سر ورق / مکالمہ / ملاقات ۔۔ جناب محمود احمد مودی ۔۔۔۔ سیف خان

ملاقات ۔۔ جناب محمود احمد مودی ۔۔۔۔ سیف خان

دوستو!!

جےڈی پی کے سابقہ اور قارئین کے ہردلعزیز مصنف اخبارجہاں کے مدیر جناب محموداحمد مودی کے ساتھ خصوصی نشست میں سیف خان کے سلام قبول فرمائیں.. سوال و جواب کی جانب بڑھنے سے پہلے میں سب سے پہلے محموداحمدمودی صاحب کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرنا چاہوں گا کہ انہوں نے اپنے قیمتی وقت کے کچھ لمحے اپنے فینز کے نام کردیئے… اس سلسلے کیلئے امجدجاوید صاحب کی کاوشیں بھی تہہ دل سے سراہیں جانے کے قابل ہیں جن کی بدولت ہمیں اپنے پسندیدہ رائٹر سے ہمکلام ہونے کا موقع مل رہا ہے… سر سب سے پہلے تو آپ اپنا تعارف کرایئے.. کہاں سے تعلق ہے آپ کا.. بچپن کہاں گزرا اور ابتدائی تعلیم کہاں حاصل کی ؟(محترم جناب سید انور فراز صاحب نے میری مدد کی ۔ امجد جاوید )

☆ محموداحمدمودی
میں سندھ کے شہر شکارپور میں پیدا ہوا جسے کسی زمانے میں سندھ کا پیرس کہا جاتا تھا.. تقسیم ہند سے پہلے ہی اس شہر میں بجلی, ٹیلیفون اور فلیش سسٹم موجود تھا. بغیر آر سی سی کے وہاں چھ سات منزلہ حویلی نما مکانات موجود تھے. جن میں ٹیک وڈ کے ستون ور قد آدم الماریوں میں بیلجیئم کے آئینے نصب ہوتے تھے. لائٹس کے شیڈز تک بیلجیئم کے ہوتے تھے. فرش امپورٹڈ ٹائلز سے آراستہ تھے. مگر اب وہ شہر کھنڈر ہوچکا ہے. تمام پرانی تعمیرات معدوم ہوچکی ہیں. میں نے ابتدائی تعلیم وہیں پرنس کریم اسکول, اسلامیہ ہائی اسکول اور سی اینڈ ایس گورنمنٹ کالج سے حاصل کی.

سوال: جعفر حسین
چینوٹ
السلام علیکم سر … آپ کے لکھنے کا سفر کب اور کیسے شروع ہوا ؟

☆ محموداحمدمودی
1969 میں میٹرک کے زمانے میں ایک خالص ادبی افسانہ لکھ کر مستند ادبی رسالے "نقوش” کو بھیج دیا. حیرت انگیز طور پر انہوں نے چھاپ بھی دیا. اس وقت مسیں بھی نہیں بھیگی تھیں.. اس کے دو تین سال بعد جب مسیں بھیگ چکی تھیں, بلکہ شاید نچڑ بھی چکی تھیں تو ہم لاہور گئے اور نقوش کے دفتر بھی چلے گئے. اس وقت مزید حیرت کا سامنا کرنا پڑا جب اپنے افسانے کا حوالہ دیا اور پتا چلا کہ مدیر طفیل صاحب کو وہ افسانہ یاد تھا. انہوں نے چائے وغیرہ پلائی. ہم رخصت ہونے لگے تو طفیل صاحب بولے "برخوردار! اب تو بتادو, افسانہ کہاں سے چرایا تھا؟”

ماہی خان
جہلم, آزاد کشمیر
آپ کی سب سے پہلی تحریر کون سی تھی اور اس پر عوام اور گھر والوں کا رد عمل کیا تھا نیز کتنی عمر میں لکھنے لکھانے کے طرف رجحان ہوا؟

☆ محموداحمدمودی
آپ کے سوال کا جزوی جواب تو اوپر والے جواب میں موجود ہے. پہلی تحریر کا تو گھر والوں کو پتہ نہیں چلا. البتہ اس کے بعد آداب عرض میں کہانی لکھی. وہ "میں” کے صیغے میں تھی, گو کہ میری آپ بیتی نہیں تھی. اس کے ساتھ ایڈریس بھی تھا. کسی نے رسالہ والد صاحب کو دکھایا. وہ کہانی پڑھ کر رسالہ ہاتھ میں لیئے, کافی تشویش زدہ چہرے کے ساتھ گھر آئے اور امی سے بولے.. "صاحبزادے کو سنبھالو, یہ عشق عاشقی کے چکر میں پڑگیا ہے.”

علی مجتبی, ملتان
سر آپ نے اب تک کتنے ناولز لکھے ہیں؟

☆ محموداحمدمودی
میں نے بطور خاص کوئی ناول نہیں لکھا. رسالوں میں چھپنے والی میری بہت سی طبع زاد کہانیاں کتابی شکل میں چھپی ہیں. ان کی تعداد تقریبا 20 ہے. میرے ترجمہ سلسلے کتابی شکل میں صرف دو تین ہی چھپے ہیں حالانکہ ان کی تعداد بھی کافی ہے.

محسن علی طاب.
ضلع ساہیوال
بچپن میں آپ سنجیدہ ہوا کرتے تھے یا شرارتی؟

☆ محموداحمدمودی
میں بچپن سے ہی سنجیدہ اور سوچ بچار کرنے والا تھا.

جعفر حسین
چینوٹ
سر آپ کا لکھا ایک ڈرامہ "منحوس اجنبی” پی ٹی وی پہ دیکھنے کا اتفاق ہوا جو بلاشبہ انتہائی بہترین اور میرا پسندیدہ ترین رہا… اس کے علاوہ مزید ڈرامے لکھے ؟؟

☆ محموداحمدمودی
آپ نے میرے ڈرامے "مانوس اجنبی” کا نام "منحوس اجنبی” لکھا ہے. ویسے اس کی تیاری کے دوران ہم بھی اسے "منحوس اجنبی” ہی کہنے لگے تھے کیونکہ اس کی پروڈکشن اور پھر آن ائیر جانے کے دوران بڑی رکاوٹوں اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑا. اس کے علاوہ میں نے پی ٹی وی ہی کیلئے بچوں کی سیریز "ایڈوینچر ٹائمز” اور اے آر وائی کیلئے حقیقی جرائم پر مبنی سیریز "دی کیس” بھی لکھی. این ٹی ایم پر میری ایک ٹیلی فلم "سمجھوتا” بھی چلی تھی.

عائشہ عباسی
لاہور
آپ کا ایک ناول "رقابت” مجھے بہت حقیقی لگا.. کیا اس کے کردار رئیل لائف سے ماءخوذ ہیں ؟

☆ محموداحمدمودی
جی ہاں … "رقابت” کے علاوہ بھی میں نے کئی کردار حقیقی کرداروں سے انسپائر ہوکر تخلیق کیئے ہیں.

عرفان شبیر راجہ ،گوجرخان
ادارہ جاسوسی ڈائجسٹ میں اب کہانیاں کیوں نہیں لکھتے ہیں؟

☆ محموداحمدمودی
پہلے میں فری لانسر رائٹر تھا لیکن تقریبا 90 فیصد کام جےڈی پی کیلئے کررہا تھا. ایک وقت آیا کہ محسوس ہوا محض لکھ کر گھر زرا اچھے طریقے سے چلانا بہت مشکل ہے. چنانچہ تقریبا ریٹائرمنٹ کی عمر میں آکر "جنگ” گروپ کے رسالے "اخبارجہاں” میں ملازمت کرلی. ایک تو اب وقت بالکل نہیں ملتا .. دوسرے اخلاقی پابندی بھی ہے. اگر مجھے وقت ملے تو "اخبارجہاں” میں بھی کہانیاں لکھ سکتا ہوں. اس کا مجھے تنخواہ کے علاوہ الگ سے معاوضہ بھی ملے گا. لیکن وقت نہیں ملتا.

اعتزاز سلیم وصلی
فیصل آباد
سر آپ کو اپنے ناولز میں سے کونسا ناول پسند ہے ؟

☆ محموداحمدمودی
اپنے لکھے ناولز میں "تلاش” اور "نجات” پسندیدہ ہیں.

بتول علی
سیالکوٹ
آپ کو لکھنے کا بچپن سے شوق تھا جیسا کہ اکثر اوقات لکھاری کہتے ہیں … یا اس سلسلے میں کسی کو پڑھ کر یا لکھتا دیکھ کر تحریک ملی آپ کو ؟

☆ محموداحمدمودی
میرا خیال ہے شوق مجھے بچپن سے ہی تھا. اور یہ شوق زیادہ پڑھنے کی وجہ سے پیدا ہوا. دوسری جماعت سے جاسوسی ناول پڑھنے شروع کردیئے تھے جو پوری طرح سمجھ میں بھی نہیں آتے تھے. انگلش میڈیم میں ہونے کے باوجود کسی کی مدد کے بغیر دوسری کلاس یعنی سکینڈ گریڈ سے ہی اردو روانی سے پڑھنے لگا تھا.. چھٹی جماعت میں کلاسوں کے دوران پچھلی بنچوں پہ بیٹھ کر ٹیچر سے نظر بچاکر کافی دنوں میں ایک جاسوسی ناول بھی لکھ ڈالا جو جےڈی پی کے مالک معراج رسوپ صاحب کے والد عبدالغفار شیخ صاحب کو بھیج دیا جو ان دنوں ناولز کے پبلشر تھے اور ماہنامہ "سراغرساں” وغیرہ بھی نکالتے تھے. انہوں نے جوابی طور لکھا کہ یہ ناول قابل اشاعت ہے لیکن طوالت زرا کم ہے. کم از کم ایک روپیہ قیمت والا ناول چھپتا ہے. اس کیلئے پندرہ بیس صفحے اور بڑھادیں. وہ پندرہ بیس صفحے بڑھانے کی نوبت البتہ نہیں آسکی اور وہ مسودہ کہیں گم ہوگیا.

بتول علی
سیالکوٹ
آپ کا پسندیدہ موضوع اور رائٹر کونسا ہے ؟

☆ محموداحمدمودی
محبت… محبت میں ناکامی یا جدائی.. معاشرتی مسائل.. غیرمعمولی لوگ میرے پسندیدہ موضوعات ہیں. تمام بڑے رائٹرز میرے پسندیدہ ہیں. ہر ایک کی کوئی نہ کوئی خوبی یا خوبیاں ہیں. انہوں نے بلاوجہ اتنا نام نہیں کمایا.

غلام جیلانی
کوٹ ادو
سر لکھنا آپ کا شوق ہے یا پروفیشن ؟

☆ محموداحمدمودی
ابتدا میں تو شوق ہی تھا. پھر پیشہ بنتا چلاگیا. پھر ایک وقت آیا کہ مجھے لگا کہ مجھے لکھنے کے علاوہ کچھ نہیں آتا. میں نے تین چار بزنس کیئے. رسالہ بھی نکالا. اتنا عرصہ یہ کام نہیں کیئے جتنا عرصہ ان کے قرض اتارتا.رہا. آخر توبہ کرلی کہ لکھنے کے علاوہ کچھ نہیں کرنا. ویسے لکھنے کے پیسے مجھے شروع سے خود بخود ہی, میرے مانگے بغیر ملنے لگے تھے. بہت دیر بعد جاکر سمجھ میں آیا کہ اللہ تعالی نے میرے لیئے روزی روٹی کا ذریعہ یہی بنایا ہے.

غلام جیلانی
کوٹ ادو
نئے رائٹرز کو ایک بنیادی مشورہ کیا دینا چاہیں گے ؟

☆ محموداحمدمودی
زیادہ سے زیادہ پڑھیں

جعفر حسین
چینوٹ
گہرے مشاہدے اور وسیع مطالعے کے علاوہ اور کون سے امور لازمی ہیں لکھنے کیلئے ؟

☆ محموداحمدمودی
مطالعے اور مشاہد کے علاوہ زبان و بیان پہ عبور حاصل کرنا اور لکھنے کیلئے خود پہ ضبط کرکے, یعنی "پتہ مار کر بیٹھنا”.

جعفر حیسن
چینوٹ
سر آپ ادب برائے ادب کے قائل ہیں یا ادب برائے زندگی کے ؟

☆ محموداحمدمودی
میں ادب برائے قارئین کا قائل ہوں.

خالد شیخ طاہری
جامشورو سندھ
سر…! کسی بھی شعبے میں استاد کا ہونا بہت ضروری ہے.. آپ کے استاد کون تھے..؟ یا ہیں…؟

☆ محموداحمدمودی
میرے استاد انگریزی اور اردو کے وہ تمام بڑے ادیب ہیں جنہیں میں نے سالوں پڑھا.

طلعت مسعود
دبئی۔
آپ نے کئی ناولز کے ترجمے بھی کیئے۔ عالمی ادب میں سے ایسا کونسا رائٹر ہے جس کے ناول ترجمہ کرنے میں آپ انجوائے کرتے ہیں؟

☆ محموداحمدمودی
سب سے زیادہ کورنل وول رچ، سڈنی شیلڈن، او-ہنری، سمرسیٹ ماہم، البرٹو موراویا.

جعفر حسین
چینوٹ
خالص ادب اور پاپولر فکشن میں آپ بنیادی فرق کیا دیکھتے ہیں ؟

☆ محموداحمدمودی
خالص ادب سے کبھی کبھی آپ لطف اندوز نہیں ہوتے. پاپولر فکشن سے آپ عموما لطف اندوز ہوتے ہیں.

جعفرحسین
چینوٹ
جاسوسی پبلی کیشنز سے جڑا کوئی یادگار سا واقعہ ….. ؟؟

☆ محموداحمدمودی
جےڈی پی سے کم و بیش 30.. 35 برس کا ساتھ رہا ہے. واقعات اتنے ہیں کہ ایک ایک ضخیم کتاب مرتب ہوسکتی ہے.

طلعت مسعود
دبئی
موجودہ ڈیجیٹل دور… جس میں سوشل میڈیا کے ساتھ ساتھ اب لوگوں کو کتاب کی بجائے انٹرنیٹ پر سرچ کر کے پڑھنا زیادہ آسان لگتا ہے.. ایسے میں آپ ڈائجسٹ کا مستقبل کیا دیکھتے ہیں؟

☆ محموداحمدمودی
ڈائجسٹوں کا ہی نہیں سارے پرنٹ میڈیا کا مستقبل مخدوش ہے. لیکن اس کی بڑی وجہ صرف انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا نہیں, ایک اور بڑی وجہ یہ ہے کہ وہ نسل جس نے ان رسائل کی بنیاد رکھی, جو اس کام کو , اپنے قارئین کو, اور وقت کے ساتھ ساتھ بدلتے ہوئے رجحانوں کو سمجھتے تھے, وہ دھیرے دھیرے رخصت ہورہے ہیں. ان کی جگہ زیادہ تر ایسے افراد لے رہے ہیں جو اس کام کو, قارئین کو, اور بدلتے رجحانات کو سمجھتے ہی نہیں. ان میں سے بعض کو بیٹھے بٹھائے پلیٹ میں یا پھر وراثت میں یہ چیزیں مل گئیں. ان میں سے بعض تو اپنی فرعونیت کو ہی اپنی سب سے بڑی صلاحیت سمجھتے ہیں. ظاہر ہے پھر زوال تو آنا ہی ہے.

سید عبادت کاظمی
ڈیرہ اسماعیل خان
سر آپ جاسوسی ڈائجسٹ میں کیوں نہیں لکھتے اب ۔۔۔۔ آپ کو بہت سے لوگ پڑھنا چاہتے ہیں.

☆ محموداحمدمودی
اس سوال کا جواب میں اوپر دے چکا ہوں. میں نے تقریبا 12 سالوں سے ڈائجسٹوں میں نہیں لکھا. میں سمجھ رہا تھا اب تو لوگ مجھے بھول بھال چکے ہوں گے. مجھے چونکہ سوشل میڈیا کا استعمال بالکل نہیں آتا اس لیئے مجھے بالکل پتہ نہیں تھا کہ ایک الگ دنیا بھی ہے جہاں لوگ اب بھی مجھ جیسوں کو اتنی محبت اور اپنائیت سے یاد کرتے ہیں. میرے چند خیرخواہوان نے مجھے اس دنیا کی تھوڑی سی جھلک دکھلائی تو میں لوگوں کے جذبات اور محبتیں محسوس کرکے حیران رہ گیا. آپ سب لوگوں کا بیحد شکریہ.

محمد زریاب وصلی
فیصل آباد
سر آج کل کیا آپ جاسوسی پڑھتے ہیں ؟ اگر ہاں تو جو لوگ جے ڈی پی میں لکھ رہے ہیں ان میں سے آپ کا فیورٹ کون ہے؟

☆ محموداحمدمودی
سچی بات ہے.. میں اب ڈائجسٹ نہیں پڑھ پاتا. سرسری دیکھتا ہوں لیکن مجھے یہ دیکھ کر خوشی ہوتی ہے کہ نئے نئے نام تواتر سے نمودار ہورہے ہیں لوگ محنت کررہے ہیں نئی نسل ہماری جگہ لے رہی ہے.

محسن علی طاب
ضلع ساھیوال
میں نے آپ کے کئی ناول پڑھے ہیں.. خاص کر سرکش اور گاڈ فادر نے بہت متاثر کیا… عرض ہے آپ کسی مخصوص ماحول, وجد یا کیفیت میں لکھتے ؟ یا معمول کے مطابق ہی لکھنے کاکام ہوتا ؟ لکھنے کے دوران کوئی خاص عادت جس کا ذکر کرنا چاہیں گے ؟؟

☆ محموداحمدمودی
پیشہ ور رائٹر بننے کے بعد ماحول اور کیفیت وغیرہ کی پرواہ کیئے بغیر لکھنے کا کوئی معمول بنانا پڑتا ہے. لکھنے کے دوران میری کوئی خاص عادت نہیں ہے. بہت پہلے میں چین اسموکر تھا لکھنے کے دوران بھی مسلسل پیتا رہتاتھا.. آٹھ دس کپ چائے پی جاتا تھا. پندرہ بیس سال پہلے سگریٹ چھوڑ دی. چائے بھی بہت کم کردی.

محسن علی تاب
ضلع ساہیوال
آپ ستاروں پہ یقین رکھتے ہیں؟

☆ محموداحمدمودی
میں ستاروں پہ یقین نہیں رکھتا لیکن بے شمار لوگ یقین رکھتے ہیں. اس علم پر صدیوں سے کام ہورہا ہے. اتنی کتابیں لکھی گئی ہیں.. تو یونہی کبھی موہوم سا احساس ہوتا ہے کہ شاید کوئی بات ہو .

ماریہ خان
ساوتھ وزیرستان
سر میں نے آپکا ناول سرکش ایک سال پہلے پڑھا اگرچہ بچپن میں کھبی کھبار ڈاٸجسٹ ہاتھ لگتا تو پڑھ لیتی لیکن ایک سال پہلے اسے مکمل پڑھا.. جو مجھے بے حد پسند آیا. جب آپ کہانی لکھتے ہیں تو یہ پہلے دماغ میں ہوتی ہے یا شروع کرنے کے بعد ترتیب دیتے جاتے ہیں ؟؟

☆ محموداحمدمودی
کہانی کا صرف خاکہ ذہن میں ہوتا ہے. کبھی کبھی وہ بھی بہت مبہم ہوتا ہے. لیکن لکھنے بیٹھتے ہیں تو کہانی بنتی چلی جاتی ہے. لیکن کبھی کبھی کوئی کہانی بہت دنوں کیلئے اٹک بھی جاتی ہے. اس دوران کوئی دوسرا کام شروع کردیتے ہیں.

ڈاکٹر سبا ارشد
کراچی
السلام علیکم سر ۔۔
میری آپ کے نام سے پہلی دفعہ واقفیت تب ہوئی جب آپ روزنامہ ایکسپریس میں کالم لکھتے تھے.. اس کے بعد جاسوسی میں مختصر کہانیاں دیکھیں لیکن متاثر نہ ہو سکی… لیکن جب سرکش ملاحظہ کیا تو میں آپ کے طرز تحریر کی فین ہوگئی.
پوچھنا یہ تھا کہ سرکش کا خیال کیسے آیا؟ کسی حقیقی کردار سے متاثر ہو کر لکھا یا سراسر تخیلی کاوش تھی ؟

☆ محموداحمدمودی
جی ہاں.. سرکش کے کئی کرداروں سے کسی نہ کسی حد تک ملتے جلتے کرداروں سے مجھے زندگی میں واسطہ پڑا. ان سب کو مزید بنایا. سنوارا. تراشا اور ایک لڑی میں پرو دیا.

ڈاکٹر سبا ارشد
کراچی
اخبار جہاں و دیگر اخباری روزناموں میں لکھنے اور ماہانہ ڈائجسٹوں میں لکھنے میں کیا فرق ہے ؟
اور کیا مواقع ہیں ؟

☆ محموداحمدمودی
وہی فرق ہے جو دستر خوان پر رکھے مختلف کھانوں میں ہوتا ہے. مواقع اب کم سے کم ہوتے جارہے ہیں. اکثر اداروں میں ایسے ایڈیٹر موجود نہیں جو نئے لکھنے والوں کو تلاش کریں, انہیں Groom کریں.

شفقت محمود
کھیوڑہ ۔
سرکش بلاشبہ ایک لازوال ناول تھا اور افضل چوہدری ایک لاجواب کردار۔ سرکش کے واقعات حقیقت سے قریب تر تھے جو قاری کو فکشن سے زیادہ حقیقی معلوم ہوتے تھے ۔ آخر اس ناول کا پلاٹ آپ کے ذہن میں کیسے آیا ؟

☆ محموداحمدمودی
اس سوال کا جواب میں اوپر (ڈاکٹرسباارشد کو) دے چکا ہوں.

جعفر حسین
چینوٹ
جاسوسی ڈائجسٹ پبلی کیشنز میں آپ کی آمد کیسے ہوئی ؟ اور کچھ معراج رسول صاحب کے بارے میں بتائیں ؟

☆ محموداحمدمودی
جاسوسی ڈائجسٹ پبلی کیشنز کے چاروں شماروں میں میں نے ابتدا سے لکھا ہے. معراج صاحب سے پہلا رابطہ خط و کتابت سے ہوا تھا. پھر میں کراچی شفٹ ہوگیا تو گزرتے ہوئے برسوں کے ساتھ ساتھ بڑی قربت ہوگئی. بہت طویل کہانیاں ہیں.. کہاں تک سنیں گے, کہاں تک سناوں.

شفقت محمود
کھیوڑہ
سرکش کاپلاٹ پہلے سے طے شدہ تھا یا روانی کے ساتھ ساتھ بنتا گیا؟
اور افضل چوہدری کا کردار کس سے متاثر ہو کر رکھا؟

☆ محموداحمدمودی
اس سوال کا جواب میں میرے مندرجہ بالا جوابات میں ہے.

ایڈوکیٹ سعدیہ ہما شیخ
سرگودھا
مین نے اپکو اخبار جہاں سے پڑھنا شروع کیا… پوچھنا یہ ہے کہ سرکش تخیل کی اڑان ہے یا حقیقت کیونکہ بہت اریب قریب کی کہانی لگتی ہے.

☆ محموداحمدمودی
اس سوال کا جواب میں میرے مندرجہ بالا جوابات میں ہے.

ایڈوکیٹ سعدیہ ہما شیخ
سرگودھا
کیا آپ نہیں سمجھتے کہ آج کے ادیب جو لکھتے ہیں ان کی ذات خود اس کے بلکل برعکس ہوتی ہے.. اسے قول و فعل کے تضاد سے تشبیہہ نہیں دی جاسکتی ؟
آخر میں دعائیں .. آپ جے ڈی پی کا سرمایہ ہیں سلامت رہیں.

☆ محموداحمدمودی
جی ہاں. آپ نے بالکل درست کہا کہ ادیب کی ذات اکثر ان کی تحریروں کے برعکس ہوتی ہے. لیکن یہ صرف ادیبوں کا ہی معاملہ نہیں. ہمارے ہاں ہرشعبہ زندگی میں یہی حال ہے. دعاوں کا بہت بہت شکریہ.

سید ذیشان حیدر کاظمی
نارووال
سرکش میں فیورٹ کردار؟

☆ محموداحمدمودی
سرکش میں افضل چودھری اور راحیلہ پسندیدگی میں سرفہرست تھے. مزید بھی کئی کردار مجھے پسند تھے.

سید ذیشان حیدر کاظمی
نارووال
آپ نے کس کس قلمی نام سے لکھا ہے اب تک؟

☆ محموداحمدمودی
میں نے اتنے قلمی ناموں سے لکھا ہے کہ اب تو یاد بھی نہیں رہے. جو یاد آرہے ہیں وہ یہ ہیں.. نجمہ مودی, عمیرشاہ, مہتاب خان, مہتاب جلیل, نسیم جاوید سید, ڈاکٹرعابدالرحمن, شاہدہ سیمیں, طاہرہ بتول, تہذیب بخاری, تمکین تبسم, سیمیں نغمانہ, عرش تیموری, تمثال حسن عسکری.

سید ذیشان حیدر کاظمی
نارووال
کیا افضل چوہدری کی طرح آپ کو بھی فلم بینی کا کریز ہے؟

☆ محموداحمدمودی
مجھے فلم بینی کا کریز نہیں. تاہم پاکستانی فلمیں دیکھی بہت ہیں. تھوڑی بہت انگریزی بھی دیکھی ہیں. 90 کی دہائی کے بعد برائے نام ہی دیکھی ہیں.

سید ذیشان حیدر کاظمی
نارووال
افضل چوہدری اتنا کُول کیریکٹر تھا کیا یہ آپ کا ذاتی عکس تھا اگر نہیں تو کون سے کیریکٹر میں آپ اپنا عکس پاتے ہیں؟

☆ محموداحمدمودی
سرکش کے کسی بھی کردار میں غالبا میرا عکس نہیں.

سید ذیشان حیدر کاظمی
نارووال
آپ اپنی مترجم کہانیوں کی کوئی کتاب کیوں نہیں شائع کرواتے ہم غریبوں کا بھلا ہوگا…

☆ محموداحمدمودی
ترجموں کو کتابی شکل میں چھاپنے میں پبلشر زرا کم دلچسپی رکھتے ہیں .

سید ذیشان حیدر کاظمی
نارووال
آپ جب جے ڈی پی کا حصہ تھے تو اس وقت موسٹ فیورٹ ہم عصررائٹر کون تھا؟

☆ محموداحمدمودی
ہم عصر رائٹرز میں سے احمداقبال, محی الدین نواب, ایم اے راحت مجھے پسند تھے. پیشہ ور رائٹر کی ہر کہانی اچھی نہیں ہوسکتی. ان سب کی چند کہانیاں مجھے اچھی لگیں. احمداقبال سنجیدہ کے علاوہ مزاحیہ کہانیاں بھی اچھی لکھتے تھے. ایم اے راحت اور اظہرکلیم مرحوم سے میں نے یہ سیکھا کہ پیشہ ور رائٹر کیسے بناجاسکتا ہے. طاہر جاوید مغل کی میں نے تعریف سنی ہے. افسوس میں انہیں پڑھ نہیں سکا.

محمد قدرت اللہ
خانیوال
سید عبادت کاظمی
آپ جاسوسی میں کب جلوہ گر ہورہے ہیں ؟ یہ بے رخی کب تک چاہنے والوں کے ساتھ ؟

☆ محموداحمدمودی
آپ سب کے سوالوں کے جواب مندرجہ بالا جوابات میں موجود ہیں.

پرویز لانگاہ
جدہ, سعودی عرب
سر فی زمانہ جہاں سینئر رائٹرز کا کال ہے تو آپ اپنا کردار ادا کرنے کے بارے میں کیا سوچتے ہیں؟؟؟ کیا ہم یہ امید رکھیں کہ آپ کی نئی کہانیاں یا ناول پڑھنے کو ملیں گے؟؟؟

☆ محموداحمدمودی
اس سوال کا جواب میں میرے مندرجہ بالا جوابات میں ہے.

آمنہ رانا
کیا آپ کے قارئین یہ امید رکھیں کہ آپ سرکش بھلانے کیلئے سرکش سے بھی بہترین شاہکار لکھیں گے ؟
☆ محموداحمدمودی
سرکش سے بہتر شاہکار لکھنے کی تو مجھے خود سے بھی امید نہیں ہے. سرکش کو میں نے تشنہ چھوڑا تھا. اسے آگے بڑھانے کا کئی بار سوچا لیکن حالات نے اجازت نہیں دی. اب زندگی شاید کچھ یادہ نہیں رہ گئی.. مجھے نہیں لگتا کہ سرکش کو میں کبھی آگے بڑھا سکوں گا.

غزالہ یاسمین
لاہور
عموما جب کوئی تصنیف شہرت کی بلندی کو چھونے لگتی ہے تو اس کا لکھاری زیادہ تندہی سے لکھنے کی طرف راغب ہوتا ہے.. اور اسکی تحریروں کی تعداد بڑھتی چلی جاتی ہے… کیا وجہ رہی کہ سرکش کے بعد آپکی کوئی طویل تحریر نظر نہیں آئی ؟

☆ محموداحمدمودی
اس سوال کا جواب میں میرے مندرجہ بالا (آمنہ رانا کے) ریپلائی میں ہے.

انصرعلی
چینوٹ
السلام و علیکم سر.. مجھے آپ کے دو ترجمہ شدہ ناولز (گاڈ فادر اور الکپون) نے آپ کے فینز کی قطار میں لا کھڑا کیا. مافیا بھی میرا پسندیدہ ترین ناول ہے کیا آپ اس طرز پہ کوئی نیا ناول لکھیں گے دوبارہ…. ؟

☆ محموداحمدمودی
اس طرح کے میرے اور بھی کئی ناول "اخبار جہاں” میں قسط وار چھپے ہیں.

حسینہ عباسی (مری )
ایک وقت تھا کہ ہر طرف اخبار جہاں کا طوطی بولتا تھا.. آپ کیا سمجھتے ہیں کہ اب بھی ایسا ہی ہے ؟
اخبار جہاں پرانے فارمیٹ میں اب تک شائع ہو رہا ہے، بلکہ اب تو فکشن تحریریں بھی زیادہ تر پرانی ہی لگ رہی ہیں۔ آپ کے خیال میں اس کے فارمیٹ میں تبدیلی لانے کی کوشش کیوں نہیں کی جا رہی؟

☆ محموداحمدمودی
اخبار جہاں کے فارمیٹ یا انداز میں تبدیلی لانا دراصل ہم ملازمین کے اختیار میں نہیں ہے.

افشین بیگ
ٹورانٹو
اسلام وعلیکم سر، آپ کو اپنی کون سی تحریر سب سے زیادہ پسند ہے فکشن اور ترجمہ ناول میں سے ؟ آپ میرے پسندیدہ ترین رائیٹرز میں سے ہیں آپ سے ایک التجاء ہے کہ سرکش کا پارٹ ٹو ضرور لکھیں شکریہ

☆ محموداحمدمودی
آپ کے بھی دونوں سوالوں کا جواب مندرجہ بالا جوابات میں موجود ہے.

مرتضیٰ لانگاہ
جدہ, سعودی عرب
کبھی کسی کہانی کو لکھنے کے دوران دقت یا مشکل محسوس کی ہے ؟
لوگ عموماً سرکش کو آپ کا بہترین کام سمجھتے ہیں لیکن مختصر تراجم اور ناولز میں سے آپ کو ذاتی طور پر کونسی تحریر پسند ہے۔؟

☆ محموداحمدمودی
جی ہاں.. کئی کہانیاں لکھنے کے دوران دشواری پیش آئی. میں خود بھی سرکش کو اپنی طبع زاد تحریروں میں سب سے اچھی کاوش سمجھتا ہوں. مختصر تراجم اور ناولوں میں سے کئی کا ترجمہ کرتے وقت مجھے بہت لطف آیا اور ان کے رائٹرز پہ رشک بھی آیا لیکن اب ان سب کا حوالہ دینا میرے لیئے ممکن نہیں.

ایمانے زارا شاہ
اسلام آباد
سر … مانا کہ قاری کی توجہ آجکل سوشل میڈیا و دیگر سرگرمیوں میں اٹکی ہوئی ہے لیکن لکھاریوں کی جانب سے بھی تو اس طرح کی ست رنگی کہانیاں نہیں آرہیں جیسا ایک زمانے میں آپ.. احمداقبال صاحب.. اقلیم علیم صاحب وغیرہ لکھتے تھے.. آپ کو نہیں لگتا کہ اچھا فکشن لکھنے اور پڑھنے کا ایک دور….. گزر گیا ؟؟

☆ محموداحمدمودی
بلاشبہ اچھا فکشن لکھنے کا ایک زمانہ گزرگیا… بلکہ بہت سے اچھا فکشن لکھنے والے بھی "گزر” گئے.

مظہر سلیم ہاشمی
بہاولپور

مودی صاحب میں آپ کا بہت بڑا فین ہوں۔۔۔ آج کل آپ کی تحریر ”تلاش” زیر مطالعہ ہے جو کہ نہایت شاندار کہانی ہے۔ جاسوسی سسپنس آپ کے بغیر ادھورے محسوس ہوتے ہیں۔۔۔ کاش آپ واپس آ سکتے۔
آپ کے تراجم ”گاڈ فادر” اور ”کیچ می اف یو کین” کی دوبارہ اشاعت کی وجہ سے اخبار جہاں کا مطالعہ کرنا شروع کیا ہے۔۔۔
میرا آپ سے سوال ہے کہ آپ کب نئی تحاریر لکھیں گے؟

☆ محموداحمدمودی
میری نئی تحریریں یا تراجم اب صرف اخبار جہاں میں فرضی ناموں سے شائع ہوتے ہیں. مستقبل کا کچھ اندازہ نہیں کہ میں اپنی باقی زندگی میں دیگر رسائل میں اپنے اصل نام کے ساتھ لکھ پاوں گا یا نہیں.

مظہر سلیم ہاشمی
بہاولپور
اور دوسرا سوال کہ نئے لکھاریوں کے لیئے پلیٹ فارم کم سے کم ہوتے جا رہے ہیں۔۔۔ آپ کا ادارہ اخبار جہاں اس سلسلے میں کیا اقدام اٹھانا پسند کرے گا۔۔۔ یا تین تین پرانی تحاریر بیک وقت شائع کرنے والی پالیسی ہی اپنائے گا ؟

☆ محموداحمدمودی
نئے لکھاریوں میں اچھے ملتے بھی نہیں. اور انہیں نکھارنے کیلئے کوئی محنت بھی نہیں کرتا. ہمارا ادارہ بھی ان میں شامل ہے. ڈائجسٹ تو پھر بھی… خواہ اپنی ضرورت کے تحت ہی سہی… لیکن کبھی نہ کبھی, کچھ نہ کچھ نئے لکھنے والے سامنے لاتے رہتے ہیں.

مظہر سلیم ہاشمی
بہاولپور
آپ کا ڈرامہ ”مانوس اجنبی” ایک کلاسک لگتا ہے۔۔ اس کے علاوہ پی ٹی وی پہ بھی آپ کی تحریر کردہ بچوں کی سیریز بھی بڑے شوق سے دیکھتا تھا۔
پرائیوٹ چینلز کی بھرمار کے باوجود آپ کی کوئی کاوش کبھی دیکھنے میں کیوں نہیں آئی؟
مستقبل میں کبھی کوئی فلم یا ٹی وی سیریل لکھنے کا ارادہ ہے؟

☆ محموداحمدمودی
"مانوس اجنبی” کے بعد مجھے بہت سی آفرز تھیں. لیکن مجھے لگا کہ پرائیویٹ سیکٹر کے پروڈیوسرز سے ڈیل کرنا میرے بس کی بات نہیں. خاص طور پر اس لیئے کہ ہماری تو روزی روٹی ہی لکھنے لکھانے پہ منحصر ہے. اب بھی کبھی کبھار کوئی آفر آجاتی ہے لیکن اب

مظہر سلیم ہاشمی
بہاولپور
وہ کون سے اردو کے لکھاری / مصنفین ہیں جن کو آپ پڑھتے ہیں اور ہمیشہ پڑھ کر لطف اندوز ہوتے ہیں؟
فکشن لکھاریوں کا خاص طور پہ بتائیے گا.

☆ محموداحمدمودی
اس سوال کا جواب مندرجہ بالا جوابات میں موجود ہے.

مظہر سلیم ہاشمی
بہاولپور
قاری اور لکھاری کے رابطے میں کتنا فاصلہ ہونا چاہیئے؟

☆ محموداحمدمودی
قارئین اگر اچھے انسان ہوں تو رائٹرز اور قاری میں فاصلہ ضروری نہیں لیکن کیا کریں, انسان کی اصل شخصیت بہت طویل واقفیت کے بعد ہی کھلتی ہے. اس لیئے احتیاط ہی بہتر ہے.

مظہر سلیم ہاشمی
بہاولپور
آج کل فون اور سوشل میڈیا کی بدولت چند تعلق پیدا کرنے والے خواتین و حضرات رائٹر کی نجی زندگی اور اس کی فیملی کے بارے میں جو باتیں پھیلاتے ہیں ان کے بارے میں کیا کہنا چاہیں گے؟

☆ محموداحمدمودی
میں بتاچکا ہوں کہ میں سوشل میڈیا کے بارے میں بالکل "جاہل” ہوں. اور اس سے بالکل لاتعلق ہوں. مجھے نہیں معلوم اس پر کیا ہورہا ہے. مجھ سے تو صرف دو تین شخصیات کا رابطہ ہوا. وہ بہت اچھی ثابت ہوئیں. میں نے انہیں اپنے بچوں کی طرح محسوس کیا.

خصوصی سوال:
(یہ سوال بہت سے قارئین نے پوچھا.. ان کے نام لکھے تو لسٹ بہت طویل ہوجائے گی… اس لیئے سب کیلئے ایک مشترکہ سوال اور ایک ہی جواب)

ادارہ جاسوسی آپ نے کیوں چھوڑا ؟ کیا مستقبل میں یہاں آپ کی واپسی ہوسکتی ہے ؟

☆ محموداحمدمودی
اس سوال کا جواب مندرجہ بالا جوابات میں موجود ہے.. مستقبل کے بارے میں کوئی یقین سے کچھ بھی نہیں کہہ سکتا

اس کے ساتھ ہی ہمیں دیجیئے اجازت … آخر میں ایک بار بہت بہت شکریہ اتنی اچھی کنورسیشن کیلئے.. زندگی رہی تو ہوا کے دوش پہ لہراتی ایک ملاقات اور بھی رہے گی… تب تک کیلئے اللہ نگہبان.

ترتیب و پیشکش:
اردو لکھاری ڈاٹ کام
جاسوسی آفیشل فین کلب (Fb)

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

ڈاکٹر عبد الرب بھٹی ۔۔۔ یاسین صدیق

   ڈاکٹر عبد الرب بھٹی  یاسین صدیق ٭٭٭ ڈاکٹر عبد الرب بھٹی صاحب کسی تعارف …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے