سر ورق / افسانہ / چغد۔۔شہباز اکبر الفت

چغد۔۔شہباز اکبر الفت

چغد

شہباز اکبر الفت

آئینے کے سامنے کھڑے ہوکر آخری بار شکیل نے تنقیدی نظروں سے اپنا جائزہ لیا، سفید کلف لگا سوٹ، تازہ شیو، مہنگے کلون کی خوشبو اور کلائی پر مہنگی گھڑی، گھڑی پر نظر پڑتے ہی اس نے وقت دیکھا، ابھی آدھا گھنٹہ باقی تھا، اس نے ایک بار پھر کمرے پر ایک طائرانہ نظر دوڑائی، ہر چیز اپنی جگہ،پوری ترتیب کے ساتھ موجود تھی، اسے بے ساختہ ہی ہنسی آگئی، صرف آدھا گھنٹہ پہلے اس کا کوارٹر کسی کباڑخانے کا منظر پیش کر رہا تھا اوروہ خود کسی مچھیرے کی طرح محض ایک لنگی اور بنیان میںگھوڑے بیچ کر سو رہا تھا،اس کی زندگی بھی اس کے رہن سہن کی طرح ہی بے ترتیبتھی، چالیس کےپیٹے میں پہنچ کر بھی وہ ہنوز کنوارہ تھا، ماں باپ نے اپنی زندگی میں اس کا گھر بسانے کی بہت تگ و دو کی لیکن بچپن سے ہی شہر میں ملازمتیں کرنے اور مہینوں گھر نہ جانے کی وجہ سے الگ رہنے کی عادت کی عادت اس قدر پختہ ہو گئی تھی کہ ماں باپ کے دنیا سے رخصت ہوجانے کے بعد بھی ، شدید خواہش کے باوجود وہ شادی نہ کرسکا، ان دنوں وہ ایک فیکٹری میں سپروائزر تھا، رہنے کے لئے ایک کشادہ کوارٹر اور گزر اوقات کے لئے ایک معقول تنخواہ نے زندگی کو خاصا سہل بنا دیا تھا، آٹھ سے پانچ کی لگی بندھی ڈیوٹی، چھٹی کے بعد ہوٹل سے کھانا اور سونے سے پہلے کسی کتاب یا رسالے کے مطالعہ سے بڑی گہری اور سکون کی نیند آتی تھی اور پھر ایک دن اسے ثناء ملی، ثناء سے ملاقات نے اس کے عمر بھر کے معمول کو درہم برہم اور پرسکون زندگی کو کسی شوریدہ سر دریا کی تند لہروں کے حوالے کر دیا
ثناء کے ساتھ اس کی پہلی ملاقات ایک ریستوران میں ہوئی تھی، ہفتہ کی شب اکثر لوگ گھر سے کھانے کی بجائے فیملیز کے ساتھ ہوٹلنگ وغیرہ کو ترجیح دیتے ہیں، معمول سے زیادہ رش ہونے کی وجہ سے سارا عملہ بھاگا بھاگا پھر رہا تھا، اس نے آرڈر کی تعمیل میں تاخیر سے اکتا کر ، وقت گزاری کے لئے موبائل پر گیم کھیلنا شروع کر دی، تبھی ایک شیریں سی نسوانی آواز اس کی سماعت سے ٹکرائی
” کیا میں یہاں بیٹھ سکتی ہوں؟“
اس نے سر اٹھا کر اوپر دیکھا اور دیکھتا ہی رہ گیا، وہ پچیس چھبیس سال کی ایک خوبرو دوشیزہ تھی، متناسب جسم، تیکھے نقوش، گندمی رنگت ، آنکھوں میں شوخی اور ہونٹوں پر ایک دل آویز مسکراہٹ کھیل رہی تھی
” کیا میں یہاں بیٹھ سکتی ہوں؟“ اس نے اپنا سوال دہرایا تو اس نے ہڑبڑا کر ادھر ادھر دیکھا، ساری میزیں بھری ہوئی تھیں، صرف اس کے سامنے والی کرسی خالی تھی
” جی جی، ضرور“ اس نے قدرے خوش اخلاقی سے کہا اور فوراً ہی دوبارہ موبائل پر جھک گیا، ، کھانا آنے تک اس نے حتی الامکان خود کو پرسکون ظاہر کرنے کی پوری کوشش کی لیکن درحقیقت اس کے ہاتھ پاﺅں کانپ رہے تھے ، چہرے پر اڑتی ہوئی ہوائیاں بھی اس کی اندرونی کیفیت کو خوب عیاں کر رہی تھی، دراصل کسی لڑکی کے ساتھ اس طرح بیٹھنے کا پہلا موقع تھا اور اسے کچھ سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ وہ کیا کرے، ایک بار اس نےکن اکھیوں سے اس کی طرف دیکھنے کی کوشش بھی کی مگر پہلی چوری پر ہی پکڑا گیا، وہ اسی کی طرف ہی دیکھ رہی تھی اور صاف لگ رہا تھا کہ اس کی بوکھلاہٹ سے خوب لطف اندوز ہو رہی ہے ، اس نے شرما کر سر جھکایا تو ایک نقرئی قہقہ سے اجنبیت کی ساری دیواریں ڈھے گئیں
کھانا ختم ہونے تک دونوں میں اچھی خاصی دوستی ہوگئی تھی
٭٭٭
ثناء ایک ٹریول ایجنسی میں استبالیہ پر کام کرتی تھی، تعلیم یافتہ اور خوش اخلاق لڑکی تھی، بہن بھائیوں میں سب سے بڑی ہونے کی وجہ سے ذمہ داریوں کا سارا بوجھ بھی اسی کے کندھوں پر تھا اور بوڑھے ماں باپ کا سہارا بننے کے لئے ہی گھر سے باہر نکلی تھی، گرلز ہوسٹل میں قیام اور ہوسٹل کے بدمزہ کھانوں سے اکتا کر اکثر ہفتہ کی شام ریستوران کا چکر لگا لیتی تھی، اتنی مصروف زندگی اور ذمہ داریوں کےہوتے ہوئے اتنی عیاشی تو اس کا بھی حق بنتاتھا
اب وہ اور ثناءاکثر ملنے لگے، ٹیلی فون پر سارا دن رابطہ رہتا، گڈ مارننگ سے لے کر گڈ نائٹ تک سارا دن میسجز چلتے رہتے، کیا کھایا پیا ، کیا پہناسے لے کر دلچسپی کے ہر موضوع پربات چیت چلتی رہتی، ثناءسے ملاقات نے اس کی بے کیف زندگی میں دھنک کے سارے رنگ بھر دیئے تھے، کال پر بات کرتے ہوئے اس کے دل کی دھڑکنیں بے ترتیب ہو جاتیں اور آنکھوںمیں خواب اتر آتے،چھٹی کا دن ہمیشہ بھرپور گزرتا، کبھی کسی پارک یا سینما اور کبھی کسی جوس کارنر کے پرسکون گوشے میں گھنٹوں کچھ کہے بغیروقت گزر جاتا، د ن کا اختتام ہمیشہ دونوں کے اسی پسندیدہ ریستوران میں ڈنر سے ہوتا جہاں دونوں کی پہلی ملاقات ہوئی تھی
٭٭٭
ثناء کے ہر انداز میں وارفتگی تھی، اس کی آنکھیں ہمیشہ کچھ کہتی ہوئی محسوس ہوتی تھیں اور وہ کچھ سمجھنے کے باوجود ہمیشہ انجان بن جاتا ،وہ کوئی فرشتہ نہیں تھا لیکن ایک خاص حد سے آگے بڑھنے کی اس میں بھی ہمت نہ تھی، ایک دوسرے کے اتنا قریب ہونے کے باوجود اس نے کبھی کسی بے تکلفی کا مظاہرہ نہیں کیا تھا، تنہائی کے باوجود کبھی ہاتھ تک نہ پکڑا کہ کہیں وہ برا منا کر اسے چھوڑ ہی نہ دے، اسے کھو کر زندہ رہنے کا تصور ہی محال تھا، اچھا بننے کی کوشش اسے ہلکان بھی کر دیتی تھی لیکن ضبط کے سوا کوئی چارہ بھی نہ تھا، یہ سلسلہ شاید اسی طرح ہی چلتا رہتا لیکن ایک دن ثناءکے ایک استفسار نے اس کے سر پر گویا بم کا دھماکہ کر دیا
” کیا تمہارے پاس کوئی ایسی جگہ ہے جہاں کسی کی کوئی مداخلت نہ ہو اور دو چار گھنٹے مکمل طور پر تنہائی میں گزارے جا سکیں ؟“
” ہاں ۔۔۔۔ میرے کوارٹر پر“ اس نے تھوک نگلتے ہوئے بمشکل جواب دیا
٭٭٭
”کہاں ہو؟“ وہی مخمورسی آواز، وہی بے تاب سا لہجہ، وہی تڑپ اور خود سپردگی، شکیل کاتو جیسے دل دھڑکنا ہی بھول گیا
” بتاﺅ نا“ بے قراری اس کے لہجے سے عیاں تھی
”کوارٹر پر“ شکیل کو اپنی آواز کہیں دور سے آتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی
”کہیں جانا تو نہیں؟“
”نن نہیں تو، خیریت؟“ اسے کچھ سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ کیا کہے
”جی جی، بس ویسے ہی پوچھا“ ایک بار اس کے زندگی سے بھرپور قہقہ کو اس نے اپنے دل میں اترتا ہوا محسوس کیا
”ایک چھوٹا سا کام تو ہے لیکن دو تین گھنٹوں میں واپس آجاﺅں گا“ اس نے خود کو پرسکون رکھنے کی آخری کوشش کرتے ہوئے سرسری سے لہجہ میں بہانہ گھڑا تاکہ اس پر کوئی غلط تاثر نہ پڑے
”کیا میں آسکتی ہوں؟“
”آجاﺅ‘ ‘ کچھ دیر توقف اور اسی دوران تیزی سے کچھ سوچتے ہوئے بالاآخر اس نے ایک فیصلہ کن نتیجے پر پہنچ کر جواب دیا اور ایک گہری سانس لے کر اپنے جسم کو ڈھیلا چھوڑ دیا، اپنی بے کیف اور مجرد زندگی سے اس قدر تنگ آگیا تھا کہ اپنے اندر جاری گناہ و ثواب کی جنگ میں جان بوجھ کر خود سے ہار گیا
”اوکے، میں ایک گھنٹے تک پہنچ رہی ہوں“
٭٭٭
ثناء کا فون سنتے ہی اس نے گھبرا کر ادھر ادھر دیکھا، ہر چیز بکھری پڑی تھی، اس نے تیزی سے کپڑوں کو اکٹھا کرکے بیگ میں ڈالا، کتابوں کو ریک میں سجایا، برتنوں کو دھو کر کچن کی شیلف پر رکھا ، جھاڑو دیا اور نئی بیڈ شیٹ نکال کر بچھاتے ہی غسل خانے میں گھس گیا، نہا کر شیو کرنے اور کپڑے بدلنے تک کے سارے وقت کے بعد بھی ثناء کے آنے میں ابھی آدھا گھنٹہ باقی تھا، وقت گزاری کے لئے ایک رسالہ کی ورق گردانی کی کوشش کی ،دل نہ لگا تو نعیم کا نمبر ملا دیا، نعیم اس کا سب سے بے تکلف دوست تھا اور اسی کی فیکٹری میں ہی کام کرتا تھا، اسے ثناء کے ساتھ اس کی دوستی کے بارے میں سب معلوم تھا
” ارے واہ بھئی، تم تو چھپے رستم نکلے“ نعیم نے ثناء کے آنے کا سنتے ہی نعرہ لگایا
” میں نہیں وہ چھپی رستم ہے یار، مجھے تو کبھی کچھ کہنے کا حوصلہ ہی نہیں ہوا“ یہ بات واقعی سچ تھی، ثناء خود ہمت نہ دکھاتی تو وہ ساری زندگی اسے کبھی دل کی بات نہ کہہ پاتا
” اب کیا ارادے ہیں جناب کے؟“ نعیم نے شرارت سے پوچھا تو وہ جھینپ سا گیا
” کچھ پتہ نہیں یار، میرا تو دل گھبرا رہا ہے“ اس نے ماتھے سے پسینہ پونچھتے ہوئے پوری ایمانداری سے جواب دیا
” کوئی مسئلہ ہے تو ۔۔۔“
” اوئے نہیں، ایسی کوئی بات نہیں“ اس کی بات کا مطلب سمجھتے ہی وہ بے ساختہ ہی ہنس پڑا
” پھر کوئی احتیاطی تدبیر ۔۔۔“ نعیم کچھ کہتے کہتے رک گیا
” ضرورت نہیں“
” اگرکوئی مسئلہ ہوگیا تو؟“ نعیم کے لہجے میں فکر مندی تھی
”تو ۔۔ تو شادی کرلوں گا“ اس نے گڑبڑا کرجواب دیا، اسے اپنے جملہ پر حیرت ہوئی، حد ہے، یہ خیال اسے پہلے کیوں نہ آیا
اور اگر کوئی مسئلہ نہ ہوا تو؟“ نعیم کے لہجے میں پھر کوشرارت عود آئی
”پھر بھی شادی کرلوں گا“ اب کی بار اس نے پورے جوش کے ساتھ اپنے عزم کو دہرایا
٭٭٭
ڈور بیل کی آواز پر اس نے ایک جھٹکے سے دروازہ کھولا، ثناء کو دیکھتے ہی بے قابو ہوگیا، بانہیں پھیلا کر اسے سینے سے لگانے کی کوشش کی تو عقب سے کسی کے گلہ کھنگھارنے کی آواز نے اس کے سارے ارمانوں پر پانی پھیر دیا، وہ کوئی تئیس چوبیس سال کا ایک سمارٹ سا، خوش شکل سا لڑکا تھا اور شاید ثناء کے ساتھ ہی آیا تھا، اس نے کچھ نہ سمجھتے ہوئے ایک قدم پیچھے ہٹ کر انہیں اندر آنے کے لئے راستہ دیا
” شکیل یہ فیصل ہے میرا کولیگ اور بیسٹ فرینڈ، ہم ایک ہی جگہ کام کرتے ہیں اور خاصے بے تکلف بھی ہیں، تمہاری طرف آ رہی تھی تو راستے میں ملاقات ہو گئی، سوچا آپ تو کہیں جا ہی رہے ہیں تو میں اکیلی کیا کروں گی، تمہارے واپس آنے تک ادھر ہی بیٹھ کر گپ شپ کرلیں گے“
اچانک اس نے بے ہودگی سے آنکھ ماری اور اس کی طرف جھکتے ہوئے کان میں سرگوشی کی
” جاتے ہوئے باہر سے تالہ لگا دینا“

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

دھند میں لپٹی ایک صبح… اقبال حسن آزاد

دھند میں لپٹی ایک صبح اقبال حسن آزاد                 اس بار سردیاں کچھ زیادہ ہی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے