سر ورق / جہان اردو ادب / قرب عباس جعفری ۔ محمد زبیر مظہر پنوار

قرب عباس جعفری ۔ محمد زبیر مظہر پنوار

مہمان۔ قرب عباس جعفری

میزبان ۔ محمد زبیر مظہر پنوار

سوال : آپ کا اصل اور قلمی نام؟

جواب ۔۔ والدین نے نام رانا قربِ عبّاس جعفری رکھا تھا۔

وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ احساس ہوا کہ میرے نام کے سابقے لاحقے تفاخر و عقیدت کی علامت  کے سوا اور کچھ نہیں۔

تفاخر و عقیدت کا معاملہ کچھ  ایسا ہے کہ  جو ذاتیں کمتر جانی جاتی ہیں میں نے ان میں بہت عظیم لوگ دیکھے اور جن ذاتوں کو معتبر سمجھا جاتا ہے ان  کی تاریخ قتال سے بھری پائی ہے۔  عقیدت نے انسان کو نابینا بنایا اور عقل کو مقفل کیا۔۔۔  سو ایسے الفاظ کا بوجھ اٹھا کر چلنا مجھے مناسب نہ لگا اس لیے اپنے تعارف کے لیے صرف قُربِ عبّاس کا انتخاب کیا اور یہی لفظ میری شخصیت سے اپنا معنی تعمیر کریں گے۔

 کوشش ہے کہ لوگ جب اس نام کو پکاریں تو ان کے ماتھے پر بل نہ ہوں، کچھ جگہوں پر تو اس کوشش میں ناکام رہا ہوں کیونکہ ہم ہر کسی کو خوش نہیں رکھ سکتے ۔ اگر سبھی کو خوش کرنے کی کوشش کریں تو میں سمجھتا ہوں کہ ہم اپنے نظریات اصولوں کے ساتھ committed  نہیں رہتے ۔

سوال : اپنے تعلیمی اور خاندانی پس منظر کے متعلق کچھ تو بتائیں ۔

جواب ۔۔ ایک مڈل کلاس خاندان میں پیدا ہوا۔ والد ین جاب کرتے تھے۔ انہوں نے ہمیشہ کوشش کی کہ اپنے بچوں کو بہتر زندگی دے سکیں، ان کا احسان مند ہوں کہ روبوٹ  نما انسان نہیں بنایا۔ جو کرنا چاہا راستے میں رکاوٹ نہ بنے اور جو نہ کرنا چاہا اس کے لیے مجبور نہیں کیا۔

  تعلیم گریجویشن تک حاصل کی ہے۔

سوال ۔۔  ادب سے لگاؤ کی خاص وجہ اور آپ کو کب ایسا لگا کہ آپکے اندر ایک تخلیقکار موجود ہے جو بہت سی باتیں کہنا لکھنا چاہتا ہے۔۔

جواب ۔۔ ادب سے لگاؤ  اپنی والدہ کی وجہ سے پیدا ہوا۔ وہ ناول وغیرہ پڑھا کرتی تھیں، شاید تبھی سے کہانی سننا اور پڑھنا اچھا لگتا تھا، ایک خاص عمر میں ہر کسی کو شاعری بھی اپنے جانب کھینچتی ہے، سو نثر اور شاعری  میں دلچسپی تو شروع سے رہی ہے۔

سوال : پہلی کہانی کب لکھی اور کس مجلہ یا اخبار میں شائع ہوئی ۔۔

جواب ۔۔ دادی اکثر  ہندوستان کی کہانیاں سنایا کرتی تھیں، اُن کہانیوں میں سے ایک  ‘متھراداس’ کی کہانی  بھی تھی۔

 متھراداس وہ سکھ تھا جس کی کوٹھی   میرے دادا   اور ان کے بھائیوں کو بٹوارے کے بعد   ہندوستان میں چھوڑے گھر کے بدلے میں  دی گئی تھی۔دادی کہتی تھیں کہ وہ سردار جی  اکثر اپنی کوٹھی دیکھنے آتے تھے اور باہر سے ہی دیکھ کر چلے جاتے تھے، بہت مرتبہ ہم اصرار کرتے کہ اندر آکر چائے پیو لیکن وہ اپنی نمناک آنکھیں لیے وہاں سے رخصت ہوجاتے۔ آخری مرتبہ جاتے ہوئے کہا تھا کہ آپ اچھے لوگ ہیں جنہوں نے کم از کم میرے نام کی تختی تو دروازے سے نہیں اتاری۔۔۔

میں اس واقعہ سے بہت متاثر ہوا تھا اور جب کچھ لکھنے کے لیے قلم اٹھایا تو متھراداس میرے سامنے کھڑا تھا،  جو کرب  میں دیکھ رہا تھا، محسوس کر رہا تھا اس کو بیان کرنا چاہتا تھا ۔یہی  پہلی کہانی ‘کوٹھی متھراداس’ اپنی  اردو کی استانی ‘مِس نرگس’  کو پڑھنے کے لیے دی۔ انہوں نے پڑھی اور میں نے دیکھا کہ اختتام میں ان کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔ جاتے ہوئے میرے گال پر ہاتھ رکھ   کر کہا؛

"تم نے کہانی بہت اچھی لکھی ہے ، تم ایک Storyteller ہو ، یہی تمہارا مستقبل ہے،  لکھنا کبھی مت چھوڑنا ۔”

تب شاید میں تیرہ چودہ برس کا تھا، پھر اس کے بعد بہت ساری کہانیاں لکھیں   ،  اب تک لکھ رہا ہوں۔

 

سوال ۔۔  ہمارے معاشرے کا چونکہ ماحول ایسا ہے کہ انٹلیکچوئل طبقے کو اہمیت کم دی جاتی ہے پھر آپ تو انٹلیکچوئل طبقہ کے سب سے حساس ترین لوگوں میں سے ہیں آپکو ضرور شروعات میں فیملی دوستوں محلوں داروں سے کچھ نہ کچھ عجیب سننے کو ملا ہو گا خاص کر پہلی دو چار کہانیوں کے بعد لوگوں کا ری ایکشن کیا تھا آپ کے متعلق ۔۔

جواب ۔۔ میرے خاندان کا ادب سے ایسا  گہرا رشتہ نہیں  رہا۔میرا کہانی لکھنا ان کے لیے ایسا ہی  ہوگا  کہ جیسے  کوئی باتھ روم میں نہاتے ہوئے  گانا وانا گا لیتا ہے البتہ اس بات پر نالاں رہتے ہیں کہ میں  ان کی طرح مذہبی تقریبات میں دلچسپی کیوں نہیں لیتا، آہستہ آہستہ یہ شکوہ بھی ختم ہوتا جا رہا ہے۔ میں اس حوالے سے باتیں  سن کر پہلے بھی  نظر انداز کردیتا  تھا، اب بھی کوئی کچھ کہے تو خاموش رہتا ہوں۔

 والدہ ،  بہن بھائیوں   اور دوستوں نے ہمیشہ حوصلہ افزائی کی ہے اور وہ اکثر ہی کہتے ہیں کہ ہم تمہارے بارے میں بات کرتے ہوئے فخر محسوس کرتے ہیں۔

 سوال : صحیح معنوں میں آپکی کونسی تحریر تخلیق پہچان بنی جس نے آپکو عام عوام میں سے اٹھا کر علمی و ادبی طبقہ میں متعارف کروایا۔۔

جواب ۔۔ میں ابھی تک عوام کے درمیان میں ہی ہوں، انہی کے درمیان رہنا چاہتا ہوں، ادبی محفلوں میں جانا آنا نہیں ہے ، جتنے بھی ادبی دیو ہیں ان سے مجھے خوف آتا ہے، میں ان کے معیار تک نہیں پہنچ سکتا وہ بہت بلند ہیں اور کبھی ان تک پہنچنے کی جستجو بھی نہیں کی۔

جو جو کہانی  عام قارئین کے سامنے رکھی انہوں نے ہمیشہ پسند کی ہے۔ہر کہانی کے بعد اگلی کہانی نے میرے اندر روح پھونکی ہے، مجھے سبھی کہانیاں اپنی شخصیت کا تعارف ہی لگتی ہیں۔

 

سوال ۔۔ آپ کےادباء میں سے بہترین دوست جو رائیٹر بننے کے بعد بنے ہوں اور آپکی ہمیشہ رہنمائی کی ہو ۔۔

جواب ۔۔ ویسے تو دشمن کوئی بھی نہیں سبھی دوست ہیں  اور  اساتذہ ہیں۔

ہر مقام پر قریشی منظور صاحب کا ذکر کر نا بہت ضروری سمجھتا ہوں۔ میں نے صرف افسانہ نویسی ہی نہیں، زندگی بھی انہی سے سیکھی ہے اور سمجھتا ہوں کہ اگر وہ نہ ہوتے تو میں ابھی تک نامعلوم سی   تاریکی میں دیواروں سے ٹکرا  رہا ہوتا ۔

سوال:  آپکی نظر میں ادب کی معاشرے میں گنجائش کتنی ہے اور آج کا قاری ادیب سے کیا چاہتا ہے ۔

جواب ۔۔ کبھی آپ نے کسی کنارے پر مچھلی کو بغیر پانی کے آخری سانسیں لیتے دیکھا ہوگا، وہی ہوتا ہے اگر ہم ادب کے انسانیت پرور  سمندر میں سے معاشرے کو باہر لے آئیں۔ ۔۔ ادب کے بغیر معاشرہ بے ادب ہے اس لیے ادب تو کسی بھی سماج کے لیے ضروری ہے۔ باقی قاری بیچارہ ادیب سے کیا چاہ سکتا ہے،  یہ تو لکھاری کا کام ہے کہ وہ کیا دکھانا چاہتا ہے اور کیوں دکھانا چاہتا ہے۔

سوال :  کسی زمانے میں ترقی پسند ادباء تحریک کا جنم ہوا تھا ۔ کیا اس سے اردو ادب کا فائدہ ہوا یا نقصان ۔۔

جواب ۔۔ ویسے تو میں سمجھتا ہوں کہ ادب ہوتا ہی ترقی پسند ہے، کبھی رجعت پسند ادب میں نے نہیں دیکھا یا کبھی آپ نے سُنا ہے؟

اگر کوئی رجعت پسند ادب   بھی ہے تو میں اسے ادب تسلیم نہیں کرتا۔

گو کہ  ترقی پسند تحریک کا  حصہ بننے والے مصنفین نے اردو ادب کو بہت کچھ دیا ہے لیکن ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ وہ مصنفین ‘ترقی پسند تحریک’ کے قائم کردہ پیٹرن پر چل کر ہی اچھے ادیب بنے تھے۔ فیض، کرشن چندر، ساحر اور احمد ندیم قاسمی صاحب جیسے نام  اس سے پہلے بھی  عظیم تھے  اور بعد میں بھی ان کی عظمت  میں کمی نہ آئی  لہذا میں سمجھتا ہوں کہ اس کے ہونے نہ ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا  کہ ہر  ادیب انسانیت کے حق میں ہی لکھتا ہے چاہے وہ کسی ایسی تحریک کا حصہ بنے یا نہ بنے۔

 سوال :  ادب میں جدیدیت اور مابعدجدیت کا فلسفہ کس حد تک ہمارے قاری پہ اثر انداز ہوا یا پھر ہمارا قاری یا ادیب بیسویں صدی کی پہلی پچاس دہائیوں میں کھڑا نظر آتا ہے۔۔

جواب ۔۔ میری ذاتی رائے ہے کہ کسی بھی ادیب کو ایسی اصطلاحات میں نہیں الجھنا چاہیے، سچ پوچھیں تو مجھے بھی اس کے بارے میں کچھ زیادہ علم نہیں، نہ ہی کبھی زیادہ دلچسپی رہی ہے۔  میں تو فقط اتنا جانتا ہوں کہ   تحلیق کار   کا کام ہے تخلیق کرنا، باقی کام ناقدین کا ہے وہ ان اصطلاحات کی گتھیوں کو بیٹھ کر سلجھاتے رہیں۔

میں ابھی تک  یہی سمجھ پایا ہوں کہ لکھاری کا قاری کے ساتھ کمزور یا گہرا  تعلق فکر اور اس کے ابلاغ  کی بنیاد پر ہوا کرتا ہے،  جدیدیت   کا ذکر کیا جاتا ہے  تو  اس وقت کے بہت سارے اہم نام ہیں، مثال کے طور پر  ورجینیا وولف اور پھر پوسٹ ماڈرن ازم کی بات کریں گے تو ایلس منرو جیسے لوگ  ہیں۔۔۔   فکر  کے لحاظ سے دونوں کو سماج کے قریب پاتا ہوں  اور اس فکر کے ابلاغ میں بھی کچھ مسئلہ نہیں ہے۔۔۔ کیا ان دونوں نے قاری کو خود سے بیزار کیا ہے ؟

سو یہ تخصیص ناقدین نے تو قائم کی ہوگی لیکن میری سمجھ سے بالاتر رہی ہے۔

 ہر ادیب  کو اتنا خیال رکھنا چاہیے کہ اس کی فکر کا زمانے کے ساتھ ہم آہنگ ہونا ضروری ہے۔ آج کا ادیب بھی  فنی لحاظ سے  جہاں بھی ہوں لیکن  فکری اعتبار سے بیسویں صدی  میں کھڑا ہے تو  ان کا قاری قبروں میں ہے، اگر کسی کو اپنے دور سے اور آنے والے دور سے مخاطب ہونا ہے تو انسانیت جیسے وسیع موضوع کو اپنانا ہوگا، یہ کسی بھی دور میں پرانا  نہیں ہوتا، اس کی ہمیشہ ضرورت رہتی ہے۔

سوال :  کیا آپکی نظر میں موجودہ کا ادب قاری یا عام آدمی جو کہ سرسری مطالعہ کرتا ہے اس کو اپیل کرتا ہے بالخصوص اردو ادب ۔

جواب ۔۔ جی بالکل اپیل کرتا ہے۔  ہر دور میں ایسا ہی ہوا اور ہوگا  کہ  کچھ اچھا لکھا ملے گا تو انسان کو اپنی طرف متوجہ کرے گا۔

سوال :  کیا وجہ ہے کے اردو ادب کا معیار اس لیول تک نہیں پہنچ پایا جہاں آج مغرب ہے حالانکہ ماضی میں اردو ادب اور ادباء نے اچھی خاصا عالمی لیول کا کام کیا مگر اب فقدان کیوں ۔

جواب ۔۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ ہمیں اردو کا دوسری زبانوں کے ساتھ ابھی  موازنہ نہیں کرنا چاہیے یہ ایک نابالغ زبان ہے جو اپنی بلوغت کی جانب بہت سست روی کے ساتھ چل رہی ہے البتہ ہمیں اس سست روی کے بارے میں ضرور سوچنا چاہیے کہ ایسا کس لیے ہے؟

اس کی وجوہات ہیں۔ پہلی وجہ یہ ہے کہ جس خطے کی زبان ہے وہ ابھی فکری پستی کا شکار ہے۔ سائنس فلسفہ ادب بہت محدود فکر کے تابع اپنا مقام بنا رہا  ہے بلکہ یوں کہیے کہ نہ  ہونے کے برابر ہے۔۔۔  یہاں پر شدت پسندی عروج پر ہے کہ اس نے معاشرے کی ہر طرح کی ترقی کی راہوں کے سامنے بیرئیر لگا دیے ہیں۔ دوسری بڑی وجہ یہ ہے کہ اہل زبان نے اس کو خود بہت محدود کر رکھا ہے۔ ہر زبان  زمانوں کے ساتھ ارتقاء کے سفر پر چلتی ہے، نئے الفاظ شامل ہوتے ہیں، پرانے ختم ہوجاتے ہیں یا تبدیل ہو جاتے ہیں۔ ہمارے ہاں یک دم شور مچ جاتا ہے کہ جیسے اردو کی بے ادبی کر دی گئی ہے، جس طرح سے عربی کو درجہ اول کی مقدس زبان سمجھتے ہیں، بھلے سمجھ آئے نہ آئے۔۔۔  کوئی عرب ہمیں  ماں بہن کی گالیاں دے رہا ہو ہم آمین آمین کہتے رہیں گے، اسی طرح اردو  کو درجہ دوم کی مقدس زبان بنانے کی ایک کوشش دیکھی جاتی ہے۔

 میرے سامنے بھی یہ اعتراض بارہا  آیا کہ تمہارے افسانوں میں انگریزی کے کئی الفاظ استعمال ہوتے ہیں، میں کہتا ہوں کہ اگر  کوئی لفظ  اردو ہو کہ انگریزی  بات کا مفہوم زیادہ اچھی طرح واضح کر رہا ہے تو اس کو ‘ویلکم’ کرنا چاہیے۔

زبانیں اسی طرح پھلتی پھولتی ہیں۔۔۔ انہیں کبھی کوئی خطرہ نہیں ہوتا۔ ہمیں زبان  کے ساتھ ساتھ  زیادہ بات پر توجہ دینی چاہیے، بات اہم ہے لیکن؛

"ایک ہی حادثہ تو ہے اور وہ یہ کہ آج تک

بات نہیں کہی گئی بات نہیں سنی گئی "

 سوال:  آپکی نظر میں ماضی و حال کے دو نام بطور بہترین افسانہ نگار اور ناول نگار ۔۔ کس وجہ سے ۔۔

جواب ۔۔ صرف دو  نام لینا تو ناانصافی ہوگی۔ ایک حقیقت پسند انسان ہوں، احترامِ آدمیت کا قائل ہوں، جس کی تحریر حقائق پر مبنی ہو،  انسانیت کے حق میں دلائل رکھتی ہوگی پسند کروں گا۔

سوال :  ہمارے ہاں فن افسانہ نگاری کا خلاء پیدا ہو گیا ہے اسکی وجہ آپ ناقدین کو مانتے ہیں یا ادباء کو ۔ ناقدین کو اسلیے کے شاید وہ آج بھی نئے ادب کو قبول کرنے میں عار زرا جھجھک محسوس کرتے ہیں یا پھر افسانہ نگار کیونکہ ہمارے ہاں موضوعات کے چناؤ میں غلطی کر بیٹھتے ہیں ایسے موضوعات جنہیں پڑھ پڑھ قاری اکتا چکا ۔ یا پھر منتخب موضوع کو نبھانے میں ادیب غلطی کر بیٹھتا ہے۔۔

جواب ۔۔ دیکھیں خلاء ناقدین کی وجہ سے پیدا نہیں ہوا، ناقدین تو بے چارے  قارئین  اور لکھاری کے لیے ہومیوپیتھک جیسے ہوتے ہیں، ان کا فائدہ ہوتا ہوگا لیکن نقصان تو  کوئی نہیں ہے۔ کسی کہانی کو رد کر دیں گے تو کیا  پڑھنے والا پڑھنا چھوڑ دے گا؟

 اگر کسی لکھاری کی تحاریر میں دم ہے تو اس کا قاری خود اس کے قریب آلتی پالتی مار کر کہانی سننے بیٹھ جائے گا۔ کہانی کہنا اور سننا دونوں انسانی سرشت میں شامل ہیں لیکن دلچسپ کہانی ہمیشہ وہ رہی ہے  جسے سن کر  سننے والے کو محسوس ہوا کہ  میرے گردونواح کا قصہ ہے، مانوس سا ماحول ہے۔ کرداروں کا مسئلہ میرا مسئلہ ہے۔۔۔ تو وہ اس پر کان دھرتا ہے، سنتا ہے، اگر کہانی اس کو الجھانے لگے تو جمائیاں لینے لگتا ہے۔

اس لیے  قصور سننے والے کا ہے نہ ہی کہانی گو پر تنقید کرنے والے کا ہے، قصور کہانی گو کا ہے کہ اس کے  بات کہنے کا فن کس سطح پر ہے۔

یہ جس خلاء کی آپ بات کر رہے ہیں، میں اسے فکری  خلاء کہتا ہوں۔ جہاں  دھائیوں سے ایک کارخانے میں دماغوں پر مذہب پرستی، قوم پرستی کے آہنی سانچے چڑھا کر دولے شاہ کے چوہے پروان چڑھائے جاتے رہے ہوں وہاں پر بے سمت و بے مہار قسم کی تخلیقات ہی سامنے آتی ہیں۔

سب سے پہلے تو کسی بھی مصنف کی فکر کو آزاد اور واضح ہونا چاہیے،  clarity of thought کا مسئلہ حل ہو جائے تو پھر آزادی اظہار رائے کا معاملہ ہے۔ دونوں کی موجودگی میں جو بھی لکھے گا اس میں الجھاؤ نہیں ہوگا، کوئی فکری مغالطہ نہیں ہوگا اور اگر خود  کنفیوژن کا شکار نہیں ہوگا تو قارئین کو  بھی اس کی تخلیقات اپنی جانب کھینچیں گی، یہ خلاء پُر ہو جائے گا۔

سوال :  آپکی نظر میں تنقید کا مطلب اور سب سے بہترین تنقیدی کام کس کا رہا ۔

جواب ۔۔ میں باقاعدہ تنقید نہیں پڑھتا۔ جیسا کہ پہلے کہا مجھے اس میں کوئی خاص دلچسپی نہیں ہے۔ اپنی کہانیاں دوسروں کے سامنے رکھتا ہوں، ان کی مثبت اور تعمیری آرا کی قدر کرتا ہوں، ان سے سیکھتا ہوں، تنقید برائے تنقید کو بھی سمجھ رہا ہوتا ہوں۔ خود کسی کی تحریر پڑھتا ہوں تو اپنے ذہن کے مطابق طے کرتا ہوں کہ کس مقام پر ہے یہ بھی جانتا ہوں کہ میری پسند نا پسند سے لکھنے والے پر رتی برابر  فرق نہ پڑے گا۔

سوال :  مغربی ادب میں آپکی پسندیدہ شخصیات کے دو نام اور انکی تخلیقات یہ بھی بتائیں کیوں اور کس وجہ سے ۔

جواب ۔۔ سر میں پہلے بیان کر چکا ہوں کہ دو نام لینا  تو ناانصافی ہوگی اور اپنی پسند کا پیمانہ بھی بتا چکا ہوں۔۔۔ اور پھر مغرب تو بہت زرخیز ہے۔۔۔

 ویسے  موضوع اور پھر اس کے برتنے کے انداز کی بات کریں تو   مجھے شارٹ سٹوری کے حوالے سے   موپاساں اور چیخوف نے متاثر کیا۔

 سوال :  اردو ادب میں افسانچہ ۔ فلیش فکشن یا مائیکرو فکشن مطلب مختصر ترین کہانیوں کی گنجائش ہے کہ نہیں اگر ہے تو کیوں اگر نہیں تو کیوں۔۔

جواب ۔۔ سر ادب میں گنجائش کے لیے کسی قسم کے پرمٹ کی ضرورت نہیں ہوتی، اس کی قبولیت کا دارومدار قارئین اور سماجی شعور پر ہوتا ہے، اگر قاری کچھ پڑھتا ہے، اس کو پسند کرتا ہے اور پھر اپنی زندگی کے ساتھ اس کا تعلق بھی قائم کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو ادب بھی اس سماجی شعور کو بلند کرتی تخلیق کو گلے لگا لیتا ہے۔

جیسے آج کل فیس بک  کے کئی فورمز پر  مختلف قسم کی اصطلاحات اور  صنف کو  ‘ایجاد’ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، ایسا ممکن نہیں ہے۔ قریب ایک صدی پہلے منٹو صاحب نے ‘سیاہ حاشیے’ کے نام سے  انتہائی مختصر افسانے اردو ادب کو دیے، اس پر کوئی اصرار نہیں تھا کہ ان کو کچھ الگ سے تسلیم کیا جائے، آج  انہیں آپ فلیش فکشن کہیں، افسانچے کہیں  یا مائیکرو فکشن۔۔۔  البتہ دلچسپ ہیں، پُر فکر ہیں اور ادب میں مقام رکھتے ہیں۔

سوال:  زندگی سے کیا چاہتے ہیں اگر مل گیا ہے تو مزید خواہش ۔۔

بہت عرصہ پہلے میں برٹرینڈ  رسل کی سوانح حیات پڑھ رہا تھا کہ مجھے ابتداء میں ایک جملے نے اپنی گرفت میں لے لیا:

“Three passions, simple but overwhelmingly strong, have governed my life: the longing for love, the search for knowledge, and unbearable pity for the suffering of mankind.”

(تین سادہ مگر بہت ہی مضبوط جذبوں نے میری زندگی پر راج کیا ہے: محبت کی آرزو، علم کی تلاش اور سسکتی انسانیت کے لیے بے پناہ ہمدردی۔)

مجھے یوں محسوس ہوا کہ شاید یہی میری زندگی کا مفہوم ہے جسے رسل نے بہت سمیٹ کر بیان کیا اور میرے  لیے خود کو سمجھنا آسان بنا دیا۔

زندگی سے کچھ نہیں چاہتا کیونکہ اس کو آپ خود کچھ دے سکتے ہیں یہ آپ کو کچھ نہیں دے سکتی، یہ تو خود ایک ماحصل ہے۔

میرے پاس  سب کچھ ہے، بہت بھر پور زندگی ہے، شروع سے اب تک لوگوں کی محبت ملی ہے  لیکن جب جب میں انسانیت کو پامال ہوتے دیکھتا ہوں تو بہت تکلیف ہوتی ہے، اگر میں کچھ چاہوں گا تو یہی چاہوں گا کہ انسان کی مشکلات کا کسی طور مداوا ہو۔ ان کے دکھوں کی  کوئی دوا ہو۔

ہم  اس جہان سے بے رحمی، دکھ، تکلیفیں  سو فی صد تو نہیں ختم کر سکتے البتہ کوشش کر کے  کچھ کم کر سکتے ہیں اور اس کے لیے  اپنے تئیں  ہر ایک انسان کو کوشاں رہنا چاہیے۔

 سوال :  محبت کی اہمیت اور مفہوم آپکی نظر میں ۔۔ آپکو کبھی محبت ہوئی ۔

جواب ۔۔ میرے کتاب ‘سلونی’ کے پہلے پنے پر یہ پیغام لکھا ہوا ہے کہ؛

"محبت زندگی کا جشن ہے، جی بھر کے مناؤ”

میں محبت کو زندگی کا جشن سمجھتا ہوں، یہ ایک celebration  ہے ، اس سے بڑھ کر انسان کو اس دنیا میں  کچھ بھی راحت نہیں پہنچا سکتا ۔

مجھے محبت بہت جلد ہوجاتی ہے اور جس سے بھی ، جس وجہ سے  بھی ہوتی ہے، اس کو اپنے وجود کا حصہ بنا لیتا ہوں، جہاں جہاں میں ہوں آپ کو وہ میرے ساتھ دکھائی دیں گے۔ مثال کے طور پر  جیسے آپ سب جو مجھے جانتے ہیں وہ سعدیہ الطاف کو بھی جانتے ہیں، جو مجھے جانتے ہیں وہ قریشی منظور صاحب کو بھی جانتے ہیں، جو مجھ سے واقف ہیں وہ میری فیملی اور دوستوں کے بارے میں  واقف  ہیں۔

ان سب سے محبت کی نوعیت الگ ہوسکتی ہے لیکن سبھی میرے وجود کا حصہ ہیں اور ہمیشہ رہیں گے۔

سوال:  اپنی نجی زندگی مطلب فیملی سے وابستہ دلچسب خوبصورت اور انمول واقعہ ۔۔

جواب ۔۔ ایسا کچھ ذہن میں تو نہیں ہے۔ یہ ضرور ہے کہ بچپن سے ہی مجھے خوبصورتی اپنی جانب کھینچتی ہے، خاص طور پر خواتین جن کی آنکھیں بڑی ہوں۔ سو اس طرح کی خوبصورت خواتین کے ساتھ بچپن سے ہی بہت سارے افسانے وابستہ ہیں۔

یہ بھی بچپن کا واقعہ ہے کہ میری ایک اسکول ٹیچر تھیں، میری کلاس کو نہیں پڑھاتی تھیں لیکن جس کلاس میں پڑھاتی تھیں میں اپنے کمرہ جماعت سے بار بار ان کو دیکھنے کے لیے وہاں سے گزرتا تھا، ان کی آنکھوں اور مسکان میں بہت کشش تھی، بہت کھل کر بولتی تھیں اور کھل کر قہقہہ لگاتی تھیں۔ میں نے ایک مرتبہ انہیں بسکٹ کا پیکٹ دیا تھا وہ بسکٹ کھاتی رہی تھیں میں ان کو دیکھتا رہا، بعد میں انہوں نے پیکٹ میرے ہاتھ میں پکڑا کر پیار سے گال کو چھوا۔ ان کی وہ شفقت تو ظاہر ہے وہی تھی جو استاد و شاگرد کے درمیان ہوا کرتی ہے لیکن میرے ذہن میں آج تک کئی ایسے خوبصورت واقعات کے ساتھ وہ لمحہ بھی محفوظ ہے۔

ان کا خالی کیا بسکٹ کا پیکٹ میرے پاس قریب بائیس تئیس سال پڑا رہا، حال ہی میں پرانی تحاریر اور ایسی کئی چیزیں جو سنبھال رکھی تھیں، جلا دی ہیں کہ ایسی پرانی چیزیں جب بہت زیادہ پرانی ہو جاتی ہیں تو ان میں سے وہ مسرت کم ہو جاتی ہے اور نامعلوم سی اداسی در آتی ہے۔

خوشگوار لمحات کی جگہ ہمارے ذہن میں ہونی چاہیے، چیزوں کے ساتھ منسوب ہوں تو وہ لمحات ان کی طرح زنگ آلود سے ہونے لگتے ہیں، بھربھرے سے، پرانے سے۔۔۔

سوال۔۔  آپکی شخصیت چند ایسے پہلو جو عام لوگوں کی نظروں سے اوجھل رہے ہمیشہ ۔

جواب۔۔ شاید ایسا تو کوئی پہلو نہیں ہے۔  اپنے عزیزوں دوستوں سے  کچھ پوشیدہ نہیں رکھتا۔  دوست کم ہیں لیکن جنہیں دوست کہتا ہوں ان کے سامنے اپنا اندرون کھول کر رکھ دیتا ہوں۔

سوال ۔۔ اپنے فالورز قارئین اور ادباء کے لیے پیغام

جواب ۔۔ جئیں اور خوب جئیں، زندگی آخری بار ملی ہے، اس کے بعد دوبارہ نہیں ملے گی۔

اردو لکھاری ڈاٹ کام اور میرے لیے کوئی خصوصی پیغام اگر دینا چاہیں تو ۔۔

قرب عباس ۔

لکھاری ڈاٹ کام اور آپ کا بے حد شکریہ کہ انہوں نے مجھے اس قابل سمجھا۔ امید ہے کہ آپ اسی طرح لکھاریوں کی حوصلہ افزائی کرتے رہیں گے ۔ آ پ کے لیے ڈھیروں محبتیں۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

جمیل حیات۔۔۔ زبیر مظہر پنوار

سوال ۔۔ آپ کا اصل اور قلمی نام تاریخ پیدائش آبائی شہر ۔ جواب۔۔جمیل حیات۔اسی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے