سر ورق / سفر نامہ / حضرت شاہ۔۔۔ مسافر تیرے شہر میں ۔ ساجد فاروق

حضرت شاہ۔۔۔ مسافر تیرے شہر میں ۔ ساجد فاروق

حضرت شاہ

                مسیولینی اکثر مجھ سے یہ شکایت کرتا کہ فلیٹ میںکوئی ہے اور میں نے اسے ہمیشہ سمجھایا کہ یہ تمہارا وہم ہے۔ یہاں کوئی نہیں ہے اور پھر کسی سے ذکر بھی نہ کرنا، سب تمہارا مذاق اڑائیں گے۔لیکن وہ اس طرح ہمیشہ کج بحثی کرتے ہوئے لمبی چوڑی دلیل دیتا اور شہادتیں پیش کرتا۔ مثلا ً ایک دلیل اس پاس یہ ہے کہ ایک اتوار ہم نے چپلی کباب بنائے تھے۔ان میں سے دیر سے آنے والے دوست کے لئے دس کباب رکھے تھے۔ لیکن جب وہ آیا تو فریج میں آٹھ کباب پڑھے تھے۔ وہ دو کباب کدھر گئے؟ اس طرح فریج کے حوالے سے ایک اور دلیل دیتا تھا کہ فریج کا دروازہ اکثر کھلا ہوا ہوتا ہے۔ جیسے ابھی ابھی کسی نے کچھ کھا لیا ہو۔ایک اور دلیل یوں ہے کہ رات کو دروازوں کے کھلنے اور بند ہونے کی چر چراہٹ سنائی دیتی ہے۔ گھر میں میرے سوا کوئی نہیں ہوتا اور اچانک ٹائلٹ سے فلش ہونے کی آواز آتی ہے۔ میں بھاگ کر وہاں جاتا ہوں تو کوئی نہیں ہوتا۔ اس کے پاس ایک ڈراﺅنی دلیل بھی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ کبھی کبھی سسکیوں کی آوازیں بھی آتی ہیں۔ایسا کہ جیسے کوئی کسی کی یاد میں رو رہا ہو۔اگر کبھی فسٹ فلور پر ہوں تو یہ احساس ہوتا ہے کہ اوپر کوئی بہت بے قراری کے عالم میں ادھر سے ادھر چل پھر رہا ہو۔ اس کی ایک شہادت میرے دل کو بھی لگی ہے اور وہ یہ ہے کہ اس نے جب مجھ سے سوال کیا کہ ”کیا کبھی تم نے احساس کیا ہے کہ جب تم صبح صبح یونیورسٹی جاتے ہو تو کمرے کے باہر جوتے ایک خاص ترتیب میں رکھے ہوتے ہیں۔“

                مسیولینی کی اس بات پر مجھے تھوڑا سا شک پیدا ہوا۔ کیونکہ وہ ہمیشہ شام کوآنے کے بعد جوتے اتار کر جانوروں کی طرح پھینک دیا کرتا تھا۔ لیکن ہر صبح وہ حیرت انگیز سلیقے سے رکھے ہوئے ملتے تھے۔ میں تو یہی خیال کرکے خوش ہو رہا تھا کہ شائد مسیولینی مہذب ہو گیا ہے اور رات کے کسی پہر میں جوتے ٹھیک کر دیتا ہے لیکن وہ اس سلیقہ سے انکاری تھا۔ فلش ہونے کی آواز میں نے بھی کئی دفعہ سنی تھی۔ جبکہ گھر میں میرے سوا کوئی نہیں ہوتا تھا۔ میں خیال کرتا تھا کہ ہمارا فلش خراب ہو گیا ہے۔ خود ہی پانی کے زور سے چل جاتا ہے۔ مسیولینی ضعیف الاعتقاد تو تھا ہی لیکن یہ ساری باتیں سن کر میر ا اعتماد بھی ڈانواڈول سا ہو گیا۔ مسیولینی نے مجھے یہ بھی یاد دلایا کہ جب میرا بنک کریڈٹ کارڈ کھو گیا تھا، سارے فلیٹ کی تلاشی لینے کے بعد بھی وہ نہ ملا تھا۔ پھر یہ خیال کرے ہوئے کہ کہیں باہر نہ کھو گیاہو پولیس کو رپورٹ کر دی تھی۔ لیکن اگلے ہی روز وہ مجھے گھر میں ہی پڑا مل گیا تھا۔ میںنے خود کو تسلی دی کہ نظروں سے اوجھل ہو گیا ہو گا لیکن دل میں کھٹکا سا پیدا ہو گیا تھا کہ ” تو پھر ۔۔۔۔! کیا اسی نے رکھ دیا تھا جس کے بارے میں مسیولینی کو وہم سا ہو گیا ہے۔“ یہ اس لیے بھی تھا کہ میرے فلیٹ میں جو کمرہ ہے اس کی ایک کھڑکی قبرستان کی طرف کھلتی ہے۔ یہودیوں کا یہ قبرستان ایک صدی پران ہے۔ مسیولینی کے واہمہ سے پہلے مجھے ایساویسا کچھ نظر نہیں آیا تھا۔مگر دل میں پڑنے والا شک مزید بڑھتا چلا گیا۔

                میں نے بچپن میںایک آسیب زدہ لڑکی کو دیکھا تھا۔ وہ ہمارے گاﺅں کی ہی تھی۔عام حالات میں وہ بھلی جنگی ہوتی۔ سوچا بھی نہیںجا سکتا تھا کہ اس پر آسیب کا سایہ ہے۔ کیونکہ مجھے پتہ ہی نہیں تھا کہ یہ ”آسیب کا سایہ“ کیا ہوتا ہے۔پھر ایک دن اسے دیکھ کر اتنی حیرت ہوئی کہ میں خوف زدہ ہو گیا۔ نرم و نازک لڑکی لمحوں میں نیم کے درخت پر چڑھ گئی۔ پھر اس کی چھوٹی اور بڑی شاخیں جنہیں عام حالات میں توڑا بھی نہیں جا سکتا پھول کی پتیوں کی مانند توڑ توڑ کے نیچے پھینکنے لگی۔ اتنی زور سے چیخ رہی تھی کہ پورا گاﺅں جمع ہو گیا۔کسی کی بھی ہمت نہ ہوئی کہ کوئی اسے پکڑ لیتا۔ بچے سہم کر اپنی ماﺅں سے چمٹ گئے تھے۔ اس جواں سال لڑکی نے اپنے کپڑے پھاڑنا شروع کر دیئے۔ گاﺅں کے ایک بڑے نے وہاں پر موجود سبھی لوگوں کو چلے جانے کے لئے کہا۔ اس نے کہا تھا۔ ” لڑکی آسیب زدہ ہے تعویذ پہننا بھول گئی ہے۔اب اس پر جنوں اور چڑیلوں نے اپنا قبضہ کر رکھا ہے“

                وہاں پر موجود سبھی لوگو فورا ً چلے گئے۔ اگلی صبح پتہ چلا کہ وہ لڑکی بھولے کے ڈھیر میں دبی ہوئی ملی۔ لڑکی کے بھائیوںنے اسے وہاں سے نکالا تھا۔ وہ زندہ تھی۔ اسے ”کڑے پیر“ کے پاس لے جایا گیا۔پھر کئی دنوںبعد پتہ چلا کہ کڑے پیر کی کرامت سے لڑکی جنات کے قبضے سے آزاد ہو گئی ہے۔ اس وقت بھی معمہ میری سمجھ سے بالا تر تھا۔ لیکن اس کے برعکس پنجاب ہی کے ایک گاﺅں کے قبرستان میں ایک ملنگ رہتا تھا۔اس کا کہنا تھا کہ اس قبرستان پر بد روحوںکا قبضہ ہے ۔ اس لئے سڑک کے بس سٹاپ سے لے کر گاﺅں جانے والا راستہ جو قبرستان سے گذرتا ہے بند کر دیا جائے۔ ہو سکتا ہے کسی کو نقصان پہنچ جائے۔ جلد ہی یہ بات مشہور ہو گئی ۔ گاﺅں گاﺅں سے ہوتی ہوئی یہ بات پورے علاقے میں پھیل گئی۔ لوگ ادھر جانے سے کترانے لگے۔ اس دوران کئی ضدی نوجوان ادھر سے گذرے بھی۔ انہی میں سے دو نوجوانوں کی لاشیں دستیاب ہوئیں۔ جن کی آنکھیں خوف سے پھٹی ہوئی تھیں۔تب یہ یقین کر لیا گیا کہ واقعتا قبرستان پر بد روحوں کا قبضہ ہے۔ بیرون ملک رہنے والا نوجوان گاوں میں آیا تو اس نے یہ سب سن کر یقین نہ کیا۔ اس نے اسی راستے کو اپنی گذر گاہ بنا لیا۔ ایک رات چڑیل نے اس پر حملہ کر دیا۔ وہ چونکہ ایسی باتوں کے خوف میں مبتلا نہیں تھا۔ اس نے چڑیل کو پکڑ لیا۔ وہ چڑیل اسی گاﺅں کی ایک فاحشہ عورت تھی۔جس کے ناجائز تعلقات اسی قبرستان میںرہنے والے ملنگ سے تھے۔ اپنے کرتوتوں پر پردہ رکھنے کے لیے انہوں نے سادہ لوح لوگوں کی ضعیف الاعتقادی کو استعمال کیا تھا۔

                میں نے اپنے آپ کو تسلی دی اور مسیولینی کو سمجھایا۔” تمہیں یاد نہیں گذشتہ دنوںجب ہم نے ڈاکٹر گنوری شنکر کو اپنے ہاں کھانے پر بلایا تھا۔ تو اس نے بتایا تھا کہ یہ ایک بیماری ہے جیسے میڈیکل سائنس میںہسٹریا کہتے ہیں اور یہ اکثر جواں سال کنواری لڑکیوں کو ہو جاتی ہے۔“

                ”ڈاکٹر شنکر نے یہ بھی بتایا تھا کہ بھارت میں ان کے آبائی گھر میں صندوقچوں میں پڑے سفید کپڑوں پر خون کے چھینٹون کے داغ ہو جایا کرتے تھے اور کبھی ان کا گھر ایسی انہونی خوشبو سے بھر جایا کرتا تھا کہ جیسے عطر گلاب سے پورے گھر کو غسل دیا گیا ہو ۔ اور اس نے یہ بھی بتایا تھا کہ ان کے گھر سے دور دراز تک گلاب کے پھولوں کا نام ونشان تک نہیںتھا۔ “ مسیولینی نے میری بات کاٹی تھی اور پھر بڑے جوش سے اس نے اپنی دلیل کہہ دی تھی۔ میں اس کی اس بات پر اسے کیا جواب دیتا۔ خاموش رہا۔ میرے کچھ نہ کہنے پر وہ پھر جوش سے بولا” ڈاکٹر شنکر نے یہ بھی بتایا تھا کہ بچپن میں وہ ایک بار سوئی ہوئی تھی کہ گھر کے آنگن سے ایک خطر ناک سانپ نکلا اس کی چارپائی کے قریب آ گیا تھا۔ اس سے پہلے سانپ اسے کاٹ لیتاکسی انجانی قوت نے اسے جھنجوڑ کر جگا دیاتھا۔جس پر ڈاکٹر کی نانی نے کہا تھا کہ گھر میں کوئی رہتا ہے لیکن ہمیں نظر نہیں آتا۔“

                مسیولینی کی ان باتوں سے میرے وسوسوں میں یکدم اضافہ ہو گیا۔ میں نے تمام تر خیالات کو جھٹک کر تقریباً چیختے ہوئے کہا۔”ڈاکٹر گنوری شنکر بکواس کرتی ہے۔ وہ خود مریض ہے۔ ہسٹریا کے مرض میں مبتلا ہے۔“

                وہ میری چیخ و پکار پر سہم گیا۔ جیسے میںکوئی بھوت پریت ہوں۔ کافی دیر تک خاموش رہا، پھرآہستہ سے بڑے نرم اور معصوم لہجے میں بولا۔”تمہیں یاد ہے جب ہم رنجیت سنگھ کے ساتھ گوردوارے گئے تھے تو وہاں موجود بوڑھے سفید ریش سکھ بابا نے کہا تھا کہ بیٹا شادی کر لو ورنہ بھوت پریت بن جاﺅ گے۔“

                مسیولینی نے سوال کچھ ایسی معصومیت سے کیا تھا کہ میرا غصہ فوری طور پر ختم ہو گیا۔ مجھے اندازہ ہوا کہ اسے بوڑھے سکھ پرتقریباً یقین تھا۔ اب شائد مجھ سے مہر تصدیق ثبت کروانا چاہ رہا ہو۔ تب میں نے اسے سمجھاتے ہوئے کہا۔”دیکھو! اس بوڑھے اتم سنگھ کا مقصد معاشرتی برائیوں کی نشاندہی تھا۔ نئی نسل چونکہ شادی بیاہ کے جو بندھن ہوتے ہیںان کے چکروں میں نہیں پڑناچاہتی۔ بابا جی کا مقصد صرف اور صرف شادی کر لینے کی ترغیب میں اتنا کہہ کر چپ ہو گیا۔ اور اس کے چہرے پرنئی سنجیدگی کو دیکھا ، جو ذراسی بھی نہیں ہٹ رہی تھی۔

                ”بابا نے ایسا کیوں کہا؟“ اس نے پوچھا

                ” اس میں فلسفہ یہ ہے کہ بیاہ کے بندھن میں بندھ جانے کے بعد بندہ مختلف قسم کی ذمہ داریوں میںمصروف ہو جاتا ہے۔ گھر چلانے اور بنانے کی فکر، بچوں کی پرورش اور ایسی ہی کئی ذمہ داریاں۔ مگر وہ جو بیاہ نہیں کرتا جو ان سب چیزوں سے آزاد ہوتا ہے اسے کوئی فکر نہیں ہوتی اس کا ذہن شیطانی سوچوں کی آماجگاہ بنا رہتا ہے۔

                مسیولینی کی سمجھ میں یہ بات تو آگئی لیکن فلیٹ میں ہونے والے واقعات پر وہ ابھی تک پریشان تھا اور ڈاکٹر گﺅری شنکر کی باتوں کا بھی اثر تھا۔

                ایک دن ہمارے گھر میں کراچی میں موجود سادات خاندان سے تعلق رکھنے والے لمبے تڑنگے ”حضرت شاہ“ تشریف لے آئے۔ وہ سول انجینئر کی اعلیٰ تعلیم کے لئے آئے ہوئے تھے۔ تھوڑی سی رنگین مزاجی کے باعث لیسٹر اسکوائران کی پسندیدہ جگہ تھی۔ جیسے ہی انہوں نے بتایا کہ وہ پیر گھرانے سے ہونے کی وجہ سے کچھ کرامات کے مالک بھی ہیں۔ تبھی مسیولینی کو موقع مل گیا۔ چھوٹتے ہی سارے واقعات ایک ہی سانس میں بیان کر دیئے۔ حضرت شاہ نے کما ل وارفتگی سے ساری باتیں سنی اور فوراً ہی تیار ہو گئے کہ دیکھتے ہیں کیا بات پے؟ جھٹ با وضو ہو کر فلیٹ میں اگر بتیاں جلا دیں۔ پورے گھر میں دھواں پھیل گیا۔ میرا دم گھٹنے لگا تو میں باہر چلا گیا اور بعد میں مسیولینی کی زبانی معلوم ہوا کہ حضرت شاہ بڑے کمرے کے درمیانی حصہ کو چلہ کشی کے لئے موزوں جگہ قرار دیتے ہوئے وہاں براجمان ہو گئے۔ہاتھ کی انگلی سے اپنے اردگرد ایک فرضی لکیر بنالی۔ مسیولینی کے مطابق ایسا کرنے سے آفات کے غیر متوقع حملہ سے محفوظ رہتے ہوئے وہ اپنا کام جاری رکھ سکیں گے۔اس نے بتایا کہ حضرت شاہ نے ایک بڑے سے سفید کاغذ پر ایک خاص ترتیب سے حروف تہجی لکھ دیئے اوردرمیان میں شیشے کا ایک گلاس رکھ دیا،پھر منہ ہی منہ میں کچھ بڑ بڑاتے رہے۔ گلاس حرکت میں آ گیا۔ وہ کبھی ایک حروف کی طرف جاتا اوعر کبھی دوسرے کی طرف یہ عمل کافی دیر جاری رہا۔ پھر انہوں نے سوال جواب شروع کر دیئے۔ خود سوال کرتے جس کے جواب مجھے سنائی نہیںدے رہے تھے۔ میںاس کی بے جا تفصیل سے تنگ آ گیا تھا۔ اس کی بات کاٹ کر کہا”یہاں ہے کیا یہ اس نے بتایا“۔

                ”ایک یہودی عورت کی روح ، جو بھٹکتی پھر رہی ہے۔“ مسیولینی نے انتہائی خوف کھاتے ہوئے کہا۔

                ”وہ کیوں یہاں ہے؟“ میں نے چڑتے ہوئے کہا۔

                ”وہ سارا وقت ادھر نہیں رہتی۔ یہ جو فلیٹ کے عقبی حصے میںایک صدی پرانا قبرستان ہے نا اس میں رہتی ہے۔ کبھی کبھار اس فلیٹ میں آتی ہے۔ انتہائی بے ضرر قسم کی روح ہے۔“ اس نے اسی انداز میں جواب دیا۔

                ”مسیولینی میں پوچھ رہا ہوں وہ کیوں بھٹک رہی ہے؟“ میں نے پوچھا۔

                ”حضرت شاہ نے بتایا ہے کہ یہ ایک ماں کی روح ہے جو اپنے شیر خوار بچوں کے لیے بھٹک رہی ہے۔ اس کے بچے آس پاس کے کسی گھر میںجل گئے تھے۔ وہ تو جل کر راکھ ہو گئے لیکن ماں کی ممتا کو سکون میسر نہ آیا“

                ”حضرت شاہ اس وقت کہاں ہیں؟“ میںنے بات بدلنے کے لیے اس سے پوچھا۔

                ”لیسٹراسکواٹر والے کلب میںگئے ہیں۔ کہہ رہے تھے بہت تھک گیا ہوں ۔ اب ذرا ”سکون“ لے لوں“

                اب مجھے مسیولینی سے خوف آنے لگا تھا۔ ہر چیزکو ایسے دیکھتا کہ ابھی اٹھے گی اور بولنا شروع کر دے گی۔میں اس خوف سے نجات چاہتا تھا۔ اس کا یہی حل تھا کہ یا تو میںگھر بدل لوں یا پھر اس خوف کو ذہن سے اتار پھینکوں۔ مگر کیسے؟ یہی سوچتے ہوئے ذہن میں خیال آ ہی گیا کہ اردگرد کے گھروں سے معلوم کروں کہ یہودی عورت کی روح ان کے ہاں بھی آتی ہے۔ میں نے ان لوگوں سے کچھ اس انداز میں پوچھا کہ انہیں میری بات مذاق نہ لگے۔ خوف تو بہر حال میرے ذہن سے نکل گیا۔ کیونکہ سبھی نے کہا کہ ان کے ہاں کوئی غیر متوقع واقعہ پیش نہیں آیا۔ لیکن ایک بات سمجھ میں آ گئی۔

                ہوا یوں کہ بوڑھے ڈاکٹر گاندھی کا گھر بھی ہمارے نزدیک ہی تھا۔ وہ اکثر ہمیں کونسل کی لائبریری میں ملتے تھے۔ خود کو ماہر نفسیات بتاتے تھے۔ ریٹائرڈ زندگی گذار رہتے تھے۔ باتوں کو طول دینے میںکمال حاصل تھا۔انہیں کافی دن تک لائبریری میںنہ دیکھا ۔ ایک دن سرارہ گاندھی کا بیٹا رواہول مل گیا۔ میرے ساتھ مسیولینی بھی تھا۔ میں نے ان کے بارے میں پوچھا تو راہول نے بتایا کہ ڈیڈی کا مرض بڑھ گیا تھا۔ اس لیے انہیں منٹیل ہسپتال میںداخل کروادیا ہے۔

                ہمارے استفعار پر اس نے ایک طویل بات میں فقط اتنا بتایا کہ اس کے ڈیڈی تاربارتھے۔ وہ کبھی بھی ماہر نفسیات نہیں رہے تھے بلکہ انہیں مالیخولیا جیسا مرض لاحق تھا۔ انہوں نے گھر کے لوگوں کو ہمیشہ تنقید کانشانہ بنایا کہ سب گھر والے پاگل ہیں اور انہیں علاج کی ضرورت ہے۔ راہول نے اتنی ہی بات تقریباً آدھے گھنٹے میں بتائی۔ میں مسیولینی کو اشارہ کیا کہ چلو یہ بھی مسٹر گاندھی کا بیٹا ہے۔ کچھ بیماریاں تو خون در خون منتقل ہوتی رہتی ہیں۔ اسی طرح خوف بھی نسل در نسل سفر کر رہا ہے

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

دیکھا تیرا امریکہ۔ رضاالحق صدیقی

میسی اور دوسرے سٹورز ہمیں امریکہ آئے پندرہ دن ہو گئے تھے۔عدیل آفس چلا جاتا …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے