سر ورق / کہانی / ایک غیر ملکی دورہ شوبھا دے: غلام حسین غازی 

ایک غیر ملکی دورہ شوبھا دے: غلام حسین غازی 

ایک غیر ملکی دورہ

تحریر: شوبھا دے (ہندوستان)

ترجمہ: غلام حسین غازی

رتیکا ،بے باک، پر تخیل اور بے قابو خواہشات کی مالک تھی۔اس کا بلند اور پر ستائش تخیل، آج کی بات نہیں، بلکہ ایسا تب سے تھا،جب وہ دہلی کے مضافات میں ایک بچے کے طور پر پروان چڑھ رہی تھی۔مدت ہوئی تھی کہ اْس کے والدین نے اْسے اپنے دیگر بچوں کی نسبت اپنی الگ حیثیت رکھنے والی بچی کو سمجھنا چھوڑ دیا ہوا تھا۔ اتنی مختلف تھی وہ ،کہ بسا اوقات اسکی ماں سوچتی کہ بھگوان جانے آسمانوں پر کن ستاروں کا ملن ہوا تھا، جس لمحے وہ اس کی کوکھ میں اتر آئی تھی۔ رتیکا بالکل الگ دکھتی تھی،اپنی حرکات و سکنات میں الگ اور اپنے ردعمل بھی مختلف۔ وہ اتنی الگ اور مختلف تھی کہ اسکے خاندان کے لوگ اکثر اس کے عمل اور ردعمل میں بے ہوش ہونے کے قریب پہنچ جاتے۔ا سکول میں بطورِ طالب علم یہ خصوصیت اس کے لئے مزید مصائب کا سبب بنتی۔۔۔ اور یہی مصائب اور بڑھ گئے، جب جوان ہونے پر وہ ایک ایسے مرد کی بیوی بنی، جو دولت ،طبقاتی رکھ رکھاؤ اور روپے پیسے کی دوڑ میں جتا، ایک بیل تھا۔۔۔ وہ اپنی دل پذیر بیوی کی محبوبیت ، اندر سے حقیقی اورحساس ترین دل رکھنے والی عورت سے بالکل نابلد تھا۔ ہتن اسے ایک وفاشعار اور ضبط نفس رکھنے والی بیوی نہیں۔ بلکہ گھر کو صاف رکھنے والی عورت اور تین بچوں کی بہترین تربیت کرنے والی ماں کے طور پرزیادہ جانتا تھا۔ لیکن کچھ دنوں سے رتیکا کی تخیلاتی اڑانوں نے خوداُسے ڈرانا شروع کردیا تھا، جو ابھی تک وقوع پذیر بھی نہیں ہوئی تھیں۔ وہ جانتی تھی کہ وہ بار بارآنے والے ایک ہی خواب کو ضرور بالضرور پو را کر کے رہے گی۔۔۔ اور وہ اس پر ڈٹ چکی تھی۔ اس سے پہلے کہ بہت دیر ہوجائے ،اتنی دیر کہ وہ اپنے اس خواب کی تکمیل کے قابل ہی نہ رہے۔۔۔بس ایک بار وہ ویساشاندار جینا چاہتی تھی۔ رتیکا اپنے آپ کو دھوکے میں رکھنے جیسی بیماری سے مبراء تھی۔ اس نے اپنے آپ کو ایک دھوکے باز سمجھنا شروع کردیاتھا۔اور سبھی دھوکہ بازوں کی طرح وہ یہ بھی بخوبی جانتی تھی کہ فریب کو منظر پر آنا ہی ہوتا ہے۔۔۔لیکن، وہ اپنی تخیلاتی پروازوں کے دوران کسی بھی نتیجے کی پرواہ نہ کرتی۔۔۔آخر کار وہ تخیل کی دنیا میں آزاد تھی، بلکہ اس دنیا کی رانی تھی۔ وہ اس تخیل کی تکمیل کے لیے اکثر شدت اختیار کرجاتی۔ ‘‘ اے بھگوان! کاش یہ سب جلد ہی ہو جائے۔ اب میں مزید اپنی یہ بناوٹی دنیا زیادہ عرصہ برداشت نہیں کر سکتی ،مصنوعی رویے۔ ‘‘ یہ دنیا اتنی بناوٹی کیوں ہے ؟ اتنی مضبوط اورشدید خواہش کے باوجود کچھ بھی تو تبدیل نہیں ہوا تھا،اس کے معمول کے فرائض میں کوئی کوتاہی نہ آئی تھی۔ وہ اپنے خاندان سے پہلے جیسی ہی محبت کرتی رہی تھی۔۔۔بھرپورتوجہ کے ساتھ۔ وہ ہر فرد کو اس کی گفتگو کے مطابق جواب دیتی تھی اور ہر درست کام اس کے وقت پر کرتی تھی۔اس کی مہارت کی تعریف ہوتی کہ وہ کس طرح ہر کام ہر شخص کو بہترین انداز میں بھگتا دیتی۔ اس کی سہیلیاں اکثر اس سے سیکھنے ،بلکہ نصیحت لینے آتیں کہ کس طرح وہ ہر کام کو متوازن ترین انداز میں سر انجام دے سکتیں تھیں۔ اکثر ادھر ا ادھر جاتے لوگوں کو سن لیتی۔ ‘‘ دیکھو ! یہ کس قدر شاندار سلیقے سے ہر مشکل ترین کام کو آسانی سے کر لیتی ہے۔اور مجھے دیکھو ایک چھوٹی سی ہنگامی صورت میں۔۔۔میں تو بکھر کر رہ جاتی ہوں ‘‘۔ وغیرہ وغیرہ۔وہ سنتی اور مسکرا کر رہ جاتی۔ رتیکا ایسی عورتوں کو اپنے پیچھے لگا لینے میں لطف لیتی تھی۔خاص طور پر ایسی عورتیں جو اپنی نوکری میں کام کے بوجھ کی وجہ سے پریشان ہوتیں ،گھریلو بیویوں کو مشاورت دیتی کہ کس طرح پس انداز کی ہوئی رقم استعمال کرنا چاہیے۔۔۔اور غمزدہ بیویوں کو پوری رہنمائی دیتی کہ کس طرح اپنے آپ کو ناراض کئے بغیر اور خاوندوں کی سر درد بنے بغیر بہترین انداز میں نبھانا ہے۔ہاں جی ! رتیکا یہ سب اور اس سے بھی زیادہ مشکل حالات میں آرام سے یہ سب سنبھالتی چلی جاتی ،لیکن اس کا دماغ لگاتار ناقابل یقین تخیلاتی مقاصد کی تکمیل کی طرف دوڑ رہا ہوتا۔۔۔نہ بیان کی جا سکنے والی سوچیں اور کسی گرتی شام کے نارنجی رنگ میں ،کسی پسندیدہ اجنبی کے ساتھ وحشیانہ مباشرت۔ تکمیل ذات کی یہ خواہش بڑھتی چلی جاتی ،لیکن اس کا خاوند اس کے معمولاتی رویے میں ہر گز کوئی تبدیلی نہ دیکھ سکتا تھا اورنہ وہ کچھ جانتا تھا۔۔۔ اور نہ ہی سمجھ سکتا تھا۔ وہ اس میں وہی دیکھتا جو دیکھنا چاہتا تھا، ایک محبوب بیوی کے طور پر جو تقریبات میں بعض ادائوں کے برعکس بہترین نشست و برخاست کا مظاہرہ کریں۔۔۔بطور ایک باضمیر اور ذمہ دار ماں کے روپ میں اس نے ایسی ایک بھی میٹنگ ہر گز نہ چھوڑی تھی، جو اساتذہ اور والدین کے مابین ہوتی۔۔۔اور ایک بہت ہی شکر گزار بستر پر شب بسری کا ساتھی جو کبھی بھی ‘‘ ناں ‘‘ نہ کہے۔ہِتن ایک سادہ لوح انسان تھا، جس کے نزدیک سب سے بڑا ازدواجی ہنگامہ یہی ہو سکتا تھا کہ اس کی بیوی کہہ دے کہ۔۔۔ ‘‘میں بزنس ڈنر پر نہیں جانا چاہتی تھی کہ آج موڈ نہیں ہے۔ ‘‘ ‘‘سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ‘‘۔۔۔ہِتن گلا پھاڑکر چلایا تھا، جب ایک بار اس نے بہانا بناتے ہوئے کہا تھا کہ آج موڈ نہیں ہے۔ وہ چل دیا تھا۔ ‘‘ اس معاملہ میں کوئی موڈ شوڈ نہیں ہوتا۔ میری بیوی ہونے کی حیثیت سے یہ تمہارا فرض ہے کہ جہاں میں کہوں اور جب کہوں تم میرے ساتھ چلو۔کیونکہ میں یہ سب ‘‘ ہم سب کے لیئے ‘‘ ہی تو کرتا ہوں۔کیو ں تم سمجھتی ہو کہ مجھے اس تمام طبیعت خراب کردینے والے معاملات میں کوئی دلچسپی ہے؟رتیکا نے سر جھکا دیا اورچہرے پر صبر کا تاثر بکھیر لیا۔ (وہ بلا اگلی دلیل دیئے مان جانے میں ماہر ہو چکی ہوئی تھی )الماری کی طرف گئی کہ وہ ایک مناسب ساڑھی ڈھونڈے۔ اسکے لئے یہ سب کتنا آسان تھا کہ وہ اپنے خاوند کو بیوقوف بنالے۔۔۔ اسے مطمئن کر لے۔۔۔ اس کی توجہ کسی اورجانب موڑ دے۔۔۔اور اس کے لئے یہ بے حد آسان تھا کہ وہ کبھی بھی اسے بھول جائے۔

رتیکا ایسی عورتوں کو اپنے پیچھے لگا لینے میں لطف لیتی تھی۔خاص طور پر ایسی عورتیں جو اپنی نوکری میں کام کے بوجھ کی وجہ سے پریشان ہوتیں ،گھریلو بیویوں کو مشاورت دیتی کہ کس طرح پس انداز کی ہوئی رقم استعمال کرنا چاہیے۔۔۔اور غمزدہ بیویوں کو پوری رہنمائی دیتی کہ کس طرح اپنے آپ کو ناراض کئے بغیر اور خاوندوں کی سر درد بنے بغیر بہترین انداز میں نبھانا ہے۔ہاں جی ! رتیکا یہ سب اور اس سے بھی زیادہ مشکل حالات میں آرام سے یہ سب سنبھالتی چلی جاتی ،لیکن اس کا دماغ لگاتار ناقابل یقین تخیلاتی مقاصد کی تکمیل کی طرف دوڑ رہا ہوتا۔۔۔نہ بیان کی جا سکنے والی سوچیں اور کسی گرتی شام کے نارنجی رنگ میں ،کسی پسندیدہ اجنبی کے ساتھ وحشیانہ مباشرت۔ تکمیل ذات کی یہ خواہش بڑھتی چلی جاتی ،لیکن اس کا خاوند اس کے معمولاتی رویے میں ہر گز کوئی تبدیلی نہ دیکھ سکتا تھا اورنہ وہ کچھ جانتا تھا۔۔۔ اور نہ ہی سمجھ سکتا تھا۔ وہ اس میں وہی دیکھتا جو دیکھنا چاہتا تھا، ایک محبوب بیوی کے طور پر جو تقریبات میں بعض ادائوں کے برعکس بہترین نشست و برخاست کا مظاہرہ کریں۔۔۔بطور ایک باضمیر اور ذمہ دار ماں کے روپ میں اس نے ایسی ایک بھی میٹنگ ہر گز نہ چھوڑی تھی، جو اساتذہ اور والدین کے مابین ہوتی۔۔۔اور ایک بہت ہی شکر گزار بستر پر شب بسری کا ساتھی جو کبھی بھی ‘‘ ناں ‘‘ نہ کہے۔ہِتن ایک سادہ لوح انسان تھا، جس کے نزدیک سب سے بڑا ازدواجی ہنگامہ یہی ہو سکتا تھا کہ اس کی بیوی کہہ دے کہ۔۔۔ ‘‘میں بزنس ڈنر پر نہیں جانا چاہتی تھی کہ آج موڈ نہیں ہے۔ ‘‘ ‘‘سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ‘‘۔۔۔ہِتن گلا پھاڑکر چلایا تھا، جب ایک بار اس نے بہانا بناتے ہوئے کہا تھا کہ آج موڈ نہیں ہے۔ وہ چل دیا تھا۔ ‘‘ اس معاملہ میں کوئی موڈ شوڈ نہیں ہوتا۔ میری بیوی ہونے کی حیثیت سے یہ تمہارا فرض ہے کہ جہاں میں کہوں اور جب کہوں تم میرے ساتھ چلو۔کیونکہ میں یہ سب ‘‘ ہم سب کے لیئے ‘‘ ہی تو کرتا ہوں۔کیو ں تم سمجھتی ہو کہ مجھے اس تمام طبیعت خراب کردینے والے معاملات میں کوئی دلچسپی ہے؟رتیکا نے سر جھکا دیا اورچہرے پر صبر کا تاثر بکھیر لیا۔ (وہ بلا اگلی دلیل دیئے مان جانے میں ماہر ہو چکی ہوئی تھی )الماری کی طرف گئی کہ وہ ایک مناسب ساڑھی ڈھونڈے۔ اسکے لئے یہ سب کتنا آسان تھا کہ وہ اپنے خاوند کو بیوقوف بنالے۔۔۔ اسے مطمئن کر لے۔۔۔ اس کی توجہ کسی اورجانب موڑ دے۔۔۔اور اس کے لئے یہ بے حد آسان تھا کہ وہ کبھی بھی اسے بھول جائے۔ رتیکا بسا اوقات سنجیدگی سے سوچتی ،آیا اس کے ساتھ کوئی بہت بڑا مسئلہ تھا ؟کیا دوسری عورتیں بھی ‘‘ایسی دماغی نفسیاتی علامات ‘‘ میں مبتلا ہو سکتی تھیں؟ رتیکا تصور کرتی کہ وہ اپنی بہترین۔۔۔رازدار سہیلی۔۔۔انیشا کو فون کرکے پوچھ رہی ہے۔ ‘‘ کیا کبھی تمہارے ساتھ بھی ایسا ہوا یا ایسا لمحہ جاں سوز آیا کہ تم اپنے گھر ،اپنے بچے ،اپنا خاوند غرض ہر چیز چھوڑ کر کسی اجنبی کے ساتھ بھاگ جاؤ؟ اسے یاد آیا۔ ہاں ! خود اس کے ساتھ ایک جاں سوز لمحہ۔۔۔ آیا کہ جب آپ زیست و مرگ کے واضح تصور کے درمیان کہیں پر اسرار لمحے میں مقید ہو جائیں۔۔۔بالکل آیا تھا۔۔۔ صدیوں کے فیصلے کر دینے والا ، برقی سرعت کے ساتھ گزر جانے والا ایک لمحہ۔ ہِتن نے خلاف توقع اسے کاروباری دورے پر اپنے ساتھ بیرون ملک لے جانے کا فیصلہ کر لیا۔انہیں لندن جانے سے پہلے چار دن دبئی میں گزارنے تھے (ایک ایسی جگہ جس نے ہمیشہ سے رتیکا کے جذبات میں ہلچل پیدا کر رکھی تھی) اس نے محض دبئی کی خا طر،ہتن جیسے غیر دلچسپ اور کسی بھی ہنگامہ خیزی سے خالی دماغ شخص کے سفر کرنے پر اپنے آپ کو آمادہ کرلیا۔چلو ،بالکل متاثر کن نہیں تھا۔۔۔ اس نے اندر ہی اندر سوچا۔پھر ایک نئی جگہ کا تصور ہی اس کے تن بدن میں آگ لگا دینے کے لئے کافی تھااور اسکے دل کے دھڑکن بلند ترین سطح پر پہنچ جاتی تھی۔ امکانات! اوہ بھگوان! امکانات!!!۔۔۔ وہ پر جوش انداز میں سوچتی۔۔۔ لیکن کہیں دور دل کے نہاں خانوں میں یہ بھی چل رہا ہوتا کہ یہ سیر بھی پچھلی سیروں کی طرح بیکار ہی جائے گی۔۔۔کسی بھی یادگار واقعے یاانمٹ نقوش چھوڑ جانے والے لمحے سے یکسر خالی۔۔۔ہاں ہر دورے پر بچوں کے لئے خریدی گئی اشیاء کی طرح، یہ دورہ بھی ویسے ہی ہونے کا قوی امکان تھا۔جب رتیکا ،در پیش دورے کے لئے سامان پیک کر رہی تھی تو وہ غیر متوقع مہم جوئی کی تمنائوں کے بھرپور مزے لے رہی تھی۔۔۔کسی ناقابل تصور بڑے انبساط آگیں واقعہ کے گزر جانے کی توقع وامید۔ہتن! ہاں ہتن عام لوگوں کی طرح ویسا تھا، جیسے معمول کی بچکانہ مسرت، پر جوش ہو جانے والوں کو ہوتی ہے۔ وہ خوش مزاجی سے چہکتے ہوئے بولا۔ ‘‘ میں تمہیں ابھی سے خبردار کرتا ہوں اب کی بار کوئی شاپنگ نہیں !بھئی میں کوئی امیر آدمی نہیں ہوں۔ یاد رکھنا! ‘‘

یہ مرد کسی یورپین فلم میں کسی امیر زادی کا کوئی بستر کا ساتھی یا اس کا ذاتی محافظ کا جڑواں لگ رہا تھا۔ نہیں! اسے یاد آیا! اسے جاجیو آرمانی کے کسی اشتہار کا پختہ عمرمرد یادآیا۔ ایک ایسا مرد جو سینکڑوں عورتوں کے ساتھ سوچکا ہو اور سینکڑوں عورتوں کے ساتھ ابھی بھی سو سکتا ہو۔ ہاں! کوئی بے غیرت سا جسم فروش ہر گز نہیں!!! کوئی متکبر سا یا خالی الدماغ بے وقوف جسم پھینک نہیں بلکہ اعلیٰ ذوق اور گہری حساسیت رکھنے والا انسان۔ ایک مدبر و دانا۔ ایسا مرد جو اپنے سکون کی خاطر تمام دھنوں میں بانسری بجا سکتا ہو۔ جنسی تسکین کے بعد اسٹرابریاں کھانے والا اور جب اس کی محبوبہ سو رہی ہو تو اسکے پیروں کے ناخنوں کو نفاست سے۔۔۔اتنی نفاست سے۔۔۔ اس سوئی ہوئی کو احساس تک ہوئے بغیر۔۔۔ اسے لہو رنگ نیل پالش لگا رہا ہو۔ ہتن واپس آگیا اور کھرد ری آواز میں مایوسی کی حد تک تاثر بھری آواز میں بولا۔۔۔ “آئس ٹی نہیں ملی۔ ان کے پاس نہیں ہے۔ اور تم ہر کسی کی طرح پیپسی کیوں نہیں پی لیتی ہو۔ “ سارا سحر ٹوٹ گیا!رتیکا کی بلند ترین تخیل کی پیدا کی دنیا، تیز ہوا میں ریت کے ذروں کی طرح معدوم ہو گئی۔ غبی سے انداز میں رتیکا بولی۔ “اوکے میں پیپسی پی لوں گی۔ افسوس کے چا ئے نہیں ملی! کوئی بات نہیں۔ “ ہتن دوبارہ چلا گیا۔رتیکا کی نگاہیں واپس دکان کے دروازے پر چلی گئیں۔وہ جان چکی تھی کہ وہ جلد ہی دوبارہ باہر آئے گا۔۔۔بہت جلد ! اور وہ آبھی گیا۔ اس کا دل اپنے مقام سے یکبارگی کھسکا اور اپنے اصل مقام پرآ کر زو ر سے دھڑکا، وہ دکان میں پہنچی، آیا وہ چلتا ہوا اس تک آئے گا اور کہے گا۔ “ اعتراض تو نہیں اگر میں آپ کے ساتھ بیٹھ جاؤں “؟ شاید اس نے سوچا ہو کہ وہ اکیلی ہے کیوں کہ ہتن تو زیادہ تر اپنی باری کے لئے قطار میں ہی کھڑا رہا۔اور وہ خود بھی اب مکمل دلچسپی ظاہر کر رہی تھی۔ اس تصور پر رتیکا پوری طر ح دمک اٹھی۔ شاید وہ کسی بڑے جرم کو حق بنانے پر تل گئی تھی۔غیر مرئی پیغامات! اس مرد نے بھی سوچ لیا ہوگا کہ وہ کسی امیر آدمی کی اکتاہٹ کی ماری بیوی تھی اورروٹین کی خریداری پر نکلی ہوئی تھی۔ اس نے اسے بھی دیکھا اور پھر ایسی ہی کئی ایک کے ساتھ وہ سویا بھی ہوگا۔کس قدر بھیانک سنسنی!وہ واپس مڑا۔اس کی پشت بھی جنسی دعوت نظارہ سے اتنی ہی بھرپور تھی، جتنا اس کے جسم کی سامنے سے رونما ئی۔شاید اس سب سے بھی زیادہ ! اپنی چشم تصور میں اس نے اسے بے لباس کردیا۔ اس کی چشم تخیل اپنی تمام حدود پار کر گئی۔۔۔ اس نے سوچا اس کا عضو تناسل بالکل مناسب ترین لمبا ئی میں ہو گا اور خوب مضبوط پٹھوں والا بھی۔۔اگرچہ اس کی نفاست سے سلی ڈھیلی پینٹ کے اندر سے ایسا اندازہ لگانا بہت دشوار تھا۔ وہ اسکی مضبوطی سے جما کر رکھتے قدموں کے ساتھ ہلکی چکر دار چال پر دم بخود تھی۔۔۔اور۔۔۔جس طرح اس نے بے پروائی سے اپنی آستین چڑھائیں۔۔۔ایک بالکل صفائی سے پونی ٹیل پر بندھی پٹی اپنی جگہ پرلا جواب تاثر بکھیر رہی تھی۔چوڑی مربع نما پیشانی ۔ اس کے گالوں کے ابھری ہڈیاں تو انمول قسم کے کیلسیم کی کانیں لگ رہی تھیں۔۔۔آنکھیں۔۔۔بحیرہ روم کے پانیوں جیسی نیلگوں۔ او ہ یار!یہ مرد نہیں چلتا پھرتا مردانگی کا مجسم تاثر ہے۔۔۔اکیلی پینٹنگ جس میں جذبات نگاری پر بھرپور توجہ دی گئی ہو۔دیکھنے والی کی بے بسی کی حد تک شاندار انسان! سہ پہلو پرنٹنگ میں قدرت کا شاہکار!

یہ مرد کسی یورپین فلم میں کسی امیر زادی کا کوئی بستر کا ساتھی یا اس کا ذاتی محافظ کا جڑواں لگ رہا تھا۔ نہیں! اسے یاد آیا! اسے جاجیو آرمانی کے کسی اشتہار کا پختہ عمرمرد یادآیا۔ ایک ایسا مرد جو سینکڑوں عورتوں کے ساتھ سوچکا ہو اور سینکڑوں عورتوں کے ساتھ ابھی بھی سو سکتا ہو۔ ہاں! کوئی بے غیرت سا جسم فروش ہر گز نہیں!!! کوئی متکبر سا یا خالی الدماغ بے وقوف جسم پھینک نہیں بلکہ اعلیٰ ذوق اور گہری حساسیت رکھنے والا انسان۔ ایک مدبر و دانا۔ ایسا مرد جو اپنے سکون کی خاطر تمام دھنوں میں بانسری بجا سکتا ہو۔ جنسی تسکین کے بعد اسٹرابریاں کھانے والا اور جب اس کی محبوبہ سو رہی ہو تو اسکے پیروں کے ناخنوں کو نفاست سے۔۔۔اتنی نفاست سے۔۔۔ اس سوئی ہوئی کو احساس تک ہوئے بغیر۔۔۔ اسے لہو رنگ نیل پالش لگا رہا ہو۔ ہتن واپس آگیا اور کھرد ری آواز میں مایوسی کی حد تک تاثر بھری آواز میں بولا۔۔۔ “آئس ٹی نہیں ملی۔ ان کے پاس نہیں ہے۔ اور تم ہر کسی کی طرح پیپسی کیوں نہیں پی لیتی ہو۔ “ سارا سحر ٹوٹ گیا!رتیکا کی بلند ترین تخیل کی پیدا کی دنیا، تیز ہوا میں ریت کے ذروں کی طرح معدوم ہو گئی۔ غبی سے انداز میں رتیکا بولی۔ “اوکے میں پیپسی پی لوں گی۔ افسوس کے چا ئے نہیں ملی! کوئی بات نہیں۔ “ ہتن دوبارہ چلا گیا۔رتیکا کی نگاہیں واپس دکان کے دروازے پر چلی گئیں۔وہ جان چکی تھی کہ وہ جلد ہی دوبارہ باہر آئے گا۔۔۔بہت جلد ! اور وہ آبھی گیا۔ اس کا دل اپنے مقام سے یکبارگی کھسکا اور اپنے اصل مقام پرآ کر زو ر سے دھڑکا، وہ دکان میں پہنچی، آیا وہ چلتا ہوا اس تک آئے گا اور کہے گا۔ “ اعتراض تو نہیں اگر میں آپ کے ساتھ بیٹھ جاؤں “؟ شاید اس نے سوچا ہو کہ وہ اکیلی ہے کیوں کہ ہتن تو زیادہ تر اپنی باری کے لئے قطار میں ہی کھڑا رہا۔اور وہ خود بھی اب مکمل دلچسپی ظاہر کر رہی تھی۔ اس تصور پر رتیکا پوری طر ح دمک اٹھی۔ شاید وہ کسی بڑے جرم کو حق بنانے پر تل گئی تھی۔غیر مرئی پیغامات! اس مرد نے بھی سوچ لیا ہوگا کہ وہ کسی امیر آدمی کی اکتاہٹ کی ماری بیوی تھی اورروٹین کی خریداری پر نکلی ہوئی تھی۔ اس نے اسے بھی دیکھا اور پھر ایسی ہی کئی ایک کے ساتھ وہ سویا بھی ہوگا۔کس قدر بھیانک سنسنی!وہ واپس مڑا۔اس کی پشت بھی جنسی دعوت نظارہ سے اتنی ہی بھرپور تھی، جتنا اس کے جسم کی سامنے سے رونما ئی۔شاید اس سب سے بھی زیادہ ! اپنی چشم تصور میں اس نے اسے بے لباس کردیا۔ اس کی چشم تخیل اپنی تمام حدود پار کر گئی۔۔۔ اس نے سوچا اس کا عضو تناسل بالکل مناسب ترین لمبا ئی میں ہو گا اور خوب مضبوط پٹھوں والا بھی۔۔اگرچہ اس کی نفاست سے سلی ڈھیلی پینٹ کے اندر سے ایسا اندازہ لگانا بہت دشوار تھا۔ وہ اسکی مضبوطی سے جما کر رکھتے قدموں کے ساتھ ہلکی چکر دار چال پر دم بخود تھی۔۔۔اور۔۔۔جس طرح اس نے بے پروائی سے اپنی آستین چڑھائیں۔۔۔ایک بالکل صفائی سے پونی ٹیل پر بندھی پٹی اپنی جگہ پرلا جواب تاثر بکھیر رہی تھی۔چوڑی مربع نما پیشانی ۔ اس کے گالوں کے ابھری ہڈیاں تو انمول قسم کے کیلسیم کی کانیں لگ رہی تھیں۔۔۔آنکھیں۔۔۔بحیرہ روم کے پانیوں جیسی نیلگوں۔ او ہ یار!یہ مرد نہیں چلتا پھرتا مردانگی کا مجسم تاثر ہے۔۔۔اکیلی پینٹنگ جس میں جذبات نگاری پر بھرپور توجہ دی گئی ہو۔دیکھنے والی کی بے بسی کی حد تک شاندار انسان! سہ پہلو پرنٹنگ میں قدرت کا شاہکار!

کیا وہ اس کی بیوی تھی؟رتیکا نے فوراً تصور کیا کہ وہ دونوں ہم بستر ہیں اورکسی صورت میں بھی ایک دوسرے کے لئے نا موزوں ہوتے۔ اس کے ساتھ عورت تانبے رنگی کرفت سی تھی۔ اور جس طرف وہ اس کے بازو سے چمٹی ہوئی تھی اس سے اس کے عدم تحفظ کے احساس کا اظہار بھی ہو رہا تھا۔ وہ غصیلی اور بے صبری بھی لگ رہی تھی۔۔۔ اسکے ماتھے پر گہری آڑی ترچھی لکیر ان سب باتوں کی غماز تھیں۔ اس کی لپ اسٹک تو بالکل بھی۔۔۔ایک تیز اورنج رنگ کی جو اسکے جسم کے رنگ سے ہر گز میل نہ کھاتی تھی۔ اس کے بال رنگ ہوئے اور کھردرے تھے۔ رتیکا نے اس کے کپڑے دیکھے۔۔۔ بہت چست،چھوٹے اور بہت نمایاں سے۔لیکن اسکی چھاتیاں بہت زبردست تھیں۔ اسکی ٹا نگیں مناسب تھیں ،بھلے اسکے ٹخنے بہت موٹے تھے۔دراصل یہ اسکے انداز و اطوار تھے۔جو ہر گز دلکش نہ تھے۔۔۔تحکمانہ۔۔۔دھکم پیل والے۔۔۔ اس کے ہاتھ اس مرد کے بازو کو ایسے جکڑے ہوئے تھے جیسے پنجے۔ اس سے پہلے کہ وہ مڑ کر پار کر کے گلی میں جاکر منظر سے بالکل غائب ہو جاتے۔۔۔وہ واپس مڑا۔۔۔آخری لمحات کے لئے۔۔۔او ر رتیکا کو ایسی شدت سے دیکھا جیسے وہ دونوں محبت میں گرفتار ہو چکے ہوں۔ رتیکا کا ہاتھ جس میں پیپسی پینے والا اسٹرا پکڑا ہوا تھا۔۔۔و ہ ہاتھ یک دم بے جان ہو کر میز پر گرا اور ایک خاص ا ونچی آواز پیدا کر گیا۔ اس کی آنکھوں کا رنگ اڑ گیا۔ اسکے ہونٹوں کے کنارے ڈھیلے پڑ کر گر گئے۔ اور چہرے کے تمام رنگ پھیکے پڑ گئے۔ اس نے محسوس کیا وہ دہل کر بیمار پڑ گئی اور بوڑھی بھی ہو گئی ہو۔ ْاس نے اس کے تعاقب میں نگاہ دوڑائی تو اسے لگا نیلا رنگ کہیں دور پھیل کر معدوم ہو گیا تھا۔ اس نے جھٹک کر سر ہلایا۔گرم آنسو اسکی آنکھوں کے کٹوروں کو چھونے لگے۔رتیکا کو اپنے دل میں کہیں دور نہاں خانوں میں ایک درد کی لہر کا احساس ہوا۔ بے حد مایوس کن صور ت حال۔۔۔۔واقعی مایوس کن صورت حالت تھی۔ کاش اسے محض ایک گھنٹہ۔۔۔ایک محبوبیت اور مخموریت سے بھرا۔۔۔۔صرف ایک گھنٹہ اس مرد کے ساتھ بتانے کو مل جاتا۔ محض ایک گھنٹہ وہ ساری عمر ہی جی لیتی۔ یہ نہیں کہ ایک گھنٹہ۔۔۔خوابناک مباشرت سے بھرپور۔ بس گفتگو۔ تھوڑالمس کا احساس۔ مزاح سے بھرپور باتیں۔۔۔ایک گھنٹہ۔ وہ اس مرد کے بال کھول دیتی اور ان زلفوں کے نیچے گردن سے چپک جاتی۔ وہ منہ کھول کر اس کی زبان کو اپنے حلق تک استقبال کا اذن دیتی۔وہ اسکی پشت پر چپتیں لگاتی۔۔۔ اسکے چہرے سے پیار کرتی۔۔۔محض ایک گھنٹہ!!!بس یہ تو وہ تمام عمر سے۔۔۔صدیوں سے چاہتی آئی تھی۔ ایک گھنٹہ۔۔۔۔جس میں پوری طرح سے دھڑکتی زندگی جی لیتی۔۔۔صدیوں کو لمحوں میں قید کرلیتی۔ مجسم اپنی ذات کو محسوس کر لیتی۔ ایک گھنٹہ بنا کسی بناوٹ کے۔ کوئی حرکات نہیں ،کوئی سکنات نہیں۔ کوئی فرائض نہیں ،کوئی ذمہ داریاں نہیں۔ ڈوریوں سے بندھی پُتلی کی طرح نہیں۔ ہر یاد سے خالی ذہن کے ساتھ۔ کوئی مستقبل نہ ہوتا۔ بس ایک گھنٹہ۔ کوئی پچھتاوے نہ ہوتے۔۔۔خاص طور پر بنا پچھتاووں کے۔ اس نے اپنے آپ کو دو بارہ بحال کیا۔۔۔منتشر اجزائے قلب و بدن کو واپس گٹھڑی میں باندھا۔۔۔ انہی پرانے کپڑوں کی گٹھڑی میں کسا۔ حتن جو اس کی طرف غور سے دیکھ رہا تھا۔۔۔حقیقتاً پریشان ہو چکا تھا۔ “کیا ہم کسی ڈاکٹر کے پا س چلیں ؟ تم بالکل زرد پڑ چکی ہو۔ “ رتیکا نے اپنے تنگ شانے سیدھے کئے۔۔۔ اپنی آنکھوں پر گرے ہوئے بالوں کو سنوارا کیا۔۔۔اپنی ٹھوڑی کواوپر اٹھایا۔ اپنا سرایک طرف جھکایا اور ہلکا تبسم بکھیرا۔۔۔بہت پر اسرار مسکراہٹ سے لبوں کو آراستہ کیا اور بولی “میں ٹھیک ہوں۔۔۔بالکل ٹھیک۔۔۔اتنا بہتر تو میں نے کبھی محسوس نہ کیا تھا۔۔۔اور وہ بالکل سچ کہہ رہی تھی۔۔۔ اتنا اچھا اس نے پہلے کبھی محسوس نہ کیا تھا۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

کرائم فائٹر۔۔۔ سید بدر سعید

غیرت کرائم رپورٹنگ بظاہر ایک دھانسودار بیٹ معلوم ہوتی ہے۔ عام خیال بھی یہی ہے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے