سر ورق / مضامین / سادہ ترین تنقیدی اصول۔۔ غلام حسین

سادہ ترین تنقیدی اصول۔۔ غلام حسین

"””سادہ ترین تنقیدی اصول”””

غلام حسین

میری بنیادی توجہ فن افسانہ نگاری پر رہے گی۔ کسی بھی افسانہ کو تنقیدی سان پر چڑھاتے ھوے مندرجہ ذیل سادہ اصول سامنے رہیں تو عام قاری بھی اس ادب پارہ کے ظاہری و باطنی عیوب یا محاسن سے آگاہی حاصل کر کے لطف دوبالا کر سکتا ھے۔ یہ بات بطور اصول متعین کرنی ازبست ضروری ھے کہ اعلی سے اعلی تحریر بھی ہر قاری کے لئے قابل قبول نہیں ھوتی۔۔۔البتہ ریاضی کے فارمولے یا سائنسی فارمولے کل عالم کے لئے ماننا اور ان پر عمل پیرا ھونا لازمی ٹہرتا ھے۔ ادب میں استادوں نے لگ بھگ سولہ 16 تنقیدی پیمانے مقرر کئے ھوے ھین اور بلا کم و کاست ھمیں کتب میں میسر بھی ھوتے ھیں۔ لیکن، ادب کی دنیا میں، میں نے جو بہت بڑا قضیہ ھمیشہ پیدا ھوتے دیکھا وہ ھے مصنف اور قاری کے درمیان نظریاتی ٹکراو۔ اب آپ سوال کر سکتے ھیں، بھئی کیسا؟کس قسم کا نظریاتی ٹکراو۔۔۔تو اس بابت وضاحت پیش کرتا چلوں کہ اس ٹکراو کی وجوہات کی لمبی فہرست مرتب ھو سکتی ھے۔۔۔البتہ چیدہ چیدہ وجوہات مندرجہ ذیل ھیں:-

1۔ ادیب اور قاری کا تعلیمی بعد یا فرق۔

2۔ ادیب اور قاری کا تہذیبی فرق۔

3۔ ادیب اور قاری کا مذھبی/روحانی فرق۔

 4۔ ادیب اور قاری کا عملی زندگی میں بعد یا فرق۔

 5۔ ادیب اور قاری کا الفاظ کے استعمالات میں مجازی و معنوی فرق۔

6۔ ادیب اور قاری کی جنس میں فرق۔

 7۔ ادیب اور قاری کی عمروں میں تفاوت۔

8۔ ادیب اور قاری کی سیاسی دلچسپیوں میں تفاوت۔

 معزز دوستو! اگر میں مندرجہ بالا نقاط کی تشریح اور ان نقاط کے حق میں دلائل دینے بیٹھ گیا تو پھر یہ ایک مضمون نہیں بلکہ کتابچہ بن جاے گا۔ توقع کرتا ھوں کہ آپ اگر پہلی بار نہیں تو ان نقاط کے دو تین بار سنجیدہ اعادہ سے میرے مافی الضمیر کو سمجھ جائیں گے۔۔۔اور آپ سمجھ بھی سکتے ھیں۔

اب ہم آتے ہیں ایک افسانوں کی عمومی ہیت یا بناوٹ پر:- 1

۔ راست بیانیہ::: ایسا افسانہ جس میں الفاظ اپنے حقیقی معنی میں استعمال ہوے ہوں۔ ادیب کہانی کو کوئی چکر پھیری دئے بیان کرتا چلا جاے اور قاری بھی بنا کسی دماغی بوجھ محسوس کئے کہانی سمجھتا چلا جاے۔ اردو ادب میں بے بہا ادب اسی انداز میں لکھا گیا اور بے پناہ مقبولیت کا باعث ھے۔ تمام پاپولر فکشن بھی اسی پیراے میں ذرا کم افسانویت لئے اسی بیانیے کا حامل ھوتا ھے۔

2۔ علامت نگاری:::: لکھنے کا ایسا انداز جس میں ادیب عام سماجی ماحول کو چھوڑ کر معاشرہ کے ہی کسی پہلو پر ڈھکے چھپے انداز میں لکھنا چاھتا ھے تو وہ ایسے الفاظ کا چناو کرتا ھے جن کے مجازی معنی/ڈکشنری معنی متن میں جا کر اپنی ظاہری ہیت کو کھو دیتے ہیں۔ مثال کے طور پر راجہ گدھ میں گدہ کی صفات کو بانو قدسیہ مرحومہ نے انسانوں سے انسلاک پیدا کر کے ایسے انسانوں کی نشاندہی کی سعی کی ھوئی کہ سماج میں ہر طرح کے استحصالی کرداروں سے ھمیں نفرت محسوس ھوتی ھے۔ اسی طرح تمام غیر انسانی مخلوقات، اشجار، نباتات و جمادات کو بطور علامات استعمال کر سکتا ہے۔ اس حوالے سے ایک بات عرض کرتا جاوں کہ علامت کا انسانی کردار سے تعلق عقل پر قائم ھو گا تو قاری بخوبی علامات کے مجازی معنی چھوڑ کر حقیقی معنی سمجھتا چلا جاے گا۔

 3۔ تجریدی طرز تحریر:::: یہ مشکل ترین ادبی اسلوب ھے۔ تجرید میں لکھے افسانوں کی تفہیم بسا اوقات قاری کے لئے بھاری پتھر اٹھانے کے مترادف ھو جاتی ھے۔ لیکن اس طرز تحریر کا ایک فائدہ یہ ھوتا ھے کہ یہ سدا بہار ھونے کے کارن اپنے نئے سے نئے مفاہیم پیش کرتی رھتی ھیں۔ اسے لکھنا بھی مشکل اور سمجھنا بھی مشکل ھوتا ھے۔

4۔ تہہ دار طرز تحریر:::: ایسے افسانوں میں کہانی میں دو یا دو سے زیادہ متوازی چلنے والی کہانیاں ہوتی ہیں۔ ابتدا قاری تذبذب کا شکار ہوتا ھے کہ شاید یہ افسانہ وحدت تاثر سے محروم ھے لیکن اختتام پر پتہ چلتا ھے کہ کہانی تہہ درد ضمنی کہانیوں کے بہاو کے ساتھ ساتھ در اصل ایک ہی تھی۔ اسے ھم کہتے ہیں کہانی کا دائرہ مکمل ھونا ھونا۔

 5۔ کہانی کا دائرہ:::: معزز دوستو! آپ کو کوئی بھی تحریر/افسانہ پڑھتے ہوے ذہن بنا لینا چاھئیے کہ کہانی خط مستقیم میں سفر کر رھی لیکن اس کہانی کے بین السطور پیغام کو ایک منطقی انجام تک پہنچ کر دائرہ مکمل کرنا چاھئیے۔ بھئی کیسا دائرہ؟ وہ اٹھان جو آغاز میں دیکھی گئی۔۔۔کلائمکس تک گئی۔۔۔پھر واپس گھوم کر اسی مقام سے مل گئی جہاں سے شروع ھوئی تھی۔

 6۔ موضوعاتی/ عنوانی تاثر:::؛ آپ اگر ہوشیار قاری ہیں (جو کہ آپ ہیں بھی) تو سب سے پہلے عنوان کو غور سے ذہن نشین کر لیجئیے۔ اگر اختتام پذیری کے بعد بھی کہانی کا عنوان سے کوئی تعلق قائم نہیں ھو رھا تو افسانہ یا تحریر میں بڑا سقم ھے۔

7۔ مجموعی تاثر/over all impact:::: میں آپ کو یہ بہت دلچسپ تنقیدی اصول سمجھانے جا رھا ھوں۔ اسے ھم "جٹکا یا بے حد low level کا اصول بھی قرار دے سکتے ہیں۔ کرنا یوں ہے کہ پورا افسانہ یا تحریر پڑھ لیجئیے!!! کیا آپ کو مجموعی طور پر کہانی میں دئے گئے پیغام نے مثبت انداز میں حظ دیا؟ لطف دیا؟ مزہ دیا؟ آپ کے ذہن میں آیا کہ میں اسے کبھی نہ بھلا سکوں گا؟ یار! یادگار افسانہ یا تحریر!!! واااااھ! تو بھی سمجھئیے آپ کو محنتانہ وصول ھو گیا۔ مت الجھئے لمبے تنقیدی اصولوں میں۔ بس لطف آیا؟ یاد گار تحریر؟ تو بس!!!

 8۔ وحدت تاثر:::: کسی بھی افسانہ یا تحریر میں بنیادی کہانی سے ہٹ کر اگر صاحب افسانہ غیر ضروری فلسفہ حیات کے ڈونگرے برسانے لگ جائیں۔۔۔وہ باتیں کریں جن کا اختتام تک کہانی سے کوئی تعلق ہی نہ بن رھا ہو تو وہ بے کار افسانہ یا تحریر مانی جاے گی۔ یعنی ادیب خوب لکھیں مگر وحدت تاثر کو ہلنے نہ دیں۔

 9۔ اسلوب/گرائمر کسی بھی افسانہ میں جملے تھرڈ کلاس ڈھانچوں پر لکھے گئے ہوں۔ زبان کے قواعد کی اغلاط کی بھرمار ھو۔۔۔املا اور punctuation marks کا خیال نہ رکھا گیا ھو تو کہانی بھلے کیسی ہو وہ رد ھو جاے گی۔ مترادفات و متضادات کا برمحل اور بلکل درست جگہ اور موقع پر استعمال افسانہ یا تحریر کو چار چاند لگا دیتا ھے۔ ہم قافیہ الفاظ کا استعمال اور اعلی کوالٹی کی ڈکشن پوری تحریر کو مسجع و مقفی کے درجے پر لے جاتے ہیں۔ میرے عزیز دوستو! مجھے آج تک کسی تحریر کو سمجھنے کے لئے جو ضروری لگتا آیا ھے وہ میں نے اختصار اور سادہ پیراے میں آپ کے گوش گزار دیا۔ لیکن۔۔۔لیکن یاد رکھئے گا تحریر کے بین المتون پیغامات پر تنقید کے اصول مختلف دبستانوں کے ماتحت آتے ہیں۔ اسی طرح نثر و شاعری کی تنقید کے اصول بھی بے حد وسعت علم کے متقاضی ھوتے ھیں۔ مختلف شعبوں میں تنقید نگار بھی سپیشلائزڈ ھوتے ہیں۔ اپنی علمی پیاس کو مہمیز دے کر رکھئیے۔ علم حاصل کرتے رہیے گود سے گور تک۔ یہی زندگی کا لطف ھے۔ وما علینا الا البلاغ المبین!

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

ھرمن نارتھروپ فرائی ۔۔۔۔ احمد سہیل

ھرمن نارتھروپ فرائی ۔(Herman Northrop Frye) ::: تحریر ۔۔ احمد سہیل (امریکہ) کینڈین ادبی نقادو …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے