سر ورق / کہانی / پیاری سارا۔ مہتاب خان۔ حصہ دوم

پیاری سارا۔ مہتاب خان۔ حصہ دوم

پیاری سارا 

 مہتاب خان 

قسط نمبر 2

اسپتال پہنچتے ہی رضا نے ملازم کو گیٹ ٹھیک کرنے بھیج دیا تھا-شام کو جب وہ گھر واپس آ رہا تھا تب اس نے دیکھا کہ گیٹ کو نصب کر دیا گیا تھا-اور لیٹر بکس بھی بھی اپنی جگہ لگا دیا گیا تھا-اس نے اطمنان کی سانس لی اور کار کی رفتار تیز کردی-

دو تین دن گزرے تھے- سارا بہت بے چینی محسوس کر رہی تھی-اس راز سے پردہ نہیں اٹھا تھا کہ اسے وہ خط کس نے لکھا تھا-اس دن اس نے لیٹر بکس کھولا تو وہاں خط رکھا تھا-اس نے جلدی سے لفافہ اٹھا لیا اور ادھر ادھر دیکھا مگر اس پاس کوئی موجود نہیں تھا-وہ اپنے کمرے میں آ گئی خط کھولا تو اس میں لکھا تھا-

پیاری سارا

تم نے شاید میرے پہلے خط کو مذاق سمجھا ہو گا- لیکن یہ مذاق نہیں ہے- میں اپنے دلی جذبات ہر صورت تم تک پہنچانا چاہتا ہوں-اس لیے خط لکھنے پر مجبور ہوں کیونکہ تم سے رابطے کا اور کوئی ذریعہ نہیں ہے-نہ تم کسی سے ملتی ہو نہ سامنے آتی ہو-نہ جانے یہ خط تم تک پہنچ بھی رہے ہیں یا نہیں-لیکن پھر بھی میں تمہیں خط لکھتا رہوں گا-جب تک تمیں میری محبت پر یقین نہ آ جائے-تم سوچ رہی ہو گی کہ اتنے عرصے میں،میں نے تم سے رابطہ کیوں نہیں کیا تو سنو-میں یہاں نہیں تھا-لیکن اس تمام عرصے میں،میں تمہیں ایک لمحہ کے لیے بھی نہیں بھول سکا اور اس تمام عرصے میں دل نے بہت کہا کہ تمہیں دل کی بات بتا دوں مگر ہر بار رک گیا-یہ سوچ کر کہ تمھاری شادی ہو گئی ہو گی-یہاں آ کر پتا چلا کے تم نے ابھی تک شادی نہیں کی لیکن یہ پتا نہیں چلا کے تم نے شادی کیوں نہیں کی-بہرحال اب میں خود کو روک نہیں پایا-میں تمہیں صرف یہ بتانا چاہتا ہوں کے پچھلے طویل عرصے میں صرف اور صرف تم میرے خیالوں میں رہی ہو-میں تمھارے بارے میں سوچتا رہا ہوں-تمہاری وہ خوبصورت آنکھیں،ریشمی زلفیں اور دلکش سراپا آج بھی میری آنکھوں میں مجسم نظر آتا ہے-پیاری سارا میں آج بھی تم سے اتنی ہی محبت کرتا ہوں جیسے پہلے کرتا تھا-

صرف تمہارا…………..

خط پڑھ کر وہ گم صم سی ہو گئی تھی-اس کا دل تیزی سے دھڑک رہا تھا-اس کی سانسوں کی رفتار تیز ہو گئی تھی-کمرے میں اسے گھٹن کا احساس ہو رہا تھا-وہ اٹھی اور تمام کھڑکیاں اور دروازے کھول دیے -وہ پھر کرسی پر آ بیٹھی اور ایک بار پھر خط پڑھنے لگی- وہ خط اس نے سینکڑوں بار پڑھ ڈالا تھا پھر وہ اٹھی اور آئینے کے سامنے جا کھڑی ہوئی-اس نے برش اٹھایا اور بال سنوارنے لگی-کھڑکی سے آنے والی سنہری دھوپ میں اس کے عارض چمک رہے  تھے-

” وہ کون تھا؟اور اس نے کب اور کہاں اسے دیکھا تھا؟” سوچ سوچ کر سارا کا ذہن تھک چکا تھااگر یہ مذاق تھا تو بڑا سنگین مذاق تھا اور اس کا مقصد کیا تھا؟یہ وہ سوال تھا- جس کا  سارا کے پاس کوئی جواب نہیں تھا-

ایک ہفتہ گزر گیا تھا-وہ روز ہی لیٹر بکس دیکھ رہی تھی مگر وہ خالی تھا-کوئی خط نہیں آیا تھا-اس نے آ س پاس بھی نظر رکھی ہوئی تھی اور تو اور راتوں کو اٹھ کر بھی وہ کھڑکی سے نیچے جھانکتی رہتی تاکہ خط لیٹر بکس میں ڈالتے ہوئے وہ اس شخص کو پکڑ سکے جس نے اس کا چین و سکون برباد کر دیا تھا-اس دن وہ لیٹر بکس بند کر کے پلتٹی  تو دیکھا سامنے بلال اور جنید غالباً کالج سے آ رہے تھے- وہ اسے گیٹ پر دیکھ کر ٹھٹک گئے تھے-پھر مسکراتے ہوئے آگے بڑھ گئے تھے-

"یار سارا اتنی بری بھی نہیں-اچھی خاصی خوبصورت ہے اگر اسے ڈھنگ کا لباس پہنا  دیا جائے اور ہلکا سا میک اپ کر دیا جا ئے تو بہت پیاری لگے گی-"

"ہاں کہتا تو تو ٹھیک ہے-نہ جانے وہ ایسا حلیہ کیوں بنائے رکھتی ہے-"بلال نے کہا –

اوکے بلال شام کو ملتے ہیں-” جنید نے بلال سے ہاتھ ملایا اور اپنے گھر کی جانب قدم بڑھا دیئے-بلال نے سر ہلایا اور اپنے گھر کی طرف روانہ ہو گیا-

"اگلے دن سارا نے لیٹر بکس کھولا تو خط وہاں موجود تھا-وہ دیکھ کر حیران رہ گئی تھی-اس پورے ہفتے اس نے کڑی نگرانی کی تھی مگر خط رکھنے والے کو پکڑ نہیں سکی تھی-نہ جانے اس شخص نے کب وہ خط وہاں رکھا تھا-بہرحال وہ وہیں پرندوں کے پنجروں کے قریب رکھی کرسی پر بیٹھ گئی اور بے تابی سے خط کھولااور پڑھنے لگی لکھا تھا-

پیاری سارا

تمہیں یک طرفہ خطوط لکھنا پاگل پن نہیں تو کیا ہے-مگر میں پھر بھی لکھتا رہتا ہوں اور تمہیں سوچتا رہتا ہوں-میں اکثر خود سے سوال کرتا ہوں کہ اگر تم مجھے مل گئی ہوتیں اور ہماری شادی ہو جاتی تو ہماری زندگی کیسیہوتی اور میرا دل جواب دیتا ہے بہت خوبصورت- دراصل زندگی تو وہی ہوتی جو تمہارے ساتھ گزرتی یہ بھی کوئی زندگی ہے ویران اور اداس-

میں تمہیں بتانا چاہتا ہوں سارا کہ میں تم سے بہت قریب ہوں اتنا کے جب چاہوں تمہارے سامنے آ سکتا ہوں مگر ڈر لگتا ہے کہ کہیں تم یہ نہ کہہ دو کہ تمہاری زندگی میں اب میری کوئی جگہ نہیں ہے-میں نے ایک طویل عرصہ صرف تمہاری یادوں کے سہارے گزارا ہے-اور اب میں تمہیں کھونا نہیں چاہتا اور دنیا بھر کی خوشیاں میں تمہارے قدموں میں ڈھیر کر دینا چاہتا ہوں-تمہارے حسین چہرے کی وہ پیاری مسکان آج بھی میرے خیالوں میں موجود ہے-میرا چہرہ تو شاید تمہیں یاد بھی نہیں ہوگا-

تمہارا…………..

سارا نے ایک ٹھنڈی سانس بھری اور خط تہہ کرکے لفافے میں ڈال دیا اور کرسی کی پشت سے سر ٹکا دیا-اس کی نظریں دور خلاؤں میں کچھ تلاش کر رہی تھیں-زینب جو نہ جانے کب وہاں آئ تھی اسے جو یوں بیٹھے دیکھا تو چونک گئی پھر پرندوں کو دانا ڈالنے کے لیے پنجروں کی جانب بڑھی-کافی دیر گزر گئی تھی-سارا اپنے خیالات میں ڈوبی ہوئی تھی-زینب پنجروں کی صفائی وغیرہ کر کے واپس پلٹی اور اس کے سامنے سے گزری تو سارا اپنے خیالات سے چونکی اور اس کی طرف دیکھا جو سر جھکائے اندر کی سمت جا رہی تھی-سارا نے آواز دی-

"زینب-"

"جی” وہ اس کے قریب چلی آئ –

"تم نے کسی کو بنگلے کے آ س پاس منڈلاتے ہوئے تو نہیں دیکھا؟”

"نہیں-” اس نے کہا پھر کچھ سوچ کر بولی-"ہاں ایک دو بار ڈاکٹر رضا کو ہمارے بنگلے کے سامنے کھڑے دیکھا ہے-وہ اکثر رات میں وہاں کھڑا آپ کے کمرے کی کھڑکی کو تکتا رہتا ہے-"

"اچھا-” اس نے حیرت سے کہا-پھر کچھ دیر بعد بولی "ٹھیک ہے تم جاؤ -"

وہ کچھ دیر وہاں بیٹھی سوچتی رہی-رضا سے اس کی ملاقات کب اور کہاں ہوئی تھی اسے بالکل یاد نہیں تھا-ہاں اسے یہ یاد تھا کہ رضا کی والدہ کافی عرصے پہلے اس کے رشتے کے سسلے میں اس کے گھر آئ تھیں-مگر پھر کیا ہوا تھا اور اس کے چچا نے کیوں انکار کیا تھا اسے کچھ پتا نہیں تھا-

"تو وہ تم ہو ڈاکٹر رضا-” اس نے دھیرے سے کہا  پھر اٹھ کر اپنے کمرے میں آ گئی اور اس خط کو باقی خطوط کے ساتھ ٹیبل پر ڈال دیااور ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے آ کھڑی ہوئی-وہ دیر تک آئینے میں اپنے عکس کو تنقیدی نظروں سے دیکھتی رہی پھر نہ جانے دل میں کیا آیا کہ الماری کے قریب آئ اسے کھولا اور اپنے ملبوسات دیکھنے لگی-جو برسوں سے وہاں رکھے تھے-اس نے ایک ایک کر کے ہینگر باہر نکالے اور بیڈ پر ڈھیر کر دیئے-سارے لباس آؤٹ آف فیشن ہو چکے تھے-اس نے ہاتھ بڑھایا اور سرخ لباس اٹھا لیا-آئینے کے سامنے آئ اور لباس خود سے لگا کر آئینے میں دیکھا-کمرے کی محدود روشنی میں لباس کی سرخی اس کے رخساروں پر جھلملا رہی تھی-وہ اپنے عکس کو محویت سے دیکھ رہی تھی-ایسے جیسے وہ اپنے آپ کو نہیں بلکہ کسی اجنبی لڑکی کو دیکھ رہی ہو اور پہچاننے کی کوشش کر رہی ہو-ادھ کھلی کھڑکی سے خنک ہوائیں اس کے ریشمی بالوں سے کھل رہی تھی-وہ مسکرا دی-

                                                                                                        ****************************

جنید اور بلال جنید کے گھر کے باہر کھڑے باتیں کر رہے تھے جب بلال کی نظر بڑی سی سیاہ چادر میں لپٹی سارا پر پڑی تھی جو تیز قدموں سے چلتی کہیں جا رہی تھی-

"ارے یہ کہاں جا رہی ہے؟” بلال نے حیرت سے کہا-جنید کی پشت سارا کی جانب ہونے کی وجہ سے وہ اسے دیکھ نہیں سکا تھا-

"کون؟” وہ تیزی سے پلتا اور سارا کو دیکھ کر حیرت زد رہ گیا-

"کسی کام سے جا رہی ہو گی-” جنید نے کہا-

"لیکن یہ تو کبھی گھر سے نکلتی ہی نہیں تو پھر آج کیسے؟”

ان کی حیرت بھری نظریں اس کا تعاقب کرتی رہیں-سارا کے قدم لمحے بھر کے لیے ڈاکٹر رضا کے گھر کے سامنے رکے اس نے ایک نظر سر اٹھا کر اس کے گھر کی سمت دیکھا پھر آگے بڑھ گئی-

وہ ایک طویل عرصے کے بعد کھلی فضا میں سانس لے رہی تھی-سب کچھ اسےعجیب لگ رہا تھا-ہر نظر اسے اپنی جانب گھورتی نظر آ رہی تھی- وہ جھجکتی ہوئی مگر تیز قدموں سے چلتی وہاں سے دور نکل آئ تھی-

یہ ایک بہت بڑا اور مشھور شاپنگ مال تھا-جہاں وہ بڑے عرصے کے بعد شاپنگ کے لیے آئ تھی-وہ اپنے لیے کپڑے خریدنے ایک بوتیک میں گھسی اور کچھ دیر کھڑی ادھر ادھر دیکھتی رہی-اسے دیکھ کر ایک سیلز گرل اس کی طرف بڑھی-

"مے آئ ہیلپ یو میڈم؟” لڑکی نے کہا-

"مجھے اپنے لیے کچھ ڈریسز چاہیے-” اس نے جھجکتے ہوئے کہا-

” آئیں میرے ساتھ-"لڑکی کی رہنمائی میں اس نے کچھ ڈریسز پسند کے تھے-

"آپ چاہیں تو چینجنگ روم میں جا کر چیک  کر سکتی ہیں-"لڑکی نے کہا تو ایک ڈریس اٹھا کر وہ چینجنگ روم میں چلی گئی-کچھ در بعد نیا ڈریس  پہنے وہ باہر لگے قد آدم آئینے کے سامنے کھڑی ہو کر خود کو تنقیدی نظروں سے دیکھنے لگی-بہترین تراش کا یہ لباس اس پر سج گیا تھا-

"میڈم آپ بہت خوبصورت لگ رہی ہیں-"لڑکی نے ستائشی نظروں سے اسے دیکھا-سارا نے چونک کر اسے دیکھا-کتنی مہربان تھی وہ لڑکی اور کتنا احترم تھا اس کے لہجے میں-یہ وہ دنیا تو نہیں تھی ہو اس نے سوچی تھی-

یہاں سے اس نے تین چار لباس خریدے تھے-وہاں سے نکل کر وہ ایک بیوٹی پارلر میں چلی گئی-جہاں اسے ہاتھوں ہاتھ لیا گیا تھا-وہ ہر ایک کو حیرت سے دیکھ رہی تھی-سب اس کی مدد کر رہی تھور اس کا حلیہ سدھا رنے میں جاتی ہوئی تھیں-کچھ دیر بعد ایک مختلف سارا ان کے سامنے تھی-برسوں کی بے توجہی نے جس حسن کو گہنا  دیا تھا وہ اب دمک رہا تھا-

آھستہ آھستہ اس کا اعتماد بہال ہو رہا تھا- سب کچھ اسے اچھا لگ رہا تھا-اس دن اس نے ڈھیروں شاپنگ کر لی تھی-اس شاپنگ مال میں آئے اسے کئی گھنٹے گزر گئے تھےاور اسے زوردار بھوک لگی تھی-وہ اسی شاپنگ مال میں وقع ایک ریسٹورنٹ میں آ گئی اور ڈٹ کر کھانا کھایا پھر ویٹر کو بل ادا کر کے شاپنگ بیگز اٹھائے  اور باہر نکل آئ –

وہ شاپنگ مال کے باہر کھڑی سواری کی تلاش میں ادھر ادھر دیکھ رہی تھی-جب اس کی نظر اس ویٹر لڑکے پر پڑی جسے کچھ دیر پہلے وہ ریسٹورنٹ میں دیکھ چکی تھی وہ لڑکا دوڑتا ہوا اس کی جانب آ رہا تھا-یہ دیکھ کر وہ خوف زد ہو گئی تھی نہ جانے وہ کس ارادے سے آ رہا تھا-کچھ ہی دیر میں وہ اس کے نزدیک آ گیا اور اس کا پرس آگے بڑھاتے ہوئے بولا-

"میڈم آپ اپنا پرس ٹیبل پر بھول آئ تھیں-اس نے پرس تھا ما اور کھول کر دیکھا-پرس نوٹوں سے بھرا ہوا تھااس نے کچھ نوٹ نکالے اور ویٹر کی طرف بڑھائے-

نہیں جی یہ میں نہیں لے سکتا-” لڑکا جلدی سے بولا "رکھو یہ میں اپنی خوشی سے دے رہی ہوں-اس نے نوٹ اس کے ہاتھ میں پکڑائے جو اس نے تھام لیے تھے-یہ دنیا اتنی ڈراؤنی نہیں تھی جتنا وہ سمجھتی تھی-پھر وہ کس دنیا میں جی رہی تھی-اسے یوں لگ رہا تھا جیسے برسوں کی قید سے اسے آزادی مل گئی ہو-

اس دن جنید اور اور بلال کالج سے واپس آ رہے تھے جب سارا کے بنگلے کے سامنے سے گزرے تو یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ بنگلے کے سارے دروازے اور کھڑکیاں کھلی ہوئی تھیں اور لان میں ایک جانب گھر کا سامان دھرا  تھا-جنید ٹھٹک کر رک گیا تھا-سامان کے قریب زینب کھڑی ہوئی تھی-

"چل بھائی رک کیوں گیا؟”بلال نے کہا تو جنید بولا تو جا میں ذرا پتا کر کے آتا ہوں سارا نے گھر کا سامان باہر کیوں نکالا ہے-بلال بڑبڑاتے ہوئے وہاں سے چلا گیا-جنید کھلے گیٹ سے اندر داخل ہو گیا-

"سارا میڈم کہیں شفٹ ہو رہی ہیں کیا؟ یہ سامان کیوں نکالا ہے؟” جنید نے زینب کے قریب آ کر استفسار کیا-

"کیوں تمہیں کیا مطلب کچھ خریدنا ہے تو بولو-نہیں تو چلتے بنو یھاں سے-” زینب نے کہا –

"سارا میڈم کہاں ہیں؟” وہ اندر جاتے ہوئے بولا "سنو کہاں جا رہے ہو؟ تم اندر نہیں جا سکتے-” زینب اس کے پیچھے لپکی لیکن اس نے زینب کی ایک نہیں سنی اور تیز قدموں سے اندرچلا گیا-اسی وقت سارا سیڑھیاں اترتی ہال میں آ گئی-جہاں جنید کھڑا حیرت سے اسے دیکھ رہا تھا-یہ وہ سارا تو نہیں تھی جسے کچھ عرصے پہلے جنید نے دیکھا تھا-اس وقت وہ بلیک اور ریڈ کنٹراسٹ کے صوت میں انتہائی خوبصورت لگ رہی تھی-

"تم یہاں  کیا کر رہے ہو؟”

"آپ کہیں جا رہی ہیں کیا؟” جنید نے پوچھا-"باہر سامان…….”

"نہیں…….. کچھ کا ٹھ کبا ڑ نکالا ہے-” سارا نے مسکراتے ہوئے کہا –

"اچھا-” اس نے اطمنان کی سانس لی اور تیزی سے باہر نکل گیا-وہ حیرانی سے اسے جاتا دیکھتی رہی-

دو تین دن گزرے تھے کہ اس دن صبح سویرے زینب نے وہ خط اسے لا کر دیا تھا-خط دیکھ کر اسے ایک انجانی سی خوشی ہوئی تھی-ان خطوط نے تو اس کی دنیا ہی بدل دی تھی وہ کیا سے کیا ہو گئی تھی-انہیں وہ باربار پڑھتی تھی-زینب کے جاتے ہی اس نے بے تابی سے لفافہ چا ک کیا اور خط پر نظریں دوڑانے لگی-

سارا

میں نہیں جانتا کہ تمہیں خط لکھنا چاہیے یا نہیں مگر ہر بار میں دل کے ہاتھوں مجبور ہو جاتا ہوں-بہت دل کو سمجھاتا ہوں مگر یہ نہیں مانتا-تنہا زندگی گزرنا آسان نہیں ہے-نہ جانے تم کیسے یہ زندگی گزار رہی ہو گی-بہرحال تم اس دنیا میں ہو اور یہ دنیا،خوشی اور محبت سب تمہارے سامنے باہیں پھیلائے کھڑے ہیں-بس انہیں آزمانے کی دیر ہے -سارا میں تم سے محبت کرتا ہوں اور کرتا رہوں گا بغیر کسی وجہ کے اور بغیر کسی مقصد کے-تم اس وقت بھی میرے خیالوں میں ہو اور سنہری دھوپ نے تمہیں اپنی بانہوں میں جکڑ رکھا ہے  یہ دھوپ نہیں میرا وجود ہے سارا-

صرف تمہارا-

وہ خط پڑھنے میں محو تھی اور ایک خوبصورت مسکا ن اس کے ہونٹوں پر پھیلی ہوئی تھی-وہ اٹھی اور کھڑکی میں آ کھڑی ہوئی-سامنے اپنے کمرے کی کھڑکی میں جنید کھڑا تھا-سارا کو اپنی جانب دیکھتے پا کر اس نے ہاتھ لہرایا تھا-سارا نے بھی مسکراتے ہوئے ہاتھ لہرایا-

جنید کے ایگزام ہو رہے تھے اور وہ بری طرح پڑھائی میں مصروف تھا–اس دن وہ پیپر کی تیاری کر رہا تھا اور اس کی امی کھڑکی میں کھڑی باہر جھانک رہی تھیں اسی وقت وہ اچانک بولیں-

"یہ سارا کی کا یا پلٹ کیسے ہو گئی؟ لگتا ہے اس نے گوشہ نشینی ترک کر دی-میں نے اکثر اسے شام کو باہر ٹہلتے دیکھا ہے-اس وقت بھی شاید سیر کے لیے نکلی ہے-” یہ سنتے ہی وہ اچھل کر بیڈ سے اترا اور کھڑکی کے نزدیک آ گیا-ان دونوں کی نظریں سارا پر پرمرکوز  تھیں-جو سڑک پر خراماں خراماں چلی جا رہی تھی-سیاہ چادر میں لپٹا اس کا گورا چہرہ چمک رہا تھا اور سفید اور نازک ہاتھ بتا رہے تھے کہ وہ ایک خوبصورت دوشیزہ کے ہاتھ ہیں-

ڈاکٹر رضا جو غالباً اس وقت واک کے لیے نکلا تھا-اسے دیکھ کر حیرت زد رہ گیا تھا-جیسے ہی اس کی نظریں سارا کے حسین چہرے پر گئیں وہ ایک ساعت کے لیے سانس لینا بھول گیا-گلابی چہرہ گلاب کی پتیوں جیسے نازک ہونٹ.ستون ناک بڑی بڑی کٹورہ سی آنکھیں رضا کو دیکھ رہی تھیں اور رضا انہیں دیکھ رہا تھا-

آج اتنے طویل عرصے کے بعد اس نے سارا کو دیکھا تھا-پہلے اس نے جس سارا کو دیکھا تھا وہ تھوڑے بہت فرق کے ساتھ  وہی تھی- اب بھی اس کے چہرے سے وہی بھولا بسرا چہرہ جھانک رہا تھا-وہ نزاکت اور شگفتگی کا ایک جیتا جاگتا نمونہ تھی-اس کے جسم کی شادابیاں آج بھی برقرار تھیں-وہ پتھر کی طرح سکت ہو گیا تھا-سارا ایک لمحہ کے لئے اس کے سامنے رکی تھی-پھر آھستہ قدموں سے چلتی آگے بڑھ گئی تھی–کچھ دور جا کر نہ جانے اس کے دلمیں کیا آیا کہ وہ واپس پلٹی اور آھستہ قدموں سے چلتی اپنے گھر کی سمت بڑھی-چلتے چلتے وہ رضا کے سامنے رک گئی اور الجھن آمیز نظروں سے اسے دیکھنے لگی-اس کی جھیل جیسی آنکھوں میں کئی سوال تھے-رضا سحر زدہ سا اس کی آنکھوں میں دیکھتا رہا-سارا نے نظریں جھکا لیں اور آگے بڑھ گئی-اور رضا بت بنا وہیں کھڑا اسے دور تک جاتے دیکھتا رہا-اس واقعے کے اگلے دن سارا کو وہ خط موصول ہوا جو اس کا آخری خط تھا-

پیاری سارا

 یہ میرا آخری خط ہے جو تم تک پہنچے گا-مجھے خوشی ہے کہ تم نے میری محبت قبول کر لی ہے- مجھے اپنی محبت پر بھروسہ ہے کیونکہ یہ دل کا رشتہ ہے-احساس کا رشتہ ہے-اسے کوئی ختم نہیں کر سکتا-اور پیاری سارا جب کبھی بھی تم خود کو اکیلا پاؤ تو گھبرانا نہیں اور نہ ہی اداس ہونا بس مجھے سوچنا تم ہمیشہ مجھے خود کے قریب پاؤ گی-

ہمیشہ کے لیے تمہارا……….

پھر بہت سارے دن گزر گئے-سارا نے محلے میں میل ملاقاتیں شروع کر دی تھیں-رضا سے بھی وقتاً فوقتاً ملاقاتیں ہوتی تھیں- اور جنید ہائیر اسٹڈیز کے لیے ملک سے باہر چلا گیا تھا-

وہ پانچ سال بعد وطن واپس آیا تھا-اٹھارہ سالہ کھلنڈرے لڑکے سے جنید ایک خوبرو نوجوان میں تبدیل ہو چکا تھا-ائیرپورٹ پر اس کی امی اسے لینے آئ تھیں جو پہلے سے کچھ کمزور ہو گئی تھیں-انہوں نے بڑھ کے اسے گلے لگایا تھاوہ اپنے گھر کی جانب جا رہے تھے اور جب وہ اپنے محلے میں داخل ہوئے تو جنید کو سب بدلہ بدلہ سا لگ رہا تھا-جہاں سارا کا ویران بنگلہ تھا وہاں اب ایک شاندار عمارت کھڑی تھی-وہ دیکھ کر حیران رہ گیا تھا-

"سارا نے اپنا مکان بنوایا ہے امی؟” جنید نے پوچھا-

"نہیں اس نے اپنا بنگلہ فروخت کر دیا تھا-اب یھاں کوئی اور فیملی رہتی ہے-"

"کیا؟کب؟”جنید نے چونکا-

تمہارے جانے کے ایک سال بعد………جاتے ہوئے وہ کسی سے مل کر بھی نہیں گئی-کسی کو اس کے بارے میں کچھ نہیں پتا کہ وہ کہاں گئی؟”

اس نے شادی نہیں کی؟ وہ تو ٹھیک ہو گئی تھی اور سب سے ملنے جلنے لگی تھی-” جنید نے کہا

"نہیں شادی تو نہیں کی تھی اس نے……….اور ہان ڈاکٹر رضا بھی تو چلے گئے-انہوں نے بھی اپنا مکان فروخت کر دیا تھا بلکہ سارا سے پہلے ہی وہ یہاں  سے چلے گئے تھے- شاید بیرون ملک ہی چلے گئے ہوں گے-"انہوں نے خیال ظاہر کیا-یہ سب سن کر وہ ازحد پریشان ہو گیا-

"ارے تمہیں کیا ہوا کیوں پریشان ہو گئے؟”اس کے چہرے پر چھائی پریشانی کی تحریر دیکھ کر اس کی امی نے کہا –

"اسے کسی نے تلاش نہیں کیا ؟”اس نے دھیرے سے کہا –

"کون کرتا اس کا دنیا میں ہے ہی کون؟”گھر آ گیا تھا-جہاں سب اہل خانہ اس کے استقبال کے لیے موجود تھے-

وہ بہت بے چین تھا اور سارا کو بے قراری سے تلاش کر رہا تھا-ہر اس جگہ اس نے اسے ڈھونڈنے کی کوشش کی تھی جہاں امکان ہو سکتا تھا مگر یوں لگتا تھا جیسے اسے زمین نگل گئی ہو یا آسمان کھا گیا ہو-

اس کی زندگی کا واحد مقصد یہ رہ گیا تھا کہ سارا کو تلاش کرے – جانے  وہ کس حال میں ہے-زندہ بھی ہے یا………خدا نہ کرے-اس نے دل میں آئے اس خیال کو رد کیا تھا-

جیسے جیسے وقت گزر رہا تھا اس کی بے چینی بڑھتی جا رہی تھی-اس کی سمجھ میں آ رہا تھا کہ اس نے سارا کے ساتھ کیا کیا تھا-اس نے اسے محبت بھرے خطوط لکھ تھے-اس وقت تو اسے پتا بھی نہیں تھا کہ محبت کیا ہوتی ہے اور اب جب وہ سمجھ سکتا تھا کہ محبت کیا ہوتی ہے اور کسی پر بھروسہ کرنا کیا ہوتا ہے انتظار کیا ہوتا ہے تو یہ بھی سمجھ میں آیا تھا کہ بھروسہ ٹوٹنے پر کیا گزرتی ہے اور دل کا ٹوٹنا کیا ہوتا ہے-وہ خط سارا کے لیے کیا تھے اسے اب احساس ہو رہا تھا-

"یہ میں نے کیا کیا اس کے ساتھ؟” اس نے سوچا-وہ ان دنوں اسے سوشل میڈیا پر تلاش کر رہا تھا-وہ تو نہیں ملی تھی مگر اس کے والد کے ایڈوکیٹ دوست مبین ملک مل گئے تھے-ان سے اس کی بات چیت ہوئی اور ان کا ایڈریس ملا تو دوسرے دن ہی وہ ان سے ملنے پہنچ گیا-

مبن ملک ان دنوں ریٹائرڈ زندگی گزر رہے تھے-جب اس نے انہیں اپنے وہاں آنے کا مقصد بتایا تو وہ بولے-

"بھئی میں سارا کی اجازت کے بغیر اس کا ایڈریس اور رابطہ نمبر تو تمہیں نہیں بتا سکتا مگر اتنا ضرور کر سکتا ہوں کہ تمہارا نمبر اس تک پہنچا دوں-"یہ سن کر اسے قدرے اطمنان ہوا تھا کہ وہ ٹھیک ہے اور اسی شہر میں کہیں رہتی ہے-اس نے اپنا موبائل نمبر وغیرہ ایک چٹ پر لکھ کر دے دیا تھا اور وہاں سے رخصت ہو گیا تھا-

کئی دن گزر چکے تھےمگر وہ فون کال نہیں آئ تھی-جس کا وہ شدت سے منتظر تھا-پھر کئی ہفتے گزر گئے سارا کا فون نہیں آیا اور اب تو وہ مایوس ہو چلا تھاکہ اس دن اچانک اس کے موبائل کی گھنٹی بجی-

"ہیلو……….. کون ہیں آپ؟” ایک اجنبی نسوانی آواز نے اسے چونکا دیا-

"مم……..میں……….آپ کون بول رہی ہیں؟”

سارا نے نمبر کنفرم کیا”آپ اس نمبر سے بات کر رہے ہیں؟”

"جی”

"کون ہیں آپ؟”

"آپ بتائیں محترمہ کال آپ نے کی ہے”

"میں وہی ہوں جسے آپ تلاش کر رہے ہیں-"مبن ملک صاحب نے مجھے یہ نمبر دیا تھا-کیا میں جان سکتی ہوں کہ آپ مجھ سے کیا چاہتے ہیں؟”اس کا دل تیزی سے دھڑکا-

"میں جنید……..”

"اوہ جوجو تم…….؟”پھر دیر تک دونوں باتیں کرتے رہے اور سارا نے اسے اپنے گھر انوائٹ کیا تھا-

اگلے دن وہ سارا کے بے حد شاندار بنگلے میں جو شہر کے ایک پوش ایریا میں وقع تھا ڈرائنگ روم میں اس کے مقابل  صوفے پر بیٹھا تھا-گلابی لباس میں اپنے گلابی وجود کے ساتھ وہ بہت خوبصورت اور باوقار لگ رہی تھی-اس کے استفسار پر وہ اپنی روداد سنا رہی تھی-

"یقین کرو جنید ان خوبصورت خطوط نے مجھے میرے ہونے کا احساس دلایا  تھااور میری زندگی بدل کر رکھ  دی تھی-” سارا نے کہا-اسی وقت ایک تین چار سال کا خوبصورت سا بچا دوڑتا ہوا اندر آیا اور ممی کہتا ہوا سارا سے لپٹ گیا-

"انکل سے ہاتھ ملاؤ سمیر-” سارا نے بچے سے کہا -"یہ میرا بیٹا ہے-"

"کہاں  ہو سارا کون آیا ہے؟”ڈاکٹر رضا کمرے میں داخل ہوتے ہوئے بولے-

یہ میرے ہزبینڈ ہیں رضا-تم تو انہیں جننتے ہو-"

"ارے جنید آیا ہے-” وہ آگے بڑھے اور اس سے بغل گیر ہو گئے-

"تو آپ کو وہ مل گیا؟” جنید نے سارا سے کہا –

"خط لکھنے والا تو نہیں ملا مگر محبت مل گئی-"سارا نے رضا کی جانب دیکھتے ہوئے کہا جو محبت پاش نظروں سے اسے ہی دیکھ رہا تھا-

"بھئی میں تو اس شخص کا شکر گزار ہوں جس نے سارا کو وہ خطوط لکھ تھے-ورنہ یہ قیدیوں جیسی زندگی گزا رتی رہتی اور مجھے کبھی نہ ملتی-کیوں سارا؟”

اور جنید سوچ رہا تھا-آپ کو وہ کبھی نہیں ملے گا-اس کا اس دنیا میں کوئی وجود نہیں ہے-کیونکہ اسے تو اس نے اپنے خیالوں میں تخلیق کیا تھا-

"لیکن تم بتاؤ مجھے کیوں ڈھونڈ رہے تھے؟”سارا نے کہا تو وہ گڑبڑا گیا-پھر سنبھل کر بولا-

"اپنی شادی پر آپ لوگوں کو انوائٹ کرنا تھا-” دونوں نے اسے مبارک باد  دی تھی-اور  جنید نے ان کے خوشیوں سے سرشار چہروں کو دیکھ کر اطمینان کی سانس لی تھی- (ختم شد )

                                                                             *****************************************

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

 کولڈ فیئر …  شبیہہ مظہر رانجھا… پہلا حصہ

                                                 کولڈ فیئر  شبیہہ مظہر رانجھا،بھلوال پہلا حصہ COLD FEAR  میں نے آج تک …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے