سر ورق / شاعری / طویل نظم۔۔ تراش۔۔ اختر عثمان۔۔۔ انتخاب شین زاد

طویل نظم۔۔ تراش۔۔ اختر عثمان۔۔۔ انتخاب شین زاد

اختر عثمان کی طویل نظم: ”تراش”

تراش

سنجوگتا کے لئے

O

سکوت___فردا و دی کے سُونے سمے میں بھولی لَویں بیانات بُن رہی ہیں

میں اپنی سنجوگتا کے ہمراہ ساعتِ صفر میں سب الفاظ سن رہا ہوں

وہ دونوں پرچھائیاں جو چنگاریاں اڑاتی ہیں آپ ہی اُن میں بھُن رہی ہیں

میں اُس کے پہلو سے اپنا بازو ہٹا کے سارا مکالمہ دل میں چن رہا ہوں

نجانے وہ کون سی سمسّیائیں ہیں جو اک ساتھ پاپ ، پُن ، گُن ، اگُن رہی ہیں!۔

میں اُس کے شانے پہ سر ٹِکائے تمام تمثیل میں تہی از سخن رہا ہوں

وہ کہہ رہی ہے کہ ساری بپتائیں ، ساری آشائیں لُطمہء لفظِ ’کُن‘ رہی ہیں

میں اس جہت ور مکالمے اور تبصرے پر سر ایک مستی میں دُھن رہا ہوں

____________________________________

۱

یہ کوہ گنگ اور ازل سے کرَ ہیں

کوئی صدا ہو ، کوئی سخن ہو یہ بات اٹھاتے ہیں اور پھر منہ پہ مارتے ہیں

مجھے کہاں لے کے آ گئی ہو؟

میں بولتا ہوں تو میری آواز تم سے ٹکرا کے میری جانب ہی لوٹتی ہے

یہ چیل کے بے زباں شجرجو ہوا کی سیٹی پہ جھومتے ہیں

اور اِن کی شاخوں کے سبز فانوس جن کو مانگی ہوئی دُھنوں پر تھرکتے رہنے کی لت پڑی ہے

تمھارا بُت اِن مہیب پیڑوں کی گنگ دیوی

میں اس لگن میں یہاں تک آیا کہ بولنے کا ہنر سکھاﺅں

مجھ ایسا آموزگار ِ گویائی تم کو صدیوں نہیں ملے گا

میں آپ گوئیدن و شنیدن کے دکھ سے گزرا ہوں

جانتا ہوں کہ تیشہ زن لاکھ سہج چھیلے رگوں کے لاوے کی یورش ِ بے پناہ و بے حد سے ناشناسا ہے

سنگِ وحشت صفت کا خوگر ہے ، جبر زادہ

تمھیں بنانے میں خود کو چھیلا

اور ایسا چھیلا کہ ایک نس بھی تراش و جرّاحی ِ بدن میں کٹی نہیں ہے

میں آئنہ دیکھ دیکھ کر تم کو چھیلتا تھا

نسائی پیکر میں کون ہے

کوئی تو بتائے!۔

____________________________________

۲

میں اپنے کوہِ گراں میں خوش تھی

رُتوں کی سختی میں ، اُن کی سنگینیوں میں خوش تھی

یہ مِہر و مَہ ، دھوپ ، چھاﺅں ، لُو اور ہواﺅں کے گرم نرم جھونکے شروع سے میرے آشنا ہیں

سِلوں کے سنگیں غلاف میں تہ بہ تہ چھپی میں طیور و وحشی و دشت و در اور آسماں کو

کبھی کبھی جھانکتی تو یکدم سکوتِ سنگ ارتعاش  ِ کرمک سے گونج اٹھتا

وہ کرمکِ ہیچ ، میرا جایا ، وہ سنگ زادہ غلافِ بے درز میں سہولت سے سانس لیتا

وہ کرمکِ خُفتہ خواب میری رگوں سے سانسوں کا رزق لیتا

کبھی کبھی آسمان سے شوخ برق گِرتی تو سہم جاتا

کسی درندے کے ناخنوں کی خراش سنتا تو مجھ میں کچھ اور بھی سِمٹتا

میں یوں سمٹتی کہ جیسے بلبل پروں میں نَو زاد کو اماں دے

اِسی طرح کتنے قرن گزرے

زمیں کی انگڑائی نے کئی بار نَو بہ نَو صورتوں میں ڈھالا

کبھی سمندر کی تہ میں پانی کے تُند ریلے کا تیز لُطمہ

کبھی تصادم سے ریزگی کی شدید صورت

مگر مرا گھر

وہ خیمہء سنگ ، ابتلاﺅں میں قرن ہا قرن تک سلامت رہا

میں خوش تھی

____________________________________

۳

زمین پر اِس کی پہلی چاپ اتنی ہیبت آور تھی اُستخواں تک اکھڑ گئے تھے

رُواں رُواں رنگ، ریشہ ریشہ ادھڑ گئے تھے

ابھی یہ اُترا ہی تھا کہ معصوم فاختہ کے سلگتے سینے پہ ایک پتھر اٹھا کے مارا

لہو لہو فاختہ گری تو اسے یکایک اُدھیڑ ڈالا

وہ کچکچاتے کریہہ دانت اور بخیہ بخیہ سفیر  ِ اُلفت

کچر کچر کی صداے وحشت

یہ کہہ رہا ہے کہ کوہ گنگ اور ازل سے کرَ ہیں

صدا کی گردن دبانے والا

زمین کا امن کھانے والا

یہ میرے جائے کے سر پہ تیشہ چلانے والا

یہ میرا خیمہ گرانے والا

کسی کا چربہ اتار کر میرا نقش  ِ ناقص اٹھانے والا

زبان کو قطع کر کے گویائی کا سلیقہ سکھانے والا

یہ کہہ رہا ہے کہ یہ شنیدن کے دکھ سے واقف ہے اور آموزگار  ِ بے عیب و بے عدو ہے

میں اِس کا پیکر ہوں اور نسائی!۔

دروغ کی منزلت بھی تہذیب کی عطا ہے؟

____________________________________

۴

میں دہر کے بے کنار و سنگین سلسلے کی مہیب صورت کا اوّلیں دم سے آشنا ہوں

زمین پر جیسے خنجروں کی سیاہ دھاروں کے یہ طمانچے مرے لئے ہی کَسے ہوئے ہیں

جہاں تہاں اِن کی تیز نوکیں طیور و وحشی کے خون سے سرخ ہو کے وحشت اُگا رہی ہیں

یہ آسماں زاد ، یوں تکبّر سے سر اٹھائے ہوے کھڑے ہیں کہ جیسے اہرام کے خدا ہوں

دراصل یہ سب فراعنہ کی پرستش  ِ خاص کو جھکے وہ طلسم گر ہیں جو بُت بنے تھے

یہ اپنے کاذب خدا پہ قربان ہونے والے شکست خوردہ ، دروغ گو ، بے حیا مورّخ

یہ جانتے ہیں کہ اِن پہ طاری طلسم ٹوٹا تو چیونٹیاں اِن کا ریشہ ریشہ ادھیڑ دیں گی

یہ خوف و وحشت میں دم بخود ہیں ، بخود خزیدہ ہیں ، جانتے ہیں کہ اژدر  ِ وقت راہ میں ہے

یہ ایسے اہرام جن کے آثار ، جن کے ریزے ، کسی بھی تہذیب کی تہوں میں نہیں ملیں گے

بس ایک عبرت کی دائمی دُھن میں اِن کے ہونے کی داستاں کا سراغ  ِ داغ آشکار ہو گا

نحیف و نرم آدمی کے فن کی بساط کیا ہے کہ بے نواﺅں کو وہ نوا کا ہنر سکھائے!۔

یہ کوہ گنگ اور ازل سے کرَ ہیں ، انہیں صدا آنکنے کے فن سے کوئی شغف ، کچھ غرض نہیں ہے

یہ آدمی جو ازل سے ہونے ، نہ ہونے کے درمیان لٹکا ہوا ہے اور پھر بھی حلقہ زن ہے

بھلا کوئی کاوش و تجسّس کے سیل  ِ بے انتہا کو کیسے مصالحت کی لگام ڈالے!۔

زمیں پہ ہونے کی سرخوشی میں ہنر کا پہلا اور آخری گام آدمی ، آدمی کا رشتہ

سو یہ تراش و خراش  ِ پیہم وہ آئنہ ہے میں جس میں اپنے وجود کے رنگ دیکھتا ہوں

یہ میرا تیشہ ہزارھا صورتوں میں مجھ کو ہی چھیلتا ، کاٹتا ، بناتا ہے ، توڑتا ہے

تمھیں بنانے میں خود کو چھیلا ، اور ایسا چھیلا کہ ایک نس جس جگہ تھی واں سے ہلی نہیں ہے

____________________________________

۵

زمین آباد ہو رہی تھی

شجر ، ہجر ، دشت و دَر ، پرندوں کے آشیانے ، وحوش کے سب ٹھکانے برباد ہو رہے تھے

اُن آشیانوں میں کچھ نہیں تھا

شجر پہ اُن کی جگہ مچانوں کی بربریّت ہبوطِ آدم کا زرد قصّہ سنا رہی تھی

کمین گاہوں میں خفتہ موذی ، خلیفة الارض کے ستم سے عجیب لرزے میں مبتلا تھے

طیور___منقار زیر  ِ پر ، زمزموں سے خالی اُجاڑ تٹ کو بہ چشم  ِ دُزدیدہ دیکھتے تھے

صبا کو پھولوں کی میزبانی کا کوئی احساس کیسے ہوتا

بھلا چمن ہی کہاں تھے اور جو تھے اُن کی جانب جلال و جوشش کا جیش  ِ صرصر لپک رہا تھا

صنوبر و سروۛ کی کتھائیں

وہ نکہتوں سے بھری ہوائیں نجانے کس اور جا چکی تھیں

متاع  ِ بحر اور گنج  ِ دریا خلیفة الارض کے خزانے میں جا چکے تھے

پہاڑ کی کوکھ بانجھ تھی ، ریزہ ریزہ حسرت کی تیز نوکیں مثالِ دندانِ فیل

آنکھوں میں چبھ رہی تھیں

وہ آنکھیں جو صرف جذب و جوش  ِ جمال کو دیکھنے کی عادی ہیں

خود اُسی کی ہیں جس نے یہ شش جہت بہت چاﺅ سے بچھائی

وہ آفرینش کے دکھ سے واقف ہے ، بربریّت کے داﺅ اور پیچ جانتا ہے

وہ پھر بھی چُپ ہے کہ آدمی زاد کے لہو میں وثیقہء اختیار کی کوئی پھانس اٹکی ہوئی نہ رہ جائے

آدمی کھیل کھیل ہی میں مظاہر  ِ خوش کلام نابود کر رہا ہے

وہ پھر بھی چپ ہے

اور ارض ، قابیل زاد وحشت سے بھر چکی ہے

____________________________________

۶

مرے تلاطم کی داستاں ہے سکوں سے پہلے

مرا فسانہ ہے خیمہء نیلگوں سے پہلے

مجھے تراشا گیا تھا دنیائے دُوں سے پہلے

میں وجہ ِ تخلیق ِ دہر ہوں ، ہر فسوں سے پہلے

یہ شش جہت کیا تھی جوہر ِ خوش فزوں سے پہلے

یہاں پہ کچھ بھی نہیں تھا میرے جنوں سے پہلے

نہاد کب تھی بھلا دلِ بے ستوں سے پہلے

ہواﺅں کا ماجرا نہ گزرا تھا لوں سے پہلے

خرد زبوں تھی وظیفہء اندروں سے پہلے

ہبوط کا سلسلہ ہے تصنیفِ خوں سے پہلے

میں عین اصل ِ جہاں، ’ کہاں اور کیوں‘ سے پہلے

کلام سے ماورا، زبانِ زبوں سے پہلے

میں بات کرتا رہا ہوں ’یوں اور وُوں‘ سے پہلے

____________________________________

۷

غلام و آقا کے خط میں تقسیم ہو کے الجھے ہوئے کھلونے

جو خیر و شر کے سیاہ و روشن کو اوپری دل سے مانتے ہیں

یہ آپ اپنی قبیل کے جبر ساز حیلوں سے پسنے والے

نجات خواہانِ بد شعار ، ایک ایک لقمہ اتار کر مقعدیں سر  ِ خاک گھسنے والے

یہ ایسے تاریخ زاد ہیں جو نظام ِ تفریق میں سر ِ فرش چیختے ہیں

نظام ِ تفریق____جو انہی کا سیہ کرشمہ ہے

چند بونے، جو آج بھی اِن کو ہانکتے ہیں

یہ سب سر ِ شام گھر کو جاتے ہوئے ہوا کی عظیم دُھن سن سکیں تو اِن پر

متاع  ِ آزادی و حدِ اختیار کے باب کھل سکیں گے

مگر یہ کرَ ہیں

یہ بوق و طوق و دہُل ، جلاجل ، سلاسل و تیغ کی صداﺅں کو

اپنی تاریخ مانتے ہیں

صدائے قرنا کے یہ پجاری

یہ دست بستہ جلاجل ، آقاﺅں کے بھکاری

عظیم تاریخ کے شکم سے یہ قبل از وقت گرنے والے لئیم لوبھی

اِنہیں یہ منصب دیا گیا ہے کہ صرف جائے ضرور کے در پہ ایستادہ رہیں

جب اِن کے فراعنہ پیٹ کے جہنم سے ہلکے ہو جائیں یہ اُنہیں کیسہء منقّش تھمائیں

جس میں دھنک سمان، اَن چھوئے ٹشو ہوں

یہی نہیں، حکم پر اِنہیں مقعدین تک صاف کر کے آقاﺅں کو سر ِ تخت لانا پڑتا ہے

اور بھی لاکھ خدمتیں ہیں

یہ ایسے ناکارہ خلوتی جن کی اصل تک اِن کے خود چُنیدہ قبیل زادوں نے مار دی ہے

یہ اُن کے پس خوردہ ، اور بے پوست استخوانوں پہ پلنے والے

یہ کفش بردار ، اُن کے پاپوش پر جبینوں کو ملنے والے

یہ روح کی دُھن سنیں تو آقاﺅں کے لبوں سے

وہ خندہء طنز نوچ ڈالیں

(جو اِن کے احوال پر فضاﺅں میں گونجتا ہے)

وہ زہر آلود قہقہے بھی جو برتری کی سڑاندھ سے باغ ِ زیست کی باس کھا رہے ہیں

وہ سات سو اور یہ سات ارب ہیں

یہ سات ارب اپنی نارسائی پہ سرد سرد آہیں بھرنے والے

تمام ناکردہ کار ، تقدیر ِ محض کی تہ میں مرنے والے

خدا پہ الزام دھرنے والے

تمام گنگ اور تمام کرَ ہیں

____________________________________

۸

زماں مکاں میں بس ایک آواز ہر سماعت میں گونجتی تھی

۔”تم ایک ہو سب

سیہ، سفید ایک ہیں

کسی کو کسی پہ کچھ برتری نہیں ہے

سوائے تقویٰ، بجز نکو خوئی کوئی بھی برتری نہیں ہے“۔

زماں مکاں آج بھی اگر سن سکیں تو آواز آ رہی ہے

اور اُس کی خیر  ِ ابد کنار آدمی کے دل پر بجائے دَف تھاپ دے رہی ہے

وہ تھاپ جو اک طبیب کا دستِ معجز آثار ڈوبتے دل پہ دے رہا ہے

وہ دائمی دھڑکنوں کا مژدہ ، جہاں عمل اور نیّتیں اِک

صدائے خیرالعمل جسے سن کے بھائی بھائی کی دُھن بقایاب ہو گئی ہے

وظیفہء اُستخوان و پوست ایک ہو گیا ہے

۔”ہم ایک ہیں سب

سیہ، سفید ایک ہیں

کسی کو کسی پہ کچھ برتری نہیں ہے

سوائے تقویٰ، بجز نکوخوئی کوئی بھی برتری نہیں ہے“۔

اگر کوئی گُنگ اور کَر ہے تو موج ہائے صداے تابندہ دیکھ سکتا ہے

بے بصر ہے تو خود سے پوچھے

____________________________________

۹

یہ پنچھیوں کے گُرسنہ غول اور خسیس ، خونیں ، خبیث بندے ، سیاہ دھندے

سوادِ گلشن کے چار جانب لگے ہوئے خاردار پھندے ، مہیب دندے

مرے تئیں تیز تازیانے ، تمام تاریخ کے پلندے غلیظ ، گندے

بہ دامن خاک سوخت گشتم چو بر کفی دانہ ی سپندے ، نیاز مندے

ھر آنکہ مونس شمردم آخر بہ راہ آمد پی گزندے ، ضرر پسندے

گہی زباغی گیاہ خوردم، گہی بہ خاکی تہ سمندے ، ستم کَشندے

بہ پیش گرگان دہر بودم بر آبجوی چو گوسفندے ، اسیر بندے

بہ این ھمہ سر نہادہ بودم پی آن کہ شکر شکن، بہ قندے ، عجب کمندے

بہ باغ ہستی برای گوشان خوش سرودم بہ طور پندے ، کلام چندے

رہت بہ دشت فسانہ سر کن چو آھوی میکند زقندے ، نگہ بلندے

____________________________________

۱۰

سخن طرازی ، غنا نوازی ، نگار سازی ، بدن گدازی ، یہ سنگ کاوی

وہ آئنے ہیں کہ جن میں خلّاق آپ کو آپ دیکھتا ہے

تمام تاریخ آدمی کی عظیم وحشت کا اک ضمیمہ ہے

سب علوم و فنون قرنوں کی کاوشوں سے نمو تک آئے

کوئی مہادیو راج ہو یا کوئی بھی سوراج

آخر  ِ کار کامناﺅں کے کھیل میں سب مہا دھنش دھر کی زد میں آئے

مگر سپُتر اور پُتر اب تک لہو کی آشاﺅں میں امر سنکھ سن رہے ہیں

مظاہر  ِ خوش جمال کے ساتھ آدمی کی یہ وصل یابی یونہی نہیں ہے

یہ چوب و سنگ ایسے تیشہ و خامہ سے ملے ہیں کہ قیس و آزر کا میل تمثیل میں ڈھلا ہے

یہ مانی و اینجلو کی سنگت میں روم و خیّام کے ترانے

انیس و فردوسی اور ہومر کے بوق و قرنا

یہ حافظ و میر کے فسانے متاع  ِ احساس  ِ آدمی ہیں

____________________________________

۱۱

تمام دنیا کے صاف و سادہ سلامتی خواہ چند بونوں میں گھر گئے ہیں

کہاں گئے خیر کے نوا گر!۔

وہ لیلہء بے کنار میں روشنی کے نامہ نگار کس خواب کے بلیدان چڑھ گئے ہیں

ستارہ سازانِ نیم شب ، نیلمیں تحیّر بنانے والے

وہ شب چراغوں کو جی کا روغن پلانے والے

وہ سطر در سطر ، چشم در چشم آس کی فصل اگانے والے

بجھی ہوئی لَو جگانے والے

کہاں گئے ہیں!۔

____________________________________

۱۲

میں آہوئے آہوانِ دشتِ حجاز بھی ہوں

متاع ِ گیتی بھی اور گردُوں کا راز بھی ہوں

میں جبر کُشتہ دلوں کا سوز و گداز بھی ہوں

میں سینہء خاک میں خفی ایک راز بھی ہوں

تہ ِ فلک میں ہی زیستن کا جواز بھی ہوں

میں دَور ِ تیرہ شبی میں اک نجم ساز بھی ہوں

میں زُمرہء کائنات میں سرفراز بھی ہوں

میں آدمیت کے واسطے اعتزاز بھی ہوں

میں ہر زمانے کا مقصد و ارتکاز بھی ہوں

میں تاج و تخت و کلاہ سے بے نیاز بھی ہوں

میں فردِ مولا صفات، بندہ نواز بھی ہوں

____________________________________

۱۳

ابھی جوار ِ خراب آباد میں کوئی باس ہے کہ میں ہوں

وہ کوئی پانینی و حمورابی و ارسطو و ابن ِ سینا و ابن ِ رُشد و برونو و ارشمیدس و مارکس ہو ، سٹائن ہو

آج تک سب یہاں وہاں حسن بانٹتے ہیں

دلوں کو سیراب کرنے والے

ہر آنکھ میں دیپ دھرنے والے

حیات کی دُھن پہ مرنے والے

میں اُن کے لفظوں کی مشعلوں میں نگار ِ فردا کو دیکھتا ہوں

____________________________________

۱۴

تم ایک ہو تو یہ فرد نا فرد کے سلاسل اتار پھینکو

نگار  ِ صبح  ِ عظیم غُرفے کی اوٹ میں کب سے منتظر ہے

وہ نو دمیدہ شعاعیں گھونگھٹ سے جھانکتی ہیں کہ جن کا سونا تمام دھرتی کا آئنہ ہے

یہ آئنہ دیکھ دیکھ کر خال و خد سنوارو

یہ مصحفِ صبح کا وظیفہ ہی گُن کا پہلا اور آخری گام ہے

خیالات ہیں پڑاﺅ

سو چہرہء صبح کا الاﺅ ہی شب زدوں کی قیام گہ ہے

خرام گہ جس کے گرد لَو کے نئے پرانے کتھیک احساس بُن رہے ہیں

جنہیں پرندے ، شجر ، حجر ، دشت و دَر ، وحوش اور زماں ، مکاں مل کے سن رہے ہیں

____________________________________

O

سفینہء صبح مانجھیوں کی شکن زدہ صورتوں سے کب تک خراج لیتا!۔

بحیرہء شب میں اب کوئی تندی و تلاطم نہیں ہے، آب آئنہ ہے

احساس آسماں ہے

وہ روشنی کے سفیر ساحل تک آ چکے ہیں

کنار آبادِ صبح کرنوں سے بھر گیا ہے

یہ اب مرے ساتھ بولتی ہے

یہ آپ گوئیدن و شنیدن کے دکھ سے گزری ہے ، جانتی ہے

مظاہر  ِ خوش جمال کے ساتھ آدمی کی یہ وصل یابی یونہی نہیں ہے

یہ کہہ رہی ہے مجھ ایسا آموزگار  ِ گویائی اس کو صدیوں نہیں ملے گا

یہ کرمکِ ہیچ ، میرا جایا غلافِ بے درز میں سہولت سے سو رہا ہے

کلام ______ فردا و دی کے شیتل سمے میں ہنستی لویں کمالات سن رہی ہیں

میں اپنی سنجوگتا کے ہمراہ ساعتِ سبز میں نئی نظم بُن رہا ہوں

___________________________________________

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

شام میری دلہن بنتی ہے …ریحانہ ستار ہاشمی

            ریحانہ ستار ہاشمی             فیصل آباد سے تعلق ہے              بطور اسسٹنٹ رجسٹرار کے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے