سر ورق / کہانی / ہیکرز۔سید بدر سعید

ہیکرز۔سید بدر سعید

شوٹر

نعیم سے میری پہلی ملاقات شاہدرہ کے قریب کچی بستی میں ہوئی تھی۔ اس بستی کو عرف عام میں کنجر محلہ بھی کہا جاتا ہے۔ یہاں رہنے والوں کی اکثریت گلوکاری سے وابستہ ہے۔ ان دنوں پاکستان کی ایک مشہور گلوکارہ یہیں ایک درخت کے نیچے بیٹھی پان چبایا کرتی تھی۔ یہاں ہر دوسرے گھر میں ”میوزک اکیڈمی“ کھلی ہوئی تھی۔ اس بستی کی خواتین گڑوی بجانے کے حوالے سے بھی شہرت رکھتی ہیں۔ یہاں بچوں کو سکول بھیجنے کی بجائے ہار مونیم پر بٹھا کر تربیت دی جاتی ہے۔ مرد اور خواتین ہر طرح کے میوزیکل آلات کا استعمال سیکھنے کے ساتھ ساتھ ڈانس اور گلوکاری میں بھی مہارت حاصل کرتے ہیں۔ ان دنوں اس کنجر محلہ کے نسبتاً ”امیر“ لوگ ریس کے لئے ایک آدھ گھوڑا پالتے اور اسے بیچتے تھے۔ یہ محلہ جواءاور دیگر جرائم کے حوالے سے بھی شہرت رکھتا تھا۔ اب شاید لوگ ترقی کر گئے ہیں اور صورت حال بہتر ہو گئی ہے لیکن میں جن دنوں کی بات کر رہا ہوں تب یہاں ہر طرح کے جرم کے لئے جرائم پیشہ افراد دستیاب تھے۔ لاہور کے اکثر ”پولیس مقابلے“ اسی علاقے کی حدود میں کئے جاتے تھے اور لوگ شام کے بعد اس علاقے سے گزرنے سے کتراتے تھے۔

نعیم کا تعلق اسی علاقے سے تھا۔ اسے ”نیما جٹ“ کے نام سے جانا جاتا تھا۔ ہماری ملاقات ایک مشترکہ دوست کے ذریعے ہوئی۔ یہ کہانی اس وقت شروع ہوئی جب میرے ایک صحافی دوست ارشد نے قسطوں پر پانچ مرلہ پلاٹ خریدا۔ یہ پلاٹ شاہدرہ کی حدود میں تھا۔ ارشد نے اپنی بیوی کا زیور اور جمع پونجی اس پلاٹ پر لگا دی تاکہ کرایوں سے نجات حاصل کر کے اپنی چھت حاصل کر سکے۔ پلاٹ کا مالک بننے کے بعد اس نے جلد ہی مکان بھی بنا لیا۔ اس خوشی میں اس نے ہم سب کو مٹھائی کھلائی اور ایک ہفتہ بعد قرآن خوانی میں شرکت کی دعوت دی۔ اس نے ایک ہفتے بعد اس مکان میں منتقل ہونا تھا۔ یہ قرآن خوانی اسی موقع پر تھی تاکہ اللہ مکان میں برکت دے۔ قرآن خوانی سے تین دن قبل ارشد دفتر آیا تو اس کا منہ لٹکا ہوا تھا۔ میں نے اسے چھیڑتے ہوئے کہا : یار اب تو تم ہم سے امیر ہو چکے ہو‘ اپنے گھر کے مالک ہو‘ اب کیوں منہ لٹکایا ہوا ہے۔ ارشد نے دھیمے لہجے میں یہ کہہ کر چونکا دیا کہ میری قسمت میں شاید اپنی چھت نہیں لکھی۔ اس کے اس جواب پر سارا رپورٹنگ روم اس کے گرد جمع ہو گیا۔ ہمارے پوچھنے پر اس نے جو بات بتائی وہ قابل تشویش تھی۔

ارشد کے مطابق وہ گزشتہ روز اپنے گھر کا چکر لگانے شاہدرہ گیا تو اس کے گھر پر چند مسلح افراد پہلے سے موجود تھے ۔انہوں نے ارشد کو گھر کے اندر جانے سے روک دیا۔ خطرناک اسلحہ سے لیس ان افراد نے بتایا کہ اب ارشد کا اس گھر سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ وہ کہیں اور ٹھکانا کر لے۔ البتہ اگر مستقبل میں کبھی انہوں نے یہ گھر خالی کیا تو ارشد کو واپس کر دیا جائے گا۔ گھر خالی کرنے کے لئے انہوں نے پانچ لاکھ روپے مانگے تھے۔ اگر ارشد ان کو پانچ لاکھ دے دیتا تو وہ گھر اس کے حوالے کرنے کو تیار تھے۔ اس زمانے میں پانچ لاکھ معمولی رقم نہیں تھی اور خاص طور پر ایک عام صحافی کے لئے تو یکمشت اتنی بڑی رقم محض خواب ہی تھی۔ ارشد تو پہلے ہی اپنی ساری جمع پونجی اور بیگم کا زیور مکان پر لگا چکا تھا۔ حالات ایسے تھے کہ ہم چند رپورٹرز مل کر بھی اسے اتنی رقم نہیں دے سکتے تھے۔ ہمیں جتنی تنخواہ ملتی تھی اس میں بچت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔ ارشد کا کہنا تھا کہ وہ مدد کے لئے اس علاقے کے قدرے بااثر افراد سے بھی ملا تھا لیکن ان سب نے بھی اس کی مدد کرنے سے انکار کر دیا۔ ان کے بقول قبضہ مافیا میں مفرور اور اشتہاری مجرموں کے ساتھ ساتھ قاتل بھی شامل تھے۔ اس قبضہ مافیا کے خلاف پولیس بھی کوئی قدم اٹھانے پر تیار نہ تھی۔ یہاں تک کہ اس قبضے کے خلاف مقدمہ تک درج نہیں کیا گیا تھا۔ ارشد چند گھنٹوں میں ہی مکمل طور پر مایوس ہو چکا تھا۔

اگلے روز ہم چند صحافی ارشد کے ساتھ علاقے کے تھانے میں چلے گئے۔ وہاں سب انسپکٹر کو ایس ایچ او کا چارج ملا ہوا تھا۔ اس نے تحمل سے ہماری بات سُنی اور پھر کہنے لگا: سر! آپ لوگ چاہیں تو میرا تبادلہ کروا سکتے ہیں۔ میں کچھ عرصہ معطلی کی سزا بھی کاٹنے کو تیار ہوں۔ یہاں تک کہ میں اپنی اس مہینے کی تنخواہ آپ کو پیش کر دیتا ہوں لیکن مجھ میں اتنی ہمت نہیں ہے کہ ان اشتہاری مجرموں سے قبضہ چھڑوا سکوں۔ اس کے بعد تھانیدار نے ہمیں روایتی کہانی سنانی شروع کر دی کہ اس کے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں اور پھر آخر میں شکوہ بھی کیا کہ پولیس والے آج بھی پرانا اور خستہ حال اسلحہ تھامے ڈیوٹی کرنے پر مجبور ہیں جبکہ اشتہاری مجرموں کا اسلحہ شروع ہی کلاشنکوف سے ہوتا ہے۔ اب آپ ہی بتائیں ہم محدود گولیوں اور پرانی رائفلوں سے ان اشتہاریوں کا مقابلہ کیسے کریں جنہوں نے جدید اسلحہ اور گولیوں کی بوریاں پاس رکھی ہوئی ہیں۔

پاکستان کی زمینی صورتحال اور ماحول کی وجہ سے ہم تھانیدار کی مجبوری سمجھتے تھے‘وہ مرنے کے لئے ان سے مقابلہ کر بھی لیتا تو بھی قبضہ نہیں ہونا تھا۔ یاد رہے اس وقت تک پولیس کو جدید اسلحہ نہیں مل پایا تھا ۔ پنجاب کے مجرموں کے بنیادی ڈھانچہ کو مدنظر رکھتے ہوئے میں نے تھانیدار سے کہا : ٹھیک ہے ہمیں اندازہ ہے کہ آپ ہماری کوئی مدد نہیں کر سکیں گے لیکن کچھ معلومات تو فراہم کر سکتے ہیں؟ تھانیدار کے اثبات میں سر ہلانے پر میں نے سوال کیا: اس قبضہ مافیا کی سرپرستی کون کر رہا ہے۔ شاید ہم اپنا معاملہ وہیں سے حل کروا سکیں۔ کرائم رپورٹنگ کے دوران مجھ پر واضح ہو چکا تھا کہ پاکستان کے منظم اشتہاری گروہوں کا سرغنہ کوئی سیاستدان‘ وڈیرہ یا چودھری ضرور ہوتا ہے۔ اگر ان کا سرغنہ نہ ہو تب بھی اس کا ان پر کچھ نہ کچھ اثر ضرور ہوتا ہے۔ تھانیدار میرے سوال کا مطلب سمجھ گیا تھا لہٰذا سر ہلاتے ہوئے کہنے لگا: یہ بات تو سبھی کو معلوم ہے کہ چودھری صاحب کا دباﺅ ان پر چلتا ہے‘ اس نے ایک مشہور سیاسی شخصیت کا نام بتا دیا۔ ساتھ ہی درخواست بھی کر دی کہ کسی کو یہ نہ بتایا جائے کہ چودھری صاحب والی ”ٹپ“ ہمیں تھانیدار سے ملی ہے۔ ہم تھانیدار کو تسلی دے کر واپس آ گئے۔

اگلے روز ہم سب پھر رپورٹنگ روم میں اکٹھے تھے۔ گفتگو کا موضوع ارشد کا مکان ہی تھا۔ سبھی چاہتے تھے کہ ارشد کی مدد کی جائے لیکن ہمیں کوئی راستہ نہیں سوجھ رہا تھا۔ اسی بحث کے دوران ایک ساتھی رپورٹر کہنے لگا: اگر ہم چودھری سے بات کریں گے تو وہ سرے سے ہی انکار کر دے گا کہ اس کا ان اشتہاریوں سے کوئی تعلق ہے۔ اس لئے یا تو ہمارے پاس کوئی ٹھوس ثبوت ہونا چاہئے یا پھر کوئی اور حل تلاش کیا جائے۔ ایک اور رپورٹر نے دوسرا حل یہ پیش کیا کہ جس طرح لوہے کو لوہا کاٹتا ہے اسی طرح مجرموں کو مجرموں سے ہی شکست دی جائے۔ اس کا خیال تھا کہ ہم کسی اور ایسے ہی گروہ کی خدمات حاصل کر لیتے ہیں جو یہ قبضہ چھڑوانے میں ہماری مدد کر سکے۔ اس بارے میں مختلف رائے سامنے آئیں تو فیصلہ ہوا کہ اس آپشن کو بھی استعمال کرنے کی کوشش کی جائے۔ اگر ناکامی ہوئی تو کوئی اور حل ڈھونڈ لیں گے۔ ہمارا مسئلہ یہ تھا کہ شاہدرہ کافی دور تھا اور ہماری رپورٹنگ یا تعلقات اس علاقے میں نہ ہونے کے برابر تھے۔ ہمیں پہلے متعلقہ افراد تلاش کرنے تھے جو اس مسئلہ میں ہماری مدد کر سکیں۔ کافی سوچ بچار کے بعد مجھے شاہدرہ ڈگری کالج کا ایک طالب علم لیڈر یاد آ گیا۔

                جٹ کبھی سٹوڈنٹ یونین کا چلتا پرزہ تھا پھر وہ یونین کی سطح سے آگے چلا گیا اور باقاعدہ گینگ بنا لیا۔ اس گینگ نے متعدد وارداتیں بھی کیں اور آخر کار ایک روز جٹ گرفتار کر لیا گیا۔ اس کی گرفتاری کی بڑی وجہ ”سیاسی انتقام“ تھا۔ وہ جس سیاسی جماعت کی چھتری تلے تھا اب وہ جماعت اپوزیشن میں تھی۔ مخالف جماعت نے جٹ جیسے گینگسٹرز کو پولیس مقابلوں میں ”پار“ کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا۔ ایسے ہی ایک سپیشل آپریشن میں جٹ کو بھی گرفتار کر لیا گیا۔ پولیس نے اس کی گرفتاری کو خفیہ رکھا ہوا تھا۔ مجھے ایک ”سورس“ سے اس کی مکمل رپورٹ مل گئی اور میں نے ”باخبر ذرائع کے مطابق“ لکھ کر جٹ کی گرفتاری اور پولیس مقابلے میں ماورائے عدالت متوقع قتل کی سٹوری فائل کر دی تھی۔ اس خبر کے بعد پولیس کو جٹ کا چالان عدالت میں پیش کرنا پڑا۔ اسے مختلف مقدمات میں دو برس کی سزا ہوئی اور زیادہ تر کیسز میں گواہوں اور شواہد نہ ہونے کا فائدہ مل گیا۔ رہائی کے بعد جٹ نے مجھے فون کیا اور تسلیم کیا کہ پولیس اسے مقابلے میں پار کرنے لگی تھی لیکن خبر کے بعد یہ ممکن نہ رہا۔ جٹ کے بقول وہ میرا احسان مند تھا اور مجھے کبھی ضرورت پڑے تو جٹ کو ”خدمت“ کا موقع دوں۔ اس واقعہ کے بعد میرا ”جٹ“ سے کوئی رابطہ نہ رہا۔

ارشد کیس کی وجہ سے میں نے جٹ کا رابطہ نمبر تلاش کر کے اسے فون کیا۔ ابتدائی تعارف میں ہی وہ پہچان گیا اور گرمجوشی کا اظہار کرتے ہوئے ملاقات کا کہنے لگا۔ میں چونکہ خود بھی اس سے ملنا چاہتا تھا اس لئے اگلے روز ارشد کو لے کر اس سے ملنے چلا گیا۔ جٹ نے ہماری پوری داستان سُننے کے بعد کہا: میں آپ کو ایک کام کے بندے سے ملوا دیتا ہوں وہ دنوں میں مسئلہ حل کر دے گا۔ وہ ہمیں اسی ”کنجر محلہ“ لے گیا اور وہیں جٹ کے ذریعے میری نعیم سے پہلی ملاقات ہوئی۔

نعیم ”کنجر محلہ“میں رہتا تھا اور معمولی رقم لے کر کسی کو بھی قتل کر دیتا تھا۔ یہی اس کا ذریعہ روزگار تھا۔ اس روز مجھے معلوم ہوا کہ ہمارے ملک میں محض پانچ ہزار میں بھی کسی کو قتل کروایا جا سکتا ہے۔ جٹ کا کہنا تھا کہ ”نیما جٹ“ بہترین شوٹر ہے لہٰذا اس کے ذریعے قبضہ مافیا کے سبھی بدمعاشوں کو ایک ایک کر کے قتل کروا دیا جائے اس طرح خود ہی قبضہ ختم ہو جائے گا۔ اس نے نعیم شوٹر کو بھی یہ کہہ دیا کہ وہ ہم سے کسی قسم کا ”خرچہ پانی“ نہ لے اور یہ کام ”جٹ“ کا کام سمجھ کر کرے۔ نعیم نے جس طرح اثبات میں سر ہلایا اس سے مجھے بخوبی اندازہ ہو گیا کہ ”جٹ“ یا تو نعیم سے زیادہ بااثر غنڈہ ہے یا پھر نعیم اسی کے گینگ کا حصہ ہے۔ بہرحال ہم نے یہ تجویز رد کر دی۔ اس کے برعکس میں نے یہ اجازت لے لی کہ ہم نعیم شوٹر کا نام استعمال کر کے اپنا مسئلہ حل کروا لیں تو انہیں کوئی اعتراض نہ ہو گا۔

نعیم سے ملنے کے بعد میرے ذہن میں ایک آئیڈیا آیا۔ میں نے قبضہ مافیا کے سرپرست سیاستدان کو فون کیا اور اپنا تعارف کروانے کے بعد اسے کہا کہ اس کے لئے میرے پاس ایک ”ٹپ“ ہے۔ میں نے اسے بتایا کہ مجھے معلوم ہوا ہے کہ کسی نے اس کے قتل کی سپاری ”نیمے شوٹر“ کو دی ہے اور اب کسی بھی دن ”نیما شوٹر“ اسے قتل کر دے گا۔ نیما شوٹر اس علاقے میں کامیاب شوٹر کے طور پر مشہور تھا‘ وہ پیسوں کے ساتھ ساتھ شوقیہ بھی یہ کام کرتا تھا۔ غالباً کسی فلم کے کردار نے اسے متاثر کر رکھا تھا۔ نیمے شوٹر کا سُن کر سیاستدان میری توقع سے زیادہ گھبرا گیا۔ اسے ےقین ہو گیا کہ کرائم رپورٹر کی خبر درست ہی ہو گی۔ اس نے تفصیل پوچھی تو میں نے تفصیل بتانے سے انکار کرتے ہوئے اسے اپنی حفاظت کا معقول انتظام کرنے کا کہہ دیا۔ اگلے روز سیاستدان ہمارے دفتر چلا آیا۔ اس کے سکیورٹی گارڈز دیکھ کر اندازہ ہو رہا تھا کہ وہ پہلے ہی اپنی حفاظت کا انتظام کئے ہوئے ہے، اس کے باوجود وہ گھبرایا ہوا تھا۔ایک الگ کمرے میں ہماری گفتگو ہوئی تو باقاعدہ گڑگڑانے لگا کہ کسی طرح ”نیمے شوٹر“ سے اس کی جان چھڑوا دی جائے۔ اس کا کہنا تھا کہ ”نیمے“ کے بارے میں مشہور ہے کہ آج تک اس کی کوئی ”سپاری“ خالی نہیں گئی وہ ہر صورت اپنے شکار کو قتل کر دیتا ہے۔ سیاستدان کا کہنا تھا کہ جس ”سورس“ نے مجھے اتنی معلومات دی ہیں اسی کی مدد سے کوئی درمیانی راستہ تلاش کیا جائے۔ میں نے ایک دن کی مہلت لے لی اور وعدہ کر لیا کہ میں اپنی پوری کوشش کروں گا کہ یہ معاملہ حل ہو جائے۔ اگلے روز میں نے سیاستدان کو فون پر بتایا کہ اگر سیاستدان اپنے اثر و رسوخ کو استعمال کرتے ہوئے فلاں مکان کا قبضہ ختم کروا دے تو شاید معاملہ حل ہو جائے کیونکہ جس کے مکان پر قبضہ ہوا ہے اس کے کسی عزیز کی نیمے شوٹر سے دوستی ہے اور انہیں لگتا ہے کہ قبضہ سیاستدان نے کرایا ہے۔ سیاستدان نے فون پر قسمیں کھائیں کہ اس کا اس قبضہ مافیا سے کوئی تعلق نہیں لیکن پھر بھی وہ پوری کوشش کرے گا کہ یہ قبضہ ختم ہو جائے۔

قصہ مختصر ایک ہفتے میں قبضہ مافیا نے ارشد کا مکان خالی کر دیا۔ ارشد اور میں خاص طور پر ”جٹ“ اور ”نیمے شوٹر“ کا شکریہ ادا کرنے گئے۔ انہوں نے بظاہر کچھ نہیں کیا تھا لیکن ان کے نام استعمال کرنے کی بدولت ہی ہمیں مکان واپس مل سکا تھا۔ اس واقعہ کے بعد میری نعیم سے دوستی ہو گی۔ وہ اکثر مجھے جرائم کی دنیا سے وابستہ اہم خبریں فراہم کر دیتا تھا۔ اس کی رہائش اسی ”کنجر محلہ“ میں ہی تھی کیونکہ یہ بستی نو گو ایریا نہ ہوتے ہوئے بھی مجرموں کی محفوظ پناہ گاہ تھی اور پولیس بھی یہاں کا رُخ نہیں کرتی تھی۔ یہاں بروقت فرار کے کئی راستے تھے۔ چند ہزار روپے لے کر کسی بھی انسان کو قتل کرنے والا ”نیما شوٹر“ جلد ہی پروفیشنل شوٹر بن گیا۔ اس نے متعدد ایسی رائفلز بھی خرید لیں جو کافی دور سے نشانہ لگانے میں استعمال ہوتی تھی۔ اس کا معاوضہ بھی لاکھوں میں چلا گیا۔ چند ہی برس میں اس نے کروڑوں روپے کما لئے۔ اب وہ چھوٹے کیس بھی نہیں پکڑتا تھا۔ شہر کی بزنس کمیونٹی اسے ”نعیم شوٹر“ کے نام سے جانتی تھی اور امیر طبقہ اسے اپنے مخالف کو قتل کرانے کے لئے ”ہائر“ کرتا تھا۔ اسی طرح کسی کو زخمی کرانا یا محض دھمکانے کے لئے بھی اس کا ریٹ مقرر تھا۔ شہر میں نعیم کی متعدد کوٹھیاں تھیں اس کے باوجود اس کی اصل رہائش اسی کنجر محلہ میں تھی۔ ایک روز معلوم ہوا کہ جٹ اور نعیم میں اختلافات چل رہے ہیں۔ جٹ کا کہنا تھا کہ نعیم کو ”شوٹر“ اسی نے بنایا ہے لیکن اب نعیم گینگ سے الگ ہو کر کام کرتا ہے۔ دوسرے الفاظ میں جٹ سمجھتا تھا کہ اسی کی بلی اسی کو ”میاﺅں“ کرنے لگی ہے۔ دوسری جانب نعیم شوٹر اب خود کو پروفیشنل شوٹر سمجھتا تھا۔ اس کا خیال تھا کہ وہ جس سطح پر پہنچا ہے یہ اس کی اپنی محنت ہے۔ اب اگر ”جٹ“ نے اس سے کوئی کام کروانا ہے تو ”پارٹی“ بن کر کام کا کہے‘ دوستی اور تعلق اپنی جگہ لیکن چھوٹے موٹے کیس لے کر وہ اپنی ”مارکیٹ ساکھ“ خراب نہیں کر سکتا۔ ان اختلافات کے ساتھ ہی ”جٹ“ اور نعیم الگ ہو گئے اور جٹ نے اعلان کر دیا کہ اب اس کا گینگ کسی معاملے میں نیمے کو سپورٹ نہیں کرے گا۔

گینگ میں پھوٹ پڑی تو نعیم شوٹر اپنے گینگ سے الگ ہو گیا۔ اس نے ”کنجر محلہ“ کو بھی خیرباد کہا اور نہر کنارے ایک فارم ہاﺅس میں منتقل ہو گیا۔ اس کے اس فارم ہاﺅس کا علم چند ہی لوگوں کو تھا۔ ضروری ملاقاتیں وہ ڈیفنس والی کوٹھی میں کرتا تھا جہاں اس نے باقاعدہ ”دفتر“ بنا رکھا تھا۔ اس کے کام کا انداز ایسا تھا کہ وہ اپنی حفاظت اور ”سیکریسی“ کے حوالے سے بہت محتاط رہتا تھا۔ ایک روز اسے ایک پارٹی ملی۔ یہ شہر کا ایک معروف بزنس مین تھا جو اپنے پارٹنر کو قتل کروانا چاہتا تھا۔ یہ قتل ایک خاص بزنس میٹنگ سے چند لمحے قبل ہونا تھا۔ شکار کی موقع پر موجودگی اور دیگر تفصیلات بھی نعیم شوٹر کو پہنچا دی گئیں۔ اس نے بھاری ایڈوانس لے کر قتل کی حامی بھر لی۔ مقررہ روز اس نے پہلے سے اس دفتر کے سامنے والے پلازے میں ایک دفتر کرایہ پر لے رکھا تھا۔ اسی دفتر کی کھڑکی سے اس نے اپنے شکار کو اس وقت قتل کرنا تھا جب وہ دفتر آنے کے لئے اپنی گاڑی سے اُترتا۔ بارونق علاقے میں اندھی گولی کے مقام کا سراغ لگانا اتنا آسان نہیں ہوتا۔ نعیم شوٹر نے مقررہ وقت پر اپنے عارضی دفتر کی کھڑکی کا ایک پٹ کھولا اور اپنے شکار کا انتظار کرنے لگا۔ اس سے پہلے کہ اس کا ”شکار“ وہاں پہنچتا ایک اندھی گولی اس کے سر میں گھس گئی۔ نعیم شوٹر موقع پر ہی دم توڑ گیا۔ وہ چونکہ پہلے ہی متعدد مقدمات میں مطلوب تھا اس لئے علاقہ کے تھانیدار نے اسے اپنے ساتھ پولیس مقابلے کے دوران ہلاک ظاہر کر کے تعریفی سرٹیفکیٹ وصول کر لیا۔

نیمے شوٹر سے میری پہلی ملاقات کنجر محلہ میں ہوئی اور آخری ملاقات تھانے کے فرش پر اس کی لاش سے ہوئی تھی۔ مجھے معلوم تھا کہ علاقہ کا تھانیدار اتنی جرا ¿ت کا مالک نہیں کہ نعیم شوٹر کو ہلاک کر سکے۔ اسی طرح نعیم بھی اپنی موجودگی خفیہ رکھتا تھا لہٰذا میرے ذہن میں سوال اٹھ رہا تھا کہ وہ واقعی اندھی گولی کا شکار ہوا یا اسے قتل کیا گیا ہے۔ یہ کہانی کچھ عرصہ بعد معلوم ہو سکی۔ ہوا کچھ یوں کہ ایک ڈیرے پر ”جٹ“ سے اتفاقاً ملاقات ہو گئی۔ وہیں نعیم شوٹر کا ذکر چھڑا تو ”جٹ“ مسکراتے ہوئے کہنے لگا ”شاہ! جو آسمان پر چڑھاتے ہیں وہ سیڑھی کھینچ بھی سکتے ہیں۔“ جٹ کا یہ معنی خیز جملہ بہت کچھ بتا رہا تھا اس لئے میں نے اس سے تفصیل پوچھی تو معلوم ہوا کہ نعیم شوٹر کو ملنے والی آخری ”سپاری“ پہلے سے طے شدہ تھی۔ اس بزنس مین نے جٹ سے اپنی جان بچانے کے لئے نعیم شوٹر کو اپنے پارٹنر کی سپاری دی تھی۔ میٹنگ سے کچھ پہلے قتل کی شرط بھی نعیم کو گھیرنے کے لئے رکھی گئی تھی۔ اس جگہ پر اگر کسی کو خفیہ قتل کیا جاتا تو وہ صرف سامنے والے پلازے سے ہی ممکن تھا۔ جٹ نے ایک ماہ قبل ہی یہ انتظام کر لیا تھا کہ سامنے والے پلازے میں صرف ایک طے شدہ دفتر ہی کرایر پر خالی مل سکے۔باقی خالی دفاتر بھی جٹ کے لوگ ایک ماہ قبل کرایہ پر لے چکے تھے ، اس طرح نعیم اپنی تمام تر ذہانت کے باوجود اس پنجرے میں پھنس گیا۔ اسے سپاری دینے والا بزنس مین بھی معروف تاجر تھا اور نعیم نے اسے یہ بھی نہیں بتایا کہ وہ کہاں سے شکار کو قتل کرے گا۔ نعیم کا استاد ہونے کی وجہ سے اس کے ذہن اور کام کے طریقے کا جٹ کو بخوبی علم تھا اس لئے اس نے اپنا منصوبہ ترتیب دیا جو کامیاب رہا۔ نعیم کے شوٹنگ پوائنٹ کے بالکل سامنے ایک دفتر میں جٹ کا شاگرد طیفا شوٹر بیٹھا تھا جس کی گولی نعیم کی کھوپڑی میں سے گزری تھی۔ جس طرح ہم نے ارشد کے مکان کا قبضہ ختم کروانے کے لئے مجرم کو مجرم سے لڑانے کا فیصلہ کیا تھا اسی طرح ”جٹ“ نے بھی شوٹر کو شوٹر سے ختم کروانے کا منصوبہ بنایا جو کامیاب رہا۔ نعیم کے بعد جٹ کا ہی دوسرا شوٹر شہر میں قتل کی سپاری لینے لگا تھا۔

ہیکرز

مجیب اور میرا بظاہر کوئی تعلق نہیں تھا۔ ہماری ملازمت، تعلیم، رہائش اور دلچسپیاں غرض سبھی ایک دوسرے سے مختلف تھیں۔ وہ سافٹ ویئر انجینئر تھا جبکہ میں صحافت کے شعبہ سے منسلک تھا۔ ہمیں تقدیر کا چکر ایک دوسرے کے سامنے لے آیا تھا۔ ہوا کچھ یوں کہ میں جس اخبار میں ملازم تھا اس کے مالک نے دفتر تبدیل کر لیا تھا۔ ہم پہلے ایک خستہ حال عمارت کی چوتھی منزل پر دو کمروں کے دفتر میں کام کرتے تھے۔ پاکستان کے اکثر چھوٹے اخبارات ایک یادو کمروں کے دفاتر سے ہی جاری ہوتے ہیں۔ کئی کئی منزلہ عمارت اور متعدد دفاتر کی ” عیاشی“ بڑے میڈیا گروپس ہی کر رہے ہیں۔ بہر حال اخبار کے مالک نے ایک روز دفتر تبدیل کرنے کی ” خوش خبری“ سنا دی۔ موٹے سیٹھ کے پاس کہیں سے کافی بھاری رقم آ گئی تھی۔ بظاہر اس نے یہی بتایا تھا کہ اس کا پرائز بانڈ نکلا ہے۔یہ الگ بات تھی کہ سیٹھ نے دفتر تبدیل کرنے میں تو دلچسپی کا اظہار کیا لیکن ہماری دو ماہ کی تنخواہ کی ادائیگی کے حوالے سے اس کے پاس حالیہ نقصانات اور کاروبار میں مندے کی لمبی چوڑی فہرست کے سوا کچھ نہ نکلتا تھا ۔ وہ ہمیں کچھ اس طرح اپنے نقصانات کا بتاتا تھا کہ کبھی کبھی تو ڈر لگنے لگتا کہیں تنخواہ دینے کی بجائے ادھار ہی نہ مانگ لے۔ بہر حال نئی عمارت اور اچھے دفتر میں منتقل ہونے پر سب ہی کافی خوش تھے۔ یہاں کم از کم ہم اپنے ” سورس“ اور دوستوں کو بلاتے ہوئے شرمندگی تو محسوس نہ کرتے۔ ہمارا نیا دفتر ایک نئے تعمیر ہونے والے پلازے کی دوسری منزل پر تھا۔

اخبار کے نئے دفتر کے ساتھ ہی ایک درمیانے درجے کی سافٹ ویئر کمپنی کا دفتر تھا۔ مجیب اس کمپنی میں ملازم تھا۔ اکثر آتے جاتے میرا اس سے سامنا ہوتا تو ہم ایک لمحے کے لئے ایک دوسرے کا حال چال پوچھ لیتے ۔ یہیں سے ہمارے درمیان اجنبیت کے پردے ختم ہوئے اور آہستہ آہستہ دوستی کا رشتہ قائم ہوتا چلا گیا۔ ہم پلازے کے نیچے چائے کی دکان پر اکٹھے ہوئے اور پھر دنیا جہاں کے موضوعات پر گفتگو کرتے۔ وہ صحافت کے شعبہ سے بہت متاثر تھا۔ اس کا خیال تھا کہ صحافیوں کے تعلقات کا دائرہ کار بہت وسیع ہوتا ہے۔ جسے چاہیں ڈرا دھمکا سکتے ہیں اور ان کی ایک کال پر بڑے بڑے افسر فوراً کام کر دیتے ہیں۔ مجھے اس سے اختلاف تھا۔ اسی طرح میرا خیال تھا کہ سافٹ ویئر انجینئرز کی زندگی مزے میں ہے ۔ وہ بھاری تنخواہیں لیتے ہیں ۔انہیںنہ فیلڈ ورک کا جھنجھٹ اورنہ تنخواہ میں تاخیر کے مسائل، بس مزے سے دفتر میں بیٹھے کام کرتے رہے اور پھر گاڑی میں بیٹھ کر گھر چلے گئے۔ ہم دونوں ہی ایک دوسرے کا موقف تبدیل کروانے میں ناکام رہے۔ اس کے باوجود ہماری گہری دوستی تھی اور ہم ایک دوسرے کے راز دان بنتے چلے گئے۔

ایک روز مجھے ہیکرز پر ایک فیچر لکھنا تھا۔ میں نے مجیب سے اس بارے میں معلومات حاصل کرنے کا فیصلہ کیا۔ میرا خیال تھا کہ سافٹ ویئر انجنیئر ہونے کے ناطے اس کی اس موضوع پر گرفت ہو گی اور مجھے اس سے آﺅٹ آف ریکارڈ بھی بہت سی معلومات مل سکے گی۔جب میں نے مجیب سے اس سلسلے میں بات کی تو اس نے یہ بتا کر مجھے حیران کر دیا کہ وہ خود بھی ہیکر کے طور پر کام کرتا ہے۔ مجھے اسی سے معلوم ہوا کہ پاکستان میں بھی ہیکرز کا ایک وسیع نیٹ ورک موجود ہے۔ یہ مختلف ویب سائٹس ،ای میلز اور دیگر ڈیٹا چوری کرتے ہیں اور متعلقہ افراد کو بیچ دیتے ہیں۔ اسی طرح ہیکرز کا منظم گروہ مل کر بھی اہم ویب سائٹس پر حملے کرتا ہے۔ تعلیمی اداروں کے کمپیوٹرز تک رسائی حاصل کی جاتی ہے اور پیپرز آﺅٹ کر دیئے جاتے ہیں۔ مجیب کے بقول ہیکرز بھی مختلف درجوں کے ہیں۔ کچھ ہیکرز حب الوطنی کے نام پر پاکستان مخالف ممالک کی سرکاری ویب سائٹس پر حملے کرتے ہیں اور وہاں پاکستانی جھنڈا گاڑ آتے ہیں۔ رد عمل میں ان ممالک کے ہیکرز بھی پاکستانی اداروں کی ویب سائٹس پر قبضہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اسی طرح کچھ ہیکرز صرف شوق شوق میں اس جانب آتے ہیں۔ ان میں یونی ورسٹیز کے طالب علموں کی تعداد زیادہ ہے۔ یہ اپنے دوستوں کے ای میلز تک رسائی حاصل کرنے میں مگن رہتے ہیں ۔

 ہیکرز کا سب سے خطر ناک گروہ ان پروفیشنل ہیکرز پر مشتمل ہے جو دولت کمانے کے لئے یہ کام کر رہے ہیں۔ مجیب کا شمار انہی لوگوں میں ہوتا تھا ۔وہ خفیہ طور پر لوگوں کو اپنی خدمات فراہم کرتا تھا اور رقم منگوا لیتا۔ اس طریقہ واردات میں نہ وہ اپنے کلائنٹ کو ملتا اور نہ ہی کلائنٹ اسے ملتا تھا۔ یہ سارا نظام انٹر نیٹ کی مدد سے چل رہا تھا۔ مجیب کے گروپ میں بھی دنیا بھر سے ہیکرز شامل تھے۔ یہ لوگ ایک دوسرے کو بھی فرضی ناموں سے ہی جانتے تھے ۔اس کے مطابق ہیکرز کے لئے پاکستان کسی جنت سے کم نہیں کیونکہ دیگر ممالک میں ہیکرز جلد پکڑا جاتا ہے لیکن پاکستان میں ہیکرز کسی بھی انٹر نیٹ کیفے میں بیٹھ کر اپنا کام کر لیتے ہیں اور ان کی شناخت بھی چھپی رہتی ہے۔ اپنے کلائنٹ سے ” فیس“ منگوانے کا بھی ان کا خاص طریقہ کار تھا جس بارے میں اس نے مجھے کچھ بھی بتانے سے معذرت کر لی البتہ اس نے یہ ” آفر“ ضرور کر دی کہ اگر میں کسی اکاﺅنٹ کی معلومات حاصل کرنا چاہوں تو میرے لئے اس کی خدمت مفت ہوں گی۔

میں نے مجیب سے حاصل کی گئی معلومات کی بنیاد پر فیچر مکمل کر لیا لیکن اس کا دوسرا فائدہ یہ ہوا کہ وہ کھل کر سامنے آ گیا۔ اب وہ مجھ سے اپنے نئے ” پراجیکٹس“ پر گفتگو کرنے لگا۔ بعض اوقات یہ باتیں انتہائی دلچسپی کی حامل ہوتی تھیں۔ ایک دن اس نے بتایا کہ اسے آن لائن ایک ایسی پیش کش ہوئی ہے جس میںخطرہ بھی نہیں ہے اور معاوضہ بھی زیادہ مل رہا ہے۔وہ ان دنوں ہیکرز کے ایسے آن لائن گروپ کا حصہ تھا جہاں متعدد ہیکرز فرضی ناموں سے موجود تھے اور لوگ ان سے رابطہ کر کے کمپیوٹرز سافٹ ویئرز کے مسائل کا حل پوچھتے تھے۔ بظاہر اس گروپ کا یہی کام تھا کہ لوگوں کو کمپیوٹر کے مسائل حل کرنے میں مدد فراہم کی جائے لیکن اندرون خانہ یہ ہیکرز کا ”بکنگ آفس“ تھا۔ اسی گروپ میں ایک شخص نے مجیب سے رابطہ کیا۔ یہ شخص در اصل ایک خاتون تھی جو فرضی نام سے اس گروپ میں آئی تھی۔ اس کا تعلق اسی شہر سے تھا۔ ابتدائی معلومات کے مطابق تیس سالہ خاتون ایک ملٹی نیشنل کمپنی میں اہم عہدے پر فائز تھی اور شہر کے پوش علاقے میں رہتی تھی۔ اس نے مجیب سے اپنے شوہر کے ای میل اکاﺅنٹ تک رسائی حاصل کرنے میں مدد مانگی اور اس خدمت کے عوض ایک لاکھ روپے دینے کا وعدہ کیا۔ اس کا شوہر بھی اسی کمپنی میں ایک درمیانے درجے کے عہدے پر فائز تھا ۔خاتون کو اپنے شوہر پر شک تھا کہ وہ دفتر کی ایک لڑکی میں دلچسپی رکھتا ہے اور معاملہ کافی آگے پہنچ چکا ہے۔

مجیب نے اس خاتون سے ڈیڑھ لاکھ میں معاملہ طے کر لیا۔ خاتون نے روایتی انداز میں کہا کہ اسے اپنے شوہر پر بھروسہ ہے اور وہ محض اپنی تسلی کے لئے اس کا اکاﺅنٹ چیک کرنا چاہتی ہے اس نے یہ شرط بھی رکھی کہ مجیب وہ اکاﺅنٹ خود نہیں دیکھے گا بلکہ ڈی کوڈ کر کے اس کا پاسورڈ تبدیل کر دے گا اور تبدیل شدہ پاسورڈ خاتون کو بتا دے گا۔ یہ محض طفل تسلی تھی۔ مجیب اسے ڈاج دے سکتا تھا۔ اس نے مجیب کو پچاس ہزار روپے ایڈونس بھی بھیج دیے۔ عموماً ایسا نہیں ہوتا مجیب رقم لے کر غائب ہو سکتا تھا۔ یہ بھی ممکن تھا اس نے خاتون کو ڈاج دیا ہو اور وہ اس پائے کا ہیکر ہی نہ ہو۔ بہر حال خاتون یا تو انتہائی مالدار تھی یا پھر اس نے اجنبی کو رقم دے کر جوا کھیل لیا تھا۔ اس کی خوش قسمتی تھی کہ مجیب اس پایہ کا ہیکر تھا جو اس کا کام کر سکتا تھا۔

مجیب نے ایک ہفتے میں یہ ” پراجیکٹ“ مکمل کر لیا اور خاتون کو اس کے شوہر کے اکاﺅنٹ کی پہلی ای میل بھیج دی۔ یہ اس بات کا ثبوت تھا کہ مجیب اپنے مشن میں کامیاب ہو چکا ہے۔ خاتون نے باقی رقم بھیجی تو مجیب نے اسے نیا پاسورڈ بتا دیا۔ اس کے ساتھ ہی ان دونوں کا رابطہ ختم ہو گیا۔ مجیب نے ہمیشہ کی طرح پراجیکٹ مکمل ہونے کے بعد وہ ای میل اکاﺅنٹ چھوڑ دیا اور نئے نام سے نیا اکاﺅنٹ بنا لیا۔ ایک ہفتے میں ڈیڑھ لاکھ روپے حاصل کر لینے پر وہ بہت زیادہ خوش تھا۔ اس کا کہنا تھا کہ اگر وہ یہی کام شروع کر دے تو چند ماہ میں کروڑ پتی بن سکتا ہے کیونکہ پاکستان میں ہر دوسری خاتون کو اپنے شوہر پر شک رہتا ہے۔ بہر حال ایک آدھ ہفتے میں یہ واقعہ بھی پہلی کہانیوں کی طرح ماضی کا حصہ بن گیا۔

اس واقعہ کے ایک ماہ بعد ایک روز میں دفتر آیا تو ہمارے پلازے کے باہر پولیس اہلکار کھڑے تھے۔ ان سے ہی معلوم ہوا کہ گزشتہ رات کسی نے مجیب کو تشدد کے بعد ہلاک کر دیا تھا۔ مجیب کی لاش اسی کے فلیٹ سے ملی تھی۔ اس کے دروازے کے پاس خون کے دھبے نظر آنے پر ہمسائے نے پولیس کو فون کیا اور جب پولیس نے دروازہ توڑا تو اندر مجیب کی لاش پڑی تھی۔ پولیس اس کے دفتر اسی قتل کی تفتیش کرنے آئی تھی۔ اس پولیس ٹیم کے ساتھ آنے والا سب انسپکٹر میرا واقف تھا۔ میں نے اسے ایک طرف لیجا کر بتا دیا کہ مقتول پروفیشل ہیکر بھی تھا۔ لہٰذا اس جانب بھی غور کرنا کہ کہیں اس قتل کا تعلق اس کے اس کام سے نہ جڑا ہو۔ سب انسپکٹر کے دریافت کرنے پر میں نے اسے مجیب کے حالیہ چند ” پراجکیٹس“ سے بھی آگاہ کر دیا۔ مجھے اندازہ تھا کہ میری معلومات ناقص ہیں۔

ہیکنگ کی اس دنیا میں شناخت سے لے کر رابطے تک سبھی کچھ پردوں میں چھپا ہوتا ہے۔ اتفاق سے اس خاتون کی ملٹی نیشنل کمپنی کا نام یاد رہ گیا تھا جس نے اپنے شوہر کا اکاﺅنٹ ہیک کروایا تھا۔ یہ محض ایک کلیو ہی تھا کیونکہ ممکن تھا اس نے کمپنی کا نام بھی غلط بتایا ہو۔ بہر حال سب انسپکٹر اعلیٰ تعلیم یافتہ تھا اور اسے بھرتی ہوئے زیادہ عرصہ نہیں ہوا تھا۔ اس لئے اس پر روایتی پولیس کا رنگ غالب نہیں آیا تھا۔ وہ اس کیس میں کامیابی کے لئے کافی محنت بھی کر رہا تھا۔ اس نے اس ملٹی نیشنل کمپنی میں اعلیٰ عہدوں پر فائز ایسی خواتین کا پتہ کروایا جن کے شوہر بھی اسی کمپنی میں ملازم ہوں۔ یہ انتہائی مختصر سی فہرست تھی۔ اس فہرست میں ایک 40سالہ ایسی خاتون کا نام بھی شامل تھا جنہوں نے حال ہی میں اپنے شوہر پر خلع کا کیس کیا تھا۔ سب انسپکٹر نے کڑیاں ملانی شروع کر دیں۔ خاتون سے تفتیش کی گئی تو اس نے اعتراف کر لیا کہ اس نے ایک ہیکر کی مدد سے اپنے شوہر کے اکاﺅنٹ کو کھنگالا تھا۔ وہ اسی بنیاد پر خلع لے رہی تھی کیونکہ ای میل اکاﺅنٹ سے ایسے ٹھوس شواہد ملے تھے جو ان کے شوہر کے خلاف جاتے تھے ۔ خاتون کو کسی قتل کا علم نہیں تھا ان کا کہنا تھا اپنا کام کروانے کے بعد اس نا معلوم ہیکر سے ان کا دوبارہ رابطہ نہیں ہوا۔ میری معلوما ت بھی یہی تھیں کہ مجیب نے اس خاتون سے دوبارہ رابطہ نہیں کیا تھا۔

سب انسپکٹر کا کہنا تھا کہ مجیب نے اس خاتون کا کام ضرور کیا ہے لیکن یہ اس کے قتل کا سراغ لگانے میں معاون ثابت نہیں ہوا۔ اسی اندھے قتل کے سلسلے میں ایک روز سب انسپکٹر اور میرے درمیان گفتگو ہو رہی تھی۔ دوست ہونے کی وجہ سے وہ مجھے صورت حال سے آگاہ رکھتا تھا اور میری بھی خواہش تھی کہ مجیب کے قاتل جلد از جلد پکڑے جائیں۔ اس روز اسی کیس پر گفتگو کرتے کرتے ایک نکتہ نے ہمیں چونکنے پر مجبور کر دیا ریکارڈ کے مطابق خاتون کا شوہر آئی ٹی کے شعبے میں ملازم تھا۔ ایک خیال بجلی کی طرح ذہن میں کوندا اور میں نے سب انسپکٹر کی توجہ اس جانب دلائی تو وہ بھی چونک اٹھا ۔اگلے روز معلوم ہوا کہ اس نے خاتون کے شوہر کو باقاعدہ اس کیس میں گرفتار کر لیا ہے۔ تفتیش کچھ آگے چلی تو اس شخص نے قتل کا اعتراف بھی کر لیا۔

بظاہر قتل کا کیس اب حل ہو چکا تھا لیکن میرے ذہن میں کچھ باتیں کھٹک رہی تھیں۔ میں جیل میں اس قاتل کا انٹرویو کرنے چلا گیا۔ سب انسپکٹر اس کیس کو حل کرنے کا کریڈیٹ مجھے دیتا تھا۔ دوسرا اس کے ساتھ پرانی دوستی بھی تھی لہٰذا اس نے ملزم سے ملاقات کا اہتمام کر دیا۔ میں نے ملزم سے سوالات کیے کہ آخر اسے مجیب کا علم کیسے ہوا؟ مجیب انتہائی محتاط ہیکر تھا۔ سب انسپکٹر سے گفتگو کے دوران یہی خیال ذہن میں آیا تھا کہ خاتون کا شوہر آئی ٹی ڈیپارٹمنٹ میں کام کرتا ہے۔ اس لئے ممکن ہے اسے علم ہو چکا ہو کہ اس کے اور خاتون کے درمیان جھگڑے کی اصل وجہ کون بنا ہے ، یہ محض ایک شک تھا جو بعد میں درست ثابت ہو گیا۔

ملزم نے انکشاف کیا کہ وہ خود بھی پروفیشنل ہیکر ہے۔ اس بات کا علم اس کی بیوی کو بھی نہیں تھا۔ وہ خاتون ویسے بھی شوہر سے بر تر عہدے پر فائز ہونے اور صاحب ثروت خاندان سے تعلق رکھنے کی وجہ سے اپنے شوہر کو زیادہ اہمیت نہیں دیتی تھی۔ بیوی کے اسی رویہ نے اس شخص کو اس سے بے وفائی پر مجبور کیا تھا۔ ملزم کے مطابق جب مجیب نے اس کے ای میل اکاﺅنٹ میں گڑ بڑ شروع کی تو اسے فوراً اس کا علم ہو گیا تھا۔ ہیکر ہونے کی وجہ سے وہ اس حرکت پر اشتعال میں آ گیا اور اس نے بھی جواباً گڑ بڑ کرنے والے کی تلاش شروع کر دی۔ اسے اپنے اکاﺅنٹ پر ناز تھا کہ اس کا پاسورڈ کوئی نہیں توڑ سکتا۔ اس لئے اس کی تمام تر توجہ گڑ بڑ کرنے والے کو ڈھونڈنے پر تھی۔ اسی دوران مجیب نے اس کا پاسورڈ توڑ دیا اور اس کی بیگم کے حوالے کر دیا۔ ملزم کو معاملے کی سنگینی کا علم تب ہوا جب اسے معلوم ہوا کہ اکاﺅنٹ تک رسائی اس کی بیگم کو دی گئی ہے۔ تب تک صورت حال اس کے ہاتھ سے نکل چکی تھی۔ اس کے اکاﺅنٹ میں کمپنی میں کی گئی غبن سے لے کر اس کے معاشقوں تک کی تفصیلات موجود تھیں۔بیوی اور اس کی دولت کے ساتھ ساتھ اسے نوکری بھی ہاتھ سے جاتی نظر آئی۔ اس صورتحال میں اسے مجیب اپنا سب سے بڑا دشمن لگنے لگا۔ دوسری جانب چونکہ یہ محض میاں بیوی کے اکاﺅنٹ کا ” پراجیکٹ“ تھا اس لئے مجیب نے بھی بہت زیادہ احتیاط نہ کی تھی۔

وہ یہ کارروائی اپنے لیب ٹاپ اور انٹر نیٹ کنکشن کی مدد سے کرتا رہا تھا۔ ملزم نے اس کا آئی پی ایڈیس ٹریس کر لیا۔ مجیب نے ای میل اکاﺅنٹ تبدیل کر لیا تھا لیکن انٹر نیٹ کنکشن اور فلیٹ کا پتہ وہی تھا۔ ملزم نے کمپنی کے ایک اور آئی ٹی ایکسپرٹ دوست کو ساتھ ملایا ہوا تھا ۔وہ دونوں مجیب کے فلیٹ تک پہنچ گئے۔ وہاں اسے قابو کرنے کے بعد انہوں نے اس پر تشدد کیا اور پھر کچن میں پڑی چھری گلے پر پھیر کر اسے موت کے گھاٹ اتار دیا۔ ملزم نے اپنے بیان میں جس ساتھی کا ذکر کیا اسے بھی پولیس نے گرفتار کر لیا تھا لیکن اس نے اس سارے واقعہ سے ہی لا علمی کا اظہار کر دیا۔ اس کا کہنا تھا کہ ملزم کسی پرانے جھگڑے کی وجہ سے اسے بھی اپنے ساتھ پھنسانے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس کی بد قسمتی سمجھیے کہ مجیب کے دروازے کے پاس خون کے دھبے کے ساتھ ساتھ دروازے پر لگے خون کے نشان سے جو فنگر پرنٹ اٹھائے گئے وہ اسی کے ہاتھ کے تھے۔ پولیس نے دونوں ہیکرز کو قتل کے الزام میں گرفتار کر کے چالان عدالت میں بھیج دیا۔ ہیکرز کمپیوٹرز کی مدد سے جنگ لڑتے ہیں۔ یہ وائٹ کالر جرم کہلاتا ہے لیکن اس کہانی کے ہیکرز کمپیوٹر سے باہر آ کر درندے بن گئے تھے۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

ننھا ہزارے۔۔۔ نوشاد عادل

                                                            ننھا ہزارے نوشاد عادل  ”تاتے لے او تم…. پادل ہودئے او تا؟“(کیا کہہ رہے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے