سر ورق / یاداشتیں / ڈائجسٹوں کی الف لیلہ : قسط نمبر 28 سید انور فراز

ڈائجسٹوں کی الف لیلہ : قسط نمبر 28 سید انور فراز

آنکھوں میں اُڑ رہی ہے لٹی محفلوں کی دُھول
عبرت سرائے دہر ہے اور ہم ہیں دوستو!
ڈائجسٹوں کی الف لیلہ : قسط نمبر 28

سید انور فراز
نیو کراچی شفٹ ہونا ہمارے لیے بہت عذاب ناک ثابت ہوا، اس سے نہ صرف یہ کہ صحت متاثر ہوئی بلکہ کارکردگی بھی مناسب نہ رہی، ہمارے لیے بڑا مسئلہ یہ تھا کہ یہ فیصلہ بھی خود ہمارا تھا، معراج صاحب اس کے مخالف تھے، ہماری ضرورت یہ تھی کہ ہمیں اب زیادہ بڑے گھر کی ضرورت تھی، ڈیڑھ کمرے کے فلیٹ میں گزارا نہیں ہوسکتا تھا کیوں کہ ان دنوں ہماری چھوٹی بہن کا شدید جھگڑا اپنے شوہر سے ہوا اور وہ ہمارے گھر آگئی، تنازع کچھ ایسا شدید تھا کہ وہ اگر واپس جانے کو تیار نہ تھیں تو ہم بھی اسے بھیجنے کے لیے آمادہ نہ تھے، تین بیٹیاں اس کے ساتھ تھیں، اسی صورت حال کے پیش نظر ہم نے نیو کراچی میں مکان لینے کا پروگرام بنایا اور اس سلسلے میں معراج صاحب سے قرض کی بھی درخواست کی جو ہماری تنخواہ میں سے ماہ بہ ماہ ادا ہوتا رہتا، وہ اس کے لیے تیار ہوگئے لیکن ایک شرط یہ لگادی کہ مکان اس وقت تک آپ کے نام نہیں ہوگا جب تک کل رقم ادا نہ ہوجائے، ہمارے لیے یہ شرط ماننے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا لہٰذا مکان کی خریداری معراج صاحب کے نام پر ہوئی، ہمارا فلیٹ جو ہمارے نام پر تھا اور جب لیا گیا تھا اس کی پگڑی 80 ہزار ادا کی گئی تھی، یہ رقم بھی ہماری تنخواہ سے ادا ہونا تھی لیکن بعد میں معراج صاحب نے کہا کہ اس کی ضرورت نہیں ہے، یہ تمھارے نام پر ہے اور تمھارے پاس ہی رہے گا، اسے میری طرف سے گفٹ سمجھ لو،جب اسے بیچا گیا تو پگڑی ڈیڑھ لاکھ وصول ہوئی جو ہم نے معراج صاحب کو دے دی جب کہ نیو کراچی کا مکان ڈھائی لاکھ میں خریدا گیا تھا، اس بار بھی یہی ہوا کہ ایک ماہ بعد جب ہم نے تنخواہ میں سے کٹوتی کے لیے کہا تو وہ مسکرا کر چپ ہوگئے پھر بولے ’’ابھی رہنے دو، بعد میں دیکھیں گے‘‘
ہم بھی چُپ ہوگئے لیکن ماضی کا تجربہ ہمارے سامنے تھا اور مطمئن تھے کہ یہ مکان ہمارا ہے اور ہمارا ہی رہے گا،ہم نے اپنی پریشانی کو نظر انداز کیا کہ اتنی دور آنا جانا خاصا تکلیف دہ تھا، صرف یہ سوچا کہ بچوں کے مستقبل کے لیے ایک بہتر سر چھپانے کا ٹھکانا ہوگیا ہے۔
ایک ماہ بعد ہی ہمارے اعصاب جواب دینے لگے، ہم رات کو دیر تک کام کرنے کے عادی تھے،صبح جلد آنکھ نہیں کھلتی تھی لہٰذا دفتر پہنچتے پہنچتے گیارہ بارہ بج جاتے تھے پھر شام کو سات بجے روانہ ہوتے تو ساڑھے آٹھ نو بجے تک گھر پہنچتے اور اس حالت میں بستر پکڑ لیتے، بھوک اڑ جاتی جب تک تھوڑی دیر آرام نہ کرلیتے، کھانا نہیں کھاتے، چناں چہ ہم نے معراج صاحب سے کہا کہ ہم بھی پورا ہفتہ دفتر ہی میں گزاریں گے، حسام بٹ کا قیام بھی دفتر ہی میں تھا، معراج صاحب کو کیا اعتراض ہوسکتا تھا، ہمارے کمرے میں ٹیبل کے سامنے دیوار کے ساتھ ایک سِیٹی ڈال دی گئی اور ہم نے دفتر میں رہائش شروع کردی، پیر کے روز دفتر آتے تو پھر ہفتے کی شام کو ہی گھر روانگی ہوتی، یہ صورت حال ہماری کارکردگی کو بہتر بنانے میں معاون ثابت ہوئی لیکن بیوی بچوں سے ہفتہ بھر دوری بہر حال ایک مسئلہ تھی جس کے کئی پہلو تھے۔
24 گھنٹے دفتر میں قیام کے دوران میں ایک بار پھر حسام بٹ سے قربت بڑھنے لگی، اکثر ہم رات کا کھانا کھانے کے لیے پیدل ہی کسی سمت نکل جاتے اور ایسے ہوٹلوں کی تلاش کرتے جہاں سادہ گھریلو ٹائپ کھانا ملے، تلاش بسیار کے بعد ایسے کئی ٹھکانے تلاش کرلیے تھے ، ایک چھپّر ہوٹل پی آئی ڈی سی ہاؤس کے سامنے مائی کلاچی پل کے نیچے تھا ، یہ ٹھکانا جناب فاضل جمیلی کے ذریعے معلوم ہوا، وہ ان دنوں روزنامہ پبلک میں تھے اور ایسے ہی ٹھکانوں کی تلاش میں رہا کرتے تھے، ایک ہوٹل پاکستان چوک پر تھا، نام یاد نہیں رہا، اس کی دال بڑی مشہور تھی، پہلی بار عبید اللہ علیم ہمیں وہاں لے گئے تھے،وہ کراچی بھر کے تمام اچھے کھانے پینے کی چیزوں کے مراکز سے ایسے ہی واقف تھے جیسے اپنے احباب سے، ان کی موجودگی میں کوئی دوسرا بل نہیں دے سکتا تھا، بہر حال کبھی ہم صدر کی طرف نکل جاتے، حسام بٹ کو پیدل چلنے کا بھی بڑا شوق تھا، وہ تو اکثر ہمیں کلفٹن تک پیدل لے جانے کی کوشش کرتے لیکن ہم نے کبھی ہمت نہیں کی،اسی دور میں حسام کے ساتھ انگلش فلمیں بھی کافی دیکھیں کہ ایک شوق انھیں یہ بھی تھا، دفتر میں ہمارے علاوہ کسی سے بھی ان کی زیادہ رسم و راہ نہ تھی لیکن کسی سے تعلقات بھی خراب نہیں تھے، شاہد منہ پھٹ تھا تو وہ بھی اسے منہ نہ لگاتے، ان کے سونے اٹھنے کے ٹائم مخصوص تھے جب کہ ہمارے سونے کا کوئی وقت ہی مقرر نہیں تھا۔
دفتر میں رہائش اس اعتبار سے تھوڑا سا مسئلہ پیدا کر رہی تھی کہ قومی اخبار کے دفاتر بھی یہیں تھے اور بعد میں روزنامہ جرأت کا اجرا بھی یہیں سے ہوا لہٰذا دن تو دن راتیں بھی جاگتی تھیں اور مستقل شوروہنگامہ بھی جاری رہتا، ہم بھی کچھ بور ہوتے تو قومی کے دفتر میں کسی واقف کے پاس جا بیٹھتے ، کبھی کبھار روزنامہ پبلک کی طرف نکل جاتے جہاں انور سن رائے کے علاوہ اور بہت سے دوست احباب موجود ہوتے اور پھر واپسی رات ایک ڈیڑھ بجے تک ہی ہوتی، کبھی پریس کلب یا آرٹس کونسل کا رُخ کرتے، اس طرح وقت اچھا گزر جاتا تھا، بہت سے لوگوں سے ملنے جلنے اور ادھر اُدھر کی خبریں سننے کا موقع بھی ملتا، زندگی اسی ڈھپ پر گزر رہی تھی۔
شاد صاحب
اب تک عبدالقیوم شاد صاحب کا ذکر ہم نے نہیں کیا، اس کی پہلی وجہ تو یہ ہے کہ وہ ہم سے بہت سینئر تھے اور براہ راست معراج صاحب سے رابطے میں رہتے تھے، ان کے بارے میں ادھر اُدھر سے جو کچھ ہم نے سنا ، وہ یہ تھا کہ انھیں شاید اقبال پاریکھ نے دریافت کی تھا، ادارے میں رہنے کے باوجود خاصے طویل عرصے تک ہماری ان کی راہ و رسم بس سلام دعا تک رہی یعنی سامنا ہوا تو سلام کرلیا اور آگے بڑھ گئے، سال 1993 ء میں معراج صاحب کچھ زیادہ ہی بیرون ملک رہے، اس عرصے میں شاد صاحب سے مراسم بڑھے، وہ ہمارے کمرے میں آنے لگے،عمر میں بھی وہ ہم سے بڑے تھے، اپنے کام سے کام رکھنے والے انسان تھے، کبھی کوئی غیر ضروری بات نہیں کرتے تھے، نہ اپنے حوالے سے، نہ کسی دوسرے کے، مرزا امجد بیگ اور ملک صفدر حیات انہی کے مستقل کردار تھے اور نہایت مقبول بھی تھے، امریکا سے ایلری کوئن مسٹری میگزین اور الفریڈ ہچکاک وغیرہ براہ راست انہی کو روانہ کیے جاتے، چناں چہ نک ویلوٹ کی بہت سی کہانیاں انھوں نے بھی ترجمہ کیں، اس کے علاوہ وہ طبع زاد بھی بہت عمدہ لکھتے تھے، سرورق کی کہانیاں، جاسوسی کی پہلی کہانی ،سسپنس کی آخری کہانی وغیرہ وغیرہ، اس اعتبار سے وہ ادارے کے لیے نہایت اہم رائٹر تھے۔
جب کوئی بندہ گفتگو میں ازحد احتیاط کا مظاہرہ کرے تو دوسرے کو بھی ہمت نہیں ہوتی کہ اس سے ذاتی نوعیت کے سوالات کرے،ایک بار معراج صاحب ہی نے ہمیں بتایا کہ شاد صاحب دوسری شادی کرنا چاہتے ہیں ان کی پہلی بیگم انھیں چھوڑ کر کہیں چلی گئی تھیں، ایک جوان بیٹا اور بیٹی بھی تھے جو انہی کے ساتھ رہتے تھے، معراج صاحب ہی کے ذریعے یہ بھی معلوم ہوا کہ ان کا تعلق قادیانی گروپ سے ہے لہٰذا دوسری شادی بھی وہ کسی قادیانی عورت سے ہی کرنا چاہتے تھے، معراج صاحب جانتے تھے کہ ہمارے عبیداللہ علیم سے اچھے مراسم ہیں تو انھوں نے ہم سے کہا کہ علیم کے ذریعے اگر کوئی رشتہ ہوسکتا ہو تو بتانا۔
شاد صاحب آئے تو ہم نے یہ ذکر چھیڑ دیا لیکن انھوں نے کسی خفگی کا اظہار نہیں کیا ، ہمارا اندازہ ہے کہ معراج صاحب نے بھی ہم سے یہ تذکرہ شاد صاحب کی اجازت سے ہی کیا ہوگا، اس کے بعد وہ ہم سے کھلے اور راہ و رسم بے تکلفی کی حدود میں داخل ہوئی، ہم نے ان سے وعدہ کیا کہ ہم علیم بھائی سے بھی ذکر کریں گے اور بھی ہمارے ایسے واقف ہیں جو آپ کے گروپ سے تعلق رکھتے ہیں، ان سے بھی بات کریں گے۔
غلام قادر ان دنوں نارتھ ناظم آباد میں رہائش پذیر تھے،ہم نے ان کے کان میں بات ڈالی کہ اگر عبیداللہ علیم سے ملاقات ہو تو یہ مسئلہ حل کرائیں، قادر نے یہ انکشاف کیا کہ ہم جس فیملی کے کرایہ دار ہیں، وہ بھی قادیانی گروپ سے تعلق رکھتی ہے، شہلا کے ذریعے انھیں معلوم ہوا ہے کہ وہ بھی اپنی بہن یا بیٹی کے رشتے کے لیے پریشان ہیں، یہ ایک اچھی خبر تھی، ہم نے شاد صاحب تک پہنچائی اور پھر ایک روز انھیں ساتھ لے کر قادر کے گھر پہنچ گئے،دونوں فریقین کی ملاقات کرادی گئی اور ہم علیحدہ ہوگئے لیکن کچھ عرصہ بعد معلوم ہوا کہ یہ بیل منڈھے نہیں چڑھ سکی،اچانک شاد صاحب کا دفتر آنا بہت ہی کم ہوگیا پھر معراج صاحب کے ذریعے معلوم ہوا کہ وہ بیمار ہیں ، ہم انھیں دیکھنے ان کے گھر گئے تو وہ واقعی بیمار تھے لیکن پھر بھی کچھ نہ کچھ کام کر رہے تھے، ہمیں اندازہ نہیں کہ ان کی بیماری نے کتنا طول کھینچا، معراج صاحب بڑی پابندی سے انھیں دیکھنے جایا کرتے تھے اور پھر ایک دن ان کی زبانی ہی معلوم ہوا کہ صورت حال بہت خراب ہوچکی ہے اور ان کے بچنے کی کوئی امید نہیں رہی ہے،آخر کار ڈائجسٹوں کی دنیا کا یہ بے مثل لکھاری ایک روز من و مٹی تلے دفن ہوگیا۔
شاد صاحب کی تحریر میں سلاست و روانی تھی، زیادہ مشکل الفاظ استعمال نہیں کرتے تھے اور چوں کہ خود اہل زبان نہیں تھے لہٰذا بہ محاورہ اردو نہیں لکھتے تھے، کہانی کاری کا فن جانتے تھے اور زندگی کے حقیقی ماحول کی عکاسی کرتے تھے، مغربی ادب کا مطالعہ بہت تھا، چناں چہ ان کے انداز تحریر میں مغربی مصنفین کی جھلک محسوس ہوتی تھی، نہایت سفید بغیر لائنوں والے کاغذ پر فاؤنٹین پین سے لکھتے، لائنوں اور الفاظ کے درمیان معقول فاصلہ ہوتا، خوش خط تھے چناں چہ ان کی تحریر پڑھنے میں کوئی دشواری نہ ہوتی، مسودے کو ایک چھوٹی کتاب کی شکل دے دیتے جس میں درمیانی پشتے میں اوپر نیچے دو پنیں لگی ہوتیں، کتابی شکل میں ان کا یہ مسودہ خاصا جاذب نظر ہوتا، انھوں نے دوسرے ڈائجسٹوں اور اخبار جہاں کے لیے بھی لکھا، اخبار جہاں میں ان کی طویل کہانی بہت مقبول ہوئی۔
روزنامہ پبلک
انور سن رائے ہفت روزہ اخبار جہاں میں اپنے فرائض انجام دے رہے تھے اور خاصے مطمئن تھے،ان کی رہائش ہمارے دفتر سے قریب ہی آرٹس کونسل کے سامنے گوئٹے انسٹی ٹیوٹ کے برابر میں تھی، یہ کرائے کا فلیٹ تھا اور شاید تھرڈ فلور تھا، اس سے تھوڑا سا آگے بڑھیں تو پریس کلب آجاتا ہے،جب سے وہ اس فلیٹ میں شفٹ ہوئے تھے، ہم کبھی کبھی رات میں ان کے گھر پہنچ جاتے، ایک روز ایسے ہی اچانک جانا ہوا تو انور نے ہمیں بتایا کہ انقلاب ماتری صاحب ایک اخبار نکالنا چاہتے ہیں، خیال رہے کہ وہ فخر ماتری کے صاحب زادے تھے جو اپنے زمانے کے مشہور اور کامیاب ترین اخبار ’’حریت‘‘کے مالک اور ایڈیٹر تھے،ان کے انتقال کے بعد حریت اخبار زوال کا شکار ہوا، جناب انقلاب ماتری کو اس بات کا بڑا دکھ تھا کہ وہ اپنے والد کے اخبار کو قائم و دائم نہ رکھ سکے،اب وہ ایک بار دوبارہ اردو اخبار نکالنا چاہتے تھے جب کہ گجراتی زبان میں ’’ملت‘‘کے نام سے ان کا اخبار پابندی سے نکل رہا تھا، یہ بھی فخر ماتری نے ہی جاری کیا تھا۔
نئے اخبار روزنامہ پبلک کے لیے انقلاب ماتری کی نگاہ انتخاب انور سن رائے پر ٹھہری تھی، ہم ان کے بارے میں زیادہ نہیں جانتے تھے، ہم نے انور سے کہا کہ قومی اخبار کا تجربہ کافی نہیں ہے کہ تم ایک بار پھر خود کو کسی نئی مہم جوئی میں ڈال رہے ہو، انور نے جواب دیا ’’انقلاب ماتری مجھے ایک شریف اور معقول آدمی معلوم ہوتے ہیں اور میرا خیال ہے کہ وہ جو وعدے کر رہے ہیں، ان پر پورا اتریں گے لہٰذا یہ رسک لینے میں کوئی حرج نہیں ہے‘‘
ہم سمجھ گئے کہ انور فیصلہ کرچکے ہیں، انھیں سمجھانا یا اس کام سے روکنا اب ممکن نہیں ہوگا پھر بھی ہم نے ادھر اُدھر کی باتیں کرکے وقت اور زمانے کی اونچ نیچ سے اپنے طور پر آگاہ کرنے کی ہلکی پھلکی کوشش کی، انور کا کہنا تھا کہ ایک اچھا اور کامیاب اخبار نکالنا میری دلی خواہش بھی ہے اور اسی خواہش کے تحت میں اپنی نوائے وقت کی مستقل جاب چھوڑ کر قومی اخبار میں آیا تھا لیکن افسوس وہاں وہ نہ ہوسکا جو میں چاہتا تھا لیکن مجھے امید ہے کہ پبلک میں وہ سب ہوسکے گا جو میں چاہوں گا، ہم نے بھی خاموشی اختیار کی اور اس طرح انور نے اخبار جہاں کو چھوڑ کر روزنامہ پبلک کے لیے کام شروع کردیا۔
روزنامہ پبلک کا آفس مشہور زمانہ شیخ سلطان ٹرسٹ کے تہ خانے میں قائم ہوا، یہ عمارت کبھی روزنامہ مساوات کے لیے مخصوص تھی اور اس کی ملکیت کہا جاتا ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو صاحب کی تھی، ایک شاندار پریس بھی اس عمارت میں روزنامہ مساوات کے لیے لگایا گیا تھا۔
یکم مئی 1993 ء عجیب دن تھا، صبح کے اخبارات میں ایم کیو ایم کے چیئرمین عظیم احمد طارق کے قتل کی خبر نمایاں تھی، روزنامہ پبلک کا بھی یہ پہلا دن تھا اور اتفاق سے پبلک کو ایک ایسا دن مل گیا جس دن اخبار کی مانگ بہت زیادہ تھی، اس کے بعد روز بہ روز پبلک عوام میں مقبول ہوتا چلا گیا، اس کے خلاف سازشیں بھی شروع ہوگئیں جو صحافت کی دنیا کی روایت کے مطابق ہیں۔
انور نے ایک بہت اچھی ٹیم بنالی تھی، ان دنوں نذیر لغاری بھی اخبار جہاں میں تھے،انور انھیں بھی پبلک میں لے گئے، حالاں کہ ہم بھی نذیر لغاری سے ایک اہم کام لے رہے تھے، سندھی زبان کے ادیب عثمان ڈپلائی کے ایک مشہور ناول ’’سانگھڑ‘‘کا ترجمہ لغاری نے شروع ہی کیا تھا کہ وہ روزنامہ پبلک کو پیارے ہوگئے اور اس طرح یہ ناول سرگزشت میں شائع ہونے سے محروم رہا، یہ ناول مرحوم پیر صاحب پگارا کے والد پیر صبغت اللہ راشدی کی جدوجہدِ آزادی سے متعلق تھا، یاد رہے کہ انھیں انگریزوں نے پھانسی کی سزا دی تھی اور وہ مجاہدِ حریت جس شان سے پھانسی کے تختے تک گیا، اس کی بھی کوئی مثال نہیں ملتی ؂
جس دھج سے کوئی مقتل کو گیا، وہ شان سلامت رہتی ہے
یہ جان تو آنی جانی ہے ، اس جان کی کوئی بات نہیں
پھانسی کی سزا پر جس رات عمل درآمد ہونا تھا، اس رات انگریز گورنر نے پیر صاحب سے پوچھا کہ آپ کی کوئی آخری خواہش ہو تو بیان کیجیے۔
پیر صاحب نے نہایت اطمینان اور بے پروائی کے ساتھ جواب دیا ’’ایک بازی شطرنج کی کھیلنا چاہتا ہوں لیکن کسی یورپین چیپمئن سے‘‘
اب اسے اتفاق کہا جائے یا پیر صاحب کو معلوم تھا کہ انگریز گورنر کسی زمانے میں شطرنج کی یورپین چیمپئن شپ جیت چکا تھا، گورنر نے حیرت سے پیر صاحب کی جانب دیکھا اور مسکراتے ہوئے کہا ’’میں حاضر ہوں‘‘
شطرنج کی بساط بجھ گئی اور دونوں جانب سے چالیں چلی جانے لگیں، بازی نے خاصا طول کھینچا، ظاہر ہے دوسری جانب ایک یورپین چیمپئن تھا اور ایک طرف پیر صبغت اللہ راشدی جیسا کھلاڑی،پیر صاحب نے بالآخر یہ بازی جیت لی اور اُٹھ کھڑے ہوئے، فرمایا ’’الحمد اللہ موت سے پہلے بھی ایک انگریزکو شکست دی، یہی میری آخری خواہش تھی‘‘
پھر نہایت اطمینان کے ساتھ آپ پھانسی گھاٹ تک تشریف لے گئے، کہتے ہیں انگریزوں نے انھیں کسی نامعلوم مقام پر دفن کیا اور آج تک نہیں معلوم کہ ان کا مزار مبارک کہاں ہے، ان کے دونوں صاحب زادوں کو وہ انگلینڈ لے گئے تھے۔
جونئر
روزنامہ پبلک سے ہی ایک اور نادرالوجود شخصیت سے ہمارا تعارف ہوا، یہ علی عمران جونئر ہیں، آج کل لاہور کے ایک ٹی وی چینل پر مصروف کار ہیں، اپنا بھی ایک ٹی وی چینل یوٹیوب پر لانچ کیا ہے جس کی بڑی دھوم ہے لیکن پبلک کے زمانے میں علی عمران جونئر کی سرگرمیوں سے ہمیں زیادہ واقفیت نہیں تھی، البتہ وہ فلم و تھیٹر کے حوالے سے جو رپورٹنگ یا کالم نگاری کرتے تھے وہ ہماری نظر سے گزرتی تھی، اس دوران میں آفاقی صاحب نے ہم سے کہا کہ کوئی کراچی کا بندہ دیں جو کراچی سے فلم ، ٹی وی اور تھیٹر سے متعلق سرگرمیوں پر ہر ہفتہ ڈائری بھیجتا رہے، ہماری نگاہ انتخاب علی عمران جونئر پر ٹھہری اور ہم نے آفاقی صاحب سے وعدہ کرلیا کہ آپ کو آپ کی مرضی کا بندہ مل جائے گا ۔
اتفاق کی بات یہ کہ انہی دنوں آفاقی صاحب کو کراچی آنا تھا اور آتے ہی انھوں نے پہلا سوال یہی کیا ’’فراز صاحب!ویسے تو آپ کے سارے وعدے جھوٹے ہی نکلتے ہیں ، اب دیکھتے ہیں اس بار کیا ہوتا ہے‘‘
ہم نے ہنستے ہوئے کہا ’’اس بار آپ حیران رہ جائیں گے ، ہم نے جو بندہ ڈھونڈا ہے، اس پر تو ہمیں شک ہے کہ وہ آپ کا ہی صاحب زادہ تو نہیں ہے؟اب آپ اسے دیکھ کر فیصلہ کیجیے گا‘‘
ہماری بات پر آفاقی صاحب تھوڑا سا چونکے ، پھر بولے ’’اب آپ شاید کوئی نیا چکر چلا کر پھر وعدہ خلافی کے لیے بہانہ ڈھونڈ رہے ہیں‘‘
ہم جونئر کو فون کرچکے تھے اور وہ تھوڑی ہی دیر میں دفتر پہنچنے والے تھے ، ہم نے عرض کیا ’’تھوڑا سا صبر کرلیجیے ابھی دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجائے گا‘‘
عمران حسب وعدہ ہمارے کمرے میں داخل ہوئے ، سلام کیا اور کرسی سنبھال لی، ہم نے ہاتھ سے اشارہ کیا اور کہا ’’کیا ہم نے غلط کہا تھا، یہ آپ کے صاحب زادے معلوم نہیں ہورہے؟نوجوانی میں آپ ایسے ہی ہوں گے‘‘
آفاقی صاحب بڑی حیرت کے ساتھ علی عمران جونئر کو دیکھ رہے تھے، حیرت انگیز طور پر دونوں میں بڑی مماثلت تھی ، دونوں ہی بالکل دھان پان اور چہرے مہرے سے ایک دوسرے کی کاپی لگتے تھے، بہر حال یہ ملاقات کامیاب رہی اور آفاقی صاحب نے علی عمران جونئر کو کراچی کی ڈائری ہر ہفتے پابندی سے بھیجنے کی تاکید کردی، اس طرح فیملی میگزین میں یہ سلسلہ شروع ہوگیا لیکن اب ہماری جان کو مصیبت بھی شروع ہوگئی، جونئر ہمیشہ کا لااُبالی اور اپنے موڈ اور مرضی کا مالک بندہ، جب بھی ڈائری لیٹ ہوتی اور علی عمران سے آفاقی صاحب کا فون پر رابطہ بھی نہ ہوتا تو وہ ہمیں فون کرتے اور علی عمران کے ساتھ ہمیں بھی ٹھیک ٹھاک رگڑا لگاتے، کہتے ’’آپ نے ہمیں اپنے ہی جیسا بندہ دیا ہے‘‘
ہم سے سب سے زیادہ ناراض وہ اس حوالے سے رہا کرتے تھے کہ ہم انھیں پابندی سے خط نہیں لکھتے یا ان کے خط کا فوراً جواب نہیں دیتے، اس زمانے میں موبائل وغیر کی سہولت نہیں تھی لیکن ٹیلی فون کی سہولت تو تھی، ہمیں ضرورت پڑتی تو ہم انھیں فون کرلیا کرتے تھے اور کسی ایمرجنسی میں وہ بھی فون کرلیتے تھے لیکن پرانے طور طریقوں اور روایات کی پاسداری ان کے نزدیک بہت اہم تھی لہٰذا جب بھی کچھ مواد بھیجتے اس میں ایک چھوٹا سا چند سطری ہی سہی، خط بھی ہوتا تھا جس کے جواب کی تاکید بھی کی جاتی تھی اور اگر ہم جواب نہ دیں تو ناراض ہوتے تھے،ایک دو بار معراج صاحب سے بھی شکایت کی کہ فراز صاحب خط کا جواب ہی نہیں دیتے،اس میں کوئی شک نہیں کہ ہم خط لکھنے کے چور تھے، آخر معراج صاحب نے ہم سے کہا کہ بھئی ! انھیں خط کیوں نہیں لکھتے ہو، وہ ناراض ہوتے ہیں، ہم نے کہا کوئی ضروری بات ہو تو ہم فون کرلیتے ہیں لیکن معراج صاحب کو بھی ان کی ہر ادا سے پیار تھا لہٰذا سختی کے ساتھ ہمیں ہدایت کی کہ ان کے ہر خط کا جواب ضرور دیا کریں مگر ایمانداری کی بات ہے کہ ہم کبھی اس کی پابندی نہیں کرسکے، ہمارے ریکارڈ میں آفاقی صاحب کے بہت سے خط محفوظ ہیں جو اب ہمیں بہت عزیز ہیں، کبھی کبھی ان خطوط کو پڑھتے ہوئے آنکھوں میں آنسو آجاتے ہیں، وہ محبت، وہ شفقت ، وہ ڈانٹ ڈپٹ اب کہاں؟جون بھائی کا شعر یاد آجاتا ہے ؂
اب مجھے کوئی ٹوکتا بھی نہیں
یہی ہوتا ہے خاندان میں کیا

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

ڈائجسٹوں کی الف لیلہ : قسط نمبر 34  سید انور فراز

آنکھوں میں اُڑ رہی ہے لٹی محفلوں کی دُھول عبرت سرائے دہر ہے اور ہم …

ایک تبصرہ

  1. ملکہ افروز روہیلہ

    بہترین قسط تشنگی کے ساتھ بھرپور دلچسپی دراصل یہ انسان کی فطرت ہے کہ وہ اپنے ماضی سے جڑے افراد ہوں یا رسالے ڈائجسٹوں کا دور ہمشہ سے ہمارا پسندیدہ شوق رہا ہے عبد القیوم شاد سے متعلق پڑھ کر بہت اچھا لگا کیا دور تھا جب سنی شیعہ قادیانی ایک گھاٹ پانی پیتے تھے دوستی و محبت کے رشتے میں گروہ بندی نہیں تھی اور آج یہ حال ہے کہ ایک دوسرے کو کافر کہنے جہنم رسید کرنے سے فرصت ہی نہیں ملتی عظیم احمد طارق کی المناک موت کا سانحہ بھی یاد ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے