سر ورق / ناول / اس کے زاد راہ … عشناء کوثر سردار۔۔۔ دوسری اور آخری قسط

اس کے زاد راہ … عشناء کوثر سردار۔۔۔ دوسری اور آخری قسط

اس کے زاد راہ

عشناء کوثر سردار

حصہ دوم

ہزار زاویوںمیں اسے دیکھنا

ہر راہ پر اسے ڈھونڈنا

وہ ملے تو اسے نہ دیکھنا

اسے خلوتوں میں سوچنا

اسے پا لینے کی خواہش

اسے سوچ لوں تو جاں سلگ اٹھے

اور چھو لوں تو پل میں ہو دھواں

وہ شخص خواب و خیال سا

وہ سراب کی سی مثال سا

اسے دعاﺅں میں مانگ لوں

نام اس کے متاع جاں کروں

اسے اپنے آپ سے باندھ لوں

یا کوئی وصف ڈھونڈ لوں

اسے خود سے کروں خود بدگماں

ہیں عجیب میری محبتیں

اور اس سے عجیب اس کی شدتیں

کیا وہ غلط کر رہی تھی اس پر اعتبار نہ کر کے…. اس کی آزمائشیں لے کر؟ اس شام وہ بہت ڈاﺅن فیل کر رہی تھی سو اپنے کمرے میں بند رہی۔ ڈنر بھی نہیں کیا۔ پرانے البمز نکال کر تصویریں دیکھتی رہی۔ اپنی اور ممی کی بہت سی یادیں، بچپن کے دن، بہت سے لمحوں کو اس نے اپنے سامنے دوڑتے بھاگتے محسوس کیا تھا۔ وہ ممی کو بہت مس کر رہی تھی۔ البمزدیکھتے دیکھتے جانے کب اس کی آنکھ لگ گئی تھی۔ نجانے کون سا پہر تھا جب اس کی آنکھ یکدم کھلی تھی۔ بہت عجیب سا خواب دیکھا تھا اس نے۔ اس نے ممی کو دیکھا تھا وہ دور سفید لباس میں کھڑی مسکرا رہی تھیں۔ اس نے اپنا ہاتھ ان کی طرف بڑھایا تھا مگر ممی نے اس کا ہاتھ نہیں تھاما تھا۔ وہ افسردہ ہوئی اور ممی کے ساتھ آن کھڑی ہوئی تھی۔ ان کا ہاتھ تھامنا چاہا تھا، مگر ممی نے اسے خود سے پرے دھکیل دیا تھا۔ ایک سرد وجود کے احساس سے چھو کر وہ ایک پُرحدت بستر پر آن گری تھی۔ وہ پھولوں سے بھرا کوئی بڑا سا ٹوکرا تھا۔ اس نے بہت حیرت سے ممی کی طرف دیکھا تھا۔ اسے لگا تھا ممی نے اس کا ہاتھ نہیں تھاما اور اسے پاس نہیں آنے دیا۔ وہ حیرت سے تکتی ہوئی ممی کی طرف متوجہ ہوئی تھی۔ وہ اس کی طرف دیکھتی ہوئی مسکرا دی تھیں اور پھر وہ بادلوں میں کہیں کھو گئی تھیں۔ وہ آنکھ کھلنے پرادھر اُدھر دیکھنے لگی تھی۔ تبھی کھٹکا ہوا تھا، اس نے چونک کر دیکھا تھا، ہادیہ ماسو وہاں کھڑی تھیں۔ اسے اپنی طرف دیکھتے پا کر وہ قریب آئیں۔

”کیا ہوا، تم نیند سے جاگ گئیں؟ بوا تہجد کے لیے اٹھی تھیں تو انہوں نے مجھے بھی جگا دیا۔ کہتی ہیں دنیاوی راحتوں کو عزیز مت جانو، کچھ اللہ سے قریب ہونے کے راستے بھی بناﺅ۔ خیر کہتی تو ٹھیک ہیں، سو میں بستر سے باہر نکل آئی۔ کبھی کبھی اللہ کو خوش کرنا بھی ضروری ہوتا ہے۔ یوں بھی کل تو آپا کی برتھ ڈے ہے، سو میں ان کی روح کے ثواب کے لیے بھی بطور خاص دعا کرنا چاہتی ہوں۔“ مجھے آپا کی یاد بھی آ رہی تھی۔

”میں نے ممی کو خواب میں دیکھا ہے۔“ وہ کھوئے ہوئے اندازمیں بولی۔ ”ابھی کچھ دیر پہلے وہ مجھے دیکھ کر مسکرا رہی تھیں۔ میں نے دو بار ان کی طرف ہاتھ بڑھایا مگر انہوں نے میرا ہاتھ نہیں تھاما اور جب تیسری بار کوشش کر کے ان کے قریب گئی انہیں تھامنا چاہا تو انہوں نے زور سے دھکا دے کر مجھے دور گرا دیا۔مگر وہ جگہ پھولوں سے بھری تھی، مجھے چوٹ نہیں لگی نہ درد ہوا۔ میں نے ممی کی طرف دیکھا تو وہ مسکرا دیں اور پھر دھوئیں میں تحلیل ہو گئیں ۔ کچھ عجیب سا خواب ہے نا ماسو؟ انہوں نے مجھے قریب کیوں نہیں آنے دیا، دور کیوں پھینک دیا؟“

”زندگی اور موت کے درمیان ایک لکیر ہوتی ہے، بہت سرد قسم کی کوئی دیوار۔ ایک طرف سب سرد لگتا ہے اور اس سے جڑی لکیر کے ساتھ اس بھرپور انداز کی حدت ہوتی ہے۔ وہ زندگی کا حصہ نہیںہیں مگر وہ چاہتی ہیں تم اس زندگی میں رہو۔ اس حدت کو اور جیو، انہوں نے تمہارا ہاتھ جھٹکا کیونکہ وہ تمہیں خوش و خرم جیتا ہوا اور زندگی گزارتا ہوا دیکھنا چاہتی ہیں۔ انہوںنے تمہیں پھولوں کا نرم بستر دیا۔ جہاں گر کر تمہیں چوٹ نہیں لگی اور جو حدت سے اور زندگی سے پُر ہے۔وہ تمہیں خوش دیکھنا چاہتی ہیں وانیہ! ماں زندگی میں اور زندگی کے بعد بھی اپنے بچوں کے آس پاس رہتی ہے۔ وہ انکا بھلا چاہتی ہے۔ آپا تمہیں اس طرح روتا دھوتا اور پریشان حال دیکھنا نہیں چاہتی۔ تم نے آپا کی اچھی تربیت کا ثبوت دیا۔ سب کو ان کے حصے کی خوشیاں اور آرام دیا۔ مگر تم نے اپنے حصے کی خوشیوں کے لیے دروازے بند کر لیے۔ آپا کو شاید وہ پسند نہیں۔“ ہادیہ ماسو نے کہا تو وہ حیران رہ گئی تھی۔

”آپ کو لگتا ہے ہادیہ ماسو ایسا ہے؟“ وہ حیرت سے پوچھ رہی تھی۔

”تمہیں نہیں لگتا تم بے جواز بھاگ رہی ہو، اب جبکہ سب الزامات بھی صاف ہو چکے ہیں، تمہارے بابا بھی تم سے معافی مانگ چکے ہیں اور زوباریہ کی شادی بھی ہو چکی ہے۔ پھر اس طرح خود کو سزا دینے کا مقصد؟“ ہادیہ ماسو نے اسے جتایا تو اس نے گہری سانس لی تھی۔

”آپ جانتی ہیں عالیان مرزا اس عورت کا بھانجا ہے جس نے میری ماں سے میرے بابا کو دور کیا۔ تو کیا ممی خوش ہوں گی اگر میں اس شخص سے کوئی تعلق جوڑ لوں؟ میں نے بہت سوچا ہادیہ ماسو، ہر اینگل سے سوچا اور اگر میں ایسا کرتی تو شاید خود کو بہت خودغرض قرار دیتی۔ ممی نے اپنی زندگی میں کوئی خوشی نہیں دیکھی۔ میں انہیں ان کے بعد بھی دکھ دوں؟ ان کی روح سکون میں رہے گی؟“ وہ اپنے جواز دے رہی تھی۔ ہادیہ نے ایک گہری سانس لی۔

”ایک بات بتاﺅں وانیہ! تم اطمینان سے آگے بھاگ رہی ہو کیونکہ تمہیں معلوم ہے کوئی پیچھے ہے، اگر کوئی پیچھے نہیں ہو گا تو تمہارا یہ سفر وہیں رک جائے گا۔ تم خود سے بھاگنا نہیں چاہو گی اور وہ زندگی بہت جمود سے پُر ہو گی۔ ایک خاص عمر تک اچھے رشتے ملتے ہیں۔ ا س کے بعد بس کمپرومائزہوتا ہے۔ مجھے دیکھو میں بتیس سال کی ہو رہی ہوں۔ پچھلے پانچ سال سے جس شخص کو پسند کرتی ہوں اس نے مجھے ایک بار بھی پروپوز نہیں کیا اور آگے کیا کروں گی میں…. اور یہ صحیح غلط کیا ہوتا ہے۔ ہم خود سب صحیح اور غلط بناتے ہیں۔ عالیان مرزا ہر طرح سے ایک اچھا لڑکا ہے۔ تمہارے قابل ہے اور کیا چاہتی ہو تم؟ اور جہاں تک آپا کی روح کو دکھ پہنچانے والی بات ہے تو چندہ اب کون سا سکون دے رہی ہو انہیں؟ اس طرح اکیلے جی کر اس طرح کی بنجر زندگی گزار کر؟ سوچو اگر عالیان مرزا کل اُکتا کر راہ بدل لیتا ہے تو؟ تم کیوں اسے خطرناک حد تک آزما رہی ہو اور کیوں چاہتی ہو کہ وہ تمہاری ہر آزمائش پر پورا بھی اُترے، کل اگر اس نے راہ بدل لی تو تم روﺅ گی، خود کو الزام دینے سے زیادہ اسے کوسو گی کہ دیکھو نکلا نا وہی عام ٹپیکل مرد۔ تم اپنی غلطیاں شمار نہیں کرو گی، نہیں سوچو گی کہ تم نے اسے بہت زیادہ آزمایا۔ اس کی اسطاعت اور برداشت سے زیادہ۔ اس بیچارے نے تمہارے لیے اپنا بزنس تک یہاں سیٹ کرلیا، اپنا گھر چھوڑا۔ یہاں آن بسا اور کیاچاہتی ہو تم؟ تمہاری جگہ میں ہوتی تو پہلی فرصت میں اسے ہاں کہتی، تم پاگل ہو۔“ ہادیہ کہہ کر اٹھی اور وہاں سے نکل گئی، مگر اس کے بعد وہ سو نہیں پائی تھی۔

٭….٭….٭

کچھ دن تک وہ اسے بالکل دکھائی نہیں دیا تھا۔ وہ جو پرچھائیں کی طرح اس کاپیچھا کرتا تھا تو اب اگر وہ ارادتاً پلٹ کر دیکھتی بھی تو وہاں وہ نہیں تھا یا پھر وہ چاہتی تھی کہ وہ پلٹ کر دیکھے تو وہ وہاں کھڑا دکھائی دے؟ تو کیا اس نے راہ بدل لی؟ کیا وہ تھک گیا…. بقول ہادیہ ماسو کے، یہ سوچ اس کے اندر سناٹوں کو جنم دے رہی تھی اور شاید وہ ایسا سوچنا نہیں چاہتی تھی۔ بوا کئی لڑکوں کی تصاویر دکھا چکی تھیں۔ ہادیہ ماسو کو شاید کوئی معقول نہیں لگا تھا یا کچھ اور تھا، مگر اس شام وہ گھر لوٹی تو ایک اچھی خبر اس کی منتظر تھی۔ زوارشاہ نے ہادیہ ماسو کو بالآخر پروپوزکر دیا تھا اور اسی شام ڈنر پر لے جا کر خوشی سے ان کے ہاتھ میں ایک قیمتی رنگ بھی پہنا دی تھی۔ ہادیہ ماسو خوش تھیں، زوارشاہ بھی مسکرا رہے تھے مگر وہ خوش نہیں تھی۔

”یہ کیا منگنی بھی کر لی اور کوئی دعوت تک نہیں، ٹریٹ تو بنتی تھی نا، کم از کم شکر کھلا کر منہ ہی میٹھا کروا دیتے دونوں مہاکنجوس واقع ہوئے ہو آپ۔“ وہ شکوہ کر رہی تھی اور ہادیہ مسکرا دیں۔ زوارشاہ نے دو تین کوکیز اٹھا کر اس کے سامنے ڈال دیں۔

”فی الحال اس سے منہ میٹھا کرو باقی کی ٹریٹ اور مٹھائی شادی پر۔“

”اوہ…. وہ…. ہ…. تو شادی کی تاریخ بھی طے ہو گئی۔ ہادیہ ماسو! آپ سے یہ توقع نہیں تھی۔ چلو زوارشاہ تو پرائے ہیں، آپ کا خون کیوں سفید ہو گیا؟“ اس کے شکوہ کرنے پر ہادیہ بھی مسکرائیں پھر اسے ساتھ لگا لیا۔

”میں نے کہا تھا دھوم دھام سے منگنی کرتے ہیں مگر زوار نے ہی کہا شادی دھوم دھام سے کر لیں گے سب کو بلا کر گلے شکوے بھی دور کر لیں گے۔ اس میں میرا کوئی قصور نہیں لیکن شادی کی ڈیٹ فی الحال فکسڈنہیں ہوئی، اس کے لیے تم زوار سے پوچھ لو، میں جھوٹ نہیں بول رہی۔ زوار بتاﺅ اس کو۔“ ہادیہ نے زوار کو گھسیٹا۔

”ہادیہ ٹھیک کہہ رہی ہے، ہم جلد ڈیٹ اناﺅنس کریں گے۔ ویسے تمہیں ٹریٹ چاہیے تو تیار ہو جاﺅ، ہم ڈنر پر جا رہے ہیں تم ڈنر ہمارے ساتھ کر سکتی ہو۔“ وہ مسکرائے۔

”رہنے دیں، کباب میں ہڈی بننے کا کوئی شوق نہیں مجھے۔ شادی کی ڈیٹ فکسڈ کر کے بتا دیجیے گامیں تیار ہو کر پہنچ جاﺅں گی۔“ وہ اٹھتی ہوئی بولی۔

”کہاں جا رہی ہو تم؟“ ہادیہ ماسو نے پوچھا۔

”واک کا موڈ ہو رہا ہے، پھر ملتے ہیں۔“ مسکراتے ہوئے وہ کہہ کر باہر نکل گئی۔ اسے پہلی بار اپنا آپ بہت ادھورا اور تنہا لگ رہا تھا۔ یخ ہوائیں اسے چھو کر گزر رہی تھیں۔ اسے یہ یخ بستگی پہلی بار بہت ناگوار گزری تھی۔ وہ بہت کچھ سوچ رہی تھی، آج ہر شے کو نئے ڈھنگ سے نئے سرے سے، اور جانے کیوں اسے وہ دن یاد آئے تھے جو اس نے روم میں اس شخص کے ساتھ گزارے تھے۔

”عالیان مرزا! میں نہیں چاہتی تم سمندروں کے سفر پر جاﺅ اور کہیں گمنام جزیرے پر قیام کرو اور کبھی لوٹ کر واپس نہ آنا چاہو۔ میں چاہتی ہوں اگر تم سمندروں کے سفر پر جاﺅ، نگر نگر پھرو یا کسی جزیرے پر قیام کا سوچو تو تمہاری ہم قدم میں ہوں۔تم وہ سفر میرے ساتھ کرو اور وہ سفر ایک ناختم ہونے والا سفر ہو۔ میں واقعی چاہتی ہوں تم میرے ساتھ چلو، ایک پل کے لیے نہیں، دو لمحوں کے لیے نہیں، تمام عمر کے لیے۔“ اس کی اپنی آواز اس کے اندر بازگشت بن رہی تھی۔ اس کا سر اس کے شانے پر تھا۔ وہ منظر آنکھوں کے سامنے تھا۔ وہ خیالوں میں اتنی مگن تھی کہ سامنے سے آتی ہوئی گاڑی دکھائی نہیں دی تھی۔ اس سے پہلے کہ وہ تیزرفتار کار اس سے ٹکراتی ہوئی کچل کر نکل جاتی، کسی نے اسے تھام کر ایک طرف کھینچ لیا تھا۔ وہ حیران رہ گئی۔ ایک حدت کا احساس ہوا تھا۔ دھڑکنوں کا کچھ شور سنائی دیا تھا۔ ایک مخصوص خوشبو اس کے نتھنوں میں گھسی تھی۔ اس کے لب ہولے سے وا ہوئے تھے اور صرف ایک نام پکارا تھا۔

”عالیان مرزا!“ سر اٹھا کر دیکھا تھا، شاید یہ وہم ہو یا اس کا خیال، مگر وہ اس حدت سے پہلی بار رہائی نہیں چاہتی تھی۔

”وانیہ ضیائ! عالیان مرزانے اس کا نام پکارا۔ مگر وانیہ نے اپنی شہادت کی انگلی اس کے لبوں پر رکھ دی تھی۔ پھر چہرہ اس کے قریب کرتے ہوئے مدھم لہجے میں بولی۔

”میں نہیں چاہتی تم نگر نگر گھومو اور نئے جزیروں کے سفر پر جاﺅ اور اگر جانے کی ٹھان ہی لی ہے تو تم جہاں بھی جاﺅ میرے نام کو مت بھولو، میرا چہرہ یاد رکھو، مجھے ہر جگہ ڈھونڈو، مجھے ہر جگہ پاﺅ اور اگر میں نہ ملوں تو؟ کیا تم میرے بنا وہ سفر کرنا چاہو گے؟ اپنے اس بازوﺅں کے گھیرے کو میرے گرد اور تنگ کر دو، مجھے اپنی دنیا کا حصہ کر لو۔ اگر میں دنیا کو تمہاری نظروں سے دیکھنا چاہوں تو تم اپنی آنکھیںمیری آنکھوں پر رکھ دو، یا جب میں کچھ بولنا چاہوں تو تم اپنے لب بند کیے بس مجھے سنتے جاﺅ۔ میں پاس آﺅں تم سے جیتوں یا ہارجاﺅں، تمہیں اس سے کوئی فرق نہ پڑتا ہو؟ یا میںتم سے تمہیں چرا لوں تو تمہیں اس پرکوئی تعرض نہ ہو۔ تم گلہ کرو نہ کوئی شکوہ، تمہارے لب میرے لب ہوں، تمہاری آنکھیں میری آنکھیں، تمہاری دھڑکنیں میری دھڑکنوں میں مدغم ہوں اور تمہاری حدتیں میری رگوں میں جمی تمام برف پگھلا دیں۔“ وہ اپنی آنکھیں کھولے اسے حیرت سے دیکھ رہا تھا۔

”عالیان مرزا! تم سے نہیں بھاگ سکتی، میں تھک گئی ہوں۔ میں نے محسوس کیا ہے، میں تمہارے وجود کے بنا بہت ادھوری ہوں، مجھے بے سمت راستوں کا سفر نہیں کرنا۔ تم میرے ساتھ رہو، میں اپنی زندگی تمہارے ساتھ گزارنا چاہتی ہوں۔“ وہ مدھم لہجے میں کہہ رہی تھی۔ عالیان مرزا نے اس کا چہرہ اوپر اٹھایا اور بغور دیکھا تھا۔ اس کی پلکوں کے کنارے نمکین پانیوں سے تر تھے۔ عالیان مرزا نے تمام نمی اپنے لبوں سے چن لی تھی۔ پھر اس کے کان کے قریب سرگوشی کرتے ہوئے بولا تھا۔

”وانیہ ضیائ! میں نے وہ اقرار تو بہت پہلے تمہیں سونپ دیا تھا۔ بہت پہلے سب کچھ تمہارے نام کر دیا تھا مگر میں دور تھا تو تمہارے باعث، میں دور نہیں رہ پا رہا تھا مگر میں چاہتا تھا تم اپنے اوپر مسلط کیے گئے فیصلوں کے علاوہ کوئی ایک فیصلہ لو۔ جس میں تمہاری اپنی مرضی شامل ہو۔ جس میں تمہاری خوشی ہو، میں کسی فیصلے کے لیے دباﺅ ڈالنا نہیں چاہتا تھا۔ میں دور تھا مگر تم سے غافل نہ تھا۔ تم چاہو تو مجھے اور آزما سکتی ہو، کچھ اور امتحان لے سکتی ہو۔ میں تیار ہوں، یوں بھی ابھی تو صرف دو ہی برس گزرے ہیں۔ مگر تم جب بھی کسی موڑ پر پلٹ کر دیکھو گی تو مجھے اپنا منتظر پاﺅ گی….اور….!“ وہ بول رہا تھا جب وانیہ نے اس کے لبوں پر اپنا ہاتھ رکھ دیا۔

”میں مزید آزمائش لینا نہیں چاہتی۔ محبت بازگشت ہے یا نہیں، میں اس کا یقین کرنے کے لیے کوئی تجربہ نہیں کرنا چاہتی۔ میں نے دو سال گنوائے اور مزید نہیں گنوانا چاہتی۔میں نہیں چاہتی میری بے وقوفی اور غلطیوں کی سزا تم بھگتو یا ہم دونوں بھگتیں۔“

”مجھے لندن کی بارشیں اور ٹھنڈ کبھی بھلی نہیں لگی، مگر آج اس کی دلکشی میں صاف محسوس کر رہا ہوں۔ شاید میں نے برستی بارش اور بلا کی اس ٹھنڈ میں دہکتے سورج کو پہلی بار دیکھا ہے۔“ اس کے چہرے کو چھوتے ہوئے وہ مسکرایا۔ ”تم نے اس موسم کواپنے چہرے کی سنہری سنہری کرنوں سے بھر دیا ہے۔ شاید کوئی اور ایسا خوش قسمت نہیں ہو گا جس نے اتنی ٹھنڈ میں برستی تیزبارش میں اس آفتاب کو دیکھنے کا تجربہ کیا ہو۔“ وہ اس کے غصے پر مذاق کر رہا تھا۔ مگر وہ متواتر گھورتی ہوئی بولی۔

”دوبارہ ایسی بات کی تو….!“

”تو….“ وہ مسکرایا اور اس کی چھوٹی سی ناک دبائی۔ وہ خفا سی بہت پیاری لگی۔

”اچھا سنو! اپنا یہ خالص دیسی قسم کا ایٹی ٹیوڈ اپنے بیگ میں رکھو، فی الحال اس کی ضرورت نہیں ہے۔ مجھے کچھ ڈسکس کرنا ہے اور بہت سی پلاننگ کرنی ہے۔“

”کیسی پلاننگ۔“ وہ چونکی۔

”شادی نہیں کرنی یا پھر شادی کے بغیر؟“ وہ آنکھوں میں شرارت لیے بولا تو اس نے مکا بنا کر اسے دے مارا۔ وہ ہنس دیا۔ پھر اسے خود سے قریب کرتے ہوئے بولا۔

”مجھ سے شادی کرو گی؟ میرا نام عالیان مرزا ہے، تمہارے ساتھ سائے کی طرح چلتا ہوں۔ تمہاری ڈھیر ساری پروا کرتا ہوں، اسمارٹ ہوں، جینئس ہوں، اور نائس بھی۔ اور ہاں میں انگیجڈ نہیں ہوں۔“ وہ جتاتے ہوئے بولا۔ اس کے لبوں کی مسکراہٹ، شرارت وہ صاف دیکھ رہی تھی۔ تبھی اسے گھورتے ہوئے اس کے شانے پر سر رکھا۔

”اچھا مزید ڈرامہ نہیں، مجھے ٹھنڈ لگ رہی ہے۔ جلدی سے گھر لے چلو اور اپنے ہاتھوں سے کافی بنا کر پلاﺅ، اس کے بعد سب ڈسکس کریں گے۔ فی الحال یہ ایٹی ٹیوڈ بیگ میں نہیں رکھ سکتی۔ کیونکہ میں جانتی ہوں تمہیں میں اسی ایٹی ٹیوڈ کے ساتھ اچھی لگتی ہوں۔“ وہ یقین سے مسکرائی۔

”ہاں! اور میں تمہیں اس طرح ہمیشہ مسکراتے ہوئے دیکھنا چاہتا ہوں۔ تم اپنے اندر کے باقی ماندہ خوف بھی باہر نکال پھینکو۔ اس کی جگہ میں تمہیں یقین دوں گا۔ وہ یقین جو ہمارے آنے والی زندگی کی سمت طے کرے گا اور ہمارے راستوں کو نئی راہ دے گا۔“

”میرے اندر اب کوئی ڈر باقی نہیں رہا عالیان مرزا! میں تمہارے یقین کے ساتھ تمہیں اپنی زندگی میں اپنا رہی ہوں۔ مجھے یقین ہے آئندہ دنوں میں ہم اس یقین کومزید پختہ کریں گے۔“ وہ مدھم لہجے میں بولی اور ایک پُرسکون سانس کے ساتھ اس کے شانے پر سر رکھ دیا تھا۔ بارش، یخ بستہ ہوائیں اور وہ سرد موسم انہیں ٹھہرے ہوئے لمحوں کی طرح دیکھ رہے تھے۔

ض……..ض……..ض

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

ان لمحوں کے دامن میں مبشرہ انصاری قسط نمبر 6

ان لمحوں کے دامن میں مبشرہ انصاری قسط نمبر 6 چکاچوند روشنی میںیکایک قدموں کی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے