سر ورق / کہانی / لاک ماسٹر۔ سید بدر سعید

لاک ماسٹر۔ سید بدر سعید

” لاک ماسٹر

لاک ماسٹر سے میری پہلی ملاقات اتفاقیہ تھی۔ ان دنوں میں نے کچھ دوستوں کے ساتھ مل کر چھوٹا سا اخبار شروع کیا تھا۔ در اصل ہمارا اپنے سابقہ اخبار مالک کے ساتھ شدید نوعیت کا جھگڑا ہو گیا تھا۔ وہ چار کمروں کے دفتر پر مشتمل ایک مقامی اخبار تھا۔ البتہ اخبار کا مالک اسے قومی سطح کے اخبار سے کم نہ سمجھتا تھا۔ اس کا ایک اہم سیاسی شخصیت سے جھگڑا ہو گیا۔ یہ کاروباری نوعیت کا جھگڑا تھا جسے اخبار مالک نے ذاتی جھگڑے میں تبدیل کر دیا۔ وہ کچھ عرصہ تو اپنے اس مخالف کے خلاف خبریں بھی چھاپتا رہا لیکن معاملہ کسی صورت حل نہ ہوا۔ دشمنی البتہ پہلے سے زیادہ بڑھ گئی۔ نوبت یہاں تک آ گئی کہ اس نے اخبار کی ساری ٹیم کو اس ایک شخص کے پیچھے لگا دیا اور حکم جاری کر دیا کہ اس کی ایک ایک لمحہ کی خبر رپورٹ کی جائے۔اس کا مقصد اسے زچ کرنا تھا لیکن اس حکم نامے کی وجہ سے ہم عجیب سی مضحکہ خیز صورت حال کا شکار ہو گئے۔ مجھ سمیت اخبار کے جملہ رپورٹر اس شخص کے دفتر کے باہر بیٹھے رہتے اور لوگ ہمیں یوں بلا مقصد بیٹھے دیکھ کر گھورتے رہتے ۔ اسی ہفتے ہمارے ایک رپورٹر کو پھینٹی پڑ گئی۔ اس کی پٹائی کرنے والے کو شک تھا کہ وہ یہاں بیٹھ کر اس کھڑکی کی طرف دیکھتا رہتا ہے جو اس کی بہن کے کمرے میں کھلتی ہے۔ اس صورت حال کو دیکھتے ہوئے ہم نے اخبار مالک سے احتجاج کیا تو اس نے صاف صاف کہہ دیا کہ جسے اس کی مرضی کے مطابق کام کرنا ہے وہ یہاں رہ سکتا ہے باقی سب چھٹی کریں، ان کے لئے اس اخبار میں کوئی جگہ نہیں۔

اخبار کے مالک کا کھرا جواب سن کر ہم بھی بھنا گئے ۔ ہمارے نزدیک یہ صورت حال کسی بھی طرح صحافت نہیں تھی لیکن اخبار مالک کے نزدیک اس کی ہر خواہش کی تکمیل ہی صحافت تھی۔ چھوٹے اخبار میں ملازمت کا ایک فائدہ یہ ہوتا ہے کہ انسان اخباری مراحل جلدی سیکھ جاتا ہے۔بڑے میڈیا گروپ میں تو معاملات اس قدر پھیلے ہوتے ہیں کہ اپنے سیکشن کے جملہ کام ہی سمجھ آ جائیں تو غنیمت ہے۔ قصہ مختصر ہم چند دوستوں نے وہ اخبار چھوڑ دیا اور اپنے اخبار کی اشاعت کا منصوبہ بنا لیا۔ لگ بھگ آٹھ ماہ اسی چکر میں رہے اور بالآخر ہم ایک اخبار کے آدھے آدھے مالک بن گئے۔ اس اخبار کا دفتر دو کمروں پر مشتمل تھا پرانے اخبار کے بیشتر لوگ ہمارے ساتھ مل گئے اور ہم نے اپنے سابقہ مالک کے سامنے والے پلازے سے اخبار جاری کر دیا۔یہ کارکن صحافیوں کا اخبار تھا۔ ان دنوں ہمارے ذہن میں آزادی صحافت اور جرا ¿ت مندانہ صحافت کے خیالات خوب پھلتے پھولتے تھے اور ہم آہنی دیواروں سے ٹکرا جانے کا عزم رکھتے تھے۔ بہر حال ایک روز میں دفتر پہنچا تو ہر چابی آزما لینے کے باوجود تالے نہ کھلے۔ اتنے میں دیگر دوست بھی آ گئے۔ ہم سب ایک دوسرے کا منہ تک رہے تھے کہ ایک رپورٹر کہنے لگا کہ اسی پلازے کے پاس ایک لاک ماسٹر بیٹھتا ہے۔ خیر اس لاک ماسٹر کو بلایا گیا۔ اس نے آتے ہی ایک نظر تالے کو دیکھا اور ہاتھ میں پکڑی ایک باریک تار کی مدد سے تالا کھول دیا۔ اسی سے معلوم ہوا کہ تالے کے ساتھ کسی نے گڑ بڑ کی تھی۔ ہم سب لمحوں میں سمجھ گئے کہ یہ کام سابقہ اخبار کی جانب سے ہوا تھا۔ اس روز لاک ماسٹر کی کارکردگی نے مجھے خاص طور پر متاثر کیا تھا۔

کچھ عرصہ بعد میں اس اخبار سے بھی الگ ہو گیا۔ مجھے ایک اور اخبار میں کرائم رپورٹر کی ملازمت مل گئی جس پر دوستوں سے مشورہ کرنے کے بعد میں نے اس ملازمت کو غنیمت جانتے ہوئے قبول کر لیا۔ در اصل یہ اخبار بھی ہم سب کا مستقل ٹھکانہ نہ تھا۔ ہم نے صحافت میں اپنا کیریئر بنانا تھا جو ظاہر ہے مقامی اخبار کا آدھا مالک بن کر نہیں بن سکتا تھا۔ لہٰذا بہتر جگہ جانے تک اسے ایک عارضی ٹھکانہ بنایا تھا۔ نئے اخبار کا دفتر بھی اسی علاقے میں تھا، اس لئے اکثر گزرتے ہوئے لاک ماسٹر سے ملاقات ہوتی رہتی تھی۔ وہ ایک چائے کے ہوٹل کے پاس بیٹھتا تھا ۔اس ہوٹل کی چائے باقیوں کی نسبت کچھ بہتر تھی اس لئے دوسروں کی طرح میں بھی اکثر وہاں چائے پینے آتا۔ اس چائے کے بہانے میری لاک ماسٹر سے بھی دوستی ہو گئی۔

لاک ماسٹر کا تعلق کسی پسماندہ گاﺅں سے تھا۔ شہر میں وہ تنہا رہتا تھا۔ اس کی کہانی بھی ان سینکڑوں نوجوانوں کی طرح تھی جو آنکھوں میں خواب سجائے کسی بڑے شہر کا رخ کرتے ہیں اور پھر شہر کی بھیڑ میں کہیں گم ہو جاتے ہیں۔ لاک ماسٹر بھی شہر آنے کے بعد کافی عرصہ فٹ پاتھ پر سوتا رہا۔ اسی فٹ پاتھ پر ایک بوڑھا شخص تالے چابیوں کا کام کرتا تھا۔ لاک ماسٹر اس کا شاگرد بن گیا اور دِنوں میں اس کام میں مہارت حاصل کر لی۔ بوڑھے شخص کے مرنے کے بعد اس نے وہاں سے بوریا بستر سمیٹا اور ہمارے علاقے میں آ گیا۔ اپنے کام میں مہارت کی وجہ سے اس کا کام چل نکلا اور پھر وہ یہیں کا ہو گیا۔

دوسری بار لاک ماسٹر کے کام کی مہارت اس وقت دیکھنے کو ملی جب میری موٹر سائیکل کی چابیاں گم ہو گئیں۔ میں موٹر سائیکل گھسیٹتا ہوا اس کے پاس لے گیا۔ اس نے مسکرا کر میری جانب دیکھا اور پھر اس باریک سی تار سے تالا کھول دیا۔ چند ہی منٹوں میں اس نے نئی چابیاں بنا دیں ہم بچپن میں ایسی کہانیاں پڑھا کرتے تھے جن میں ایک ایسی ” ماسٹر کی“ کا ذکر ہوتا تھا جس سے ہر تالہ کھل جاتا ہے، لاک ماسٹر کے پاس البتہ ایسی کوئی” ماسٹر کی“ نہیں تھی۔ اس کی ” ماسٹر کی“ وہی باریک سی تار تھی جس سے وہ ہر طرح کا تالہ سیکنڈوں میں کھول لیتا تھا ۔میں نے جب اس سے پوچھا کہ ایک ہی تار سے ہر تالہ کیسے کھل جاتا ہے تو اس نے بتایا کہ ہر تالے کا ایک ” پش پوائنٹ“ ہوتا ہے۔ اچھے لاک ماسٹر کو اس ” پش پوائنٹ“ کا علم ہوتا ہے۔میں تار سے اس پوائنٹ کو دباتا ہوں تو تالہ کھل کر ہاتھ میں آ جاتا ہے۔ اس کی بات سن کر میں نے بے ساختہ کہا: اس کا تو مطلب ہے کہ سارے تالے ہی بے کار ہیں۔ کوئی بھی لاک ماسٹر انہیں کھول سکتا ہے؟ اس نے ہنستے ہوئے تصدیق کی اور کہنے لگا: کوئی بھی لاک ماسٹر نہیں، صرف قابل اور اچھا لاک ماسٹر ہی ہر تالے کو سمجھ سکتا ہے، ورنہ کچھ تالے ایسے بھی ہیں جنہیں ہر لاک ماسٹر نہیں کھول سکتا۔ یہاں تو ایسے لوگ بھی دکانداری کر رہے ہیں جو تار سے تالا کھولنے کی بجائے اس کی سپرنگ باہر نکال کر تالا کھولتے ہیں ۔اس طرح چابی تو بن جاتی ہے لیکن تالہ کسی کام کا نہیں رہتا۔لاک ماسٹر اکثر کہا کرتا تھا ” فن یہ ہے کہ تالہ اس طرح کھولا جائے جیسے چابی سے کھلتا ہے۔ تالہ کاٹنا، سپرنگ نکالنا اور ایسے ہی دیگر کام تو اناڑی کرتے ہیں“۔

لاک ماسٹر کی زندگی نے ڈرامائی رنگ اسی دن اختیار کر لیا تھا جب اسے ایک امیر زادے نے اسی کے اڈے پر دھکا دیا تھا۔ ہوا کچھ یوں کہ ایک نودولتیا شخص چمکتی ہوئی گاڑی میں لاک ماسٹر کے پاس آیا۔ اس روز لاک ماسٹر کی طبعیت خراب تھی جس کی وجہ سے وہ روز مرہ کی طرح چاک و چوبند نہ تھا۔لاک ماسٹر کے پاس آنے والے نو دولتیے کے پاس ایک بھاری بھرکم تالہ تھا۔ غالباً وہ یہ تالہ اپنی فیکٹری یا گھر کے لئے خرید کر لایا تھا لیکن اس کی اصل چابیاں گم کر بیٹھا تھا۔ لاک ماسٹر نے اپنے مخصوص اندازمیں باریک تار کی مدد سے تالا کھولنے کی کوشش کی تو وہ شخص بھڑک اٹھا۔ اس کا خیال تھا کہ کسی قسم کی روایتی اوزار کی مدد کے بنا محض ایک تار سے اس مہنگے تالے پر زور آزمائی کرنے والا یہ لاک ماسٹر اس کی توہین کر رہا ہے۔ اس نے لاک ماسٹر کو سخت سست کہا اور گالیاں بکتے ہوئے نااہل اور کام چور قرار دے دیا۔ اس کا خیال تھا کہ لاک ماسٹر کو یہ اندازہ ہی نہیں کہ وہ کس قدر مہنگے اور پیچیدہ تالے کا کام کر رہا ہے۔ اس نو دولیے سے گالیاں سننے کے بعد لاک ماسٹر نے خاموشی سے اپنا سامان سمیٹا اور گھر چلا گیا، اس کے بعد وہ کبھی اپنی دکان پر نظر نہ آیا۔

لاک ماسٹر وہاں سے کہاں چلا گیا اس کا علم کسی کو نہ تھا۔ البتہ اس واقعہ کے بعد اس علاقے میں چوری کی وارداتیں شروع ہو گئیں۔ ایک ماہ میں ہی چار ایسی چوریاں ہو گئیں جنہوں نے مقامی میڈیا اور پولیس دونوں کو اپنی طرف متوجہ کر لیا تھا۔ اس عرصہ میں ایک بنک ، دو ملٹی نیشنل کمپنیز اور ایک سپر سٹور میں چوری کی واردات ہوئی۔ دلچسپ بات یہ تھی کہ اس سارے عمل کے دوران کسی کو بھنک تک نہ پڑی کہ یہ چوری کب ہوئی ۔جہاں جہاں یہ وارداتیں ہوئیں وہاں کے عملہ نے پولیس کو ایک ہی طرح کا بیان ریکارڈ کرایا۔ان کے مطابق کام کے اوقات کار کے دوران ان میں سے کسی کو چوری کا احساس نہیں ہوا۔اسی طرح انہوں نے وہاں کوئی مشکوک حرکت یا شخص کو بھی نہیں دیکھا۔ چاروں جگہ کے کیشیئرز نے بھی یہی بیان دیا کہ کیش باکس کو تالہ لگاتے وقت انہوں نے مکمل حساب چیک کیا تھا اور رقم اپنے ہاتھ سے رکھ کر تالہ لگایا تھا۔

پولیس نے انتظامیہ کے ساتھ مل کر صورتحال کا جائزہ لیا تو بنک کے سی سی ٹی وی کیمرے کا ریکارڈ بھی چیک کیا گیا۔اس سے یہ تو معلوم ہو گیا کہ چوری کی واردات رات کے وقت ہوئی لیکن چور کے بارے میں پھر بھی کچھ معلوم نہ ہو سکا۔ وہ ہوشیار چور واردات سے قبل بجلی کی سپلائی لائن کاٹ دیتا تھا اور پھر ایسے ہی دیگر حفاظتی تدابیر کے بعد چوری کرتا تھا۔ ابھی پولیس کی تفتیش جاری تھی کہ مزید تین وارداتیں ہو گئیں۔ دلچسپ بات یہ تھی کہ چور اپنی واردات کے بعد سارے انتظامات پہلے کی طرح کر جاتا تھا۔بجلی کی سپلائی لائن بحال ہوتی تھی، سبھی تالے ٹھیک نظر آتے اور کوئی بھی چیز اپنی جگہ سے نہ ہٹائی گئی ہوتی، صرف رقم غائب ہو جاتی تھی۔

لاک ماسٹر کے منظر عام سے غائب ہونے اور چوری کی ان وارداتوں کے شروع ہو جانے سے میرا دھیان بھی لاک ماسٹر کی طرف گیا۔ اس کا مجھ سے بھی کسی قسم کا رابطہ نہیں تھا۔ اس لئے میں نے مبہم انداز میں ان وارداتوں اور چور کے طریقہ کار کے ساتھ ساتھ لاک ماسٹر کی مہارت کا ذکر کرتے ہوئے ایک نیوز سٹوری بنا دی۔ میری اس نیوز سٹوری میں دو چیزوں پر زیادہ زور دیا گیا تھا۔ ایک یہ کہ یہ سب وارداتیں لاک ماسٹر کے غائب ہونے کے بعد شروع ہوئیں۔ دوسرا جس صفائی سے تالے کھولے گئے اور واردات کے بعد دوبارہ لگا دیے گئے۔یہ صفائی اور مہارت اس علاقے میں صرف لاک ماسٹر کے ہاتھ میں ہے۔ میری اس رپورٹ پر بعض دوستوں نے یہ کہتے ہوئے مذاق بھی اڑایا کہ تم لاک ماسٹر سے خاصے متاثر ہو اس لئے ایسی وارداتیں اس سے منسوب کر رہے ہو۔ سچ کہوں تو میں خود بھی کنفیوژ تھا ۔اس کی وجہ یہ تھی کہ میری سٹوری میں کڑی سے کڑی ملائی گئی تھی لیکن لاک ماسٹر سے کوئی رابطہ نہ ہونے کی وجہ سے میں اسے مکمل طور پر درست قرار نہیں دے سکتا تھا۔ دوسری جانب بعض حلقوں نے اسے درست قرار دینا شروع کر دیا۔

اسی دوران علاقے میں مزید دو بڑی وارداتیں ہو گئیں۔ پولیس ہر طرح کی کوشش کر کے دیکھ چکی تھی لیکن چور تک رسائی نہیں ہو سکی۔ یہاں تک کہ تمام تر انتظامات کے باوجود چوری کے وارداتیں بھی نہ روکی جا سکیں۔بڑے تاجروں نے خود اپنی سکیورٹی کے انتظامات کر لئے اور رات کے لئے بھی چوکیدار رکھ لئے ۔اس عمل نے صورت حال مزید خراب کر دی کیونکہ اگلی واردات میں چوکیدار کو بھی موت کے گھاٹ اتار دیا گیا ۔ عام طور پر رات کے وقت ڈیوٹی کرنے والا چوکیدار اتنا محتاط نہیں ہوتا، غالباً یہ چوکیدار بھی ایسا ہی تھا، بہر حال صبح اس کی گردن کٹی لاش ملی تو حالات مزید سنگین ہو گئے۔ چوری اور ڈکیتی کی ان وارداتوں کا سراغ شاید اتنی جلد نہ ملتا اگر مجھے وہ گمنام خط نہ موصول ہوتا۔ وہ خط لاک ماسٹر کی طرف سے پوسٹ کیا گیا تھا۔ اس میں لاک ماسٹر نے اعتراف کیا کہ یہ سب وارداتیں اس نے کی ہیں۔ اس کا کہنا تھا کہ اس نے ایسا صرف ان امیرزادوں کو بتانے کے لئے کیا ہے جو اس کے فن کو نکما سمجھتے تھے۔ اس لئے اس نے ان جگہوں کے تالے کھولے اور رقم اڑالی جہاں کے تالے اور لاک سسٹم کو سب سے مضبوط سمجھا جاتا ہے۔ اس نے اپنے خط میں یہ بھی کہا تھا کہ وہ کبھی بھی عام گھروں یا عام لوگوں کو نقصان نہیں پہنچائے گا بلکہ صرف ان لوگوں کو لوٹے گا جو دولت کے بل پر مزدور کو انسان نہیں سمجھتے۔ لاک ماسٹر کا یہ خط بھی میں نے اپنی نیوز سٹوری کے ” فالو اپ“ کے طور پر چھاپ دیا۔ لاک ماسٹر نے ابتدائی وارداتیں تنہا کیں لیکن چند ماہ بعد معلوم ہوا کہ وہ ایک گینگ بنا چکا ہے۔ اس علاقے میں اسے ” لاک گینگ“ کے نام سے یاد کیا جاتا تھا۔ اس گینگ نے چوری اور ڈکیتیوں سے لے کر قتل تک ہر طرح کی واردات کی۔ جب میں نے وہ علاقہ چھوڑا تب وہاں” لاک گینگ“ سب سے خطر ناک گینگ سمجھا جاتا تھا البتہ اس کا نشانہ عموماً امیر طبقہ ہی بنتا تھا۔ بعد میں ایک دو بار لاک ماسٹر نے فون کر کے اپنی بعض وارداتوں کے حوالے سے وضاحت بھی کی ۔ میرااس سے یہ ٹیلی فونک رابطہ بھی مسلسل نہ رہا کیونکہ وہ یا تو پی سی او سے فون کرتا تھا یا پھر کسی گمنام سم کارڈ سے فون کرتا جو رابطے کے بعد بند کر دی جاتی تھی۔

ایک عام سا لاک ماسٹر مجرم بنا تو اس نے جرائم کی دنیا کی تمام تر احتیاطی تدابیر بھی سیکھ لیں۔ اس کا گینگ علاقے کا سب سے خطر ناک گینگ سمجھا جانے لگا اور اس نے ہر بڑے نجی ادارے کے تالے کھول کر رقم چرائی۔ یہ اپنے فن میں انتہائی مہارت رکھنے والا کاریگر تھا۔ بد قسمتی سے ہمارے معاشرے میں ایسے محنتی افراد کی تذلیل کی روایت بہت مضبوط ہو چکی ہے۔ لاک ماسٹر کبھی پولیس کی گرفت میں نہ آیاا لبتہ جب اس علاقے میں زیادہ سختی ہوئی تو یہ گروہ اس علاقے سے کہیں اور غائب ہو گیا۔ اپنی تمام تر کارروائیوں کے باوجود وہ مجھے ملزم سے زیادہ مجبور محسوس ہوتا ہے۔ اسے ہم جیسے لوگوں نے مجرم بننے پر مجبور کیا تھا۔ میں آج بھی کبھی کسی لاک ماسٹر کے پاس جاﺅں تو مول تول کیے بنا اس کا منہ مانگا معاوضہ ادا کر دیتا ہوں۔ اس لئے بھی کہ حق حلال کمانے والے یہ لوگ اگر شرافت کی زندگی چھوڑ دیں تو پھر اس علاقے کا کوئی گھر، فیکٹری، اور گاڑی محفوظ نہیں رہتی۔ سچ کہیں تو میں انہیں ولی سمجھتا ہوں جو لاکھوں روپے اڑالے جانے کی قدرت رکھنے کے باوجود حق حلال کے چند سو روپے پر خوش ہیں۔

فریبی عشق

قتل کی یہ واردات میرے سامنے والے فلیٹ میں ہوئی تھی۔ اس کے باوجود یہ سچ ہے کہ میں قاتل اور مقتول دونوں کے بارے میں کچھ نہیں جانتا تھا۔ مجھے اس کیس سے متعلق معلومات اس وقت حاصل ہوئیں جب مقتول کی لاش پوسٹ مارٹم کے لئے بھیجی جا چکی تھی۔ ان دنوں میں کرائم رپورٹنگ کے دوسرے دور میں داخل ہو چکا تھا۔ اس لئے معقول تنخواہ کے ساتھ ساتھ لاہور ایسے شہر میں زندگی گزارنے کے ڈھنگ کو بھی سمجھنے لگا تھا۔ شہر کے بیشتر پولیس افسروں اور اہلکاروں کے ساتھ ساتھ جرائم پیشہ افراد کی اکثریت کے ساتھ پیشہ ورانہ تعلق قائم ہو چکا تھا اس لئے مجھے ”آﺅٹ آف ریکارڈ“ معلومات ملنے لگی تھیں۔ میں ایسی خبریں ”سورس“ کا نام ظاہر کئے بغیر شائع کر دیا تھا البتہ ان کی ”اینگلنگ“ اور ”فریمنگ“ اپنے ادارے کی پالیسی کے مطابق ہی کرتا تھا۔ ان دنوں مجھے یہ زعم ہوا کرتا تھا کہ شہر میں کوئی قابل ذکر جرم ایسا نہیں جس سے متعلق کسی نہ کسی سطح کی ممکنہ خبر مجھ تک نہ پہنچ چکی ہو۔ ایسی خبریں یا امکانات کا علم جرائم پیشہ افراد کے مختلف گروہوں میں سے کسی نہ کسی مخبر کے ذریعے ہو ہی جاتا تھا۔ اس لئے قابل ذکر جرم کی مصدقہ اطلاع ملنے کے فوراً بعد اپنی خبر میں اس کے پس منظر کو شامل کر کے بھرپور خبر تیار کرنا زیادہ مشکل نہ لگتا تھا۔ ایسے حالات میں مجھ تک ایک ایسے قتل کی اطلاع پہنچی جو میرے ہی فلیٹ کے سامنے والے فلیٹ میں ہوا لیکن مجھے اس کی بھنک تک نہ پڑ سکی۔ خبر ملنے کے بعد بھی مجھے علم نہ تھا کہ اس قتل کے محرکات کیا ہیں۔ ان حالات میں میرا جھنجھلاہٹ کا شکار ہونا شاید غیر فطری عمل نہ تھا۔

ان دنوں میں شہر کے نواحی علاقے میں ایک کرایہ کے فلیٹ میں رہتا تھا۔ یہ فلیٹ ایک پلازے میں بنائے گئے تھے۔ میں ہر روز صبح یہیں سے اخبار کے دفتر جاتا اور رات گئے لوٹ آتا۔ دوسرے درجے کے رہائشی ہوٹل کی طرز پر بنے ان فلیٹس کے دروازے آمنے سامنے کھلتے تھے اور درمیان میں راہداری تھی۔ مجھے یہاں آئے لگ بھگ دو ماہ ہو چکے تھے۔ ایک آدھ رہائشی خاندان سے سلام دعا بھی تھی لیکن زیادہ تر لوگ اپنے آپ میں مگن رہتے تھے۔ چونکہ کرائم رپورٹنگ کے ساتھ ساتھ میں جرائم پیشہ گروہوں کے مختلف معاملات میں بھی ٹانگ پھنسا بیٹھا تھا لہٰذا میری خواہش تھی کہ اپنی رہائش گاہ کو محفوظ رکھوں۔ اس لئے اس فلیٹ کا علم میرے چند ایک قریبی دوستوں کے سوا کسی کو نہ تھا۔ اسی طرح یہاں بھی میں نے دانستہ طور پر غیر ضروری کھوج سے پرہیز کی۔ اپنے ساتھ والے فلیٹس کے رہائشی نوجوانوں سے میری اچھی سلام دعا تھی۔ یہ بے ضرر سے نوجوان تھے جن میں سے دو طالب علم تھے اور دو تین ملازمت کرتے تھے۔ سامنے والا فلیٹ البتہ زیادہ تر بند ہی رہتا تھا۔ میرا خیال تھا اس کا رہائشی شخص بھی میری طرح تنہا رہتا ہو گا اور فلیٹ میں محض رات بسر کرنے آتا ہو گا۔ بہرحال میرے اور اس سامنے والے فلیٹ پر زیادہ تر تالا ہی لگا رہتا تھا۔

 جس وقت اس فلیٹ میں قتل ہوا اس وقت میں اپنے دفتر میں تھا۔ مجھے ساتھ والے فلیٹ میں رہنے والے ایک نوجوان نے فون کر کے قتل اور پولیس کی آمد کی خبر دی۔ اس کے مطابق پولیس میرے فلیٹ کے بارے میں پوچھ رہی تھی کہ یہاں کون رہتا ہے۔ ایک دو افراد نے پولیس کو بتا دیا تھا کہ ان دونوں فلیٹس پر زیادہ تر تالا لگا رہتا ہے۔ ظاہر ہے اس بیان کے بعد میں پولیس کی نظر میں مشکوک ہو گیا تھا۔ انہوں نے وہاں موجود افراد سے کہا اگر کسی کو میرا علم ہے تو مجھے فوراً بُلا لیا جائے۔ اپنے ہمسائے کے فون اور قتل کی خبر سُن کر میں نے ویسے بھی وہاں پہنچ جانا تھا۔ قصہ مختصر میں جب اپنے فلیٹ پر پہنچا تو پولیس لاش لے جا حکی تھی البتہ ایک سب انسپکٹر وہیں موجود تھا۔ اتفاق سے وہ سب انسپکٹر میرا شناسا تھا اس لئے میں مشکوک سے معتبر ٹھہرا۔ سب انسپکٹر اچھے موڈ میں ملا۔ اسی سے مجھے معلوم ہوا کہ سامنے والے فلیٹ میں ایک سرکاری اہلکار قتل ہوا ہے۔ اسے قتل کرنے والا کوئی مرد نہیں بلکہ ایک دھان پان سی لڑکی تھی۔ اہلکار کی لاش پوسٹ مارٹم کے لئے بھیجی جا چکی تھی جبکہ قاتلہ کو گرفتار کر کے تھانے لے جایا جا چکا تھا۔ یہ سب انسپکٹر وہاں روایتی تفتیش کے لئے موجود تھا اور ارد گرد کے فلیٹس سے معلومات حاصل کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ جائے قتل یعنی سامنے والے فلیٹ کو سیل کر دیا گیا تھا۔ میں نے وہیں سے اس سرکل کے ایس پی کو فون کیا اور اس کیس سے متعلق دلچسپی کا اظہار کیا۔ ایس پی صاحب نے متعلقہ تھانے ہدایات جاری کر دیں اور مجھے اجازت دے دی کہ میں قاتلہ سے مل کر اپنی رپورٹ تیار کر لوں۔

اسی شام میں متعلقہ تھانے پہنچ گیا۔ ایس پی کی ہدایات وہاں پہنچ چکی تھیں۔ اس کے علاوہ متعلقہ تھانے کے عملہ سے بھی میری جان پہچان تھی۔ مجھے انسپکٹر کے کمرے میں بٹھایا گیا اور تھوڑی ہی دیر بعد ہتھکڑیوں میں ملزمہ کو بھی وہیں لایا گیا۔ میرا مقصد محض خبر کی بجائے اصل کہانی تلاش کرنا تھا اس کے لئے ضروری تھا کہ ملزمہ کو خوف کی کیفیت سے نکال کر اعتماد اور حوصلہ دیا جائے۔ اسی لئے میں نے انسپکٹر کو مخصوص اشارہ کیا۔ اسے میرے کام کے طریقہ کا علم تھا لہٰذا دو اہلکاروں کو کمرے کے دروازے پر تعینات کر کے انسپکٹر سمیت باقی سب کمرے سے باہر چلے گئے۔ میں نے ابتدا میں ادھر ادھر کی ہلکی پھلکی گفتگو شروع کی۔ اس کا مقصد ملزمہ کو گفتگو کے لئے آمادہ کرنا تھا۔ اس کیس کی تفصیلات مجھے اسی ملاقات میں ملزمہ سے حاصل ہوئی تھیں۔ قاتلہ کا نام صدف تھا۔ ابتدائی پندرہ منٹ بعد ہی وہ مجھ پر کھل گئی۔ ایسا محسوس ہوتا کہ جیسے وہ خود بھی کسی سے گفتگو کر کے اپنا دل ہلکا کرنا چاہتی تھی۔ پولیس والوں کے روایتی طریقہ تفتیش اور کھردرے لہجے نے اسے یہ اعتماد نہیں دیا تھا۔ اس لئے ان کے سامنے وہ اس قدر تفصیل سے نہ بول پائی۔ مجھے اس نے کسی معصوم بچے کی طرح چھوٹی چھوٹی باتیں بتانی شروع کر دیں۔ وہ اپنے بچپن اور گھر کی باتیں بتا رہی تھی اور میں انہی کی بنیاد پر اپنی کہانی ب ±نتا جا رہا تھا۔ درمیان میں کہیں کہیں سوال کر کے اسے اپنے مخصوص ٹریک پر بھی لاتا جا رہا تھا۔

اس قاتلہ سے جو تفصیل معلوم ہوئی اس کے مطابق اس کا تعلق متوسط گھرانے سے تھا۔ وہ پانچ بہنیں تھیں ۔اس کا اکلوتا بھائی بچپن میں گردن توڑ بخار کی وجہ سے وفات پا چکا تھا۔ جب وہ میٹرک میں تھی تو اس کے والد ایک روڈ ایکسیڈنٹ میں ہلاک ہو گئے۔ اس کے بعد ان پانچوں بہنوں کی ذمہ داری ان کی والدہ نے اُٹھا لی۔ اس کی والدہ نے ایک فیکٹری میں پیکنگ کے شعبہ میں ملازمت شروع کر دی۔ اس کے علاوہ وہ محلے کے لوگوں کے کپڑے سی کر بھی کچھ رقم حاصل کر لیتی تھیں۔ اس تنگ دستی کے عالم میں بھی انہوں نے بیٹیوں کی تعلیم کا سلسلہ نہ ٹوٹنے دیا۔ صدف اپنی بہنوں میں سب سے بڑی تھی۔ اس نے مشکل حالات میں بھی ایم اے تک تعلیم حاصل کی۔ اس دوران وہ ٹیوشن پڑھا کر کچھ رقم حاصل کر لیتی تھی۔ اس طرح اس نے اپنی تعلیم کے لئے اپنی والدہ پر زیادہ بوجھ نہ ڈالا۔ دوران تعلیم ہی اسے عرفان سے محبت ہو گئی۔ عرفان بھی اس کے ساتھ پڑھتا تھا۔ اسی دوران عرفان کو ایک سرکاری ادارے میں ملازمت مل گئی۔ اس ملازمت کی خوشی عرفان سے زیادہ صدف نے منائی کیونکہ اسے یقین تھا کہ اب ان دونوں کی شادی ہو جائے گی۔ عرفان نے بھی اسے یقین دلایا کہ حالات بہتر ہوتے ہی وہ اس سے شادی کر لے گا۔ ان کے درمیان ملاقات کا سلسلہ بھی جاری رہا۔

 دو سال اسی طرح بیت گئے ۔اس دوران صدف کو بھی ایک سرکاری سکول میں ملازمت مل گئی۔ اس کی تنخواہ عرفان سے زیادہ تھی۔ اب دونوں نے مستقبل کی منصوبہ بندی شروع کر دی۔ صدف کو اپنی ذمہ داری کا احساس بھی تھا اور اپنی بہنوں کی تعلیم و تربیت اور شادی کی فکر بھی تھی ۔ عرفان نے اسے یقین دلایا تھا کہ شادی کے بعد دونوں مل کر صدف کی بہنوں کی شادیاں کرائیں گے اور اخراجات خود اٹھائیں گے۔ عرفان مختلف حربوں سے محبوریوں کا رونا رو کر صدف سے رقم لے جاتا تھا۔ صدف اس کی جائز ناجائز خواہشات بھی پوری کرتی رہی۔ اس نے لاہور میں ایک فلیٹ کرایہ پر لے لیا۔ یہ وہی فلیٹ تھا جس کے سامنے والا فلیٹ اس قتل سے دو ماہ قبل میں نے کرایہ پر لیا تھا۔ کاغذات میں بظاہر اس فلیٹ کا کرایہ دار عرفان ہی تھا لیکن ملزمہ کے مطابق اس کا ایڈوانس اور مکمل کرایہ وہی ادا کرتی تھی۔ اس کی ایک ایک چابی دونوں کے پاس تھی اور اکثر عرفان رات گھر جانے کی بجائے ےہےں ٹھہرتا تھا۔ صدف کا خےال تھا کہ اگر وہ باہر عوامی مقامات پر ملےں گے توا س کا اثر اس کے گھر پر پڑے گا اور اس کی بہنوں کے لئے اچھے رشتے نہےں آئےں گے۔ اسے ےہ سوچ عرفان نے ہی دی تھی۔

                ان دنوں پرےمےوں کی ےہ محبت لگ بھگ پانچ سال سال چلتی رہی۔ اس دوران صدف نے متعدد بار شادی کا وعدہ ےاد دلاےا لےکن عرفان گھر والوں کے انکار کو جواز بنا کر معاملہ ٹالتا رہا۔ جب صدف کے صبرکا پےمانہ لبرےز ہونے لگا تو اس نے عرفان سے سختی سے بات کی۔ دونوں کے خاندان مےں ان کی محبت ےا رابطے کا علم ہو چکا تھا۔ اسی لئے صدف ایک بار عرفان کے گھر بھی چلی گئی لےکن وہاں اسے دھتکار دےا گےا۔ اس کے بعد عرفان کا روےہ بھی بدلنے لگا۔ ملزمہ نے بتاےا کہ وہ ”پل مےں تولہ، پل مےں ماشہ“ بن جاتا تھا۔ کبھی وہ اس کے ساتھ اجنبےوں جےسا سلوک کرتا توکبھی محبت جتانے لگتا۔ مجھ سے گفتگوکرتے کرتے اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ اس نے ہتھےلی کی پشت سے چہرہ صاف کےا اور کہنے لگی : وہ مجھ سے کورٹ مےرج کے لئے آمادہ ہو گےا تھا۔ ہم نے کورٹ مےرج کا منصوبہ بناےا کےونکہ عرفان کے گھر والے اس شادی پر رضامند نہےں تھے۔ رہنے کے لئے ہمارے پاس فلےٹ پہلے سے ہی موجود تھا۔ اس فلےٹ کو مےں نے مکمل طور پر رہنے کے قابل بناےا اور ضرورےات زندگی کا ہر سامان لے آئی۔ عرفان نے تےن بار مجھے کورٹ مےرج کے لئے عدالت بُلاےا۔ ہر بار مےں وہاں اس کا انتظارکرتی رہی لےکن وہ کبھی نہ آےا۔ ہر بار اس کے پاس نہ آنے کا بہانہ ہوتا تھا۔ ایک بار اس کی ماں کی طبےعت خراب ہو گئی‘ دوسری بار اسے اےمرجنسی ڈےوٹی پر بُلا لےا گےا اور تےسری بار تو اسے ےاد ہی نہ رہا تھا کہ ہماری شادی ہونی ہے۔ وہ دوستوں کے ساتھ شہر سے باہرگےا ہوا تھا اور اس کی واپسی تک عدالت کا وقت ختم ہو چکا تھا۔ ےہ جانتے ہوئے بھی کہ وہ جھوٹ بول رہا ہے ، مےں نے تےنوں بار اس کے جھوٹے بہانے سُنے، ۔ تےسری بار کورٹ سے تنہا واپس آتے ہوئے مجھے ےقےن ہو گےا تھا کہ وہ مجھ سے کبھی شادی نہےں کرے گا۔ مےری وجہ سے مےری چھوٹی بہنےں بھی گھر بےٹھی ہوئی تھےں۔ کوئی رشتہ آتا بھی تو پہلا سوال یہی ہوتا تھا کہ بڑی والی کی شادی کےوں نہےں ہوئی؟ ہمارے پاس اس سوال کا کوئی جواب نہ ہوتا تھا۔

قاتلہ کے مطابق وہ عرفان کی ٹال مٹول کے باوجود اس کے ساتھ تھی۔ اسے امےد تھی کہ اےک نہ اےک دن عرفان اس سے شادی کر لے گا۔ اس نے بتاےا کہ وہ کبھی کبھار ذہنی دباو ¿ سے نجات حاصل کرنے کے لئے سکول سے چُھٹی کے بعد تنہا اس فلےٹ پر آ جاتی تھی اور کچھ دےر پُرسکون نےند لےنے کے بعد شام کو گھر چلی جاتی تھی۔ کچھ عرصہ سے اسے احساس ہونے لگا تھاکہ اس کے ےہاں آنے پر اردگرد کے لوگ اسے عجےب نظروں سے گھورتے ہےں۔ آخر اےک دن قرےب کے فلےٹ مےں رہنے والی اےک خاتون نے اس سے پوچھ لےا کہ کےا وہ ےہاں رہتی ہے؟ اس خاتون کے سوال کا انداز بھی کچھ عجےب سا تھا۔ صدف نے اس خاتون کو کہا کہ : ےہاں وہ اور اس کے شوہر رہتے ہےں۔ دونوں ملازمت کرتے ہےں اس لئے فلےٹ عام طور پر بند نظرآتا ہے۔ خاتون نے اس سے ہمدردی جتاتے ہوئے رواےتی انداز مےں کہا کہ وہ اپنی آنکھےں کھلی رکھا کرے ورنہ گھر اُجڑتے دےر نہےں لگتی۔ اس کی اس بات کا مطلب نہ سمجھتے ہوئے صدف نے اسے کھل کر بات کرنے کا کہا جس پر اس نے انکشاف کےا کہ اس فلےٹ پر رنگ برنگی لڑکےاں آتی ہےں اور اس کا شوہر کسی نہ کسی لڑکی کے ساتھ فلےٹ مےں داخل ہوتا نظر آتا ہے۔ اس لئے وہ صدف کو بھی اےسی ہی لڑکی سمجھ رہی تھی۔

 صدف کے لئے ےہ انکشاف کسی بم کے گولے سے کم نہ تھا۔ اس نے اپنے طور پر تحقےق کی تو اس خاتون کی بات درست ثابت ہوئی۔ عرفان کی تےن مختلف لڑکےوں سے دوستی تھی جو اسی سطح پر پہنچ چکی تھی جس سطح پر صدف سے اس کا تعلق تھا۔ عرفان کی ہر زےادتی برداشت کرنے والی صدف ےہ زےادتی برداشت نہ کر سکی۔ اس نے عرفان کو فلےٹ پر بُلاےا۔ وہ ہمےشہ کی طرح آ گےا۔ وہےں اس کے سرکاری پستول سے صدف نے اس کے سےنے مےں دو گولےاں مار دےں۔ عرفان اسی وقت دم توڑ گےا۔ صدف وہاں سے فرار ہونے لگی لےکن گولےاں چلنے کی آواز سُن کر لوگ اکٹھے ہو چکے تھے۔ انہوں نے اسے پکڑ لےا اور پولےس کو فون کر دےا۔

اپنی کہانی سُناتے ہوئے صدف نے سر اٹھا کر مےری آنکھوں مےں آنکھےں ڈال کر مےری طرف دےکھا تو مجھے اس کے چہرے پر ندامت ےا خوف کی کوئی علامت نظر نہ آئی۔ اس نے کہا: وہ مجھے برباد کر چکا تھا لےکن مےں نے مزےد کسی لڑکی کو برباد ہونے سے بچا لےا ہے۔ مجھے اس قتل پر کوئی شرمندگی نہےں۔ وہ انسان نہےں بلکہ ہڈےاں بھنبھورنے والا اےسا پاگل کتا بن چکا تھا جو ہر جگہ منہ مارنے کا عادی ہوتا ہے۔ مجھے صرف اس بات کا دکھ ہے کہ گرفتاری کے بعد اب مےری سرکاری ملازمت ختم ہو جائے گی۔ مےری والدہ اور بہنوں کی اس ملازمت سے بہت سی امےدےں وابستہ تھےں۔ ابھی مجھے اپنی بہنوں کا جہےز تےارکرنا تھا لےکن عرفان اپنے ساتھ ان سب کی خوشےاں بھی ختم کر گےا ہے

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

دیدی کا پیڑ … یوگیش کناوا/عامر صدیقی

دیدی کا پیڑ یوگیش کناوا/عامر صدیقی ہندی کہانی ……………. دفتر کے باہر،کوﺅں کی تیز کائیں …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے