سر ورق / سفر نامہ / دیکھا تیرا امریکہ۔۔۔ رضا الحق صدیقی

دیکھا تیرا امریکہ۔۔۔ رضا الحق صدیقی

پٹامک ریور،گریٹ فالز اورراک کریک پارک

انٹرنیٹ کی دنیا بھی بڑی عجیب ہے ۔دور دراز جگہ پر بیٹھا ہوا شخص ایسا محسوس کرتا ہے کہ وہ دور ہوتے ہوئے بھی اپنوں کے ساتھ ہے،عدیل کے فلیٹ میں بیٹھ کر انٹرنیٹ دنیا بھر میں موجود احباب کو میرے رابطے میں رکھتا ہے۔ابھی کل ہی کی بات ہے قدیر پیرزادہ نے پاکستان میںہنزہ ویلی اور اس کے گرد و نواح کے تفریحی مقامات پر اپنے دوستوں کے ساتھ تفریح کرتے ہوئے ،ویلی دیکھتے دکھاتے ہوئے،تصاویر اور ویڈیوز لوڈ کی ہیں،یقین کیجئے،دل خوش ہوگیا،پاکستان واقعی دنیا میں اپنے تفریحی مقامات کے اعتبار سے جنتِ نظیر ہے۔

امریکہ میں ہم یہاں کی یاترا کر رہے ہیں،روز کسی نا کسی مقام کی سیرسے جی بہلا رہے ہیں۔

 گریٹ فالز ایک تفریحی مقام ہے جہاں دریائے پٹامک کا تیز بہتا پانی فال کی شکل میں تیزی سے گرتا بھلا لگتا ہے۔اردگرد جنگل نما پارک جس میں بورڈ واک کرنے کا اپنا ہی مزا ہے۔ہمارے ہاں تفریحی مقامات پر سہولتوں اور انتظامات کا فقدان ہے۔امریکہ میں جگہ جگہ تفریحی مقامات پر وہ چاہے خوبصورت ہوں یا نہیںلیکن سیاحوں کی حفاظت کے ساتھ ساتھ مقامات کے تحفظ کا بھی پورا پورا خیال کیا جاتا ہے۔دریائے پٹامک کے اردگرد جنگل نما پارک میںسے دریائے پٹامک کی فالز کے قابلِ دیدمقامات دیکھنے کے لئے وہاںتک جانے کے لئے لکڑی کی گذر گاہیںبنائی گئی ہیں جن کے دونوں جانب حفاظتی جنگلے نصب ہیںتاکہ کوئی شخص بھی ان جنگلوں میں نہ جا سکے۔

عدیل کے مطابق گریٹ فالز کے آس پاس جتنے جنگل ہیں وہاں انسان قدم نہیں رکھ سکتا،ان کے اندر جانا منع بھی ہے اور خطرناک بھی۔اندر جانا منع اس لئے بھی ہے کہ وہ قدیمی حالت میں جوں کے توں محفوظ رہیں اور وہاں سے ایک ٹہنی اٹھا کر لے جانا بھی جرم ہے۔امریکیوں کو اپنی سرزمیں سنبھالنے کا فن آتا ہے۔وہ اسے دھرتی ماں سمجھتے ہیں اور اس کی دل و جاں سے حفاظت کرتے ہیں۔

انہیں اپنے جانوروں،پرندوں،جنگلوں،دلدلوں،ندیوں،آبشاروں اور قدیمی غاروں کو محفوظ کرنے اور سنبھالنے اورانہیں انسانوں سے بلند درجے پر فائز کرنے کا خبط ہے۔اصل میں یہ خصوصیت یہاں کے قدیمی آباد باشندوں کے خون میں تھی جو وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ پھیل کر پورے امریکیوں میں سرائیت کر گئی۔

جن لوگوں کے پاس قدیم تاریخ ہے وہ اپنے ماضی کو سنبھالنے میں کمال کرتے ہیں۔پاکستانی ایسی ہی قوم ہے ہڑپہ اور مہنجوڈارو ،جہاں کے عجائب گھر اس خطے کی سات ہزار سال قدیم تہذیب کی نمائیندگی کرتے ہیں۔ان کی بودوباش،تہذیب و تمدن،کیا کچھ نہیں ہے ان کے پاس۔پاکستان کے بعد امریکہ میں مجھے احساس ہوا کہ یہ قوم بھی ماضی سنبھالتی ہے۔پاکستان ایک پرانی دنیا ہے اس نے اپنا ماضی سنبھالنا ہے لیکن ہم آج تک یہ فیصلہ نہیں کر پائے کہ ہماری ثقافت کیا ہے اور ہماری تاریخ کہاں سے شروع ہوتی ہے۔ہمارے پاس قدیم ثقافت بھی ہے اور شاندار سرزمین بھی یعنی ہمارے پاس دونوں کے شواہد ہیں،اپنی ثقافت اور سرزمین سے عشق تبھی ہوتا ہے جب آپ ایک قوم ہوں،اپنی دھرتی کے وارث ہوں اور اس کے باسی ہونے پر فخر کریں۔ہندوستان نے اردو کو ہندی کا نام دیا اور اسے اپنی دھرتی سے جوڑا،اسے ایک نیا رسم الخط دے کر اسے اپنا لیا۔ہم اردو کو عربی رسم الخط میں اپنانے کے باوجود اسے دھرتی سے جوڑ کر ،،پاکستانی ،، کا نام نہ دے سکے۔

امریکہ اک نئی دنیا ہے جس کے پاس کوئی ماضی نہیں صرف حال ہے اور اسی حال میں جو کچھ اس کے پاس ہے امریکیوں کو اسی کو سنبھالنا ہے۔

دریائے پٹامک امریکہ کی چار ریاستوں،میری لینڈ،ورجینیا،مغربی ورجینیا اور واشنگٹن کو سیراب کرتا ہے۔ اس کے ایک کنارے پر میری لینڈ اور واشنگٹن کی سرحد ختم ہوتی ہے تو دوسری جانب ورجینیا کی دونوں ریاستیں ہیں۔پٹامک گریٹ فالز کے قابلِ دید مقامات میری لینڈ کی جانب سے علیٰحدہ خوبصورتی رکھتے ہیں جبکہ ورجینیا کی جانب سے مناظر واقعی قابلِ دید ہیں۔یہ بات اپنی جگہ،لیکن ہمارے پاکستان کے بالائی سرحدی علاقوں میں بہتے دریاﺅں کے فالز اپنی مثال آپ ہیں۔

پٹامک دریا 405میل لمبائی کا حامل ہے،امریکہ میں بہنے والے دریاﺅں میں یہ اکیسویں(21) نمبر پر ہے۔

دریائے پٹامک اپنے ساتھ نوح الاقسام تہذیبیں ساتھ لاتا ہے،مغربی ورجینیا کے بالائی بہاﺅ کے علاقے میں بسنے والے کوئلہ کے کان کنوں سے لے کر زیریں شہری علاقے درالخلافہ کے رہائیشیوں کے علاﺅہ شمالی ورجینیا کے مچھیروں تک۔

امریکہ کی تاریخ اور ثقافت میں اہمیت کی بنا پر پٹامک کو ،،قوم کا دریا،، کا نام دیا گیا۔جارج واشنگٹن،امریکہ کے پہلے صدر،اسی علاقے میں پیدا ہوئے اور زندگی کا بیشتر حصہ پٹامک کے طاس میں گذارا،اسی علاقے میں امریکہ نے تین سول جنگیں سن1859،سن1861اورسن1862میں لڑیں۔سن1862میں ہونے والی سول وار میں جنرل رابرٹ ای لی نے اس دریا کو عبور کیا بالکل اسی طرح جیسے سکندرِاعظم نے دریائے سندھ کے دوسری جانب صف آرا راجہ پورس سے جنگ کے لئے اس بپھرے ہوئے دریا کو عبورکیا تھا اور اسے شکست دی تھی۔اسی دریا کے گریٹ فالز کی خوبصورتی دیکھتے تاریخ کا ایک بہتا دریا عود کر آیا تھا۔

امریکہ اورپاکستان کی تاریخ و ثقافت کے بارے میںسوچتے ہوئے جنرل رابرٹ کا تصور میری نظروں کے سامنے پھرگیا کہ کس طرح اس وقت دریائے پٹامک کے پانیوں پر کھوکھلے تنے والے کینٹﺅ پر تیر کر دریا عبور کیا ہو گا۔جنرل اور ان کی فوج کے سرخ و سفید بدنوں پر سورج کی کرنیں پڑ رہی ہوں گی۔میں جس جگہ کھڑا تھا وہاں بادل میرے اور دھوپ کی راہ میں حائل تھے،اچانک بادل چھٹ گئے۔گرمی کے اچانک اس احساس نے محسوس کرایا کہ وہ بھی دھوپ چھاﺅں کے اس کھیل سے گذرے ہوں گے۔سامنے سے بہہ کر آتا پانی بتا رہا تھا کہ معلوم تاریخ کے مطابق دریائے پٹامک کے بہتے پانی دس،بیس لاکھ سال سے ایسے ہی بہہ رہے ہوں گے بالکل اسی طرح جیسے سکندرِ اعظم نے دریائے سندھ کو عبور کرتے ہوئے محسوس کیا ہو گا۔

ایک سحر تھا جو مجھ پر طاری تھا،تاریخ کے ڈوبتے،ابھرتے اوراق اس علاقے کی کہانی بیان کر رہے تھے۔

،،پاپا یہ آپ اچانک کہاں کھو جاتے ہیں،ابھی پیچھے آپ گرتے گرتے بچے ہیں،پیر پر چوٹ بھی لگ سکتی تھی،،

 عدیل نے فکرمندانہ لہجے میں کہا

میں اسے کیا بتاتا کہ میں تاریخ کے کس دور میں پہنچ گیا تھا،میں نے کھسیانی سی ہنسی کے ساتھ اس کی جانب دیکھا،ایک ناقابلِ قبول سا جواز پیش کیا اور آگے چل دیا۔

میری لینڈ سے گریٹ فالز کی جانب جاتے ہوئے پٹامک دریا سے پہلے دائیں جانب سرسبز علاقہ راک کریک پارک ہے۔اس ہائی وے پر اس علاقے سے گذرتے ہوئے میں دیکھ رہا تھا کہ وہاں ہائیکنگ کے رستے بنے ہوئے تھے جن پر لوگ جوگنگ کر رہے تھے۔ایک پونی ہلاتی لڑکی اپنے کتے کے ساتھ اسی ہائیکنگ ٹریک پر بھاگتی نظر آئی،گاڑی کی رفتار بہر طور ان کی جوگنگ کی رفتار سے تیز تھی اس لئے یہ منظر بھی تیزی سے گذر گیا۔

راک کریک پارک سن1890میں کانگرس کے ایک ایکٹ کے ذریعے معرض وجود میںآنے والا تیسرا نیشنل پارک تھا لیکن آج کل اس کی دیکھ بھال کی ذمہ داری نیشنل پارک سروس کے پاس ہے۔امریکہ کے ایک صدر بنجمن ہیری سن نے کانگرس کے اس ایکٹ پر دستخط کئے۔نیشنل پارک سسٹم میں شامل یہ سب سے قدیم قدرتی شہری پارک ہے جس کی تعمیر سن1897میں شروع ہوئی۔یہ پارک تقریباََ 2000 ایکڑ پر پھیلا ہوا ہے۔

راک کریک پارک دوسرے جنگل نما پارکوں کی طرح ہی ہے لیکن اسے بڑا منظم کیا ہوا ہے۔ یہ امریکہ کا حال ہے،یہ کیا یہاں کا ہر پارک ہی ان کا حال ہے اوراپنے حال کو سنبھالنے کا فن امریکیوں کو خوب آتا ہے یہاں جنگل سے ایک ٹہنی بھی اٹھا کر لے جانا جرم ہے یہی وجہ ہے کہ امریکہ اتنا سرسبز نظر آتا ہے ،ایک ہم ہیں کہ جنگل کے جنگل بیچ کھاتے ہیں اور کوئی قانون حرکت میں نہیں آتا۔ٹمبر مافیا کی انہی حرکتوں کی وجہ سے حسین ترین پاکستا ن حسین ترین نظر نہیں آتا،بارشوں کے نہ ہونے کی وجہ کم ہوتے جنگلات ہیں،بارشوں کے نہ ہونے کی وجہ اور جنگلوں کی تعداد میں ہونے والی کمی نے ہمیں دنیا کی ان قوموں میں شامل کرا دیا ہے جو پانی کی کمی کا شکار ہیں۔امریکہ کو اپنا ماضی ،اپنا حال سنبھالنا آتا ہے،ہمیں یہی نہیں معلوم ہمیں کرنا کیا ہے؟۔

—0—0—

کتے تیتھوں اتے

شینن ڈوا کے ہیڈکوارٹر شہر لیورے میںجس موٹل میں ہم ٹھہرے،اس کی پچھلی جانب ایک وسیع وعریض لان تھا،ہمیں کمرے بھی اسی طرف ملے۔ہمیں کمروں کی چابیاں تھما کر موٹل کا مالک کم منیجر وہاں سے جا چکا تھا۔ہم نے سامان کمروں میںرکھا۔ابھی دوپہر کے تین بجے تھے،عدیل کہنے لگا ابھی کچھ دیر ریسٹ کرتے ہیں۔پھر کچھ دیر باہر لان میں بیٹھیں گے،چائے پیئیں گے۔آج کا دن تو یہیں لیورے شہر کی سیر کریں گے۔کل صبح لیورے کیونز دیکھنے چلیں گے سنا ہے بہت خوبصورت جگہ ہے۔ہمارے کمرے ساتھ ساتھ اور ایک دوسرے سے منسلک تھے۔عدیل اور رابعہ ساتھ والے کمرے میں چلے گئے۔دونوں کمروں کے درمیان دروازہ ہونے کی سب سے زیادہ خوشی عنایہ کو تھی کہ کبھی وہ ایک کمرے میں آ رہی تھی تو کبھی دوسرے میں۔اس کے اس آنے جانے نے عدیل اور رابعہ کو ریسٹ نہیں کرنے دیا۔تھوڑی ہی دیر بعد انہوں نے ہمارے کمرے میں جھانکا اور کہنے لگے،آئیں کچھ دیر لان میں بیٹھتے ہیں،ہم تو پہلے ہی تیار بیٹھے تھے۔باہر لان میں اس وقت کوئی اور نہیں تھا،شایددوسرے کمروں والے صبح ہی صبح اپنے پروگرام کے مطابق سیر اور گردونواح میں واقع تفریح گاہیں دیکھنے نکل گئے ہوں گے۔ابھی ہم لان میں آ کر بیٹھے ہی تھے کہ ہمارے کمروں سے دو کمرے چھوڑ کر جو کمرہ تھا اس میں رہائش پذیرفیملی واپس آ گئی۔تین چار افراد کی یہ فیملی گاڑی سے اتری تو ساتھ ہی ایک کتا بھی اتر کر ان کے ساتھ کمرے میں چلا گیا۔کچھ دیر بعد وہ ساری فیملی اپنے کتے سمیت لان میں آ گئی۔لان میں آ کرانہوں نے کتے کی زنجیر کھول دی۔کتے کی مالکن نے ایک گیند دور پھینکی،کتا بھاگتا ہوا گیا اور گیند کو منہ میں دبائے واپس آ گیا۔وہ فیملی اپنے کتے کے ساتھ دور بیٹھی کھیلنے میں مصروف تھی۔لان کے درمیان باربی کیو کے لئے ایک ہٹ بنا ہوا تھا۔عنایہ بھاگتی ہوئی جاتی۔خیالی چائے دادا ابو اور دادی کے لئے بنا کر لاتی،کچھ دیر کے بعد پیالیاں واپس ہٹ کی طرف لے جاتی۔کچھ دیر یہ آنکھ مچولی جاری رہی پھر اس کی دادی بھی اٹھ کر اس کے پاس ہٹ میں چلی گئیں۔اتنے میں اس فیملی نے جو گیند گھمائی تو وہ سیدھی ہٹ کی جانب آئی،کتا بھاگتا ہوا گیند کی طرف ؛پکا،عنایہ اور اس کی دادی سہم گئیں کہ کتا ان پر حملہ آور ہو رہا ہے۔جس وقت یہ وقوعہ ہو رہا تھا میںکمرے سے ویڈیو کیمرہ لینے گیا ہوا تھا۔کیمرہ لے کر میں کمرے سے باہر آ رہا تھا کہ اچانک مجھے عنایہ کے رونے اور اس کی دادی کی چیخ سنائی دی،میں نے لان کی جانب دیکھا تو کتا ہٹ کی جانب لپک رہا تھا،دادی نے عنایہ کو اپنی باہوں میں سمیٹ رکھا تھا اور دونوں زور زور سے چیخ رہی تھیں۔ ان کی چیخیں سن کر کتے کی مالکن بھی کتے کے پیچھے بھاگنے لگی۔کتا،چیخیں سن کر ہٹ سے پہلے ہی رک گیا۔اتنے میں کتے کی مالکن نے وہاں پہنچ کر کتے کے گلے میںزنجیر ڈال دی اور کہنے لگی یہ حملہ کرنے نہیں،اس بچی سے کھیلنے آ رہا تھا،یہ بھی تو ابھی بچہ ہی ہے۔وہ فیملی تو معذرت کر کے چلی گئی لیکن مجھے امریکہ کی گلی کوچوں میں گھومتے وہ تمام کتے یاد آ گئے جو کسی نہ کسی گوری کے ساتھ بڑی شان سے چل رہے ہوتے تھے یا کسی نہ کسی گوری یا کالی کی گود میں براجمان اپنی معصوم سی صورت کے ساتھ دنیا دیکھ رہے ہوتے تھے۔چلتے چلتے یہ گوریاں یا کالیاں بڑے پیار سے ان کتوں کا بوسہ بھی لے لیتی تھیں،ایک دو جگہ میں نے یہ بھی دیکھا تھا کہ کتے کا بوسہ لینے کے بعد اپنے ساتھ چلتے اپنے کسی پیارے کے ہونٹوں کا بوسہ لے کراسے کچھ کہہ رہی ہوتی تھی شاید یہ کہ پیارے تم برش اچھی طرح کیا کرو تمہارے منہ سے رات کی پی ہوئی شراب کی بو آ رہی ہے،حالانکہ کچھ دیر پہلے اپنے کتے کا بوسہ لیتے ہوئے اسے ایسی کوئی شکایت کتے سے نہیں ہوئی تھی۔

پاکستان میں برگر فیملیوں کے علاﺅہ کتا پالنے کا ایسا کوئی خاص رواج نہیں ہے۔ویسے تو برگر اب گلی کوچوں میں عام دستیاب ہے۔یہ جملہ معترضہ تھا بہر حال پاکستان میں گلیوں کے آوارہ کتے خاصے خطرناک ہوتے ہیں۔ عنایہ کی دادی بلاوجہ نہیں چیخی تھیں،کتے کو لپکتے دیکھ کر انہیں عدیل کے بچپن کا وہ واقعہ یاد آ گیا تھا جب لاھور میں سمن آباد کی ڈونگی گراﺅنڈ میں شارٹ کٹ کے چکر میںگراﺅنڈ میں موجود آورہ کتوں کی ایک ٹولی میں سے ایک کتا عدیل اور اس کی ماں کو دیکھ کر ان پر لپکا تھا اور ماں نے عدیل کو بچانے کے لئے اسے اپنی باہوں میں بھر لیا تھااور ساتھ ساتھ حسبی اللہ کا ورد کر رہی تھی،اس وقت بھی ایک لمحے کے لئے خوف کے عالم میں چیخ اٹھی تھی آج کی طرح۔

یہاں امریکہ میں،کتا،انسانوں جیسے حقوق کا حامل ہے۔امریکہ میں جہاں انسانی حقوق کی تنظیمیں ہیں وہیں کتے کے حقوق کے تحفظ کے لئے بھی متعدد سوسائیٹیاں ہیں جو انسانوں سے زیادہ ان کے حقوق کا تحفظ کرتی ہیں۔ان کی تنقید کا زیادہ تر نشانہ کوریا،چین اور ان ملکوں کے لوگ ہوتے ہیں جو ان کتوں کواپنے پیٹ کا ایندھن بنا لیتے ہیں۔

ہم پاکستان میں جس محکمے میں کام کرتے تھے وہاں کوریا اور چین نے بہت منصوبے مکمل کئے تھے اور اب بھی کر رہے ہیں۔اپنے عرصہِ ملازمت میں متعدد بار ہم صحافیوں کی ٹولیوں کو ان منصوبوں پر لے کر گئے،وہاں کے مقامی لوگوں نے بتایا کہ ہمارے علاقے میں کتوں اور سوروں کی بہتات تھی،رات کے سناٹے میں کتوں کے بھوکنے کے علاﺅہ کچھ سنائی نہیں دیتا تھا لیکن جب سے ان پروجیکٹوں پر غیر ملکیوں نے کام شروع کیا ہے کتوں نے بھوکنا بند کر دیا ہے اور نظر بھی نہیں آتے۔یہ بات ہمیں واجد نے بھی بتائی تھی جو چین میں 20 سال سے زائد وقت گذار کر واپس آئے تھے کہ چین، جاپان اور کوریا میں کتے،بلی،سور بلکہ ہر چیز کا گوشت کھا لیا جاتا ہے،یہ تو اس نے ہمیں نہیں بتایا کہ وہ یہ گوشت کس طرح کھاتے ہیں لیکن یہ ضرور بتایا تھا کہ ڈوگ پارٹی وہاں کی خاص پارٹی کہلاتی ہے اور پوڈل سوپ ان کی مرغوب غذا ہے۔

امریکہ کے کئی سٹوروں میں Petsکی دکانیں بھی ہوتی ہیں جہاں چھوٹے بڑے مختلف نسلوں کے کتے بلیاں ملتی ہیں۔جال دار پنجروں میں بند یہ جانور امریکیوں کو اپنی طرف کھینچتے ہیں۔انہی دکانوں سے ان جانوروں کی سیل بند ڈبوں میں خوراک بھی ملتی ہے۔ میں نے بہت سے سٹوروں میں جب رابعہ اور عنایہ کی دادی مختلف چیزیں دیکھ رہی ہوتی تھیں توہم نے ایک بار یونہی تجسس میں ایک سرخ اورسنہری رنگ کا ڈبہ اٹھا کر دیکھا تھا۔امریکہ میں خوراک کے ڈبوں پر اندر موجود خوراک کے پورے اجزاءلکھے ہوتے ہیں۔یہ خوراک چاہے انسانوں کی ہو یا حیوانوں کی۔میں نے ڈبے پر لکھے اجزاءپڑھے تو حیران رہ گیا،وہ خوراک،کتوں کی خوراک اتنی توانائی بخش تھی کہ پاکستان میں اتنی توانائی والی غذا انسانوں کو بھی میسر نہیں۔ اس سٹور سے جانوروں کے شیمپو،پٹے،زنجیریں اور برش بھی ملتے ہیں۔سردیوں میں کتوں کو گرم رکھنے کے لئے خوبصورت رنگوں کے جیکٹ نما لبا س بھی تھے وہاں،جو ان کی کمر پر ڈال کر نیچے پیٹ پر کلپ کے ساتھ باندھ دئیے جاتے ہیں۔

امریکہ میں کتوں کے بیوٹی سیلون،انہیں نہلانے،دھلانے،شیمپو کر کے بال سنوارنے کی سہولتیں بھی دستیاب ہیں۔اب تو کتوں کے ماہر نفسیات بھی وہاں دستیاب ہیں جو کتوں کی نفسیاتی الجھنوں کو دور کرتے ہیں۔

یہ سب چونچلے مراعات یافتہ کتوں کے لئے ہیں۔ہمارے ہاں کے ڈونگی گراونڈ میںلوگوں پر بھونکنے اور کاٹنے کے لئے دوڑنے والے کتوںکے لئے نہیں ہیں،مراعات تو خیریہاں انسانوں کو بھی حاصل نہیں ہیں،فیض احمد فیض نے نقش فریادی میں جو نظم ،،کتے،، لکھی ہے شاید وہ ہمارے ہاں ہمہ قسم غیر تربیت یافتہ ،، کتوں،،کی نمائندگی کرتی ہے۔

یہ گلیوں کے آوارہ بے کار کتے

کہ بخشا گیا جن کو ذوقِ گدائی

زمانہ کی پھٹکار، سرمایہ ان کا

جہاں بھر کی دھتکار ان کی کمائی

نہ آرام شب کو،نہ راحت سویرے

غلاظت میں گھر،نالیوں میں بسیرے

جو بگڑیں تو اک دوسرے سے لڑا دو

ذرا ایک روٹی کا ٹکڑا دکھا دو

ہر ایک کی ٹھوکریں کھانے والے

یہ فاقوں سے اکتا کر مر جانے والے

یہ مظلوم مخلوق گر سر اٹھائے

تو انسان سب سرکشی بھول جائے

یہ چاہیں تو دنیا کو اپنا بنا لیں

یہ آقاﺅں کی ہڈیاں چبا لیں

کوئی ان کو احساسِ ذلت دلا دے

کوئی ان کی سوئی ہوئی دم ہلا دے

خیر بات ہو رہی تھی لیورے موٹل کے باہر کتے کے لپکنے اور اس کی مالکن کے تاویلیں پیش کرنے کی۔ یہ انہی کتوں میں سے ایک کتا تھاجن کے ماتھے پربقول بلھے شاہ لکھ دیا گیا تھا کہ کتے تیتھوں اتے۔جن کے خاموش ہونے پر،بات نہ کرنے پر،پاس سے گذرتی جوان کتیا کو دیکھ کر بھی دم نہ ہلانے پر تشویش کا اظہار کیا جاتا ہے اور ماہرِ نفسیات کو بلایا جاتا ہے۔ ہم خاموش رہے کہ وہ امریکی کتا تھا جسے وہاں بہت سارے حقوق حاصل تھے اور اپنے گھر میں توہر کتا شیر ہی ہوتا ہے۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

دیکھا تیرا امریکہ ۔ رضا الحق صدیقی

لکڑی کے دیوار و در ایک روز ہم گھر پر ہی موجود تھے،رابعہ کہنے لگی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے