ہوں ابھی تم سنبھال لینا“۔ اسے ہدایت دیتا وہ فوراََ ہی دفتر سے نکل گیا تھا۔ بھلے دل سے نہ سہی پر ماں کی خاطر اس محترمہ کو ڈھونڈنا تھا۔

٭….٭….٭

رکشہ تو باہر سڑک سے ہی مل گیا تھا اس لئے جلدی گھر پہنچ گئی۔ نانی کے بغیر گھر ویران لگ رہا تھا اس پہ چند روز سے صاف صفائی بھی نہیں ہوئی تھی۔ اسے تو وحشت ہونے لگی۔ اچھا ہی تھا وہ یہاں نہیں رکی ورنہ اکیلے میں مرتی نہ تو پاگل ضرور ہوجاتی۔ نوٹس والی فائل کمرے میں پڑی تھی۔ ساتھ کچھ دوسرا ضروری سامان جو وہ اس وقت اپنے ڈپریشن میں چھوڑ گئی تھی اکٹھا کرتے وہ جلد ہی واپس پلٹ گئی۔ دوپہر کا وقت اور گرمی کے دن ہوں تو سڑکیں بھی خالی ہی ہوتی ہیں۔ اردگرد نگاہ دوڑائی اکثر تو چوک پہ رکشے کھڑے ہوتے ہیں پر اس وقت وہاں کوئی سواری موجود نہ تھی۔ یہاں کھڑے ہوکر سواری کا انتظار کرنے کی بجائے یہی مناسب سمجھا کہ چلتی رہے کہیں نہ کہیں آگے جا کر رکشہ مل جائے گا اور اگر نہ بھی ملا تو گھر کوئی بہت زیادہ دور نہیں تھا۔ جانے کو تو پیدل بھی جا سکتی تھی۔ تیز تیز قدم اٹھاتی وہ سڑک کے کنارے چلی جارہی تھی۔ اسی وقت پاس سے ایک موٹر سائیکل زن سے گزری اور کچھ فاصلے پہ جاکر رکی۔ موٹر سائیکل سوار پلٹا اور گھوم کر اس کے پاس آگیا۔ وہ مونس تھا جسے دیکھ رک علینہ کے قدم تھم گئے۔ ایک سنسنی تھی جو ریڑھ کی ہڈی میں لہر بن کر دوڑی۔

”کیا بات ہے جانم بڑی جلدی میں ہو“۔مونس پوری بتیسی کھولے لچر انداز میں بولا۔موٹر سائیکل سے اتر کر وہ اب اس سینہ تانے اس کے عین سامنے کھڑا تھا۔

”شٹ اپ۔ راستہ چھوڑو میرا“۔سڑک پہ نگاہ دوڑائی جہاں اس وقت کوئی نہیں تھا۔ خشک لبوں پہ زبان پھیرتے علینہ نے ہمت دکھائی اور ایک بار پھر مونس کے گال کا نشانہ لیا۔

”ارے ارے، کول ڈاو ¿ن حسینہ۔ ابھی وہ پرانا حساب کلئیر نہیں ہوا تم نیا کھاتہ کھولنا چاہتی ہو“۔وہ پہلے ہی اس کی نیت بھانپ چکا تھا ایکدم اس کی کلائی تھام لی۔

”راستہ چھوڑو ورنہ میں۔۔۔۔۔“مونس نے اس کا ہاتھ اتنی مضبوطی سے پکڑ رکھا تھا کہ وہ بلبلا ہی گئی۔

”ورنہ کیا؟“اس کی کلائی مڑوڑتے وہ دھمکی آمیز لہجے میں بولا۔

”تمہاری نانی ہٹلر تو یہاں ہیں نہیں۔ باپ تمہارا ویسے تمہیں نہیں پوچھتا۔۔۔اسی لئے تو کسی کے بھی دروازے پہ پٹخ دیا تمہیں“۔ دانت پیستے اس نے تمسخر کیا۔

”مونس تم اپنی بکواس بند کرو رنہ میں۔۔۔۔“اپنا ہاتھ چھڑانے کی سعی کرتے وہ غرائی پر مونس کو یہ موقع قدرت نے دیا تھا۔ وہ دو دن پہلے ہی واپس آیا تھا اور آتے ہی علینہ کی ٹوہ میں لگ گیا تھا پر اسے کیا خبر تھی وہ خود پکے پھل کی طرح اس کی جھولی میں آگرے گی۔

”ورنہ تم شروع کردو گی۔۔۔چلو کرو شروع پھر ہاں!وہ جیسے فلموں میں کہتے ہیں نا کتے کمینے میں تیرا خون پی جاو ¿ں گی“۔اس کی طرح اس کی حسِ مزاح بھی بیہودہ تھی۔

”چھوڑو میرا ہاتھ ذلیل انسان ورنہ میں شور مچا کر سب کو اکٹھا کر لوں گی“۔علینہ چلائی۔ سڑک پہ رکتی گاڑی کو ان دونوں نے ہی گردن گھما کر دیکھا اور اس میں سے نکلتے سمیر کو دیکھ کر علینہ کا رکا ہوا سانس بحال ہوا تھا۔

”کیا ہورہا ہے یہ؟“پاس آکر وہ سخت لہجے میں بولا۔ اس کا ڈرائیور بھی گاڑی سے نکل کر باہر ہی کھڑا تھا۔

”کچھ نہیں یار تم کیا کباب میں ہڈی بن رہے ہو یہ ہمارا پرسنل معاملہ ہے ۔“مونس لاپرواہی سے کہتے ایک بار پھر علینہ کی طرف متوجہ ہوگیا۔

”چلو کھسکو“۔یہ سمیر کی برداشت کی حد تھی۔

”پرسنل معاملہ ہے؟“علینہ کا بازو اس کے ہاتھ سے چھڑاتے وہ دانت پیستے ہوئے بولا۔

”کون ہے یہ علینہ؟“علینہ اس کی گرفت سے نجات پاکر تیزی سے سمیر کی اوٹ میں چھپ گئی۔

”میرے کالج میں پڑھتا ہے مجھ سے بدتمیزی۔۔۔۔“آنسوو ¿ کا پھندا اب اس کے گلے میں اٹک گیا تھا۔ مونس کی بدتمیزی ہی کیا کم خوفزدہ کر رہی تھی اور اب سمیر کے سامنے یہ سبکی۔

”ارے واہ یار تم تو واقعی ہیرو نکلے۔ ون ان ہینڈ ون ان بش۔ اس دن وہ ۔۔۔آج یہ۔ کیا بات ہے باس“۔مونس نے قہقہہ لگاتے بائیں آنکھ دبائی۔

”اب اگر بکواس کی نا تو منہ توڑ دوں گا تمہارا۔ “سمیر نے گردن کا نچلا حصہ اپنے مضبوط ہاتھ کی گرفت میں لیا تو اس کی چیخ نکل گئی۔

”تم گاڑی میں جاکر بیٹھو“۔وہ اب علینہ کی طرف متوجہ تھا جو خوفزدہ و پشیمان اس کا حکم ملتے ہی بھاگ کر گاڑی کی فرنٹ سیٹ پہ جا بیٹھی۔

”اور تم۔۔۔۔بڑی اوور ایکٹنگ کرنی آتی ہے تمہیں لگتا ہے انڈین فلمیں بہت دیکھتے ہو۔ چلو آج تمہاری طبیعت صاف کرتا ہوں“۔ اس کا کالر پکڑے سمیر نے ایک ساتھ دو تھپڑ اس کے منہ پہ مارے۔ دھان پان سا مونس ہل کر رہ گیا۔ اب بھی اس کی قمیض کا کالر سمیر کی گرفت میں تھا۔

”کالر چھوڑو میرا۔۔۔تم جانتے نہیں میں کس کا بیٹا ہوں“۔انصاری فیملی کے متعلق وہ کچھ بھی نہیں جانتا تھا اور سمیر کو تو وہ سرے سے جانتا ہی نہیں تھا سوائے اس ایک ملاقات کے جو اتفاقیہ ریسٹورنٹ کے باہر ہوئی تھی ۔ اس وقت بھی سمیر کو اس لڑکے کا لہجہ ہی زہر لگا تھا اور آج بھی وہ اسی پِنَک میں تھا پر سمیر کو روکنے والی کشمالہ نہیں تھی۔ دوسرے جس حالت میں اس نے علینہ کو دیکھا تھا اس کا دماغ گھوم گیا تھا۔

”جانتے تو تم مجھے نہیں لیکن اب جان جاو ¿ گے بیٹا اور جب جان لو گے تو ہمیں اپنا باپ مانو گے“۔سر پہ دھول جماتے سمیر نے پاس کھڑے ڈرائیور کی طرف مونس کو دھکیلا۔

”اسے ایس ایچ او صاحب کے پاس لے جاو ¿، کہنا میں نے گفٹ بھیجا ہے“۔وہ خود اب گاڑی کی ڈرائیونگ سیٹ کا دروازہ کھول کر بیٹھ رہا تھا۔ ڈرائیور اونچے لمبے قد کا مضبوط آدمی تھا۔ مونس کو خوب قابو کیا۔ وہ بہتیرا چیخا چلایا پر وہ اسے گھسیٹتا قریبی تھانے لے گیا۔

٭….٭….٭

گاڑی کا رخ زینب وقار اسپتال کی طرف تھا۔ سمیر کا چہرہ غصے سے سرخ ہورہا تھا۔ سیاہ قمیض کی آستینیں کہنیوں تک چڑھائے وہ لب بھینچے گاڑی چلا رہا تھا جبکہ علینہ سر جھکائے آنسو بہا رہی تھی۔

”دل تو کر رہا ہے جتنی اسے کان کے نیچے ماری ہیں اتنی تمہیں بھی لگاو ¿ں۔ “اسے رہ رہ کر اس لڑکی پہ غصہ آرہا تھا جو جب سے ان کی زندگی میں آئی تھی ٹینشن بنی ہوئی تھی۔

”سمجھتی کیا ہو خود کو تم۔۔۔۔ایک پرابلم ختم ہوتا نہیں تمہارا دوسرا ایشو شروع ہوجاتا ہے۔ جان عذاب بنا کر رکھی ہوئی ہے ہماری“۔دانت پیستے وہ قدرے اونچی آواز میں بولا تو علینہ دہل گئی۔بس ایک بار ہی سر اٹھا کر اس نے سمیر کو دیکھا ۔ آنسوو ¿ں سے تر چہرہ اور اڑی ہوئی رنگت صاف بتا رہی تھی وہ اس پل کتنی خوفزدہ ہے۔

”جانتی ہو اگر میں وقت پہ نہ پہنچتا تو تمہیں کتنی پریشانی اٹھانی پڑتی اور جوابدہ ہوتے ہم“۔سمیر کچھ دھیما پڑا تھا۔ علینہ کچھ نہیں بولی پر اس بار وہ واقعی ہی شرمندہ ہوئی تھی۔

٭….٭….٭

اوہ میرے اللہ !علینہ بیٹا آپ مجھے بغیر بتائے چلی گئیں ۔ کس قدر پریشانی ہورہی تھی مجھے“۔سمیر کے ساتھ علینہ کو دیکھ کر نور انصاری کی رکی ہوئی سانس بحال ہوئی تھی۔ دل ہی دل میں کلمہِ شکر کہتے وہ آگے بڑھیں۔

”یہ اتنا رو کیوں رہی ہے؟“علینہ یکدم ان سے لپٹ گئی اور مزید زور زور سے رونے لگی۔

”کچھ نہیں بس راستے میں تھوڑا سا ڈانٹ دیا کہ آئندہ ایسی فضول حرکت مت کرے ۔ “نور انصاری کے استفسار پہ سمیر نے توجیح دی۔

”سمیر“۔وہ ناراضی سے بولیں۔

”کچھ نہیں ہوا اسے تھوڑا گلوکوز وغیرہ پلائیں کہیں پھر نہ بے ہوش ہوجائے اور الزام لگانے کے لئے تو خادم ہے نا“۔دو انگلیوں کا اشارہ اپنی طرف کرتے وہ تیز لہجے میں بولا۔

”چپ ہوجاو ¿ میری جان، اس کی طرف سے میں معذرت کرتی ہوں“۔ اسے نظر انداز کئے نور انصاری بس علینہ کی طرف متوجہ تھیں ۔ وہ اب بھی ان کے سینے سے لگی سسک رہی تھی۔ اس کے بال سہلاتے وہ پچکارنے لگیں۔ ان دونوں کو ایک دوسرے میں مشغول دیکھ کر سمیر دروازے کی طرف بڑھا۔

”آپ سنبھالیں انہیں، میں اب چلتا ہوں“۔نور نے سر اٹھا کر سوال کیا ۔

”تم کہاں جا رہے ہو؟“گو جانتی تھیں کہ وہ رکنے نہیں آیا تھا پر یہ مائیں اور ان کی عادات کبھی نہیں بدل سکتیں۔

”مام گورنمنٹ مجھے کام کرنے کے پیسے دیتی ہے، سڑکوں پہ آپ کی مہمان ڈھونڈنے کے نہیں“۔طنزیہ کہتے اس نے ایک نگاہ علینہ پہ ڈالی ۔

”چلتا ہوں“۔نور انصاری نے سر جھٹکا۔ وہ متانت سے چلتا باہر نکل گیا۔

٭….٭….٭

 وہ مایوں بیٹھی نہ ہتھیلی پہ مہندی رچائی، سہیلیوں نے گیت گائے نہ اس کی بارات آئی۔ کیسی رخصتی تھی جو رات کی اندھیرے میں چوروں کی طرح چھپ کر ہوئی جس کے لئے نہ بیاہنے والا دل سے راضی تھا نہ بیاہ کر جانے والی، پھر بھی بس ایک انسان کی ضد کے سامنے مجبور ہوکر گھٹنے ٹیکنے پڑے تھے۔ باپ کی خباثت کا خوف اپنی جگہ پر وہ اس طرح زبیر پر بوجھ بن کر اس کی زندگی پہ مسلط ہونا نہیں چاہتی تھی۔ وہ ایک اچھا انسان تھا یہ وہ پچھلے ڈیڑھ سال سے جانتی تھی پر اس کی اچھائی کی اتنی بڑی قیمت وصول کرنا سرارسر زیادتی تھی۔ مخمل میں ٹاٹ کے پیوند ہمیشہ مایوب لگتے ہیں۔ جوتی پاو ¿ں میں اور ہیرے تاج میں سجائے جاتے ہیں۔۔۔جگہ بدل دینے سے اوقات نہیں بدلتی ہاں دنیا کی نگاہ میں ضرور کھٹکنے لگتا ہے۔ پچھلے دو گھنٹے سے وہ اس کی ہمسفر تھی پر نہیں جانتی تھی منزل کیا ہے کیونکہ دونوں کے درمیان ایک بھی لفظ کا تبادلہ نہ ہوا تھا۔ کبھی آنے والے وقت کا سوچ کہ دل کٹتا تو کبھی پیچھے ماں اور بھائی کا سوچ کر دل ڈوبنے لگتا تھا۔ آنسو تھے کہ تھمنے کا نام ہی نہیں لے رہے تھے۔ ایک ایک سانس اس وقت بوجھل ہورہی تھی۔ اب تک اتنا بہت سا رو چکی تھی کہ سر میں شدید ٹیسیں اٹھ رہی تھیں پر ان آنکھوں کی برسات تھمنے کا نام ہی نہ لیتی تھی۔

”بھوک لگی ہے؟“اس خاموشی کو زبیر کی گھمبیر آواز نے توڑا تھا۔ فاطمہ نے منہ اٹھائے بغیر جھکی گردن کے ساتھ نفی میں سر ہلایا۔

”پیاس؟“سوال پھر کیا گیا۔ جواب اس بار بھی وہی تھا۔ اس نے گہرا سانس لیا۔

”رونا کسی مسئلے کا حل نہیں فاطمہ۔ “زبیر نے یکدم اس کی گود میں دھر اہاتھ تھام لیا جو برف سا سرد ہورہا تھا۔ وہ چونکی ۔ محتاط سا وہ سامنے دیکھتا ڈرائیو کر رہا تھا پر دھیان اسی کی طرف تھا۔

”مجھے امی کے متعلق سوچ سوچ کر خوف آرہا ہے پتا نہیں ابا ان کے ساتھ کیسا سلوک کریں“۔نہ اس نے ہاتھ چھوڑا نہ فاطمہ نے ہاتھ چھڑایا۔

”پریشان مت ہو بس دعا کرو۔ میں صبح جاکر انہیں بھی سمجھا بجھا کر اپنے ساتھ لے آو ¿ں گا“۔زبیر نے تسلی دی۔

”پکا نا؟“فاطمہ نے تصدیق چاہی۔

”بالکل پکا۔۔۔چلو اب ریلیکس ہوجاو ¿“۔اس کا ہاتھ تھپکتے زبیر نے دھیمے لہجے میں تسلی دی۔ پریشانی اپنی جگہ، بے چینی بھی تھی پر زبیر کی بات نے اسے اطمینان دیا تھا اور اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اس نے رونا بند کردیا تھا۔

٭….٭….٭

ڈاکٹر انصاری کا ایک روزہ ٹور فریحہ کی بدولت دو دن میں بدل گیا تھا۔ ان دونوں کو لاہور سے نکلتے دیر ہوگئی تو فریحہ کے ساتھ رات کا سفر مناسب نہ سمجھتے ہوئے وہ لوگ وہیں رک گئے تھے۔ گھر میں اب بس سمیر، نور اور علینہ تھے۔

”گھر کتنا خالی خالی لگ رہا ہے نا فری کے بغیر؟“ڈنر ٹیبل پہ ان کی کمی کو محسوس کرتے نور انصاری بولیں ۔ یہ کمی تو اب علینہ کو بھی محسوس ہورہی تھی۔ فریحہ کے ساتھ اس کی بہت دوستی نہ سہی پر وہ اس سے کھل کر بات چیت کر لیتی تھی۔

”یہ یقینناََ اسی کی پلاننگ ہوگی رات رکنا ورنہ ڈیڈ تو رات میں بھی واپس آجاتے“۔سمیر نے لقمہ توڑتے لقمہ دیا۔

”اسے شاپنگ کرنی تھی ۔ اسی لئے ٹائم زیادہ ہوگیا“۔ نور بولیں۔ علینہ سر جھکائے پلیٹ میں رکھا کھانا زہر مار کر تی ان دونوں کی گفتگو خاموشی سے سن رہی تھی اور اس وقت کا انتظار کر رہی تھی جب سمیر نور کو مونس کے متعلق بتائے گا یا پھر اس سے مونس کے بارے میں کوئی بات پوچھے گا۔ دل ہی دل میں شرمندہ وہ وہاں زبردستی بیٹھی تھی۔

”مجھے پہلے ہی پتا تھا۔ ذرا جو یہ ممی آپ پہ گئی ہو۔ مجال ہے جو طبیعت میں تحمل و بردباری ہو“۔سمیر کی بات سن کر نور انصاری کے لبوں پہ مسکراہٹ نمودار ہوئی۔

”لڑکیاں ایسی ہی ہوتی ہیں۔ سب کو ہی کپڑوں جوتوں کا شوق ہوتا ہے اسے شاپنگ پسند ہے تو اس میں نیا کیا ہے“۔سمیر کی پلیٹ میں سالن ڈالتے انہوں نے بیٹی کا دفاع کیا۔

 (پتا نہیں یہ ہٹلر تو ہر کسی میں نقص ہی نکالتا رہتا ہے) ۔علینہ کو ان کا فریحہ کی سائیڈ لینا بہت اچھا لگاتھا۔ سمیر کا فون بجا تو اس نے معذرت کرتے کال ریسیو کی۔

”ایکسکیوز می“۔

”جی طاہر صاحب“۔کمرے میں اب فقط سمیر کی آواز گونج رہی تھی۔

”سر آپ مصروف تو نہیں تھے؟“دوسری طرف مو ¿دبانہ انداز میں پوچھا گیا۔

”نہیں مصروف نہیں تھا۔ آپ بتائیں“۔کھیرے کا قتلہ منہ میں ڈالتے وہ سنجیدگی سے بولا۔

”سر جی اس لڑکے کا کرنا کیا ہے؟“سمیر ہنسا۔ یہ علاقے کا ایس ایچ او تھا جس کے پاس دوپہر کو سمیر نے مونس کو بھجوایا تھا۔ بعد میں تو اسے فرصت ہی نہ ملی کہ کوئی بات کرتا پر ظاہر ہے ڈی سی صاحب نے بھیجا تھا تو ایس ایچ او یونہی اسے جانے تو نہیں دے سکتا تھا نا۔

”اچھا اس کا ۔۔۔۔وہ تحفہ بھیجا تھا آپ کو جو دل چاہے کریں بس اتنا خیال رہے ایک ہفتے سے پہلے باہر نہیں آنا چاہئیے“۔ہلکے پھلکے انداز میں حکم دیا گیا تھا۔ علینہ نے نظر اٹھا کر دیکھا۔ گفتگو کا رخ جس طرف جا رہا تھا اتنا تو وہ سمجھ چکی تھی کہ یہ مونس کے متعلق بات ہورہی ہے۔

”آپ نے کہہ دیا تو نہیں آئے گا سر۔ ویسے اوکھا بڑا ہورہا تھا ۔ اپنے باپ کی دھونس دے رہا تھا پھر ہم نے بھی دو ہاتھ جڑ دئیے“۔ایس ایچ او طاہر نے جواب دیا۔

”نہیں نہیں ہاتھ نہیں چلانا۔۔۔بس مہمان بنا کر رکھنا ہے اور خاطرداری کرنی ہے۔ اس کا جو فلمی پن ہے نا وہ نکال دیں۔ “علینہ جانتی تھی اس کال کے اختتام پہ اب موضوع گفتگو وہ ہونے والی ہے۔ اس کی سانس بند ہورہی تھی۔

”ٹھیک ہے سر پھر دیکھ لیں گے اسے بھی اور اس کے باپ کو بھی۔ “طاہر شاہ ضرورت سے زیادہ میٹھا ہورہا تھا آخر نئے ضلع کمشنر کا آرڈر تھا اور یہ گولڈن چانس تھا اس کی گڈ بکس میں آنے کا۔

”بہت شکریہ“۔سمیر کا لہجہ سنجیدہ تھا۔

”شکریہ کیسا سر جی آپ نے پہلی بار کوئی کام کہا ہے۔ ہم آپ کے خادم بس دعاو ¿ں میں یاد رکھئیے گا“۔اختتامی کلمات کے بعد کال ڈسکنیکٹ کر دی گئی تھی۔ وہ پھر کھانے میں مشغول ہوگیا۔

”خیریت؟ کس کے متعلق بات ہورہی تھی“۔نور انصاری کے استفسار پہ علینہ کو اچھو لگا۔

”کوئی نہیں ۔۔۔ایک قاصد چوری کرتے پکڑا گیا تھا مان ہی نہیں رہا تھا ۔ اسے تھانے بھجوایا تو اسی کے متعلق بات کر رہا تھا۔“سمیر نے نظر اٹھا کر دیکھا وہ پانی کا گلاس منہ سے لگائے بیٹھی اسے دیکھنے سے اجتناب برت رہی تھی ۔ اسے یقین تھا سمیر اب ایک بار پھر نور انصاری کے سامنے اس کی کلاس لے گا مگر اس کی حیرت کی انتہا نہ رہی جب اس نے بے جھجک بڑے اعتماد سے جھوٹ بولا۔ نور انصاری بھی مطمعن ہوکر کھانے کی طرف متوجہ ہوگئیں۔ باتوں کا رخ بدل گیا۔

”کافی پلوائیں میں کمرے میں ہوں“۔کھانا ختم کرکے وہ ماں سے فرمائش کرتا کمرے کی طرف چلا گیا۔

”بھجواتی ہوں مگر کام کے چکر میں زیادہ دیر جاگتے مت رہنا“۔انہوں نے جاتے جاتے تاکید کی پر جانتی تھی اس نے ماننی کہاں ہے۔

٭….٭….٭

رات دیر تک جاگنا اس کا معمول تھا۔ آج کل تو ویسے بھی شروعات تھی اور ایک اہم ترین پوسٹ پہ اس کا پہلا تجربہ تو مصروفیت بھی اپنی جگہ تھی۔ بطور نگران تینوں تحصیلوں کے معاملات دیکھنا اتنا بھی آسان نہ تھا وہ بھی ان حالات میں جب نیچے سے اوپر تک ہر شخص کرپشن میں ملوث ہو۔ جہاں افسر مرغی کھاتا ہے تو ماتحت انڈے پہ ہاتھ صاف کرتا ہے۔کشمالہ کی بدولت اس شہر میں کئی ترقیاتی کام ہوئے پر اس کی نسبت دوسرے علاقوں میں وہ معیار سامنے نہیں آیا تو یقینناََ اس کی ٹیم میں جھول تھا۔ بہرحال حالات جیسے بھی تھے انہیں اپنے موافق بنانا تھا۔ کمپیوٹر پہ بیٹھے وقت کا احساس ہی نہ ہوا اور جب گھڑی پہ نگاہ ڈالی تو دو بج چکے تھے۔ذہن بوجھل ہورہا تھا پر اسے نیند نہیں آرہی تھی۔ لیپ ٹاپ بند کرکے وہ یونہی کمرے کی کھڑکی پہ جا کھڑا ہوا۔ پردہ ہٹایا تو باہر پورچ اور لان کا کچھ حصہ دکھائی دیا۔آسمان پہ تاروں کی ٹمٹاہٹ توجہ بٹورتی تھی۔ آج کا دن جس ہیجان کی نظر ہوا تو دھیان اس پل اسی ایک بات پہ جا ٹھہرا۔ اچانک کوئی سفید شے نگاہ سے ٹکرائی تو مارے تجسس وہ اپنی سوچ سے نکل کر اس کا سراغ لگانے لگا۔ ذرا گھوم کر دیکھا تو لان میں ربڑ پلانٹ کے درخت تلے علینہ کھڑی تھی۔ یہ اسی کا سفید دوپٹہ تھا جس کا کونا سمیر نے دیکھا۔ کچھ سوچتے ہوئے وہ لان میں چلا آیا۔

 علینہ سینے پہ ہاتھ باندھے ایک ٹک آسمان کو دیکھ رہی تھی۔ ذہن میں سوچوں کا سیلاب تھا ۔ آج جو کچھ مونس کرنے کا ارادہ رکھتا تھا وہ اگر ہوجاتا ۔۔۔۔بس یہی سوچ کر جان نکل رہی تھی۔ اسے کہاں اندازہ تھا کہ وہ منحوس انسان ایسے کھلے عام اس کے ساتھ بدتمیزی کرے گا اور اگر سمیر وقت پر نہ آتا تو کیا ہوتا اور اگر چار لوگ وہاں اکٹھے ہوجاتے تو کیا ہی بے عزتی جھیلنا پڑتی۔ خوف سے جھرجھری لیتی وہ پلٹی تو پیچھے سمیر کھڑا تھا۔ وہ ٹھٹکی اور کچھ محتاط ہوگئی۔ نگاہیں اپنے جوتوں پہ ٹکی تھیں کہ سمیر کی طرف دیکھنے سے بھی اجتناب کیا۔

”تمہیں اس لڑکے کی طرف سے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے اس کی طبیعت صاف ہورہی ہے اب کبھی تمہیں دور سے دیکھ کر ہی منہ دوسری طرف پھیر لے گا۔“اسے شدید حیرت ہوئی تو کیا یہ شخص اس پل اس کا ذہن پڑھ رہا تھا۔ کیا یہ کوئی ٹیلی پیتھی جانتا ہے کہ جو خوف و پریشانی بھرے سوالات علینہ کے دماغ میں چل رہے تھے ان کا جواب دینے چلا آیا۔

”کیا وہ لوگ اسے بہت ماریں گے؟“کیا ہی واہیات سوال تھا۔ کہنا تو یہ چاہیئے تھا کہ اسے ضرور ماریں اور بہت سا ماریں پر ہائے رے اس لڑکی کی عقل۔ ابھی جس کے متعلق سوچ کر جان پہ بنی جارہی تھی اس کی پٹائی کی بھی فکر۔

”اونہوں۔۔۔ میں تشدد کے سخت خلاف ہوں۔ بس کچھ دن لاکر میں رہے گا۔ وہاں کا ماحول ہی بہت ہوتا ہے ایسے بیوقوفوں کو سبق سکھانے کے لئے۔ “سمیر نے نفی میں سر ہلایا۔

”لیکن اس کے گھر والے تو واویلا مچا دیں گے خاص طور پر اس کی امی۔“علینہ کے اگلے سوال پہ سمیر متعجب ہوا تھا۔ وہ ضرورت سے زیادہ اپنا کنسرن دکھا رہی تھی۔

”تم کہہ رہی تھی یہ تمہارا کلاس فیلو ہے تو پہلے بھی تمہیں تنگ کرتا تھا یا۔۔۔۔“ اسے اچانک خیال آیا۔

”یہ ہمیشہ سے مجھے تنگ کرتا ہے۔ جملے کستا تھا، بیہودہ مذاق کرتا تھا اور اس دن۔۔۔۔“ علینہ روہانسی ہوگئی۔

”اس دن؟؟؟“ابرو اچکائے سوال کیا گیا تھا۔ علینہ نے تفصیلاََ بتانا شروع کیا۔

”کالج کا لاسٹ ڈے تھا جب اس نے میرا راستہ روکا سب کے سامنے تو میں نے اس کو تھپڑ مار دیا۔“سمیر کی ہنسی چھوٹ گئی۔ علینہ نے منہ اٹھا کر دیکھا۔

”تم نے اسے تھپڑ مارا؟ آہاں۔۔۔امپریسیو “۔ سمیر نے داد دی جو اسے ہرگز دادمحسوس نہیں ہورہی تھی۔ وہ خود جانتی تھی وہ کتنی بڑی غلطی کرچکی ہے پھر یہ اتنا احمق کیسے ہوسکتا ہے کہ ایسی باتوں کو سراہے۔

”اب وہ اسی بات کا بدلہ لینے کی دھمکیاں دے رہا تھا۔ “علینہ نے مزید بتایا۔

”خاصی عقلمند ہیں آپ تو۔ ایک لڑکا کالج میں تمہیں ہریشان کر رہا ہے لیکن کالج انتظامیہ یا اپنے گھر والوں کو اس کی شکایت کرنے کے بجائے سیدھا اسے طمانچہ مار دیا “۔ وہ ہرگز احمق نہیں تھا۔ اس کے طنزیہ انداز پہ علینہ خاموش ہوگئی۔

”گھر میں کیوں نہیں بتایا؟“اس نے مزید پوچھا۔

”میں نانی کو پریشان نہیں کرنا چاہتی تھی۔ “علینہ نے لب کاٹے۔

”تو اپنے والد سے کہہ دیتی وہ کوئی ایکشن لیتے۔“

”میں انہیں اپنے کسی مسئلے میں انوالو نہین کرنا چاہتی ویسے بھی مونس کے معاملے میں وہ شائد کچھ نہ کر سکیں“۔ وہ تلخ ہوئی تھی۔

”کوئی خاص وجہ“۔ سمیر پوچھے بغیر نہ رہ سکا۔

”وہ ان کی بیوی کا بیٹا ہے۔“یہ انکشاف تھا۔ اتنا قریبی تعلق اور یہ غنڈہ گردی سب کی ناک کے نیچے یعنی اچھا خاصہ سچویشن کو ایکسپلائٹ کیا جارہا ہے۔

”تو کیا ان کے گھر میں رہتا ہے؟“ایک اور سوال۔

”شائد نہیں۔۔۔شائد ہاں۔ میرا مطلب میں نہیں جانتی“۔اب اس سے آگے وہ کیا پوچھتا سو ماحول پہ خاموشی طاری ہوگئی۔

”آپ نے آنٹی کو کچھ نہیں بتایا؟“اور یہ پہلی بار تھا کہ علینہ نے خود سے سمیر کو مخاطب کیا۔

”مجھے لگا اس کی ضرورت نہیںتھی اس لئے انہیں نہیں بتایا اور تم بھی ان سے ذکر مت کرنا، خوامخواہ پریشان ہوجائیں گیں وہ“۔سمیر کا لہجہ عام سا تھا۔علینہ کو اس پل شدید خفت نے آگھیرا۔ وہ متشکر ہوئی پر آنکھیں بے اختیار چھلک گئیں۔

” سوری میں اوور ری ایکٹ کر گیا“۔سمیر کی معذرت خود اس کے اپنے لئے باعثِ حیرت تھی ۔

”مجھے غصہ تھا بعد میں احساس ہوا کہ تمہیں کچھ زیادہ ہی باتیں سنا دیں“۔اسے خود بھی احساس تھا وہ علینہ کو کافی سخت سست کہہ چکا ہے پر وہ موقع ہی کچھ ایسا تھا۔ پریشانی سی پریشانی تھی اور اگر وہ لیٹ ہوجاتا، وہاں نہ پہنچتا تو بات کتنی بڑھ سکتی تھی۔ اسی ٹینشن میں تو وہ ٹکا کے بولا۔

”جنہیں اپنے اٹھا کر دوسروں کے در پہ پٹخ دیتے ہیں انہیں سب کی باتیں سننے کی عادت بھی ہونی چاہیئے“۔انگلی کی پور سے آنکھ کا کونہ صاف کرتے وہ بھیگے لہجے میں بولی اور سمیر کی ساری ہمدردی ہوا میں تحلیل ہوگئی۔

(آہ۔ڈرامہ کوئین)اس کے اندر کسی نے دونوں ہاتھ اٹھا کر احتجاج کیا تھا۔ وہ پلٹنے لگا پر علینہ اب بھی اپنی جگہ جامد و ساکت تھی۔

”میرے خیال میں اب تمہیں اپنے کمرے میں جاکر سوجانا چاہیئے کیونکہ آدھی رات کو لان میں کھڑے ہوکر تو مسئلہ کشمیر حل نہیں ہوسکتا یہ معاملہ تو چھ دہائیوں سے پینڈنگ ہے“۔وہ انتہائی سنجیدہ تھا اور علینہ کا ذہن اس وقت وہاں موجود ہی نہ تھا جو اس کا طنز سمجھ پاتی۔

”جی!“وہ چونکی۔

”بچپن میں ممی بتاتی تھیں رات کو درختوں کے نیچے بھوت بسیرا کرتے ہیں ۔ اور سنا ہے لڑکیوں پہ تو عاشق بھی ہوجاتے ہیں تو تم ان پیڑ پودوں سے کانفرنس صبح کرلینا“۔سمیر کا یہ حربہ کارگر گیا اور علینہ کی ریڑھ کی ہڈی میں سنسناہٹ ہوئی۔ کوئی جواب دئیے بغیر وہ تیز قدموں سے چلتی گھر کے اندر چلی گئی۔

”یار یہ کیا چیز ہے قسم سے دماغ کی چولیں ہلا دیں اس نے“۔سرگوشی کے انداز میں کہتا وہ بھی اس کے پیچھے پیچھے اندر چلا آیا۔

٭….٭….٭

آسیہ کی باتوں سے ہونے والے انکشاف نے شاکرہ کو مار ہی ڈالا تھا۔ شرم حیا کو بالائے طاق رکھ کر کوئی یوں بھی اپنی حدود سے تجاوز کرجاتا ہے۔ کہاں گئی تعلیم اور وہ مہذب پن جو انہیں دنیا کی نگاہوں میں معتبر بناتے ہیں جب اندر جاہلیت بھری ہے۔ وہ شدید غصے میں تھیں حالانکہ آسیہ نے بہت سمجھایا کہ جب ہر بات کنٹرول میں ہے تو پھر غصہ کس بات کا اور باقی ان دونوں میاں بیوی کی آپسی رنجش ہے وہ خود حل کرلیں گے لیکن شاکرہ کے دل کو اطمینان نہیں ہورہا تھا۔ وہ عامر سے کسی نا کسی طرح بات کرنا چاہتی تھیں۔ اسے احساس دلانا چاہتی تھیں کہ اس سے غلطی نہیں گناہ ہوا ہے۔ اتفاق سے یہ موقع انہیں آج مل گیا تھا۔ آسیہ کو تو وہ مکمل بیڈ ریسٹ کروا رہی تھیںاور ایسے میں گھر اور بچوں کی ساری ذمہ داری انہی کی تھی۔ اب بھی وہ کچن میں تھیں جب عامر دوپہر کے کھانے کے لئے آیا۔

”قرآن کہتا ہے جو کوئی نیک کام کرتا ہے تو اپنے سر پر اور برائی کرتا ہے تو اپنے سر پر“۔میز پہ کھانا رکھ کر وہ پاس ہی بیٹھ گئیں اور بلا تمہید بات کا آغاز کیا۔

”جی بالکل ایسا ہی ہے“۔کھانا کھاتے عامر نے سر اٹھایا اور پھر کھانے میں مشغول ہوگیا۔ ظاہر ہے وہ نہیں سمجھا تھا۔

”ہے تو ایسا ہی پر لوگ اس بات کو سمجھتے کہاں ہیں“۔شاکرہ نے برا سا منہ منایا۔ عامر خاموشی سے کھانا کھاتا رہا۔

”احسان جتانے سے باز نہیں آتے حالانکہ اس کا ثمر تو اللہ کے ہاں سے ملے گا پر جو ظلم کرتے ہیں اس کے عذاب سے خوف نہیں کھاتے“۔وہ مزید بولیں اور اس بار وہ چونکا۔

”جی۔۔۔۔ایسا ہی ہے“۔دھیمے لہجے میں کہتے اس نے سر نہیں اٹھایا۔

”رات کے اندھیرے میں کئے گناہ بھی چھپتے نہیں ۔ اللہ سے خوف کھانا چاہیئے بس۔ اس نے پردے ڈالے ہوں تو مطلب یہ نہیں کہ کھلی چھوٹ دے رکھی ہے بس رسی ہی دراز کی ہوتی ہے “۔شاکرہ تو جیسے آج کے آج سارا حساب بے باک کرنے کے موڈ میں تھیں پر عامر کا صبر جواب دے گیا تھا۔

”کس کی بات کر رہی ہیں امی“۔وہ بالآخر پوچھ ہی بیٹھا۔

”دنیا کی ہی بات کر رہی ہوں بیٹا۔ اپنی اور تمہاری“۔آخری لفظ پہ زور دیتے وہ مسکرائیں۔

”علینہ کی شادی کرنے کا سوچ رہی ہوں میں۔“۔ان تمام باتوں کے بعد علینہ کا تذکرہ عامر کے لئے واضح اشارہ تھا۔

”بہت بھٹک لیا اس معصوم نے در در پہ۔ اب بس اپنے گھر کی ہو ۔ بہت سہہ لیں اس نے دنیا کی بری نظریں“۔شاکرہ نے جتاتے ہوئے کہا۔

”اچھی بات ہے“۔عامر نے جلدی جلدی نوالے حلق میں اتارے ۔ انتہائی سرد لہجے میں کہتا وہ فوراََ ہی اپنے کمرے میں چلا گیا۔ آسیہ بستر پہ لیٹی تھی۔ اسے کمرے میں آتے دیکھا تو سنبھل کر بیٹھ گئی۔

”یہ کیا بول رہی ہیں تمہاری امی“۔اس کا موڈ شدید خراب تھا۔

”کیا ہوا، کچھ کہا انہوں نے آپ سے“۔آسیہ کا کلیجہ اچھل کر حلق میں آگیا۔

”پتا نہیں کیا احسان اور گناہ، ثواب گنوا رہی ہیں۔ یقینناََ تم نے ہی کچھ ان کے کان میں ڈالا ہوگا یا پھر تمہاری اس چہیتی نے“۔وہ اکھڑے ہوئے لہجے میں بولا تو آسیہ کا دل کیا سر پیٹ لے اپنا۔ آخر اسے ضرورت ہی کیا تھی علینہ کے دفاع میں یہ سب کچھ ماں سے کہنے کی۔

”میں بات کرتی ہوں ان سے“۔اس نے نظریں چرائیں۔

”میں نے کہا بھی تھا یہ سب حادثہ تھا لیکن تمہیں شوہر کی بات پہ یقین نہیں۔ اب تو خوش ہوگی نا بہت میری رسوائی کرکے“۔عامر کچھ دھیما پڑا اور اس کے پاس بیڈ پہ بیٹھتے شکوہ کیا۔

”میرا خیال ہے اس موضوع پہ خاصی بحث ہوچکی“۔اس نے تبصرہ کرنے سے گریز کیا جیسے وہ اس موضوع پر اب کوئی بات کرنا ہی نہ چاہتی ہو۔

”اس کا مطلب تمہیں آج بھی مجھ پہ یقین نہیں آیا۔ کتنی بار کہوں میں علینہ کو اپنی بیٹی سمجھتا تھا“۔وہ زچ ہوکر بولا۔

”سمجھنے میں اور ہونے میں فرق ہوتا ہے“۔ آسیہ کی بات اسے شرمندہ کرنے کے لئے کافی تھی۔

”ایک غلطی کو گناہ بنا دیا ہے تم نے“۔وہ تلملایا۔

”گناہ چھوڑ دیتے تو میں غلطی بھی بھول جاتی“۔وہ آسیہ کا اشارہ سمجھ چکا تھا۔

”آسیہ وہ سب شوق ہے میری عادت نہیں، تم کہتی تو چھوڑ دیتا“۔آواز اس بار کچھ اور دھیمی تھی۔

”تو کیا میرے کہنے سے چھوڑتے ۔ اللہ کے لئے نہیں؟“یہ وہ سوال تھا جس کے جواب میں فقط ندامت تھی۔ انسان اگر حرام و حلال کی حکمت پہ غور کرے تو احساس ہو کہ اس میں کتنے وسیع مقاصد پوشیدہ ہیں۔ بظاہر یہ سب آپ کو پابندیاں دکھائیں دیتی ہیں لیکن کیسے یہ انسان کی زندگی سے سکون کھا جاتی ہیں۔ کس طرح معاشرے میں ہتک و رسوائی کا سبب بنتی ہیں ۔ حرام کا دامن تھام لیں تو رشتے چھوٹ جاتے ہیں پر انسان ایسا غافل کہ اپنے لئے شر کو پسند کرتا خیر سے دور ہوجاتا ہے۔ وہ نہیں جانتا اس سودے میں سارا خسارہ اسی کے حصے آتا ہے۔

٭….٭….٭

دل بھی اس گھر کی طرح ویران تھا ۔ طوفان کے بعد سا سناٹا اندر اور باہر کسی عفریت کی طرح ڈرا رہا تھا۔ کل سے بخار میں مبتلا اسے کوئی دو گھونٹ پانی دینے والا بھی نہ تھا۔ زندگی پہلے بھی کبھی پھولوں کی سیج نہ تھی کہ وہ بہت کم عمری سے ان کانٹوں کا عادی تھا پر روح اتنی بوجھل نہیں تھی جتنی اب ہوچکی تھی۔ سالہا سال سے وہ اپنی تنہائی میں جینے کا عادی تھا سوائے ان تین سالوں کے جب وہ اس کی زندگی میں نرم ہوا کے جھونکے کی طرح وارد ہوئی تھی۔ گو اس کے دل کو چاہت نہ تھی پر وہ اس سے محبت کرتی تھی اور اسے جتاتی بھی تھی۔ اپنے رویے سے اس کی اپنی زندگی میں اہمیت کا احساس دلاتی پر ان سب باتوں کا الٹا ہی اثر ہوتا تھا۔ وہ خوامخواہ چڑ جاتا۔ اسے عادت تھی نہ ضرورت کہ کوئی اس کی نازبرداریاں اٹھائے۔ وہ پتھر تھا جسے زمانے کی ٹھوکروں نے لوہے سا سخت بنا دیا تھا۔ ان حالات میں اس کی التفات و نرمی اسے بوجھل لگتی تھی۔ ذرا ذرا سی بات پہ اسے دھتکارنا، مارنا اور گالی گلوچ دینا اس کا معمول بن چکا تھا۔ وہ جو بلا کا خاموش طبع تھا گھر پہنچتے ہی کسی نہ کسی پہ بات پہ اس پہ چیخنے چلانے لگتا ۔ اسے ذلیل کرکے اندر سکون سا اترتا جیسے دل کی بھڑاس نکال کر اپنی اذیت سے چھٹکارہ پاتا ہو ۔ ان تمام باتوں کے باوجود بھی وہ اس کا خیال رکھتی۔ گھر سنبھالتی، بچی کو دیکھتی۔۔۔۔اور اسے تو اولاد سے بھی کوئی لگاو ¿ نہیں تھا۔ شدید نفرت کرتا تھا وہ اس سے ۔ ذرا سا رونے کی آواز کان میں پڑتی تو قیامت برپاءکردیتا۔ کیا حیرت تھی کہ کل تک انہی باتوں پہ چڑنے والا آج جب دو روز سے بخار میں مبتلا بھوک اور پیاس سے نڈھال ہورہا تھا تو دل میں یہ خواہش سر اٹھا رہی تھی کہ کاش وہ اس پل یہاں موجود ہوتی۔ اس کے دل پہ دھرا بوجھ شدت اختیار کرتا جارہا تھا۔ گھر کاٹنے کو دوڑ رہا تھا۔ گو بدن میں طاقت نہ تھی پھر بھی وہ اس سناٹے سے باہر نکل آیا کہ وہ اسے کسی عفریت کی طرح خوفزدہ کررہا تھا۔

ایک ہوٹل سے چائے اور کھانا کھانے کے بعد جسم میں بہرحال توانائی محسوس ہورہی تھی۔ قریبی فارمیسی سے بخار کی دوا لے کر حلق میں انڈیلتے وہ گھر جانے کی بجائے مسجد کے باہر بنے چبوترے پہ بیٹھ گیا۔ جمعہ کی نماز کا وقت ہورہا تھا اور اسپیکر پہ خطبہ سنائی دے رہا تھا۔ نمازی جوق در جوق اندر داخل ہورہے تھے۔ وہ سر جھکائے ہاتھ گھٹنوں پہ رکھے بیٹھا رہا پر کسی نے اس کی طرف دھیان نہیں دیا۔ جب سے اس نے آسیہ کو طلاق دی تھی اس محلے کے لوگ اس سے محدود ہوگئے تھے۔ نہ تو وہ پہلے سی عزت رہی تھی نہ مقام۔۔۔پر اسے چاہیئے بھی نہیں تھا۔ لیکن ان دنوں کاروبار بھی بالکل ختم ہوچکا تھا۔ ورکشاپ سے کئی لڑکے فارغ کرنے پڑے کہ سارا دن مکھیاں مارتے ۔ معاشرتی و مالی ، دونوں طرح سے وہ مسائل کا شکار ہوتا جارہا تھا۔ زندگی کی مشقت کم ہونے کی بجائے بڑھنے لگی تھی۔ عربی کے بعد اب اردو خطبہ شروع ہوچکا تھا۔ بے اختیار اس کا دھیان خطیب کے لفظوں پر گیا۔

”اللہ کے نبی محمد مصطفیﷺ نے حج کے موقع پہ دیئے جانے والے اپنے خطبہ میں واضح الفاظ میں فرمایا کہ اے لوگو! عورتوں کے معاملے میں اللہ سے ڈرو۔ تم نے اللہ کو گواہ بنا کر ان کو حلال کیا اور انہیں اپنی امان میں لیا ہے۔ تمہیں اپنی عورتوں پر حقوق حاصل ہیں بالکل ویسے ہی جیسے تمہاری عورتوں کو تم پر حقوق حاصل ہیں۔۔۔۔۔۔“لفظ تھے یا کوڑے جو اس کی روح پہ برسائے گئے تھے۔ احساسِ ندامت شدید تر ہونے لگا۔ خوف سے جھرجھری لیتا وہ اپنی ساری توانائی مجتمع کرتا اٹھ کھڑا ہوا ۔ وہ ان الفاظ کی بازگشت سے دور بھاگ جانا چاہتا تھا۔ بہت دور جہاں یہ لفظ اس کے کانوں تک نہ پہنچ پائیں پر ایسا ممکن نہ تھا کہ اب بہت سی آوازیں اندر سے آرہی تھیں۔

”اور تم پر جو مصیبت آتی ہے وہ تمہارے ہی ہاتھوں کے کئے ہوئے کاموں سے آتی ہے“۔(الشوریٰ۔۳۰)

٭….٭….٭

”السلام علیکم آپا“۔موبائل پہ نمبر دیکھ کر مسکراتے ہوئے انہوں نے کال ریسیو کی۔

”وعلیکم السلام۔ کیسی ہو بھابھی جان“۔نگہت کا لہجہ ہمیشہ کی طرح شیریں و شرارتی تھا۔

”میں بالکل ٹھیک ہوں۔ آپ سنائیں گھر میں سب کیسے ہیں“۔ان کی مسکراہٹ اور بڑھی۔ حالانکہ وہ ان سے بہت چھوٹی تھی پر وہ اسے ہمیشہ بھابھی جان کہہ کر بلاتی تھیں۔ یہ ان کی محبت تھی وہ جانتی تھیں۔

”اللہ کا بڑا کرم ہے۔ “ان کا انداز ہلکا پھلکا تھا۔

”اچھا سنو مجھے تمہیں ایک بات بتانی تھی۔ عمیر اگلے ہفتے پاکستان آرہا ہے۔ “یوں تو ان کے تینوں نندوں سے گہرے تعلقات تھے پر اپنی بڑی نند سے خاص دوستی تھی۔ وہ ڈاکٹر انصاری کی طرح ہنس مکھ بھی تھیں اور کچھ وہ انہیں مان بھی بہت دیتی تھیں۔ ہمیشہ بھائی سے پہلے وہ انہیں کال کرتیں۔

”کیا واقعی۔۔۔یہ تو بہت اچھی بات ہے۔ ویسے خیریت سے آرہا ہے نا آپا“۔نور خوشدلی سے بولیں۔ یہ لوگ ہمیشہ سے لندن میں رہتے تھے۔ شادی کے بعد سال کے سال ہی ملاقات ہوتی پر مختصر وقت بہترین گزرتا۔ بچے جب سے بڑے ہوئے تھے وہ تو اپنی مصروفیات میں کم ہی آتے تھے پر نگہت آپا اب بھی سال میں ایک مہینہ پاکستان ہی گزارتی تھیں۔

”ہاں ہاں بالکل خیریت ہی ہے۔ بس ذرا روٹین تبدیل کرنا چاہ رہا تھا۔ میں نے کہا ماموں ممانی کے پاس ہو آو ¿“۔انہوں نے بتایا۔

”تو آپ بھی آجاتیں ساتھ۔ ایک سال سے زیادہ ہوگیا ہے آپ پاکستان نہیں آئیں“۔نور نے محبت بھرا گلہ کیا۔

”میں بھی آجاو ¿ں گی ان شاءاللہ۔ دعا کرو یہ عمیر راضی ہوجائے تو میں فوراََ آجاو ¿ں گی“۔وہ اپنے ازلی شرارتی انداز میں بولیں۔

”کیا مطلب میں سمجھی نہیں“۔ان کی ذو معنی سی بات نور کی سمجھ میں نہیں آئی تھی۔

”سمجھ جاو ¿ گی۔ اچھا چھوڑو یہ سب مجھے بتاو ¿ سمیر کی جاب کیسی جارہی ہے۔ ماشاءاللہ اب تو ضلع کا کمشنر بن گیا ہے۔ “نگہت نے موضوع بدل دیا تو نور کا دھیان بھی بدل گیا۔

”اللہ پاک کا احسان ہے آپا۔ ان دنوں مصروف بہت ہے ویسے میں اسے کہوں گی آپ کو کال کرے گا“۔

”ذمہ داری بھی تو اتنی اہم ہے آخر مصروفیت تو ہوگی۔میں خود کرلوں گی کال اسے۔“رشتوں کی یہی تو خوبصورتی ہے ۔ بے جا توقعات کی بجائے خود آگے بڑھا جائے تو مان اور محبت دونوں رہ جاتے ہیں۔ عزت گھٹتی نہیں بلکہ محبت بڑھتی ہے۔ شکوے شکایات میں تو بس تعلق بکھرتے ہیں۔ سمیٹنے والے انا نہیں دکھاتے، پیار سے گلے لگاتے ہیں۔

”سچ کہوں تو دل خوش ہوجاتا ہے جب اپنے بھائی کی طرف نگاہ ڈالتی ہوں۔ ہمارے شہر میں کس طرح ہمارے بابا کا نام روشن کیا ہے تم سب نے۔ پہلے اسپتال، اب سمیر کی پوسٹنگ اور سچ پوچھو تو اس کا سارا کریڈیٹ تمہیں جاتا ہے۔ “ایسا پہلی بار نہیں ہوا تھا جب انہوں نے نور کی تعریف کی ہو۔ ویسے تو انہیں سسرال میں سب ہی مان اور عزت دیتے تھے کہ وہ تھیں بھی تعریف کے قابل پر نگہت ان کی اچھی عادات کی شروع سے قائل تھیں۔ تب جب وہ کچھ بھی نہ تھی اور اب جب وہ بہت کچھ ہے۔۔۔۔۔اس سارے عرصے میں ان کا سلوک ان سے ایک سا ہی تھا۔

”اس کا کریڈیٹ تو آپ سب کو جاتا ہے آپا۔ میں تو کچھ بھی نہیں تھی۔۔۔کچھ بھی نہیں ہوں۔ ٹوٹا ہوا تارا تھی جس کی حیثیت بس ایک نوکیلے پتھر سی ہوتی ہے۔ آپ سب کی اسپورٹ نہ ہوتی اور خاص طور پہ ان کی دی ہوئی ہمت نہ ہوتی تو میں کیا کرسکتی تھی“۔اپنی بات کے اختتام پہ ان کی آواز بھرا سی گئی تھی۔ آنکھ کے نم گوشے کو انگلی کی پور سے صاف کرتے انہوں نے بمشکل خود پہ قابو رکھا ۔

”ہیرا پتھرہی ہوتا ہے پر سب سے الگ سب سے نمایاں۔ اور اپنی چمک سے ہی پہچانا جاتا ہے۔ تمہاری تربیت بولتی ہے اور مجھے اپنے بھائی کے فیصلے پہ فخر ہوتا ہے“۔

”آپ کی محبت ہے آپا“۔نگہت آپا کا خلوص انہیں ہمیشہ ہی خاموش کروا دیتا تھا۔

”عمیر کی ٹریول ڈیٹیلز میں اسے کہوں گی تمہیں بھیج دے گا۔ چلو اب رکھتی ہوں فون۔ باقی باتیں پھر ہوں گیں“۔انہوں نے بات سمیٹی۔

”اپنا خیال رکھئیے گا آپا“۔ نور محبت سے بولیں اور رابطہ منقطع ہوگیا۔

نگہت ، انصاری صاحب کی سب سے بڑی بہن تھیں۔ ان کے تین بچے تھے۔ دونوں بیٹیوں کی شادیاں وہیں یوکے میں ہوچکی تھیں ۔ عمیر سب سے چھوٹا تھا اور ابھی حال ہی میں تعلیم مکمل کرنے کے بعد بہت اچھی ملازمت کر رہا تھا۔ آخری بار اس سے ملاقات حنا(نگہت کی بیٹی) کی شادی کے موقع پہ ہوئی تھی۔ اس کے بعد اب تقریباََ دو ڈھائی سال کے بعد وہ پاکستان آرہا تھا۔ یہ خبر گھر میں سب کو ہی ایکسائیٹید کر گئی تھی۔ ویسے تو اس کی دونوں خالائیں اور ان کے بچے بھی پاکستان میں مقیم تھے پر رہائش انصاری صاحب کے گھر تھی ۔

٭….٭….٭

سفینہ ہانپتی کانپتی گھر پہنچی ۔ صد شکر شہباز ابھی سو رہا تھا۔ اٹھتا بھی کیسے کہ نجس مائع کا نشہ رگو ں میں دوڑ رہا تھا۔ ٹیپو نے ماں کو بے آواز آنسو بہاتے دیکھا تو سوال کرنے لگا لیکن وہ ابھی ایسی ذہنی کیفیت میں نہیں تھی کہ اس کے معصوم سوالوں کے جواب دے پاتی۔ بہن کی غیر موجودگی بھی اسے پریشان کر رہی تھی پر ماں کے منہ پہ پڑا قفل اس کے سوالات سے نہ کھلا۔ بچہ تھا تھک کر سوگیا۔ پر سفینہ نے تمام رات آنکھوں میں کاٹی۔ آنے والے لمحوں کا خوف اپنی جگہ لیکن اس وقت تو دل فاطمہ کی طرف سے پریشان تھا۔ حالانکہ وہ اپنے فیصلے سے آخری وقت تک مطمعن تھی ۔ اسے زبیر پہ پورا بھروسہ تھا پر انجانے وسوسوں کا ناگ دل میں پھن اٹھائے کسی انہونی سے ڈرانے لگا تھا۔ رات کی سیاہ دھاری صبح کی سفیدی میں بدلی پر سفینہ نے آنکھ نہیں موندی ۔ ٹیپو اب تک سو رہا تھا۔ کمرے سے کھٹر پٹر کی آوازیں آنا شروع ہوئیں۔ اسے اندازہ ہوا شہباز جاگ چکا ہے۔ وہ محتاط سے انداز میں اٹھی اور باورچی خانے میں چلی گئی۔ حسبِ معمول شہباز نے ڈٹ کر ناشتہ کیا پر بیوی کی سوجی ہوئی بھوری آنکھیں اور ویران چہرے پہ کوئی توجہ نہ دی۔ کھا پی کر اس نے فاطمہ کے متعلق سوال کیا کیونکہ ہمیشہ تو وہ ماں کی مدد کو موجود ہوتی تھی پر سفینہ خاموش رہی۔ اس کا ماتھا ٹھنکا ۔ چھوٹے سے گھر میں فاطمہ کی غیر موجودگی کا پتا لگانا چنداں مشکل نہ تھا۔ بھید کھل چکا تھا اس پہ سفینہ کی خاموشی نے مہر ثبت کی۔

”بتا کمینی کہاں چھوڑ کر آئی ہے اسے؟“اس کی چوٹی پکڑ کر مڑورتے وہ دھاڑا۔باپ کی چیخ و پکار سن کر ٹیپو بھی آنکھیں ملتا باہر نکل آیا۔

”وہاں جہاں تم اور تمہارا وہ مکار بدکار دوست کبھی نہیں پہنچ سکتے“۔درد سے کراہتے سفینہ نے پہلی بار زبان کھولی۔

”بکواس بند کر ذلیل عورت۔۔۔۔بتا کس کے ہاتھ بیچا ہے جو رات کو چوروں کی طرح لڑکی غائب کردی“۔کیا غضب بیٹی کا سوا کرنے والا اپنے چنگل سے نکلنے پہ الٹا الزام دھر رہا تھا۔ سچ ہے اندھا اور دیکھنے والا برابر نہیں۔

”بیچ تو تم نے دیا تھا، میں تو اسے تمہارے چنگل سے نکال کر محفوظ جگہ پہنچا چکی ہوں۔ شادی کردی ہے میں نے اس کی“سفینہ نے بناءڈرے کہا۔

”حرافہ، میری مرضی کے بغیر تو میری بیٹی کی شادی کرنے والی ہوتی کون ہے۔ میں ولی ہوں اس کا ۔نابالغ کا نکاح باپ کی مرضی کے بغیر نہیں ہوسکتا“۔تمام عمر بیوی اور اولاد کی ذمہ داری سے بھاگنے والا آج بیٹی بیاہنے پہ اپنا حق جتانے کھڑا ہوگیا تھا۔

”جن بیٹیوں کے باپ تمہارے جیسے ہوں وہ یتیم کہلاتی ہیں۔ میری مرضی سے ہوا ہے فاطمہ کا نکاح ۔ اس کی ماں کی مرضی سے“۔سفینہ نے اعلان کیا۔

”تیری تو۔۔۔۔“شہباز کا غیض و غضب سے برا حال ہورہا تھا۔ اس کے تو ہاتھوں کے طوطے اڑ گئے تھے یہ خبر سن کر ۔ جانتا تھا اب عارف اس کا کیا حشر کرے گا کیونکہ فاطمہ سے شادی کے بدلے ہی تو اس نے شہباز کا سارا قرض معاف کیا تھا۔ اب اگر فاطمہ ہی نہ ملی تو وہ اس کے ہاتھ پیر ہی نہیں توڑے گا بلکہ اسے جان سے مار دے گا۔

”زبان گدی سے کھینچ لوں گا جو ایک لفظ بھی بولا تو۔ گلا دبا دوں گا تیرا سمجھی۔ اور تیری اس لاڈلی کو تو میں اور عارف پاتال سے بھی نکال لیں گے ۔ اب بھونک جلدی کس کے ساتھ منہ کالا کروایا ہے اس کا؟“دونوں ہاتھوں سے اس کا گلا دباتے وہ چلایا۔

”تم آج بھلے مجھے جان سے مار دو، پر یہ تو میں تمہیں مر کر بھی نہیں بتاو ¿ں گی“۔سفینہ ٹس سے مس نہ ہوئی۔

”بتائے گی کیسے نہیں بڑھیا تیرے تو پچھلے بھی بتائیں گے“۔شہباز نے اس کا سر باورچی خانے کی دیوار میں دے مارا۔

”سالی کتیا“۔باہر ٹیپو کھڑا تھر تھر کانپ رہا تھا مگر شہباز مسلسل اسے لہو لہان کر رہا تھا۔ سفینہ کی چیخ و پکار سے قیامت کا سماں لگ رہا تھا اس پہ شہباز کا واویلا۔ ٹیپو کو لگا اس کا دل بند ہوجائے گا۔ اس میں اتنی ہمت کہاں تھی آگے بڑھ کر باپ کا ہاتھ روک لے۔ سفینہ کا پورا چہرہ خون سے تر تھا ۔ اس کی چادر اور قمیض بھی لہو میں بھیگی تھی ۔ شہباز کی گرفت ڈھیلی ہوئی تو وہ باورچی خانے کے پتھریلے فرش پہ گرتی چلی گئی۔ شہباز نے غصے میں تھوکا اور پیر پٹختا باہر نکل گیا۔

”امی۔۔۔امی اٹھو“۔ٹیپو روتا بلکتا ماں کے بے دم وجود کو ٹٹولنے لگا ۔

”امی کچھ بولو نا“سفینہ ہوش میں ہوتی تو کوئی جواب دیتی۔ ٹیپو نہیں جانتا تھا اس کا ہر سوال لا جواب رہ جائے گا کیونکہ سفینہ وہاں جا چکی ہے جہاں سے کبھی کوئی لوٹ کر نہیں آتا۔ شہباز آج اپنے ظلم کی آخری حد پار کرچکا تھا۔

”اور بے شک حد سے بڑھنے والے ہی دوزخی ہیں“۔

٭….٭….٭

سفر طویل اور تکلیف دہ تھا ۔ جسم سے زیادہ ذہن تھکا ہوا تھا۔ یوں لگتا تھا فاصلہ میلوں نہیں صدیوں کا ہوں۔ وہ شام سے بھوکی پیاسی تھی پھر بھی کسی شے کی حاجت نہ تھی۔ ایک طوفان تھا جو آکر گزر گیا تھا یا پھر ٹھہر گیا تھا کہ ابھی تک سب کچھ دھندلا تھا۔ اسے لگتا تھا وہ اک منجدھار میں گھری ہے۔ جنہیں پیچھے چھوڑ آئی ان پیاروں کا خوف پل پل تڑپا رہا تھا تو آنے والے لمحوں کا ڈر اسے ہراساں کر رہا تھا۔ تما م راستہ چند لفظوں سے زیادہ ان دونوں کے درمیان بات چیت نہ ہوئی تھی۔ فاطمہ پریشان تھی تو زبیر بھی اپ سیٹ لگ رہاتھا ۔ گو اس نے متعدد بار فاطمہ کو تسلی دی پر اتنا وہ بھی سمجھ سکتی تھی وہ خود بھی پریشان تھا پر اس کی نسبت خاصہ کمپوزڈ تھا۔ گاڑی شہر کے گردونواح میں داخل ہوئی تو رفتار کم ہوگئی پر فاطمہ کے دل کی دھڑکن تیز ہونے لگی۔ گاڑی اب موڑ کاٹ کر ایک ایسی گلی میں داخل ہوئی جہاں بڑے بڑے کوٹھی نما گھر ساتھ ساتھ بنے تھے۔ اونچی عمارتوں کے باہر نفیس آرائشی لائٹیں روشن تھیں۔ ایسی ہی ایک پر شکوہ عمارت کے داخلی دروازے کے باہر گاڑی روک دی گئی۔ فاطمہ کی آنکھیں ناقابلِ یقین حیرت سے پھیل گئیں جب ایک نظر اس نے اس شاندار عمارت پہ ڈالی دوسری اپنے ساتھ بیٹھے زبیر کے چہرے پہ جو سنجیدہ تاثرات کے ساتھ اس کی طرف متوجہ تھا۔

ژ              ژ

جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

عورت زاد امجد جاوید قسط نمبر 9

عورت زاد امجد جاوید قسط نمبر 9 باقی کاریں بھی اندر آ رہی تھیں۔ نویرا …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے