سر ورق / ناول / درندرہ۔۔ خورشید پیرزادہ ۔۔۔قسط نمبر 16

درندرہ۔۔ خورشید پیرزادہ ۔۔۔قسط نمبر 16

قسط نمبر 16

درندرہ۔۔ خورشید پیرزادہ

رفیق رات کو دیر تک درندے کی تلاش میں مارا مارا پھرتا رہا پھر وہ گھر آیا تو بستر پر گرتے ہی گہری نیند نے اسے دبوچ لیا-اور صبح دس بجے ہی اس کی آنکھ کھلی- جاگنے کے بعد اس سب سے پہلے راجو کو فون ملایا-اور اس سے خیریت معلوم کرنے کے فریش ہونے باتھ روم میں گھس گیا- ہسپتال پہنچتے پہنچتے گیارہ بج گئے- جس وقت وہ ہسپتال میں اندر داخل ہوا تو ایس پی صاحب کو ڈسچارج کیا جا رہا تھا جبکہ شہلا کو مزید ایک دن کے لئے رو ک لیا گیا تھا- ایس پی صاحب کو ان کی گاڑی میں بٹھانے کے بعد وہ شہلا سے ملنے پہنچا-

جب وہ کمرے میں داخل ہوا تو اس نے دیکھا کہ چوہان ‘ شہلا سے کچھ باتیں کر رہا ہے- شہلا نے رفیق کو دیکھا مگر اسے نظر انداز کرتے ہوئے چوہان سے باتیں کرتی رہی-

”اوہ مسٹر رفیق مغل صاحب آئے ہیں- اچھا میڈم میں چلتا ہوں-“ چوہان ‘ رفیق کی طرف دیکھ کر ہنستا ہوا باہر چلا گیا-

رفیق دور کھڑا سب دیکھ رہا تھا- ”میڈم اب کیسی طبیعت ہے آپ کی؟-“

”ٹھیک ہوں اور زندہ ہوں- ابھی تم جاﺅ بعد میں بات کریں گے-“شہلا نے بے رخی سے جواب دیا-

”تو چوہان اپنی گیم کھیل گیا-اسی لئے میری طرف دیکھ کر ہنس رہا تھا-کوئی بات نہیں میڈم— میری قسمت ہی ایسی ہے- جس سے محبت کرتا ہوں دور ہوجاتی ہے- اب تو عادت سی ہوگئی ہے ان باتوں کی- آپ ہمیشہ خوش رہیں-“ رفیق یہ سوچتا ہوا بھرے ہوئے دل سے باہر آگیا-اس کی آنکھیں نم ہو رہی تھیں-

اس دن رفیق کا کسی کام میں دل ہی نہیں لگ رہا تھا- بس اپنی جیپ لے کر شہر میں یہاں وہاں گھومتا رہا- وہ دوبارہ ہسپتال بھی نہیں گیا- جب وہ شام پانچ بجے کے قریب تھانے میں داخل ہوا تو وہاں بھی چوہان سے سامنا ہوگیا-

”مسٹر رفیق مغل— کہاں تھے آپ— کب سے آپ کو ڈھونڈ رہے ہیں-“

”شاید میرا فون نمبر تو ہے آپ کے پاس-“ رفیق نے سخت لہجے میں کہا-

”وہ سب چھوڑو- تم یہ بتاﺅ کہ سسپینڈ ہونے کے بعد تم کہاں چلے گئے تھے- میرا مطلب ہے کس شہر گئے تھے-“

”آپ کو اس سے کیا مطلب؟-“

”کیونکہ آپ کو واپس وہیں جانا پڑے گا-“

”وہ کس خوشی میں-“

”ارے آپ کو پتہ ہی نہیں ہے کہ آپ دوبارہ سسپینڈ ہو گئے ہیں- ہی ہی ہی-“ چوہان اس کا مذاق اڑاتا ہوا بولا-

یہ سن کر رفیق کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں-

”یہ کیا بکواس کر رہے ہیں آپ؟-“

”کیا ڈی ایس پی صاحبہ نے آپ کو نہیں بتایا- حالانکہ آج کل تو آپ ان سے بہت زیادہ ملتے رہتے ہیں-“

رفیق دانت پیس کر رہ گیا- اس کا دل تو کر رہا تھا کہ چوہان کا منہ توڑ دے مگر وہ خاموش رہا-

چوہان نے اس کے ہاتھ میں سسپینشن آرڈر تھماتے ہوئے کہا- ”یہ لو اور دفعہ ہوجاﺅ یہاں سے- اور آئندہ واپسی کا سوچنا بھی مت- کیونکہ میں ایسا کبھی نہیں ہونے دوں گا-“

”خوب— بس یہی ہونا باقی رہ گیا تھا- میڈم کو پتہ تھا اس بارے میں مگر انہوں نے مجھے بتایا نہیں- واہ سب کچھ کتنا اچھا ہو رہا ہے میرے ساتھ-“

رفیق اپنی پستول اور بیلٹ تھانے میں جمع کروا کے پیدل باہر نکل گیا- پیچھے سے بھولو اسے آواز دیتا ہوا آیا- ”سر رکئے- میں آپ کو اپنے اسکوٹر سے چھوڑ دیتا ہوں-“

”نہیں- رہنے دو بھولو- میںنے زیادہ تر دھکے کھاتے ہوئے زندگی ان سڑکوں پر ہی گزاری ہے- اچھی بات ہے- کچھ پرانی یادیں تازہ ہوجائیں گی- ویسے میری جگہ درندے کا کیس کس کو دیا جا رہا ہے-“ رفیق نے پوچھا-

”سر سکندر نام ہے ان کا- ان کا پورا نام مجھے پتہ نہیں ہے- کل صبح جوائن کر رہے ہیں وہ- سنا ہے کہ وہ یہاں آنے کے لئے کافی سفارش لگوا رہے تھے- اس کیس پر تو ان کی خاص نظر تھی-“

”اوکے میں چلتا ہوں- اپنا خیال رکھنا-“

رفیق سڑک پر چلتا ہوا سوچ میں ڈوب گیا- ”کل رات درندے نے وردا کے گھر پر حملہ کیا- پھر صرف ایک پینٹنگ رکھ کر چلا گیا- اب میں بھی سسپینڈ ہوگیا اور یہ کیس سکندر کو مل گیا- یہ سب ایک ہی سلسلے کی کڑی ہیں یا محض اتفاق- کہیں یہ سب بھی درندے کے مایا جال کا حصہ تو نہیں- اور یہ سکندر یہاں آنے کے لئے اتنا زور کیوں لگا رہا تھا- ضرور کچھ گڑبڑ ہے-اگر ہے بھی تو اب میں کیا کر سکتا ہوں- میڈم بھی ناراض ہوگئی- نوکری بھی چلی گئی- یہ زندگی بھی کیا کچھ دکھاتی ہے ہمیں-“

رفیق مرجھایا ہوا چہرہ لے کر آگے بڑھ رہا تھا- رہ رہ کر شہلا کا چہرہ اس کی آنکھوں کے سامنے گھوم رہا تھا-

”ایک اور محبت میرے اظہار کرنے سے پہلے ہی ختم ہوگئی- وردا نے بھی میری بات سنے بغیر مجھے ٹھکرا دیا تھا- میڈم نے بھی وہی کیا- شاید میں اپنی قسمت میں محبت نام کی کوئی چیز لکھوا کر ہی نہیں آیا-“

موبائل کی بیل بجنے پر رفیق کا دھیان ٹوٹا- ”کس کا فون ہو سکتا ہے-“ رفیق نے جیپ سے موبائل نکالتے ہوئے سوچا-

دوسری طرف مراد تھا-

”ہیلو- ہاں مراد- کیسے ہو تم؟-“

”میں ٹھیک ہوں- آپ سنائیں سر- راجو نے مجھے بتایا ہے کہ کل رات درندہ وردا کے گھر میں گھس آیا تھا-

”یہ راجو کون ہے؟-“ رفیق نے حیرت سے پوچھا-

”سر ریاض حسین کو ہم راجو کہہ کر پکارتے ہیں-“

”اوہ ہاں- درندہ پوری پلاننگ سے آیا تھا- مگر بغیر کچھ کئے چلا گیا- وہ پولیس والوں کو گولی مار کر گھر میں گھسا اور صرف ایک پینٹنگ وردا کے بستر پر چھوڑ کر نکل گیا- اس نے وردا تک پہنچنے کی کوشش ہی نہیں کی تھی- جبکہ ساری صورتحال اس کے قابو میں تھی- میری تو کچھ سمجھ میں نہیں آرہا ہے- بس یوںسمجھو کہ یہ ایک مایا جال ہے جس میں ہم سب الجھ چکے ہیں-“

”سر آپ نے مایا جال کا بالکل صحیح نام دیا ہے- سب کچھ الجھا ہوا ہے-“ مراد نے کہا-

ِِ”بھائی میری نوکری چلی گئی ہے- اب مجھے سر کہنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے- اب میں انسپیکٹر نہیں رہا- اب مجھے صرف رفیق کہو- مجھے اچھا لگے گا-“

”نوکری چلی گئی- مگر کیوں— کیسے؟-“ مراد حیران رہ گیا یہ سن کر-

”میں سسپینڈ ہوگیا ہوں-“ رفیق نے بتایا-

”مگر کس بات پر- کوئی تو وجہ ہوگی؟-“

”یہاں ایسے کاموں کے لئے کسی وجہ کی ضرورت نہیں ہوتی- اگر پوچھنے جائیں گے تو اول جلول جواب ہی ملے گا-“

”آپ کو کس نے سسپینڈ کیا- ڈی ایس پی شہلا صاحبہ نے؟-“

”نہیں- ڈی آئی جی صاحب نے سسپینڈ کیا ہے- اس میں میڈم کا کوئی کردار نہیں ہے-“ رفیق نے کہا-

”پھر اب آپ کیا کریں گے؟-“

”فی الحال تو گھر جا رہا ہوں- آگے کا کچھ پتہ نہیں ہے-“

”سر— سوری- رفیق اگر برا نا مانو تو میرے ساتھ آجاﺅ- ہم مل جل کر اس درندے کا کوئی نہ کوئی سراغ ڈھونڈ ہی نکالیں گے-“ مراد نے آفر دیتے ہوئے کہا-

” میں بھی یہی سوچ رہا تھا کہ تمہارے ساتھ مل کر درندے کی تلاش جاری رکھوںگا- مگر مراد اس کے لئے ہمیں کچھ ہتھیاروں کی ضرورت پڑ سکتی ہے- خالی ہاتھ درندے کے پیچھے گھومنا خطرے سے خالی نہیں ہے-میری پستول تو میں نے تھانے میں جمع کروا دی ہے-“

”میرے پاس تو ایک دیسی کٹہ ہے- وہی ساتھ میں رکھتا ہوں-“ مراد نے بتایا-

”اس سے بات نہیں بنے گی- میں کچھ کرتا ہوں- آخر پولیس کی نوکری کا تجربہ کب کام آئے گا- میں تمہیں نو بجے اپنے گھر پر ملوں گا- وہیں آجانا- بیٹھ کر آئندہ کا لائحہ عمل طے کریں گے-“

”رفیق ہمیں سب سے پہلے یہ جاننا ہے کہ کرنل کے بنگلے میں کون رہ رہا تھا- مجھے لگتا ہے کہ ہر کڑی اسی گھر سے جڑی ہوئی ہے-“

”ہاں- تم ٹھیک کہہ رہے ہو- ابھی تک کرنل کے رشتے داروں سے بھی کچھ پتہ نہیں چلا ہے- یا شاید وہاں کی لوکل پولیس زیادہ دلچسپی نہیں لے رہی ہے-“ دونوں اپنی اپنی معلومات کا تبادلہ کر رہے تھے-

”کوئی بات نہیں- ہم خود بھی تو وہاں جاکر تفتیش کر سکتے ہیں-“ مراد نے کہا-

”ہاں ٹھیک ہے- تم رات کو گھر پر آﺅ- باقی باتیں وہیں پر ہوں گی-“

رفیق نے لائن آف کرکے جیسے ہی فون جیپ میں رکھا ایک کار اس کے برابر میں آکر رکی- مونا کار سے باہر نکلی اور بولی- ”کیا ہوا انسپیکٹر صاحب- آج پیدل کہاں گھوم رہے ہیں آپ-“

”میں اب انسپیکٹر نہیں ہوں- سسپینڈ ہوگیا ہوں-“ رفیق نے اسے بھی انفارمیشن دی-

”کیا- مگر کیوں؟-“ مونا بھی چونک گئی-

”آپ نے ہمیں میڈیا میں بدنام جو کر دیا تھا-“

”دیکھیں میرا مقصد صرف پولیس ڈپارٹمنٹ پر دباﺅ ڈالنا تھا اور کچھ نہیں- میں ذاتی طور پر تمہارے خلاف رپورٹنگ نہیں کرتی تھی-“

”جانتا ہوں- یہی تو آپ کا کام ہے-“ رفیق نے مسکرا کر کہا-

”اس دن کے لئے سوری- لات زیادہ تیز تو نہیں لگی تھی آ پ کو-“

”کوئی بات نہیں میں وہ سب بھول چکا ہوں- مونا تم بھی کافی عرصے سے اس کیس کو فالو کر رہی ہو- کیا ایک کام کر سکتی ہو-“رفیق نے کچھ سوچ کر کہا-

”ہاںبولو-“

”پولیس سے تو میں نکالا جا چکا ہوں- مگر اس کیس کو حل کرکے ہی رہوں گا- ہم ایک ٹیم بنا رہے ہیں- کیا تم اس ٹیم میں شامل ہونا چاہو گی- ہمیں بہت مدد ملے گی تمہارے آنے سے-“

”آف کورس میں تمہارے ساتھ ہوں- بتاﺅ کیا کرنا ہے-“ یہ سن کر مونا بہت زیادہ ایکسائیٹڈ ہو رہی تھی-

”آج رات نو بجے میرے گھر آجانا- اور تمہارے پاس اب تک کی جو بھی انفارمیشن ہے لیتی آنا-“

”اوکے- میں ٹھیک نو بجے پہنچ جاﺅں گی-“ مونا نے مسکرا کر کہا اور رفیق کو خدا حافظ کہہ کر چلی گئی-

”مسٹر درندے- بیشک میری نوکری چلی گئی ہے مگر تمہاری تلاش ابھی باقی ہے- تمہیں تو میں کبھی نہیں چھوڑوں گا-“ رفیق دل ہی دل میں اپنے عہد کو پکا کر رہاتھا-

٭٭٭٭٭٭٭

شہلا ہسپتال کے کمر ے میں اداس لیٹی ہوئی تھی- صبح اس نے رفیق کو نظر انداز کر دیا تھا اور اس سے سیدھے منہ بات بھی نہیں کی تھی-لیکن جب سے اسے رفیق کے سسپینڈ ہونے کی خبر ملی تھی تب سے وہ با ر بار دروازے کی طرف دیکھ رہی تھی-

ہر آہٹ پر اسے ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے رفیق آگیا ہو-

”رفیق مجھے بھی اچھا نہیں لگ رہا کہ تمہیں بات کئے بنا ہی یہاں سے نکال دیا تھا- پتہ نہیں مجھے کیا ہوگیا تھا- چوہان نے تمہارے اور اپنی بہن کے تعلقات کے بارے میں جو کچھ بتایا تھا اسے سن کر میرا موڈ آف ہوگیا تھا- تم نے مجھے پہلے ہی سب کچھ کیوں نہیں بتا دیا- جبکہ میں نے تم سے پوچھا بھی تھا-“ شہلا خود سے ہی باتیں کر رہی تھی-

یہی سوچتے ہوئے اس نے فون اٹھایا اور رفیق کا نمبر ملایا- مگر نیٹ ورک بزی ہونے کی وجہ سے کال نہیں ملی- رفیق نے بھی شہلا کا نمبر ٹرائی کیا مگر رابطہ نہ ہوسکا- ایسا ہوتا ہے کہ جب ہمیں کسی سے بات کرنے کی اشد ضرورت محسوس ہوتی ہے مگر کچھ ایسی رکاوٹیں بیچ میں آجاتی ہیں کہ ہم رابطہ ہی نہیں کر پاتے- ایسا ہی کچھ رفیق اور شہلا کے ساتھ بھی ہو رہا تھا-

وہاں رفیق یہ سوچ رہا تھا کہ کہیں میڈم نے میرا نمبر بلاک تو نہیں کر دیا-

٭٭٭٭٭٭٭

رات کے نو بجے رفیق کے گھر پر درندے کا شکار کرنے کے لئے ٹیم تیار ہو رہی تھی- راجو بھی ورداکو لے کر وہاں آگیا تھا- ایک طرح سے اسپیشل ٹاسک فورس کی تیاری ہو رہی تھی-

جب سب لوگ جمع ہوگئے تو رفیق نے اس میٹنگ کا آغاز کرتے ہوئے کہا- ”ہم سب یہاں ایک مقصد کے تحت جمع ہوئے ہیں- ہم سب جانتے ہیں کہ درندے نے شہر میں خوف اور دہشت کی فضا قائم کر رکھی ہے- تقریباً ہم سب کا ہی اس درندے سے کسی نہ کسی طرح سامنا ہوچکا ہے- اس لئے یہ ہمارا اخلاقی فرض ہے کہ ہم اسے پکڑنے کے لئے ہر ممکن کوشش کریں-“

”میرا اس درندے سے کبھی سامنا نہیں ہوا-“ مونا نے کہا-

”اوہ مجھے لگا کہ رپورٹر ہونے کے ناطے وہ درندہ کہیں نہ کہیں تم سے بھی ٹکرایا ہوگا- لیکن ایک بات سن لیں- وہ درندہ عام زندگی میں بغیر نقاب کے ہم سب کے سامنے گھومتا پھرتا رہتا ہے- اور وہ نقاب اس لئے پہنتا ہے کہ وہ معاشرے میں اپنی عزت کھونے سے ڈرتا ہے- مونا تم بھی اس درندے سے ضرور ملی ہوگی- مگر تم کو یہ پتہ نہیں چلا ہوگا کہ وہی درندہ ہے-“

”ہاں یہ دلچسپ بات ہے-“ مونا نے کہا-

”سر اس نے رات کو وردا کے گھر پر جو عجیب کھیل کھیلا- اس کی کیا وضاحت ہوسکتی ہے- وہ صرف پینٹنگ رکھنے تو نہیں آیا ہوگا؟-“ راجو نے کہا-

”اسی گتھی کو سلجھانے کے لئے تو ہم یہاں جمع ہوئے ہیں- چلیں ہم سب مل کر سوچتے ہیں کہ اس نے ایسا کیوں کیا ہوگا-“ رفیق بولا-

”وہ اپنے شکار کو خوفزدہ کرکے خوش ہوتا ہے- ہوسکتا ہے کہ کل رات وہ وردا کے گھر پر وہ صرف یہی کام کرنے آیا ہو-“ مونا نے اپنا خیال پیش کیا-

”لیکن اس کے لئے اس نے بہت بڑا خطرہ مول لیاتھا- اس لئے وجہ بھی کوئی بڑی ہی ہونی چاہئے-“ رفیق نے کہا-

”ہوسکتا ہے کہ وہ پولیس کے ڈر سے بھاگ نکلا ہو-“ یہ مراد کا خیال تھا-

”مگر پولیس تو بہت دیر سے پہنچی تھی- وہ بہت دیر تک اوپر کسی کام میں مصروف رہا تھا-“ راجو نے بتایا-

”جو پینٹنگ وہ لایا تھا وہ بھی کوئی تازہ بنی ہوئی نہیں تھی- اس لئے یہ بھی نہیں کہا جاسکتا کہ وہ اوپر بیٹھ کر پینٹنگ بنا رہا تھا-“ رفیق نے ایک اور دلیل دی-

”رفیق تم صحیح کہہ رہے ہو- یہ ضرور اس درندے کا کوئی مایا جال ہے- اس نے ایسا کیوں کیا- یہ صرف وہی بتا سکتا ہے-“ مراد بولا-

”مایا جال تو ہے- مگر مجھے یقین ہے کہ ہم سب مل کر اسے سلجھا سکتے ہیں-“ رفیق نے اپنے یقین کا اظہار کرتے ہوئے کہا-

وردا خاموشی سے سب کی باتیں سن رہی تھی- رفیق نے اس کی طرف دیکھا اور بولا- ”وردا تم بھی تو کچھ بولو- یہاں ہم سب کا ایک ہی مقصد ہے- اس سے پہلے کہ درندہ ہمیں شکار کرکے اپنے فن کا نمونہ بنا لے- ہمیں اسے آرٹ کا نمونہ بنانا ہوگا- اور یہ تب ہی ممکن ہے جب ہمیں یہ پتہ ہو کہ درندہ آخر ہے کون-“

”رفیق میرے دماغ نے تو جیسے کام کرنا ہی بند کر دیا ہے- میں نے اسے دیکھا تھا اور دیکھ کر بھول گئی- اگر اس کا چہرہ یاد رہتا تو شاید کچھ کر سکتی تھی- اب کیا کروں کچھ سمجھ میں نہیں آرہا-“ وردا واقعی الجھی ہوئی تھی-

”کوئی بات نہیں- تم ہمارے ساتھ یہاں ہو‘ یہی بڑی بات ہے ہمارے لئے- تم کو جو بھی بات سمجھ میں آئے ہم سے ضرور شیئر کرنا-“ رفیق نے اسے تسلی دیتے ہوئے کہا-

”ہاں کیوں نہیں-“

”ہمارا پلان آف ایکشن کیا ہوگا-“ راجو نے پوچھا-

”ہمیں سب سے پہلے تو کرنل کے گھر کے راز سے پردہ اٹھانا ہے- پتہ کرنا ہے کہ وہاں کون رہ رہا تھا- یہ کا م میں اور مراد کریں گے-“ رفیق نے اپنے پلان کا پہلا حصہ بتاتے ہوئے کہا-

”میرے لئے کیا حکم ہے-“ مونا نے پوچھا-

”تم درندے کے بارے میں کوئی انفارمیشن نہیں لا سکیں-“ رفیق نے کہا-

”جتنا تم جانتے ہو شاید اتنا یا اس سے کچھ کم میں جانتی ہوں- مجھے اس کے بارے میں زیادہ کچھ پتہ نہیں ہے-“ مونا نے جواب دیا-

”لیکن اب ہمیں اس بارے میں سب کچھ جاننا ہے- ہم سب ایک دوسرے کا نمبر لے لیتے ہیں- کسی کو بھی کوئی نئی انفارمیشن ملے تو وہ فوراً دوسروں سے رابطہ کرکے شیئر کرے گا- اور راجو تم کوہر وقت ہوشیار رہنا ہوگا- درندہ اپنی کچھار سے نکل وہاں دوبارہ ضرور آئے گا-“

”رفیق کیوں نہ وردا کے گھر کے آس پاس ہم بھی ایک کمرہ لے لیں- وہ درندہ وردا کے پیچھے ہے- اور تمہارا یہ خیال درست ہے کہ وہ دوبارہ ضرور آئے گا وہاں پر- ہم اسے وہیں ٹریپ کر سکتے ہیں-“ مراد نے تجویز پیش کرتے ہوئے کہا-

”ہاں تم ٹھیک کہہ رہے ہو- ہم کل ہی یہ کام کرلیں گے- دن میں ہم چاہے کہیں بھی رہیں مگر رات کو وردا کے گھر کے آس پاس رہنا ضروری ہے-“ رفیق نے تجویز کی تائید کرتے ہوئے کہا-

ان ہی باتوں میں رات کے ساڑھے دس بج گئے- اور رفیق نے میٹنگ برخاست کر دی- سب باہر نکلے اور رفیق اپنی کار میں راجو اور وردا کے ساتھ نکل گیا- اسے شہلا سے ملنے کے لئے ہسپتال جانا تھا- راستے میں رفیق ہسپتال کی طرف مڑ گیا اور راجو نے اپنی جیپ وردا کے گھر کی طرف موڑ لی-

رفیق چاہتا تھا کہ انہیں گھر تک چھوڑ کر آئے مگر راجو نے یہ کہہ کر منع کر دیا تھا کہ ”سر میں سنبھال لوں گا- آپ فکر نہ کریں-“

راجو خاموشی سے جیپ ڈرائیو کر رہا تھا- اور برابر میں وردا بھی خاموش بیٹھی ہوئی تھی- پھر راجو نے ہی اس خاموشی کو توڑا-

”درندے نے سب کے دماغ کی چولیں ہلا کر رکھ دی ہیں-“

ِ”ہاں- اسے سمجھنا بہت مشکل کام ہے-“ وردا نے کہا-

اچانک راجو نے ایک جگہ جیپ روک دی-

”کیا ہو؟-“ وردا نے پوچھا-

”یہاں سے میرا گھر بہت نزدیک ہے- کیا آپ وہاں چلیں گی-“ راجو نے کہا-

”تمہارے ساتھ کہیں بھی چلنے کو تیار ہوں- لیکن ذرا تمیز کے دائرے میں رہنا-“ وردا اس کی طرف دیکھتے ہوئے بولی-

”یہ تمیز کا گناہ ہی نہیں کر سکتا – باقی سب اوکے ہے-“ راجو نے ہنستے ہوئے کہا-

”اب تمہارے ساتھ چلنا تو ہے ہی- چلو جو ہوگا دیکھا جائے گا-“ وردا نے یہ کہہ کر ایک گہری سانس لی-

”یہ ہوئی نا بات- محبت کے ایڈونچر کا بھی اپنا الگ ہی مزا ہے-“ راجو نے جیپ اپنے گھر کی طرف موڑ دی-

دس منٹ بعد جیپ راجو کے گھر کے آگے رک رہی تھی-

”گھر کے نام پر یہ چھوٹا سا کمرہ ہے میرے پاس- اندر چھوٹا سا کچن بھی ہے اور ایک ٹوائلٹ بھی- میں آپ کی طرح کبھی محلوں میں نہیں رہا-“ راجو نے تالا کھولتے ہوئے کہا-

”بس بس طعنے مت دو- اکیلے فرد کے لئے ایک کمرہ بھی بہت ہوتا ہے-“

”ہاں- لیکن آپ سے شادی کے بعد مجھے نیا گھر تو لینا ہی ہوگا-“ اب راجو دروازے کی کنڈی کھول رہا تھا-

”اندر آیئے اور اپنے حسن و جمال سے میرے گھر کو مہکا دیجئے-“ راجو نے ادب سے جھک کر کہا-

وردا اندر آئی تو حیران رہ گئی- ”اوہ مائی گاڈ- یہ گھر ہے یا کباڑ خانہ- سب کچھ بکھرا ہوا ہے-“

”میری کئی دنوں سے تو آپ کے ساتھ ڈیوٹی لگی ہوئی ہے- یہاں کون صفائی ستھرائی کرتا- لیکن ڈونٹ ووری میں ابھی سب ٹھیک کر دیتا ہوں- کیونکہ ساری رات یہیں بتانی ہے-“

”کیوں- کیا ہم گھر نہیں جائیں گے-“ وردا نے پوچھا-

”کیا یہ آپ کا گھر نہیں ہے-“

”وہ بات نہیں ہے مگر—–“

”اوہ ہاں یہ آپ کی حیثیت کے مطابق نہیں ہے- ہے نا-“ راجو کے لہجے میں طنز تھا-

”ایسا نہیں ہے راجو- تم میری بات کا غلط مطلب لے رہے ہو- ہم ایک ساتھ اس کمرے میں کیسے رہ سکتے ہیں-“

”کیوں- کیا کل رات ہم دونوں چھوٹے سے بستر پر ایک ساتھ نہیں سوئے تھے کیا- تو پھر یہاں ایک ساتھ رہنے میں کیا ہرج ہے- آپ بیٹھیں میں جلدی سے صفائی کر دیتا ہوں-“

وردا زبان سے کچھ نہیں بولی مگر دل میں سوچ رہی تھی کہ ”تم سے اتنی محبت کرتی ہوں کہ تمہاری کوئی بات ٹالی نہیں جاتی- اور تم اسی چیز کا ناجائز فائدہ اٹھا رہے ہو-“

وردا کچھ دیر تک تو راجو کو کام کرتا دیکھتی رہی پھر خود بھی اٹھ کر اس کے ساتھ لگ گئی- بیس منٹ کی محنت کے بعد دونوں نے کمرے کو ایک چمکا دیا-

”میں تو پسینے پسینے ہو رہی ہوں- اب تو نہانا پڑے گا-“ وردا بولی-

”ہاں نہا لیں- یہاں پانی کی کوئی قلت نہیں ہے- سارا دن پانی آتا ہے-“

”ٹھیک ہے- مجھے تولیہ د و میں نہا کر آتی ہوں-“

راجو نے ایک تولیہ وردا کو تھما دیا اور بولا- ”نہانا تو مجھے بھی تھا- اگر آپ اجازت دیں تو میں بھی آپ کے ساتھ آجاتا ہوں- وقت کی بچت ہوجائے گی-“

”وقت کی بچت کرکے کیا کرلو گے- اب ہم ساری رات یہیں تو ہیں- چپ چاپ انتظار کرو- بدمعاش کہیں کے-“ وردا تولیہ لے کر باتھ روم میں گھس گئی-

جب وردا نہا کر باہر نکلی تو راجو اسے دیکھتا ہی رہ گیا-

”ایسے کیا دیکھ رہے ہو-“ وردا نے لجا کر کہا-

”پانی کی بوندوں میں بھیگے ہوئے یہ سیاہ گیسو- میرے دل میں ہلچل مچا رہے ہیں-“ راجو شاعرانہ انداز میں بولا-

”اب تم بھی جا کر نہالو- اور مجھے بال سکھانے دو-“

راجو بھی غسل خانے میں گھس گیا اور جب وہ نہا کر باہر نکلا تو وردا ابھی بھی اپنے بال سکھا رہی تھی- اس کی پشت راجو کی طرف تھی- راجو اس کے سراپے میں کھو سا گیا اور اپنے آپ پر قابو نہ پاتے ہوئے اس نے پیچھے سے آکر وردا کو اپنی بانہوں میں لے لیا- وردا اچھل کر کھڑی ہوگئی-

”یہ کیا حرکت ہے- تم نے تو مجھے ڈرا ہی دیا تھا-“ وہ غصے سے بولی-

”کیا کروں خود کو روک نہیں پایا- سوری-“

”واہ- پہلے کچھ بھی کرو اور پھر سوری بول دو- یہ اچھا طریقہ ہے تمہارا-“

”ہاں- طریقہ تو اچھا ہی ہے- ہی ہی ہی-“ راجو بے شرمی سے ہنسنے لگا-

”تم ایک نمبر کے بدمعاش ہو-“ وردا نے چڑ کر کہا-

”وہ تو میں ہوں- اس میں کیا شک ہے-“

وردا دیوار پر ٹنگے چھوٹے سے آئینے کے سامنے آکر اپنے بال سنوارنے لگی- ”تم سچ میں پاگل ہو-“

راجو آکر وردا کے پیچھے کھڑا ہوگیا اور آئینے میں اس کی صورت دیکھتے ہوئے بولا- ”وردا- آئی لو یو-“

”راجو آئی لو یو ٹو-لیکن-“ وردا نے بھی اسے آئینے میں ہی جواب دیا-

”لیکن کیا؟-“

”ہم دونوں کی سوچ الگ ہے راجو- تم مجھ سے جو چاہتے ہو میںاس میں تمہارا ساتھ نہیں دے سکتی-“

”میں کیا چاہتا ہوں- ذرا کھل کر بتاﺅ-“

”تمہیں سب پتہ ہے کہ تم کیا چاہتے ہو- زیادہ ناٹک مت کرو-“

”کیا ناٹک کر رہا ہوں میں-“ یہ کہتے ہوئے راجو نے وردا کے گرد اپنی بانہوں کا گھیرا ڈال دیا-

ِ”ہٹ جاﺅ- ورنہ میں زندگی بھر تم سے بات نہیں کروں گی-“ وردا چلا کر بولی-

راجو ہٹ گیا اور بستر پر لیٹ کر آنکھیں بند کرلیں-

”ہاں اب ناراض ہونے کا ناٹک کرو- تاکہ میں تمہیں منانے آﺅں اور تم پھر سے اپنی بدمعاشی شروع کردو- آئی ہیٹ یو- اب میرے قریب بھی مت آنا- تم بہت گندے ہو-“ وردا ابھی بھی غصے میں تھی-

”اب آپ سے کبھی کچھ نہیں کہوں گا- نہ ہی آپ کے نزدیک آﺅں گا- اپنی ہر حرکت کے لئے سوری کہتا ہوں-“ راجو بستر سے اٹھا او رفرش پر چٹائی بچھا کر اس پر لیٹ گیا اور ایک کپڑوں کی گٹھری کو تکیہ بنا کر سر کے نیچے رکھ لیا-وردا سمجھ گئی کہ راجو نے بستر اس کے لئے خالی کر دیا ہے- وردا بستر پر بیٹھ گئی اور گھٹنوں میں سر ٹکا کر سسکنے لگی-

”تمہیں میرے جذبات کی ذرا سی بھی پرواہ نہیں ہے- تم کیا پیار نبھاﺅ گے- جب سے ہماری محبت ہوئی ہے کیا تم نے ایک بار بھی میرے بارے میں کچھ جاننے کی کوشش کی ہے- کیا تم نے کبھی مجھ سے یہ پوچھا کہ امی ابو کو کھونے کے بعد میں اکیلی رہ کر کیا محسوس کرتی ہوں- کیا تم نے کبھی یہ پوچھا کہ میری پہلی شادی کیوں ناکام ہوگئی تھی- نہیں— کیونکہ تمہیں میرے دکھ درد سے کوئی واسطہ جو نہیں ہے- تمہیں تو بس صرف میرا بدن چاہئے اور وہ بھی جلد سے جلد- تم تو مرے جا رہے ہو میرے بدن سے کھیلنے کے لئے- انتظار کرنا تمہارے لئے مشکل ہو رہا ہے- تم صرف ہوس کے پجاری ہو- جسے عورت کے جسم کے سوا کچھ دکھائی نہیں دیتا- نہ اس کے احساسات کا پتہ چلتا ہے تمہیں اور نہ ہی اس کی روح کی گہرائی میں بسے دکھ کا-تم نے کبھی میرے دل میں جھانک کر دیکھنے کی کوشش ہی نہیں کی- تمہاری ساری بھاگ دوڑ صرف میرے بدن پر ہی آکر رک جاتی ہے- شاید تمہارے نزدیک یہی محبت ہے- کیا تمہیں پتہ بھی ہے کہ امی ابو کے بچھڑنے کے بعد میں نے ایک ایک دن کس ہال میں رہ کر گزارہ ہے‘ بکھر کر رہ گئی ہوں میں- تمہاری محبت نے میری اندھیری زندگی میں امید کی ایک کرن روشن کی تھی مگر اب سب ختم ہوتا ہوا نظر آرہا ہے- تمہاری ساری محبت کا محور صرف میرا جسم ہے- اور شاید تم اس سے آگے سوچ بھی نہیں سکتے-“ وردا روتے ہوئے اپنی انہی سوچوں میں الجھی ہوئی تھی-

راجو ‘ وردا کے اندر ہوتی اتھل پتھل سے بے خبر آنکھیں بند کئے لیٹا رہا-

”میں آپ سے محبت کرتا ہوں اور آپ اسے صرف جسم سے کھیلنا سمجھ رہی ہیں- آپ پتہ نہیں کون سی دنیا میں رہ رہی ہیں- آپ سے ذرا سی نزدیکی اور چھیڑچھاڑ بھی برداشت نہیں ہوتی- میں خود آپ کی طرف نہیں آتا ‘ آپ کی کشش مجھے آپ کی طرف کھینچ کر لے آتی ہے- اور اس کی وجہ سے مجھے آ پ کے طعنے سننے پڑتے ہیں-محبت ایسا بھی رنگ دکھائے گی‘ میں نے کبھی سوچا بھی نہ تھا-“ راجو اپنی ہر حرکت کو درست محسوس کررہا تھا-

پھر کچھ سوچتے ہوئے وردا نے اپنے آنسو پونچھے اور دل میں ایک فیصلہ کرتے ہوئے وہ بستر سے اٹھی او رکمرے کی لائٹ بند کرکے جھجھکتے ہوئے راجو کے برابر میں چٹائی پر لیٹ گئی- راجو کو پتہ تو چل گیا کہ وردا اس کے برابر میں لیٹ گئی ہے مگر وہ پھر بھی آنکھیں بند کئے لیٹا رہا-

”راجو— پھر سے ناراض ہوگئے؟-“

”آپ کا تو روز کا یہی ڈرامہ ہے- پہلے مجھے کتے کی طرح دھتکار دیتی ہو پھر خود ہی میرے پاس آجاتی ہو-“ راجو نے کہا-

”کیا کروں- تم سے محبت جو کرتی ہوں- تم سے زیادہ دیر دور نہیں رہ سکتی- نہ ہی تمہاری ناراضگی برداشت کر سکتی ہوں-“

”کل بھی آپ نے یہی کہا تھا کہ یہ سب مذاق ہے اور کچھ نہیں-“

”مذاق نہیں یہ سچ ہے- میں تم سے بہت ناراض ہوں پھر بھی یہاں تمہارے پاس آگئی ہوں- کیا یہ میری محبت کا ثبوت نہیں ہے-“ وردا سسکتے ہوئے بولی-

یہ سب سن کر راجو دل ہی دل میں مسکرا رہا تھا- وہ اس معصوم محبت کو اپنی بانہوں میں بھر لینا چاہتا تھا- مگر پتہ نہیں کیوں وردا کو تھوڑا اور ستانا چاہتا تھا-

”تو کیا کوئی احسان کر رہی ہیں مجھ پر-“

”نہیں- احسان تو میں خود پر کر رہی ہوں- تم سے دور رہ کر جی نہیں سکتی نا اس لئے خود پر ہی احسان کر رہی ہوں- تم ہی تو میری زندگی ہو-“ وردا نے پھر سسکتے ہوئے کہا-

اب راجو سے رہا نہیں گیا اور اس نے وردا کو اپنی بانہوں میں لے لیا- مگر جیسے ہی اس نے وردا کو اپنی بانہوں میں لیا وہ حیران رہ گیا اور فوراً وردا سے الگ ہوگیا-

”وردا- یہ سب کیا ہے- تم نے اپنے کپڑے کیوں اتارے ہوئے ہیں-“

”پتہ نہیں کیوں اتارے ہیں- بس اتارے ہی دیئے ہیں کسی طرح- اب آگے تم جانو-“ راجو کو وردا کی آواز کہیں بہت دور سے آتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی-

”یہ کیا پاگل پن ہے- کہاں ہیں تمہارے کپڑے؟-“

ِِ”بستر پر پڑے ہیں-“

راجو نے اندھیرے میں ٹٹول کر بستر سے کپڑے اٹھائے اور وردا کے اوپر پھینکے-

”جلدی سے کپڑے پہن لو ورنہ مجھ سے برا کوئی نہ ہوگا- تم نے ایسا کرکے میری محبت کی توہین کی ہے- میں تمہیں کبھی معاف نہیں کروں گا- تم نے یہ حرکت کرکے میرے منہ پر طمانچہ مارا ہے- تم یہی ثابت کرنا چاہتی ہو نا کہ میں ہوس کا پجاری ہوں اور تم معصوم لڑکی جسے میں اپنی ہوس پوری کرنے کے لئے مجبور کر رہا ہوں-مان گیا آپ کو- آپ تو درندے سے بھی زیادہ خطرناک گیم کھیل رہی ہیں میرے ساتھ- آئی ہیٹ یو- آپ نہ تو محبت کے لائق ہیں اور نہ ہی شادی کے- اب سمجھ میں آیا کیوں آپ کی پہلی شادی ناکام ہوگئی تھی- آپ رشتے نبھا ہی نہیں سکتیں-“ راجو پتہ نہیں کس ترنگ میںبولے ہی جا رہا تھا-اور کبھی تم تو کبھی آپ کا صیغہ استعمال کر رہا تھا-

یہ سب سنتے ہی وردا پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی- اور اس کے رونے کی آواز پورے کمرے میں گونج رہی تھی-

”یہ کیا تماشہ ہے- بند کرو اپنا یہ ناٹک-“ راجو زور سے چلا کر بولا-

وردا سسکتے ہوئے اٹھی اور کپڑے پہن کر دوبارہ چٹائی پر لیٹ گئی- راجو پاﺅں لٹکا کر بستر پر بیٹھ گیا-

کمرے میں ایک دم خاموشی چھا گئی- وردا ہولے ہولے سسک رہی تھی اور راجو سر پکڑے بیٹھا تھا-

٭٭٭٭٭٭٭

رفیق ہسپتال پہنچ تو گیا تھا مگر شہلا کے کمرے میں جاتے ہوئے جھجھک رہا تھا-

”پتہ نہیں بات کریں گی یانہیں- ایک بار مل کر اپنی وضاحت ان کے آگے رکھ دیتا ہوں پھر ان کی جو مرضی ہوگی‘ دیکھی جائے گی-“

یہ سوچ کر رفیق دبے پاﺅں کمرے میں داخل ہوا تو شہلا آنکھیں موندے لیٹی ہوئی تھی- رفیق نے اسے جگانا مناسب نہیں سمجھا اور واپس جانے لگا-

”رفیق-“ شہلا نے آواز دی-

رفیق آواز سن کر فوراً مڑ گیا- ”آپ جاگ رہی ہیں؟-“

تم مجھے سونے دو گے تو سوﺅں گی نا- صبح سے کہاں تھے- فون بھی نہیں مل رہا تھا تمہارا–“ شہلا نے کہا-

”میڈم صبح آپ نے مجھے یہاں سے جانے کا کہا تو میں دل میں درد اور آنکھوں میں آنسو لے کر یہاں سے چلا گیا تھا-“

”جو بات تمہارے بتانے کی تھی وہ مجھے چوہان نے بتائی- اس لئے مجھے بہت برا محسوس ہوا تھا-“

”میڈم میں نے کبھی ریما سے محبت نہیں کی- ہاں ہم اچھے دوست ضرور بن گئے تھے- اور وہ ہی مجھ سے شادی کرنا چاہتی تھی-“ رفیق نے وضاحت دیتے ہوئے کہا-

”کیا— یہ بات تو چوہان نے مجھے نہیں بتائی-“ شہلا چونک کر بولی-

”جی ہاں میڈم— وہ مجھ سے یک طرفہ محبت کرنے لگی تھی- اگرچہ میرے دل میں اس کے لئے محبت کے جذبات نہیں ابھرپائے تھے مگر میں پھر بھی اس کے ساتھ شادی کے لئے راضی ہوگیا تھا- لیکن چوہان اس بات کے لئے رضامند نہیں تھا- اس لئے وہ اتنی جلدی ریما کی شادی کہیں اور کر رہا ہے-“

ِِ”اگر چوہان تمہاری اور ریما کی شادی کے لئے راضی ہوجائے تو کیا تم کرلو گے ریما سے شادی؟-“ شہلا نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا-

”میڈم جھوٹ نہیں بولوں گا- اب میں ریما سے شادی نہیں کر سکتا-“ رفیق بولا-

”اب کیوں نہیں کر سکتے؟-“

”آپ سب جانتی ہیں پھر کیوں پوچھ رہی ہیں-“

”شاید میں جانتی ہوں اور شاید نہیں بھی جانتی- خیر چھوڑو- تمہاری معطلی کا سن کر دکھ ہوا – میں ڈیوٹی جوائن کرتے ہی اسے کینسل کروانے کی کوشش کروں گی-“ شہلا نے تکیئے کے سہارے کچھ اوپر کھسکتے ہوئے کہا-

”اب تو سسپینڈ ہونے کی عادت سی ہوگئی ہے-“ رفیق پھیکی ہنسی ہنستے ہوئے بولا-

”حوصلہ رکھو- سب ٹھیک ہوجائے گا-“

”میڈم میں اپنے کچھ دوستوں کے ساتھ مل کر درندے کی تلاش کا کام جاری رکھ رہا ہوں- ابھی ہمارے پاس سب سے بڑا سراغ کرنل کا گھر ہے- وہیں سے سارے راز کھلنے کی امید ہے- ہماری پوری توجہ اس گھر پر ہے- راجہ نواز بھی مشکوک ہے مگر ابھی تک اس کا کچھ اتا پتہ نہیں ہے-“ رفیق نے اپنا منصوبہ بتاتے ہوئے کہا-

”ویری گڈ- کہیں بھی میری مدد کی ضرورت محسو س کرو تو جھجھکنا مت- میں ہر وقت تمہارے ساتھ ہوں-“ شہلا نے اپنی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا-

”تھینک یو میڈم- اب میں چلتا ہوں- آپ سے بات کرکے دل ہلکا ہوگیا- ایک سکون سا محسوس کر رہا ہوں- صبح تو بہت ہی بوجھل دل کے ساتھ گیا تھا یہاں سے-ایسے لگ رہا تھا جیسے میری دنیا ہی اجڑ گئی ہو- گڈ نائٹ-“ رفیق جانے کے لئے پلٹ گیا-

”رکو-“

”جی کہئے؟-“

”کچھ کہنا چاہتی تھی- مگر چھوڑو- پھر کبھی سہی-“

”اکثر ایسا ہی ہوتا- ہم ایک بات دل میں چھپائے پھرتے ہیں مگر کہہ نہیں پاتے- اور ایک دن ایسا بھی آتا ہے جب ہم کچھ کہنا چاہتے ہیں مگر قسمت ہمیں کہنے کا موقع ہی نہیں دیتی- جو کہنا ہے کہہ دیں- اور جو بات آپ کہنا چاہتی ہیں ہمیشہ اپنے دل کے نہاں خانے میں چھپا کر رکھوں گا-

”میں کیا کہنا چاہتی ہوں- تمہیں پتہ بھی ہے؟-“

”جی ہاں پتہ ہے-“رفیق نے وثوق سے کہا-

”پھر کہنے کی ضرورت ہی کیا ہے- اب تم جا سکتے ہو- ہی ہی ہی-“ شہلا ہنستے ہوئے بولی-

”ایک بار کہہ دیتیں تو اچھا تھا- میرے کان ترس رہے ہیں وہ سب سننے کے لئے- پلیز-“

”تم جاتے ہو کہ نہیں- میرے پاس کہنے کو کچھ نہیں ہے- از دیٹ کلیئر-“ شہلا اپنے مخصوص انداز میں بولی-

”جی ہاں سب کچھ کلیئر ہے- منرل واٹر کی طرح-“

”ہا ہا ہا ہا ہا— آہ ہ ہ ہ -“ شہلا کھلکھلا کر ہنسنے لگی جس سے اس کے پیٹ کے زخم دکھنے لگے تھے-

”کیا ہوا میڈم؟-“

”کچھ نہیں- ہنسنے سے پیٹ کا زخم درد کرنے لگا ہے-“

”میرے اوپر ہنسنے کے چکر میں آپ نے درد مول لیا- آرام کریں- ویسے آپ کو ہنستا دیکھ کر بہت اچھا لگا- خدا میری ساری خوشیاں آپ کو دے دے تاکہ آپ ہمیشہ یونہی ہنستی مسکراتی رہیں-“رفیق کے جذبات اس کے ہر لفظ سے جھلک رہے تھے-

”تم کچھ بھی کرلو- میں وہ کہنے والی نہیں ہوں-“ شہلا نے مسکراتے ہوئے کہا-

”یہی تو میری بدقسمتی ہے- خیر جانے دیں- گڈ نائٹ- اب آپ خاموشی سے سوجائیں- مجھے ابھی سے اپنی انکوائری شروع کرنی ہے- اب میں بالکل فریش مائنڈ ہوکر کام کر سکتا ہوں-“

”آل دی بیسٹ-“

رفیق کمرے سے باہر نکلاتو اسے شہلا کا ڈاکٹر مل گیا-

”ڈاکٹر صاحب میڈم کو کب تک ڈسچارج کیا جائے گا-“ رفیق نے پوچھا-

”ہم کل دوپہر تک ڈسچارج کر دیں گے- بعد میں بس صرف ڈریسنگ کے لئے آنا پڑے گا- بیس دن بعد اسٹچز بھی کھل جائیں گے-“ ڈاکٹر نے بتایا-

”ایس پی صاحب کا ٹریٹمنٹ بھی آپ نے ہی کیا تھا- ان کو تو بہت جلدی ڈسچارج کر دیا گیا تھا-“

”نہیں- ان کا کیس تو ڈاکٹر شکیل کے پاس تھا- بہت بڑے ڈاکٹر ہیں وہ- اور ایس پی صاحب کے خاص دوست بھی ہیں- میڈم کا کیس مختلف تھا- اس لکڑی نے میڈم کے پیٹ میں بہت گہرا زخم بنا دیا تھا-“ ڈاکٹر نے تفصیل سے بتاتے ہوئے کہا-

”خیر یہ بات ماننے کی ہے کہ آپ کے ہسپتال میں ٹریٹمنٹ بہت اچھا کیا جاتا ہے-“

”جی ہاں- اور ہم اس پر پراﺅڈ بھی ہیں-“

رفیق کا فون جیب میں وائبریٹ کرنے لگا-

ِ”کہیں یہ درندے کی کال نہ ہو-“ رفیق نے یہ سوچتے ہوئے کال ریسیو کی- ”ہیلو-“

”کیا آپ انسپیکٹر رفیق بول رہے ہیں؟-“ دوسری جانب سے پوچھا گیا-

”جی ہاں- آپ بولیئے-“

”دوپہر سے آپ کا فون ٹرائی کر رہا ہوں- میں پنڈی سے انسپیکٹر غلام بخش بول رہا ہوں-“

”اوہ ہاں- کہئے؟-“

”دیکھیں یہاں کرنل داﺅد خان کی بہن رہتی ہیں- ہم نے ان سے تفتیش کی ہے- وہ بھی نہیں جاتیں کہ کرنل کہاں ہے- ان کے کہنے کے مطابق کرنل صاحب کی یہ پرانی عادت ہے کہ وہ بنا بتائے کہیں غائب ہوجاتے ہیں- کراچی میں ان کا جو بنگلہ ہے وہ انہوں نے کسی کے کے نام کے آدمی کو دیا ہوا ہے شاید-“ انسپیکٹر غلام بخش نے کام کی بات بتاتے ہوئے کہا-

”کے کے— پورا نام بتایئے- اس کے کے نے تو ہمیں پریشان کرکے رکھ دیا ہے-“

”کرنل صاحب کی بہن کو صرف اتنا ہی پتہ ہے- ایک مہینہ پہلے کرنل صاحب نے باتوں باتوںمیں انہیں بتا دیا تھا کہ وہ اپنا کراچی والا بنگلہ اپنے کسی کے کے نامی دوست کو دے رہے ہیں- اس بارے میں ان کی کرنل صاحب سے زیادہ بات نہیں ہوئی- ابھی تک یہی پتہ چلا تو سوچا کہ آپ کو بتا دوں- میڈیا میں تو ہر طرف درندے کا کیس چھایا ہوا ہے- شاید آپ کو اس سے کچھ مدد مل سکے-“

کچھ اور باتوں کے بعد رفیق نے لائن کاٹ دی-

”یہ تو ہم ایک دائرے میں گھوم رہے ہیں- بات گھوم پھر کر واپس اس کے کے پر آکر اٹک گئی ہے-مگر اب یہ تو واضح ہوچکا ہے کہ کرنل کے بنگلے میں رہنے والا ہی درندہ ہے- اسی کا نام کے کے ہے- کے کے درندہ- بہت خوب— اب نہ درندہ مل رہا ہے اور نہ کے کے-دیکھتا ہوں کب تک بچو گے مسٹر کے کے عرف درندے- تھوڑا تھوڑا ہی سہی ہمیں تمہارے بارے میں پتہ تو چل ہی رہا ہے-“

٭٭٭٭٭٭٭

وردا چٹائی پر لیٹی بری طرح سسک رہی تھی- دل اتنا بھاری ہو رہا تھا کہ وہ بلند آواز سے رونا چاہتی تھی مگر راجو کی ڈانٹ نے اس کی آواز دبا دی تھی- وہ اندر ہی اندر گھٹ رہی تھی- آنکھوں سے آنسوﺅں کی لڑیاں جاری تھیں- بہت کوشش کر رہی تھی کہ منہ سے کوئی آواز نہ نکلے مگر رہ رہ کر سسک پڑتی تھی-

راجو بستر پر بیٹھا اس کی سسکیاں سن رہا تھا-

”روتی رہو مجھے کیا ہے- اس کے لئے تم خود ذمہ دار ہو-“ یہ سوچتے ہوئے راجو بستر پر لیٹ گیا-

محبت کرنے والوں کا غصہ زیادہ دیر تر برقرار نہیں رہتا- محبت وہ آگ ہے جس میں زندگی کی ہر برائی جل کر خاک ہوجاتی ہے‘ غصہ تو بہت چھوٹی چیز ہے- جب آپ کسی سے بہت زیادہ محبت کرتے ہیں تو اس کے خلاف غصہ آپ کے دل میں چند لمحوں سے زیادہ نہیں ٹک پاتا- اور ایسا ہونا ممکن ہی نہیں ہوتا کہ محبت بھی ہو اور غصہ بھی قائم رہے-

راجو کا غصہ ٹھنڈا ہونے لگا تو اسے وردا کی سسکیوں میں موجود اس درد کا احساس ہونے لگا جو اس نے دیا تھا-

”یا خدا یہ میں نے کیا کیا—- میں نے وردا کو کیا کچھ نہیں کہہ دیا-“ راجو نے سوچا اور جلدی سے اٹھ کر وردا کے پاس آکے بیٹھ گیا-

وردا ابھی بھی سسک رہی تھی- راجو نے اس کے سر پر ہاتھ کھا اور بولا- ”بس وردا- اب چپ ہوجاﺅ پلیز-“

راجو کی ہمدردی پاکر وردا کی دبی ہوئی آواز جیسے آزاد ہوگئی اور وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی- راجو اسے اس طرح روتے دیکھ کر پریشان ہو رہا تھا-

”وردا پلیز- ایسے نہیں روتے- پلیز چپ ہوجاﺅ- تم کو اس طرح روتا دیکھ کر میرا دل بیٹھا جا رہا ہے-“ راجو نے بھرائی ہوئی آواز میں کہا-

”کیوں آئے ہو میرے پاس- نہ میں محبت کے لائق ہوں نہ شادی کے-“

”پلیز ایسے مت کہو- تم تو میرے لئے محبت کی دیوی ہو- میں وہ سب غصے میں بول رہاتھا- پلیز مجھے معاف کردو-“

”غصے میں سہی- لیکن اپنے دل کی بات تو کہہ دی نا تم نے- اور تم نے سچ ہی کہا- میں تمہاری محبت کے لائق ہی نہیں ہوں- بہتر ہے کہ درندہ مجھے بھی اپنے آرٹ کا نمونہ بنا دے- تاکہ دھرتی سے میرا بوجھ تو کم ہو- میں اور نہیں جینا چاہتی-“وردا بلک بلک کر رو رہی تھی-

’خبردار جو تم نے ایسی بات کہی-“

”تو کیا کروں- اگر ایسا نہ کہوں تو— تم مجھے نہیں سمجھ پائے- تمہیں میرے درد اور تکلیف کا احساس تک نہیں ہے- میں نے تم سے کئی امیدیں وابستہ کر رکھی ہیں جبکہ تم میرے پاس صرف ایک ہی چیز کے لئے آتے ہو- میرے نزدیک محبت کے معنی کچھ اور ہیں‘ تمہارے نزدیک کچھ اور- میں اکیلی ہوں- بالکل اکیلی- کوئی میرا درد نہیں سمجھتا نہ سمجھنے کی کوشش کرتا ہے- اچھا ہے کہ میں مرجاﺅں-“

”اگر ایسا ہے تو پہلے میں مرجاتا ہوں- کہاں ہے میری پستول-“ راجو اٹھ کر کمرے کی الماری کی طرف بڑھا-

یہ سنتے ہی وردا خوف سے کانپنے لگی- انسان اپنی موت کے بارے میں تو بڑی آسانی سے سوچ سکتا ہے مگر جس سے وہ محبت کرتا ہے اس کی موت کے خیال سے ہی کانپ اٹھتا ہے- وردا جلدی سے اٹھ کر کھڑی ہوگئی- اندھیرے میں اسے کچھ سجھائی نہیں دے رہا تھا- اس نے جلدی سے دیوار پر ہاتھ پھیر کر کمرے کی لائٹ جلا دی-تب تک راجو الماری سے پستول نکال چکا تھا اور اپنی کنپٹی پر رکھنے والا تھا- وردا بغیر وقت گنوائے راجو کی طرف بھاگی اور پستول اس کے سر سے ہٹا دی-اس وقت تک راجو ٹرائیگر دبا چکا تھا- گولی سیدھی دیوار میں دھنس گئی-

وردا‘ راجو سے لپٹ کر روتے ہوئے بولی- ” بہت کچھ کھو چکی ہوں اب میں تمہیں کھونا نہیں چاہتی- میرا اب تمہارے علاوہ اور کون ہے-“

”تو سوچو کہ جب تم نے مرنے کی بات کی ہوگی تو میرے دل پر کیا گزری ہوگی- دل بیٹھ گیا تھا میرا- آج کے بعد تم نے مرنے کی بات کی تو اسی وقت خود کو گولی مار لوں گا— میں محبت کرتا ہوں آپ سے- کوئی مذاق نہیں-“

دونوں ایک دوسرے سے لپٹے کھڑے رہے-دونوں کی آنکھوں سے آنسو رواں تھے-

”راجو میں جانتی ہوں تم مجھ سے بہت محبت کرتے ہو- مگر تمہاری یہ محبت میرے جسم تک آکر کیوں ختم ہوجاتی ہے- جبکہ اس جسم کے اندر میرا دل بھی اور میری روح بھی- تم نے کبھی میرے اندر جھانکنے کی کوشش کیوں نہیں کی-راجو مجھے تمہاری بہت ضرورت ہے- اکیلا پن مجھے کھا جائے گا- کبھی جھانک کر تو دیکھو جہاں درد اور تنہائی کے سوا کچھ بھی نہیں ہے-“

ِ”وردا میں تمہاری قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میری محبت صرف جسمانی نہیں ہے- میں تمہارا ہر درد سمجھتا ہوں-“

”امی ابو کی موت کے بعد گھٹ گھٹ کر جی رہی ہوں میں- کسی بات میں دل نہیں لگتا- ان کی یاد میری زندگی کا حصہ بن چکی ہے- اور میں خود کو ہی قصور وار سمجھتی ہوں کیونکہ میری وجہ سے ہی انہیں اتنی بری موت ملی- راجو کبھی کبھی میرا غم بھی بانٹ لیا کرو-میری تمام امیدیں اب صرف تم سے ہی وابستہ ہیں- تم بھی مایوس کرو گے تو میں کہاں جاﺅں گی-“

”آپ کو میں پہلے ہی بتا چکا ہوں کہ سات سال کی عمر میں اپنے والدین کھو چکا ہوں- اس وقت میں موت کا مطلب بھی نہیں جانتا تھا- جب مجھے ان کی موت کے بارے میں بتایا گیا تو میں یہی سمجھا کہ کہیں گھومنے گئے ہوئے ہیں- میں آپ کے غم کو جانتا بھی ہوں اور سمجھتا بھی ہوں- مگر کیا ہم ان غموں میں ہی ڈوبے رہیں گے- ان دکھوں سے باہر نکلنے کی کوشش کرو-“

”میں نے اپنے والدین کو دکھ کے سوا کچھ نہیں دیا- میری شادی ناکام ہونے کے بعد وہ بہت دکھی تھے- حالانکہ میں نے وہ رشتہ نبھانے کی پوری کوشش کی تھی- مگر ان کی ہر روزا یک نئی ڈیمانڈ ہوتی تھی- مجھے روز روز اپنے ابو سے کچھ مانگتے ہوئے شرم آتی تھی- اتنا کچھ لے کر بھی ان کا دل نہیں بھرا تھا- مجبوراً میں سب کچھ چھوڑ کر اپنے گھر واپس آگئی تھی- کیا میں نے یہ غلط کیا- کیا اس رشتے کو ہر حال میں نبھانا چاہئے تھا- –جب میں سب کچھ چھوڑ کر گھر واپس آگئی تھی تو ابو بہت ناراض ہوئے تھے- انہوں نے مجھ سے کئی دنوں بات بھی نہیں کی تھی- میں یہ سب کچھ تمہیں بتانا چاہتی تھی- اور بہت کچھ ہے جو تم سے شیئر کرنا چاہتی ہوں- اگر تم سنو گے نہیں‘ مجھے سمجھو گے نہیں تو میں کہاں جاﺅں گی- اپنا دل میں تمہیں دے چکی ہوں- اب میں کس سے امید رکھوں؟-“ شدتِ جذبات سے وردا کی آواز لڑکھڑا رہی تھی-

وردا کی باتیں راجو کے دل پر بہت گہرا اثر کر رہی تھیں- ”سوری وردا- یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ میں بہت کمینہ ہوں-“

وردا نے راجو کے منہ پر ہاتھ رکھ دیا اور بولی – ”بس اب خود کو کچھ مت کہو- میں تمہارے خلاف ایک لفظ بھی نہیں سن سکتی- یہ او ربات ہے کہ میں خود غصے میں تم کو بہت کچھ بول دیتی ہوں- پھر بعد میں پچھتاتی بھی ہوں-“

”اچھا یہ بتاﺅ تم برہنہ ہوکر میرے پاس کیوں آئی تھیں؟-“ راجو کو شاید پھر سے شرارت سوجھ رہی تھی-

”میں نے سوچا جب تمہیں صر ف میرا جسم ہی چاہئے تو میں نے اپنے آپ کو تمہیں سونپ دینے کا ارادہ کر لیا تھا-میں نے سوچا تھا شاید اس کے بعد تم صحیح معنوں میں میری محبت کو سمجھ سکو گے- یہ صرف ایک جسم ہی تو ہے- جب دل تمہیں دے چکی ہوں تو جسم دینے میں کیا ہرج ہے-“

”وردا شایدہم ایک دوسرے کو کبھی سمجھ نہیں پائے اس لئے ہمارے بیچ ایسی باتیں ہو رہیں ہیں- اب آئندہ میں تم کو شکایت کا کوئی موقع نہیں دوں گا- میں تمہارے ہر دکھ میں تمہارے ساتھ ہوں- تم خود کو اکیلی کیوں سمجھ رہی ہوں- تم نے اپنے ماں باپ اب کھوئے ہیں- میں تو بچپن میں ہی کھو چکا ہوں- یہ درد میرے لئے اتنا عام تھا کہ میں تمہارے درد کو سمجھ ہی نہیں سکا- شاید یہی میری سب سے بڑ ی بھول تھی- مجھے معاف کر دو- اب ایسا نہیں ہوگا- چلو بستر پر لیٹ کر آرام سے باتیں کرتے ہیں-“

”راجو میں تم سے بہت محبت کرتی ہوں- مجھے امید تھی کہ تم میری بات سمجھ جاﺅ گے- میں نے تمہاری آنکھوں میں وہ انسان دیکھا ہے جو میری بات سمجھ سکتا ہے اور میرا غم بانٹ سکتا ہے- میں نے تمہاری آنکھوں میں ایک اچھے انسان کی پرچھائیں دیکھی ہے-“

”میں جتنا بھی کمینہ سہی- لیکن تم سے میری محبت بالکل سچی ہے- میں تمہارے لئے کچھ بھی کر سکتا ہوں- جتنا خوش میں اب ہوں اتنا خوش میں زندگی میں کبھی نہیں رہا- تمہاری محبت ملنے کے بعد اب میں جینا سیکھ رہا ہوں ورنہ تو میں خود کو یہاں وہاں گھسیٹ رہا تھا- تم نے میری بیکار زندگی کو خوبصورتی سے بھر کر اتنا حسین بنا دیا ہے کہ میں خوشی سے پاگل ہوگیا ہے‘ اور شاید یہ بھی ہوسکتا ہے کہ میںتمہارے ساتھ ایسی حرکتیں اسی وجہ سے کررہا ہوں کہ مجھ سے یہ خوشی برداشت ہی نہیں ہو رہی ہے- یا یہ خوشی میری اوقات سے بڑھ کر ہے- لیکن میں اچھا کر رہا ہوں یا برا- جو بھی ہے صرف اور صرف میری محبت ہے-“

”میں کچھ دقیانوسی ٹائپ کی لڑکی ہوں- کہیں میرا یہ رویہ تم کو مجھ سے دور تو نہیں کر دے گا-“ وردا کے دل میں ایک انجانا خوف تھا-

”پاگل ہو کیا- تم سے اب کسی حال میں بھی دور نہیں رہ سکتا-تم تو میری جان ہو-“ راجو نے وردا کو زور سے جکڑتے ہوئے کہا-

”تو اب تم خود پر تھوڑا کنٹرول رکھو گے نا- تب تک‘ جب تک ہماری شادی نہیں ہوجاتی-“

”بس یہی پاپ مجھ سے نہیں ہو سکتا- باقی تم جو کہو گی میں مان لوں گا- میں تمہارا دیوانہ بن چکا ہوں- چاہوں بھی تو خود کو روک نہیں سکوں گا- باقی خیر ہے-“

”اف – یعنی بات وہیں کی وہیں رہی-“ وردا ماتھے پر ہاتھ مار کر بولی-

”بالکل نہیں- اب میں تمہارے دل کی دھڑکنوں کو دھیان سے سنوں گا- تمہاری ان جھیل سی آنکھوں میں دھیان سے دیکھوں گا- سمجھنے کی کوشش کروں گا اپنی وردا کو- تمہارے چہرے پر ایک بھی شکن نہیں آنے دوں گا- تمہاری آنکھوں کے آنسو میں امرت سمجھ کر پی جاﺅں گا- تمہارے تمام دکھ اور تمام تکلیفیں خود بہ خود میری روح تک پہنچ جائیں گی- سب کچھ کروں گا مگر میں اپنا حق نہیں چھوڑوں گا- آخر تمہارا عاشق ہوں- اپنی معشوقہ کے حسن سے کھیلنے کا اتنا تو حق بنتا ہی ہے میرا-“ راجو ‘ وردا کو کسی دھوکے میں نہیں رکھنا چاہتا تھا-

”بہت خوب میرے دیوانے- تم تو محبت کی نئی مثال قائم کرو گے شاید-“ وردا نے مسکراتے ہوئے کہا-

”بالکل کروں گا- تم ساتھ دو گی تو ایسی ایسی مثالیں قائم کروں گا کہ لوگ لیلیٰ مجنوں- ہیر رانجھا‘ سسی پنوں‘ شیریں فرہاد کو بھول کر صرف وردا راجو کی مثال دیا کریں گے-“ راجو نے ہنستے ہوئے کہا-

”پھر تم ہم دونوں کے بیچ میں ہمیشہ جنگ ہی رہے گی-“ وردا بھی ہنس پڑی-

”جنگ تو ہمارے بیچ شروع سے ہی چل رہی ہے- اس میں نئی کون سی بات ہے- لیکن اب اور مزا آئے گا-

”چلو دور ہٹو- میں اپنے دشمن کے گلے سے لگ کر کیوں رہوں؟-“

”کیونکہ تم محبت کرتی ہو مجھ سے- کوئی مذاق نہیں- محبت اور جنگ میں سب جائز ہوتا ہے- اور جنگ میں تو بعض اوقات دشمن بھی گلے مل جاتے ہیں-“

ِ”تم سچ میں پاگل ہو-“ وردا کھلکھلا اٹھی-

”تمہاری محبت نے پاگل کر دیا ہے- ہی ہی ہی- اب سونا نہیں ہے کیا- کتنی رات گزر چکی ہے-“ راجو نے وردا کا ہاتھ پکڑا اور اسے بستر کی طرف لے جانے لگا-

”میں بھلا اپنے دشمن کے ساتھ کیوں لیٹوں؟-“

” ابھی جنگ بندی چل رہی ہے- تم ساتھ میں لیٹ سکتی ہو- کوئی مسئلہ نہیں ہے-“ راجو نے کہا-

وردا چہرے پر پیاری سی مسکراہٹ لئے راجو کے ساتھ بستر پر آگئی-راجو نے لائٹ آف کر دی اور دنوں لیٹ گئے-

”مجھ سے شادی کب کرو گی؟-“

”میں تو کل ہی کرنے کو تیار ہوں- مگر ابھی تک سلیم سے میری طلاق نہیں ہوئی ہے- صرف علیحدگی ہے- کیس عدالت میں چل رہا ہے- طلاق ہوتے ہی ہم شادی کر لیں گے-“

”ویسے تم نے برہنہ ہوکر میرے پاس آکر بہت بڑا خطرہ مول لیا تھا-“

”میں ٹوٹ چکی تھی- سوری – دوبارہ ایسا نہیں ہوگا- میں بھی کم پاگل نہیں ہوں تمہارے لئے- تم سے بہت ناراض تھی- پھر بھی تمہارے پاس آگئی‘ وہ بھی برہنہ ہوکر-“ وردا بولی-

”میں بہک جاتا تو تمہیں بہت پچھتانا پڑتا-“

”مجھے ڈراﺅ مت- ورنہ تم سے شادی نہیں کروں گی-“

”مت کرنا شادی- میرے لئے یہ محبت ہی کافی ہے- تم پر اپنا حق جتانے کے لئے میں دل سے تم کو اپنی زوجہ محترمہ مان چکا ہوں-“

”اب کیا کہوں تمہیں— آئی لو یو— لیکن اپنی جنگ جاری رہے گی— شادی سے پہلے کچھ نہیں- ہی ہی ہی-“ وردا ہنستے ہوئے بولی-

”اف-“ راجو نے کہا اور اپنے ماتھے پر ہاتھ مار لیا-

٭٭٭٭٭٭٭

اگلی صبح سکندر ‘ رفیق کی جگہ جوائننگ لینے سے پہلے سیدھا رفیق کے گھر پہنچ گیا- رفیق نے گرمجوشی سے اسے خوش آمدید کہا-

”جناب مجھے اس کیس میں آپ کی جانب سے پورے تعاون کی امید ہے- اور امید کرتا ہوں کہ آپ مجھے اس کیس کے بارے میں اب تک کی گئی ساری تفتیش سے آگاہ کرنے میں ذر ا بھی نہیں ہچکچائیں گے-“ سکندر نے کہا-

”بالکل- میں آپ کی ہر ممکن مدد کروں گا-مگر پہلے یہ تو بتائیں کہ آپ کو اس تھانے میں پوسٹنگ کی اور خاص طور سے اس کیس سے اتنی دلچسپی کیوں تھی؟-“ رفیق نے پوچھا-

”وہ سب چھوڑیں- ہر کوئی کسی نہ کسی کام میں دلچسپی رکھتا ہے- ہمیں بس درندے کو پکڑنے پر دھیان رکھنا چاہئے-“

رفیق نے درندے کے کیس سے متعلق ساری تفصیل سکندر کو بتا دی-

”تو اس کا مطلب یہ ہے کہ بات کرنل صاحب کے گھر پر جاکر اٹک گئی ہے- آپ کو کیا لگتا ہے یہ کے کے کون ہو سکتا ہے؟-“ سکندر نے پوچھا-

”کوئی بھی ہوسکتا ہے- آپ بھی ہوسکتے ہیں-“ رفیق نے مذاق کے انداز میں کہا-

”مجھے تو پینٹنگ کے نام سے ہی ڈر لگتا ہے- اسکول کے زمانے میں ایک سیب تک ڈھنگ سے نہیں بنا سکتا تھا میں- سیب بناتے بناتے بھنڈی بن جاتی تھی-“ سکندر نے کہا-

”وہ کیوں؟— کیا بھنڈی آپ کو بہت پسند تھی-“ رفیق نے جملہ کسا-

چھوڑیں جناب- اب ان باتوںمیں کیا رکھا ہے- اب میں چلتا ہوں اور جاکر جوائننگ لیتا ہوں- جب بھی ضرورت محسوس کروں گا آپ سے رابطہ کرلوں گا-“

”بالکل- آپ بلا جھجھک مجھے کال کر سکتے ہیں-“ رفیق بولا اور سکندر اٹھ کر باہر نکل گیا-

٭٭٭٭٭٭٭

صبح ہو رہی تھی اور وردا نیند میں میٹھی میٹھی آہیں بھر رہی تھی- اسے ہوش ہی نہیں تھا کہ جسے وہ خواب سمجھ رہی ہے وہ حقیقت ہے- وہ کروٹ لے کر لیٹی ہوئی تھی اور راجو اس کی پیٹھ پر انگلیاں پھیر رہا تھا- اور دھیمی مسکراہٹ اس کے چہرے پر پھیلی ہوئی تھی- پھر اس نے وردا کے کان میں کہا-

”اٹھ جاﺅ وردا- جنگ شروع ہو چکی ہے اور لگتا ہے تم ہار رہی ہو-“

وردا کی آنکھ کھل گئی اور اس نے راجو کا ہاتھ جھٹک دیا اور سینے پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولی – ”تو کیا یہ خواب نہیں تھا؟-“

”کون سا خواب- ہی ہی ہی ہی-“ راجو ہنسنے لگا-

”تم نے میری نیند کا فائدہ اٹھاتے ہوئے کیا حرکتیں کی ہیں-“ وردا نے اسے گھورتے ہوئے پوچھا-

”کچھ بھی نہیں- بس ابھی ابھی تو میری بھی آنکھ کھلی ہے-“

وردا کی نظر وال کلاک پر گئی- ”ارے نو بج گئے- ہم اتنی دیر تک سوتے رہے-“ وردا نے کہا-

”رات کو بھی تو کتنی دیر سے سوئے تھے- یہ تو ہونا ہی تھا- چلیں آپ فریش ہوجائیں- میں آپ کے لئے ناشتہ بناتا ہوں-“

”تم ناشتہ بناﺅ گے— مذاق مت کرو-“ وردا نے مضحکہ اڑانے والے انداز میں کہا-

”جی ہاں بناﺅں اور آپ سے اچھا بناﺅں گا-“

”نہیں راجو- میر ے ہوتے ہوئے تمہیں یہ سب کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے- میں خود بناﺅں گی- ابھی فریش ہوکر آتی ہوں-“ یہ کہہ کر وہ واش روم کی طرف چل دی-

”سنو-“

ِِِِ”ہاں بولو-“ وردا نے مڑ کر کہا-

” رات کی ہر بات کے لئے سو بار سوری-“ راجو نے اپنے دونوں کان پکڑتے ہوئے کہا-

وردا نے راجو کی طرف ایک مسکراہٹ اچھالی اور واش رو م میں گھس گئی-

٭٭٭٭٭٭٭

جاری ہے

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

عورت زاد امجد جاوید قسط نمبر 9

عورت زاد امجد جاوید قسط نمبر 9 باقی کاریں بھی اندر آ رہی تھیں۔ نویرا …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے