سر ورق / ترجمہ / بے رنگ پیا۔۔ امجد جاوید ۔۔ قسط نمبر 3

بے رنگ پیا۔۔ امجد جاوید ۔۔ قسط نمبر 3

بے رنگ پیا۔۔ امجد جاوید

قسط نمبر 3

لاہور کے پوش علاقے میں وہ سفید بنگلہ بڑے احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔ وہ بنگلہ اس علاقے کے مکینوں ہی کے لئے نہیں بلکہ شہر اور بیرون شہر کے ان لوگوں کے لئے عقیدت کا مرکز تھا جو اس کے مکین سے تعلق رکھتے تھے۔وہاںسید ذیشان رسول شاہ اپنے مختصر سے خاندان کے ساتھ رہتے تھے ۔ ان کا اپنا وسیع کاروبار تھا۔ لیکن وہ ایک روحانی شخصیت کے طور پربھی مشہور تھے۔ وہ صبح کے وقت، ملاقات کے لئے آنے والے لوگوں کو ملتے، تھوڑا وقت دیتے پھر اپنے کاموں میں مصروف ہو جاتے ۔ان سے ملنے کے لئے پہلے وقت لینا پڑتا تھا۔ صرف چھٹی کے دن وہ عام عوام کے سامنے آتے، ان کے مسائل سنتے اور جو بھی بن پڑتا ، ان کے لئے کرتے ۔ چند برس سے ان کا کاروبار بچوں نے سنبھال لیاتھا۔ اب وہ دن کا بیشتر وقت لوگوں سے ملتے رہتے تھے۔ ان کی محفلوں میں مختلف موضوعات پر باتیں چلتی رہتی تھیں ۔ لوگ اپنے مسائل بھی بیان کرتے تھے۔وہ صبح کے وقت اپنے لئے مخصوص کمرے میں آ جاتے ، لوگ باری باری ان کے پاس جاتے ، کچھ دیر تک ان کے پاس ٹھہرتے اور پھر واپس پلٹ آتے ۔ اسی طرح رات کے وقت ایک لمبی نشست چلتی تھی ۔

اس وقت بھی وہ اپنے کمرے میں بیٹھے ہوئے تھے ۔ انتظار گاہ میں کافی سارے لوگ موجود تھے ۔ ایک جوان سال لڑکا بڑے اضطراب میں اس دروازے کو دیکھ رہا تھا، جس کمرے کے اندر ذیشان شاہ بیٹھے ہوئے تھے۔ابھی کچھ دیر پہلے ایک ادھیڑ عمر خاتون اندر گئی تھی ۔ وہ اس کے نکلنے کے انتظار میں تھا۔ وہ لڑکاجو اپنی صورت ہی سے کسی خوش حال گھرانے کا لگتا تھا،اس کے ہاتھ میں پکڑی ہوئی کار کی چابی تھی ، جسے وہ کبھی ایک ہاتھ میں اور کبھی دوسرے ہاتھ میں پکڑتا تھا۔اس کے اسی اضطراب سے اس کے اندر کی بے چینی کا پتہ مل رہا تھا۔

کچھ ہی دیر بعد کمرے سے ادھیڑ عمر خاتون نکلی تو اس نوجوان لڑکے نے تیزی سے اٹھ کر اندر جانے کے لئے قدم بڑھا دئیے۔وہ اندر داخل ہوا تو اس کے سامنے سادہ سی شلوار قمیص میں ایک صاحب صوفے پر بیٹھے ہوئے تھے۔سفید چھوٹے چھوٹے بال ، گول چہرہ، کلین شیو ،بیش قیمت چشمہ لگائے، ذیشان شاہ اس لڑکے کو دیکھ رہے تھے۔ انہوں نے لڑکے کو اپنے قریب پڑے صوفے پر بیٹھنے کا اشارہ کیا۔ وہ بیٹھ گیا تو شفاف لہجے میںبڑی نرمی سے بولے

” جی فرمائیں کیا حکم ہے؟“

” شاہ صاحب۔!حکم نہیں ، بس ایک عرض ہے ، مجھے سمجھ نہیں آ رہی کیسے کہوں۔“ اس لڑکے نے دبے دبے لہجے میں بہت مشکل سے کہا

” آپ کچھ بولیں گے تو مجھے پتہ چلے گا نا ، فرمائیں آپ ، جو بھی کہنا چاہتے ہیں۔“ انہوں نے انتہائی نرم لہجے میںکہا

” مجھے کہتے ہوئے عجیب سا لگ رہا ہے ، لیکن میں آپ کے پاس بڑی آس لے کر آیا ہوں ۔میں ….“ وہ نوجوان کہتے کہتے خاموش ہو گیا تو انہوںنے پھر نرمی ہی سے اسے حوصلہ دیتے ہوئے کہا

” جو بھی ہے کہہ دیں ،معلوم تو ہو کہ آپ کہنا کیا چاہتے ہیں۔ تبھی میں کچھ عرض کر پاﺅں گا نا ۔“

” شاہ صاحب ۔! دراصل مجھے …. میں …. ایک لڑکی سے بہت محبت کرتا ہوں ۔ شادی …. شادی کرنا چاہتا ہوں میں اس سے ….وہ بھی مجھے چاہتی ہے ۔“ نوجوان نے منتشر سے لہجے میں کہا تو شاہ صاحب نے اس کی طرف دیکھ کر ایک طویل سانس لی اور سنجیدگی سے بولے

” تو پھر مسئلہ کیا ہے؟“

” مسئلہ اس کے والدین ہیں ، جو نہیںمان رہے ہیں ۔ دراصل …. ہمارے درمیان میں وہی دولت کی دیوار ہے ، اب یہ بات نہیں ہمارے پاس کچھ نہیں ، بس ان کے ہم پلہ نہیں، لیکن میں اسے تو چاہتا ہوں، بہت محبت کرتا ہوں ، اس کے بنا نہیںرہ سکتا ۔“نوجوان نے بہت مشکل سے اپنی بات سمجھاتے ہوئے کہا

” کیا وہ لڑکی بھی تمہیں اتنا ہی چاہتی ہے؟ کیا وہ تمہاری خاطر اپنے والدین کو چھوڑ کر تمہارے پاس آ سکتی ہے؟“ انہوں نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے عام سے لہجے میںپوچھا

” یہی تو اصل مسئلہ ہے شاہ صاحب، میں تو کہتا ہوں کہ وہ آ جائے ، اپنے والدین کو مجبور کرے ، لیکن وہ بھی یہی چاہتی ہے کہ میرے والدین کو منا لو ۔“ اس نوجوان نے احتجاجی لہجے میںکہا تو شاہ صاحب نے پوچھا

” آپ کیا چاہتے ہو ؟“

”میں اسے چاہتا ہوں ، اس سے شادی کرنا چاہتا ہوں ۔ جیسے میںچاہتا ہوں وہ لڑکی وہی کرے ۔ میں اگر اسے کہوں کہ سب چھوڑ کر آ جائے تو بس آ جائے ۔کیونکہ اس کے والدین کے ہوتے ہوئے ہماری شادی نہیںہو سکتی ۔“ نوجوان دبے دبے جوش سے بولا

” میں آپ کا مسئلہ سمجھ گیا ہوں ۔ لیکن ایک بات ذرا کنفرم کرو، آپ اسے کس حد تک چاہتے ہو؟ پیار، محبت ، عشق….“

” بہت ….بہت چاہتا ہوں اُسے ، عشق کی حد تک محبت ہے اس سے ، میں اس کے بنا رہ نہیں سکتا ، مجھے لگتا ہے کہ اگر وہ مجھے نہ ملی تو میں مر جاﺅں گا۔“ وہ روہانسا ہوتے ہوئے بولا

” ٹھیک ۔!میں سمجھ گیا۔ آپ کا کام ناممکن نہیں، ہو سکتا ہے ،جیسا آپ چاہو گے ، وہ آپ کے پاس آ جائے گی ،اس کا ایک حل ہے میرے پاس۔“ شاہ صاحب نے اطمینان سے کہا

” پلیز بتائیں،میں آپ کا بہت مشکور ہوں گا۔“ اس لڑکے نے تیزی سے کہا

” میرے پاس ایک گولی ہے ،وہ کھاﺅ گے تو وہی ہوگا ، جو تم چاہو گے ،لیکن وہ گولی مہنگی بہت ہے ۔“ وہ سکون سے بولے ، یہ سن کر اس نوجوان نے حیرت سے پوچھا

” آپ کے بارے میں تو سنا تھا کہ آپ پیسے وغیرہ نہیں لیتے، مطلب کوئی ہدیہ وغیرہ “ یہ کہتے ہوئے وہ فوراً ہی بولا،” میرا کام ہو جائے میں وہ دے دوںگا، کتنے کی ہے وہ گولی؟“

” وہ گولی ایک لاکھ کی ہے؟“

” ایک لاکھ….“ وہ انتہائی حیرت سے یوں بولا جیسے اسے ایسی کسی بات کی توقع نہ رہی ہو ۔چندلمحے یونہی تذبذب کی کیفیت میں رہنے کے بعد بولا،” شاہ صاحب اتنی رقم ، میرا مطلب ،اتنی زیادہ قیمت اس گولی کی ؟“

” ہاں یہ تو ہے ، خیر آپ کتنے دے سکتے ہو ؟“ شاہ صاحب نے اسی سکون سے کہا جیسے وہ جانتے ہو کہ نوجوان کیا کرے گا ۔ وہ کچھ دیر خاموش رہا پھر بولا

” میں تو یہی چا ر پانچ ہزار دے سکتا ہوں؟“

” یہ تو بہت کم ہیں ۔ کچھ زیادہ کرو ۔“ شاہ صاحب نے مسکراتے ہوئے کہا

” چلیں میں چھ دے دوں گا۔ “ وہ مری ہوئی آواز میں بولا

” چلو ۔ آپ اتنے ہی دے دینا۔“ یہ کہہ کر وہ لمحہ بھر کے لئے خاموش ہوئے پھر پوچھا،” کیا آپ کو گولی ابھی چاہئے یا بعد میں آئیں گے آپ ؟“

” آپ چاہیں تو ابھی دے دیں ، لیکن میرے پاس اتنی رقم ہے نہیں ۔“ وہ کھسیانے سے لہجے میں بولا

” چلو کوئی بات نہیں، پھر دے دینا۔میں گولی ابھی دے دیتا ہوں۔ “ انہوںنے کہا اور اپنی جیب میں ہاتھ ڈال کر ایک ڈبیہ نکالی ، اس میں مختلف رنگ کی گولیاں پڑی ہوئی تھیں۔ شاہ صاحب نے اس میں سے ایک سیاہ گولی نکالی اور اسے دیتے ہوئے کہا

” سو نے سے دو گھنٹے پہلے یہ کھا لینا۔“

” جی ٹھیک ہے لیکن ….“ اس نے گولی پکڑتے ہوئے متذبذب لہجے میں کہا

” لیکن کیا؟“ شاہ صاحب نے پوچھا

” اس گولی سے اس کا کیا تعلق ،گولی میںکھاﺅں گا ، وہ کیسے کھنچی چلے آئے گی ۔“

” بس یہی تو سمجھنے والی بات ہے ۔“انہوںنے نرم سے لہجے میںکہا تو وہ نوجوان حیران و پریشان سا وہاں سے اٹھتا چلاگیا۔ اسے جاتا ہوا دیکھ کر شاہ صاحب مسکرا دئیے ۔

اگلے دن کی صبح شاہ صاحب کے کمرے کی انتظار گاہ میں ابھی تک کوئی نہیںآ یا تھا، جب وہ نوجوان وہاں ا ٓگیا۔ اس کے چہرے کا رنگ اُڑا ہوا تھا۔ کپڑے مسلے ہوئے اور انتہائی پریشان دکھائی دے رہا تھا۔وہ آ کر ایک کرسی پر بیٹھ گیا۔ پھر چند لمحوں بعد ہی اٹھ کر ٹہلنے لگا۔ کچھ دیر بعد بیٹھ گیا، پھر اٹھ گیا۔ اسی کشمکش میں وقت گزرتا رہا ۔ لوگ وہاں آتے گئے ، یہاں تک کہ شاہ صاحب اپنے کمرے میں آ گئے ۔ وہ سب سے پہلے اندر چلا گیا۔ شاہ صاحب اسے دیکھتے ہی سنجیدہ ہو گئے ۔

” جی فرمائیے۔“ اس کے بیٹھتے ہی شاہ صاحب نے اپنے مخصوص نرم لہجے میں کہا

”شاہ صاحب ۔! آپ نے شاید وہ گولی مجھے غلط دے دی ہے ،میرے ساتھ تو بہت غلط ہو گیا۔“ وہ انتہائی پریشانی اور شرمندگی بھرے لہجے میںبولا

” کیا ہوا ؟“ انہوںنے سکون سے پوچھا تو دبے دبے غصے میں بولا

” بہت غلط ہو گیا میرے ساتھ ، شاید میںنے آپ کو اتنی بڑی رقم نہیں دی ، اس لئے آپ نے میرے ساتھ ایسا کیا ، میں آپ کو بڑی سے بڑی رقم دے دیتا ہوں لیکن مجھے …. مجھے پلیز ٹھیک کردیں۔“

” میں پوچھنا چاہوں گا کہ ہوا کیا؟“ وہ بولے

”ہونا کیا تھا، میں نے وہ گولی کھائی ، جیسے آ پ نے بتایا تھا، دو گھنٹے کے بعد میرا بدن ٹھنڈا ہونا شروع ہو گیا، جیسے میں برف میں لگ گیا ہوں ۔ میرے اندر کسی بھی قسم کی کوئی اُمنگ نہیں رہی ۔یوں جیسے کسی نے میرے اندر کی ساری جوانی نکال باہر کر دی ہو ۔میں جیسے کسی عورت کے قابل ہی نہیں رہا۔“ اس بار اس کے لہجے میں غصہ بھی اُمڈ آ یا تھا۔

” تو کیا وہ لڑکی آ ئی نہیں آپ کے پاس ؟“ شاہ صاحب نے پوچھا

” اس نے کیا خاک آ نا تھا۔ اس حالت میں اگر وہ آ بھی جاتی تو میںنے کیا کر لینا تھا۔ میں تو جیسے مرد رہا ہی نہیں۔یہ کیا کر دیا آپ نے میرے ساتھ ؟“اس نے اکتاہٹ بھرے غصے میںکہا تو شاہ صاحب نے اسی اطمینان سے کہا

”تو بیٹا۔! پھر کیا ہوا ، اگر تم مرد نہ رہے ، تمہاری محبت تو یونہی قائم ہے نا، وہ ….“ انہوںنے کہناچاہا تو نوجوان نے احتجاجی لہجے میں بات کاٹتے ہوئے کہا

” کیا کرنا ہے ایسی محبت کا شاہ صاحب،میں اس کے قابل نہیں رہا، بلکہ کسی عورت کے بھی تو….“

” تو اس کا مطلب ہے تمہیں اس لڑکی کے جسم سے محبت ہے ،اس کی ذات سے نہیں، یہ ہے آپ کی محبت ؟ وہ تمہارے پاس آ جائے ، یہ ہے آپ کا عشق ؟آپ کے اندر جو جسم کو چاہنے والا مرد ہے ، وہ ختم ہو گیا تو محبت بھی ختم ہو گئی ، یہ کیسی محبت ہے اور کیسا عشق ہے ، جو جنس زدہ قوت کے ساتھ ہی ختم ہو گیا؟ بتائیں،یہ کیسی محبت ہے ، جس کے لئے آپ کو دوسروں کی مدد چاہئے ؟دولت بھی خرچ نہ ہو اور سب ہاتھ لگ جائے ؟ یہ محبت ہے ، عشق ہے ؟اسی لئے وہ اپنے والدین کو چھوڑ کرآپ کے پاس آ جائے ؟“ شاہ صاحب نے نرم لہجے میں سخت باتیں کہہ دیں

” کچھ بھی ہے ، مجھے اس حالت سے نکالیں، ایک لاکھ کیا دو لاکھ لے لیں پلیز ۔“ وہ نوجوان منت بھرے لہجے میںبولا

”پہلے یہ بتائیں ، یہ محبت پانے کے لئے یا صرف کھوئی ہوئی قوت پانے کے لئے اتنی رقم خرچ کر رہے ہو ۔ “ انہوں نے پوچھا تو نوجوان نے اکتاتے ہوئے کہا

” شاہ صاحب کیا پوچھ رہے ہیں آ پ۔جب میرے پاس یہ قوت ہی نہیںہے تو میںکیا اچار ڈالوں گا کسی محبت کا ۔ پلیز آپ کریں کوئی توڑ….“ اس نے پھر منت سے کہااور جیب میںہاتھ ڈال کر نوٹوں کی ایک گڈی ان کے سامنے رکھ دی تو شاہ صاحب نے جیب میںہاتھ ڈالا وہی ڈبیہ نکالی ، جس میں رنگین گولیاں تھیں۔ انہوںنے ایک سلور رنگ کی گولی نکالی اور اسے دیتے ہوئے کہا

” یہ ابھی کھالو ، دو گھنٹے بعد ٹھیک ہو جاﺅ گے ۔“

” بہت شکریہ ۔“ اس نے گولی پکڑتے ہوئے کہا

” اپنی یہ رقم بھی اٹھالو ۔“ شاہ صاحب نے کہاتو نوجوان نے حیرت سے ان کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا

” کیوں شاہ صاحب؟“

 ”میں نے جان بوجھ کر آپ کو وہ سیاہ گولی دی تھی ۔یہ احساس دلایا کہ آپ حیوانی قوت کا حصول چاہتے ہیں ۔ آپ کو محبت کی طلب نہیں، آپ جیسے نجانے کتنے ایسی حیوانی خواہش کو محبت کا نام دیتے ہیں۔ یہ مان لیں کہ آپ اپنی محبت یا عشق میں جھوٹے ہو ۔اور جھوٹوں کا میرے پاس کوئی کام نہیںہے ۔ جان لو، عشق حیوانیت سے نہیں، انسانیت سے تعلق جوڑنے پر ملتا ہے ۔آپ کا یہ رویہ، دوسراکچھ بھی ہو سکتا ہے لیکن یہ محبت نہیںہے ، اور اب چلیں جائیں یہاں سے ۔“ شاہ صاحب نے آخری لفظ بھی بہت نرمی سے کہے تھے۔ وہ نوجوان ان کی طرف دیکھتا رہا ، پھر انتہائی شرمندگی میںاٹھ گیا۔ شاہ صاحب نے ایک طویل سانس لیتے ہوئے اپنی آ نکھیں بند لیں ۔ جب تک وہ باہر نہیں چلا گیا، انہوںنے آ نکھیںنہیںکھولیں۔

ز….ژ….ز

ملک فضل داد پوتے پوتیوں والے ہو گئے تھے۔ کبھی ان کی صحت قابل ِ رشک ہوا کرتی تھی، وہ اپنی عمر سے بھی کم دکھائی دیا کرتے تھے۔ اگرچہ اُنہیں زندگی میں کافی دھچکے لگے تھے ، اور وہ ہر بار سنبھل بھی جاتے لیکن جو دھچکہ اُنہیں تین برس پہلے لگا تھا، اس نے انہیں بوڑھا کر کے رکھ دیا تھا۔ اُن کے دو ہی بیٹے تھے ۔ فہیم فضل اور سلیم فضل۔ دونوں بیٹے شادی شدہ بچوں والے تھے ۔ فہیم فضل کے دو بچے تھے ، اویس اور مہوش ۔ جبکہ سلیم فضل کی ایک ہی بیٹی تھی آیت النساء، جسے انہوںنے بہت لاڈ دیا تھا ۔ وہ ہمیشہ دادا کی آ نکھوں کا تارا رہی تھی ۔ بڑھاپے کے اس دور میں، جب وہ خود اس دنیا سے جانے کے بارے میں سوچنے لگے تھے، کار حادثے میں اُن کی شریک حیات، اُن کا بیٹا سلیم فضل اور بہو انہیں چھوڑ کر ہمیشہ کے لئے چلے گئے ۔فضل داد یہ صدمہ برداشت نہیں کر پارہے تھے۔ایسے میں آیت النساءکا وجود تھا، جس نے انہیں جینے پر مجبور کر دیا۔ وہ سوچتے، انہوں نے بیوی اور بیٹا کھو دئیے ، آیت کا باپ اور ماں نہیں رہے،اب کون ہے اُس کا ، وہ اپنے بیٹے فہیم کو اچھی طرح جانتے تھے۔فضل داد کسی طرح بھی اپنی پوتی کو ان کے رحم و کرم پر نہیںچھوڑ سکتے تھے۔ اتنے بڑے بنگلے میں ایک بڑا پورشن دادا اور پوتی کے تصرف میںتھا۔ دوسرے پورشن میں فہیم فضل ، اس کی بیوی سلمی ، اویس اور اس کی بیوی ملیحہ رہتے تھے ۔

آیت النساءکے بارے میں دادا جی پوری طرح جانتے تھے۔پے در پے صدمات نے آیت کو وقت سے بہت پہلے ذمہ دار بنا دیا تھا۔ داداجی جب بھی اس کے بارے میںسوچتے، دکھ کی ایک لہر ان کے بدن میں سرایت کر جاتی ۔اُن کی شدید خواہش تھی کہ وہ اپنے گھر کی ہوجائے تو وہ سکون سے اس دنیا سے جا سکتے ہیں لیکن آیت تو یوںہو گئی تھی ، جیسے وہ شادی کرنے کےلئے بنی ہی نہیں ہے ۔پچھلے چھ ماہ سے اس نے کاروبار کیا سنبھالا، اسی کاروبارکی ہو کر رہ گئی تھی ۔دادا جی یہ بھی اچھی طرح جانتے تھے کہ اگر اپنے خون کے رشتے ہی اس کا بھلا سوچ لیتے، تو شاید وہ ایسی نہ ہوتی ۔ دادا جی جب بھی آیت کے بارے میں سوچتے تو بس پھر سوچتے چلے جاتے ۔

اس وقت بھی ایسے ہی تھا۔ وہ پورچ کے ساتھ والے کاریڈور میںبیٹھے اخبار پڑ ھ رہے تھے۔ان کی ذہنی رُو آیت کی طرف ہوئی تو بس اسی کے بارے میںسوچتے چلے جا رہے تھے ۔ انہیں پتہ ہی نہیںچلا کب آیت گیٹ پار کرکے اندر آ گئی ہے ۔ اس نے ٹریک سوٹ پہنا ہوا تھا۔ سر کے بال ہیئر بینڈسے باندھے ہوئے تھے۔ اس کا چہرہ گلابی ہو رہاتھا۔ وہ قریبی پارک میں جاگنگ کرکے آئی تھی ۔ اس نے اپنے دادا جی کو دیکھا ، جنہوں نے اخبار تو سامنے رکھا ہوا تھا لیکن خود خیالوں میںگم تھے۔ وہ آہستہ سے دادا جی کے پاس پہنچی اور ان کے سامنے سے اخبار ہٹا دی ۔دادا جی نے گھبرا کر دیکھا تو سامنے آیت کھڑی تھی ۔

” اوہ اچھا تم ….“ وہ مسکراتے ہوئے بولے

” دادو۔! اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ مجھ سے جھوٹ بول سکیں گے تو یہ آ پ کی بہت بڑی غلط فہمی ہے ۔ کیونکہ جھوٹ بولنا آپ کو آتا ہی نہیں ہے، خاص طور پر میرے سامنے ، بس جلدی سے بتا دیں ،اس وقت آپ کیا سوچ رہے ہیں؟“

” ہاں یہ بات تو ہے ، سوچ تو رہا ہوں لیکن میں اس بارے ناشتہ کر لینے کے بعد بتاﺅں گا۔“ فضل داد نے سنجیدگی سے کہا تو وہ اپنے دادا کے چہرے پر دیکھتے ہوئے مان سے بولی

” آپ ابھی بتائیںگے۔“

” چلو بتا دیتا ہوں لیکن وعدہ کرو کہ جو میں کہوں گا وہ کرو گی ۔“ دادا نے مسکراتے ہوئے کہا

” آپ بتائیں تو سہی ،ماننے یا نہ ماننے کا فیصلہ میرا ہے۔“وہ بھی مسکراتے ہوئے بولی

” اچھا تو پھر سنو۔“انہوںنے خوشگوار لہجے میں کہا، جس پر وہ خاموش رہی تو وہ کہتے چلے گئے،” آج جو بزنس کمیونٹی کی چیف منسٹر کے ساتھ میٹنگ ہے، اسے تم دیکھ لینا، یہ ضروری ہے۔ میں آج آفس نہیںجا رہا ، کیونکہ مجھے کہیں دوسری جگہ جانا ہے،وہ ڈرائیور مجھے لے جائے گا ۔“

” دادو ۔!وہ کوئی بہت اہم جگہ ہے، جہاںآج ہی آپ کو جانا ہے، جس کے لئے چیف منسٹر سے میٹنگ چھوڑ رہے ہیں ۔“ اس نے تجسس سے پوچھا

” ہاں بیٹا۔! میں تم سے چھپاﺅں گا نہیں،میںنے اپنے ایک دوست کے ذریعے تمہارے رشتے کی بات چلائی تھی، مجھے انہی لوگوں سے ملنے جانا ہے ۔“ فضل داد نے کہا تو آیت چند لمحے سر جھکائے کھڑی رہی ، پھر کچھ کہے بنا جانے لگی تو دادا نے اس کا ہاتھ پکڑتے ہوئے کہا،” جانتا ہوں ، تم کیا کہنا چاہو گی ، لیکن یہ میرا فرض ہے ، میںنے اسے نبھانا تو ہے نا بیٹی۔“

” نہیںدادو۔! آپ جانتے ہیں، میں شادی نہ کرنے کا فیصلہ کر چکی ہوں ۔ اب نہیں کرنی شادی، آپ ایسا مت کریں ، پلیز۔“ اس نے گلوگیر لہجے میںکہا اور نرمی سے اپنا ہاتھ چھڑا کر تیزی سے اندر چل دی۔دادا چند لمحے تک افسردہ رہے ، پھر دھیرے سے مسکرا دئیے ۔جیسے کسی بچے کی ضد پر کسی بڑے کا رویہ ہوتا ہے۔

اُسی دن جب وہ پورچ میں آئی تو اس نے سیاہ بزنس سوٹ پہنا ہوا تھا۔ کس کر باندھے ہوئے بالوں سے اس کا ماتھا چوڑا لگ رہا تھا۔ اس کے چہرے پر گہری سنجیدگی تھی۔ہلکا ہلکا میک اپ، ہلکے رنگ کی لپ اسٹک ، کانوں میں سفید بندے، گلے میں سفید سچے موتیوں کا ہارتھا۔ دائیں ہاتھ کی دوسری انگلی میں ہیرے کی انگوٹھی چمک رہی تھی۔ وہ ایک بارعب کاروباری شخصیت لگ رہی تھی۔ ڈرائیور نے دروازہ کھولا تواس نے بیٹھتے ہی اسے آفس جانے کی بجائے سیدھا اس سرکاری عمارت تک جانے کا کہا، جہاں شہر کی بزنس کمیونٹی کے چند لوگ پہنچ چکے تھے۔

یہ وفد شہر کے چنیدہ کاروباری لوگوں کا تھا۔ جس وقت وہ وہاں پر پہنچی سب لوگ ایک ہال میںجمع تھے۔ اس کے پہنچنے کے ساتھ ہی دو لوگ مزید آگئے تھے۔ وہ سبھی ہال میںکھڑے ایک دوسرے سے مل رہے تھے کہ انہی لمحوں میں چیف منسٹر کے ساتھ چند لوگ ایک وفد کی صورت وہاں آگئے۔میل ملاقات کے بعد وہ سب ایک کانفرنس ہال میںچلے گئے ۔وہ بھی بزنس کمیونٹی کے ساتھ میز کے ایک طرف بیٹھ گئی ۔ دوسری طرف سرکاری وفد بیٹھ گیا ۔ ابھی بات چیت شروع نہیںہوئی تھی کہ اس کی نگاہ ایک ایسے چہرے پہ پڑی، جسے دیکھ کر وہ ایک لمحے کے لئے ٹھٹک گئی ۔وہ طاہر باجوہ تھا۔ جو بالکل اس کے سامنے آ کر بیٹھا تھا۔ اس کے چہرے پر بھی بلا کی حیرت تھی ۔آیت اسے پہچان گئی تھی لیکن اس کی نگاہوں میںاب بھی شک پھیلا ہوا تھا۔

میٹنگ ختم ہونے تک کے سارے وقت میں آیت نے وہاں ہونے والی گفتگو پرپوری توجہ دی، جہاں اس کا بولنا بنتا تھا، وہ بولی۔اس دوران اس نے طاہر پر دھیان نہیںدیا۔ جیسے ہی میٹنگ ختم ہوئی اور وہ ہال سے باہر نکلے۔ طاہر باجوہ تیزی سے اس کی جانب بڑھا اوراس کے قریب آ کر بولا

” آپ ….آیت النساء؟“

” طاہر ،میں تمہیں پہچان گئی ہوں۔اتنا تجسس دکھانے کی ضرورت نہیں،میںو ہی آیت النساءہوں جو تمہیں، تمہاری یونیورسٹی میں ملی تھی۔“ اس نے ہلکی ہلکی مسکان کے ساتھ کہا

” تم ، اور یہاں ، میرا مطلب یہاں توٹاپ بزنس….“ اس نے کہنا چاہا تو آیت نے دھیمے سے لہجے میں کہا

” تمہارے پاس وقت ہے تو میرے ساتھ چلو ، ورنہ جب چاہو، میرے آفس آ جانا۔“ اس نے کہا

 ” نہیں، میں ابھی تمہارے ساتھ چلوں گا۔“ وہ تیزی سے بولا

” تم چیف منسٹر کے ساتھ ہو اور کوئی ….“ آیت نے سمجھایا

” تم فکر نہ کرو،چلو میں تمہارے ساتھ جا رہا ہوں۔“اس نے باہر کی جانب چلنے کا اشارہ کرتے ہوئے لاپرواہی سے کہا

” اوکے آﺅ،آفس میں بیٹھ کے بات کرتے ہیں ۔“ اس نے کہا اور سامنے پورچ میںکھڑی شاندار گاڑی کی جانب بڑھ گئی۔ ڈرائیور نے دروازہ کھولا تو وہ بیٹھ گئی۔ اس کے ساتھ ہی طاہر بیٹھ گیا۔

راستے میں ایک لفظ کا بھی تبادلہ نہیںہوا۔ یہاں تک کہ آیت کا آفس آ گیا۔دوسری منزل پر موجود آفس میں پڑے صوفے پر بیٹھتے ہی طاہر نے سگریٹ کا پیکٹ نکالتے ہوئے کہا

” بہت شاندار آفس ہے تمہارا۔“

” چائے پیﺅ گے یا کافی۔پھر ہم لنچ کرنے کے لئے باہر نکلتے ہیں ۔“ آیت نے اس کی سنی ان سنی کرتے ہوئے اس کے ساتھ پڑے صوفے پر بیٹھتے ہوئے پوچھا

” مجھے کہیں نہیںجانا، یہیں سب کچھ ہوگا، مجھے صرف تم سے باتیںکرنی ہیں، بہت ساری باتیں۔“ طاہر نے لرزتے ہوئے ہاتھوں سے لائیٹر کے ساتھ سگریٹ سلگاتے ہوئے کہا ۔آیت کو احساس ہو گیا کہ طاہر کے اندر اب تک کتنی ہلچل ہے اس لئے سر ہلاتے ہوئے کہا

” اوکے ۔“ یہ کہتے ہوئے اس نے انٹرکام پر چائے کا کہہ دیا۔

 کچھ دیر تک خاموشی سے چند کش لینے کے بعدطاہر نے شکوہ بھرے لہجے میںپوچھا

”تم اچانک چلی آئی وہاں سے، بتایا بھی نہیں؟“

اس کے یوں کہنے پر آیت کے لبوں پر دھیمی سی مسکراہٹ آ گئی، چند لمحے خاموش رہنے کے بعد وہ خوشگوار لہجے میںبولی

”کہنے کو تو میں کہہ سکتی ہوں کہ میرے پاس مزید زیور نہیںتھا بیچنے کو، مگر ایسا نہیںکہوںگی، میرا وہاںکام ختم ہو گیا تھا۔ اس لئے وہاں رہنے کا کوئی جواز نہیںتھا۔“

” ایسا کہہ کر کیا تم مجھے شرمندہ کر رہی ہو ؟“ طاہر نے شاکی لہجے میںپوچھاتو سنجیدہ لہجے میں بولی

” میںجانتی ہوں، تمہارے پاس بہت سارے سوال ہیں۔ تمہارے سارے سوالوں کے جواب دیتے ہوئے مجھے اپنے بارے میں بہت کچھ بتانا پڑے گا۔اس لئے ان سارے سو ا لو ں کو وہیںچھوڑ دو۔ بس اتنا یاد رکھو،ہم بہاول پور میںملے تھے اور بس ۔“

” میں نے تمہیں بہت تلاش کیا، بہت پتہ کرنے کی کوشش کی ، مگر تمہارے بارے میں کچھ پتہ ہی نہیں چلا ۔“ اس نے آیت کے چہرے پر دیکھتے ہوئے کہا، جہاں پہلے سے کہیںزیادہ زندگی سے بھرپور چمک تھی۔ تبھی آیت نے اس کا سوال نظر انداز کرتے ہوئے کہا

” پہلی بار ایم پی اے بنے ہو نا ؟“

” ہاں،یہ سیٹ نکالنا ہمارے لئے کوئی مشکل نہیںہے۔ لیکن تم میری بات نظر انداز ….“

” طاہر۔!فائدہ کوئی نہیںہے،ایسی باتوں کا۔“آیت نے لا پر و ا ہی سے کہا

”میں یہ مان لیتا ہوں کہ تم بہت اچھا بزنس چلا رہی ہو گی ، تمہیں فائدے اور نقصان کی زیادہ سمجھ ہے ۔ تم فائدہ ہی چاہتی ہو لیکن میںنے سب کہنا ہے ، مجھے کہنے دو، نہیں کہوں گا تو شاید اندر سے کہیں….“ اس نے کہنا چاہامگر آیت نے اس کی بات کاٹتے ہوئے کہا

” میں نے روکا تو نہیں ، کہو ،میں سن رہی ہوں۔“

اس کے یوں کہنے پر طاہر نے ایک بار آیت کے چہرے پر دیکھا، چند لمحے خاموش رہا پھر بولا

”تمہارے جانے کے بعد میرے دوستوں نے بتا دیا تھا کہ تم ہسپتال میں اس بچے کے لئے ….“

” مطلب وہ میری جاسوسی کرتے رہے ہیں؟“ اس نے پوچھا تو طاہر کندھے اُچکاتے ہوئے بولا

” کہہ سکتی ہو ، اُنہیں بڑاتجسس تھا۔“

” ہونا بھی چاہئے۔فطری بات ہے ، میں یقین سے کہہ سکتی ہوں وہ مجھے فراڈ سمجھتے ہوں گے اور شاید تم بھی ۔“ وہ مسکراتے ہوئے بولی

”میں انکار نہیں کروں گا، اور میں اس پر معذرت بھی نہیںکروں گا کہ میں نے تمہارے بارے کوئی اچھا نہیںسوچا تھا،کیونکہ ہمارا معاشرتی رویہ ہی ایسا ہے۔“

” ٹھیک ہے مگر میںنے ….“ آیت نے کہنا چاہا لیکن طاہر اس کی بات کو نظر انداز کرتے ہوئے بولا

” میں وہ زیور صرف اس وجہ سے خریدتا رہا کہ تم نے میرا مان رکھا اور دوسرا اگر وہ زیور غلط ثابت ہو جاتا،تب بھی میرا نام ہی آنا تھا کیونکہ میں تمہارے ساتھ تھا، جیولر نے فورا مجھ تک پہنچ جانا تھا، اس سے جو بدنامی ہوتی …. خیر، میںنے انہی دو کے بہت اصرار پر وہ زیور دوبارہ دکھایا، اس کی قیمت لگوائی تو اس کی قیمت کہیں زیادہ تھی جو تم نے مجھ سے لی تھی۔“ اس نے اعتراف کرتے ہوئے کہا تووہ دکھی لہجے میںبولی

” طاہر یہ جو دنیا ہے نا ، یہ مجبوری کا فائدہ اٹھاتی ہے ۔پتہ لگ جائے سہی کہ کوئی بندہ مجبور ہے ۔ چھوٹی سی مثال دیتی ہوں ۔ کوئی بندہ اگر یہ کہے کہ میں مجبوری میں اپنی فلاں شے بیچ رہا ہوں تو لوگ انتہائی کم قیمت لگاتے ہیں، اس انتظار میں رہتے ہیںکہ کوئی مجبور بندہ اپنی شے بیچے تو اُسے کم قیمت پر ہی ملے گی ۔“

” ہاں ایسا ہی ہے ۔“ طاہر نے دھیمے سے کہا،پھر بولا۔” میں نے اس بچے کے بارے میںبھی پتہ کروایا، وہ….“

” تم نے پتہ کیا اس کا ؟“ آیت تیزی سے بولی

” ہاں ۔! وہ لوگ تو واقعی بڑے غریب سے تھے۔مجھے ایک بات کی سمجھ نہیںآئی کہ تم یہاں لاہور سے بہاول پور جا پہنچی ۔کیا تعلق تھا تمہارا ان کے ساتھ ، کیسے یہ ….وہ بچہ ….“ اس نے الجھتے ہوئے کہا تو آیت نے زندگی سے بھرپور لہجے میں انتہائی اعتماد سے کہا

” وہ بچہ میری زندگی ہے طاہر ، میری ہر سانس اس کے ساتھ ہے ۔میری زندگی کا محور، میری جان ۔وہ تم نے کہانیوں میں کہیںپڑھا ہوگا کہ کسی کی جان کسی طوطے یا کبوتر میںہوتی ہے ، تو بس سمجھ لو ،میری جان اس بچے ،سرمد میں ہے ۔ میں زندہ ہی اسی کی وجہ سے ہوں، ورنہ اب تک مر گئی ہوتی۔“

آیت نے کچھ اس طرح جوش سے کہا تھا کہ طاہر اس کے ہر لفظ پر حیرت زدہ ہوتا چلا گیا۔ جیسے اسے توقع ہی نہ رہی ہو کہ وہ ایسے بھی بول سکتی ہے۔ ہر لفظ سے محبت ٹپک رہی تھی ۔وہ حیرت سے اسے دیکھنے لگا ۔ اسے اپنے سوالوں کا توکیا جواب ملنا تھا، کئی نئے سوال اس کے ذہن میں پر پھیلانے لگے ۔

” تمہاری شادی ہو چکی ہے ، وہ بچہ کیا تمہارا بیٹا ہے؟“ اس نے یہ سوال انتہائی تجسس سے کیا تھا۔

” نہیں ، میں نے اسے جنم نہیں دیا۔ لیکن شاید میں اپنے اولاد کو اتنی اہمیت نہ دیتی، جتنا وہ میرے لئے اہم ہے۔“ اس نے انتہائی سکون سے جواب دیا

” مطلب ، تمہاری شادی نہیںہوئی ابھی تک ؟“ اس سوال میں تصدیق کرنے کا عنصر زیادہ تھا ۔

” نہیں، اور مجھے شادی کرنا بھی نہیں۔“اس نے مسکراتے ہوئے کہا تب طاہر سگریٹ ایش ٹرے میں مسلتے ہوئے بولا

” شادی کیوں نہیںکرنی؟“

” دیکھا، ہر جواب سے ایک نیا سوال جنم لے رہا ہے ۔یہ ایک سلسلہ ہے جو دراز ہوتا چلا جائے گا ۔ سو ، اپنے تجسس کو ختم کرو،بس اتنا کہ ہم بہاول پور میں ملے تھے، بس ۔“ آیت نے سمجھاتے ہوئے کہاتو وہ چند لمحے سوچتا رہا ، پھر بولا

” دیکھو آیت ، اگر تو یہ سوال صرف میں کر رہا ہوں ، کسی دوسرے نے کبھی نہیں کئے ، یا آئندہ کبھی نہیںہوں گے تو میں نہیں پوچھتا۔“

” نہیں، یہ سبھی پوچھتے ہیں، بے شمار سوالوں سے گندھی یہ ایک ایسی کہانی ہے ، جس کا تعلق صرف میری ذات سے ہے ۔ کسی دوسرے کو اس کا فائدہ ہے اور نہ نقصان ۔سو، اس پر کسی کو تجسس نہیںکرنا چاہئے ۔“ اس بارآیت نے اسے دوسری طرح سمجھایا تو وہ خاموش ہو گیا۔ اسی خاموشی میں چائے آ گئی ۔ چائے پیتے ہوئے طاہر نے کہا

” ٹھیک ہے اگر مجھے بتاتے ہوئے تمہارا نقصان ہوتا ہے تو پھر نہ بتاﺅ۔لیکن….“ یہ کہتے ہوئے وہ لمحہ بھر کو خاموش ہوا ، پھر سپ لے کر بولا،”وہاں بہاول پور میں کچھ ایسی باتیں ہوئیں جو میرے ذہن میں کچھ عجیب سی تصویریں بنا رہی ہیں ،اب تم سے ملنے کے بعد سب گڈمڈ ہوگیا ہے۔“

” میں سمجھی نہیں، تم کہنا کیا چاہ رہے ہو ؟“ آیت نے تجسس سے پوچھا

” وہ جب میں، اپنے دوستوں کے ساتھ سرمد کی تلاش میں وہاں اُن کے گھر گیا، سرمد کے تایا سے ملا، وہاں سے عجیب باتیں سننے کو ملی تھیں۔ایک طرف تمہاری سرمد کے لئے اتنی محبت اور دوسری طرف ان کی نفرت ، بیزاری ، یہ سب الجھاوے والی باتیں ہیں۔“طاہر نے واقعتاً الجھتے ہوئے کہا

” تم وہاں اُن کے گھر والوں سے ملے؟“آیت نے پوچھا تو طاہر نے عام سے انداز میں کہا

” ہاں ،وہ ادھر ہماری ہی فیکٹری میں کام کرتے ہیں۔“

 ” مجھے اندازہ ہے کہ انہوں نے کیا کہا ہوگا۔“ آیت نے کہا اور پھرپیالی واپس ٹرے میں رکھتے ہوئے بولی،”خیر۔!تم سناﺅ ، کیسی چل رہی ہے تمہاری سیاست؟“

”ہمیں کیا کرنا ،ہمارے لئے یہ سیاست ایک معمول کی بات ہے ۔بزنس کا ایک حصہ ہے ۔اب تم کہو گی کہ وہ عوامی خدمت ، وہ عوامی نعرے ، تو جو عوام خود نہیں بدلنا چاہتے ،جو اسی طرح کے حالات میں رہنا پسند کرتے ہیں تو ہمیں کوئی ضرورت نہیں ان کے حالات بدلنے کی ۔“ طاہر نے صاف انداز میں کہا تو وہ مسکرا دی

” اتنا سچ ہر جگہ بول لیتے ہو ؟“آیت نے پوچھا

” نہیں، سچ اس حد تک ہی بولا جا تا ہے ، جہاں سے خوف کی حد شروع نہیں ہوجاتی ہے ،تمہارے یہاں مجھے کوئی خوف نہیں ، اس لئے پورا سچ بول دیا۔“ یہ کہہ کر وہ لمحہ بھر کے لئے رُکا پھر نئی سگریٹ سلگا کر بولا،”جس طرح تم سچ نہیںبتانا چاہ رہی ، ممکن ہے کوئی خوف ہو ۔“وہ مسکراتے ہوئے بولا ۔ اس بات سے صاف ظاہر تھا کہ وہ کس قدر متجسس ہے ۔اس پر آیت بھی مسکرا دی ۔ پھر بولی

” ٹھیک ہے ، کسی دن بات ہو جائے گی اس پر ۔“

” بہت شکریہ ، دوبارہ ملنے کی اجازت دینے کا، حالانکہ اپنی بات منوانے کے لئے میرے پاس، ایک مزید یہ سوال بھی ہے کہ تب سرمد کے لئے تمہیں زیور بیچنا پڑا تھا ، اور آج اتنے بڑے بزنس کو چلارہی ہو ۔“یہ کہہ کر وہ مسکرا دیا ۔ آیت نے اس پر کوئی تبصرہ نہیں کیا بلکہ دھیرے سے بولی

” اچھا تم ایسے کرو ،یہاں بیٹھو ، میں ایک میٹنگ لے لوں ، ابھی جو چیف منسٹر سے باتیں ہوئی ہیں ، اس حوالے سے ، یہ ضروری ہے۔“

” اوکے ۔“ اس نے سر ہلاتے ہوئے کہا اور صوفے پر پھیل گیا۔آیت اٹھ کر باہر چلی گئی ۔

شام کے سائے پھیل گئے ہوئے تھے۔موسم بھی خاصا خوشگوار ہو گیا تھا۔ آیت النساءآفس سے لوٹی تو اس نے کار میں بیٹھے ہی دیکھ لیا کہ دادو لان میں بیٹھے ہوئے تھے ۔ ان کے چہرے پر کسی گہری سوچ کی پرچھائیاں تھیں۔کار پورچ میں رُکی تو اس نے اتر کر دیکھا، اس وقت دادو کے چہرے پر مسکراہٹ تھی ۔آیت جان گئی کہ دادو کی یہ مسکراہٹ مصنوعی ہے ۔ دکھاوا ہے، اُسے دکھانے کے لئے ۔وہ ان کے طرف چل دی ۔وہ سلام کر کے ان کے سامنے والی کرسی پر بیٹھ گئی تو دادو چیف منسٹر سے ہونے والی میٹنگ کے حوالے سے بات کرتے رہے ۔آیت نے تفصیل سے بتا دیا ۔

” اچھا ٹھیک ہے ، جاﺅ آرام کرو ۔“ دادا نے کہا تواس نے شرارت سے پوچھا

” آپ بھی تو رپورٹ دیں نا، میرے متوقع سسرالیوں سے مل کر آئے ہیں آپ ؟“

” میں جانتا ہوں تم مجھ سے یوں کیوں پوچھ رہی ہو ۔ صرف میری خوشی کی خاطر۔“ وہ بولے تو ان کے لہجے میں کافی حد تک دکھ گھلا ہوا تھا۔

” دادو آپ بھی نا، ہر بات کو سیریس لے جاتے ہیں ۔“ اس نے پیار سے ان کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیتے ہوئے کہا

”میں ان سے ملا ، بندے تو معقول ہیں، وہ لڑکا بھی ملا مجھ سے لیکن مجھے بھائے نہیں وہ لوگ ۔“ وہ بولے

” کیوں ؟“ اس نے خوشگوار حیرت سے پوچھا

” انہوں نے تمہارے بارے میں بہت کم باتیں کیں اور تمہارے بزنس کے بارے میں تو انہوں نے اتنا پوچھا کہ تفتیش ہی کر ڈا لی۔“ دادا افسوس بھرے لہجے میں بولے

” مطلب لالچی لوگ ہیں۔“ اس نے ہلکی سی مسکان کے ساتھ کہا

” مجھے بھی یو نہی لگا۔“ یہ کہہ کر وہ بولے،” خیر ملتے ہیںڈنر پہ ، جاﺅ آرام کرو ۔“ انہوں نے کہا تو آیت اٹھ کر چل دی ۔

رات گہری ہوتی چلی جا رہی تھی۔آیت کا معمول تھا کہ وہ سونے سے پہلے کچھ نہ کچھ ضرور پڑھتی تھی ۔ کوئی میگزین ، کتاب یا نیٹ سے لیا ہوا کوئی آرٹیکل ۔ اس رات آیت نے ایسی کسی بھی شے کو ہاتھ نہیںلگایا تھا۔ دوپہر ہی سے ایک بات اس کے دماغ میں گھوم رہی تھی ۔ بیڈ پر آتے ہی اس کا ذہن ادھر چلا گیا۔ طاہر باجوہ کو اس کے بارے میں اتنا تجسس کیوں ہوگیا؟ کیا یہ تجسس طاہر باجوہ کی اپنی فطری طبیعت کی وجہ سے ہے یا آیت کا اپنا عمل ایسا پراسرار تھا کہ جس کی وجہ سے دوسروں میں ایسا تجسس ابھرا؟طاہر باجوہ بالکل بھی نہیںبدلا تھا ۔ ویسے کا ویسا لا ابالی ، ایک دم سے فیصلہ کر لینے والا،صاف گو ۔مگر اس کی اپنی حیثیت کافی حد تک بدل گئی تھی ۔آیت نے یہ تبدیلی اپنی ذات کے لئے نہیں بلکہ اپنے مقصد کے لئے اپنائی تھی ۔ سرمد کی صورت میں اس کا مقصد اس کے سامنے تھا۔طاہر کے سوال پر وہ فوری فیصلہ نہیں کر پائی تھی کہ اسے کوئی جواب دے یا نہیں کیونکہ ان سوالوں کے پیچھے اس کی اپنی کہانی تھی ۔ جس کا ایک ایک لمحہ اس کے اندر اُتر چکا تھا اور جس نے اس کی زندگی بدل کر رکھ دی تھی ۔ طاہر باجوہ کو سب کچھ بتانے یانہ بتانے کا وہ فیصلہ نہیںکر پائی تھی۔ یہ اچھا ہوا کہ وہ لنچ سے پہلے ہی چلا گیا ۔ ورنہ اسے سوچنے کا موقع ہی نہ ملتا۔ اسے بتانے کا کیافائدہ ،ہاں اگر اس نے بہت زیادہ ضد کی تو پھر دیکھا جائے گا ۔ یہ سوچتے ہی اس کے اندر اطمینان پھیل گیا ۔ اس پر نیند حاوی ہوتی چلی گئی ۔

ز….ژ….ز

اس دن موسم بہت خوبصورت ہو گیا تھا۔سید ذیشان رسول صاحب اپنے کمرے میں تشریف فرما تھے۔ صبح سے بہت تیز بارش ہو رہی تھی ۔اس دن ان سے ملنے کے لئے جو چند لوگ آئے تھے ، وہ شاہ صاحب سے ملنے کے بعد بارش رُکتے ہی واپس جا چکے تھے۔ آخر میں ایک نوجوان تھا جو کمرے میں داخل ہوا۔شاہ صاحب نے اسے سامنے صوفے پر بیٹھنے کا اشارہ کرتے ہوئے کہا

” جی حکم ۔“

”حضور میں کسی دعا وغیرہ کے لئے نہیں آیا، الحمد للہ ،مجھے کوئی پریشانی نہیں،میں تو آپ کی زیارت کے لئے حاضر ہوا تھا۔“

”پھر بھی کوئی حکم ہو ؟“ شاہ صاحب نے مسکراتے ہوئے پوچھا

”بس جتنی دیر میں آپ کے پاس بیٹھوں گا،مجھے اتنا ہی اچھا لگے گا۔“ اس نے دھیمے سے لہجے میں کہا

” توچلیں جب تک بیٹھے ہیں کوئی بات ہی کر لیتے ہیں۔“ شاہ صاحب نے مسکراتے ہوئے کہا تو اس نوجوان نے دائیں جانب کھڑکی پر نگاہ ڈالی، جہاں سے آسمان صاف دکھائی دے رہا تھا۔ بارش کے بعد ابھی بادل موجود تھے اور دھنک اپنی بہار دکھا رہی تھی۔نوجوان کے لبوں پر مسکراہٹ آ گئی ۔ اس نے بڑے مودب لہجے میں پوچھا

” سرکار ، یہ جو سامنے دھنک ہے ۔ اس میں بے شمار رنگ ہیں۔اسی حوالے سے ایک سوال میرے ذہن میں ہے، اگر آپ کی اجازت ہو تو عرض کروں۔“

”جی جی بولیں۔“

” کلام الٰہی میں لفظ آتے ہیں ، صبغت اللہ۔ اللہ کا رنگ ، یہ اللہ کا رنگ کیا ہے؟ کیسا ہوتا ہے یہ رنگ ؟“اس نوجوان نے پوچھا تو شاہ صاحب کے لبوں پر مسکراہٹ پھیل گئی ۔ وہ چند لمحے نوجوان کے چہرے پر دیکھتے رہے ، پھر بڑے نرم سے لہجے میں بولے

” ان الفاظ پر علماءکرام نے، مفسرین نے بہت کچھ فرمایا،انہوں نے جو بھی فرمایا،ان سب کے تناظرمیں بڑی آسانی سے بات کی جا سکتی ہے۔لیکن۔! آپ صبغت اللہ کی بات کر رہے ہیں،تو پہلے یہ سمجھ لینا چاہئے کہ اصل میں رنگ ہوتا کیا ہے؟ اس کی ماہیت کیا ہے ؟ کیسے بنتے ہیں یہ رنگ؟“

” ظاہر ہے پہلے صبغت یعنی رنگ کو سمجھنا ہے ۔“ اس نوجوان نے دھیمے سے کہاتو شاہ صاحب بولے

” رنگ کی اصل ماہیت روشنی ہے۔سارے رنگ روشنی ہی میں موجود ہیں۔ ہمیںیہ رنگ ہماری آنکھ دکھاتی ہے ۔ آنکھ رنگ کو اس وقت محسوس کرتی ہے جب روشنی کسی شے سے ٹکرا کر آنکھ تک پہنچتی ہے۔ماہرین بتاتے ہیں کہ روشنی کی رفتار ، ”جسے طول موج “کہتے، اس کی وجہ سے دکھائی دیتے ہیں۔ وہ ہی رنگ الگ الگ کرتی ہے ، جسے طیف کہتے ہیں ۔ رنگ توانائی کی مختلف طول موج رکھنے والی شعا عیں ہیں۔ سورج کی روشنی کے رنگ، ہوائی ذرات، ماحولیاتی مالیکیولز کا حجم اور وہ زاویہ نگاہ جس سے ہم رنگوں کی پہچان کرتے ہیں۔“

”تکنیکی اصلاحات میں نہیں بس سادہ سے سمجھائیں۔“ اس نوجوان نے عاجزی سے کہا

” دیکھو، روشنی آتی ہے اور وہ کسی شے سے ٹکراتی ہے ۔ سمجھیں سرخ گلاب پر روشنی پڑی۔ اب وہاں سے صرف وہیں شعاعیں آنکھ دیکھے گی ، جہاں سرخی ہوگی، باقی جذب ہو جائے گا۔ پتّہ سبز دکھائی دے گا کہ باقی روشنی کی شعاعیں وہاں جذب ہو جائیں گی ۔“شاہ صاحب نے اسے سمجھاتے ہوئے کہا

” مطلب روشنی ہی میں سارے رنگ ہیں۔“ نوجوان سر ہلاتے ہوئے بولا

” جی ایسا ہی ہے ۔اس سے رنگ پھوٹتے ہیں۔ ایک بلوریں منشور سے ہم سفید روشنی میں موجود سارے رنگ دیکھ سکتے ہیں۔ کہتے ہیںکہ بنیادی طورپر تین رنگ ہیں ۔ نیلا ، سرخ اور پیلا، یہ کسی سے نہیںبنتے بلکہ ان کے ملنے سے مزید رنگ بنتے چلے جاتے ہیں، یوں یہ بنیادی رنگ ہیں ، باقی سارے رنگ ثانوی ہیں۔“ شاہ صاحب نے کہا تو وہ نوجوان چند لمحے خاموش رہا ، پھر ان کی طرف دیکھ کر پوچھا

” کیا ایسا نہیں ہے کہ ہر رنگ کی اپنی اہمیت ہے ۔ جیسے سفید اور کالا۔“

” چاہے کوئی رنگ بھی ہے ، وہ رنگ ہی ہے ،اب آپ نے سفید اور کالے رنگ کا ذکر کیا تو یہ متضاد رنگ بھی اپنے اندر رنگ رکھتے ہیں۔جس طرح کالا رنگ سارے رنگوں کا مجموعہ ہے ، اسی طرح سفید رنگ بھی مجموعہ ہے۔ اگر ان رنگوں کے مجموعہ میں سے چاہے سفید ہے یا کالا، کوئی ایک رنگ بھی نکال دیا جائے تو ان رنگوںکی ہیت بدل جائے گی ، کوئی دوسرا رنگ بن جائے گا۔ کیونکہ یہ حقیقی رنگ نہیں ثانوی رنگ ہیں۔“

” مختلف لوگ کالے یا سفید رنگ کو بڑی اہمیت دیتے ہیں۔جیسے کوئی ملنگ یا درویش کالے کو پسند کرتا ہے یا کوئی سفید جبّہ پہنتا ہے ۔“

” خیال یہی ہے کہ وہ یہ رنگ علامتوں کے طور پر لیتے ہیںاور ان رنگوں کے ساتھ کوئی نہ کوئی نسبت جوڑ لیتے ہیں۔جیسے کالا رنگ ہے، اس رنگ کو سب سے اہم سمجھ بھی لیا جائے تو یہ پھر بھی ایک ثانوی رنگ ہے۔ کہاجاتا ہے کہ اس پر کوئی رنگ نہیں چڑھتا، یہ سب پر چڑھ جاتا ہے ۔اگر بات ایسے ہی ہو،تو اس میں سے ایک رنگ نکلنے سے اس کی اپنی ہیت نہیں بدلنی چاہئے۔وہ تو بذات خود بنیادی رنگ نہیں ہے۔“ یہ کہہ کر وہ لمحہ بھر کو رُکے پھر کہتے چلے گئے،” پھر دوسری بات ،یہ کیا بات ہوئی کہ ایک ہی وقت میں کالے رنگ کو سوگ کا رنگ قرار دے کر، اس میں تقدس کی مثال لے لی جائے اور اسے حسن بھی کہا جائے ،اگر کوہ طور سیاہ ہے تو کیا وہ رنگ کی وجہ سے اعلی و ارفع ہے ؟ ایسا نہیں، اس کی وجہ دوسری ہے ۔ بذات خود رنگ کو کیا پتہ کہ اسے کس علامت کے طور پر لیا جا رہا ہے ، یہ تو ہم انسان اسے کسی بھی علامت کا نام دئیے چلے جا رہے ہیں۔ اپنی سوچ اور فکر کے مطابق۔ ایک پرندہ کوّا ہے ، کیا اسے صرف کالا ہونے کی وجہ سے گنہ گار قرار دے دیں، جبکہ جو بھی کوّے کی صفات ہیں وہ رَبّ تعا لیٰ نے دی ہیں۔ یہ ہم علامتیںبنا رہے ہیں ، جیسے اُلّو مشرق میں منحوس اور مغرب میں دانشور ہے ۔“

”لیکن شاہ صاحب اگر کالے رنگ کو تقدس کا رنگ دے ہی دیا جائے تو؟“

” دیکھیں ۔!کالے رنگ کو اس وقت استعمال کیا جاتا ہے ، جب سفید رنگ کو ابھارنا ہو ۔ سفیدی کو ظاہر کرنے کے لئے اس رنگ کا سہارا لیا جاتا ہے۔کعبہ کے غلاف کا رنگ کالا ہے ، کعبے کا تو نہیں، غلاف کے کالے ہونے کا مطلب یہ بھی تو ہے کہ یہ تمام انسانیت کو اپنی طرف بلانے کی علامت ہے۔ صوفیا نے کالے رنگ کو اگر لیا ہے تو ظاہری طور پر ، ورنہ کالا رنگ اتنا ہی اہم ہوتا، تقدس کا رنگ ہوتا تو پھر دل کو صاف اور اجلا رکھنے پر زور کیوں دے دیا گیا۔ دل کالا کیوں نہیںکر لیتے،پھر کوئی رنگ چڑھتا ہی نہ ۔ منہ کالا کیوں نہیں؟جب کہ چہرہ روشن ہونا ایک نوید ہے۔پہلے رنگ کی حقیقت کو مانا جاتا ہے پھر اس کی حیثیت کا تعین کیا جاتا ہے۔“

 ” جی رنگ کی سمجھ تو آ گئی ، میںنے عرض کیا تھا صبغت اللہ، مطلب اللہ کا رنگ، وہ کیا ہے؟“

” اللہ سائیں اپنے بارے میں خود فرماتا ہے کہ میں نور ہوں،” وہ اللہ ہی ہے جو زمینوں اور آسمانوں کا نور ہے۔ نور وہ بے رنگی ہے جس سے سارے رنگ پھوٹتے ہیں۔یہ دنیا میں ہم جو بھی رنگ دیکھتے ہیں، آسمانوں میں جو بھی رنگ دکھائی دیتے ہیں، وہ اسی کی تخلیق ہیں۔سارے رنگ اسی بے رنگ پیّاکے ہیں۔“

”تو پھر انسان جو ایک مادی دنیا سے تعلق رکھتا ہے ، وہ نوریا جو آپ بے رنگی فرما رہے ہیں یہ کیسے اور کیونکر؟“ وہ نوجوان بہت زیادہ اُلجھے ہو ئے لہجے میں بولاتو شاہ صاحب نے فرمایا

”انسان کا رنگ کیا ہے ؟ اسے سمجھنے کے لئے ہمیں انسان کو سمجھنا ہوگا۔یہاں بغیر کسی بحث کے میں بتا دوں کہ انسان کی اصل بے رنگی ہی ہے ۔ سفید یا کالا رنگ کوئی معیاری رنگ نہیں ہے ،بلکہ انسان کا بے رنگ ہو نا ہی اصل معیار ہے ۔ انسان خود بے رنگ ہو گا تو اس سے رنگ پھوٹیں گے ۔ایک انسان بے رنگ ہُوا ، دوسرا ہُوا جیسے جیسے انسان بے رنگ ہوتا جاتا ہے ، وہ سب بے رنگی میں آ کر وحدت بناتے ہیں۔اسی طرح پوری انسانیت کے ساتھ واحد ہو جائے گی ۔اب یہاں سوال پیدا ہو تا ہے کہ انسانیت کا معیار کیا ہے ؟ کیونکہ اسی معیار انسانیت کے ساتھ وحدت میں آنا ہو گا۔ پوری تاریخ میں یہ مانا گیا ہے کہ نبی ﷺ کی ذات مبارک معیارِ انسانیت ہے ۔ اگر بے رنگی کا وہ معیار ہمارے پاس ہے تو ہم انسانیت کے ساتھ وحدت میں آ جائیں گے ۔اگر معیار کے ساتھ ہمیں بے رنگی کی کمی بیشی نظر آئے گی تو اسے پورا کیا جائے گا ۔ یہ کمی بیشی پوری کرنا عشق کا کام ہے ۔“

”کیا یہی بے رنگی ہی بندے اور ربّ میںقربت کا باعث بنے گی ؟“

” جی بالکل ۔!اب دیکھیں ، ہوا یکتائی رکھتی ہے ۔سبھی اس میں سانس لے رہے ہیں۔یعنی سب کے سب ہوا کے ساتھ یکتائی میں ہیں۔احد بے رنگ ہے ، کیونکہ سارے رنگ وہیں سے پھوٹتے ہیں، وہ ان رنگوں کا خالق ہے ۔ اس کی بے رنگی اپنی ہے ۔“

” انسان خود کو بے رنگ کر سکتا ہے؟“

” کیوں نہیں، انسان کی بے رنگی کا اعلیٰ ترین معیار نبی ﷺ کی ذات ہے ۔اس معیار پر جس طرح آتے جائیں گے بے رنگی ہوتی جائے گی ۔انسان دنیا کے رنگوں میں جتنا مرضی لتھڑا ہو اہو۔ سارے رنگ ملا کر وہ سیاہی میں ڈوبا ہوا ، لیکن اس کے اندر بے رنگی کی صلاحیت پھر بھی ہے ۔ وہ خود دنیا کے رنگ اپنے آپ سے جدا کر سکتا ہے۔ وہ جسے جیسے رنگ الگ کر تا جائے گا بے رنگی کی جانب بڑھتا جائے گا یہاں تک کہ وہ بے رنگ ہو جائے گا ۔“

 ” شاہ صاحب ۔! کیا آ پ مجھے بے رنگی کے بارے میں بتائیں گے یہ کیا ہے ، کیسے ہے؟“ اس نے حد درجہ تجسس سے پوچھا تو شاہ صاحب نے مسکراتے ہوئے فرمایا

” ابھی آپ اس پر غور و فکر کریں جو ہم نے آ ج بات کی ہے ۔ ان شاءاللہ ہم اس پر بات کر لیںگے۔“

” جی بہت شکریہ شاہ صاحب،جہاں بہت ساری باتیں سمجھنے کو ملیں، وہاں کچھ مزید تشنگی بھی بڑھ گئی ، خیر میں حاضر ہوتا رہوں گا ۔“

” جی بہتر ۔“ شاہ صاحب نے کہا تو نوجوان نے اٹھ کر مصافحہ کیا اور کمرے سے باہر نکلتا چلا گیا۔ شاہ صاحب کے چہرے پر گہری سوچ کے تاثرات تھے۔

ز….ژ….ز

 رات گہری ہو جانے کے باوجود طاہر سو نہیںپایا تھا۔جب کروٹیں بدل بدل کر تھک گیا تو بیڈ سے اٹھ کر ٹہلنے لگا۔وہاں بھی سکون نہیںملا تو بیڈ روم سے باہر نکل کر کاریڈور میں پڑی کرسی پر آن بیٹھا۔ وہاں دھیمی روشنی تھی ۔آگے لان کافی روشن تھا، وہاں سے ذرا فاصلے پر اس کے سیکورٹی گارڈ کھڑے تھے۔ ماحول میں کافی سناٹا تھا۔ وہ اپنی بے چینی کو اچھی طرح سمجھ رہا تھا۔اس کے ذہن میں آیت النساءتھی ۔وہ اس کے بارے میں جتنا بھی سوچتا ، اتنا ہی الجھ رہا تھا ۔ وہ اس کے ساتھ لنچ نہیں لے پایا تھا۔ وہ مصروف ہوگئی تھی ۔شاید وہ اس کا انتظار کر لیتا ، مگر اسے وزیر اعلیٰ آفس سے فون کالز آنے لگیں ۔اس نے اپنی گاڑی منگوائی ،آفس میں موجود ایک لڑکی کو بتایا اور وہاں سے چلا گیا ۔ اگرچہ وہ بنیادی طور پر زمیندار گھرانے سے تعلق رکھتا تھا لیکن کئی برسوں سے وہ بھی کاروبار میں تھے۔ وہ اچھی طرح سمجھ گیا تھا کہ آیت اس وقت کس طرح کا بزنس چلا رہی ہے ۔وہ اس سے کسی طور بھی کم نہیںتھی ۔ یہ ابھی سامنے کی بات تھی ۔ ممکن ہے کچھ دنوں بعد اسے مزید معلوم ہو جائے ۔لیکن دولت مندی کی یہ ساری باتیں اس کے لیے اہمیت نہیںرکھتی تھی ۔اس کے لئے تو آیت کی ذات ہی میں اس قدر دلچسپی ہو گئی تھی کہ وہ خود اس پر حیران تھا۔ ایسا ہو کیسے گیا؟

پہلی ملاقات میں وہ اسے نہ تو اسے خوبصورت لگی تھی اور نہ ہی اتنی پر کشش، جتنی اسے آج دیکھنے میںلگی ۔ کیا دولت انسان کا حسن بڑھا دیتی ہے ؟ یہ سوال اپنی جگہ لیکن یونیورسٹی دنوںمیں جب تلاش کرنے کے باوجود اسے نہ ملی تو اس کے دل میں عجیب سا دکھ محسوس ہونے لگا تھا۔اس نے منیب اور ساجد کے ساتھ اسے تلاش کیا، اور ان لڑکیوں تک جا پہنچے ، جن کے پاس وہ ٹھہری تھی ۔ انہوں نے بھی آیت کے بارے میں کچھ نہیں بتایا ۔وہاں سے مایوس ہونے کے بعد ، اس نے ہاسپیٹل سے بچے سرمد کا پتہ تلاش کیا اور پھر معلومات کروانے کے بعد جب ان کے ہاں پہنچا تو وہاں سے اسے جو معلومات ملی ، وہ کچھ ایسی تھیں ، جن سے آیت کے بارے میں اچھا تاثر نہیںجا رہا تھا۔وہ سرمد کے تایا ابرار حسین سے ملا تھا۔جو ان کی ہی فیکٹری میں کام کرتا تھا۔اس نے ایک نئی کہانی سنائی تھی ۔اس نے کچھ یوں بتایاتھا

” اُوسر جی ، میرا ایک بھائی تھا ، وقار حسین، لاہور میں پڑھتا تھا۔بڑا سوہنا نوجوان تھا۔یہ لڑکی اس پر عاشق تھی ۔ جس وقت ہم نے وقار حسین کی شادی کی تھی ، ان دنوں وہ یونیورسٹی ہی میں پڑھ رہا تھا۔ اس وقت ہمیں بھی نہیںمعلوم تھا کہ یہ لڑکی ہمارے بھائی کے پیچھے لگی ہوئی ہے ۔ تقریباً ایک برس بعد وقار کے ہاں اللہ نے بیٹا دیا۔ہم سب بہت خوش تھے ۔بس انہی دنوں ہمارا بھائی قتل ہو گیا۔وہیں لاہور میں ۔ہم نے تو بس اس کی نعش ہی وصول کی تھی ۔ پھر پتہ نہیں اس لڑکی کا انتقام پورا نہیںہوا تھا۔ وہ ہماری بھابی کے پیچھے آنے لگی ۔ سرمد بیمار ہو گیا۔سنا ہے وہ اس کے علاج کے چکر میں یہاں آئی تھی ۔ اب چند دن ہوئے ہماری بھابی کو بھی نجانے کہاں لے گئی ہے ۔ پتہ نہیںہماری بھابھی پر اس نے کیا جادو کیا ہے۔“

” کیا تم اسے جانتے ہو، کون ہے ، کہاں رہتی ہے ؟“ طاہر نے اپنے تجسس کو دباتے ہوئے پوچھا

” مجھے صرف اتنا پتہ ہے کہ وہ لاہور کی ہے ،کسی امیر کبیر خاندان سے تعلق رکھتی ہے ۔“وہ اتنا ہی بتا پایا تھا۔

” تم نے پتہ نہیںکیا، وہ تمہاری بھابھی کو اپنے ساتھ لے گئی، سرمد تمہارا بھتیجا ہے ؟“ طاہر حیرت سے پوچھا

”ہماری بھابھی اپنی مرضی کی مالک ہے، ہم کیا کہہ سکتے ، ہمارا کوئی زور تو نہیںاس پر ، جس سے شادی کی اب وہ ہی نہیںرہا تو کیا کریں ۔“ابرار حسین نے جواب دیا

” ٹھیک ہے ، لیکن اس کا پتہ کرو ۔“ طاہر نے اسے سمجھاتے ہوئے کہا ، حالانکہ یوںکہنے میں اس کی اپنی خواہش زیادہ تھی ۔ اس نے وعدہ کر لیا کہ وہ تلاش کرے گا لیکن پھر بعد میں اس نے رابطہ ہی نہیں کیا ۔

شاید وہ اپنی پوری توجہ لگا کر رابعہ کو تلاش کرنے کی کوشش کرتا۔ اور اس کے ذریعے سے وہ آیت کو ڈھونڈھ لیتا۔ لیکن انہی دنوں الیکشن کا اعلان ہو گیا۔ اس کے بابا سکندر حیات نے فیصلہ کرلیا کہ اس بار طاہر الیکشن لڑے گا۔اسے اپنی ساری توانائیاں الیکشن پر لگانا پڑیں۔الیکشن شروع ہوتے ہی جویریہ اور اس کا باپ انعام الحق ان کے ہاں آ گئے ۔ سب سے پہلے انہوں نے ہی حمایت کا اعلان کیا۔جویریہ پورے الیکشن میں اس کے ساتھ رہی۔ یہاں تک کہ الیکشن ہو گیا۔وہ اسمبلی کا رکن بن گیا۔بابا نے لاہور میںموجود ”ڈیرہ “ اس کے تصرف میں دے دیا۔جو نجانے کب کا انہوںنے لاہور میں بنایا ہوا تھا۔ الیکشن کے بعد جویریہ سے اس کا رابطہ رہا، لیکن پھر لاہور کی مصروفیات کی وجہ سے کم ہوتا چلا گیا۔

طاہر کے گمان میں بھی نہیں تھا کہ آیت النساءاسے دوبارہ یوںملے گی ۔ پہلی نگاہ میں تو وہ اسے پہچان ہی نہیں پایا تھا۔ وہ پہلے والی آیت لگ ہی نہیں رہی تھی ۔ اگرچہ اس وفد میں اس کا ہونا ہی بہت بڑی بات تھی ۔ لیکن اس کی شخصیت ہی نکھری ہوئی تھی۔ وہ خود سے بیگانہ آیت ، جس سے وہ ملا تھا، وہ ویسی نہیںتھی۔تروتازہ چہرہ،بھرے بھرے گلابی گال،ہلکاہلکا کاجل لگی آنکھیں، جن میں اعتماد کے ساتھ سکون کا بے کراں سمندر تھا ۔ سمارٹ سی، بااعتماد آیت میں اتنا تضاددیکھا تو ایک بار ڈگمگا ہی گیا تھا ۔ کہاں وہ ایک عام سی لڑکی ، جس پر اس نے بھی شک کیا تھا، اور کہاں اس کے سامنے بیٹھی ہوئی ایک بزنس ویمن ۔ وہ میٹنگ بھول گیا ، بس اسی تصدیق میں لگا رہا کہ وہ واقعی ہی آیت النساءہے ؟ لاشعوری طور پر اس کی نگاہ اس کی کلائی پر پڑی تھی، ویسا ہی کنگن اس کے ہاتھ میں تھا۔اسی جیسے سچے موتیوں کے بندے اس کے کانوں میں تھے ، ویسی ہی انگوٹھی اس کے دائیں ہاتھ کی انگلی میں چمک رہی تھی ۔اس کے گلے میں سفید موتیوں کا ہار دیکھ کر طاہر کو لگا کہ یہ زیور تو کوئی اہمیت نہیں رکھتے ہوں گے اس کے لئے ؟وہ پھر سے ویسا ہی زیور پہنے بیٹھی تھی، جیسا اس نے خریدا تھا۔ وہ میٹنگ میں بولی تو اسے لگا کہ وہ بزنس بارے جانتی ہے ۔جس طرح اس کی شخصیت اس پر واضح ہوتی چلی جا رہی تھی۔ وہ الجھتا چلا جا رہا تھا۔اس کا دماغ سوالوں کی بھرمار سے جیسے بھر گیا۔وہ بہت کچھ پوچھنا چاہتا تھا۔لیکن اسے یہ بھی خدشہ تھا کہ پتہ نہیں وہ اسے پہچانتی بھی ہے کہ نہیں؟ وہ اس سے بات بھی کرے گی ؟اور اگر پہچان بھی گئی تو اس کا رویہ کیسا ہوگا ؟ وہ طاہر جو خود بڑا بااعتماد تھا، اس کی شخصیت کے سامنے کنفیوژ ہو گیا تھا۔

 میٹنگ کا اُسے کچھ پتہ نہیں چلا تھا، کیا ہوا کیا نہیں لیکن آیت کے رویے نے اُسے خوشگوار حیرت میں ڈال دیا تھا۔وہ چاہتا تھا کہ اس کے ساتھ باتیں ہی کرتا چلا جائے ، لیکن ایسا نہ ہو پایا۔ وہ تشنگی جو اسے یونیورسٹی میں ملی تھی ، وہی اب شدت اختیار کر گئی تھی ۔آیت اُسے ایک معمہ لگی تھی، جسے حل کرنے کی اس کے اندر شدید خواہش جنم لے چکی تھی ۔ دن بھر مختلف کاموں نے اُسے الجھائے رکھا، واپس لوٹا، تنہائی ملی تو آیت کو سوچنے بیٹھ گیا۔پھر یہ سوچ اس قدر پھیلی کہ وہ خود بے چین ہو گیا۔ اس نے نگاہ بھر کر سامنے دیکھا، سیکورٹی والے الرٹ کھڑے تھے۔وہ کچھ دیر انہیں دیکھتا رہا، خود کو آیت کی سوچ سے آزاد کرنے کی کوشش کرتا ہوا اٹھ کر اندر چلا گیا۔

اگلے دن صبح بیدار ہوا تو رات کی سوچیں ہنوز تازہ تھیں۔ یہاں تک کہ دوپہر ہو گئی ۔ وہ بے چین ہو گیا۔اس نے اپنی کار اسی بلڈنگ کے سامنے جا روکی ، جہاں آیت کا آفس تھا۔جس وقت وہ گھرسے نکلا تھا، اسی وقت سے اس کے ذہن میںتھا کہ اسے فون کر لے۔ممکن ہے وہ کہیں مصروف ہو ۔شاید وہ فون کر لیتا لیکن اس کے پاس نمبر ہی نہیںتھا۔تلاش کے بعد اس کی کمپنی کا نمبر تو مل ہی جاتا مگر اس نے تلاش میں وقت ضائع نہیںکیا بلکہ اس کے آفس ہی جا پہنچا۔ اس نے کار پارکنگ میں لگائی اور استقبالیہ پر آ گیا۔

” مجھے محترمہ آیت النساءسے ملنا ہے ۔“ اس نے کاﺅنٹر کے دوسری جانب کھڑی کومل سی لڑکی سے کہا

” کیا آپ نے پہلے سے وقت لیا ہے ؟“ اس نے طاہر کو غور سے دیکھتے ہوئے پوچھا

” نہیں، آپ بس انہیں میرا نام بتا دیں۔“ اس نے دھیمے سے انداز میں کہا

” آپ کا نام کیاہے جناب ؟“ اس لڑکی نے سنجیدگی سے پوچھتے ہوئے انٹر کام کا رسیور اٹھا لیا۔طاہر نے اپنا نام بتایا تو لڑکی نے پھر غور سے اسے دیکھا اور انٹر کام پر بات کرنے لگی ۔اس نے دھیمی آواز میں بات کی تھی جو طاہر کو سنائی نہیں دی ۔ چند لمحوں بعد ہی اس لڑکی نے رسیور رکھتے ہوئے سامنے صوفے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا،” آپ پلیز،یہاں تشریف رکھیں، چند منٹ بعد آپ کو بتاتے ہیں۔“

اگرچہ یہ رویہ بڑا ہتک آمیز لگتا تھا، کوئی دوسرا وقت ہوتا تو شاید اسے برداشت نہ کرتا۔لیکن اس وقت وہ خود ایک عام سے بندے کی حیثیت سے وہاں کھڑا تھا۔اور ظاہر ہے اس کے ساتھ بھی رویہ عام سے بندے کا ہی ہو سکتا تھا۔ اسی لئے بڑے سکون سے کہا

” ٹھیک ہے ۔“

یہ کہتے ہوئے وہ سامنے دھرے صوفے پر جا بیٹھا۔اس کے من میں ذرا سی بھی یہ بات نہیں آئی کہ وہ خود کیا حیثیت رکھتا ہے ۔نجانے وہ کون سی طاقت تھی ، جس نے اسے ایسا کرنے پر مجبور کر دیا تھا۔چند منٹ سے کئی منٹ گذر گئے ، استقبالیہ والی لڑکی نے کوئی جواب نہیںدیا۔وہ تبھی بتاتی اگر اسے کوئی جواب ملتا ۔ تقریباً پندرہ منٹ بعد اس نے تیزی سے آتی ہوئی آیت النساءکو دیکھا۔ آیت کے سا تھ دو گارڈ تھے ۔ اس نے سامنے بیٹھے طاہر کی جانب دیکھتے ہی انہیں واپس جانے کا اشارہ کیا تو وہ وہیں رُک گئے ۔ وہ طاہر کی جانب بڑھی اور قریب آتے ہی بولی

”آﺅ چلیں۔“طاہر نے کوئی جواب نہیںدیا ۔ بلکہ اٹھ کر اس کے ساتھ چل دیا۔وہ باہر آئے تو آیت نے پوچھا ،” کہاں ہے تمہاری گاڑی؟“

” پارکنگ میں۔“

” اسے وہیں رہنے دو۔“ وہ دھیمے سے لہجے میں بولی۔ تبھی اُس کی قیمتی کار اُن کے قریب آ گئی ۔کچھ دیر بعد وہ ڈرائیونگ سیٹ پر تھی اور طاہر اس کے ساتھ پسنجر سیٹ پر بیٹھا ہوا جا رہا تھا۔

” کہاں جا رہی ہو ؟“ طاہر نے عام سے لہجے میں پوچھا

” کل تم لنچ لئے بغیر چلے گئے تھے،سوچا آج کر لیتے ہیں۔“آیت نے خوشگوار لہجے میںکہا پھر چند لمحوں بعد اسے خیال آیا تو بولی،” اگر تم نے آنا تھا تو کال کر لیتے ، یوں تمہیں انتظار نہیںکرنا پڑتا۔“

”تم نے اپنا نمبر ہی نہیںدیا تھا، کال کہاں کرتا۔“طاہر نے مسکراتے ہوئے کہا تو وہ خوشگوار حیرت سے ہنستے ہوئے بولی

” اوہ ، اچھا۔تم نے بھی تو اپنا نمبر نہیںدیا تھا اور نہ مجھ سے نمبر مانگا۔“

” ہاں یہ بات تو ہے لیکن میں اس پر ہی خوش ہو گیا تھا کہ تم نے دوبارہ ملنے کی اجازت تو دی ۔“ طاہر نے کہا

”ویسے مجھے گمان نہیںتھا کہ ہم اتنی جلدی مل جائیں گے ۔“آیت نے یونہی سرسری سے انداز میںکہا

” مجھے تمہاری ایک بات یاد ہے آیت ،ممکن ہے تمہیںیاد نہ ہو ۔وہ تم نے پہلی ملاقات میں کہی تھی ، تب میں نہیں سمجھ سکا تھا، لیکن اب شاید اس بات کی سمجھ آ جائے ۔“ طاہر نے سنجیدگی سے کہا

” وہ کون سی بات تھی ؟“ اس نے یاد کرتے ہوئے تجسس سے پوچھا

” تم نے کہا تھا کہ ہماری ملاقات اتفاق سے نہیں ہوئی ۔بلکہ کسی کی مرضی تھی کہ ہم ملیں،یاد ہے؟“ اس نے آیت کے چہرے پر دیکھتے ہوئے پوچھا

” آں ….ہاں…. یاد ہے، بالکل یاد ہے ۔“ وہ دھیرے سے ٹھہر ٹھہر کر یوں بولی جیسے کوئی اہم بات یاد آ گئی ہو۔ایسی بات جسے وہ بھول رہی تھی۔

” ممکن ہے ہماری یہ ملاقات بھی اسی کی مرضی سے ہو ،کیا خیال ہے؟“ اس نے کہا تو وہ ایک دم سے چونک گئی ، وہ کچھ دیر تک خاموشی سے اس پر سوچتی رہی ، پھر بولی

” اچھا کیا…. مجھے یہ بات یاد دلا دی ۔“

” کیوں کیا ہوا ؟“ طاہر نے پوچھا

” مجھے ایک فیصلہ کرنے میں آ سانی ہو گئی ۔ “ وہ سکون سے بولی

” کیسا فیصلہ ؟“ اس نے پوچھا

” تمہیں میرے بارے میں تجسس تھا نا؟“

” ہاں ، وہ تو اب بھی ہے ۔“ وہ بولا تواس نے سوچتے ہوئے لہجے میں کہا

” میں یہ فیصلہ نہیں کر پا رہی تھی کہ اپنے بارے میں تمہیں بتاﺅں یا نہیں۔“

” تو پھر کیا فیصلہ ہوا ؟“ اس نے تیزی سے پوچھا

”میں تمہیں سب بتاﺅں گی ، تمہارے ایک ایک سوال کا جواب دوں گی، یہاں تک کہ تم مطمئن ہو جاﺅ ۔“ اس نے حتمی لہجے میںکہا

” تو چلیں کسی پر سکون جگہ پر ، میرا مطلب ہے جہاں ہمیں کوئی ڈسٹرب نہ کر سکے؟“ اس نے صلاح دیتے ہوئے پوچھا

” ہم وہیں جا رہے ہیں۔“ اس نے یوں کہا جیسے اس کا دھیان کسی دوسری طرف ہو ۔

جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

DEVINE CHROMA 05۔. Abdul Hnnan Ch

Epi.5 Syed Rasool Shah Bukhari was in his room. All the visitors had gone. I …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے