سر ورق / کہانی / اور صرف ایک دن یوں ہی  بھارتی گور/عامر صدیقی

اور صرف ایک دن یوں ہی  بھارتی گور/عامر صدیقی

اور صرف ایک دن یوں ہی

 بھارتی گور/عامر صدیقی

ہندی کہانی

…………….

”تم نے کبھی اس بارے میں کچھ سوچا ہے؟“

”کس بارے میں؟“

”اس آدمی سے شادی کیوں کی تم نے؟“

”پھر وہی بات وید، کیوں شروع جاتے ہو ہر وقت؟“

”جب تک تم جواب نہیں دے دیتیں۔ میں پوچھتا رہوں گا ورندا۔“

”کرتے رہو کوشش۔“

”ہمیشہ کروں گا۔“

”پاگل ہو؟“

”جو چاہو سو سمجھو۔“

اور میں اسے ہمیشہ اسی طرح خاموش کراتی رہتی، اس کے معصوم سوالات کا جواب تو تھا میرے پاس، لیکن کیا فائدہ تھا دینے کا اور نہ ہی میں دینا چاہتی تھی۔ اگرچہ سوال تو وید جائز ہی کرتا تھا۔ میری شادی تو اب دس برس پرانی ہو چلی تھی، لیکن میرے لئے تو کیا نئی اور کیا پرانی۔ شِو نے تو مجھے کبھی جاننے کی کوشش ہی نہیں کی اور میں نے جب بھی ان کے بارے میں جانے کی کوشش کی تو انہوں نے جاننے ہی نہیں دیا۔ شادی کا مطلب شِو کےلئے صرف ویسا اور اتنا ہی تھا جتنا کہ زیادہ تر لوگوں کے لئے ہوتا ہے یا کہ قریب قریب سب کے لئے ہوتا ہے۔ اب جب آگ کے سات پھیرے لے ہی لیے ہیں تو ساتھ تو رہنا ہی ہے، ایک ہی چھت کے نیچے، ایک ہی بستر پر سونا، دن، ہفتے، مہینے،سال۔ مسلسل ایک دوسرے سے بغیر بات کئے گزار دینا۔ لوگوں کے سامنے ایک دوسرے کی تعریف کر کے انہیں جلانا اور ان کی اس غلط فہمی کو ہوا دیتے رہنا کہ ہاں ہم ایک مثالی جوڑا ہیں۔ اور کیا مطلب ہے ان سب باتوں کا؟ کہ ہاں ہم دو شادی شدہ لوگ ہیں؟ واہیات سچ ہے اور کچھ نہیں۔ صورتیں تک یاد نہیں ایک دوسرے کی۔ حد ہے یہ تو۔

وید ہمیشہ میرے زخموں کو کریدنے کی کوشش کرتا، یقینا اس کے حساب سے تو یہ اس کا میری پرواہ کرنے کا ایک نایاب طریقہ ہوتا تھا، لیکن میرے لئے تو بالکل ہی نہیں۔

”ورندا تم خود پر ایک احسان کرو اور آزاد کرو اس شادی سے اپنے آپ کو، ایک اجنبی شادی کو کیوں لئے گھوم رہی ہو وہ بھی اتنی شدت سے۔ میری سمجھ سے باہر ہوا جاتا ہے سب۔“

وید نہ جانے یہ نصیحت کتنی بار کر چکا تھا۔ ویسے یہ نصیحت کم اس مجھ پر ترس کھانا زیادہ تھا۔ شِو کو لے کر جتنا مسئلہ وید کو تھا، اس سے کہیں زیادہ مجھے تھا۔ آخر کیوں رہ رہے تھے ہم ساتھ؟ ایک ہی چھت کے نیچے اجنبیوں کی طرح رہنے سے تو ایک ایک لمحہ بھی ایک ایک سال کے برابر لگتا ہے، پھر ہم تو دس برس ساتھ رہ رہے تھے۔ ایک عمر گزار دی ہو جیسے اور پایا کچھ بھی نہیں۔

”وید، ہم مل سکتے ہیں؟“

”ہر وقت ورندا۔“

”کل ملتے ہیں دوبجے، دیر سے مت آنا۔“

”پہلے ایسا کبھی ہوا ہے کیا؟“

”جو کبھی نہ ہوا ہو وہ ضروری تو نہیں آگے بھی کبھی نہ ہو۔“

”میں ہر وقت تمہارے بلانے پر وقت پر ہی آو ¿ں گا۔“

وید سے میری اس طرح کی ملاقاتیں جو اکثر بنا مطلب کے ہی ہوتی تھیں، ہوتی رہتی تھیں۔ جب میں پہلی بار اس سے ملی تھی، تب سے لے کر آج تک بس وہ ہی مجھے سمجھنے کی کوشش کرتا رہا تھا۔ میں تو خود میں ہی مصروف تھی۔ شِو کو نہیں جان پائی اس لئے کسی کو بھی جاننے میں دلچسپی نہیں رہی تھی۔

”وید آپ ہمیشہ وقت پر کیوں آتے ہو؟“

”کیونکہ مجھے معلوم ہے کہ تمہیں دیر سے آنے والوں پر کوفت ہوتی ہے۔“

”تم میرے بارے میں بہت کچھ جانتے ہونا؟“

”نہیں، ایسا بہت کچھ ہے جو میں نہیں جانتا ،لیکن جاننا ضرور چاہتا ہوں۔“

”کوئی بات نہیں سب کچھ جاننا ضروری نہیں۔ اچھا ایک بات بتاﺅ؟ میں تمہیں یوں کبھی بھی ملنے کےلئے بلا لیتی ہوں اور تم بغیر کچھ پوچھے آ بھی جاتے ہو، کیوں؟“

”ابھی تم نے کہا نہ کہ سب کچھ جاننا ضروری نہیں۔“

”ہمم، بدلہ لے رہے ہو۔“

”کس بات کا؟“

”تمہارے سوالوںکا جواب جو نہیں دیتی۔ تو تم بھی ویسا ہی کچھ کر رہے ہو۔“

”بدلہ لینے کے لئے پوری دنیا پڑی ہے۔ تو تم سے ہی کیوں؟“

”تمہاری شرٹ اچھی لگ رہی ہے۔“

”تمہاری ساڑی زیادہ اچھی لگ رہی ہے۔“

”شِو لائے تھے۔“

”اوہ! بہترین پسند ہے شِو کی۔“

”شاید!“

”شاید کیا، تم ہو نہ اس کی پسند، تمہیں کوئی شک ہے کیا؟“

”تمہاری گھڑی اچھی لگ رہی ہے اور یہ تم پر بہت زیادہ جچ بھی رہی ہے، تمہارے ہاتھ کے لئے ہی بنی ہو شاید۔“

”آج کچھ خاص ہے کیا؟“

”کیوں؟“

”نہیں، تمہارے منہ سے تعریف ۔۔کیا واقعی؟“

”تمہاری کبھی کسی نے تعریف نہیں کی کیا؟“

”کسی کے کرنے سے کیا ہوتا ہے۔ جن سے چاہتے ہیں، وہ کریں تو بات الگ ہوتی ہے نا۔“

”اسی لئے سہہ نہیں پا رہے ہو نا۔“

”ہو سکتا ہے۔“

”تمہارا تھیٹر کیسا چل رہا ہے؟“

”چل رہا ہے، تم کب آ رہی ہو دیکھنے؟ نیا ڈرامہ کرنے جا رہا ہوں میںکچھ ہی دنوں میں۔“

”واہ کیا بات، وید تمہارا صحیح ہے۔ خود کو جتانے کا ذریعہ ہے تمہارے پاس، خوش نصیب ہو۔“

”کیوں جو خود کو جتا سکتے ہیں وہ خوش نصیب ہوتے ہیں کیا؟“

”بے شک۔“

”تو تمہیں کس نے روکا ہے، تم بھی تو کرتی تھیں پہلے تھیٹر، دوبارہ کیوں نہیں آ جاتیں!“

”شِو کو اعتراض ہے۔“

”کس بات پر!“

”یہی کہ میں اب کوئی اور کام کروں، تھیٹر نہیں۔ انہیں یہ سب ناٹک وغیرہ پسند نہیں۔ اول تو انہیں میرا گھر سے باہر جاکر کوئی کام کرنا ہی پسند نہیں۔“

”اچھا! شِو کو ڈرامہ پسند نہیں! دیکھنا یا کرنا!“

”کیا مطلب!“

”مطلب تو تم خوب سمجھتی ہو ورندا۔ ڈرامہ پسند نہیں اور تم دونوں خود جو دس سالوں سے کر رہے ہو، اس کے بارے میں کیا خیال ہے!“

”تم پھر شروع ہو گئے۔“

”ورندا تم نے شِو سے شادی کیوں کی!“

”کیونکہ شادی سب کو کرنی ہوتی ہے۔“

”مذاق کر رہی ہو!“

”نہیں، کرنی ہوتی ہے اس لئے کر لی۔“

”اور اس کے بعد کیا کرنا ہوتا ہے!“

”بہت کچھ۔“

”اور وہ بہت کچھ تم نے کیا کیا!“

”ہم یہاں کب سے بیٹھے ہیں، کافی تو پی ہی سکتے ہیں۔“

میں نے کافی کا آرڈر دیا جو ہمیشہ میں ہی دیتی تھی، وید کی تو جیسے کوئی پسند ہی نہیں تھی۔

”وید وہاں دیکھو، کتنی خوبصورت پینٹنگ ہے نا!“

”ورندا، جب جیتے جاگتے لوگ خوبصورت نہیں لگتے نا تب یہ ہی چیزیں دل بہلاتی ہیں۔“

”نہیں، ایسا تو بالکل نہیں، تم مجھے خوبصورت لگتے ہو، بہت خوبصورت ہو تم۔ ویسے تم مجھ کتنے چھوٹے ہو!“

”یہی کوئی تین یا چار سال۔“

”اوہ!“

”اور تم شِو سے کتنی چھوٹی ہو!“

”یہی کوئی نو یا دس سال ۔۔۔ شاید دس سال۔“

”مذاق کر رہی ہو کیا!“

”تمہےں میری ہر بات ہی مذاق لگتی ہے۔“

”ارے کیا مطلب ہے اس کا یار، دس سال چھوٹی! تم یہ شادی کیوں کی!“

”ہا ہا ہا ۔۔۔ تمہارا یہ ایک رٹا رٹایا سوال بڑا معصوم ہے!“

”ورندا، ایک نیا ڈرامہ ہے، ہیروئین کی تلاش ہے، تم کر لو نا۔“

”لیکن کس طرح، ایک تو شِو نہیں مانیں گے، اوپر سے مجھے دس سال ہو گئے، میں تواب اداکاری بھی بھول چکی۔“

”کیا بات کر رہی ہو، تمہاری اداکاری اب تومزید بالغ ہو چکی ہے۔“

”اب تم مذاق کر رہے ہو!“

”ارے کیسا مذاق! تم اور شِو جو گھر میں دس سالوں سے کر رہے ہو، تم جو یہ میرے سامنے کرتی ہو، لوگوں کے سامنے کرتی ہو، یہ اداکاری نہیں تو اور کیا ہے!“

”اچھا کافی اتنی ٹھنڈی کرکے جو پیتے ہو، کولڈ کافی ہی منگا لیا کرو۔“

”ایک بار پھر شاندار اداکاری۔“

”میں شِو سے بات کرکے دیکھوںگی، اگر مان جائے تو ۔۔۔“

”ورندا تمہاری ساڑی واقعی خوبصورت نظر آتی ہے۔ شِو کی پسند لاجواب ہے۔“

” معنی خیز ڈائیلاگ وید صاحب۔“

”اب میڈم تھیٹر کرتا ہوں، اتنا تو بنتا ہے۔ ویسے بھی سیدھا سادہ ڈائیلاگ آج کل لوگوں کی سمجھ سے باہر ہے۔“

”ویسے ڈرامہ ہے کیا، کس نے لکھا ہے! بندھوپادھیایہ جی نے ہی لکھا ہے یا پہلے سے لکھا ہوا ہے!“

”لکھا ہے کسی نے، تم نہیں جانتیںنیا ہے۔“

”تو میں چلوں، شِو کو منانا آسان نہ ہوگا۔“

”پہلے اسے تم نے کتنی باتوں کے لئے منایا ہے ویسے۔“

”کوئی خاص تو نہیں۔“

”تو مطلب تمہیں اس کا بھی کوئی تجربہ نہیں!“

”ہاں نہیں ہے، کیونکہ کبھی ضرورت ہی نہیں پڑی۔“

”شادی کے دس سال، دس سال بڑا شوہر اور ضرورت اور تجربہ کسی بھی چیز کا نہیں، آپ تو عظیم ہیں میڈم، بندہ آپ کو سلام کرتا ہے۔“

”ٹھیک ہے لے لیا تمہارا سلام، اب میں چلوں!“

”تمہاری مرضی۔“

شِوسے آج تک کچھ مانگا نہیں میں نے۔ انہوں نے بھی اپنی طرف سے کبھی کچھ دیا نہیں۔ جواب مجھے معلوم ہی تھا لیکن کوشش کرنا ضروری ٹھہرا۔ اور رات کو ہمیشہ کی طرح وہی مکالموں کی تکرار۔۔۔۔۔

”کھانا لگا دوں!“

”ہمم۔“

” یہیں یا اُس کمرے میں! “

”کہیں بھی لگا دو۔“

اس سے زیادہ تھا کیا ہمارے درمیان بات کرنے یا احساس دلانے کے لیے کہ ہم ایک دوسرے کے ساتھ یا پاس بیٹھے ہیں ۔ انکا فون ان سے زیادہ نزدیک تھا یا یوں کہو ںکہ صرف وہ ہی نزدیک تھا۔

”میں گھر پر یوں بیٹھی بیٹھی پریشان ہو جاتی ہوں۔“

”ذرا نمک پکڑانا۔“

”سوچ رہی ہوں کچھ کام کر لوں۔“

”نمک واقعی کم ہے یا صرف مجھے ہی لگ رہا ہے!“

اور مجھے اپنی خاص باتوں کو درمیان میں ہی چھوڑ کر اس بے جان سبزی کو چکھنا ہی پڑا۔

”نمک تو ٹھیک ہی ہے۔“

”کل رات بھی پانی زیادہ گرم کر دیا تھا، آدھی رات تک بھی پینے کے قابل نہیں ہوا تھا۔“

” خیال رکھوں گی۔“

”سبزی میں کوئی ذائقہ نہیں آ رہا لے جاو ¿۔“

یہی طریقہ تھا شِو کا، جب بھی میں ان کو اپنے زندہ ہونے کا احساس دلاتی تھی تب یہی سب ہوتا تھا، ایک بار پھر کوشش کرتی ہوں ۔۔۔

”میں تھیٹر دوبارہ کرنا چاہتی ہوں۔“

”کیوں!“

”کیونکہ مجھے خود کو مصروف رکھنا ہے۔“

”گھر کے کام کم پڑنے لگے ہیں!“

”گھر کے کام کوئی کام نہیں ہوتے ہیں اور انہیں کرنا آنا یا نہ آنا کوئی اچھی یا بری چیز نہیں ہے اور نہ ہی یہ کوئی قابلیت کی بات ہے۔“

”تھیٹر مجھے قطعی پسند نہیں۔“

”کیا برائی ہے!“

”اچھائی کیا ہے، نری نوٹنکی۔“

”اسے اداکاری کہتے ہیں۔“

”جو بھی ہو، جو بھی کہتے ہو، فضول سا کام ہے نہایت۔ مجھے صبح آفس جانا ہے، نیند بھری ہے آنکھوں میں۔“

اور شِو کے کہنے کا یہی مطلب تھاکہ سونا ہے تو سو جاو ¿ نہیں تو مجھے تو سونے ہی دو۔ اور میں بھی شاید بہت رات تک یہی سوچتی رہی تھی کہ اب آگے کیا! آنکھ کب لگی پتہ نہیں کچھ ۔۔۔ ویسے اس کے بعد ۔۔۔

”وید،مل سکتے ہیں!“

”ہمیشہ۔“

”دو بجے۔“

”وقت پر پہنچ جاو ¿ں گا۔“

وہ ہمیشہ کی طرح حاضر تھا پہلے ہی۔

”وید آج کولڈ کافی پیتے ہیں!“

” کیوں طبیعت تو ٹھیک ہے!“

”بالکل ٹھیک ہے، ہمیشہ ایک سا کیا کرنا، یہ بہت بورنگ ہوتا ہے نا ہمیشہ وہی وہی کرتے جانا بغیر مطلب کے اور صرف ۔۔۔“

”کیا ہوا ورندا،تم ٹھیک تو ہو!“

”ٹھیک ہے سب، کچھ نیا کریں! تبدیلی ضروری ہے۔“

” ہاں، لیکن کیا ہوا۔۔۔۔ تمہاری طبیعت۔“

”سنیں بھائی صاحب! دو کولڈ کافی پلیز۔“

”تم بھی کولڈ کافی پیو گے!“

”ہاں وہ تبدیلی ضروری ہے نا۔“

”تو وید، وہ ڈرامہ کیا ہے کچھ بتاﺅ گے۔“

”کیا!“

”وہ ڈرامہ، کہہ رہے تھے نہ اس دن ۔۔“

”آج تو تیور بدلے ہوئے ہیں۔ اجازت مل گئی کیا!“

”کیوں، اجازت نہیں ملے گی تو کچھ ہو گا نہیں کیا!“

”کیا مطلب، ورندا مجھ سے کچھ چھپا رہی ہو کیا!“

”شِو نہیں مانے، بالکل نہیں۔“

”تو پھر!“

”تو پھر، تو پھر کیا! جب مجھے حق دینا آتا ہے ،تو واپس لینا کیوں نہیں آئے گا۔“

”بغاوت! ہا ہا ہا ۔۔۔“

”جی نہیں، ریٹرن۔“

”دس سال بعد!“

”زندگی ختم ہونے سے پہلے آ گئی یہ کیا کم بات ہے؟“

”مذاق کر رہی ہو، میں جانتا ہوں یہ تمہارے لئے بالکل بھی آسان نہیں ہو گا۔“

”میرے لئے آسان تو ویسے بھی کچھ بھی نہیں۔“

”لیکن ورندا!“

”ڈرامہ کیا ہے وید؟ کل سے آ جاو ¿ں!“

”ورندا، کیا ہوا ہے، تم ٹھیک نہیں نا؟“

”ہاں میں ٹھیک نہیں، لیکن اب میں ٹھیک ہونا چاہتی ہوں۔“

”کیا ہوا ہے اب تو مجھے میرے سوالات کا جواب دے دو۔“

”کیا میں کل سے آ سکتی ہوں؟“

”کیوں نہیں۔“

”اتنے سالوں بعدکیا مجھے وہاں سب لوگ۔۔۔“

”تمہےں وہاں کون نہیں جانتا ۔۔۔ تمہارے لئے وہاں کے ہر دروازے پر تمہارا نام لکھا ہوگا۔تم آو ¿ تو سہی۔“

”تم وہیں ملوگے نا!“

”اور کہاں جاو ¿ں گا ، میں انتظار کروں گا۔“

”میں وقت پر پہنچ جاو ¿ں گی۔“

”مجھے ہمیشہ سے ہی یقین ہے۔“

”تو پھر میں چلوں؟“

”تمہاری مرضی۔“

وہ یہ کہنا کبھی نہیں بھولتا۔ مجھے تو کل ہر حال میں وقت پر پہنچنا ہی تھا، پہنچنے کی جلدی بھی تھی۔ اور کیوں نہ ہوتی بھلا ایک عمر بس سوچنے بھر میں اور خود کو تلاش کرنے بھر میں ہی گزار دی تھی ۔۔ اب اور کیا جی ہاں؟ اب تو راستے سامنے تھے۔

”شِو، کل سے میں تھیٹر شروع کر رہی ہوں۔“

”روز روز ایک ہی سوال کا جواب نہیں دے سکتا میں۔“

”سوال کس نے کیا ہے، اور کون مانگ رہا ہے جواب، میں تو صرف بتا رہی ہوں۔“

”کیا مطلب!“

”مطلب وہی جو تم سمجھ رہے ہو۔“

”لیکن میں انکار کر رہا ہوں نا، مجھے نہیں پسند یہ سب۔“

”اجازت نہیں مانگ رہی ہوں۔“

”کیا ہوا ہے؟“

”کچھ ہونے کا انتظار کروں کیا اب؟“

”مجھ سے یہ ٹیڑھی باتیں نہیں کی جاتیں، جو کہنا ہے سیدھے کہو۔“

”کل سے میں تھیٹر دوبارہ شروع کر رہی ہوں، یہ رہی سیدھی بات۔“

”میں انکار کروں تب بھی یہ ہوگا؟“

”بالکل۔“

”کوئی انرجی ڈرنک پی آئی ہو لگتا ہے۔“

”جی نہیں، کافی۔“

”کس کے ساتھ؟“

”کافی پینے کے لئے کافی کی ضرورت ہوتی ہے کسی کے ساتھ نہیں۔“

”پھر بھی ۔۔۔“

”وید۔“

”اوہ، وید! تو اور کیا سکھایا وید نے؟“

”اگر مجھے وید ہی سے سیکھنا ہوتا، تو اتنا وقت میں نے تم پر لگایا ہی کیوں ہوتا۔“

”اچھا؟ خیراب جب یہی بات ہے تو یہ بھی بتا دو کہ اور کیا خواہش ہے تمہاری!“

”میری کوئی خواہش نہیں، اب یہ میری ضرورت ہے۔“

”آخری فیصلہ ہے؟“

”میری طرف سے لیا ہوا تو پہلا ہی ہے۔“

”میں اس کے حق میں نہیں، بالکل نہیں۔آگے تم ذمہ دار ہو۔ میرے ہر اس فیصلے کی جو تمہارے اور ہماری شادی کے خلاف بھی ہو سکتا ہے۔“

”شِو، جانتے ہو ہم دونوں کے درمیان سب سے بڑا مسئلہ کیا ہے ۔۔۔ ہماری یہ شادی، اور اس بےگانی اور غیر ضروری شادی سے زیادہ ہم دونوں کے خلاف اور کوئی مسئلہ ہی نہیں۔“

”بہت خوب ورندا! یہ آج دس سال بعد سمجھ آیا تمہیں؟“

”نہیں کوئی شِو ۔۔۔ یہ تو شادی کے پھیرے کے وقت ہی سمجھ آ گیا تھا ،لیکن صرف سمجھنے سے کیا سلجھتا ہے، سلجھاناپڑتا ہے۔“

”کیا چاہتی ہو؟“

”آج تک تو کچھ سمجھے نہیں۔ نہ بولنے سے اور نہ ہی خاموش رہنے سے۔ اب آگے سمجھتے ہو تب بھی ٹھیک اور نہیں سمجھتے ہو تو تب بھی ٹھیک۔“

اس رات کے یہ آخری الفاظ تھے جو میں نے کہے تھے، شِو کے مزید سوالوں کےلئے میں اس کمرے میں رکی نہیں۔ اور اس رات مجھے نیند بھی آ ہی گئی تھی، جو ہمیشہ مجھ سے دور بھاگتی تھی۔ دوسرے دن جب میں تھیٹر پہنچی۔

”ویلکم ورندا۔“

وہاں کے ہر دروازے پر وید کے تحریر کردہ یہی دو الفاظ لکھے تھے۔ اسٹیج کی طرف جاتے ہوئے کانوں میں الفاظ آ جا رہے تھے، شاید وید کسی ڈرامہ کی لائنز دوہرا رہا تھا ۔

”اور پھر ایک دن سِیانے آگ کی آزمائش دینے سے انکار کرتے ہوئے کہا،” اگر میری آزمائش دینے سے ہی میری آبرو ثابت ہوتی ہے، تو مجھے انکار ہے ایسی آزمائش سے، میں آنے والی نسلوں کو ایسی کوئی سوغات نہیں دینا چاہتی، جس سے آگ کی آزمائش ایک نظیر کے روپ میں قائم ہو جائے اور ہر عورت کے خلاف ایک اوزار کی طرح کام میں لائی جائی۔“

”ارے ورندا آ گئیں تم۔ میں وہ ذرا ڈرامہ میں ۔۔“

”اچھی لائنز تھی وید، تمہیں اسی ڈرامہ کے لئے ہیروئین کی تلاش تھی کیا؟“

” ہاں بالکل۔“

”تو سمجھو تمہاری تلاش پوری ہوئی۔“

”واقعی، سمجھ لوں آخر؟“

”سمجھ لو۔“

٭٭٭

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

کرائم فائٹر۔۔۔ سید بدر سعید

غیرت کرائم رپورٹنگ بظاہر ایک دھانسودار بیٹ معلوم ہوتی ہے۔ عام خیال بھی یہی ہے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے