سر ورق / جہان اردو ادب / محمد جاوید انور بوبک …محمدزبیرمظہرپنوار

محمد جاوید انور بوبک …محمدزبیرمظہرپنوار

جہان اردو ادب ( اردو لکھاری ڈاٹ کام)

میزبان ۔۔ محمدزبیرمظہرپنوار” ( حاصلپور ” پاکستان )

مہمان ۔۔ محمد جاوید انور بوبک (لاہور ۔ پاکستان )

 سوال ۔.آپ کا اصل اور قلمی نام ۔۔

محمد جاوید انور

سوال ..اپنے تعلیمی اور خاندانی پس منظر کے متعلق کچھ بتائیں ۔۔

جواب ۔۔  میں ایک پڑھے لکھے جاٹ زمیندار گھرانہ میں پیدا ہوا۔

انگریزی ادب و لسانیات میں ماسٹرز پنجاب یونیورسٹی سے کیا ۔

پھر سنٹرل سپیرئیر سروسز کا امتحان دے کر سول سروس میں آگیا ۔

سوال.. ادب سے لگاؤ کی خاص وجہ اور آپ کو کب ایسا لگا کہ آپکے اندر ایک تخلیقکار موجود ہے جو بہت سی باتیں کہنا لکھنا چاہتا ہے ۔

جواب۔۔ ہمارے گھر  میں پڑھنے لکھنے کا رواج تھا ۔ والد پڑھنے پڑھانے کا شوق رکھتے تھے ۔ میرے دادا کے بھائی پنجابی شاعری کرتے تھے ۔ میرے ایک ماموں افسانہ نگار تھے ۔ اُن کی لائبریری میں اردو ادب اور عالمی ادب کے تراجم کا بڑا ذخیرہ تھا جو میرے بہت کام آیا۔

میں نے ابتدائی کلاسز ہی سے لکھنا شروع کر دیا تھا ۔ بزم ادب  میں کچھ نہ کچھ پیش کرتا رہتا ۔انٹر تک پہنچتے میری کئی تحریریں جو انشائیہ کی شکل میں تھیں اخبارات میں چھپ گئیں لیکن اب میرے پاس ریکارڈ نہیں ۔ گریجوایشن میں کالج میگزین کے لئے لکھا جو ہمارے پروفیسر جناب شہرت بخاری کو اچھا لگا۔جب میں سول سروس میں آگیا تو نوکری پر ساری توجہ صرف کردی اور لکھنا موقوف رہا۔ چند سال قبل جب نوکری کی اعلی ترین منزل پالی تو لکھنا دوبارہ شروع کیا۔

سوال ۔۔ پہلی کہانی کب لکھی اور کس مجلہ یا اخبار میں شائع ہوئی ۔

جواب ۔۔ کہانی تو شائد ۲۰۱۵ میں لکھی تھی ۔ افسانچہ تھا “راجہ” نام سے اور فیس بک کے ایک ادبی فورم کے ایونٹ میں دیا تھا۔

میرے پہلے افسانوی مجموعہ “ برگد” میں شامل ہے ۔

پھر تواتر سے لکھا جو بہت سے ادبی جرائد چھپتا رہتا ہے۔

سوال ۔۔ ہمارے معاشرے کا چونکہ ماحول ایسا ہے کہ انٹلیکچوئل طبقے کو اہمیت کم دی جاتی ہے پھر آپ تو انٹلیکچوئل طبقہ کے سب سے حساس ترین لوگوں میں سے ہیں آپکو ضرور شروعات میں فیملی دوستوں محلوں داروں سے کچھ نہ کچھ عجیب سننے کو ملا ہو گا خاص کر پہلی دو چار کہانیوں کے بعد لوگوں کا ری ایکشن کیا تھا آپ کے متعلق ۔۔

جواب۔۔ میرا انٹلکچوئل ہونے کا دعوی نہیں ۔میں عام سا انسان ہوں ۔ بہت معمولی۔

اتفاق سے میرے پہلے افسانچہ سے لے کر تازہ ترین افسانہ تک مجھے سنجیدگی ہی سے لیا گیا۔

سوال . صیح معنوں میں آپکی کونسی تحریر تخلیق آپکی پہچان بنی جس نے آپکو عام عوام میں سے اٹھا کر علمی و ادبی طبقہ میں متعارف کروایا ۔۔

جواب ۔۔ میرا افسانہ “ برگد”  نئی روائت ادبی فورم کے اُس افسانہ ایونٹ میں پوسٹ ہوا جسے میں خود بطور ایڈمن انچارج افسانہ سیکشن  چلا رہا تھا ۔اس افسانہ نے بہت ستائش حاصل کی ۔ اقبال حسن آزاد صاحب نے “ ثالث “ میں چھاپنے کے لئے منتخب کر لیا ۔ دُنیا بھر کے افسانہ پڑھنے والوں نے اسے پسند کر کے اور میرے اسلوب کو سرِاہ کر میرا حوصلہ بڑھایا ۔ اس سے پہلے میرا افسانہ “ کُشتی” ایک فورم پر لگ چکا تھا لیکن اُس کی اچھی پذیرائی ہونے کے باوجود وہ توصیف نہیں ہوئی تھی جو برگد کو نصیب ہوئی ۔

برگد نے مجھے افسانہ نگاروں کی صف میں لا کھڑا کیا ۔

سوال..آپ کےادباء میں سے بہترین دوست جو رائیٹر بننے کے بعد بنے ہوں اور آپکی ہمیشہ رہنمائی کی ہو ۔

جواب ۔۔ بہت سے نام ہیں ۔ درجنوں خواتین و حضرات ۔ میں اس سلسلہ میں بہت خوش قسمت رہا۔

نام اس لئے نہیں لکھوں گا کہ کوئی نام غلطی سے بھی رہ گیا تو دل شکنی ہوگی اور حق تلفی بھی جو مجھے گوارا نہیں ۔

اس وقت میرےمحسن میرے دوست دنیا بھر میں پھیلے ہیں ۔ مجھے ان کی قدر ہے ۔ اُن کا احترام ہے ۔ اُن سے محبت ہے ۔

سوال ۔ آپکی نظر میں ادب کی معاشرے میں گنجائش کتنی ہے اور آج کا قاری ادیب سے کیا چاہتا ہے ۔

۔ادب کے بغیر میرے پاس معاشرے کا کوئی تصور نہیں ۔ ادب کی اپنی جگہ موجود ہے ۔ آج کا قاری معیاری تخلیقات کا تقاضہ کرتا ہے ۔انٹرنیٹ نے دنیا بھر کا ادب قاری کی دسترس میں لا پھینکا ہے ۔اپنی جگہ بنانے کے لئے مقابلہ سخت تر ہو گیا ہے ۔ اب معمولی تخلیق کوئی قابل ذکر مقام نہیں پا سکتی اور کچھ نہیں سوائے وقتی شغل میلہ کے ۔

سوال۔۔ کسی زمانے میں ترقی پسند ادباء تحریک کا جنم ہوا تھا ۔ کیا اس سے اردو ادب کا فائدہ ہوا یا نقصان ۔۔

جواب ۔۔ نقصان تو نہیں ہوا۔ ایک مختلف نوع کی تخلیقات سامنے آئیں ۔فائدہ ہوا ۔ نقصان تو قطعی نہیں ۔ہر قسم کا ادب اپنا قاری ڈھونڈھ لیتا ہے۔ زندہ صرف معیاری تخلیق ہی رہتی ہے۔

سوال۔ ادب میں جدیدیت اور مابعدجدیت کا فلسفہ کس حد تک ہمارے قاری پہ اثر انداز ہوا یا پھر ہمارا قاری یا ادیب بیسویں صدی کی پہلی پچاس دہائیوں میں کھڑا نظر آتا ہے ۔

جواب۔۔ ادب میں تجربات تو ہمیشہ ہوئے ہیں اور ہوتے رہیں گے۔ ادب جامد نہیں متحرک ہے۔ عالمی ادبی تحاریک سے اردو ادب بھی متاثر ہوا اور ہونا چاہئے تھا ۔ تحاریک اور متنوع فلسفے پیدا ہوتے ہیں اپنا اثر چھوڑتے ہیں اور اکثر وقت کے ساتھ کمزور ہوتے ہیں یا مدھم پڑ جاتے ہیں ۔ طاقت ور فلسفے اور تحاریک اپنا دوامی اثر رکھتے ہیں ۔ جدیدیت اور مابعد جدیدیت کے زیر اثر ہمارے ہاں بھی تخلیقات آئیں اور ان تحاریک کی اثر پذیری مسلم ہے ۔ تخلیقات قاری پیدا کرتی ہیں قاری تخلیق نہیں پیدا کرتا ۔ سچا ، کھرا اور جینوئن تخلیقار قارئین کی پسند ناپسند دیکھ کر اپنی تخلیق بنیاد نہیں کرتا ۔

میرے خیال میں ہمیں دوسری زبانوں کے ادب کا مطالعہ کرنا چاہئے اور اگر ہو سکے تو اردو ادب کے دوسری اہم اور مقبول زبانوں میں تراجم کروانے چاہئیں ۔

فی الحال ہم جدیدیت اور مابعد جدیدیت جیسے لفظ عام قاری یا مبتدی لکھاری کو مرعوب  اور کنفیوز کرنے کے لئے استعمال کرتے ہیں ۔

میں یہ بالکل نہیں مانتا کہ ہمارے لکھنے والے پیچھے رہ گئے یا کم صلاحیت کے حامل ہیں۔

یہ گُر کی بات یاد رکھنی چاہئے کہ تھوڑا سا لکھنے کے لئے بہت سا مطالعہ اور وسیع  مشاہدہ بہت ضروری ہے ۔

معقول لکھیں اور اس کی درجہ بندی قاری اور نقاد پر چھوڑ دیں ۔

سوال۔۔ کیا آپکی نظر میں موجودہ کا ادب قاری یا عام آدمی جو کہ سرسری مطالعہ کرتا ہے اس کو اپیل کرتا ہے بالخصوص اردو ادب ۔۔

جواب ۔۔ جی بالکل کرتا ہے ۔ ہر طرح کا لکھا جا رہا ہے اور پڑھا بھی جا رہا ہے ۔

سوال۔۔ کیا وجہ ہے کے اردو ادب کا معیار اس لیول تک نہیں پہنچ پایا جہاں آج مغرب ہے حالانکہ ماضی میں اردو ادب اور ادباء نے اچھی خاصا عالمی لیول کا کام کیا مگر اب فقدان ۔۔

۔

جواب ۔۔ یہ سنجیدگی سے کرنے کاکام ہے ۔ جسے چند لفظ لکھنا آگیا وہ افسانہ نگار نہیں تو شاعر تو ضرور ہی بن بیٹھا۔ معیاری لکھنے والے ، معیاری لکھنے کے لئے مطلوبہ اہلیت رکھنے والے کتنے ہیں ؟

اس وقت اچھا لکھنے والوں کی فہرست مرتب کریں تو بہت مختصر ہوگی ۔ تشویشناک حد تک مختصر۔

اچھے نقاد اس سے بھی کم ہوں گے۔

عالمی ادب کا مقابلہ کرنے کے لئے بہت سی محنت ، سنجیدگی اور ماحول درکار ہے ۔

سوال۔۔ آپکی نظر میں ماضی و حال کے دو نام بطور بہترین افسانہ نگار  اور ناول نگار ۔۔ کس وجہ سے ۔

جواب۔۔ یہ دو والی قدغن بڑی سخت ہے ۔میرے پسندیدہ ناول نگاروں اور افسانہ نگاروں کی فہرست طویل تر ہے۔۔

سوال۔ ہمارے ہاں فن افسانہ نگاری  کا خلاء پیدا ہو گیا ہے اسکی وجہ آپ ناقدین کو مانتے ہیں یا ادباء کو ۔ ناقدین کو اسلیے کے شاید وہ آج بھی نئے ادب کو قبول کرنے میں عار زرا جھجھک محسوس کرتے ہیں یا پھر افسانہ نگار کیونکہ ہمارے ہاں موضوعات کے چناؤ میں غلطی کر بیٹھتے ہیں ایسے موضوعات جنہیں پڑھ پڑھ قاری اکتا چکا ۔ یا پھر منتخب موضوع کو نبھانے میں ادیب غلطی کر بیٹھتا ہے ۔

جواب ۔۔ مختصر جواب یہ ہے کہ یہ بات بحث طلب ہے کہ خلا ہے یا نہیں ہے اور یہ بھی یاد رکھنے کی بات ہے کہ خلا محسوس ہوتا ہے اور اکثر اوقات ہوتا نہیں ۔ بہت سے لوگ اچھا لکھ رہے ہوتے ہیں اور اُن کی تخلیقات نے اپنا مقام ابھی پانا ہوتا ہے ۔

پُر ہونا خلا کا مقدر ہوتا ہے۔

سوال۔۔ آپکی نظر میں تنقید کا مطلب اور سب سے بہترین تنقیدی کام کس کا رہا ۔

جواب ۔۔ تنقید میرا موضوع نہیں ۔

میں بس ایک معمولی سا لکھنے والا ہوں ۔ تخلیق مجھے خوشی اور اطمینان بخشتی ہے ۔

سوال ۔۔ مغربی ادب میں آپکی پسندیدہ شخصیات کے دو نام اور انکی تخلیقات یہ بھی بتائیں کیوں اور کس وجہ سے ۔۔

جواب ۔۔ انگریزی ادب میرا مضمون رہا ہے اور کلاسیکی ادب میں انگریزی شہ پارے اور فرانسیسی اور روسی ادب کے تراجم کثیر تعداد میں پڑھنے کی سعادت ملی۔

دو نام میں نے سینت کر نہیں رکھے ۔

ہر اچھا لکھنے والا میرا محبوب اور ہر اچھی تحریر میری محبوبہ بن جاتی ہے ۔ بہت سے ناموں کی فہرست بنانا ہوگی۔ اکثر اوقات جو اچھی تصنیف زیرمطالعہ ہو وہی پسندیدہ تصنیف اور اسی کا مصنف پسندیدہ مصنف ہوتا ہے ۔

سوال۔۔  اردو ادب میں افسانچہ ۔ فلیش فکشن یا مائیکرو فکشن مطلب مختصر ترین کہانیوں کی گنجائش ہے کہ نہیں اگر ہے تو کیوں اگر نہیں تو کیوں ۔

جواب ۔۔ اردو ادب کوئی باقی عالمی ادب سے وکھرا نہیں اور ہمارے قاری کی سر پر سینگ نہیں ۔

افسانچہ تو تقریبا اتنی ہی پرانی صنف ہے جتنا افسانہِ۔

یہ دوسری بات ہے کہ خود اردو کی تاریخ کتنی پرانی ہے ؟

جمعہ جمعہ آٹھ دن ۔

یہ بات ہمیں اردو ادب کے کہنہ اور پختہ زبانوں کی تخلیقات سے تقابل میں بھی یاد رکھنی چاہئے ۔

ہمارے افسانچوں یا مائکرو فکشن یا فلیش فکشن کی اتنی ہی ضرورت یا اتنا ہی جواز ہے جتنا اور کسی بھی زبان کے ادب میں ۔

سوال۔۔ زندگی سے کیا چاہتے ہیں اگر مل گیا ہے تو مزید خواہش ۔۔

جواب ۔۔ جب سوال کر دیا ہے ۔ کیا اسکا جواب آسان ہے ؟

ایک بات کہہ سکتا ہوں کہ اپنی گزاری گئی زندگی سے مطمئن ہوں ۔ شکر ہے پچھتاوے لے کر نہیں جی رہا ۔

سوال۔۔ محبت کی اہمیت اور مفہوم آپکی نظر میں کیا آپکو کبھی محبت ہوئی ۔۔

جواب ۔۔ مجھے اس سوال پر ہنسی آ رہی ہے ۔

آپ بھی ہنس لیں ۔

سوال۔۔ اپنی نجی زندگی مطلب فیملی سے وابستہ دلچسب خوبصورت اور انمول واقعہ ۔۔

جواب۔۔ میری فیملی کا میری فیملی ہونا میری زندگی کا خوب صورت اور انمول واقعہ ہے ۔

یہ بہت دلچسپ بھی ہے ۔

زندگی بذات خود ایک دلچسپ ، خوب صورت اور انمول واقعہ ہے۔

سوال۔۔ آپکی شخصیت چند ایسے پہلو جو عام لوگوں کی نظروں سے اوجھل رہے ہمیشہ ۔۔

جواب۔۔۔ وہ میری نظروں سے بھی اوجھل ہی ہونگے۔

میں بہت سادہ اور سیدھا آدمی ہوں ۔

مجھ میں پیچیدگی اور دوھرا پن نہ ہونے کے برابر ہے۔

جو ہُوں بس وہی ہوں اور جیسا دکھتا ہوں اصل میں بھی ویسا ہی ہوں ۔

میرے پاس چھپانے کو بہت کم ہے۔

سوال ۔۔ اپنے فالورز قارئین اور ادباء کے لیے پیغام ۔۔

جواب ۔۔ آپ بہت قیمتی لوگ ہیں ۔ مجھے آپ سب سے پیار ہے۔

اردو لکھاری ڈاٹ کام اور میرے لیے کوئی خصوصی پیغام اگر دینا چاہیں تو ۔۔

جاوید انور بوبک

۔ دعائیں اور نیک تمنائیں ۔

دعا فقیراں ۔ رحم اللہ

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

جمیل حیات۔۔۔ زبیر مظہر پنوار

سوال ۔۔ آپ کا اصل اور قلمی نام تاریخ پیدائش آبائی شہر ۔ جواب۔۔جمیل حیات۔اسی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے