سر ورق / یاداشتیں / ڈائجسٹوں کی الف لیلہ۔۔ قسط نمبر 27۔ سید انور فراز

ڈائجسٹوں کی الف لیلہ۔۔ قسط نمبر 27۔ سید انور فراز

آنکھوں میں اُڑ رہی ہے لٹی محفلوں کی دُھول
عبرت سرائے دہر ہے اور ہم ہیں دوستو!
ڈائجسٹوں کی الف لیلہ : قسط نمبر 27
اک اور دریا کا سامنا تھا منیر مجھ کو
میں اک دریا کے پار اُترا تو میں نے دیکھا
منیر نیازی بہت بڑے اور ہمارے دور کے ایک غیر معمولی شاعر تھے، ان کا مندرجہ بالا شعر ہماری زندگی کا آئینہ ہے، ان شاء اللہ جب یہ یاد داشتیں کتابی شکل میں شائع ہوں گی تو ہم اپنی نجی زندگی سے متعلق اُتار چڑھاؤ بھی بیان کریں گے،فی الحال ڈائجسٹوں کی الف لیلہ تک اپنی یادداشتوں کو محدود رکھنا ہی بہتر ہے۔
کنوارا کنواری نمبر سے فارغ ہوئے تو کوئی نیا نمبر نکالنے کے بارے میں سوچا ، حقیقت یہ ہے کہ ہمیں اس کام میں لطف آنے لگا تھا اور معراج صاحب بھی اسے پسند کرنے لگے تھے کیوں کہ سرگزشت کی اشاعت بڑھانے میں اس نے اہم کردار ادا کیا تھا، چناں چہ طے یہ ہوا کہ آئندہ ’’جیل نمبر‘‘ نکالا جائے جس میں ایسی مشہور اور نامور شخصیات کو شامل کیا جائے جنھوں نے کسی اچھے مقصد کے تحت قیدوبند کی صعوبتیں برداشت کیں، فوری طور پر اہم شخصیات کی فہرست تیار کی گئی اور اب اگلا مرحلہ یہ تھا کہ کس شخصیت پر کون لکھ سکتا ہے؟
سیاست کے حوالے سے مشہور لوگوں کی کمی نہیں تھی،مولانا حسرت موہانی، مولانا محمد علی جوہر اور بہت سے تحریک آزادی کے رہنما فہرست میں شامل تھے، پاکستان کے تناظر میں سرفہرست جناب ذوالفقار علی بھٹو ، محترمہ بے نظیر بھٹو، صحافیوں میں آغا شورش کاشمیری، اداکاروں میں بلراج سہنی اور اداکار اعجاز درانی کے نام فائنل کیے گئے، غلام قادر نے ذوالفقار علی بھٹو اور محترمہ بے نظیر بھٹو کی قیدوبند کا احوال لکھا، بلراج ساہنی پر شمیم نوید نے اور اعجاز درانی پر آفاقی صاحب نے طبع آزمائی کی بلکہ آغا شورش پر بھی آفاقی صاحب نے ہی لکھا، وہ اپنے ابتدائی زمانے میں ہفت روزہ چٹان میں کام کرچکے تھے اور بہت قریب سے آغا صاحب کو ذاتی طور پر جانتے تھے۔
اچانک ہمیں خیال آیا کہ اردو صحافت کا ایک اہم نام سب سے الگ تھلگ اپنی نظریاتی صحافت سے وابستہ زندگی گزار رہا ہے اور ذوالفقار علی بھٹو کے پورے دور میں قیدوبند کی صعوبتیں برداشت کرتا رہا ہے لہٰذا بھٹو کے ساتھ ان کا نام بھی شامل ہونا چاہیے،یہ شخصیت سابق ایڈیٹر روزنامہ جسارت اور اس وقت ہفت روزہ تکبیر کے پبلشر و ایڈیٹر جناب صلاح الدین کی تھی، ہماری صلاح الدین صاحب سے کبھی ملاقات نہیں رہی تھی،نہ ہی کوئی واقفیت تھی، ہم یہ بھی جانتے تھے کہ وہ ایک نظریاتی انسان ہیں، ضروری نہیں ہے کہ اپنی سرگزشت شائع کرانے پر راضی ہوسکیں، بہر حال کوشش کرنے میں کوئی حرج نہیں تھا۔
سرگزشت کا آغاز ہوا تو بہت سے نئے لوگوں سے تعارف اور واقفیت ہوئی، ان میں سرفہرست تو آج کے سرگزشت کے مدیر پرویز بلگرامی ہیں، ابھی پہلا شمارہ شائع نہیں ہوا تھا کہ ان کی ایک سچ بیانی ہمیں شاید ڈاک سے ملی، کہانی میں دلچسپی کا عنصر موجود تھا، کچھ زبان و بیان کے مسائل تھے جنھیں درست کرکے شامل اشاعت کرلیا گیا،کہانی شائع ہوئی تو پرویز صاحب بنفس نفیس دفتر تشریف لے آئے،انھوں نے بتایا کہ وہ ٹیچنگ کے شعبے سے وابستہ ہیں، ہم نے ان کی حوصلہ افزائی کی اور ان سے کہا کہ آپ مزید کہانیاں لکھیں، آپ یقیناً مستقبل میں ایک بہتر کہانی کار کے طور پر مشہور ہوسکتے ہیں، چناں چہ یہ سلسلہ شروع ہوگیا، ہماری ہی فرمائش پر انھوں نے تیسری جنس یعنی ہیجڑوں کی زندگی پر خاصی تحقیق کی اور پھر ایک نہایت شاہکار کہانی لکھی جو سرگزشت میں شائع ہوئی۔
کچھ عرصہ بعد ہمیں معلوم ہوا کہ پرویز بلگرامی صرف کسی ایک ادارے تک محدود نہیں ہیں، وہ ’’سچی کہانیاں‘‘ میں شمیم نوید کے بھی قریب ہیں اور مسٹری میگزین میں بھی ان کا آنا جانا ہے،گویا ڈائجسٹ کے ہر میدان میں گھوڑے دوڑانے کے شوقین ہیں یا ضرورت مند ہیں، پرویز بلگرامی کا وطن مالوف انڈیا میں صوبہ بہار ہے، یقیناً ان کے والدین ہجرت کرکے مشرقی پاکستان چلے گئے ہوں گے اور وہیں ان کی پیدائش ہوئی ہوگی،سقوط ڈھاکا کے بعد انھیں پاکستان آنا پڑا، جیسا کہ بعض دیگر مصنفین بھی آئے، محی الدین نواب، ایم الیاس، انور فرہاد وغیرہ۔بلگرامی بہار شریف سے اپنے تعلق پر فخرکرتے ہیں اور کرنا بھی چاہیے کہ اس صوبے سے غیر معمولی شاعر و ادیب اور نقاد نمودار ہوئے،ہم نے ایک بار ازراہ مذاق یہاں تک کہہ دیا کہ جناب آپ کے پاکستان آجانے سے بہار شریف ویران ہے،آپ کے پائے کا بہاری تو اب پورے صوبہ بہار میں بھی دستیاب نہیں ہے،وہ ہماری باتوں کا برا نہیں مناتے ، ہمارے علاوہ مرحوم سلیم فاروقی بھی ان سے بہت قریب رہے ہیں، سلیم بلا کہ طنّاز تھے، دونوں جب ہمارے کمرے میں اکٹھا ہوتے تو پھر گفتگو کا رنگ ہی کچھ اور ہوتا۔
ہمارے ادارے کے قوانین میں یہ بات شامل تھی کہ ایسے لوگوں کو زیادہ موقع نہیں دیا جاتا جو دوسرے اداروں سے بھی وابستگی رکھتے ہوں، معراج صاحب کا خیال تھا کہ سسپنس اور جاسوسی ملک کے سب سے بڑے میگزین ہیں اور ان میں شائع ہونے والے مصنفین ملک گیر ہی نہیں بین الاقوامی شہرت حاصل کرتے ہیں کیوں کہ یہ پرچے ٹوکیو ٹو ٹورنٹو اپنا ایک حلقہ ء قارئین رکھتے تھے، ہمارے ہاں معاوضہ بھی دیگر تمام ڈائجسٹوں سے زیادہ دیا جاتا تھا لہٰذا اچھا لکھنے والوں کو کسی اور طرف جانے کی ضرورت ہی نہ تھی اور اس کے باوجود بھی اگر کوئی دوسرے پرچوں کے لیے لکھتا تو یہ بات قابل اعتراض ٹھہرتی لہٰذا سرگزشت سے آگے بات نہ بڑھ سکی، انھیں جاسوسی یا سسپنس میں لکھنے کا موقع نہیں مل سکا، بعد میں جب شمیم نوید نے سچی کہانیاں سے علیحدگی اختیار کرلی تو پرویز بلگرامی مکمل طور پر وہاں چلے گئے جب کہ شمیم نوید ہمارے پاس آگئے اور انھوں نے سرگزشت کے لیے لکھنا شروع کردیا۔
ایسی ہی ایک شخصیت ملکہ افروز روہیلہ کی تھی ، ہمیں یاد نہیں کہ وہ پہلی بار کس طرح ہمارے پاس آئیں اور ان سے کیا بات ہوئی،صرف اتنا یاد ہے کہ ایک سرتاپا سیاہ پوش لڑکی سرگزشت کی سچ بیانیاں لکھا کرتی تھی، ہم نے کبھی اس سے نہیں پوچھا کہ وہ کون ہے؟ اور مزید اس کی مصروفیات کیا ہیں؟ ممکن ہے کسی وقت اس نے ہی بتایا ہو کہ وہ ہفت روزہ تکبیر میں بھی کام کرتی ہیں، چناں چہ ہم نے ان کے ذریعے صلاح الدین صاحب سے رابطے کی کوشش شروع کردی بلکہ ملکہ سے کہا کہ صلاح الدین صاحب کا بائیو گرافیکل انٹرویو آپ کریں، اس طرح وہ شاید تیار بھی ہوجائیں، مزید ہم نے یہ بھی کہا کہ انٹرویو کے بعد جب اسے لکھ لیا جائے گا تو ایک نظر ڈالنے کے لیے مسودہ صلاح الدین صاحب کو پیش کردیا جائے گا۔
ہمیں نہیں معلوم ملکہ نے انھیں کیسے راضی کیا، بہر حال یہ کام نہایت خوش اسلوبی سے انجام پاگیا اور الحمد اللہ پاکستان میں پہلی بار صلاح الدین صاحب کی زندگی پر ایک نہایت تفصیلی انٹرویو ماہنامہ سرگزشت کے جیل نمبر میں شائع ہوا جو عزیزی ملکہ افروز روہیلہ کی کوشش و کاوش کا نتیجہ تھا، صلاح الدین صاحب کی شہادت کے بعد اکثر اخبارات و رسائل کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا کہ اسی انٹرویو کو دوبارہ شائع کریں۔
اس انٹرویو کی اشاعت کے بعد صلاح الدین صاحب بہت خوش ہوئے اور انھوں نے ملکہ کے ذریعے ہی ہمیں چائے کی دعوت دی، یہ ہماری ان سے پہلی اور آخری ملاقات تھی، ان دنوں غالباً 1993 ء کے انتخابات قریب تھے، جماعت اسلامی کے امیر قاضی حسین احمد ن لیگ سے ناراض ہوکر اکیلے ہی میدان انتخاب میں آچکے تھے، ہم نے چائے کے دوران میں تھوڑی سی سیاسی گفتگو چھیڑ دی اور کہا ’’ن لیگ اور جماعت اسلامی اگر علیحدہ علیحدہ اپنے امیدوار میدان میں لائیں گی تو اس کا فائدہ پیپلز پارٹی کو ہوگا، کیا آپ نے قاضی صاحب کو یہ بات سمجھانے کی کوشش نہیں کی؟‘‘
صلاح الدین صاحب نے جواب دیا ’’ہم نے تو یہ کوشش نہیں کی لیکن حمید گل صاحب نے انھیں بہت سمجھایا مگر قاضی صاحب بہت زیادہ نواز شریف سے ناراض ہیں‘‘
ہم نے عرض کیا ’’اس موقع پر ایسی ناراضی کو اہمیت نہیں دینی چاہیے جب کہ واضح نظر آرہا ہے کہ جماعت اسلامی بھی کچھ نہیں کرسکے گی اور ن لیگ بھی شکست کھا جائے گی‘‘
صلاح الدین صاحب نے ہماری بات سے اتفاق کیا ، ہم نے مزید یہ جاننے کی کوشش کی کہ آخر حمید گل صاحب کی بات بھی قاضی صاحب کیوں نہیں مان رہے ؟‘‘
چند لمحے صلاح الدین صاحب ہمیں دیکھتے رہے پھر صرف اتنا کہا ’’پٹھان ہیں‘‘
ہمیں یہ بات سن کر ہنسی آگئی اور آج ان کی یہ بات ہمیں بہت یاد آتی ہے کیوں کہ جماعت کے موجودہ امیر بھی پٹھان ہیں،پانچ سال تحریک انصاف کے ساتھ کے پی کے میں پارٹنر رہے،عمران خان سے بظاہر انھیں کوئی بڑا اختلاف بھی نہیں رہا، اگر وہ یہ پارٹنر شپ جاری رکھتے تو شاید زیادہ فائدے میں رہتے مگر خدا معلوم متحدہ مجلس عمل سے انھیں کس نوعیت کی امیدیں وابستہ ہوگئی تھیں جو بعد میں پوری نہ ہوسکیں اور آج سراج الحق صاحب مع جماعت اسلامی سیاسی منظر نامے پر ہمیشہ کی طرح نمایاں نظر نہیں آرہے۔
جیل نمبر بھی پسند کیا گیا اور جیل نمبر 2 کا پروگرام بھی بن گیا کیوں کہ اس خاص نمبر کے لیے کچھ زیادہ ہی مواد اکٹھا ہوگیا تھا مگر اسی سال ہم کچھ ایسے ذاتی مسائل میں گرفتار ہوئے کہ کسی نئی مہم جوئی میں خود کو ڈالنے کی ہمت نہ رہی، دفتر کے قریب جس فلیٹ میں رہائش تھی اسے چھوڑ کر نیو کراچی شفٹ ہونا پڑا، یہ ایک نئی عذاب ناک صورت حال تھی۔
کراچی والے تو بہر حال اندازہ کرسکتے ہیں کہ روزانہ نیو کراچی سے آئی آئی چندریگر روڈ آنا اور پھر شام کو واپس جانا کس قدر کٹھن اور پریشان کن کام ہے خاص طور پر شام کو واپسی کا سفر بڑا ہی اذیت ناک ہوتا تھا، بسوں میں بے تحاشا رش کی وجہ سے ہمیشہ یہ سفر کھڑے کھڑے کاٹنا پڑتا اور کئی بار اس سفر کے دوران جیب بھی کٹی ورنہ اس سے پہلے کبھی زندگی میں ہمارے ساتھ جیب کٹنے کا واقعہ پیش نہیں آیا۔
ہر مہینے کے آخر میں ہم جیسے تنخواہ داروں کی جو حالت ہوتی ہے وہ سب جانتے ہیں، اچھی بات یہ تھی کہ ہمیں آخری تاریخوں میں رننگ ایڈوانس باآسانی مل جایا کرتا تھا، ایک بار 300 روپے رننگ ایڈوانس لے کر بس میں سوار ہوئے اور گھر پہنچ گئے، اس روز بیوی نے فون کرکے بتادیا تھا کہ آتے ہوئے کچھ کھانے کے لیے بازار ہی سے لیتے آئیے گا، چناں چہ بس سے اتر کر ہم ایک ہوٹل میں پہنچے اور جیسے ہی جیب میں ہاتھ ڈالا تو جیسے پیروں تلے زمین نکل گئی، الٹے قدموں ہوٹل سے باہر آئے اور گھر پہنچ گئے،بیوی سے سارا ماجرا بیان کیا، وہ بھی بہت پریشان ہوئی، آخر ہم قریب ہی مقیم اپنے دوست گوہر اصطفیٰ کے گھر پہنچے اور اس شریف آدمی سے ادھار پیسے لے کر آئے۔
ایم الیاس اور انور فرہاد کا تذکرہ اوپر ہوچکا ہے،ان سے بھی زیادہ رسم و راہ سرگزشت کے اجرا کے بعد ہی ہوئی، الیاس صاحب تو کہانی لکھنے تک محدود تھے لیکن انور فرہاد فلمی صحافت سے بھی وابستہ رہے تھے، بنیادی طور پر دونوں نہایت اور وضع دار انسان تھے،ہم پہلے ایک لڑکی کا قصہ بیان کرچکے ہیں جو ہمیں انور فرہاد سمجھ کر غلط فہمی کا شکار ہوگئی تھی،فرہاد صاحب نے فلمی شخصیات پر بھی لکھا اور خاص طور پر اداکارہ شبنم کی سرگزشت بھی انھوں نے ہی لکھی جس پر مرحوم الیاس رشیدی سخت ناراض ہوئے اور بقول ’’انور فرہاد انھوں نے ہماری خوب کلاس لی‘‘
واقعہ یہ ہے کہ الیاس صاحب کے اداکارہ شبنم سے مراسم بہت قریبی تھے،وہ اس کا بہت خیال رکھتے تھے اور انہی کی کوششوں سے وہ پاکستان کی فلم انڈسٹری میں اپنا مقام بنانے میں کامیاب ہوسکی،شبنم کی خاطر الیاس صاحب نے ایک فلم ’’آس‘‘ بھی پروڈیوس کی، شبنم ایک طرح سے ان کی فیملی ممبر تھی اور یہ مقام شمیم آرا کے بعد اس نے حاصل کیا تھا، چناں چہ جب انور فرہاد نے شبنم کی سرگزشت میں اس واقعے کا ذکر کیا جس میں اس کے گھر میں ڈکیتی کی واردات ہوئی تھی،چند لڑکے گھر میں گھس کر سب کچھ لوٹ کر لے گئے تھے، روبن گوش کو باندھ دیا گیا اور بعض راویان کے بیان کے مطابق شبنم سے زیادتی کی گئی، انور فرہاد نے ڈکیتی اور زیادتی کا منظر نامہ خاصی تفصیل سے بیان کردیا تھا اور یہی بات الیاس صاحب کی برہمی کا باعث بن گئی،بقول انور فرہاد انھوں نے غصے میں کہا ’’تم کیا اندر جھانک کر دیکھ رہے تھے جو پورا منظر نامہ لکھ مارا‘‘
الیاس صاحب اللہ مغفرت کرے، اب اس دنیا میں نہیں رہے،انور فرہاد حیات ہیں اور اللہ تعالیٰ انھیں صحت کے ساتھ لمبی عمر دے،ایم الیاس بھی زندہ ہیں اور اب بہت زیادہ نہیں لکھتے، دونوں افراد کا تعلق سابق مشرقی پاکستان کے ادبی حلقے سے تھا اور دونوں ہی کہنہ مشق ادیب تھے، اس بحث سے قطع نظر کہ ہر ادیب کے لکھنے کا اپنا انداز ہوتا ہے اور اپنا ہی ایک گراؤنڈ ہوتا ہے جس سے وہ باہر نہیں نکلتا، چناں چہ دونوں حضرات روایتی معاشرتی اسلوب کے افسانہ نگار ہیں۔
ملکہ افروز شادی کے بعد غائب ہوگئیں اور اب فیس بک پر دستیاب ہوئی ہیں، کبھی کبھار سلام دعا ہوجاتی ہے،پرویز بلگرامی ہمیشہ رابطے میں رہے، وہ سچی کہانیاں میں بھی تھے تو آتے رہتے تھے اور ان کے ذریعے ہمیں ارد گرد کے ڈائجسٹوں کے حال احوال سے واقفیت ہوتی رہتی تھی، فروری 2004 ء میں ہمارے ادارہ چھوڑنے کے بعد بھی پرویز سے ربط و ضبط قائم رہا کیوں کہ ہمارا آفس بھی جے ڈی پی کے آفس سے صرف چند قدم کے فاصلے پر ہے لہٰذا اکثر پرانے ساتھی کبھی کبھار چکر لگاتے ہیں، البتہ بہت دنوں سے پرویز بلگرامی غائب ہیں، ممکن ہے کچھ زیادہ ہی مصروف ہوگئے ہوں، وہ اپنے صاحب زادے کی بیماری کی وجہ سے بھی اکثر پریشان رہتے ہیں۔
ذکر کچھ ایسا چھڑ گیا ہے کہ بعض شخصیات جو جے ڈی پی سے وابستہ ہیں جیسے پرویز بلگرامی جو آج کل سرگزشت کے مدیر ہیں، لبنیٰ خیال جو جاسوسی کی مدیرہ ہیں اور یمنیٰ احمد جو سسپنس کو دیکھ رہی ہیں، ان کا تعارف کراتے چلیں، یقیناً ہمارے پڑھنے والوں کے لیے اس میں دلچسپی کا عنصر ہوگا۔
لبنیٰ نے اردو میں ایم اے کرنے کے بعد جاب کی تلاش شروع کی تو ایک ایسی جگہ پھنس گئیں جہاں تنخواہ بھی وقت پر نہیں ملتی تھی، آئی آئی چندریگر روڈ پر کیفے خیرآباد سے جڑی ہوئی ایک عمارت نے بعض اخبارات و رسائل کے دفاتر تھے،اس عمارت کو ’’بمبئی ہوٹل‘‘ کے نام سے پکارا جاتا تھا،اس کے مالکان میں ہمارے ایک دوست سید اشتیاق علی بھی شامل تھے،ممکن ہے کبھی یہاں کوئی ہوٹل رہا ہو اور پھر یہ عمارت بمبئی ہوٹل کے نام سے مشہور ہوگئی ہو، اسی بمبئی ہوٹل میں لبنیٰ نے اپنے کرئر کا آغاز کیا، پھر ایک واقف کار کی سفارش پر ہمارے پاس آئی، پروف ریڈر کی ضرورت ہر دور میں رہتی ہے،ہم نے انھیں ایک ٹرینی کے طور پر جاب دی، ہماری موجودہ بیگم شبینہ فراز بھی اسی دفتر میں تھیں، ایک اور لڑکی ہما انصاری بھی ہماری دریافت تھی جو سسپنس میں شکیل عدنان کی معاون تھیں، ہما سے ہماری خاصی دور دراز کی رشتے داری بھی تھی، اب لبنیٰ کی آمد کے بعد ان لڑکیوں کا ایک ٹرائیکا وجود میں آگیا، شبینہ اور لبنیٰ دونوں ہمارے معاون کے طور پر کام کر رہی تھیں لیکن لبنیٰ کے کام سے ہم بھی ، معراج صاحب بھی اور اعجاز رسول صاحب بھی مطمئن نہیں تھے،کبھی کبھی ہم سوچتے ہیں کہ لبنیٰ جس کے نام میں خیال کا اضافہ ہم نے کیا تھا ، بہر حال بڑی خوش نصیب ہے کیوں کہ کم از کم تین بار معراج صاحب نے لبنیٰ کو فارغ کرنے کے احکام جاری کیے لیکن ان پر عمل درآمد نہ ہوسکا، کوئی نہ کوئی ایسی بات یا واقعہ ہوجاتا کہ انھیں اپنے احکام واپس لینے پڑے، عام طور پر اس کی وجہ یہی رہی ، اس سے پہلے کہ لبنیٰ کو فارغ کیا جاتا کوئی اور جاب چھوڑ کر چلا گیا، چناں چہ لبنیٰ کو ان کی سیٹ پر برقرار رکھنا پڑا، آخری بار بھی ایسا ہی ہوا، معراج صاحب ہم سے کہہ چکے تھے کہ آئندہ مہینے سے لبنیٰ کی چھٹی کردیں لیکن اس آئندہ مہینے میں ہماری اور شبینہ کی شادی طے ہوگئی، شبینہ نے شادی کے بعد آفس چھوڑ دیا، شاید ادارے کے کسی اور فرد کی اس طرح ادارے سے رخصتی نہیں ہوئی ہوگی جیسی شبینہ کی ہوئی، اس کے اعزاز میں دفتر ہی میں ایک خصوصی تقریب رکھی گئی جس میں معراج صاحب بھی شریک ہوئے۔
اس طرح لبنیٰ خیال کی چھٹی کا حکم منسوخ ہوگیا اور وہ مستقل طور پر ہماری معاون کے طور پر کام کرنے لگی،ہمیں فخر ہے کہ ہمارے بعد جاسوسی ڈائجسٹ کی ادارت ہماری معاون خصوصی کے پاس ہے، اس نے بلاشبہ بہت جلد اپنی بہت سی خامیوں پر قابو پایا اور ایک وقت ایسا بھی آیا جب بہت سے اہم کام ہم لبنیٰ پر چھوڑ دیا کرتے تھے، ایک اور اہم واقعہ بھی یہاں بیان کرنا ضروری ہے۔
ہماری بیگم سے لبنیٰ کے مراسم ابتدا سے تھے اور انتہا تک رہے، اکثر گھریلو تقاریب میں بھی لبنیٰ کی شرکت ضروری ہوتی تھی ، ایسے ہی ایک موقع پر ایک محفل موسیقی منعقد ہوئی جس میں لبنیٰ کے علاوہ ہماری بیگم ہی کے ایک واقف مختار آزاد بھی شریک تھے، محفل کے دوسرے دن وہ شبینہ سے ملے اور پوچھا ’’کل فلاں لڑکی کون تھی؟‘‘
شبینہ نے بتایا کہ وہ میری دوست ہے، مختار نے کہا کہ آپ میری شادی لبنیٰ سے کرادیں گویا پہلی ہی نظر میں مختار آزاد صاحب نے شادی کا فیصلہ کرلیا، شبینہ نے ہم سے ذکر کیا ، ہم بھی مختار سے واقف تھے ، وہ ایک تعلیم یافتہ اور بے حد ٹیلنٹڈ شخصیت کے مالک تھے ، ہمیں اس رشتے میں کوئی خرابی نظر نہ آئی تو ہم نے لبنیٰ سے بات کی، بلاشبہ وہ ایک روایتی مشرقی لڑکی ہے، اس نے کہا کہ اگر آپ بہتر سمجھتے ہیں تو مجھے کوئی اعتراض نہیں لیکن آپ میری والدہ سے بات کریں، ہم نے کہا کہ اپنی والدہ سے تم ہماری طرف سے بات کرلو، اگر وہ راضی ہوں تو ہم باقاعدہ طور پر رشتہ لے کر تمھارے گھر آجائیں گے،قصہ مختصر یہ کہ ان کی والدہ بھی راضی ہوگئیں ، ہم اور شبینہ ، مختار آزاد کی والدہ کے ہمراہ ان کے گھر لیاقت آباد پہنچ گئے ، اس طرح یہ رشتہ طے ہوگیا اور بالآخر شادی بھی ہوگئی۔
شادی کے بعد مختار کو خدا معلوم کیا ہوا کہ وہ شکوک و شبہات میں مبتلا ہوگئے، اب وہ اس دنیا میں نہیں رہے، اللہ ان کی مغفرت کرے لیکن شادی کے غالباً مہینہ بھر بعد ہی انھوں نے لبنیٰ پر زور دیا کہ وہ جاب چھوڑ دے۔
اس زمانے میں جے ڈی پی کے دفاتر ڈیفنس فیز ٹو منتقل ہوچکے تھے ، اس وقت بھی یہیں ہیں، ہمارا کمرا سیکنڈ فلور پر تھا جس میں لبنیٰ کے علاوہ نوشاد عادل بیٹھا کرتے تھے، درمیان میں ہماری ٹیبل اور ہمارے دائیں طرف نوشاد اور بائیں طرف لبنیٰ، بھائی مختار آزاد کو نوشاد سے خدا معلوم کیا شکایت ہوئی، انھوں نے کہا کہ یا تو ہم نوشاد کو اپنے کمرے سے نکال دیں یا پھر لبنیٰ کسی اور کمرے میں بیٹھے، ابھی اس الجھن کا کوئی حل سامنے نہیں آیا تھا کہ مختار نے ایک نہایت جارحانہ قدم اٹھالیا جو ہمارے لیے ناقابل برداشت تھا ، ہم لبنیٰ کو اپنے گھر لے گئے، شام کو مختار ہمارے گھر آئے تو خاصی گرما گرمی کے بعد بالآخر معاملہ خیروخوبی سے نمٹ گیا، اس گرما گرمی میں ہمارا رویہ مختار کے جارحانہ انداز کو دیکھتے ہوئے خاصا سخت ہوگیا تھا، مختار نے اس بات کو کبھی فراموش نہیں کیا، پہلے وہ جس پابندی سے ہمارے پاس آتے تھے، اب ان کا آنا جانا ختم ہوگیا، ہم ہی کبھی ان کے گھر چلے جاتے، بہر حال وہ ایک بے تحاشا کام کرنے والا بندہ تھا ، ہمارے سامنے ہی اسے شوگر کا عارضہ شروع ہوا اور پھر دیگر امراض نے بھی اسے گھیر لیا لیکن بہت سے امراض میں مبتلا افراد برسوں زندگی کے اونچے نیچے راستوں پر اپنا سفر جاری رکھتے ہیں، مختار کو پتا نہیں ایسی کیا جلدی تھی کہ وہ ایک رات اچانک ہی سب سے منہ موڑ کر اپنے مالک حقیقی سے جاملا ، یہ روایتی مصرع مختار پر بھی صادق آتا ہے ؂ حق مغفرت کرے عجب آزاد مرد تھا۔
یمنیٰ احمد سے ہماری پہلی ملاقات حسام بٹ کے ذریعے ہوئی، وہ اس ادارے میں کام کرنے کی بے حد آرزو رکھتی تھیں لیکن نامعلوم کیوں ہمیں ان کے اندر وہ ٹیلنٹ نظر نہیں آتا تھا جو ہمیں مطمئن کرسکے، ان کا رجحان شاعری کی طرف زیادہ تھا، اس لیے ہم ہمیشہ ٹال مٹول سے کام لیتے رہے اور یمنیٰ نے بھی شاید حوصلہ ہاردیا پھر ایک طویل عرصے بعد اس نے دوبارہ آفس آنا شروع کیا اور لبنیٰ سے تعلقات بڑھائے، ایک روز لبنیٰ ہی نے ہم سے کہا کہ آپ یمنیٰ کو چانس دیں، جواباً ہم نے لبنیٰ سے جو بات کہی وہ اسے آج تک یاد ہے، یہاں ہم اسے دہرانا نہیں چاہتے، بہر حال اس طرح لبنیٰ بھی سرگزشت سے وابستہ ہوگئی کیوں کہ حسام بٹ سرگزشت چھوڑ چکے تھے اور وہ آتش فشاں لکھ رہے تھے ساتھ ہی سسپنس کے لیے عبدالقیوم شاد صاحب کے چھوڑے ہوئے سلسلے مرزا امجد بیگ وغیرہ بھی ان کی ذمے داری تھے، یمنیٰ کو آئے ہوئے شاید مشکل سے ایک ماہ ہی ہوا تھا کہ ہم نے ادارہ چھوڑ دیا، یہ قصہ تفصیل سے پھر کسی وقت بیان ہوگا،(جاری ہے)

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

ڈائجسٹوں کی الف لیلہ۔ قسط نمبر 26۔ سید انور فراز

آنکھوں میں اُڑ رہی ہے لٹی محفلوں کی دُھول عبرت سرائے دہر ہے اور ہم …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے