سر ورق / ڈراما / شاخ نازک پہ آشیانہ …ابن آس محمد۔۔ قسط:2 

شاخ نازک پہ آشیانہ …ابن آس محمد۔۔ قسط:2 

شاخ نازک پہ آشیانہ

ابن آس محمد
قسط:2
درید کی بات سن کرسب سناٹے میں آگئے۔
چند لمحوں تک کسی کی سمجھ میں نہ آیا کہ کہے اور کیا نہ کہے ۔
حیا نے گھبراکر آنکھیں بند کرلیں۔ صدیقی صاحب کے دل کو گھونسا سا لگا۔
بڑی بیٹی کے لیے آنے والا،چھوٹی بیٹی پہ مرمٹا تھا ۔۔۔بڑی کو بیاہنے کے لیے آنے والا چھوٹی کا چاہنے والا بن گیا تھا ۔مرد بھی عجیب مخلوق ہے ۔۔۔چاہتا کسی کو ہے ،بیاہتا کسی کو ہے ۔مگر درید تو اسی کو بیاہنا چاہ رہا تھا ۔۔۔جس کو ایک دم سے چاہنے لگا تھا ۔
صدیقی صاحب نے سٹپٹاکر کہا۔
’’ درید بیٹا۔۔۔، یہ ۔۔۔یہ کیا کہہ رہے ہو تم۔۔۔؟‘‘
درید ساکت اور خاموش کھڑا تھا۔
شاید اسے خود بھی اندازہ تھا کہ اس نے کیسا طوفان اس گھر میں بپا کردیا ہے۔مگر وہ ہر طوفان کا سامنا کرنے کو تیار تھا ،اس کی نگاہیں ارم پر جمی ہوئی تھیں جو بے یقینی اور دکھ سے سے اس کی طرف دیکھ رہی تھی ۔
صدیقی صاحب نے گھبرائی ہوئی نظروں سے حیاکی طرف دیکھا، پھر پریشان ہوکر اپنے دوست ارسلان بیگ کی طرف دیکھا۔
ارسلان بیگ خود بھی سکتے کی سی کیفیت میں تھا۔۔۔ وہ بھی بے یقینی سے درید کی ہی طرف دیکھ رہے تھے۔انہیں خود بھی اپنی سماعت پہ یقین نہیں آیا تھا۔انہیں سمجھ میں ہی نہیں آرہا تھا کہ ان کا خون یوں اچانک رنگ بدلے گا ،اپنا فیصلہ بدلے گا ۔
انہوں نے درید سے کچھ کہنے کی کوشش کی مگر ان کے الفاظ ان کے حلق میں ہی پھنس گئے ۔
صدیقی صاحب نے ہکلاکر کہا۔
’’بیگ صاحب۔۔۔یہ ۔۔۔یہ سب کیا ہے ۔۔۔کیا ہو رہا ہے ۔۔۔نہیں جی۔۔۔میری تو کچھ سمجھ میں نہیں آرہا۔۔۔مجھے آپ کے بیٹے کی یہ بات نہ تو سمجھ آئی ہے اورنہ پسند آئی ہے ۔۔۔‘‘
درید نے ارم پرنظریں جمائے ہوئے جواب دیا۔
’’صدیقی انکل۔۔۔آپ کو میری یہ بات اچھی لگی ہے نا۔۔۔کہ جو چیز پسند ہو اس کا اظہار کردینا چاہیے۔۔۔ سو میں وہی کر رہا ہوں ۔۔۔ مجھے آپ کی بیٹی ارم پسند ہے۔۔۔اور ۔۔۔میں اپنی پسند کا اظہار کر رہا ہوں ۔۔۔‘‘
حیا کے کان سائیں سائیں کررہے تھے۔ اس لیے مزید نہیں سن سکی کہ درید نے اور کیا کہا ۔۔۔وہ توبے یقینی سے ارم کی طرف دیکھ رہی تھی۔
ارم بھی اس صورت حال پر ہکا بکا کھڑی تھیں۔
حیا صدیقی کی کچھ سمجھ میں نہیں آیاتو وہ ایک دم کھڑی ہوگئی۔ اب اس محفل میں اس کا موجود رہنا کسی بھی طورمناسب نہیں تھا۔
وہ ادھر ادھر دیکھے بغیر،کچھ بھی کہے بغیر۔۔۔ تیزی سے درید کے سامنے سے گزرگئی۔
ارم نے سٹ پٹا کر حیاکو آواز دی ۔
’’حیا باجی۔۔۔بجو۔۔۔رکیں تو۔۔۔میری بات تو سنیں ۔۔۔‘‘
مگر حیا رکی نہیں ۔۔۔ارم،اسے آوازیں دیتی ہوئی حیا کے پیچھے لپکی۔۔۔مگر اتنی دیر میں حیا کمرے سے نکل چکی تھی۔
ارم درید کے سامنے ایک لمحے کو رکی اوردرید کی آنکھوں میں براہ راست گھورتے ہوئے غرائی۔
’’یہ آپ نے اچھا نہیں کیا ہے۔۔۔حیا باجی کا دل توڑ کر آپ نے ہم سب کو دکھی کردیا ہے۔۔۔‘‘
درید نے کوئی جواب نہیں دیا۔۔۔بس یک ٹک اس کی طرف دیکھتا رہا ۔۔۔
ارم اس پر ایک غصیلی اورزہریلی نظر ڈالتے ہوئے کمرے سے نکل گئی۔
ڈرائنگ روم میں خاموشی پھیل گئی۔ ایک طوفان تھا جو تیزی سے آکر گزرگیا تھا۔ سب سکتے کی سی کیفیت میں بیٹھے تھے۔ صدیقی صاحب کا چہرہ دُکھ کی آماج گاہ نظر آرہا تھا۔
بیگ صاحب اور راحت بیگم کے چہروں پر بے یقینی نے ڈیرے ڈالے ہوئے تھے۔ ان کی اپنی کیفیت یہ ظاہر کررہی تھی کہ یہ سب ان کی خواہش اور تمنا کے قطعی برخلاف ہوا ہے۔
کچھ دیر کی جان گسل خاموشی کے بعد صدیقی صاحب نے بیگ صاحب سے شکوہ کیا۔
’’ارسلان بیگ۔۔۔یہ۔۔۔یہ۔۔۔یہ کیا کیا آپ لوگوں نے ہمارے ساتھ۔۔۔؟‘‘
صدیقی صاحب کی آواز میں واضح طورپر ارتعاش تھا۔آواز بری طرح لڑکھڑارہی تھی۔ ذلت اور غصے کی شدت سے کانپ رہی تھی۔
پھپھو نے ایسے میں حسب عادت جلتی پر تیل ڈالنے والا کام کیا۔اترا کر بولیں ۔
’’اب حیا کی عمر زیادہ ہوگئی ہے نا۔۔۔ اس طرح کی باتیں تو ہوں گی ہی۔۔۔عمر رسیدہ لڑکیوں کو ہر طرح کے حالات کا سامنا کرنے کا عادی ہو نا چاہیے ۔۔۔‘‘
صدیقی صاحب نے گھور کر اپنی بہن کی طرف دیکھا جو ہمیشہ ایسے موقعوں پر آگ لگانے کا فریضہ سرانجام دے لیتی تھیں۔
پھپھونگہت کو بھی شاید فوراًاحساس ہوگیا کہ انہوں نے ضرورت سے زیادہ احمقانہ بات کہہ دی ہے۔ وہ بات سنبھالنے کی کوشش میں درید سے بولیں ۔
’’لیکن درید بیٹا، عمر زیادہ ہونے سے کچھ نہیں ہوتا۔۔۔حیا بھی بہت اچھی بچی ہے۔ تم۔۔۔!‘‘
صدیقی صاحب کا پیمانہ ضبط لبریز ہوگیاتھا،وہ دبے دبے غصے میں کھڑ کھڑاتی ہوئی آواز سے بولے۔
’’نگہت۔۔۔ تم خاموش رہو اس وقت۔۔۔یہی تمہارے حق میں بہتر ہو گا ۔۔۔‘‘
نگہت پھپھو کو سانپ سونگھ گیا۔ صدیقی صاحب ارسلان بیگ کی طرف پلٹے۔
’’بیگ صاحب ۔۔۔نہیں جی، آپ سمجھائیں درید کو۔۔۔ہمیں۔۔۔ہمیں حیابیٹی کی ہی شادی کرنی ہے اور۔۔۔آپ لوگوں سے بات بھی حیا بیٹی کی ہوئی تھی۔۔۔ارسلان، تمہیں یاد ہے نا۔۔۔‘‘
ارسلان بیگ ان کے دوست تھے۔ مگر اس وقت ان سے نظریں ملانے کے بھی قابل نہیں رہے،ان کے بیٹے نے انہیں اپنے دوست کے سامنے شرمندہ کر دیا تھا ۔وہ نگاہیں چراتے ہوئے بولے۔
’’یارصدیقی۔۔۔جوکچھ ہوا ہے، میں شرمندہ ہوں اس پر ۔۔۔میرا خیال ہے۔۔۔اس وقت ہمیں چلنا چاہئے۔۔۔اس موضوع پر پھر بات ہوگی۔۔۔چلو بیگم،۔۔۔درید۔۔۔!‘‘
وہ ایک جھٹکے سے کھڑے ہوگئے۔اور مزید کچھ کہے بغیر چلے گئے ۔کسی نے کچھ نہیں کہا ۔نہ روکنے کی کوشش کی ۔۔۔نہ کسی نے ان کو جاتے ہوئے دیکھنے کے لیے نظریں اٹھائیں ۔
جاتے جاتے وہ لوگ پورے گھر میں سناٹے اور موت کی سی خاموشی چھوڑگئے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حیا اپنے کمرے میں آگئی تھی، ابھی تک ذہنی صدمے سے نہیں نکلی تھی۔ اس کی آنکھوں سے آنسو مسلسل بہہ رہے تھے۔ جنہیں ارم تھوڑی تھوڑی دیر بعد صاف کررہی تھی۔
’’ایسی گھٹیا حرکت نہیں کرنی چاہیے تھی انہیں۔‘‘ ارم کا غصہ ابھی تک موجو تھا۔
’’میرا تو دل چاہا کہ اس کا منہ نوچ لوں۔۔۔‘‘
حیا خاموش ہی رہی۔کوئی جواب نہ دیا ،یوں ہی بیٹھی ایک طرف تکتی رہی ،جیسے وہ جیتی جاگتی انسان نہ ہو ۔۔۔بے حس وحرکت پتھر کی مورتی ہو ۔۔۔نہ ہی اس کے چہرے پر کوئی ایسا تاثر تھا جو اس کی اندرونی کیفیت کوظاہر کرپاتا۔
اس کی خاموشی اور بے تاثری ہی اس کی کیفیت کا اظہار ہو گئی تھیں ۔
کچھ لوگ کہہ کر اپنا دکھ بتاتے ہیں ،کچھ لوگوں کا خاموش ہو جانا ہی دکھ کا اظہار ہوتا ہے ۔ارم اس دکھ کو اپنے اندر اترتے ہوئے محسوس کر رہی تھی ۔سمجھ رہی تھی کہ اس کی بجو کی خاموشی کے پیچھے کیسا آتش فشاں ابل رہا ہوگا ۔
وہ حیا کی آنکھوں کو پڑھتی رہی ،کچھ پڑھنے میں نہ آیا تو تنگ آکر بولی ۔
’’بات کیوں نہیں کررہی ہو بجو۔۔۔، بات تو کرو۔۔۔کچھ تو بولو۔۔۔!‘‘
حیا نے رندھی ہوئی آواز میں کہا۔
’’ارم پلیز۔۔۔مجھے کچھ دیر کے لیے تنہا چھوڑدو۔۔۔میں اکیلی ہوجانا چاہتی ہوں اس وقت۔۔۔بالکل اکیلی ۔۔۔‘‘
’’کیوں اکیلی چھوڑدوں!‘‘ ارم جھٹ بولی۔
’’بڑی بہن دکھی ہوتو چھوٹی بہن اسے تنہا چھوڑسکتی ہے بھلا۔۔۔میں بہن ہوں ۔۔۔دشمن نہیں جو تمہیں اکیلا چھوڑ دوں ۔۔۔‘‘
حیا نے اپنے ہاتھ سے آنسو صاف کرلیے۔مسکرانے کی کوشش کرتے ہوئے بولی ۔
’’مجھے کوئی دکھ نہیں ہے۔‘‘
’’کیوں دکھ نہیں ہے۔۔۔جب مجھے دکھ ہوا ہے تو آپ کو کیوں نہیں ہوا ہوگا ۔۔۔مجھ سے برداشت نہیں ہوئی یہ احمقانہ بات ۔۔۔ آپ نے برداشت کیسے کرلی۔‘‘
حیا خامشی سے اس کی طرف دیکھتی رہی ،اس کے ہونٹوں پر عجیب سی مسکراہٹ رینگنے لگی تھی ۔
’’ کیا کرنا چاہیے تھا مجھے ۔۔۔؟‘‘
ارم کو ایک بار پھر غصہ آگیا۔
’’سنادینی چاہیے تھی آپ کو اسی وقت۔۔۔یا کم از کم ایک تھپڑ تو لگا ہی دینا چاہیے تھا ۔‘‘
حیا نے اس کی طرف خاموش نظروں سے دیکھا۔
’’مجھ سے تو برداشت نہیں ہوا۔۔۔‘‘ ارم نے کہا۔
’’میں توسنا کر آگئی۔۔۔یہ بھی کوئی بات ہوئی بھلا۔۔۔ مان نہ مان میں تیرا مہمان۔۔۔بہت زیادتی کی ہے ان لوگوں نے۔۔۔اتنی اچھی ہیں آپ اور۔۔۔‘‘
کہتے ہوئے ارم کی آواز بھرا گئی ،لہجہ لڑکھڑا گیا،۔۔۔ پلکیں بھیگ گئیں ۔
حیا جھٹ اس کے گلے لگ گئی۔۔۔رونے والی کو چپ کراتے ہوئے خود بھی یک لخت روہانسی ہوگئی ۔
’’چپ ہوجاؤ ارم۔۔۔پلیز چپ ہوجاؤ۔۔۔رونے سے نصیب نہیں بدلتے ۔۔۔نہ نصیب ۔۔۔نہ حالات ۔۔۔نہ واقعات ۔۔۔‘‘
مگر ارم چپ ہونے والی نہیں تھی۔ بہت دیر تک درید اور اس کے گھروالوں کی اس زیادتی پر جو منہ میں آیا بولتی رہی۔
حیا اسے چپ کراتے کراتے کچھ دیر بعد خود بھی ایک دم رونے لگی تھی ۔
پھر وہ دونوں ایک دوسرے سے لپٹ کر روتی رہیں ۔۔۔اور ایک دوسرے کو چپ کراتی رہیں ۔
ان کے کمرے کے علاوہ کسی اور کمرے سے رونے یا سسکنے کی آوازیں نہیں آرہی تھیں ۔۔۔ہر کمرے میں ۔۔۔کمرے ہی کیا ۔۔۔گھر کے ہر حصے میں سکوت تھا ۔۔۔مکمل سکوت ۔۔۔ ۔۔۔ایک گھمبیر خاموشی تھی جس نے پورے گھر کو اپنے لپیٹے میں لے لیا تھا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جیسا سناٹااورخاموشی صدیقی صاحب کے گھر میں تھی، ویسا ہی سکوت ارسلان بیگ کے گھر میں بھی تھا۔
رات گئے تھے بیگ صاحب خاموش بیٹھے گہری سوچ میں ڈوبے رہے۔
گھر آنے تک راستے میں ان لوگوں کے درمیان کوئی بات نہیں ہوئی تھی۔
گھر آتے ہی بیگ صاحب اور درید اپنے اپنے کمروں میں چلے گئے تھے اور راحت بیگم گھر کے دیگر کاموں میں مصروف ہوگئیں تھیں۔
کوئی دو گھنٹے بعد بیگ صاحب ڈرائنگ روم میں اپنی مخصوص جگہ آکر بیٹھ گئے ۔ راحت بیگم باورچی خانے میں تھیں۔
کچھ دیر قبل بیگم راحت نے کافی لاکر ان کے سامنے رکھ دی تھی۔ پھر خود بھی آکر بیٹھ گئی تھیں۔کافی دیر تک چپ رہنے کے بعد آخر ان سے خاموش نہ رہا گیا۔و ہ کافی کا مگ رکھتے ہوئے بولیں۔
’’یہ کیا حماقت کی ہے درید نے۔۔۔؟ہم لوگ حیا کو دیکھنے گئے تھے۔۔۔ حیا بہت اچھی لڑکی ہے۔۔۔ پسند بھی آئی تھی ہمیں۔۔۔ اپنی پسند کا اظہار بھی کردیا تھا ہم نے۔۔۔اور پھر اتنی بڑی حماقت۔۔۔‘‘
ارسلان بیگ نے نظراٹھاکر ان کی طرف دیکھااور کچھ نہیں بولے۔
’’آپ لوگوں نے یہ تک نہ سوچا کہ اس فیصلے سے کیا گزری ہوگی ان پر۔۔۔ اس معصوم بچی کا دل کیسا ٹوٹا ہوگا۔۔۔ کیسی ہتک محسوس کی ہوگی اس نے۔۔۔ کسی لڑکی کو مسترد کرنا۔۔۔اور وہ بھی اس کے منہ پر۔۔۔ اُف! کس طرح ٹوٹ کر بکھری ہوگی وہ۔۔۔یہ تو نہ سوچا آپ لوگوں نے۔‘‘
بیگ صاحب نے کافی کا مگ اٹھایا، چسکی لی اور سنجیدگی سے بولے۔
’’راحت بیگم۔۔۔تم بھول رہی ہو، یہ فیصلہ میرا نہیں۔۔۔ درید کا ہے۔۔۔ میں تو خود حیا کو ہی اپنی بہو بنانا چاہتا تھا۔۔۔مگر۔۔۔‘‘
انہوں نے بات ادھوری چھوڑ کر ایک طویل سانس لی،پھر بولے۔
’’مگر۔۔۔مجھے درید سے ایسی حرکت کی امید نہیں تھی۔۔۔ میری تو۔۔۔خود سمجھ میں نہیں آیا اس وقت۔۔۔گنگ ہوگیا تھا میں۔۔۔سٹپٹاگیا اس سچویشن پر۔۔۔‘‘
بیگم راحت کو ابھی تک اپنے بیٹے پر غصہ آرہا تھا۔
’’آپ کو اسی وقت ٹوکنا چاہیے تھا درید کو۔‘‘
’’میں ٹوکتا تو مزید بدمزگی ہوجاتی۔۔۔دوسرے کے گھر میں باپ بیٹا الجھ جاتے۔۔۔ میں برداشت کرگیا۔۔۔خاموش رہنا مناسب سمجھا۔۔۔یہ سوچ کر خود کو سمجھایاکہ ۔۔۔شادی درید کی ہونی ہے۔۔۔زندگی اسے گزارنی ہے۔۔۔یہ بات میری سمجھ میں آتی ہے۔۔۔یہ فیصلہ بہرحال اس کا ہوگا کہ کون لڑکی اس کی جیون ساتھی بنے گی۔‘‘
راحت بیگم کو اپنے شوہر کی یہ بات مناسب معلوم نہیں ہوئی۔
’’آپ مرد ہیں۔۔۔آپ کا بیٹا بھی مرد ہے۔ آپ مردوں کی سمجھ میں یہ بات نہیں آسکتی کہ ٹھکرایا جانا کسی لڑکی کے لیے کس قدر اذیت کا سبب ہوتا ہے۔۔۔اس کی پوری نفسیات تبدیل ہوجاتی ہے۔ آپ کا بیٹا گاجر مولی خریدنے سبزی کی دکان پر نہیں گیا تھا کہ ایک سبزی پسند نہیں آئی تو دوسری خریدلی۔۔۔اگر اس وقت ارم وہاں نہ ہوتی تو کیا ہوتا۔۔۔ارم سے پہلے وہ حیا کو پسند کرچکا تھا۔۔۔اس کی آنکھوں میں حیا کے لیے پسندیدگی میں دیکھ چکی تھی۔‘‘
راحت بیگم ٹھیک کہہ رہی تھیں پھر ویسے بھی درید نے حیا صدیقی کی تصویر دیکھ کرحیا کے لیے ہاں کہی تھی، تب ہی تو وہ بات پکی کرنے صدیقی صاحب کے گھر گئے تھے۔
اس وقت درید بھی اپنے کمرے سے نکل کر باہر آگیا تھا۔ اس نے اپنی ممی کی باتیں سن لی تھیں۔
بیگ صاحب نے اثبات میں سرہلایا اور بولے۔
’’تمہاری ساری باتیں ٹھیک ہیں بیگم۔۔۔مگر اب اس بحث سے کیا فائدہ۔۔۔! جو تیرکمان سے نکل گیا،وہ نکل گیا ۔۔۔اب وہ واپس نہیں آتا۔۔۔بات زبان سے نکل جائے تو پرائی ہوجاتی ہے۔۔۔اب کچھ نہیں ہوسکتا۔۔۔‘‘
بیگم راحت نے ٹھوس لہجے میں کہا۔
’’سب کچھ ہو سکتا ہے ۔۔۔سب کچھ ممکن ہے۔‘‘
’’ کیا کہنا چاہتی ہو ۔۔۔اب کیاہو سکتا ہے ۔۔۔؟‘‘
’’میںیہ کہنا چاہتی ہوں کہ ۔۔۔آپ صدیقی صاحب کو فون کریں۔۔۔ یا اکیلے میں جاکر ان سے معافی مانگیں۔ ان سے کہہ دیں کہ درید نے نادانی کی ہے۔۔۔وہ پریشان نہ ہوں، ہمارے درید کی شادی حیا سے ہی ہوگی۔۔۔مجھے وہ لڑکی پسند ہے۔ اس گھر کے لیے اور درید کے لیے وہی لڑکی مناسب ہے۔‘‘
ارسلان بیگ چند لمحوں تک اپنی بیگم کا منہ تکتے رہے۔ وہ کسی حد تک قائل بھی ہوگئے۔ ایسے میں درید آگے بڑھا، اور ان کے سامنے آگیا۔
’’نہیں ممی۔۔۔‘‘ اس نے حتمی لہجے میں کہا۔
’’میں حیا سے نہیں، ارم سے ہی شادی کروں گا۔‘‘
راحت بیگم تلملاگئیں۔
’’واہ بیٹا۔۔۔!اپنی حماقت پر شرمندہ ہونے کے بجائے اب بے شرمی پر اترآئے ہو۔‘‘
’’میں نے کوئی حماقت نہیں کی ہے ممی۔‘‘ درید نے جواب دیا۔
’’اپنی پسند کا اظہار کیا ہے۔ اور اپنی پسند کا اظہار کرنا حماقت کب سے ہونے لگا۔‘‘
’’نہیں بیٹا۔۔۔تمہیں تسلیم کرلینا چاہیے کہ غلطی کی ہے تم نے۔۔۔رشتے اس طرح نہیں بنتے۔۔۔نہ بنتے ہیں نہ بستے ہیں۔‘‘
درید کی سمجھ میں ان کی بات نہیں آسکتی تھی۔وہ انکار میں سر ہلاتے ہوئے بولا۔
’’آئی ایم سوری ممی۔۔۔، اگر آپ لوگ زبردستی اس لڑکی سے میری شادی کرنا چاہتے ہیں جو مجھے پسند نہیں تو اور بات ہے۔۔۔اور اگر میری مرضی اور میری پسند کا خیال رکھنا چاہتے ہیں تو سن لیں۔۔۔ میری پسند ارم ہے۔۔۔وہ پہلی نظر میں مجھے پسند آگئی ہے۔۔۔اور اپنی پسند پر برقرار رہنے کا مجھے پورا حق حاصل ہے۔ میرا فیصلہ اٹل ہے۔۔۔میں ارم سے ہی شادی کروں گا۔‘‘
بیگم راحت کو اس کے لہجے اور انداز پر غصہ آگیا۔وہ بولیں توان کے لہجے میں تلخی عود کر آگئی۔
’’تم اپنے ماں باپ کی بے عزتی کرنا چاہتے ہو درید۔۔۔! اپنی ضد منوانے کے لیے اٹل فیصلے کرنے کے قابل کب سے ہوگئے تم۔۔۔؟ تمہیں اتنا بھی احساس نہیں کہ تمہاری ضد۔۔۔ اور تمہارا اٹل فیصلہ تمہاری ماں کی مرضی کے خلاف ہے۔۔۔تمہاری ماں کے فیصلے اور خواہش کی انسلٹ ہے ۔۔۔‘‘
درید نے بے چارگی سے ماں کی طرف دیکھا۔ وہ ایک نافرمان بیٹا تو کبھی بھی نہیں تھا۔ پہلے کبھی ضد بھی نہیں کی تھی، اپنے فیصلے بھی نہیں منوائے تھے۔ مگر یہ اس کی پوری زندگی کا معاملہ تھا۔
’’آپ بات کوکہیں سے کہیں لے جارہی ہیں ممی۔۔۔ میں نے تو صرف اتنا کہا ہے کہ مجھے حیا نہیں ارم پسند ہے۔۔۔اگر میری پسند کو لے کر آپ انسلٹ محسوس کررہی ہیں تو پھر۔۔۔تو پھر اس گھر میں میری شادی کا خیال ہی دل سے نکال دیں۔۔۔میں ارم سے شادی کا خواہش مند ہوکر حیا سے شادی کرکے الجھن میں رہوں گا ساری عمر۔۔۔اتنی سی بات ہے، آپ کی سمجھ میں نہیں آرہی۔‘‘
درید اپنی بات پوری کرکے جانے لگا۔ ارسلان بیگ اپنی جگہ سے کھڑے ہوگئے۔ سخت لہجے میں بولے۔
’’درید۔۔۔!‘‘
درید رک گیا۔مگر پلٹ کر نہیں دیکھا ،
ارسلان بیگ نے سخت لہجے میں اپنا فیصلہ سنادیا۔
’’شادی تو اس گھر میں ہوگی تمہاری۔۔۔ہاں۔۔۔یہ میرا فیصلہ ہے۔۔۔میں نے زبان دی ہوئی ہے۔‘‘
درید نے لہجہ نرم رکھتے ہوئے پلٹ کر کہا۔
’’تو میں بھی تو اس گھر میں ہی شادی کی بات کررہا ہوں۔۔۔صدیقی انکل دوست ہیں آپ کے۔۔۔آپ انہیں منالیں۔۔۔ارم بھی تو ان ہی کی بیٹی ہے۔‘‘
ارسلان بیگ ایک طویل سانس لے کر رہ گئے۔درید نے کہا۔
’’میں آپ کی دوستی خراب نہیں کرنا چاہتا ڈیڈی۔۔۔حیا سے شادی پر مجبور کریں گے تو ممکن ہے آپ کی دوستی قائم رہے۔۔۔کیونکہ میں اپنی زندگی بھی خراب نہیں کرنا چاہتا۔ آپ یہ کیوں نہیں سمجھ رہے کہ حیا کے مقابلے میں جب مجھے ارم پسند ہے تو میں حیا کے ساتھ خوش نہیں رہ سکوں گا ۔۔۔اس کے سوا کسی اور کے ساتھ خوش نہیں رہ سکوں گا ۔۔۔‘‘
ارسلان بیگ اور راحت بیگم اس کی طرف دیکھتے رہ گئے۔
بات اتنی غلط بھی نہ تھی۔
درید ڈرائنگ روم سے نکل گیا۔۔۔اور اپنے پیچھے ایک بار پھربے سکون کر دینے والی خاموشی چھوڑگیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس شام صدیقی صاحب کے دل کی بے چینی اور بے کلی عروج پر تھی۔ ان کے گھر میں خوشیاں آتے آتے رہ گئی تھیں۔۔۔اور خوشیوں کی جگہ غم کے سائے پھیل گئے تھے۔
صبح جن کے چہروں پر خوشی کھلی ہوئی تھی وہاں اب دکھ اور غم کی پرچھائیاں پھیلی ہوئی تھیں۔ اس روز،شام تک صدیقی صاحب گھر میں کسی سے بات تک نہ کرپائے،ان کے لفظ گم ہوگئے تھے جیسے کہیں، یا پھر ان میں کسی کا سامنا کرنے کی ہمت نہیں رہی تھی۔۔۔، سو اپنے کمرے میں آکر فکرمندی اور مایوسی سے ایک طرف بیٹھ گئے۔ دروازہ اندر سے بند کرلیا کہ کوئی بچی اچانک آکر کوئی سوال نہ کربیٹھے، ایسی کوئی نہ پوچھ بیٹے جس کا جواب دینے کی سکت ان میں نہ ہو۔
ان کے چہرے پھر فکر کی پرچھائیاں پھیلی ہوئی تھیں۔ آنکھیں جیسے گرم ہوا کے تھپیڑوں سے گرم ہورہی تھیں۔ انگارہ بنی ہوئی تھیں۔
اچانک فون کی گھنٹی نے انہیں چونکادیا۔
ان کا فون قریب ہی تپائی پر دھرا تھا۔ گھنٹی بجتی رہی، مگر فون اٹھاکر کسی سے بات کرنے کا بھی دل نہیں چاہا۔جانے کون ہوگا، ایسے میں کوئی فضول بات منہ سے نکل گئی تو خوامخواہ سامنے والا بدمزہ ہوجائے گا۔
فون کی گھنٹی ایک بار مسلسل گونجنے کے بعد دم توڑ گئی،
فون خاموش ہوگیاتو صدیقی صاحب کو کمرے میں بھیانک سے سناٹے کا احساس ہوا مگر اگلے ہی لمحے سناٹے کی یہ چادرپھر سے تار تار ہوگئی۔
فون ایک بار پھر اسی شدت کے ساتھ گنگنانے لگا تھا۔
کسلمندی اور کسی حد تک ناگواری کے ساتھ صدیقی صاحب نے ہاتھ بڑھاکر فون اٹھایا۔ اسکرین پر ارسلان بیگ کا نام جھلملارہا تھا۔
صدیقی صاحب کادل دھڑک اٹھا،فون کی اسکرین پر ایک سرخ اور سبز دائرہ جھلملا رہا تھا۔۔۔ ایک لمحہ سوچ کر انہوں نے سبز بٹن پر انگلی رکھ دی،گویا فون کو ہری جھنڈی دکھادی اور لائن کلیر ہوگئی، دونوں کے مابین رابطہ ہوگیا تھا۔
صدیقی صاحب نے اپنی آواز کو حتی المقدور پرسکون رکھنے کی پوری کوشش کی مگر وہ اپنی اس کوشش میں ناکام ہی رہے تھے۔
’’السلام علیکم بیگ صاحب۔‘‘
’’وعلیکم السلام!‘‘ دوسری طرف سے ارسلان بیگ کی شرم سارسی آواز ان کی سماعت سے ٹکرائی۔
’’سب سے پہلے تو میں معذرت چاہتا ہوں صدیقی صاحب۔۔۔ جو کچھ آج ہوا، وہ نہیں ہونا چاہئے تھا۔۔۔میرے بیٹے نے مجھے ہی شرمندہ کردیا، آپ سے نظریں ملانے کے قابل نہیں چھوڑا۔۔۔‘‘
صدیقی صاحب ایک دم روہانسے ہوگئے۔
’’آپ تو صرف شرمندہ ہوئے ہوں گے بیگ صاحب۔‘‘
ان کی آواز میں واضح ارتعاش تھا۔
’’مگر میری بچی کا تو دل ہی کرچی کرچی ہوگیا۔۔۔صبح تک ہنستی کھیلتی ادھر سے ادھر گھوم رہی تھی، اور اب ۔۔۔اس کی تومسکراہٹ ہی جانے کہاں گم ہوگئی۔۔۔ سناٹا طاری ہوگیا ہے اس پر۔۔۔آپ لوگ کیا گئے۔۔۔ ،میری بیٹی کی ساری خوشیاں ،ساری مسکراہٹیں اپنے ساتھ لے گئے ۔۔۔‘‘
بیگ صاحب کو یوں لگا جیسے وہ ،زمین میں گڑگئے ہوں،وہ جلدی سے بولے ۔
’میں انتہائی معذرت چاہتا ہوں صدیقی صاحب۔۔۔‘‘
اور پھر چپ ہو گئے ۔معافی کے بعد کوئی جملہ منھ سے نہ نکل سکا فوری طور پر ۔
صدیق صاحب نے ایک ہاتھ کی انگلیوں سے آنسو صاف کرکے ایک طویل سانس لیا۔
’’خیر۔۔۔!جو میری بیٹی کے مقدر میں تھا۔۔۔وہ تو اس نے بھگتنا ہی ہے ۔۔۔میں یا آپ اس کا نصیب تو نہیں بدل سکتے۔۔۔آپ سے تو خیر کوئی رشتہ ہی نہیں تھا، میں تو باپ ہوکر بھی بیٹی کو دکھی ہونے سے نہیں بچاپایا۔۔۔وہ دکھ۔۔۔جو بے وجہ اس کی مسکان چھین کرلے گیا۔‘‘
’’آئی ایم سوری۔۔۔رئیلی سوری صدیقی صاحب۔‘‘
بیگ صاحب کی آواز میں درحقیقت ندامت اور شرمندگی تھی۔
اس شرمندگی کو صدیقی صاحب نے محسوس کیا ،اور خود پر جبر کرتے ہوئے بولے۔
’’خیر۔۔۔جو ہوگیا سو ہوگیا بیگ صاحب ۔۔۔، اب اس پر کیا رونا۔۔۔آپ کہیے۔۔۔ کیسے فون کیا؟‘‘
بیگ صاحب نے اسی محمل لہجے میں آہستگی سے کہا۔
’’صدیقی صاحب، کیایہ مناسب ہوگا کہ۔۔۔ہم کل ایک ملاقات اورکرلیں۔۔۔‘‘
صدیقی صاحب چونک گئے۔
’’ایک اور ملاقات!!!‘‘
ان کی آنکھوں میں امید کی ایک نئی جوت روشن ہوگئی۔
’’ہاں ۔۔۔آپ کل شام میں کسی وقت ہماری طرف آجائیں۔‘‘ بیگ صاحب نے مزید کہا۔
’’بیٹھ کر بات کرلیتے ہیں ہم۔۔۔!‘‘
’’ہاں ہاں۔۔۔ کیوں نہیں۔‘‘ صدیقی صاحب نے دھڑکتے دل کے ساتھ کہا تو نظریں دیوارگیر گھڑی پر جاٹکیں۔ رات کے نوبجے تھے۔
’’اگر آپ کہیں تو۔۔۔میں۔۔۔میں ابھی آجاتا ہوں۔‘‘
ارسلان بیگ نے فوراً کہا۔
’’اگر ایسا ممکن ہے تو۔۔۔بسروچشم۔۔۔میں آپ کا انتظار کررہا ہوں۔۔۔خدا حاف٭۔۔۔!‘‘
رابطہ منقطع ہوگیا۔ منقطع ہوکر بھی ایک بار پھر سے رابطہ بحال ہوگیا تھا۔
ایک فون کال نے دو خاندان اچانک پیدا ہونے والا خلا پھر سے پاٹ دیا تھا۔۔۔ایک فون کال نے امید کے دیے روشن کردیے تھے۔
صدیقی صاحب کے چہرے پر ڈیرے جمالینے والی افسردگی ایک دم کہیں گم ہوگئی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رات کے سوا نوبجے تھے۔
راحیلہ خالہ باورچی خانے میں مصروف تھیں۔
رات کا کھانا اس گھر میں عام طورسے دس گیارہ بجے کے درمیان کھایا جاتا تھا۔ حیا باورچی خانے اور رات کے کھانے کا جائزہ لینے کچن میں آئی تو پتیلی میں آلوگوشت کے گلنے کی مہک پھیلی ہوئی تھی۔
اس نے فریج کا دروازہ کھولا تو راحیلہ خالہ پتیلی کا ڈھکن اٹھاکر پسا ہوا گرم مسالحہ ڈال رہی تھیں۔
حیا نے ٹھنڈے پانی کے چند گھونٹ دہکتے ہوئے حلق سے اتارے اور پوچھا۔
’’راحیلہ خالہ۔۔۔‘‘
’’ہاں بیٹی۔۔۔کہو۔۔۔!‘‘
’’ ابھی کچھ دیر پہلے گاڑی اسٹارٹ ہونے کی آواز آئی تھی۔‘‘
’’ہاں ۔۔۔!‘‘ راحیلہ خالہ نے پتیلی میں چمچہ چلاتے ہوئے کہا۔
’’تمہارے ابو جی گئے ہیں ۔۔۔جاتے ہوئے بتاکر گئے ہیں کہ وہ بیگ صاحب کے گھر جارہے ہیں۔۔۔ان کا فون آیا تھا۔۔۔‘‘
حیا ایک دم چپ سی ہوگئی۔
راحیلہ خالہ نے پتیلی ڈھانپ کر چمچہ ڈھکن کے اوپر ہی رکھ دیا۔
’’دعا کرو حیا بیٹی۔۔۔انہوں نے گھر بلا یا ہے ۔۔۔وہ بھی اتنی ایمرجنسی میں ۔۔۔ہوسکتا ہے ۔۔۔ کچھ اچھی خبر لائیں وہ۔۔۔‘‘
حیا سارے معاملے سے انجان اور لاتعلق سی ہوگئی۔
’’کیسی خبر۔۔۔؟‘‘
’’بتایا تو ہے ۔۔۔بیگ صاحب کا فون آیا تھا ۔۔۔ان کا فون آنا۔۔۔ اور بھائی صاحب کا فوراً چلے جانا۔۔۔ضرور کوئی اہم بات ہے۔‘‘
راحیلہ کے لہجے میں ہی نہیں لفظوں میں بھی امید تھی۔
’’کیسی اہم بات۔۔۔‘‘ حیا نے اپنا دکھ چھپاتے ہوئے کہا۔
’’جو کچھ اہم تھا ۔۔۔وہ سب تو ہو گیا آج ۔۔۔اب کیا اہم بات ہوسکتی ہے۔‘‘
راحیلہ خالہ نے اپنی سمجھ کے مطابق کہا۔
’’جو کچھ ہوا۔۔۔وہ غلط تھا بیٹی ۔۔۔ممکن ہے انہیں اب اپنی غلطی کا احساس ہوگیا ہو ۔۔۔اور شاید اب اس غلطی کو سدھارنا چاہتے ہوں وہ ۔۔۔، شاید اسی لیے بھائی صاحب کو اپنے گھربلایا ہے۔۔۔‘‘
حیا خاموش کھڑی رہی۔ فوری طورپر کوئی جواب نہ دیا۔ ایک گھونٹ پانی اور پیا پھر یوں ہی راحیلہ خالہ کی طرف دیکھتی رہی ۔
اسی وقت پشت سے نگہت پھپھو کی نفرت میں ڈوبی آواز ابھری۔
’’اب کیا غلطی سدھاریں گے وہ۔۔۔!‘‘
حیا نے پلٹ کر دیکھا۔ نگہت پھپھو باورچی خانے کے دروازے میں کھڑی تھیں۔
’’اگر فون آبھی گیا تھا تو بھائی صاحب کو جانا ہی نہیں چاہئے تھا۔۔۔اور سچی بات کہوں۔۔۔مجھے تو پہلی نظر میں اس بدذات کے چہرے پر کمینگی ناچتی نظر آگئی تھی۔‘‘
حیا نے کوئی رد عمل ظاہر نہیں کیا۔ وہ اپنے جذبات اپنے دکھ اور اپنے غم اندرہی کہیں پوشیدہ کرلینے میں کمال تھی۔ معلوم ہی نہیں ہونے دیتی تھی کہ وہ اندر سے کتنی بکھررہی ہے، کتنی سمٹ رہی ہے۔مگرراحیلہ خالہ چپ نہ رہ سکیں۔تڑپ کر بولیں ۔
’’ایسی باتیں مت کرو نگہت۔۔۔ابھی کچھ بگڑا نہیں ہے۔۔۔اس طرح کی باتوں سے بات مزید خراب ہوجائے گی۔۔۔حیا بیٹی کو شاید غور سے دیکھا نہیں اس لڑکے نے ۔۔۔ورنہ ایسی غلطی نہ کرتا۔‘‘
نگہت پھوپھو نے ہاتھ نچا کر کہا۔
’’اب یہ تو رہنے ہی دو راحیلہ۔۔۔کہ اس نے حیا کو غور سے دیکھا نہیں ۔ ‘‘
نگہت کا لہجہ تیز تھا۔۔۔کاٹ دارتھا ۔ راحیلہ نے چونک کر پوچھا۔
’’کیا کہنا چاہ رہی ہوتم۔۔۔؟‘‘
نگہت نے حیا کو دیکھتے ہوئے طنز کا ایک اور تیر مارا۔
’’غور سے ہی تو دیکھا تھااس نے ۔۔۔تب ہی تو ریجیکٹ کردیا ۔۔۔ایک جھٹکے میں۔‘‘
حیا نے گھبراکر نگہت پھپھو کو دیکھا۔
ہائے، یہ کیا کہہ دیا تھا انہوں نے۔۔۔
ریجیکٹ کردیا۔۔۔کس قدرزہریلاہے یہ لف٭۔۔۔
کیسا کاٹ دار۔۔۔کیسا نفرت انگیز۔۔۔کڑوا کسیلا۔۔۔
لفظ نہ ہوا گولی ہوگئی۔۔۔ٹھا ہ کرکے نکلی اورسیدھی دل میں تراز و ہوگئی تھی۔
حیا نے درد سہنے کے لیے فوراً آنکھیں بند کرلیں، مگر کان تو بند نہ ہوئے تھے۔ نگہت پھپھو کا زہریلا لہجہ کانوں کو دہکا رہا تھا۔ وہ بڑے مزے سے کہہ رہی تھیں۔
’’چلو خیر۔۔۔ ہماری حیا نے بھی تو بہت سے لڑکے ریجیکٹ کئے ہیں۔۔۔کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا ہے۔‘‘
کہتے ہوئے وہ حیا کے قریب آگئیں۔ پھرعین سامنے کھڑی ہوکر تسلی دینے لگیں۔
’’دل چھوٹا مت کرو حیا۔۔۔اب اگر ارم تم سے زیادہ فریش۔۔۔، تم سے زیادہ پیاری ہے تو۔۔۔اس میں تمہارا تو کوئی قصور نہیں۔۔۔ہے نا۔۔۔!‘‘
حیا پوری سلگ گئی مگر بولی کچھ نہیں، آنکھیں کھول کراپنے سامنے کھڑی ،مسکراتی نگہت پھپھو کو دیکھتی رہی، پھر یوں خاموشی سے چلی گئی جیسے کوئی بات ہی نہ ہوئی ہو۔
نگہت مسکراتی رہی۔
راحیلہ خالہ جواتنی دیر سے نگہت کو گھوررہی تھیں ایک دم پھٹ پڑیں۔
’’شرم نہیں آتی تمہیں؟‘‘
’’ میں نے ایسا کون سا بے شرمی کا کام کر دیا۔۔۔؟‘
’’کیا ضرورت تھی ایسی فضول اور زہریلی باتیں کرنے کی۔۔۔؟ کیوں جلتی پر تیل ہی ڈالتی ہو تم۔۔۔کچھ تو خدا کا خوف کرو نگہت۔‘‘
نگہت پھپو ایک دم سے معصوم بن گئیں اور اپنا تکیہ کلام دہرایا۔
’’اے لو۔۔۔اب میں نے کیا کردیا۔۔۔میں نے تو ایک بات کہی ہے۔‘‘
راحیلہ خالہ نے تاسف سے سرہلایا،اور تلخی سے بولیں۔
’’تمہاری یہ ایک بات۔۔۔ ہمیشہ آگ لگاتی ہے۔۔۔شاید اسی لیے تمہارا اپنا گھر نہیں بس سکا۔۔۔اوربس بھی کیسے سکتا ہے۔۔۔، جب عورت احمقانہ باتیں کرے تو اس کی اپنی زندگی ایک بہت بڑی حماقت بن جاتی ہے۔‘‘
نگہت کے تن بدن میں آگ لگ گئی وہ غصے میں انگلی لہراکر بولیں۔
’’دیکھو راحیلہ۔۔۔!!میرے منہ مت لگاکر۔۔۔سمجھی۔۔۔، تو اس گھر میں نوکر ہے۔۔۔اور میں مالکن۔۔۔مجھ سے بات کر تے وقت ۔۔۔تواپنی اوقات میں رہا کر۔۔۔‘‘
راحیلہ خالہ کہاں دبنے والی تھیں ۔پہلے کبھی دبی تھیں جو اب دب جاتیں ،انہوں نے ہاتھ نچاکر جواب دیا۔
’’چل چل ۔۔۔جااپنا کام کر۔۔۔بڑی آئی مالکن کہیں کی۔۔۔میں تمہارے رعب میں نہ پہلے آئی ہوں نہ اب آؤں گی۔‘‘
اتنا کہہ کروہ غصے میں ہونہہ کرکے ۔۔۔ بڑبڑاتی ہوئی کچن سے نکل گئیں۔
آلو گوشت پک گیا تھا۔۔۔ اور شاید۔۔۔راحیلہ خالہ بھی نگہت کی باتوں سے پک گئی تھیں۔
اسی لیے باہر نکل گئیں، ورنہ یہ لڑائی کم ازکم ایک ڈیڑھ گھنٹہ تو ضرور چلتی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کوئی پچیس منٹ کی ڈرائیو کے بعد صدیقی صاحب، ارسلان بیگ کے گھر پہنچ گئے۔ ملازمہ نے انہیں ڈرائنگ روم میں بٹھایا اور بیگ صاحب کو اطلاع کرنے اوپر چلی گئی۔
صدیقی صاحب امید وبیم کی کیفیت میں ایک طرف بیٹھے جانے کیا کیا سوچ رہے تھے۔
بیگ صاحب یقیناًان کے منتظر تھے۔ چند ہی لمحوں میں وہ مسکرانے کی کوشش کرتے ہوئے سیڑھیوں سے اترکر نیچے آگئے۔
علیک سلیک کے بعد وہ صدیقی صاحب کے سامنے ہی بیٹھ گئے۔ ملازمہ کو پہلے ہی شاید کہہ دیا گیا تھا، وہ چند ہی لمحوں میں گرم گرم بھاپ اڑاتی کافی بناکر لے آئی اور ان کے درمیان رکھ دی۔
ارسلان بیگ کچھ دیر تک کافی سے اٹھتے دھویں کو دیکھتے رہے۔ پھر گویا ہوئے تو لہجے سے شرمندگی ٹپک رہی تھی۔ انہوں نے بہ مشکل کہنا شروع کیا۔
’’اس موضوع پر بات کرتے ہوئے بھی اب توشرمندگی ہورہی ہے صدیقی صاحب۔۔۔مگر مسئلہ یہ ہے کہ۔۔۔بات کرنے سے بات بنتی ہے۔۔۔ اور بات ہی نہ کی جائے تو بات بگڑ جاتی ہے‘‘
صدیقی صاحب نے جواب میں کہا۔
’’بات بگڑنے میں ویسے تو کوئی کمی نہیں رہی بیگ صاحب۔۔۔میں تو اس امید پر آیا ہوں کہ۔۔۔آپ سمجھ دار انسان ہیں، اور یقیناًکوئی سمجھ داری کا ہی فیصلہ کریں گے۔‘‘
ارسلان بیگ نظریں چراگئے۔
’’بات یہ ہے صدیقی صاحب۔۔۔ میری بیگم۔۔۔اور۔۔۔خود میں بھی یہ سب نہیں چاہتے تھے جو ہوا۔۔۔ ہمیں آپ کا گھر۔۔۔اور آپ سب لوگ بہت پسند ہیں۔۔۔ اور ۔۔۔صدیقی صاحب یہ تو طے ہے کہ ۔۔۔ہمارے درید کی شادی آپ ہی کے گھر میں ہوگی۔۔۔‘‘
صدیقی صاحب نے بے چین ہوکر ان کی طرف دیکھا، مگر وہ آنکھیں ملاکر بات نہیں کررہے تھے۔نظریں جھکائے جھکائے بول رہے تھے۔
’’مجھے۔۔۔مجھے بہت غصہ آیا تھا درید پر۔۔۔ بہت ناراض ہوا اُس سے مگر۔۔۔مگر۔۔۔‘‘
ارسلان بیگ لمحہ بھر کو چپ سے ہوگئے۔بات ادھوری چھوڑ دی ۔ نظریں اب بھی نیچی ہی تھیں ۔
صدیقی صاحب نے بے چین ہوکر جواب طلب نظروں سے ان کی طرف دیکھا۔
’’مگر۔۔۔مگر کیا بیگ صاحب ۔۔۔!!‘‘
بیگ صاحب نے ایک طویل سانس لے کر اٹھتے ہوئے کہا۔
’’مگر پھر میں۔۔۔پھر میں ۔۔۔ایک جگہ میں بھی قائل ہوہی گیا۔۔۔‘‘
صدیقی صاحب الجھ سے گئے۔ان کی سمجھ میں خاک بھی کچھ نہیں آیاتھا ۔
’’میں سمجھا نہیں۔۔۔!‘‘
ارسلان بیگ نے ایک طویل سانس لیا اور۔۔۔ان کی طرف پلٹے بغیر کہا۔
’’بات یہ ہے صدیقی صاحب ۔۔۔یہ تو آپ بھی مانیں گے کہ۔۔۔زندگی ہمیں نہیں۔۔۔ان بچوں کو گزارنی ہے۔۔۔تو۔۔۔فیصلے بھی ان کے ہیں ۔۔۔قبول کرلینے چاہئیں ہمیں۔۔۔!‘‘
صدیقی صاحب بے چارگی سے ان کی طرف دیکھتے ہوئے کھڑے ہوگئے۔
’’آپ۔۔۔آپ مجھے یہ بتائیں کہ میں کیا کروں۔۔۔آپ لڑکے کے باپ ہیں ۔۔۔ایسی بات کہہ سکتے ہیں ۔۔۔میں تو لڑکی کا باپ ہوں ۔۔۔میں کیا کہوں ۔۔۔‘‘
ارسلان بیگ خاموشی سے ان کی طرف دیکھنے لگے ،کسی گہری سوچ میں ڈوب گئے ۔صدیقی صاحب نے لجاجت سے کہا ۔
’’ میرا خیال ہے کوئی جواب نہیں ہے آپ کے پاس ۔۔۔اچھا یوں کر لیں ۔۔۔ اگر آپ۔۔۔اگر آپ میری جگہ ہوتے۔۔۔تو آپ کیا فیصلہ کرتے ان حالات میں۔۔۔؟‘‘
ارسلان بیگ پلٹ کر صدیقی صاحب کو دیکھتے رہے۔ ایک طویل سانس لی اور چند لمحوں کی خاموشی کے بعد انہوں نے صدیقی صاحب کے کاندھے پر ہاتھ رکھا۔
’’شاید۔۔۔شاید میں ۔۔۔اس وقت بھی۔۔۔، خود کوئی فیصلہ نہ کرتا۔۔۔؟‘‘
صدیقی صاحب سمجھ نہ پائے۔
’’کیامطلب۔۔۔؟؟!‘‘
’’مطلب یہ صدیقی صاحب۔۔۔اگر میں آپ کی جگہ ہوتا۔۔۔اور یہ حالات ۔۔۔یہ معاملات درپیش ہوتے۔۔۔تو اپنی اُس بیٹی سے اس کی رائے معلوم کرتا۔۔۔جس بیٹی کو پسند کیا جاتا۔۔۔اس سے پوچھتا کہ تمہیں پسند کیا گیا ہے ۔۔۔تمہارا کیا فیصلہ ہے ۔۔۔؟‘‘
صدیقی صاحب کو بہت غصہ آیا مگر وہ پی گئے ۔بیٹی کے باپ تھے ،غصہ پینا تو ان کی مجبوری تھی ۔لرزتی ہوئی آواز میں بولے ۔
’’اور وہ بیٹی۔۔۔وہ بیٹی جس کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا آگیا ہو؟‘‘
’’ہمیں اس بیٹی کوحالات سے سمجھوتا کرنے کے لیے سمجھاناہوگا کہ۔۔۔خیر۔۔۔گھر کی بات ہے صدیقی صاحب۔۔۔حیا نہ سہی ارم سہی، میرے لیے تو تمہاری ساری بیٹیاں ایک سی ہیں۔۔۔ کوئی بھی بیٹی آجائے میرے گھر۔۔۔!‘‘
صدیقی صاحب کا اندرونی کرب ان کے چہرے پر اور پھر ان کے لہجے میں آگیا۔
’’کتنی آسانی سے کہ دیابیگ صاحب آپ نے۔۔۔بیٹیوں کے باپ نہیں ہیں نا آپ۔۔۔ اس لیے۔۔۔بیٹے کے باپ بن کر ایسی بات زبان پر لانا کتنا آسان ہوتا ہے۔۔۔‘‘
بیگ صاحب اب ان کے سامنے کھڑے ہوگئے ۔نرم لہجے میں بولے تو ارسلان بیگ کی اپنی مجبوری ان کے اپنے لہجے سے مترشح تھی۔
’’میں آپ کو مجبور نہیں کرنا چاہتا صدیقی صاحب۔۔۔میں اپنے بیٹے کو سمجھانے کی کوشش کرچکا ہوں۔۔۔ابب۔۔۔اب اس کی ضد۔۔۔اور پسند کے مطابق آپ کو سمجھانے کی کوشش کررہا ہوں۔۔۔اور یہ بھی مانتا ہوں کہ آج کل اچھے لڑکے مشکل سے ملتے ہیں تو۔۔۔آپ کی بیٹیوں جیسی اچھی بیٹیاں بھی اور آپ کے گھر جیسا اچھا گھر بھی نصیب سے ملتا ہے۔۔۔آپ۔۔۔آپ سمجھ رہے ہیں نا۔۔۔ اصل میں صدیقی صاحب۔۔۔ آپ اور میں اس وقت ایک ہی دوراہے پر کھڑے ہیں، میرا خیال ہے کہ آپ اگر ارم کو راضی کرلیں۔۔۔اور ۔۔۔اور حیا بیٹی کو سمجھاسکیں تو بہت مناسب رہے گا۔‘‘
ارسلان بیگ نے ایک سانس میں اپنا مدعا بیان کردیا۔ صدیقی صاحب گنگ سے ہوگئے۔ فوری طورپر جواب نہ دے سکے۔ لمحہ لمحہ سوچتے رہے۔ پھر بڑی مشکل سے کہا۔
’’مجھے ۔۔۔مجھے سوچنے کے لیے وقت دیں۔۔۔کھڑی دھوپ میں لاکر کھڑا کردیا ہے آپ نے تو۔۔۔‘‘
ارسلان بیگ کچھ نہ بول سکے، صرف اتنا کہہ پائے۔
’’کافی ٹھنڈی ہورہی ہے صدیقی صاحب۔۔۔؟‘‘
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ارم اپنے کمرے میں تھی، پریشانی میں ٹہل رہی تھی، ساری گڑبڑ اسی کی وجہ سے ہوئی تھی اور یہی بات شاید حرا اور مائرہ کے بھی دل میں تھی۔ وہ دونوں ارم کے پلنگ پر بیٹھی تھیں۔ خاموشی سے ارم کو ٹہلتے اور پریشانی میں سوچتے ہوئے تک رہی تھیں۔
آخر حرا سے نہ رہا گیا۔ وہ ویسے ہی چپ نہیں رہ پاتی تھی۔
’’ارم باجی۔۔۔!‘‘
ارم نے رک کر اس کی طرف دیکھا۔
’’آپ لیٹ ہوگئی تھیں تو۔۔۔تھوڑا اور لیٹ ہوجاتیں۔‘‘
ارم نے تڑپ کر کہا۔’’تم بھی مجھے الزام دے رہی ہو؟‘‘
’’ تو اور کس کو الزام دیں ۔۔۔؟‘‘
’’الزام دینا ہے تو درید کودو ۔۔۔ساری غلطی تودرید کی ہے۔۔۔اس کو ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا۔‘‘
مائرہ نے جلدی سے ہاں میں ہاں ملائی۔
’’ہاں۔۔۔ ارم ٹھیک کہہ رہی ہے ۔۔۔ویسے شکل سے تو ایسے نہیں لگتے۔۔۔اچھے خاصے ہینڈسم اور اسمارٹ ہیں۔‘‘
’’بجو کو بھی پسند آگئے تھے۔‘‘
حرانے چہک کر کہا تو ارم نے اس کی طرف دیکھا۔
’’اچھا۔۔۔!!؟‘‘
’’ہاں۔۔۔ان کی آنکھوں میں خوشی تھی۔۔۔ اور میں بھی خوش ہوگئی تھی کہ۔۔۔باجی اب دلہن بنیں گی۔۔۔اس گھر میں گانے ہوں گے خوب ہلا گلا ہوگا۔۔۔ شاپنگ ہوگی، مہندی لگے گی۔۔۔مگر۔۔۔مگر سارے ارمانوں پر پانی پھرگیا۔۔۔‘‘
ارم کو جیسے یاد آگیا۔
’’ابوجی گئے ہوئے تو ہیں ان کے گھر۔۔۔دعا کرو کوئی بات بن جائے۔۔۔ اور وہ۔۔۔وہ باجی کے لے مان جائیں۔‘‘
’’اور اگر بات نہیں بنی تو۔۔۔!‘‘ حرا نے سوال داغ دیا۔
’’تو ارم باجی۔۔۔کیاآپ کرلیں گی ان سے شادی۔۔۔؟‘‘
ارم ایک دم پلٹ کر غرائی۔
’’دانت توڑدوں گی تمہارے۔۔۔اگرفضول بات کی تو۔۔۔میں کیوں کرنے لگی اس سے شادی۔۔۔ہرگز نہیں۔۔۔یہ کبھی نہیں ہوسکتا۔
حرا اور مائرہ نے خاموش رہنا مناسب سمجھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صدیقی صاحب ارسلان بیگ کے گھر سے نکلے تو ان کا رخ پیارے بھائی کے گھرکی طرف ہوگیا۔ پیارے بھائی کاگھر ان کے گھرسے ذراہی فاصلے پر تھا۔۔۔ بعض اوقات وہ اپنے گھر سے پیدل ہی ان کے گھر یا وہ ان کے گھر آجایا کرتے تھے۔
پیارے بھائی کے گھر کے سامنے گاڑی کھڑی کرکے وہ دروازے پر پہنچ توگئے مگر کال بیل پر انگلی رکھتے وقت سوچ رہے تھے کہ پیارے بھائی آج جلدی نہ سوگئے ہوں۔
گھر کے اندر کہیں گھنٹی کی آواز گونجی اور کچھ دیر بعد پیارے بھائی نے دروازہ کھولا۔صدیقی صاحب کو اس وقت دروازے پر دیکھ کر چونک گئے ۔
’’ارے۔۔۔صدیقی تم۔۔۔اس وقت۔۔۔؟‘‘
’’ہاں۔۔۔ایک بہت اہم بات کرنی تھی تم سے۔۔۔ڈر رہا تھا کہ تم سو نہ گئے ہو ۔۔۔‘‘
’’ہاں ہاں۔۔۔اندر آجاؤ۔۔۔تمہیں تو معلوم ہے صدیقی ۔۔۔اتنی جلدی کہاں سوتے ہیں ہم ۔۔۔بڑھاپے میں جلدی نیند کہاں آتی ہے ۔‘‘
صدیقی صاحب نے حیرانی سے کہا۔
’’ لیکن شام ہوتے ہی تم گھر کی طرف ایسے بھاگتے ہو جیسے نیند کا غلبہ ہو۔۔۔‘‘
پیارے بھائی نے ہنس کر کہا۔
’’ نیند کا نہیں ۔۔۔بیگم کی یاد کا غلبہ ۔۔۔تمہیں تو معلوم ہے یار۔۔۔وہ اکیلی ہوتی ہے گھر میں ۔۔۔اس کی وجہ سے شام گھر میں گزرنے کو ترجیح دیتا ہوں ۔۔۔چلو تم اندر تو آؤ۔۔۔‘‘
کچھ دیر بعد وہ ڈرائنگ روم میں آمنے سامنے بیٹھے تھے۔
پیارے بھائی کی خوب صورت اورنازک سی بیگم زاہدہ نے چائے کا پوچھا تو صدیقی صاحب نے منع کردیا۔
’’ نہیں بھابھی ۔۔۔میں ابھی ابھی کہیں سے کافی ۔۔۔اور صبر کے کڑوے گھونٹ پی کر آرہا ہوں ۔‘‘
صدیقی صاحب کی اس بات پر ڈرائنگ روم میں خاموشی ہو گئی ۔
زاہدہ بیگم پھر بھی کچن کی طرف چلی گئیں ،انہیں معلوم تھا کہ یہ دونوں دوست بیٹھتے ہیں تو کچھ ہی دیر بعد انہیں چائے کی ضرورت پڑ جاتی ہے ۔
ان کے جانے کے بعد بھی کمرے میں خاموشی رہی ۔صدیقی صاحب سر جھکائے بیٹھے تھے ۔کسی گہری سوچ میں ڈوب گئے تھے۔ کافی دیر کی خاموشی کے بعد پیارے بھائی نے انہیں مخاطب کیا۔
’’یارصدیقی۔۔۔بات کیا ہے آخر۔۔۔ جب سے آئے ہو منہ لٹکائے بیٹھے ہو۔۔۔ کچھ تو بتاؤ مجھے۔۔۔منھ کھولو۔۔۔کچھ تو بولو۔۔۔‘‘
صدیقی صاحب نے بے چارگی سے ایک طویل سانس لیا اور چہرہ اٹھایا تو ان کی آنکھیں اچانک گیلی ہوگئی تھیں۔پھر وہ گویا ہوئے توان کی آواز درد میں ڈوب چلی تھی۔
’’کیا بتاؤں پیارے بھائی۔۔۔کبھی کبھی تو دل ایسا کم زور ہوجاتا ہے کہ جینے کی ہمت ہی ختم ہوجاتی ہے۔۔۔سمجھ میں آجاتا ہے کہ انسان کے بس میں کچھ بھی نہیں ہے۔‘‘
پیارے بھائی نے ذرا خوش دلی سے کہا۔
’’یہ دل شکستگی کی باتیں کیوں کررہے ہویار۔۔۔میں تو سمجھا تھا کہ تم حیا بیٹی کا رشتہ پکا ہونے کی خوش خبری سنانے آئے ہو۔۔۔‘‘
صدیقی صاحب سسک اٹھے۔
’’کیسی خوشخ خبری پیارے بھائی۔۔۔!؟‘‘
’’ کیوں ۔۔۔کیا ہوا ۔۔۔؟‘‘
’’ان لوگوں نے توساری خوشی غارت کردی۔۔۔ایسی بات کہہ دی جس کی کسی کو بھی امید نہیں تھی۔۔۔دل توڑا ہے اور۔۔۔دل ٹوٹنے کی آواز تک نہیں سنی۔۔۔‘‘
پیارے بھائی سنجیدہ ہوگئے۔
’’ پر۔۔۔ بات کیا ہے صدیقی۔۔۔کچھ پتا تو چلے۔۔۔؟‘‘
صدیقی صاحب نے ہمت کرکے ایک دم کہہ دیا۔
’’ان کا بیٹا حیا سے نہیں۔۔۔ارم سے شادی کرنا چاہتا ہے۔‘‘
’’لاحول ولاقوۃ!‘‘
پیارے بھائی جھٹ کھڑے ہوگئے ۔
’’یہ کیا حماقت ہے۔۔۔ایسا کیسے ہوسکتا ہے۔۔۔؟‘‘
صدیقی صاحب نے مایوسی سے کہا۔
’’ایسا ہی ہوا ہے۔۔۔‘‘
پیارے بھائی کو یقین ہی نہیں آرہا تھا ۔بے یقینی سے بولے ۔
’’ارسلان تودوست ہے نا تمہارا۔۔۔اور وہ بھی بہت پرانا۔۔۔اس نے لگائے نہیں اپنے بیٹے کے دو ہاتھ۔۔۔؟‘‘
صدیقی صاحب نے انکار میں سرہلایا۔
’’نہیں۔۔۔اس کا بیٹاضد پر آگیا ہے۔۔۔اور بیٹے کی ضد نے باپ کو جھکادیا ہے۔‘‘
پیاے بھائی، صدیقی صاحب کی طرف دیکھتے رہے۔اتنی دیر میں زاہدہ بیگم بھی چائے کی پیالیاں لے کر آگئی تھیں ۔اور خاموشی سے ایک طرف بیٹھ گئی تھیں۔
’’تو اب۔۔۔!‘‘ آخر پیارے بھائی نے پوچھا۔
’’کچھ سمجھ میں نہیں آرہا یار۔۔۔‘‘
’’ہاں۔۔۔سمجھ میں تو واقعی کچھ نہیں آرہا۔۔۔بات تو ٹیڑھی ہوگئی ہے۔۔۔ بننے سے پہلے بگڑ گئی ہے بات۔۔۔بڑ سے پہلے چھوٹی کے، ہاتھ پیلے کرنا کسی بھی طرح مناسب معلوم نہیں ہوتا۔۔۔‘‘
صدیقی صاحب خاموش رہے۔ اور کافی دیر تک خاموش ہی رہے۔
پیارے بھائی کے گھر سے واپس آکر صدیقی صاحب تھکے تھکے قدموں اپنے کمرے کی طرف چل دیے۔
سیڑھیوں پر چڑھ رہے تھے کہ ارم نظر آئی۔۔۔وہ اپنے کمرے سے نکل کر حیا کے کمرے کی طرف جارہی تھی۔۔۔ ردا بھی اس کے ساتھ تھی۔
ارم پرنظرپڑتے ہی ایک دم سے صدیقی صاحب کی آنکھوں کے سامنے صبح کالج والا منظر لہراگیا۔۔۔آنکھوں میں غصے کی لہر دوڑگئی۔سب کچھ بھول گئے۔۔۔ غصے کی شدت سے تڑپ کر بولے۔ ’’ارم!!!‘‘
ارم سٹپٹا کر رک گئی۔بوکھلا کر بولی۔
’’جج۔۔۔جج۔۔۔جی ابوجی۔۔۔!‘‘
’’میرے کمرے میں آؤ تم۔۔۔!‘‘
انہوں نے سخت لہجے میں کہا اور اپنے کمرے میں چلے گئے۔
ارم اور ردا سناٹے میں کھڑی رہ گئیں۔
چند لمحوں بعد کانپتے، لرزتے پیروں کے ساتھ ارم، صدیقی صاحب کے کمرے میں داخل ہوئی تو وہ شدید غصے کی کیفیت میں ٹہل رہے تھے۔
’’جج۔۔۔جج۔۔۔جی ابوجی۔۔۔!‘‘ اس نے ہکلاکر پوچھا۔
اس کی آواز سن کر صدیقی صاحب غصے میں پلٹے اور ایک بھی لمحہ ضایع کیے بغیر گرجے۔
’’وہ لڑکا کون تھا۔۔۔جس کے ساتھ تم کالج سے اس کی کار میں گئی تھیں؟‘‘
ارم سناٹے میں آگئی۔
اس کی آنکھوں میں خوف سرائیت کرگیا۔
اسے یوں لگا کہ وہ تڑ سے گرے گی اور بے ہوش ہوجائے گی ۔
وہ پیار ۔۔۔جسے اس نے اپنے دل میں چھپا رکھا تھا ،جس کی ہوا بھی کسی کو لگنے نہیں دی تھی ۔اس کے ابو جی اسی کے بارے میں سوال کر رہے تھے۔
اس کامطلب یہی تھا کہ ابو جی نے اسے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا تھا ۔
ارم کو اپنے ہاتھ پیروں سے جان نکلتی محسوس ہونے لگی ۔
( جاری ہے )
***

- admin

admin

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے