سر ورق / ناول / عورت زاد امجد جاوید قسط نمبر 8

عورت زاد امجد جاوید قسط نمبر 8

عورت زاد

امجد جاوید

قسط نمبر 8

نویرا الجھی ہوئی سوچوں کے ساتھ اپنے آفس میںتھی ۔سجے سنورے ہوئے آفس میں وہ کسی بت کی مانند لگ رہی تھی ۔ سیاہ بزنس سوٹ ، جس میں سے سفید شرٹ جھلک رہی تھی۔ بال سمیٹ کر پونی سٹائیل میں باندھے ہوئے تھے۔ چوڑا ماتھا، تیکھا ناک ، پتلے لب، سرخ ابھرے ہوئے گال، بھنورا آنکھیں کاجل سے بے نیاز، لمبی گردن، سمارٹ سی، جس میں نسوانی حسن کے ساتھ جوانی پھوٹتی ہوئی دکھائی دے رہی تھی۔ اس کی پشت پر بڑی ساری میز پہ لیپ ٹاپ کھلا ہوا پڑا تھا اور وہ کرسی گھما کر شیشے کے پار منظر کو دیکھ رہی تھی۔ نویں منزل پر موجود آفس سے ساحل سمندر صاف دکھائی دے رہا تھا۔ شہر کے معروف کاروباری علاقے میں موجود یہ عمارت ، بزنس اور اس کے ساتھ ایک شاہانہ زندگی، اُسے ورثہ میںملی تھی ۔ اس کی نگاہ میں سامنے کا منظر توتھا لیکن وہ اسے دیکھ نہیںرہی تھی بلکہ اپنی سوچوں کے ساتھ الجھ رہی تھی ۔ اس کی سوچوں میںآصف تھا۔ وہی آصف جو چند دن پہلے اس کے آفس میں نوکری کے لئے انٹرویو دینے آ یا تھا۔ نویرا نے اپنے پاپا کی وفات سے لے کر اس وقت تک کے تین بر سوں میں اپنے جیون ساتھی کے بارے میں جو بھی سوچا تھا، آصف اس پر پورا اترتا تھا ۔ وہ پہلی نگاہ ہی میں اُس کے دل کو بھا گیا تھا۔وہ وجہیہ ، دراز قد ، اور ہینڈ سم تھا۔ اُسے لگا جیسے قسمت خود آصف کو اس کے پاس لے آئی تھی۔ جب وہ اس کے سامنے تھا،اس نے اپنے معیار کے مطابق اسے پرکھا تو اسے لگا ، جیسے اس کی تلاش ختم ہو گئی ہے ۔ ابھی کچھ دیر پہلے نویرا نے دیگر لوگوں کے ساتھ اُسے بھی جاب کے لئے بلالیا ہوا تھا۔وہ اپنے آپ کو اس کا سامنا کرنے کے لئے تیار کر رہی تھی۔ اس نے ایک طویل سانس لی ۔ کرسی سمیت گھوم کر میز پر دھرے لیپ ٹاپ کے سامنے ہوئی ۔پھر انٹر کام پر آصف کو اندر بھیجنے کو کہا ۔ چند لمحوں بعد ہی آصف اندر آ کر اس کے سامنے کھڑا ہو گیا۔

” پلیز، تشریف رکھیں۔“ نویرا نے دھیمے لہجے میں کہا تو وہ سامنے والی کرسی پر بیٹھتے ہوئے بولا

 ” شکریہ میڈم ۔“

 نویرا نے اس کا جائزہ لیا۔ اس نے تنگ سا سیاہ سوٹ پہنا ہوا تھا اور ٹائی بھی یوں تھی جیسے بہت زیادہ استعمال کی گئی ہو ۔ وہ ساکت اور مودب انداز میں اس کے سامنے بیٹھا ہوا تھا۔

” تو مسٹر آصف۔! آپ کو اب تک جاب اس لئے نہیں ملی کہ آپ کے پاس تجربہ نہیں ہے ؟“ اس نے آصف کا پورا جائزہ لینے کے بعد اس کے چہرے پر دیکھتے ہوئے پوچھا

” جی میڈم، لیکن ،کام کی شروعات کہیں سے تو ہو گی۔میں آپ کو یقین دلاتا ہوں،میری پرفارمنس بہت اچھی رہے گی اور آپ میرے کام سے بہت مطمئن ہوں گے۔“ اس نے اعتماد بھرے لہجے میںکہا

”آپ کہہ رہے تو ہم یقین کر لیتے ہیں ۔ ‘ ‘ نویرا نے مسکراتے ہوئے کہا

 ” میڈم ۔! میرے پاس فنانس کی ڈگری تو ہے ، لیکن میرا ایجوکیشن کیرئر بہت اچھا رہا ہے ۔ بس یہ قسمت ہے کہ ابھی تک مجھے جاب نہیں مل سکی۔“ اس نے کہا۔ وہ کچھ دیر تک مختلف حوالوں سے اس کے ساتھ باتیں کرتی رہی ۔چند سوالوں ہی میں آصف نے اپنے بارے میں بتا دیا کہ وہ ایک غریب اور ضرورت مند ہے ۔اسی وجہ سے اسے جاب چاہئے۔

” ٹھیک ہے آصف صاحب ، آپ کو جاب دی جاتی ہے۔ آپ جس قدر اپنی پرفارمنس دیں گے ۔ آپکی پرموشن بھی ویسے ہی ہوگی ۔“ اس نے کہا اور منیجر کو بلا لیا۔ وہ اس کا شکریہ ادا کر کے منیجر انصاری کے ساتھ اپنی سیٹ پر چلا گیا تھا۔ جبکہ وہ اسی کے بارے میں سوچتی چلی جا رہی تھی ۔ اس کے ذہن میں یہی سوال تھا، کیا آصف کو وہ اپنا شوہر بنا پائے گی؟

٭….٭….٭

اس وقت وہ اپنی بیڈ روم میں تھی ۔ سامنے ٹی وی کی اسکرین روشن تھی ۔وہ اسے دیکھ بھی رہی تھی لیکن اس کا ذہن آصف ہی کے بارے الجھا ہوا تھا۔ وہ کوئی فیصلہ نہیںکر پا رہی تھی۔اسے لگا یہ اس کی زندگی کا سب سے کھٹن وقت ہے، جب وہ اپنے بارے میں کوئی فیصلہ کر نا چاہتی تھی۔

نویرا نے بچپن سے لے کر اب تک شاہانہ زندگی گذاری تھی ۔وہ اپنے والدین کی شادی کے بہت عرصے بعد پیدا ہوئی تھی۔ وہ اکلوتی رہی اور اسی وجہ سے وہ اپنے والدین تمام تر محبتوں کا محور تھی ۔ یہ اسے بہت بعد میںپتہ چلا تھا کہ اس کی ماما ایک بیماری میںمبتلا تھی ۔ ابھی لڑکپن ہی میںتھی ، جب اس کی ماما نہ رہی ۔ یہ اس کی زندگی کا پہلا شاک تھا۔وہ بہت عرصے تک سنبھل ہی نہ پائی تھی۔ اتنے بڑے گھر میں وہ ہوتی اور اس کی تنہائی ۔ پاپا اپنا بزنس سنبھالنے میں مصروف رہتے۔ جو وقت بھی ملتا وہ اپنی بیٹی کے ساتھ ضرور گذارنے کی کوشش کرتے ۔ نویرا اپنی گورنس کے ساتھ ہی وقت گذارتی جوان ہو گئی تھی ۔جو اس سے بہت محبت کرتی تھی۔

 نویرااپنی تعلیم مکمل کرکے اپنے پاپا کے ساتھ آفس جانے لگی ۔ اس میں نویرا کی اپنی خواہش تھی کہ وہ بزنس سیکھے اور اپنے پاپا کے بہت قریب رہے ۔ اسی طرح اس کے پاپا کی بھی خواہش تھی کہ اتنابڑا بزنس کون دیکھے گا ۔ اسے کاروبار کے بارے میں سب سمجھنا چاہئے ۔ یوں نویراکا وقت بہت اچھا گذرنے لگا تھا۔ انہی دنوںاس کے رشتے بھی آ نے لگے ۔ لیکن پاپا اپنی اکلوتی بیٹی کے لئے بہت دیکھ بھال کر رشتہ طے کرنا چاہتے تھے ۔ خود اسے بھی اتنی جلدی نہیںتھی ۔ ابھی وہ زندگی کو بہت سارا انجوائے کرنا چاہتی تھی ۔ دو رشتے انہیںپسند بھی آئے تھے ۔ لیکن کوئی بھی بات طے کرنے سے پہلے وہ اپنے بھائی کو ناراض نہیںکرنا چاہتے تھے جو آبائی گاﺅں میں رہتاتھا۔آبائی گاﺅں میں ایک ہی چچا اور اس کی فیملی رہتی تھی ۔ جہاں وراثتی زمینیں کم ہوتے ہوتے بہت کم رہ گئیں تھیں ۔ اس کی ایک چچازاد تھی ،جس کی شادی ہو چکی تھی اور ایک بیٹا نعمان تھا، جو ساری زمینوں کو دیکھتا تھا۔ اس نے تھوڑی بہت تعلیم لی تھی ، پھر اپنے کام کا ہو رہا۔ چاچا نے کئی بار نویرا کا رشتہ اپنے بیٹے نعمان کے لئے مانگا تھا۔ لیکن اس کے پاپا نے ہمیشہ انکار کیا تھا۔ ہر بار یہی کہا تھا کہ نعمان نہ تو پڑھا لکھا ہے کہ میری بیٹی کے معیار کا ہو اور نہ میری بیٹی یہاں گاﺅں میںرہے گی ۔ اس کے ذہن میں نعمان تھا۔ اس نے اپنی اور اس کی شادی کے حوالے سے اسے دیکھا اور پرکھا تھا ۔ وہ گھبرو جوان تھا ، اس میں مردانہ وجاہت بھی تھی۔ نین نقش میں بھی اچھا تھا ، مگر وہ دیہاتی تھا۔ نعمان اسے اپنے معیار سے کوسوں دور دکھائی دیا تھا ۔ وہ کسی صورت میںبھی اس سے شادی نہیںکر سکتی تھی ۔صرف چچا کا بیٹا ہونا کوئی ایسی خوبی نہیں تھی ۔

 ایک دن وہ اپنے پاپا کے ساتھ آبائی گاﺅں گئی ۔ پہلے وہ بچپن میںکہیں گئی تھی۔وہ اپنے پاپا کے ساتھ دودن رہی ۔پاپا نے اپنی ساری زمین چچا کو دے دی۔ وہ اسی مقصد کے لئے وہاں گیا تھا۔اس کے پاپا نے یہی سوچا کہ میں اگر پڑھ لکھ گیا، بزنس میں بھی کامیاب ہو گیا ہوںتو یہ تھوڑی سے زمین اگر بھائی کو دے دوں تو ممکن ہے،رشتہ نہ دینے کی وجہ سے جو اس کے دل میں رنج یا دکھ آ سکتا ہے ، اس کی تلافی ہو جائے۔ یا پھر اگر اس کا بھائی یہ سوچ رہاہے کہ کسی غیر کو رشتہ دینے سے زمین باہر چلی جائے گی تو اس سوچ کو بھی ختم کر دیا جائے ۔ وہ اپنے بھائی کو کھونا نہیں چاہتا تھا۔

دوسرے دن شام کے وقت جب وہ ہائی وے پر واپس آ رہے تھے ، ایک ٹرالر سے بچتے ہوئے ان کی گاڑی ایک درخت میں جا لگی ۔ایک دم سے آنکھوں کے سامنے تیز چمک لہرائی اور پھر اسے ہوش نہ رہا۔ تیسرے دن جب اسے ہوش آیا تو اس کی دنیا ویران ہو چلی تھی ۔ ڈرائیور اور اس کے پاپا ، وہیں موقع پر اس جہان کو چھوڑ گئے تھے اور وہ شدید زخمی ہو گئی تھی۔اس کے بچنے کے امکانات بہت کم تھے۔ دو ہفتے وہ انتہائی نگہداشت وارڈ میںپڑی رہی ۔ اس دوران اس کے کئی آپریشن ہوئے ۔ اس کے سینے سے لیکر دائیں ٹانگ تک ایک لمبا زخم آیا تھا۔ اس میں پیٹ سب سے زیادہ متاثرہوا۔ یہ تو اسے بہت بعد میں پتہ چلا وہ ماں بننے کی صلاحیت سے محروم ہو چکی ہے۔ اسے ٹھیک ہونے میں کچھ عرصہ لگا ۔لیکن جو گھاﺅ اسے لگ گیا تھا، وہ اب پوری زندگی بھرنے والا نہیں تھا۔ ایک عورت سے جب اس کی اصل ہی چھن جائے، جس سے اس کی تکمیل ہوتی ہے، تو پھر باقی کچھ نہیں بچتا۔ کبھی کبھی تو اسے لگتا کہ وہ زندگی کی بازی ہار جاتی تو اچھا تھا۔ لیکن جب یہ سوچ آتی کہ اس کی ماں نہ بن سکنے کا راز فقط اسے یا اس کے ڈاکٹر کو معلوم ہے تو اسے جینے کا آسرا مل جاتا۔ وہ اپنی اس کمی کو راز میں رکھ کر بھی ازدواجی زندگی گذار سکتی تھی ۔ لیکن یہ کمی تو پھر بھی پوری نہیں ہو سکتی تھی۔ اس بارے حوصلہ اس کی گورنس ریٹا نے دیا تھا۔

تقریباًایک برس بعد وہ اس قابل ہوسکی کہ اپنے بزنس کو دیکھ سکے۔ اس دوران اس کا بزنس، ان کا منیجر انصاری اور اس کا گھر گورنس ریٹا دیکھتی رہی۔ ان دونوں ہی کے حوصلے سے وہ دوبارہ بزنس دیکھنے کے قابل ہوسکی۔

وہ زندگی جینا چاہتی تھی۔وہ اپنے دکھ کو سمجھتی تھی ۔ لیکن اپنی اس خامی کو وہ اپنی کمزوری نہیں بنا لینا چاہتی تھی۔ جب وہ آفس آنے لگی تو اس کی سوچ بدل چکی تھی ۔ اسے لگا کہ شاید رَبّ تعالی نے اسی کے وسیلے سے بہت سارے لوگوں کا رزق رکھا ہوا ہے۔اس نے یہی سوچ کر اپنے آپ کو بزنس میںگم کر دیا۔ دن رات کی تمیز اس کے ہاں ختم ہو گئی ۔ ایک برس میں جو اس کا نقصان ہو چکا تھا، اگلے برس کی شروعات تک وہ پورا ہو چکا تھا۔ اس کا بزنس پھیل گیا تھا۔

زندگی کا وہ مرحلہ جو اسے مشکل ترین اور طویل ترین لگا تھا، لمحوں میں اس کی آنکھوں سے گذر گیا۔ اس نے ایک طویل سانس لیا، ٹی وی بند کر دیا اور لیٹ گئی ۔آصف کے بارے میں وہ فیصلہ کر چکی تھی۔

٭….٭….٭

” آصف صاحب ۔! یہ آپ کا پرموشن لیٹر ہے ، اُمیدہے، آپ ہمارے نئے پرا جیکٹ کے ہیڈ ہونے کے ساتھ مزید ترقی کریں گے ۔“ نویرا نے اپنے سامنے بیٹھے ہوئے آصف کی طرف لیٹر بڑ ھا تے ہوئے کہا تو اس کی آنکھیں چمک اٹھیں۔

” تھینک یو میڈم، میں سمجھتا ہوں کہ یہ آپ کی میرے ساتھ فراخ دلی اور اچھا سلوک ہے اور مجھے خوشی ہے کہ آپ میرے کام سے مطمئن ہیں۔“ اس نے ممنونیت سے کہا تو وہ بولی

” آپ نے ان چار مہینوں میں بھر پور محنت کی ، اس کا صلہ تو آپ کو ملنا چاہئے ۔“ یہ کہہ کر وہ لمحہ بھر کو رُکی پھربولی،” کل آپ تیار رہیں، ہمیں ایک بزنس میٹنگ کے لئے اسلام آباد جانا ہے، اس کے لئے آپ سارے معاملات دیکھ لیں۔“

” جی ٹھیک ہے ۔ میں ابھی دیکھ لیتا ہوں۔“ اس نے اٹھتے ہوئے کہا تو وہ سر ہلا کر رہ گئی ۔

نویرا نے ان چار مہینوں میں آصف کے بارے میں اچھی طرح چھان بین کر لی تھی ۔ وہ جمشید کوارٹرز کے علاقے میں ایک چھوٹے سے گھر میں رہتا تھا۔ اس کی ایک ماں اور بہن ہی تھی ، جس کے ساتھ وہ عسرت زدہ زندگی گذار رہاتھا۔اس نے اپنی پڑھائی ٹیوشن پڑھا کر خود پوری کی تھی ۔ باپ کی پینشن اور سلائی کڑھائی سے جو اس کی ماں اور بہن کماتی اس سے گھر کا خرچ چلتا تھا۔ آصف کی نوکری ہو جانے کے بعد انہیں قدرے سکھ کا سانس ملا تھا۔ یہ تصدیق ہو جانے کے بعداس نے آصف کے بارے میںجو سوچا تھا، اس پر عمل کی شروعات کر دی تھیں۔

اگلے دن وہ اسلام آباد جانے کے لئے کراچی ائیر پورٹ کے ڈیپارچر لا ﺅنج میںتھے ، جب نویرا نے آصف کے چہرے پر دیکھتے ہوئے پوچھا

” پہلی بار جہاز سے سفر کرر ہے ہو ؟“

” جی ،جی میڈم، سچ پوچھیں توکچھ عجیب سا لگ رہا ہے۔“ اس نے اعتماد سے مسکراتے ہوئے کہا تو نویرا کو وہ بہت اچھا لگا۔ وہ اس کے بارے میں یونہی بے سروپا سے خواب دیکھتی رہی۔ کچھ دیر بعد جیسے ہی آصف اس کے ساتھ سیٹ پر بیٹھا تو نویرا کا دل اتھل پتھل ہونے لگا۔ یہ کیفیت کچھ دیر تک رہی پھر اس نے خود پر قابو پالیا۔

 شہر کے لگژری ہوٹل میں نویرا نے اپنے کاروباری دوستوں کے ساتھ ڈنر لیا۔کافی دیر باتیں کرتے رہنے کے بعد سوئٹ میں آ گئی ۔ اس کے ایزی ہو جانے تک چائے بھی پہنچ گئی۔ اس نے فون کر کے آصف کو بلایا اور چائے کا کپ اٹھا کر بالکونی میں آ گئی ، جہاں سے شہر میں اُتری ہوئی رات کا منظر پھیلا ہوا تھا ۔ کچھ ہی دیر بعد آصف جب اندر آیا تو نویرا پر نگاہ پڑتے ہی گڑ بڑا گیا۔ اس نے پہلے کبھی بھی نویرا کو اس طرح کے لباس میں نہیںدیکھا تھا۔وہ جھجک کر رُکا اور بولا

” میڈم میں کچھ دیر بعد….“

” چائے لے کر آ جاﺅ یہاں۔“  اس نے آصف کی بات سنی ان سنی کرتے ہوئے کہا۔ وہ بالکونی سے باہر دیکھتی رہی ۔ ایسے میں وہ چائے لے کر اس کے پاس آ تے ہی بولا۔

” میڈم صبح میٹنگ کے ….“

” وہی میں پوچھنا چاہ رہی تھی، لیکن پہلے یہ بتاﺅ، تم اتنا جھجک کیوں رہے ہو۔“ نویرا نے سیدھے سبھاﺅ پوچھا تو اس نے حیرت سے دیکھا ، پھر اعتماد سے بولا

” میں نے پہلے کبھی آپ کو ایسا نہیںدیکھا تھا۔“

” بری لگ رہی ہوں؟“ اس نے پوچھا

” نہیں، میرا مطلب ایسا نہیںتھا، آپ تو بہت پیاری ہیں، کوئی بھی آپ پر فریفتہ ہو سکتا ہے۔“ آصف نے یوں کہا جیسے وہ سمجھتا ہو ،لیکن جھجک اتر جانے کے بعد بہت کچھ کہنا چاہتا ہو۔

” دیکھو، میں آفس کے علاوہ بھی ایک زندگی رکھتی ہوں، وہ زندگی میں اپنے انداز سے جیتی ہو۔“ نویرا نے کہا اور چائے کا سپ لے لیا

”آپ کو پورا حق ہے ۔“ وہ اعتماد سے بولا

” سنو۔! ابھی یہ بزنس کی باتیں نہ کرو ، بلکہ مجھے یہ بتاﺅ، تم زندگی کو کیسے دیکھتے ہو ؟“اس کے یوں پوچھنے پر آصف نے بے ساختہ کہا

”جیسا زندگی خود کو دکھانا چاہتی ہے ، ہم تو اسے ویسا ہی دیکھتے ہیں۔“

نویرا نے چونک کر اسے دیکھا۔ وہ اپنی بات میںبہت معنی خیز بات کہہ گیا تھا۔ اسی ایک بات میں اس نے وہ بات بھی کہہ دی تھی ، جو نویرا اسے سمجھانا چاہتی تھی ۔ وہ آصف کی ذہانت پر مسکرا دی

” آپ کیسے دیکھتے ہیں؟“ اس نے تجسس سے پوچھاتو آصف دھیمے سے لہجے میں یوں بولا جیسے کہنا نہ چاہ رہا ہو ۔

” زندگی کو کیسے دیکھتا ہوں ، یہ سوال ذرا ٹیڑھا ہے، شاید اس بارے کچھ بھی نہ کہہ سکوں۔ “

” پھر بھی ، کچھ تو کہو۔“ نویرا نے دلچسپی سے اس کے چہرے پر دیکھتے ہوئے کہا

” میں جس طرح زندگی کو دیکھنا چاہتا ہوں، اس طرح مجھے دکھائی دے نہیں رہی۔“ وہ بولا

” اگر دکھائی دے جائے ؟“ اس نے پوچھا

” تو میں زندگی کو بتا دوں گا کہ زندگی کیا ہوتی ہے ۔ “ اس نے دبے دبے جوش سے کہا

” ٹھیک ہے ، تم محنت کرتے رہے تو مجھے امید ہے ، تم زندگی سے گلے مل سکو گے ۔خیر۔! میٹنگ کے بعد ہم مری کی سیر کرنے نکلیں گے ۔ اسے ذہن میںرکھنا۔“ اس نے کہا اور ایک طویل سپ لیا۔

” ٹھیک ہے میڈم میں کل….“ اس نے کہنا چاہا تو نویرا نے اس کی آنکھوں میں دیکھ کر کہا

” ہم جب تک یہاں ہیں تم مجھے میرے نام ہی سے بلا لیاکرو۔ سمجھو آفس کے باہر ہم دوست ہیں۔“

اس نے کہا تو آصف نے چونک کر اسے دیکھا۔ پھر دھیرے سے مسکرا دیا ۔ وہ بہت کچھ سمجھ گیا تھا۔یہ ایک بہت بڑا پیغام تھا۔

٭….٭….٭

اس دن نویرا نے اپنے بزنس کے ہر ڈیپارنمنٹ ہیڈ کو اپنے آفس میںبلایا ہو اتھا۔ ان سب کی آمد سے پہلے منیجر انصاری اس کے پاس بیٹھا ہوا تھا۔ بہت ساری باتوںکے بعد اس نے دھیمے سے لہجے میں کہا

” میں نے سنا ہے آپ یہ نیا پراجیکٹ بھی آصف صاحب کو دے رہی ہیں، اگر ایسا ہے تو میں اس بارے آپ سے چند باتیں کرنا چاہتا ہوں۔“

” جی بولیں انصاری صاحب ۔“ وہ اس کی طرف متوجہ ہوتے ہوئے بولی

” دراصل ہمارے ہاں یہ عادت عام ہے کہ ہم دوسروں کے معاملات پر بڑی گہری نگاہ رکھتے ہیں۔ ہمارے آفس میں اور ہماری بزنس کمیونٹی میں دبے دبے لفظوں میں آصف صاحب اور آپ کے بارے میں چہ میگوئیاں ہو رہی ہیں ۔ اس کی وجہ ….“ اس نے کہنا چاہا تو نویرا نے کہا

” یہ ہے کہ میں اس پر کچھ زیادہ ہی اعتماد کرنے لگی ہوں، وہ زیادہ کام دیکھنے لگا ہے ، لیکن انصاری صاحب آپ یہ بھی تو دیکھیں، اس نے آﺅٹ پٹ کتنادیا ہے۔ اس کا صلہ اسے ملنا چاہئے۔“

” میں ایک دوسری بات کرنے جا رہا ہوں ۔“ انصاری صاحب نے تحمل سے کہا

” وہ کیا؟“ اس نے تجسس سے پوچھا

” یہی کہ آپ آصف صاحب کے بارے میں کافی سے زیادہ نرم گوشہ رکھتی ہیں۔اس کی وجہ کوئی بزنس نہیںبلکہ ذاتی تعلق بھی ہو سکتا ہے۔“ اس نے انتہائی محتاط لفظوں میں اپنا مدعا کہا تو وہ ہنس دی۔ پھر چند لمحے سوچ کر بولی

” انصاری صاحب۔!آپ پاپا کے دور سے یہاں ہیں، وہ آپ پر آنکھیں بند کرکے اعتماد کرتے تھے ۔ آپ خود گواہ ہیںکہ میںنے آپ کو ویسا ہی مان اور عزت دی ہے ۔ بزرگوںکی طرح۔“

” تو میں نے بھی ایسا ہی سوچ کر یہ بات کہی ۔“ اس نے پھر محتاط لہجے میںکہا

” آپ بتائیں، کیا مجھے اب تک شادی نہیں کر لینی چاہئے ؟ ‘ ‘ اس نے حسرت سے پوچھا

” کیوں نہیں، لیکن آپ نے ایسا کبھی….“ وہ کہتے کہتے حیرت سے رک گیا،پھر چند لمحے بعد پوچھا،” کیا آپ نے آصف صاحب کے بارے میں جو فیصلہ کیا ہے وہ سوچ سمجھ کر کیا ہے؟“

”میں نے ایک برس اسے دیکھا اورپرکھا ۔ اب آپ یا ریٹا کیا کہتی ہیں، میںتو اپنا یہ سب بزنس چھوڑ کر کہیںنہیںجا سکتی نا۔“

” لیکن اس سے پہلے لوگ کردار پر انگلیاں اٹھائیں ، جو بھی فیصلہ ہو کر لیں، یہ بہتر ہوگا۔“

” آپ نے بات کر ہی دی ہے تو اب آپ اور ریٹا مل کر آگے چلا ئیں۔“ اس نے دھیمے سے کہا

”مطلب شادی کی؟“ انصاری صاحب نے وضاحت چاہی ۔

” جی بالکل ۔“ اس نے حتمی لہجے میں کہا تو وہ اٹھتے ہوئے بولا

” جی میں آج شام ریٹا سے ملنے جاﺅں گا ۔“ یہ کہہ کر وہ اس کے آفس سے نکلتا چلا گیا۔

 ٭….٭….٭

نویرا اپنے ہی بیڈ روم میں ، اپنے ہی بیڈ پر دلہن بنی بیٹھی ہوئی تھی۔ وہ سرخ عروسی جوڑے میں ملبوس ہر آہٹ پر کان دھرے ہوئے تھی۔اس نے کچھ دیر پہلے آصف کو دلہا بنے دیکھا تھا۔ کیا روپ آیا تھا اُس پر ، وہ سو جان سے فد اہو گئی تھی ۔اس نے اپنی شادی پر اپنی بزنس کمیونٹی کو بلایا تھا۔ سبھی جانتے تھے کہ آصف نویرا کے پاس ملازمت کرتا ہے ۔ آئندہ آنے والے دنوں میں آصف اس کی بزنس کمیونٹی میں ایک ملازم ہی کی حیثیت سے جانا اور پہچانا جانے والا تھا۔اسے وہ عزت نہ ملتی ، جو ملنی چاہئے تھی ۔اس لئے نویرا نے آصف کو اپنے کزن کے طور پر متعارف کرایا تاکہ اس کی عزت اور مقام بزنس کمیونٹی میں بن جائے ۔ اور وہ باتیں جو چہ میگوئیوں میںپھیل کر افسانے بن چکی تھیں ، ان کا کسی حد تک سدباب ہو سکے۔ دن بھر کے ہنگامے کے بعد نویرا کے بنگلے میںخاموشی چھا گئی تھی ۔وہ آصف کا انتظار کر رہی تھی۔ رات کا پہلا پہر گذر چکا تھا مگر آصف ابھی تک حجلہ عروسی میں نہیں آیا تھا ۔

رات کا دوسرا پہر گذر گیا۔ نویرا کو انتہا کی بے چینی ہونے لگی۔ایسے میں دروازے پر سرسراہٹ ہوئی اور آصف اندر آگیا ، نویرا کی سانس میں سانس آئی ۔وہ دھیمے قدموں سے اس کے پاس بیڈ پر آن بیٹھا۔ کچھ لمحوں بعد بولا

” سوری مجھے دیر ہوگئی ۔“

” کیوں ، دیر کیوں ہو گئی ؟“ اس نے پوچھا

” دراصل میں نے اپنی شادی پر اپنی بہن اور اماں کو نہیں آنے دیا تھا۔ نجانے لوگ کیا سمجھیں۔ مجھے پتہ چلا کہ وہ اپنے گھر میںبیٹھی رو رہی ہیں تو ان سے ملنے چلا گیا، مجھے معاف کر دیں ، میں ….“ اس نے انتہائی شرمندگی اور دکھ سے کہا تو وہ تڑپتے ہوئے بولی

” یہ کیا کہہ رہے ہیں آپ ؟کیوں نہیںبلایا انہیں وہ ، یہ آپ نے اچھا نہیں کیا ۔ وہ کیا سوچتے ہوں گئے؟“

” بہرحال جو ہونا تھا وہ ہو گیا۔ یہ میری طرف سے قبول کر لیں، چاہئے بہت سستا سا ہے۔“ یہ کہتے ہوئے اس نے سو نے کا ایک ہار نکالا اور اس کی جانب بڑھا دیا ۔

” نہیں یہ میرے لئے معمولی نہیںہے۔آپ خود ہی پہنا دیں۔“ اس نے کہا اور ذرا سا آ گے سرک آئی ۔ آصف نے اسے ہار پہنایا تو وہ بولی،” آصف اب آپ میرے شوہر ہیں، میں آپ اس بزنس کمیونٹی میں وہ مقام دوں گی کہ کوئی بات تک نہیںکر پائے گا ۔آپ بھی خود کو ایک ملازم کی حیثیت سے سوچنا چھوڑ دیں۔“

” جیسے آپ کا حکم ۔“ آصف نے دھیمی سی مسکراہٹ سے کہا اور نویرا اس کے ساتھ لگ گئی ۔ پھر کچھ دیر بعد سر اٹھا کر بولی

” آپ اپنی بہن اور اماں کو بھی یہیں لے آئیں ۔ یہ گھر بہت بڑا ہے۔“

” میں یہی کہوں گا ، جیسے آپ کا حکم۔“

تبھی دونوں کا قہقہ کمرے میںگونج گیا۔

٭….٭….٭

دو برس تک نویرا اور آصف اپنی دنیا میںگم رہے ۔ ان کی زندگی بڑی خوشگوار رہی ۔ ان دونوں کو اپنی بزنس اور اپنی زات کے علاوہ کسی سے کوئی غرض نہیںتھی ۔اس دوران انہوں نے آصف کی بہن ذکیہ کی شادی بھی کردی ۔ گھر میںریٹا ہوتی یا پھر آصف کی ماں ۔ ایک پر سکون زندگی چل رہی تھی ۔ بزنس بہت اچھا جا رہا تھا ۔ انہی دنوں آصف کی ماں نے یہ سب کے سامنے اپنی اس خواہش کا اظہار کر دیا کہ وہ پوتا کھیلانا چاہتی ہے۔ اگرچہ یہ بات آگئی گئی ہوگئی لیکن نویرا کے لئے خطرے کا الارم بج گیا۔اسے یہ پوری طرح احساس تھا کہ وہ ماں بنے کی صلاحیت سے محروم ہو چکی ہے ۔اس لئے اسی دن سے اس نے آصف کا بہت زیادہ خیال کرنا شروع کر دیا ۔ مگر اندر سے وہ خوف زدہ رہی کہ نجانے اس کا یہ راز کب فاش ہو جائے ۔ کیونکہ اس کی ساس کا مطالبہ دن بدن بڑھنے لگا تھا۔وہ ہر آنے جانے والے سے دعا کرنے کا کہتی۔یوں لگ رہا تھا کہ کہ پوتے کی خواہش میںپاگل ہو چکی ہے۔

یوں وقت تھوڑا مزید گذرا تو نویرا بیمار رہنے لگی ۔ اس کے ڈاکٹر اسے وجہ صرف ذہنی پریشانی اور اعصابی تھکن ہی بتاتے اور اس کے لئے صرف آرام تجویز کرنے لگے ۔تقریباً ایک برس تک اس کا علاج چلتا رہا۔ بجائے افاقہ ہونے کے اس کی صحت دن بدن گرتی چلی گئی تھی ۔ اس دوران وہ بہت کم آفس جانے لگی ۔ساری دیکھ بھال آصف ہی کرنے لگا۔

ایسے ہی ایک دن کی صبح ریٹا اس کے پاس آن بیٹھی ۔اس وقت نویرا کی ساس گھر سے باہر تھی ۔نویرا اپنے کمرے میں بیڈ پر لیٹی ہوئی تھی ۔ کچھ دیر بعدریٹا نے ڈرتے ڈرتے نویرا سے کہا

” بیٹی ۔! تم میری گود میںکھیلی ہو ۔ میری کسی بھی بات پر شک کرنے سے پہلے میری بات تحمل سے سننا۔“

” کیا بات ہے ، آپ ایسے کیوں کہہ رہی ہیں؟“ نویرا نے حیرت سے ریٹا کے چہرے پر دیکھتے ہوئے کہا

”بیٹا ، میں کچھ ایسا محسوس کر رہی ہوں ، جو اچھا نہیںہے، میں اس پر بات کرنا چاہتی ہوں ۔“ وہ دھیمے سے بولی

” تو کہیں نا ، بات کیا ہے ؟“ وہ تجسس سے بولی

” بیٹی ۔! میں یہ جانتی ہوں کہ آپ ماں نہیںبن سکتی ہو لیکن ایسا بھی کیا کہ ایک برس ہونے کو آیاہے ، آپ بجائے تندرست ہونے کو مزید بیمار ہوتی چلی جا رہی ہیں؟“ ریٹا بولی

” کیا کروں ، میرا علاج تو جاری ہے ، اندر ہی اندر کچھ یسا ہے کہ مجھے ٹھیک ہی نہیںہونے دے رہا ہے ۔“ اس نے مایوسی سے کہا

” لیکن میں کچھ اور ہی سوچ رہی ہوں۔“ اس نے شک بھرے لہجے میں کہا

” کیا….؟“ نویرا نے پوچھا

”کہیں آپ کے سازش تو نہیںہو رہی ہے ؟“ وہ محتاط لفظوں میںبولی

” سازش ، کون کرے گا؟“یہ کہہ کر وہ ایک لمحہ کے لئے خاموش ہوئی پھر کود ہی تیزی سے بولی،” آپ کا مطلب آصف کریں گے میرے بارے میں سازش ، وہ کیوں کریں گے ایسا ؟“

”میں نہیں جانتی لیکن مجھے ایسا لگتا ہے ۔ آپ صرف ایک کام کرو، اپنی دوائیں کسی لیبارٹری سے تصدیق کروائیں۔ مجھے انہی دواﺅں میں کچھ لگتا ہے ۔“ ریٹا نے کہا

” آپ کا وہم ہے ، یہ دوائیں تو ہمارے خاندانی ڈاکٹر نے تجویز کی ہیں،اور انہی کے ہاں سے آتی ہیں۔“ نویرا نے کہا لیکن شک کی گرہ اس کے من میں بھی لگ گئی تھی تبھی اس کا لہجہ کافی حد تک نرم سا ہو گیا تھا۔

” میں نے یہ بات یونہی نہیںکہی ہے۔ٹھیک ہے انصاری صاحب اس دنیا میں نہیں رہے لیکن ان جیسے کچھ وفادار لوگ اب بھی موجود ہیں۔ “ ریٹا نے کہا تو اس نے پریشان ہوتے ہوئے پوچھا

” آپ کیا کہنا چاہ رہی ہیں؟“

” بیٹا آپ کے آفس سے کوئی بہتر اطلاعات نہیں آ رہی ہیں۔آپ پچھلے چھ ماہ سے زیادہ عرصے سے آفس نہیںگئی ہیں تو آپ کو کچھ پتہ چل رہا ۔“ریٹا نے کہا تو نویرا ایک دم سے پریشان ہوگئی اس نے بیڈ سے اٹھتے ہوئے پوچھا

” یہ سب کیسے …. آصف …. میں کیسے مان لوں؟“

” صرف اپنی دوائیں ٹیسٹ کروائیں۔ان میں ضرور کچھ ہے۔آپ ٹھیک ہوں گی تو سب کچھ ممکن ہے ۔“ ریٹا کافی حد تک دکھی لہجے میں بولی تو نویرا سوچ میں پڑ گئی ۔کچھ دیر بعد سوچتے ہوئے لہجے میںبولی

”میں کرتی ہوں کچھ لیکن اس بارے کسی کو بھی شک نہیںہونا چاہئے ۔“

”میںبھی ایسا ہی چاہتی ہوں۔“ ریٹا نے کہا

 ” مجھے میرا فون لا کر دیں ۔“ نویرا نے کہاتو وہ اٹھ گئی ۔

کچھ دیر میں اس نے شہر کے معروف ڈاکٹر سے وقت لے لیا۔اسے بتا بھی دیا کہ وہ کیا چاہتی ہے۔دوپہر ہونے تک وہ اس کے پاس جا پہنچی ۔وہ اپنے ڈرائیور اور ریٹاکے ساتھ وہاں گئی تھی ۔ تقریبا ً ایک گھنٹہ تک کی ملاقات اور چیک اپ کے بعد ڈاکٹر نے کہا

” جو بیماری آپ کو بتائی جا رہی ہے اس کے مطابق دائیں تو ٹھیک ہیں ، لیکن آپ کو وہ بیماری ہے ہی نہیں۔لیبارٹری سے ٹیسٹ کے بعد میں حتمی طور پر کل بتاﺅں گا کہ داﺅوں میں کچھ ہے یا نہیں ہے ۔فی الحال آپ یہ میڈیسن بند کر دیں۔“

وہ ڈاکٹر کی ابتدائی رپورٹ کے بعد کافی حد تک مطمئن ہو کر واپس آگئی ۔ لیکن اسے حتمی رپورٹ کا انتظار تھا۔شام تک اسے یہ پتہ چل گیا تھا کہ آفس میں کافی حد تک تبدیلی ہو گئی تھی ۔ بہت سارے پرانے لوگوں کی جگہ ، نئے بندے آگئے تھے۔

اگلے دن دوپہر سے پہلے ہی رپورٹ بارے پتہ چل گیا۔اسے سلو پوائزن دیا جا رہا تھا۔ ایسا زہر جو آ ہستہ آ ہستہ ختم کرتا ہے ۔وہ چونک گئی ۔ آصف ایسا بھی کر سکتا ہے ؟ وہ اسے کیوں مارے گا ، اس سوال کا جواب اسے سمجھ میں آ گیا تھا۔

اسی شام جب آصف گھر واپس آ یا ۔ تب وہ لاﺅنج ہی میں بیٹھی ہوئی اس کا انتظار کر رہی تھی۔ اس کی ساس اور ریٹا بھی پاس ہی تھی ۔اسے یوں بیٹھا دیکھ کر اس نے انتہائی پیار سے کہا

” ارے تم یہاں بیٹھی ہو؟ کہیں تمہاری طبیعت زیادہ خراب نہ ہو جائے ۔ چلو بیڈروم میں۔“

” نہیں آصف اب میری طبیعت خراب نہیںہوگی ۔میں ٹھیک ہوں ۔ کیونکہ اب میںنے تمہاری لائی ہوئی دوائیں لینا چھوڑ دی ہیں۔“ اس نے نفرت سے کہا تو آصف بری طرح چونک گیا ۔ چند لمحے اس کی طرف دیکھتا رہا پھر ہونٹوں پر زہر خند مسکراہٹ لا تے ہوئے سامنے پڑے صوفے پر بیٹھ کر بولا

” یہ کیا کہہ رہی ہو ؟“

” میں ٹھیک کہہ رہی ہوں ۔یہ لوتمہاری لائی ہوئی میڈ یسن کی رپورٹ ۔“ نویرا نے وہ رپورٹ اس کی طرف اچھال دی تو اس نے دیکھے بغیر کہا

” اوکے۔تمہیں پتہ چل گیا۔ٹھیک ہے، اب کیا کیا جا سکتا ہے ۔“ اس نے ڈھٹائی سے صوفے پر پھیلتے ہوئے کہا

”تمہیں یہ کرنا ہے کہ ابھی اٹھو اور اپنی ماں کو لے کر یہاں سے چلے جاﺅ۔ہمیشہ کے لئے میری زندگی سے نکل جاﺅ۔“ نویرا نے انتہائی نفرت سے کہا تو اس کی ساس بولی

” یہ کیا کہہ رہی ہو بیٹا۔ ایسا کیا ہو گیا؟“

” تم چپ کرو ، اپنے بیٹے کی سازش میں تم بھی شریک ہو ۔ اب اچھائی اسی میں ہے کہ فوراً یہاں سے چلے جاﺅ ،فوراً۔“ نویرا نے پھر نفرت سے ہی کہا تھا۔ اس کی آواز اونچی تھی ، جیسے اب وہ برداشت نہ کر پا رہی ہو ۔ تبھی آصف نے اطمینان سے کہا

” میں نہیں تم جاﺅ گی یہاں سے ۔ کیونکہ یہ بنگلہ تم نے میرے نام لکھ دیاہوا ہے ۔ یہاں تک کہ اپنا سار ا بزنس بھی ۔ کیونکہ تم ذہنی مریضہ ہو ، بلکہ کہیں پاگل ہو ۔اس لئے ۔“

” کیا کہہ رہے ہو تم ؟“ نویرا نے انتہائی حیرت سے کہا

” جی بالکل ۔! میں تمہیں ابھی یہاں سے اٹھا کر باہر پھینک سکتا ہوں ۔ بلکہ کسی پاگل خانے میں داخل کروا سکتا ہوں ۔ پھر تم یہ ثابت کرتی رہنا کہ تم پاگل نہیںہو ۔جب تک تمہارا یہ ثبوت آئے گا ، میں یہاں نہیں ہوں گا ، میں نے دو دن میں یہ بنگلہ بھی بیچ دینا ہے ۔“آصف نے کہا تو اس کی ماں کے ہونٹوں پر مسکراہٹ پھیل گئی ۔ریٹا کے تو اوسان خطا ہو گئے تھے ۔ نویرا نے ہونقوں کی طرح اس کی جانب دیکھتے ہوئے کہا

” تم ایسا نہیں کر سکتے ، ابھی نکلو یہاں سے ،میں دیکھتی ہوں تم کیا کرتے ہو ۔“ نویرا نے کہا

” تو بلاﺅ نوکروں کو ، مجھے دھکے دے کر نکالیں یہاںسے، دیکھتے ہیں، وہ کس کی بات م،ان کر کسے اٹھا کر باہر پھینکتے ہیں، تمہیںیا مجھے ۔“ یہ کہتے ہوئے اس نے زور دار قہقہ لگا دیا۔

” میں تمہیں زندہ نہیںچھوڑوں گی ۔“ نویرا نے غصے میں پاگل ہوتے ہوئے کہا

” طاہر ہے تم پاگل ہو ، جو مرضی کہو، میںنے کون سا برا منانا ہے ۔“وہ ہنستے ہوئے بولا

”ریٹا، بلاﺅ سب کو وہ اسے باہر پھینکیں۔“ نویرا نے کہا

”تم زحمت نہ کرو ، میںبلاتا ہوں ۔“ آصف نے کہا اور گھر کے نوکر کو آواز دی ۔اس کی آواز کی بازگشت میں باورچی آ گیا، اسے دیکھتے ہی آصف بولا ،” یار یہ تمہاری مالکن کو دورہ پڑا ہے ، اسے کسی پاگل خانے میںچھوڑنا ہے ، بلاﺅ سب کو ۔“

” جی میںبلاتا ہوں ۔“اس نے ذرا جھک کر کہا اور واپس پلٹ گیا۔ذرا سی دیر میں باہر سے چند ملازم آ گئے ، جن میں سیکورٹی گارڈ بھی تھے۔

” یار یہ ریٹا اور تمہاری پرانی مالکن اب برداشت سے باہر ہیں ، انہیں ذرا باہر تک چھوڑ آﺅ ۔“ آصف نے کہا اور کھڑا ہوگیا۔ تبھی دو ملازم آ گے بڑھے اور نویرا کو اٹھانے کے لئے بڑھے ۔ جبکہ وہ صدمے سے نڈھال ہو چکی تھی ۔ وہ سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ اس کے ساتھ ایسا ہو سکتا ہے ۔ تبھی ریٹا نے انتہائی تحکمانہ لہجے میں کہا

” سب لوگ وہیں ٹھہرو، اور واپس پلٹ جاﺅ ۔“

وہ لوگ رُک گئے ۔ تبھی ڈرائیور آ گے بڑھا اور بڑے دکھ سے بولا

” بی بی ، یہ سب لوگ بِک چکے ہیں۔ اب آپ یہاں نہیں رہ سکتی ہیں۔ چلیں ورنہ یہ ….“ اس کے لفظ درمیان ہی رہ گئے تھے کہ نویرا ایک دم سے اٹھی اور باہر جاتے ہوئے بولی

” گاڑی نکالو ۔“

’ ’ جی بیگم صاحبہ ۔“ یہ کہہ کر ڈرائیور باہر نکل گیا۔ کچھ دیر بعد وہ نویرا اور ریٹا کو لے کے بنگلے سے باہر تھا۔

” کہاں چلیں اب ؟“ ریٹا نے پوچھا

” میرے گھر ۔“ ڈرائیور نے کہا

” نہیں، گاﺅں چلو ۔“ نویرا نے کہا تو ڈرائیور سمجھ گیا۔اس نے گاڑی گاﺅں کی جانب بڑھا دی ۔

گاﺅں پہنچ کر اس نے اپنے چچا اور نعمان کو کچھ نہیں بتایا ۔ انہیں یہی کہا کہ وہ چند رہنے آئی ہے ۔نویرا یہ چاہتی تھی کہ کراچی ہی میں کسی سے رابطہ کر کے اس مسئلہ کا حل تلاش کیا جائے ۔ مگر ایک ہفتہ گذر جانے کے باوجود کچھ نہیں ہوا ۔لیکن اسے پوری صورت حال کی سمجھ آ گئی کہ وہ آصف کے ہاتھوں لُٹ چکی ہے ۔ اس نے پڑے طریقے سے نویرا کو پاگل قرار دلوا کر اس کی ساری دولت اور جائیدادپر قبضہ جما لیا تھا ۔ اس کے ساتھ ان کا خاندانی ڈاکٹر اور وکیل بھی شامل ہو گئے تھے ۔ انہوں نے بھی بہتی گنگا میںپوری طرح ہاتھ دھوئے تھے۔ آصف نے کون سا اپنے پاس سے دینا تھا اور ان کے بغیر کچھ ہو نہیںسکتا تھا ۔ اس نے ان دونوں کو خوب نوازا اور خود ساری جائیداد کا مالک بن گیا۔ اس نے یہ جائیداد اپنے پاس نہیں رکھی ، بلکہ اونے پونے بیچنے لگا۔اس نے بہت سارا سرمایہ باہر بھیج دیا تھا۔ اس کا ارادہ یہی تھا کہ اب جو کچھ سمیٹا جا سکتا ہے ، وہ سمیٹ کر یہاں سے نکل جائے ۔ اگر اسے دو تین ماہ مزید وقت مل جاتا تو بلاشبہ وہ غائب ہو جاتا اور دوسرے کوئی آ کر اسے اس کے ذاتی بنگلے سے باہر نکالتے ۔

نعمان اور اس کے والد کو آکر کار پتہ چل گیا کہ نویرا کے ساتھ کیابیت گئی۔ دوسرے ہفتے ہی انہوں نے کچھ کرنے کا ارادہ کر لیا ۔ انہوں نے کراچی میں رابطہ بھی کیامگر اس کے ساتھ ہی رد عمل کے طور پر اسے قتل کی دھمکی مل گئی ۔ وہ اپنے گاﺅں میںمحصور ہو کر رہ گئی تھی ۔ تیسرے ہفتے تک اس کے اپنے مخلص کاروباری دوستوں کے علاوہ دوسرے دوستوں کا پتہ چلا ۔ سب کا یہی خیال تھا کہ قانونی کاروائی کی جائے ۔ مگر اس کےلئے طویل وقت چاہئے تھا اور دوسرا اس دوران وہ جرائم پیشہ افراد سے کچھ بھی کروا سکتا تھا ۔تبھی بی بی صاحب کو دو دن پہلے پتہ چلا۔ انہوں نے کافی ڈھارس دی اور آپ کو یہان بھیج دیا۔

رات کا دوسرا پہر بھی ختم ہو گیا تھا جب نویرا نے اپنی بات ختم کی۔ساری بات سن کر نینا نے کہا

” پریشان مت ہوں ۔آپ سکون کرو۔ میں دیکھتی ہوں کیاہو سکتا ہے، آﺅ اب آرام کرتے ہیں۔“ اس نے سکون سے کہا اوراٹھ گئی۔ نویرا بھی اسی کے ساتھ اٹھ گئی ۔ اسے بلیو کیٹ کو فون کرنا تھا۔

٭….٭….٭

اگلے دن کی صبح بلیو کیٹ کا فون آ گیا۔

” نینا نکلو یہاں سے ، ہمارا کام شروع ہو چکا ہے، بہت آرام کر لیا تم نے ؟“

” مطلب ؟“ اس نے چونکتے ہوئے پوچھا

”آصف اس وقت کہکشان کے علاقے میں موجود ہے ۔وہاں جا کر ہم نے اس سے پیار بھری باتیں کرنی ہیں۔“

” اتنی جلدی ، مطلب تم نے ….“ اس نے کہنا چاہا تو اس نے اٹھتے ہوئے کہا

” تم آﺅ نا ، راستے میں بتاتی ہوں، باہر نکلو ، تمہیں راستہ سمجھاﺅں ۔“ بلیو کیٹ نے کہا

” اوکے میںکال کرتی ہوں ۔“ نینا نے کہا ور فون بندکرکے منٹوں میںتیار ہوگئی ۔ پھر نیچے لاﺅنج میںآ ئی ۔ وہاں نویرا بیٹھی ہوئی تھی۔ اس نے اختصارسے اسے بتایا

” نینا ۔! پلیز، بہت احتیاط سے ۔“ نویرا نے پریشانی میںکہا تو وہ مسکراتے ہوئے بولی

” میں خیال رکھوں گی اپنا۔ تم بھی خیال رکھنا،فون پر رابطہ رہے گا ۔ چلتی ہوں ۔“ یہ کہہ کر وہ نکلتی چلی گئی ۔

باہر آکر اس نے شعیب کو فون کیا۔ اس نے اپنی صورت حال بتاتے ہوئے کہا

” میںنے ایک بار تم سے نیلی بلی کا ذکر کیا تھا نا؟“

” ہاں ، اس کا ذکر کیسے ؟“ شعیب نے کچھ کچھ سمجھتے ہوئے پوچھا تو وہ بولی

” وہ یہیں کی ہے ۔ اس کا ایک پورا نیٹ ورک ہے یہاں ، اس نے ایک لمبی ڈیل کی ہے میرے ساتھ ۔“

” ڈیل کی ہے ، مطلب کیسی ڈیل ؟“ اس نے پوچھا

” اگر وہ یہ سب کچھ واپس دلا سکی تو …. ورنہ جو نقصان ہوگا اسی کا اپنا ہوگا۔“ نینا نے بتایا

”تمہیںیقین ہے ، وہ کر لے گی ؟ “شعیب نے پوچھا

” وہ کر چکی ہے۔اس نے آصف کو کہکشاں میں موجود ایک گھر میں لا کر رکھ لیا ہے ۔وہیں اس سے بات ہوگی ، اب ہم وہیں جا رہی ہیں۔“ اس نے بتایا

” کیا تم نے رات ہی اس سے بات کر لی تھی ؟“ شعیب نے پوچھا تو نینا نے یوںکہا جیسے خود سے باتیں کر رہی ہو ۔

” کل صبح بات ہوئی تھی ۔مگر میںیہ سمجھتی ہوں یہ اتنا آسان نہیںہوگا، وہ کوئی اکیلا بندہ نہیں ہے جو یہ سب فراڈ کر سکا، میں جو سمجھ رہی ہوں اگر ویسا ہے تو ذرا مشکل ہوگا ۔ لیکن کر لیںگے ہم ، دیکھو کیا ہوتا ہے ۔“

” ٹھیک ہے ، جیسے تمہاری مرضی ۔“ شعیب نے کہا اور پھر خاموش ہو گیا۔

” اوکے میں چلتے ہوئے بڑی سڑک تک آگئی ہوں ۔ ٹریفک کا ہجوم ہے ۔ پھر بات کریں گے ۔ گڈ بائے۔“ یہ کہہ کر اس نے فون بند کر دیا۔

 نینا نے چند لمحے رُک کر ادھر اُدھر دیکھا ، پھر ایک فور وہیل پر نگاہ پڑتے ہی اس جانب بڑھ گئی ۔اس میں ایک اکیلی لڑکی ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھی ہوئی تھی ۔ وہ اسی کی جانب دیکھ رہی تھی ۔ اسے قریب آتا دیکھ کر لڑکی نے اپنے گاگلز آنکھوں پر لگا لئے ۔نینا نے پھر غور سے اسے دیکھا اور پسنجر سیٹ والی سیٹ پر آن بیٹھی تو لڑکی بولی

” بلیو کیٹ سے ویلکم ….“ یہ کہتے ہوئے اس نے ہاتھ بڑھا دیا نینا نے اس کی آواز سن کر اس سے ہاتھ ملایا ۔اس کے ساتھ ہی اس نے فوروہیل بڑھا دی ۔تبھی نینا نے پوچھا

”کیا خیال ہے کام آسان ہے یا مشکل ؟“

” تمہیںکام سے غرض ہونی چاہئے ، مشکل ہو یا آسان ۔“ بلیو کیٹ نے لاپرواہی سے کہا

”ٹھیک ہے لیکن زیادہ طویل تو نہیںہوگا کہ کئی دن لگ جائیں ؟“ نینا نے ہنستے ہوئے پوچھا تو وہ سنجیدگی سے بولی

”اصل میں ہر معاملے کی ایک جڑ ہوتی ہے میری جان ، کوئی بھی اپنے بل بوتے پر یہ سب نہیںکرتا ، میںبھی نہیں، اور تم بھی نہیں۔ آصف کا ایک پورا گینگ ہے ۔ اس کی سرپرستی یہاں کا ایک سیاسی مافیا کر رہا ہے ۔ظاہر ہے ، مافیا کا مقابلہ ایک مافیا ہی کر سکتا ہے۔ میںنے وہ جڑ پکڑ لی ہے ۔“

”ہوں ، گڈ ….“ نینا نے کہا

” اب دو ہی راستے ہیں ، یا تو ان سے ڈیل ہوگی یا پھر مقابلہ ، اب دیکھیں ان سے کیا طے ہوتا ہے؟“ بلیو کیٹ نے کہا تو نینا نے پوچھا

” کب تک ؟“

” ابھی تھوڑی دیر میں ، آصف سے بات چیت کے بعد ۔“ اس نے جواب دیا

” کیسے پکڑا اُسے ؟“

” ایک عورت کے ذریعے ، وہ اس علاقے کی میڈم ہے ، لڑکیوں کا دھندہ کرتی ہے ۔ روزانہ رات کو دسیوں لڑکیاں اس کے اڈے سے جاتی ہیں، مختلف لوگوںکے پاس۔ وہ خود بڑی شے ہے لیکن اپنی بے دام غلام ہے ۔اب پوچھو گی کیسے ؟ یہ میں بعد میںبتاتی ہوں لیکن پہلے سن لو۔“ یہ کہہ کر وہ لمحہ بھر کے لئے سانس لینے کو رُکی پھت بولی،” میں نے اس سے پوچھا کہ ایسا ایک بندہ ہے ، اس کے بارے میںمعلومات چاہئے ۔ تب پتہ چلا کہ ایک لڑکی رات ہی اس کے اڈے سے آصف کے پاس گئی تھی ۔ اسے جگہ کا پتہ تھا ، وہ جگہ آصف نے اپنی عیاشی کے لئے بنائی ہوئی ہے ، میں نے چند بندے بھیج دئیے ۔“

”ٹھیک ، اس طرح وہ قابو آگیا۔“ نینا نے سمجھتے ہوئے کہا

” بالکل ، وہ ہمارا انتظار کر رہا ہے ۔“ بلیو کیٹ یہ کہتے ہوئے قہقہ لگا کر ہنس دی تب نینا نے پوچھا

 ” وہ میڈم بے دام غلام کیسے بنی؟“

” وہ میڈم ہمارے گینگ کو بھتہ نہیں دے رہی تھی ۔بڑے بڑے لوگوں کا ڈراوا دیتی تھی ۔بس پھر اس کے اڈے پر سے جانے والی لڑکیاں خراب ہونے لگیں۔ ایک وقت آیا کہ اس کے پاس سے سب لڑکیاں بھاگ گئیں۔ اس کا کام ہی ٹھپ ہو گیا۔تب اس نے بھتے دیا اور اب کام چل رہا ہے اس کا ۔“ اس نے یوں کہا جیسے وہ کوئی کاروباری ڈیل کے بارے میںبتا رہی ہو ، تبھی نینا نے کہا

” یار یہ عورتوں کا دھندہ ، کیا تمہیںاچھا لگتا ہے کہ ….“

” اب مجھے بھاشن مت دینا، کیا غلط ہے کیا درست میں نہیںجانتی ۔مجھے صرف پیسہ چاہئے۔ وہ نہیںکرے گی تو دوسرے بہت کچھ کر رہے ہیں۔ اس ملک میں بہت سارے ایسے ادارے ہیں جن کا کام ہی انہیںروکنا ہے ،لیکن نہیں روک رہے ہیں توکیوں نہیں روک رہے ؟مجھے یہ بھی غرض نہیں کہ وہ کیوں نہیںروک رہے ہیں۔ “ اس نے تلخی سے کہا

” یار کوئی ضمیر بھی ہوتا ہے ؟“ نینا نے کہا

”صرف میرے ضمیر جاگ جانے سے کیا ہوگا۔ صرف ایک اڈا بند ہوگا ، لیکن میں مر جاﺅں گی ۔ اس کے بعد ایک اڈا مزید کھل جائے گا ۔ نینا ڈیر ۔!یہ ایک ایسی خود رو جھاڑیاں ہیں ،جو اگتی ہی چلی جا رہی ہیں ، لیکن کوئی اس کی جڑ تک نہیںجاتا، کون پانی دے رہا ہے ان جھاڑیوں کو ، یہ کوئی نہیں جانتا؟“وہ طنزیہ لہجے میںبولی

” کون ہے اس کی جڑ؟“ نینا نے پوچھا

” یہ دماغ سوزی تم کرتی رہنا، اگر تمہیں اسے ختم کرنا ہے تب ، ورنہ بڑے بڑے تیس مار خان دعوے کرتے چلے گئے انہیں کتم کرنے کے لیکن یہ دھندا ختم نہیں ہوا۔“ یہ کہہ کر اس نے ٹرن لیا اور ایک کالونی کے اندر چلی گئی۔چند منزلہ بلڈنگ کے قریب سے ہوتے ہوئے وہ سیدھی گئی اور پھر ایک گلی میںمڑ گئی ۔ جہاں کچھ کوٹھیاں زیر تعمیرتھیں اور کچھ بن چکی تھیں۔ ایک ایسی ہی شاندار کوٹھی کے آ گے اس نے فور وہیل روک کے بند کر دی ۔تبھی بلیو کیٹ نے ڈیش بورڈکی جانب اشارہ کیا۔ نینا نے کھولا تو اس میں دو پسٹل اور کچھ میگزین پڑے تھے۔ اس نے وہ اٹھا کر اڑسے اور نیچے اتر آئے ۔

 وہاں صرف تین لوگ تھے ۔بلیو کیٹ کو دیکھتے ہی الرٹ ہو گئے ۔انہوں نے آصف کو دوسری منزل کے ایک کمرے میںرکھا ہوا تھا۔ایک لاﺅنج میںتھا اور دو اوپر تھے۔ وہ تینوں اوپر گئے تو کمرے کے درمیان میںدھرے ہوئے بیڈ پر آصف بندھاہوا پڑا تھا ۔ اس کے منہ میںکپڑا ٹھنسا تھا۔

اس کی نگاہ جیسے ہی دو اجنبی خواتین پر پڑی تو وہ انتہائی پریشان ہو گیا۔ بلیو کیٹ نے جاتے ہی ایک ٹھوکر اس کی پسلیوں لگائی ۔آصف کی آنکھوں سے خوف اُبلنے لگا۔ بلیو کیٹ کے اشارے سے ایک نوجوان نے اس کے منہ سے کپڑا نکالا تو اس نے گہرے گہرے سانس لے کر کہا

” پانی …. پلیز پانی ۔“

اس کے یوں کہنے پر بلیو کیٹ نے ایک کرسی پر بیٹھتے ہوئے بڑے اطمینان سے کہا

” سب کچھ ملے گا ، لیکن پہلے میری بات غور سے سن لو ۔“

” کون ہو تم لوگ ، اور کیا چاہتے ہو ؟“ آصف نے حالات کی سنگینی کو محسوس کرتے ہوئے پوچھا

” ہم جو کوئی بھی ہیں ، اس وقت تمہیں کچھ نہیںکہیںگے جب تک تم ہماری بات مانتے رہو گے ۔ورنہ تمہیں نہیں پتہ کتنی اذیت ناک موت تیرا انتظار کر رہی ہے ۔“ بلیو کیٹ نے یہ کہتے ہی اپنی ہیل اس کے سینے پر ماری ۔ وہ تڑپ کر رہ گیا ۔ اس کے چہرے پر ہوائیاں اڑنے لگیں ۔ اس نے ان دونوںکی طرف دیکھ کر سہمے ہوئے لہجے میںکہا

” کیا چاہتے ہو تم لوگ ؟“

” وہی جو تم نے کیا، ایک عورت سے جو مال چھینا، اس میں سے ہمارا حصہ ….“

” میںنے تو کسی عورت کا حصہ نہیںچھینا ، میں تو ایک سیدھا سادھا بزنس مین ہوں اور ….“ اس نے کہنا چاہا تو بلیو کیٹ نے ایک زور دار تھپڑ اس کے منہ پر مارتے ہوئے کہا

” تیری ماںکا بزنس چلتا تھا سلائی کڑھائی کا ، وہ جو جمشید کوراٹر ز میں رہتی تھی ۔ یا تیری بہن کا، اڈے چلاتی تھی کیا ؟سالا جدی پشتی رئیس۔“

یہ سن کر وہ چند لمحے خاموش رہا ، پھر سراٹھا کر یوں بولا جیسے وہ ساری بات سمجھ گیاہو ۔

” اچھا تو تمہیںنویرا نے بھیجا ہے ۔“

” کام کی بات کر۔“ بلیو کیٹ نے نخوت سے کہا

” تو پھر سن لو ، مجھے مار دوگی تو بچو گی تم بھی نہیں۔میںکچھ دیر مزید آفس نہ پہنچا تو لوگ مجھے تلاش کرتے ہوئے یہاں آ جائیںگے لہذا….“

” مگر تب تک تم مر جاﺅ گے ۔ اور سن۔! تیرے آنے والوں کا بھی پورا بندو بست ہے میرے پاس ، تیری ماں بھی اس وقت میرے پاس ہے ۔ مزید آدھے گھنٹے میں وہ اس دنیا میں نہیں رہے گی ۔“ بلیو کیٹ نے کہا تو ایک بار آصف کے چہرے پر رنگ آ کر گذر گیا۔

” میرے مرنے سے نویرا کو کچھ نہیںملے گا ۔ اوراب بھی میں سب بیچ چکا ہوں ۔جو تھوڑا بہت ہے ، اس کے پیپرز کون سائن کرے گا ؟ اور اس بھی پہلے نویرا کو یہ ثابت کرنا ہوگاکہ وہ پاگل نہیں ہے؟ “ وہ سکون سے بولا

” مطلب تم ایسے نہیںمانو گے ۔“ بلیو کیٹ نے کہا اور آگے بڑھی ہی تھی کہ نینا نے ہاتھ کے اشارے سے اسے روک دیا۔پھر اس کے قریب جا کر بولی

” مطلب تم نہیںمانو گے ؟“

” میرے ہاتھ میںکچھ نہیںرہا ۔سب کچھ بانٹ دیا ۔“ اس نے طنزیہ لہجے میں کہا

” بانٹ دیا۔“ نینا نے خود کلامی کے انداز میں کہا اور اس کی طرف ہاتھ بڑھانا ہی چاہتی تھی ۔ایسے ہی لمحے، بیڈ کے پاس پڑا آصف کا فون بج اٹھا۔ بلیوکیٹ نے اسے اٹھا یا تو اسکرین پر نام دیکھ کر چونک گئی پھر بڑبڑاتے ہوئے بولی

” سلیم ٹانڈیا….“ یہ کہہ کر اس نے آصف سے پوچھا،” اس سے کیا تعلق ہے تیرا؟“

” سب کچھ ۔“ اس نے کافی حد تک اعتماد سے کہاتو بلیوکیٹ مسکراتے ہوئے بولی

” اس سے بات کر ، “ یہ کہتے ہوئے اس نے کال رسیو کر کے فون کا اسپکیر آن کر دیا، دوسرے ہاتھ سے پسٹل اس کے سر پر رکھ دیا۔

” ابے اب تک آفس نہیںپہنچا تو ، اتنی پسند آگئی ہے وہ بھڑوی تجھے ؟“ دوسری طرف سے غصے میں کہا گیا

” بس بھائی نکل رہا ہوں۔“ اس نے ڈرتے ہوئے کہا

” کب نکلے گا ، پارٹی تیرے آفس میںبیٹھی ہوئی ہے ۔“ اس نے انتہائی غصے میںکہاتو آصف بولا

” میں ….میں ….“ اس نے پوری بات نہیںکی تھی کہ بلیک کیٹ نے فون اچک کر کہا

”اب شاید یہ کبھی بات نہ کر سکے۔یہ میرے قبضے میں ہے ۔ بھول جا اسے، سمجھ مر گیا۔“

” کون ہو تم ؟“ دوسری طرف سے پوچھا گیا۔

’ ’ موت ، بے غیرتوں کے لئے صرف موت ۔“ اس نے حقارت سے کہا

” ابے کون ہے تو بھڑوی ، کیسے ڈائیلاگ مار رہی ہے ۔چھوڑ اسے کام کرنے دے۔“ اس نے اس سے بھی زیادہ حقارت سے کہا تو بلیو کیٹ نے ہنستے ہوئے کہا

” تجھے شاید سمجھ میں نہیںآیا ۔ اگر تو اپنے باپ کا ہے تو وہیں اس کے آفس رُک ، میں آرہی ہوں وہیں۔“

” ارے چھمک چھلو ۔! دھمکی بھی دیتی ہے ۔ چل آ جا ۔ میں دیکھتا ہوں تمہیں۔“ اس نے کہا اور فون بند کر دیا۔

” چل بھئی اب کام شروع ہو گیا۔“ بلیو کیٹ نے فون بند کرتے ہوئے کہا پھر اپنا فون نکال کر کسی سے بات کرنے لگی ،” ہاں بول ، ڈاکٹر پکڑ لیا؟…. گڈ …. سلیم ٹانڈیا ہے اس کے پیچھے اور میچ بھی پڑ گیا ہے …. پارسل بھیج رہی ہوں ، اسے وہیں رکھ،…. میں ذرا آ فس ہو آﺅں …. ہاں وہیں آصف کے آفس میں،وہیں میچ فکس ہوا ہے ۔ آجا…. چل پہنچ ۔“ یہ کہہ کر اس نے فون بند کر دیا۔

” کچھ مجھے بھی بتائے گی؟“ نینا نے پوچھا

” بتانا کیا ہے ، یہ گیا اب کام سے ، ہم چلیں گے آفس ، وہیں ساری بات ہوگی ۔ تو نویراکو کال کر اور اسے آفس بلا۔“ بلیوکیٹ نے کہا اوراپنے آدمیوں کا اشارہ کر کے باہر چل دی ۔

باہر نکلنے تک نینا نے نویرا کو کال کر دی کہ وہ اپنے آ فس تک آ جائے ۔ لیکن اس وقت تک سامنے نہیںآئے جب تک اسے کہا نہیںجائے۔ وہ دونوں وہاں سے آندھی کی طرح نکلیں ۔نینا نے یہ پوچھنا مناسب نہیں سمجھا کہ آصف کو کہاں رکھنا ہے۔ وہ دیکھنا چاہتی تھی بلیو کیٹ کیا کرتی ہے اور کتنے پانی میں ہے۔ اس کے کام کا انداز کیا ہے ۔

ایک گھنٹے کے بعد وہ اس بلڈنگ کے نیچے فوروہیل روک کر اتر چلی تھیں ، جس میں نویرا کا آفس تھا اور وہ اس کی ملکیت تھی ۔ان کے اترتے ہی ایک دم سے وہاں پر ہلچل مچ گئی ۔بلیو کیٹ کے لوگ بھی وہاں موجود تھے۔ اور ظاہر ہے سلیم ٹانڈیا کے لوگ بھی تھے۔ بلیو کیٹ کسی بھی خوف سے بے نیاز آ گے بڑھتی چلی گئی ۔ نینا بھی اس کے ساتھ تھی ۔ وہ پوری طرح الرٹ تھی ۔ کسی بھی وقت کچھ بھی ہو سکتا تھا۔وہ بلڈنگ کے لاﺅنج میں آئیں تو سامنے لفٹ تھی ۔ وہ اس جانب نہیں گئی ۔ بلکہ اس نے کسی بلی کی مانند انتہائی تیزی سے سیڑھیاں چڑھنا شروع کر دیں۔ وہ لفٹ میں بند نہیںہونا چاہتی تھی ۔ اسے یہ تک معلومات تھیں کہ نویرا کا آفس کس منزل پر ہے۔ وہ ابھی تیسری منزل پر تھی کہ بلیو کیٹ کا فون بج اٹھا۔ اس نے کال پک کی ، چند لمحے سنا اور فون بند کر کے بولی

” نینا۔!چل لفٹ میں ، کلیئر ہو گیا۔“ یہ کہتے ہوئے وہ سنی ان سنی کرتے ہوئے لفٹ کی جانب بڑھی ۔ چند منٹ بعد وہ لفٹ میں تھیں تبھی نینا نے پوچھا

” وہ ٹانڈیا، ہمارے انتظار میں ہوگا، کچھ کیا ہے اس کا مجھے بتا تو دو ۔“

” اب گیم دیکھ۔ ہوتا کیا ہے ۔“ اس نے سکون سے کہا

” میں سمجھی نہیں۔“

” دیکھ ۔! یہاں اس بلدنگ میں دوسرے بہت سارے لوگوں کے آفس ہیں۔ ان کی ایک انتظامیہ ہے ۔ میرے ساتھیوں نے یہاں آنے سے پہلے ، انہیںفون کر کے بتا دیا کہ نویرا کے آفس میں کیا ہونے لگا ہے ۔ وہ سب وہاں پر ہیں۔ مجھے لگتا ہے ایک تھپڑ کی بھی نوبت نہیںآئے گی ۔“ اس نے کہا اتنے میںلفٹ کھل گئی اور وہ نویں منزل پر تھیں۔

سامنے کافی سارے لوگ جمع تھے۔ انہیں دیکھتے ہی وہ ایک لمحہ کو خاموش ہو گئے ۔ بلیوکیٹ کے ساتھ جڑی نینا آ گے بڑھیں تو ایک ادھیڑ عمر شخص نے پوچھا

” آپ نے شاید یہاں کسی سے ملنا تھا؟“

” شاید نہیں، یقیناً ملنا تھا۔ وہ سلیم کدھر ہے ، پہلے مجھے اس سے بات کرنا ہے ۔“ بلیو کیٹ نے پوچھا

” وہ لوگ چلے ہیں، ہم نے انہیں بھیج دیا ہے ۔“

” کیوں؟“ اس نے مصنوعی حیرت سے پوچھا

” ظاہر ہے ہم نے جب کہا کہ پولیس کو بلواتے ہیں تو انہوں نے جانا ہی مناسب سمجھا۔“ وہی شخص بولا توبلیوکیٹ نے نینا کو ساتھ لیا اور آگے بڑھتے ہوئے بولی

” نویرا کو بلاﺅ ۔“

نینا فون کرنے لگی ۔تبھی اسی ادھیڑ عمر شخص نے کہا

” میرا خیال ہے آپ بھی پلیز اس وقت واپس چلے جائیں، تاکہ کوئی ….“

” مجھے اس بلڈنگ کی مالکن نے بھیجا ہے ، وہ ابھی راستے میں ہیں، ابھی آ جاتی ہیں۔“

”میڈم نویرا آ رہی ہیں۔“ اس نے حیرت سے پوچھا

” جی ۔“ یہ کہہ کر وہ آفس کے اندر جا کر بیٹھ گئی ۔کمپنی کا نیا منیجر آصف کا آدمی تھا۔وہ وہاں پر آ گیا۔جبکہ بلیو کیٹ نے اس کی طرف دیکھا بھی نہیں۔ اس نے آتے ہی پوچھا

” جی فرمائیں ۔“

” ابے چل ، تیری مالکن کے آ نے کے بعد بات ہوگی۔“ بلیو کیٹ نے حقارت سے کہا اور نینا کی جانب دیکھا۔ اس نے نویرا کے آ نے کا عندہ دے دیا۔

زیادہ وقت نہیں گذرا تھا۔ نویرا وہاں آ گئی ۔ وہ وہاں کے لوگوں کے ساتھ مصروف ہو گئی ۔تبھی بلیو کیٹ نے آصف کے سیل فون سے ٹانڈیا کے ساتھ رابطہ کیا۔

” اَبے کہاں ہے تُو ، میں اِدھر ہوں ، کہاں ہے تیری پارٹی جو یہ سب خریدنا چاہتے تھے؟“

دوسری طرف سے کوئی جواب نہیں دیا گیا ۔ بلکہ ویسے ہی فون بند کر دیا۔ یہ خاموشی یونہی نہیںتھی ۔

چونکہ عمارت نویر ا کی تھی ۔ وہ سبھی اس کے کرائے دار تھے ۔ نویرا نے انہیں حقیقت بتائی تو وہ سبھی اس کے ہمنوا ہو گئے ۔انہوںنے یقین دلایا کہ وہ انہی کے ساتھ ہیں۔ نویرا نے ان چندپرانے ملازمین کو وہاں رہنے دیا جن کے بارے وہ سمجھتی تھی کہ وہ وفادار ہو سکتے ہیں ۔باقیوں کو ایک ہفتے بعد آنے کےلئے کہہ دیا ۔ اسی میں دو گھنٹے سے زیادہ کا وقت گذر گیا۔ نویرا نے وہاں ایک طرح سے اپنا قبضہ لے لیا تھا۔ دو گھنٹے بعد جب وہ وہاں سے نکلے تو ان کارخ نویرا کے بنگلے کی طرف تھا۔ اس جانب جاتے ہوئے بلیوکیٹ بالکل خاموش تھی ۔اس کا فون بھی نہیں بج رہا تھا۔ نینا نے بھی کوئی بات نہیںتھی۔یہ خاموشی عجیب سی لگ رہی تھی۔ تقریباً بیس منٹ بعد بلیوکیٹ نے نینا سے کہا

” نویرا سے کہو ، اپنے بنگلے تک بہت محتاط ہو کر جائے ۔“

” کیا تم سمجھتی ہو کہ ….“ نینا نے اپنی بات ادھوری چھوڑ دی تو وہ بولی

” دشمن کا کوئی اعتبار نہیںہوتا۔کب ،کہاںگھات لگائے ہوئے بیٹھا ہو ، اس بارے میں کیا کہا جا سکتا ہے۔“

” تمہارا کیاخیال ہے کہ جو میچ آفس میں نہیںپڑا وہ ….“

” کہیں بھی پڑ سکتا ہے۔“ بلیوکیٹ نے اس کی بات کاٹتے ہوئے تیزی سے کہا

” اوکے ۔“ نینا نے سر ہلاتے ہوئے کہا اور نویرا کو فون کر دیا کہ وہ  محتاط رہے ۔اس نے کوئی بحث نہیں کی۔

اس وقت وہ بڑی سڑک سے اتر کر کلفٹن جانے والی سڑک پر مڑے تھے،ان کی فوروہیل کے ساتھ چند گاڑیاں مزید تھیں لیکن وہ اس طرح آ رہی تھیں جیسے ان کا فور وہیل کے ساتھ کوئی تعلق نہ ہو ۔ایسے میں وہیں سے ان کے ساتھ غیر محسوس انداز میں دو گاڑیاں مزید جڑ گئیں۔ انہیںدیکھتے ہی بلیوکیٹ چونک گئی۔ وہ چند لمحے صورت حال کو سمجھتی رہی پھر بڑ بڑانے والے انداز میںبولی

”نینا۔! لگتا ہے میچ پڑنے والا ہے۔“

” پڑ جائے یار ، جو ہوگا دیکھا جائے گا۔“ نینا نے لاپرواہی سے کہا تو بلیوکیٹ نے اس کی طرف دیکھا، پھر مسکرا کر سامنے سڑک پر دیکھنے لگی۔ وہ دونوں گاڑیاں ساتھ ساتھ میں چلتی رہی تھیں۔ وہ نویرا کے بنگلے کے سامنے گیٹ پر رُکے ، سڑک کے دونوں طرف سے کئی گاڑیاں آ کر رک گئیں۔

” لے بھئی ، پڑ گیا میچ ۔“ بلیوکیٹ نے تیزی سے کہا اور اپنا پسٹل نکال کر ہاتھ میں لے لیا۔

” تم فکر نہیںکرو، میں دیکھتی ہوں انہیں۔“ نینا نے یوں کہا ،جیسے اس کے گلے سے غصہ اُبل پڑا ہو ۔نویرا کی گاڑی نے ہارن دیا ۔جس کے جواب میں کوئی رنسپانس نہیں ملا ۔ گیٹ ویسے ہی بند رہا ۔بار بار ہارن دینے کے باوجود بھی گیٹ نہیں کھلا تو نینا نے فوروہیل سے اترتے ہوئے کہا

” میں دیکھتی ہوں۔“

تبھی بلیو کیٹ نے اسے پکڑتے ہوئے وحشت ناک انداز میں تیزی سے کہا

” پاگل ہو گئی ہو ، ایک دم سے فائر ہوگا ۔“

” تم دیکھتی جاﺅ ، ہوتا کیا ہے۔“ نینا نے خود کو نرمی سے چھڑاتے ہوئے کہا۔ اس نے پسٹل کو اپنے پیٹ کے ساتھ اُڑسا۔ اچانک دروازہ کھول کرایک دم سے نیچے آئی۔ وہ چند قدم پیچھے گئی اور پھر تیزی سے بھاگتے ہوئے اچھل کر گیٹ پر پاﺅں رکھا اور اگلے ہی لمحے وہ گیٹ کے سر پر تھی ۔ جس وقت اس نے دوسری جانب چھلانگ لگائی ، تب کہیں جا کر کسی کی سمجھ میں آ یا کہ وہ کیا کرنے جا رہی ہے ۔تبھی اچانک فائر ہوئے ۔ نینا نے نیچے فرش تک آتے ہوئے اپنا پسٹل نکال لیا تھا۔ اس کے سامنے تین لوگ کھڑے تھے۔ جب تک وہ سنبھلتے اس نے فائر کر دیئے ۔کسی کے وہم و گمان میںبھی نہیںتھا کہ کوئی یوں بھی آ سکتا ہے ۔ دو بندے ڈھیر ہو گئے اور ان میں تیسرا بندہ سامنے کی جانب بھاگ گیا۔نینا نے ان دونوں زخمیوں کو کورکرتے ہوئے چشم زدن میں گیٹ کا بولٹ کھول دیا۔ باہر فائرنگ شروع ہو چکی تھی ۔بلیو کیٹ نے فورہیل اندر کی تو اس کے ساتھ ہی نویرا کی گاڑی بھی اندر آ کر پورچ میں چلی گئی ، جبکہ بلیو کیٹ فوروہیل سے باہر نکل آ ئی تھی ۔وہ پچھلی سیٹ سے ایک تھیلا نکال لائی تھی ۔ان کے پاس یہی چند منٹ تھے۔ بلیو کیٹ نے اس تھیلے میں سے ہنڈ گرنیڈ نکالتے ہوئے بولی

” ادھر جاﺅ ، نویرا کو اندر خطرہ ہو سکتا ہے ۔“

یہ سنتے ہی نینا اس جانب بھاگ کھڑی ہوئی ۔

جاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

عورت زاد امجد جاوید قسط نمبر 9

عورت زاد امجد جاوید قسط نمبر 9 باقی کاریں بھی اندر آ رہی تھیں۔ نویرا …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے