سر ورق / کہانی / اور ہوا خاموش ہو گئی ۔۔ اُوما/ عامر صدیقی

اور ہوا خاموش ہو گئی ۔۔ اُوما/ عامر صدیقی

اور ہوا خاموش ہو گئی

اُوما/ عامر صدیقی

ہندی کہانی

…………

رات گہری ہوتی جا رہی ہے اور میں بہتی جا رہی ہوں۔ تھم نہیں سکتی ہوں، کوئی سرائے میرے لئے نہیں بنی ہے۔ میرے لئے تو ہیں ارد گرد کے بکھرے مناظر۔ اب وہ چاہے جیسے بھی ہوں، ان سے آنکھیں نہیں پھیر سکتی میں۔ اپنے ساتھ لائی کچھ بھلی بری بوﺅںکو ،راہ میں پھیلاتی جاتی ہوں تو وہاں موجودسناٹے اور شور کے ٹکڑوں کو سمیٹ لے جاتی ہوں۔ کچھ پرانے چیزیں پھر بھی پیچھا نہیں چھوڑتیں۔ کھرچن کی طرح چپک جاتی ہیں، انہیں اتاریں تو بھی نشان رہ ہی جاتے ہیں۔ ان سے پیچھا چھڑانے کے لئے کچھ ایسا ہی کرتی ہوں میں، جیسا آپ پیتل کی کڑھائی کے ساتھ کرتے ہیں، قلعی کرواتے ہیں یا جیسے دیواروں کے ساتھ کرتے ہیں، نئے رنگ دھندلاہٹ کو چھپا دیتے ہیں۔ میں بھی نئی بوﺅں کا لبادہ لپیٹ لیتی ہوں۔ اتنی گہرائی تک اترتی ہوں، جہاں تک کوئی پہنچ ہی نہیں پاتا، کوئی پہنچ بھی جائے تو پھر اسکی واپسی کبھی نہیں ہوتی ۔۔۔ پرمیری ہوتی ہے۔ جسم کی اندھی گلیوں میں اترتی ہوں۔ اندر کا زہر مجھ پر اثر نہیں کرتا۔ میں زندہ رہتی ہوں۔ گاتی ہوں میں،کراہوں بھرا گیت، غم زدہ گیت،چنچل گیت، مایوسی سے لبریز گیت۔ بےشمار آوازوں کی پناہ گا ہوں میں۔ ہوا ہوں میں۔

میںپانی کے اندر بھی بہتی رہی ہوں۔ اسی پانی میں، میں نے ہیر کو بھی دیکھا تھا۔ اس کے گھڑے میں سمائی تھی میں۔ ایک طلسم رچا تھا میں نے۔ ہیر کے دل میں اتری اور سمیٹ لائی اس کے اندر کی تمام خوشبو اور اتار دی رانجھے کے بدن میں، لیکن رکی نہیں میں، چلتی رہی۔ بنجارہ پن مجھ میں ہے یا میں بنجارے پن میں، کہنا مشکل ہے ذرا۔ اور یوں ہی کہتے کہتے، یوں ہی بہتے بہتے، ایک دن تڑپ اٹھی میں۔ مجھے رحم چاہیے تھا، نہیں ملا، اُنہیں بھی چاہیے تھا، نہیں ملا۔ ایک قطرہ بھی نہیں۔ اُن کی بے چارگی میری بے چارگی سے آن ملی، میں عورت بن گئی۔ میں ان عورتوں کی طرح ہی کانپ رہی تھی، جو بٹوارے کی بھینٹ چڑھیں۔ زیادتیوں کی گواہ تھی میں، مگر ٹھہر نہیں سکتی تھی۔ میری چال چیخوں میں بدل گئی۔ سال پیچھے چھوٹ سے گئے، بہت سی چیخوں کا بوجھ اتارا، لیکن جو پورو ںمیں بس گئی تھیں ان کا کیا؟ دھرم ،مذہب بہانہ بنا تھا ان دنوں رنگ برنگی چنریوں کو تار تار کر دینے کا۔ اذانوں کی آوازوں اورآرتیوں کی دھنوں میں بھی زہر گھل گیا تھا۔ زہر کا اثر اب جاتا رہا ہے، آج ایک بار پھر اذانوں اور آرتیوں کی آوازیں کانوں سے ٹکرا رہی ہیں۔

”گنپتی بپّا موریا ۔۔۔“ کی گونج پورے ماحول میں بکھری ہے، پر زہر کا اثر کیا واقعی ختم ہو گیا ہے! محسوس کر رہی ہوں اس لمحے کی سچائی۔ اس لمحے میری سانسیں تیز ہو رہی ہیں۔ اُس کی طرح، اُس کی طرح یعنی، وہ جو سامنے اسکوٹی پر بےٹھی سی ہے۔ا سکارف اور ہیلمٹ سے مکمل طور پرمنہ ڈھکی ہے وہ۔ ایک لڑکی ۔۔۔ یا عورت بھی کہہ سکتے ہیں، کپڑے اب کئی معنوں میں آزادہیں۔وہ نہ صرف آپکا جسم ڈھانپتے ہیں،بلکہ آپکا اشتہار بھی بن جاتے ہیں۔ آپ کتنے پانی میں ہیں؟ یہ بھی بتاتے ہیں وہ۔ تو ایسا اسے دیکھ کر لگا کہ وہ کوئی حیران پریشان روح ہے۔ ایک روح ۔۔۔ ایک زنانہ بدن کے اندر ۔ یہ بات اور ہے کہ اس کا بدن اس کی روح پر ہر بار بھاری پڑتا ہے۔ سنبھلتا ہی نہیں بدن، اس سے بھی شاید نہیں سنبھل رہا، وہ کبھی سمٹ رہی ہے، کبھی اسکوٹی پر اپنا پورا وزن لاد دیتی ہے،کون جانے کتنا بوجھ ہو اسکے بدن پر۔ جیسے ۔۔۔ ابھی ایک دم سے وہ ایک طرف جھکی، پاس سے کوئی گزر رہا تھا شاید۔ اتنا بھی پاس نہیں تھا، جتنے پاس اجالا لپٹا تھا اس سے۔ اجالا، تیز اجالا، رات کے نو بجے!

یہ جے پور شہر کابھیڑ بھاڑ والا چوراہا ہے۔ شہروالو ںکے پسندیدہ موتی ڈونگری گےنش جی کے مندر سے ہوتی ہوئی یہ روڈ، سانگانےری گیٹ کی طرف جاتی ہے۔ شہر کے چار دروازوں میں ایک دروازہ۔ گنیش پرتمائیں ،اپنی تاریخ، گاتھاﺅں، گیتوں، بھجنوں اور تماش بینوں کی فوج کے ساتھ پرانے شہر پر چڑھائی کرنے جا رہی ہوں جیسے۔ سچ میں سڑکوں پر سرپٹ دوڑتی گاڑیوں کا شور ہتھیار ڈال رہا ہے، سرپٹ بھاگتی گاڑیاں،یہاں وہاں کسی محفوظ گلی کی تلاش میں ہیں۔ وہ عورت بھی شاید کسی محفوظ گلی کی تلاش میں تو نہیں۔ میں اتری اس کے اندر، ڈر کی بو سمائی مجھ میں یا میں ہی کچھ خوف چھوڑ آئی وہاں، کہنا مشکل ہے۔

خیر ڈر سے پہلے بات آج کے دن کی، کچھ خاص ہی دن ہے آج کا۔ آج گےنش جی کی شوبھایاترا نکالی جا رہی ہے۔ کل حیرت انگیز اتفاق تھا۔ گنیش چھتُرتھی اور عید ایک ہی دن منائی گئیں۔ یہ اتفاقات ہماری زمین پر نئے نہیں ہیں، مگریہ ڈر بھی تو نئے نہیں ہیں۔ ریوا ۔۔۔ ریوا نام ہے اس عورت کا، کہیں اسی خوف کو تو نہیں جی رہی وہ۔ میں ریوا کے ارد گرد ہوں، وہ بڑبڑا رہی ہے، لیکن اس کی اپنی آواز” جے گنیش“ کی گونج میں دفن ہوتی جا رہی ہیں۔

سبز رنگ کے اونچے کرتے، لےگنگ اور باریک دوپٹے میں سمائی، عام سی قدوقامت والی ریوا نے شاید تیس موسم ِبہار تو دیکھے ہی ہوں گے، محسوس ہواہو گا کہ کتنی ہی بار کی راتیں اس سے ہی جواں ہوتی ہیں، لیکن ریوا کو تو ابھی موسم کی مہک سے کوئی لےنا دینا نہیں۔ بہت دیر سے ٹریفک جام میں پھنسی ہے وہ۔ جھنجھلاہٹ میں اس نے ہیلمٹ اورا سکارف اتارا، ڈھیلی پڑ چکی پونی ٹےل کو درست کیا۔ سانولی رنگت اور تیکھے نین نقش کے بیچ فکروںکی لکیریں دوڑ رہی ہیں۔ گہری سیاہ آنکھیں کاجل سے اور بھی گہری نظر آ رہی ہیں، شکوک کے ڈورے ان گہرائیوں میں پھر بھی نہیں ڈوبے، بلکہ اچھل کر گھڑی پر جا ٹپکے۔

 ”۔۔۔ نو بج گئے ہیں، چینو کے سونے کا وقت ہو رہا ہے۔ اے گےنش جی مہاراج آپکی پرتماﺅں کو دیکھنے کا سکھ ادبھت ہے، لیکن اب ذرا جلدی جاو ¿ جی۔“ ریوا پاس کھڑے ٹریفک سپاہی سے پوچھتی ہے،”ارے بھائی کتنی دیر لگے گی راستہ کھلنے میں۔“

”آپ آرام سے گاڑی کھڑی کر لو میڈم، ٹائم لگے گا ابھی۔“ سرد اور تھکے لہجے میں گھنی مونچھوں والے ٹریفک سپاہی نے کہا۔

”کتنا؟“

”کچھ پتا نہیں ہے۔“

”اسے کہتے ہیں پڑھی لکھی گنوار۔“ ریوانے آہستہ سے اپنے کان میں سرگوشی کی۔کانا پھوسی خود سے چلتی رہی ۔۔” صبح سے خیال آ رہا تھا کہ شام کو راستہ بند مل سکتا ہے۔ شوبھایاترا نکلنی ہے۔ پر نہیں جی، اپنے دماغ پر ہی کچھ بھروسہ کم ہے۔ نکل پڑیں میڈم، اب بھگتو۔“

پھرخود سے جرح کرتی ہوئی بولی،” ہاں ٹھیک ہے بھگت رہی ہوں نہ پچھلے ایک گھنٹے سے۔ بس چینو کی فکر ستائے جارہی ہے۔ پتہ نہیں کچھ کھایابھی ہوگا اس نے یا نہیں۔ اس کے کھانے سے زیادہ ڈر تو اس کے پاپا کا ہے۔ بس ابھی فون آتاہی ہوگا، ابھی چیخیں گے کہ اپنے آپ کو زیادہ ہوشیار سمجھتی ہو، مجھ سے پوچھ تو سکتی تھیں، جانے سے پہلے۔

کیوں؟ کیا پوچھنا تھا ان سے۔ دس دن ہو گئے کہتے کہتے کہ چینو کی فیس جمع کروانی ہے، اس کا بیگ بھی خراب ہو رہا ہے، ہاتھ کی سلائی بھی بھلا کبھی رکتی ہے بیگ پر ۔۔۔لیکن نہیں جناب، انہیں کوئی مطلب نہیں ان چیزوں سے۔ ایک نوکری تک تووہ خود کےلئے ڈھونڈنہیں سکتے۔ ان کی بلا سے بھوکے مرو ۔۔۔“ ریوا بڑبڑاتی جا رہی تھی کہ اچانک کسی کا ہاتھ اس کی پیٹھ پر زور سے پڑا ۔

”ہائے ریوا”، جینس اور کرتے میں اس کی ہم عمر،لیکن ذرا کھلنڈری سی نظر آنے والی لڑکی نے ہنسی کو ہوا میں بکھےرتے ہوئے کہا۔

”ارے جیتو تو یہاںکیا کر رہی ہے۔“

”میرا کون سا خصم بیٹھا ہے گھر میں راہ دیکھنے کو۔ دیدی کا فون آیا تھا، ذرا کام تھا اُسے، بس اسی بہانے کی ڈور پکڑ کر آوارہ گردی کر رہی ہوں اور توُ؟“ ارد گرد موجودبھیڑ پر نظریں دوڑاتے ہوئے اس نے کہا۔

”ارے چینو کے لئے کچھ خریدنا تھا۔ دیر ہو گئی۔ کتنا گھومتے گھامتے یہاں تک پہنچی ہوں۔ جوہری بازار میں گاڑیوں کی نقل و حرکت بند کر دی گئی ہے۔چَوپڑ سے کشن پول ہوتے ہوئے آئی ہوں، بیوقوفی کی کہ اجمیری گیٹ سے نہیں مڑی۔ سوچا راستہ کھلا ہے، تو آگے بھی کھلا ملے گا۔ یہ تو سوچا ہی نہیں کہ گنپتی سواری تو گنیش مندر سے سانگانےری گیٹ کی جانب ہوتے ہوئے ہی نکلتی ہے۔“

”ارے تو اب پریشان نہ ہو۔ کتنے سالوں بعد ایسے نظارے دیکھنے کو مل رہے ہیں۔“ کندھے سے ذرا نیچے ادھر ادھر بکھرے اپنے گھنگھریالے بالوں میں انگلیاں پھنساتے ہوئے اس نے کہا۔

”ہاں وہ تو ہے، بچپن میں دیکھی تھی ایک بار۔ اس کے بعد سے توبہ کر لی۔“ پھر سے اس حادثے کا ری ٹیک نہ ہو ، اس لئے بالکل درمیان میں اسکوٹر کھڑا کر دیا۔ ٹریفک سپاہی کےلئے بنی چوکی کے پاس۔”زیادہ ہوا تو وہیں جاکر کھڑی ہو جاﺅںگی۔“ریوا کی نظریں چوکی پر گئیں۔

چوکی مکمل طور پر بچوں کے حوالے تھی۔ انکی ننھی ہتھےلیاں جام ہوئے راستے میں بھی راہ دکھا رہی تھیں۔ ننھے ہاتھوں نے جدھر اشارہ کیا، ریوا کے خیال بھی ادھر مڑ گئے اور چینو سے جا ملے۔ فکر کی لکیریں چہرے پر بکھر گئیں۔ اس نے نظریں وہاں سے ہٹا کرجیتو پر ٹکا دیں۔

”ہاں، بھیڑ سے مجھے بھی گھبراہٹ ہوتی ہے، دیر تو مجھے بھی ہو رہی ہے۔لینڈلارڈ تالا لگا دیں گے۔“ جیتو پر تشویش کے جراثیموں نے دھاوا بول دیا۔

”ارے میں چھوڑ دوں گی نا، تیرا گھر تو ویسے بھی راستے میں ہے۔“دوسری جانب سے ریوا کے تسلی میں لپٹے لفظ آئے۔

”ٹھیک ،پر پہلے یہ بتا کہ تجھے کیا ہوا ہے؟ آفس میں بھی پریشان دکھائی دے رہی تھی۔ سوچ رہی تھی کہ بات کروں، لیکن آج کام بہت زیادہ تھا، بتانا کیا ہوا؟“ جیتو نے پوچھا۔

”کیا کہوں؟ کچھ نیا تو نہیں ہے۔ سارا دن گھر میں رہ کر بھی وہ چینو سے لاپرواہ ہی رہتے ہیں۔ بھابھی کے بھروسے چھوڑ کر آتی ہوں اسے، لیکن کب تک۔ مجھے بھابھی کو کچھ کہنا بھی اچھا نہیں لگتا۔ انہیں لگتا ہوگا کہ ان کے لئے کچھ کرنے کی بجائے، ہم نے اپنی ذمہ داری بھی انہیں سونپ دی۔“

”وہ تو گھر میں ہی رہتی ہیں نا۔ اپنے بیٹے کے ساتھ تیری بیٹی کو رکھ لینے میں حرج بھی کیا ہے۔ اور پھر دو چار گھنٹے کی تو بات ہے۔ اسکول سے آنے میں ہی اسے تین بج جاتے ہوں گے۔“

”ہمم ۔۔۔ وہ تو ٹھیک ہے، لیکن گھر سے جلدی نکلتی ہوں تو گھر کے سارے کام بھی نہیں کر پاتی ہوں۔ پاپا جب دیکھو، تب سنا دیتے ہیں۔ سب کے سامنے کہہ دیتے ہیں کہ بڑی بہو ہے، تبھی چھوٹی نوکری کر پا رہی ہے۔ نہیں تو اس کے بس کا کچھ نہیں۔ بہت برا لگتا ہے۔اپنے اُن سے کہتی ہوں کہ تھوڑا سا کام پیچھے سے سنبھال لیں ،لیکن وہ سنتے ہی نہیں۔ نہ ان سے باہر کاکام ہوتا، نہ گھرکا۔ چینو کی فیس بھی دو ماہ سے نہیں دی۔ اس کا بھی انتظام کرنا تھا مجھے، لیکن ہوا نہیں۔ پاپا سے بھی نہیں مانگ سکتی۔ بڑے بیٹے کے جانے کے بعد سے بڑی بہو اور پوتے کی ذمہ داری انہوں نے سنبھال لی ہے۔ وہی دیتے ہیں اس کی فیس۔ بھابھی زیادہ پڑھی لکھی نہیں ہے، اس لئے جاب بھی نہیں کر سکتی۔۔۔“

”ارے دیکھو ریوا ۔۔۔ کیسے یہ لوگ منہ سے آگ کی لپٹیں نکال رہے ہیں۔“ جیتو نے اداس باتوں کا سلسلہ منقطع کیا۔ ریوا بھی اسکی کوششوں میں ساتھ دیتے ہوئے بولی۔”ہاں یار۔ یہ منہ سے نکال رہے ہیں اس آگ کو، جو حلق کے نیچے نہیں اتری ہے، یہاں میرے جسم میں بسی آگ کو کون نکالے گا۔“

ٹھیک چوراہے پر کھڑی ریوا اور جیتو ،گنیش جی اور دیگر دیوی دیوتاو ¿ں کی پرتماﺅں کی شوبھایاترا کے ساتھ ہی ،لوک فنکاروں کے کرتب بھی دیکھ رہی تھیں۔ ساتھ ہی سوچ رہی تھیں کہ کیسے وہ ابھی تک کسی کی دھکم پیل کا شکار نہیں بنی ہیں۔

”ارے ریوا کیا ٹائم ہوا؟“

”ٹائم تو بڑا برا ہے۔“ ریوا نے کہا ہی تھا کہ موبائل کی گھنٹی بجی۔

”ہاں، ہیلو ۔۔۔ ہیلو ۔۔۔ ہاں زور سے بولو، آواز سنائی نہیں دے رہی۔“

”کتنی دیر لگے گی ۔۔۔ ”فون سے آوازآئی۔

”بس ابھی، راستہ بند ہے، یاترانکل رہی ہے۔“

”تو، کوئی ضروری تھا تمہارا آج ہی شاپنگ کرنا دیوی جی۔“

”آ رہی ہوں، کہا نا۔“

”ٹھیک ہے، اچھی بات ہے۔ تم اب کماتی ہو۔ تمہیں کسی سے پوچھنے کی ضرورت بھی کیا ہے۔ جب دل کرے، تب آ جانا۔ میں جا رہا ہوں۔ رات دیر سے آو ¿ں گا۔ تمہاری طرح نہیں ہوں، جو نہیں بتاو ¿ں۔ تمہاری تو ناک آج کل زیادہ اونچی ہو گئی ہے، رکھو اپنی ناک سنبھال کر۔“

 لفظوں کو ادھوراسا چھوڑتا فون، ریوا کے چہرے پر بھی ادھوراپن چھوڑ جاتا ہے۔ بہت بھاﺅ آئے اور گئے اس کے چہرے سے۔ جیتو سمجھ گئی۔ دوست جو ہے اس کی۔

”پتی دیو؟“

”چل چھوڑنہ، ان کی پرواہ نہیں مجھے۔ لیکن چینو پریشان ہو رہی ہو گی۔بول کیا کریں؟“

”ہمم ۔۔۔ چل، گاڑی کو گھسیٹ کر لے جاتے ہیں، دیکھتے ہیں شاید پیدل گھسیٹ کر لے جانے کی اجازت دے دے۔ ذرا گزارش کر ہی لیتے ہیں۔“

جیتو کی تجویز پر ریوا کی خاموش مہر لگتی ہے اور اسکوٹر ان کی بات مانتا ہوا گھسٹتا ہے آہستہ آہستہ۔

”۔۔۔ ارے ۔۔۔ ارے میڈم، آگے نہیں لے جا سکتیں آپ۔“ ٹریفک کاسپاہی اپنے ہونے کا ثبوت دیتا ہے اورا سکوٹر کی ہےڈلائٹ پر ہاتھ رکھتے ہوئے پیچھے کی طرف لوٹنے کا اشارہ کرتا ہے۔

”پلیز بھیا جی، دیکھئے نہ دیر ہو رہی ہے، چھوٹی بچی راہ دیکھ رہی ہے۔“

”تو میں بھی تو راہ دکھا رہا ہوں نہ آپکو۔ آپ ایسا کرو جی، سائیڈ والی گلیوں میں سے ہوتے ہوئے نکل جاو ¿۔ دیکھئے اور لوگ بھی جا رہے ہیں۔ بس، بس وہیں سے، راستہ آگے جاکرمین روڈ میں مل جائے گا۔“ اس نے ہاتھوں سے اشارہ کرتے ہوئے سمجھایا۔ اپنی عادت سے الٹ کچھ مٹھاس اس کے لفظوںمیں تھی، لہذا بات فوری طور پر مان لی گئی۔

ریوا گاڑی کو آگے گھسیٹ رہی ہے، ڈر پیچھے گھسیٹ رہا ہے،”نہیں، ریوا نہیں۔ آگے نہ جانا۔ تُو کبھی اس راستے پر نہیں گئی ہے۔تُو جانتی نہیں ریوا، مسلم علاقہ ہے۔ رات کے گیارہ بجنے کو ہیں۔ ساری عورتیں تو اندر ہوں گی۔ وہ جو رحم کر سکتی ہیں، مدد کر سکتی ہیں، جو مسلم ہونے سے پہلے عورتیں ہیں، تجھے ان میں سے ایک بھی نظر نہیں آئے گی۔“

سچ۔۔۔ ایک بھی نظر نہیں آئی تھی مجھے ۔۔۔ زندہ۔ پیچھے چھوٹ چکے وقت کو گرفت میں لیتی ہوں۔ تمام تہوں کے پیچھے گذرتے زمانے کی چیخیں سنائی دینے لگی ہیں۔ نہیں ۔۔۔ نہیں اذانوں اورآرتیوں کی آوازوں میں، میں پھر سے چیخوں کو شامل نہیں ہونے دوں گی۔ میں ریوا کے ارد گرد لپٹ جاتی ہوں۔

”پھنس گئے جیتو۔ اب کیا کریں؟ کتنی تاریکی ہے ان گلیوں میں۔ سمجھ میں ہی نہیں آ رہا کہ کون سی گلی آگے جاکر بند نکلے گی اور کون سی گلی سڑک کی جانب۔“خوف میں بھیگے الفاظ ریوا کے منہ سے چھوٹ پڑے۔

”ارے ڈرو نہیں۔ دیکھو نا آگے دو اسکوٹر والے بھی جا رہے ہیں۔ بس انہی کے پیچھے ہو لو۔“

”کتنی پتلی اور تاریک گلیاں ہیں۔ ہر لمحہ سویا ہواہے یہاں۔ کون سنے گا، اگر چیخنابھی پڑا تو۔“ ریوا نے کہا۔

پیچھے بیٹھی جیتو، ریوا کو تسلی دینے لگی اورہولے سے کندھے کو دبا دیا۔ دبا کیا دیا، اپنا بھی ڈر ظاہر کر دیا۔ جیتو کو یاد آ رہا ہے کہ اس کے بھائی تو دن میں بھی اسے مسلمانوں کی بستی میں نہیں جانے دیتے۔ کیا بھروسہ انکا۔ انہیں تو ہندو بیری نظر آتے ہیں۔ نفرت کی کوئی نہ کوئی وجہ مل ہی جاتی ہے دونوں دھرموں کے لوگوں کو۔ تو کیا اس نفرت کا خمیازہ بھگتنے کی باری آج ہماری ہے۔ نہیں نہیں، یہ باتیں پرانی ہو چلی ہیں، ہمارے شہر نے ہر پرانی بات پر مٹی ڈال دی ہے۔ خود کو تسلی دیتی جیتو کی نظریں گلی کے تراہے پر اٹکیں۔ پتلی سی گلی یہاں اور پتلی ہوکر دو حصوں میں تقسیم ہو رہی تھی۔ کچھ وائے کی شکل میں تھی گلی، جہاں سے دو حصے ہو رہی تھی، وہیں ایک بوسیدہ مکان کھڑا تھا اور اس کے آگے اسی مکان سے ملتا جلتا ایک شخص۔

”ریوا دیکھو ان سے پوچھو نہ ،یہ بوڑھے بابا کھڑے ہیں، بھلے ہی نظر آ رہے ہیں۔“ جیتو نے دل کی کہہ ڈالی۔

”نہیں، پاگل ہے تُو، ہم کسی سے نہیں پوچھیں گے۔ اسکوٹر کے پیچھے چلتے ہیں نا۔ بیوی بچوں کے ساتھ ہے وہ۔ اس کے ساتھ ساتھ چلنا زیادہ محفوظ ہے۔“

یہ کیاا سکوٹر نے تو لیفٹ ٹرن لے لیا، ریوا کی نظر تاریک گلی میں دوڑتے اسکوٹر کو پکڑنا چاہتی تھی، لیکن پکڑنہ سکی۔ نظریں پیچھے کی راہ پر پلٹنے کے لئے گردن کے ساتھ گھوم گئیں اورا سکوٹر خود بہ خود رک گیا۔ پیچھے ہلچل تھی تو بس اندھیرے کی۔ ہارن کی آواز جو اکثر کوفت پیدا کرتی ہے، ریوا کو آج اسی کی تلاش تھی۔ بیتاب آنکھیں پھر پلٹیں اور بوڑھے آدمی سے جا ٹکرائیں۔ ٹھیک اسکوٹر کے سامنے بوسیدہ دیوار کی طرح کھڑا تھا وہ۔ کیا توڑ دوں اس دیوار کو،ا سکوٹر چڑھا دوں۔۔۔۔اتنی بھی بوسیدہ عمارت نہیں، جو منہدم ہو جائےگی ۔۔۔ ریوا کے خیال فرار کی فراق میں تھے۔ پسینہ بھی سوکھنے لگا تھا۔ ریوا کچھ کہنا چاہ رہی تھی، لیکن زبان نے ساتھ نہ دیا۔ اس کے ہونٹ کپکپائے ….

”ہاں بیٹا، ادھر اس گلی سے پھر وہاں مڑ جانا، سڑک آ جائیںگی۔“ بوڑھے نے بہت تسلی بھرے لہجے اور اپنائیت سے کہا۔

ریوا کو کہاں تسلی تھی۔ اس نے فوری طور پرا سکوٹر آگے بڑھا لیا، لیکن ہڑبڑاہٹ میں مناسب طریقے سے سمجھا نہیں۔ کوسا خودکو۔ کتنے بھلے تھے نابابا۔ پہلے بھی تو دو لوگوں کو راستہ بتایا تھا اور ہمیں تو بغیر پوچھے ہی بتایا۔ ناحق ہی اتنا ڈر رہے تھے۔ ریوا نے کچھ سکون کی سانس لی، پھر یاد آیا کہ ارے کون سا موڑ؟

”جیتو بتانا کہاں مڑنے کے لئے کہا تھا۔“

”رائٹ کی طرف۔“

”نہیں، شایدسیدھاچلنے کے لئے کہا تھا۔“

”نہیں، رائٹ کی طرف۔“

تبھی پاس سے ایک موٹر سائیکل گزری، بھےدتی سی نظریں اور چہرے پرٹیڑھی مسکراہٹ کا زیور پہنے۔ وہ کوئی چور تو نہیں تھا، پرچور سے کچھ زیادہ ہی خطرناک لگ رہا تھا۔

”رائٹ میڈم رائٹ۔“ آنکھوں اور گردن سے ایک ساتھ اشارہ کرتے ہوئے اس نے ایسے کہا کہ سوچ نہ جانے ریوا کو کون سے خوفناک انجام تک لے گئی۔

”تم سے پوچھا میں نے۔“ ریوا چلائی اور گاڑی سیدھی آگے بڑھا دی، دائیں جانب کی اگلی گلی سے بھی آگے بڑھنے کو ہوئی، تو سامنے دیکھا کہ راستہ کچھ بند سا لگ رہا ہے۔ ریوا کی سانس پھولنے لگی،ا سکوٹر تو بند ہی ہوگیا۔ نہ جانے کیساا سکوٹر ہے۔”جب بھی اسپیڈ کم کرو تو بند ہو جاتا ہے ۔۔۔“ریوا بڑبڑاتی جا رہی تھی، کوس رہی تھی ا سکوٹر کو، جیسے کوئی بری سی گالی سن کر اس کا انجن جاگ اٹھے گا اور وہ اسٹارٹ ہو جائے گا۔ا سٹارٹ ہواا سکوٹر، لیکن تیسری کک سے ۔۔۔

” شکر ہے اسٹارٹ ہو۔“ ریوا نے تسلی کی سانس لی۔

جیتو بولی۔”چل اب واپس بیک لے ا سکوٹر کو، کہا تھا نہ سنتی ہی نہیں میری۔“

ریوا نے گاڑی بیک کی۔ ادھر ادھر دیکھتے ہوئے نظریں پھر انہی نظروں پر ٹھہر گئی۔ا سکوٹر بھی ٹھہر گیا۔ اسی تراہے کے ٹھیک بیچ کھڑا تھا وہ، جہاں سے ریوا کو ٹرن لینا تھا۔ سڑک پر اسٹریٹ لائٹ کی روشنی میں اس کا چہرہ دیکھ پا رہی تھی ریوا۔ ریوا کو وہ خود سے کم عمر لگا، لیکن عمر سے کیا مطلب۔ مضبوط قد کاٹھی تھی اسکی۔ سیاہ رنگ کے لباس میں سمایا اس کا رنگ بھی گہرا ہی تھا۔ شرٹ کے اوپر کے دو بٹن کھلے تھے، لمبی سی چین اس کی گردن میں جھول رہی تھی۔ اس کے بال ذرا بھی نہیں ہل رہے تھے، بالوں میں انگلیاں پھرا کر وہ زبردستی انہیں ہلانے کی کوشش کر رہا تھا۔ ہنسی اس کے چہرے پر مست مولا سی بکھری تھی۔ وہ گھورتا رہا ریوا کو اور ہنستارہا، ریوا ٹھہری رہی اور ڈرتی رہی۔ اس بار اس نے منہ سے کچھ نہیں بولا، ریوا کے منہ سے بھی کوئی بول نہیں پھوٹا۔اندھیرے کے منہ سے بھی نہیں۔

ریوا زور سے ہا نپنے لگی، دوبارہ بیٹھی جیتو بھی۔ موٹر سائیکل والا لڑکا پہلے کی طرح ٹیڑھی مسکراہٹ بکھیر رہا ہے۔ کہہ کچھ نہیں رہا۔ بس ہاتھ سے اشارہ کیا۔ مگر یہ کیا؟ اشارہ تو کوئی نامناسب نہیں تھا۔ اس نے پھر رائٹ کی گلی کی جانب ہاتھ سے اشارہ کیا۔ ریوا نے فورا رائٹ کی جانب ٹرن کیا۔ ایک بار لڑکے کو پیچھے مڑ کر دیکھا، کہیں وہ پیچھے تو نہیں آ رہا۔ نہیں، وہ ابھی وہیں کھڑا ہے۔ گاڑی آگے بڑھ رہی ہے، خوف پیچھے چھوٹ رہا ہے اور سچ میں چھوٹ ہی گیا پیچھے، وہ لڑکا بھی۔

ایک طویل گہری سانس لی دونوں نے۔ ریوا، جیتو اورا سکوٹر تینوں اب مین روڈ پر تھے۔ پیچھے مڑ کر دیکھا تو گنیش جی کے لوازمات نظروں سے دور ہو رہے تھے۔ جیتو اور ریوا زور سے ہنسیں، بہت زور سے۔

میں بھی زور سے ہنسی۔ ہنسی چادرکی طرح بچھ گئی ڈر کی تہوں پر۔ مضبوطی سے لپیٹ لیاچادر کو کہ کہیں ڈر پھر منہ باہر نہ نکالے۔ وہ چلیں آگے آگے اور میں ان کے آگے پیچھے، لپٹتی سی، خوف کو ذرا سا چھٹکتی سی۔ لوازمات پیچھے چھوٹ رہے تھے۔ روشنی بھی پہلی جیسی نہیں رہی تھی۔ ریوا نے جلدی سے جیتو کو ڈراپ کیا۔ ریوا کی گاڑی اب تیز دوڑنے لگی، مجھ سے بھی تیز دوڑ سکتی ہو! میں سوچ رہی ہوں، وہ بھی کچھ سوچ رہی ہے، اپنے اپنے وقت کے زخم کچھ مختلف اور الگ الگ پیکیجنگ میں تیار ملتے ہیں۔ اندھیرے کو چیرتا ہواا سکوٹر اور بہانوں کو بُنتی ریوا اپنے مقام پر پہنچی، دروازہ ریوا کے انتظار میں کھلا ہی تھا اور بھی کچھ تھا اسکے انتظار میں۔ ایک تیکھی بو۔

”آگئیں آپ، بڑی جلدی آئیں۔“، ریوا کے شوہر کی آواز تھی۔

”میں نے بتایا توتھا تمہیں، اب کیا دس بار کہوں۔“

” زبان مت چلاو ¿ مجھ سے، کچھ زیادہ ہی ہواﺅں میں اڑنے لگی ہو آج کل، میں کم پڑتا ہوں نہ تم کو۔“

”اتنا ہے تو تم کماو ¿ نا، کیوں بھیجتے ہو مجھے باہر۔“

”چھوٹ دی تو یہ گل کھلاﺅگی۔“

”ذرا شرم ہے، گھر میں سب سن رہے ہیں۔“

”مجھے کہاں شرم۔ شرم تو تمہیں ہے جو چھنالوںکی طرح رات کو گھومتی ہو۔“

”اور تم ۔۔۔ تم بھی تو جانے والے تھے۔“

”اوہ ۔۔تو اس لئے آپ دیر سے آئیں کہ میں تو جا رہا ہی ہوں، مجھے کیا پتہ چلے گا۔ میں اتنا پاگل نہیں ہوں، جتنا تم سمجھتی ہو۔“

”بس کرو۔“

”ہاں، میری کیا اوقات کہ کچھ کہوں۔“ وہ غصے میں دروازہ بند کرتے ہوئے باہر نکل جاتا ہے۔

ریوا پیچھے پیچھے جاتی ہے۔”رات کو بارہ بجے کون سی کھیتی کرنے جا رہے ہو؟“

”مجھے تمہاری اجازت کی ضرورت نہیں ہے سمجھیں، تمہاری وجہ سے میں ویسے ہی لیٹ ہو چکاہوں۔“

”سارا دن گھر میں پڑے رہتے ہو، مجھے اپنا تاو ¿ نہ دکھاﺅ۔“

”ریوا، بس چپ کرو، جانے دو، بچے جاگ جائیں گے، پاپا بھی سن رہے ہیں، اندر آﺅ۔“، بھابھی ہاتھ پکڑتی ہوئی اندر گھسیٹتی ہے۔ اور دروازے پر چٹخنی چڑھاتی ہے اور ریوا آنکھوں سے آنسوو ¿ں کو نیچے گراتی رہتی ہے۔

روتی جاتی ہے ریوا اور بولتی جاتی ہے۔”چینو کی فیس کا انتظام کرنے گئی تھی بھابھی، خود کوئی کام نہیں کرتے اور مجھ پر رعب جماتے ہیں۔“

”میں سمجھتی ہوں۔ مت دو اسے صفائی۔ اچھا بتاﺅ ہوا انتظام۔“

”نہیں بھابھی، پورا نہیں۔ مِینل کے گھر گئی تھی، اس نے دو ہزار دیئے ہیں۔ چینو کابیگ لے آئی، اب اس میں فیس تو جمع ہوتی نہیں اس لئے۔“

”کتنے چاہئےں؟“

”تین ہزار اور چاہئےں۔“

”کرتی ہوں کچھ انتظام۔“

”نہیں بھابھی، آپ کہاں سے لائیں گی۔ آپ پریشان نہ ہو۔ راستے میں جیتو بھی ملی تھی، اس نے کہا کہ وہ کچھ انتظام کر دے گی۔ کس کام کا ایسا باپ، اپنی بچی کو پڑھا بھی نہیں سکتا۔“

”ایسا مت کہہ ریوا، ایک چھایا تو ہے۔“

”نہیں ضرورت ایسی چھایاکی۔۔۔ زہر چھوڑتی ہوں جس کی پتیاں، اس درخت کی چھایا سے کیا مطلب بھابھی۔“

”ایسا مت بول ریوا، تو نہیں سمجھے گی، شوہر کا نہ ہونا کیا ہوتا ہے۔ چل غصہ چھوڑ، پہلے کھانا کھا لے، چینو نے کھا لیا ہے، سو گئی ہے۔ کپڑے بدل کر باورچی خانے میں آ جا۔“

آنسو پونچھتی ہوئی۔”میں لے لوں گی بھابھی آپ سوجاﺅ۔“

ریوا اپنے کمرے میں جاتی ہے۔ چینو کو چومتی ہے اور کپڑے بدلتی ہے۔ بھوک کے درد کو پیچھے دھکیلتی ہے، پھر باورچی خانے میں پہنچتی ہے اس بات سے بے خبر کہ کوئی سایہ ہے پیچھے۔ ریوا روٹی اور سبزی تھالی میں رکھ رہی ہے اور اس کی بھوک بھڑک رہی ہے۔ بھوک کسی اور کی بھی بھڑک رہی ہے۔ ریوا جلدی جلدی ایک کٹوری میں دہی نکالتی ہے اور کٹوری تھالی میں رکھتی ہے کہ ایک ہاتھ گردن کے پیچھے سے سانپ کی طرح بڑھتا ہوا آتا ہے۔ اورریوا کی روح میں زہر چڑھا دیتا ہے۔ چونکتی ہے وہ، پیچھے دیکھتی ہے۔

”پاپا!“ ہونٹ کپکپاتے ہیں، آواز دفن ہو جاتی ہے۔

”دیکھ تو پیسے کے لئے اتنی پریشان نہ ہو، میں تو بس فیس کے پیسے دے رہا تھا۔ وہ تو نالائق ہے۔ توُ تو سمجھدار ہے نا۔ رونا بند کر اب، کھانا کھا لے۔“

ریوا کی آنکھوں سے ندی بہہ نکلتی ہے اور ساری امیدیںاس میں بہہ جاتی ہیں۔ ریوا زور سے ان کو دھکا دیتی ہے۔ دروازے کے ٹھیک باہر رکھے اسٹول سے وہ ٹکراکر نیچے گرتے ہیں۔ کمزور ہو چکا بدن ان سے سنبھلتا نہیں ہے۔

گرنے کی آوازسن کر بھابھی دوڑی چلی آئی۔

”کیا ہوا۔“ وہ پوچھتی ہیں۔

”کچھ نہیں، میں اندھیرے کی وجہ سے گر گیا۔“ جھینپ مٹاتے ہوئے پاپا کہتے ہیں۔

ریوا کی آنکھیں کچھ اور نظارہ بیان کرتی ہیں۔ پاپا اپنے کمرے میں چلے جاتے ہیں۔

”ریوا کیا ہوا؟“ بھابھی سہمی نظروں سے اسے دیکھتی ہے۔

بھابھی ۔۔۔ پاپا نے ۔۔۔۔“ساری باتیں ایک ہی سانس میں کہہ جاتی ہے، جو لفظ ٹوٹتے ہیں انہیں ریوا کے آنسو پورا کر دیتے ہیں۔

”ریوا! خاموش۔“

”بھابھی !“چہرے کی لکیریں سوال پوچھتی ہیں۔

”ہاں، ریوا خاموش، آس پاس والے سن لیں گے اور بھول کر بھی یہ بات اپنے اُس نامراد شوہر سے مت بتانا۔ اگر وہ ہی کسی قابل ہوتا تو اس کے باپ کی اتنی ہمت ہوتی؟“

”اور اگر وہ نہ ہو تو؟ شوہر نہ ہو تو ،کیا نوچ کھائیں گے؟“

”ہاں ریوا، نوچ کھائیں گے۔“

ریوا ایک ٹک بھابھی کی طرف دیکھتی رہتی ہے۔

ان کی آنکھوں میں آنسو نہیں ہیں، صرف ایک کھائی ہی نظر آتی ہے، جس میں دفن ہیں ساری چیخ۔

ریوا کو سنائی دینے لگتی ہیں وہ ساری خاموش چیخیں۔ تھکی ہوئی، ہاری ہوئی چیخیں۔ اس کے کانوں سے ہوتی ہوئی چیخیں دل تک اترتی ہیں۔ ریوا کی سانس ان سے الجھ کر اٹکنے لگی ہے۔

اس سانسوں میں گھلی میں بھی اٹک جاتی ہوں وہاں۔ آہستہ آہستہ نکلتی ہوں اور اس وقت کی تمام چیخیں انہی آنکھوں میں دفنا دیتی ہوں، جن میں کھائی گہری ہوتی جا رہی ہے۔ ان حادثوں کو یہی دفن کرتی ہوئی ،مےں نکل جاتی ہوں۔ ان خاموش چیخوں کا بوجھ مجھ سے برداشت نہیں ہوتا۔ ۔۔۔ بالکل نہیں ہوتا۔

٭٭٭

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

کرائم فائٹر۔۔۔ سید بدر سعید

غیرت کرائم رپورٹنگ بظاہر ایک دھانسودار بیٹ معلوم ہوتی ہے۔ عام خیال بھی یہی ہے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے