سر ورق / کہانی / مشن امپوسیبل2 ۔۔۔ نوشاد عادل

مشن امپوسیبل2 ۔۔۔ نوشاد عادل

مشن امپوسیبل2

نوشاد عادل

            آپ اس سے قبل پڑھ چکے ہیں کہ بلدیاتی الیکشن میں شرفودودھ والا جیت گیا تھا۔ خالو خلیفہ اورانگریز انکل بدترین شکست سے دوچار ہوگئے تھے۔ دڑبہ کالونی میں موجود محلہ امن کمیٹی کے دفتر کو ختم کرکے اسی جگہ شرفو کونسلر صاحب نے اپنا دفتر قائم کرلیا، کیوں کہ شرفو صاحب خود بہت مصروف رہتے تھے ۔انہیں دودھ کی سپلائی پر بھی جانا ہوتا تھا، لہٰذا انہوں نے اپنی زندگی کی سب سے بڑی عقل مندی یہ کی کہ دفتر کے تمام جملہ امور للو اور پنجو کو سونپ دیئے۔اُن کا کام یہ تھا کہ کالونی کے لوگوں کے مسائل کی درخواستیں اور اُن کی شکایات جمع کرکے شرفو کونسلر کے حوالے کریں ،تاکہ شرفوصاحب ان لوگوں کے مسائل حل کے لےے کوئی جگاڑ لگائیں۔شرفو کونسلر صاحب ان کو ہفتے کے ہفتے خرچہ کے لئے معقول سی رقم دیتے تھے، اس لئے کھانے پینے اور دوسرے اخراجات کی طرف سے وہ دونوں مطمئن رہتے تھے۔ اس تمام سیاسی اٹھا پٹخ کے دوران گلابی کے عہدے کو کسی قسم کی کوئی گزند نہیں پہنچی تھی۔بدستور چپراسی کے عہدے پر فائز تھا۔ گلابی کالونی کے مرغوں سے پہلے بیدار ہوکر دفتر پہنچ جاتا تھا۔ جھاڑو کسی چور نے پارکرلی تھی، اس لئے صفائی سے اس کی جان چھوٹ گئی تھی۔ وہ دفتر کھول کر تابوت نما میز پر فٹ بال بن کر سوجاتا تھا۔ دفتر میں اور کوئی قیمتی شے نہیں تھی ۔ اس لئے چوری چکاری کا کوئی خطرہ نہیں تھا۔ بس ایک جھاڑو تھی جو پہلے ہی چور کو پیاری ہوچکی تھی۔ گلابی اس وقت تک آرام فرماتا رہتا تھا کہ جب تک للو اور پنجو آکر اسے جگاتے نہیں تھے۔ سوتے میں اس کی شکل انتہائی بھیانک ہوجاتی تھی ۔پھر اس کی نیند اتنی گہری ہوتی تھی کہ اسے جگانا بھی ایک الگ مسئلہ ہوتا تھا۔ آج بھی جب للو اور پنجو دفتر پہنچے تو حسبِ معمول گلابی گول مٹول بنا سورہا تھا۔

            ”یار اس کا کیا کریں…. ؟ یہ تو روز کا مسئلہ بن گیا ہے۔“ للو نے منہ بنایا۔”یہ تو الٹا ہماری ڈیوٹی بن گئی ہے۔“

             پنجو طیش میں آکر آگے بڑھا اور ایک تھپڑ گلابی پر لگایا۔” اٹھ جا اوئے…. نظر بٹو….ابے صدقے کے بکرے اٹھ….“

صرف اتنا اثر ہوا کہ گلابی نے مسکراکر کروٹ بدل لی اور ایسے منہ چلانے لگا جیسے خواب میں ملتان کا سوہن حلوہ کھارہا ہو۔ پنجو کی جان جل کر رہ گئی وہ بولا۔

”ایک کام کرتے ہیں …. اسے اٹھاکر باہر کچرے پر ڈال دیتے ہیں پھر یہ خود ہی جاگ جائے گا۔“للو کو یہ تجویز بڑی پسند آئی۔

 دونوں نے اسے ڈنڈ ا ڈولی کرکے اٹھایا اور باہر موجود کچرے کے عظیم الشان ڈھیر پر ڈال آئے۔ مجال ہے جو گلابی کی نیند میں کوئی خلل پڑا ہو۔ بلکہ کچرے میں آکر اس کی نیند کو بھی نیند آگئی تھی۔ للو ‘پنجو کافی دیر تک دفتر میں بےٹھے لیڈو کھیلتے رہے ۔ کچھ وقت گزرنے کے بعد انہیں باہر شور ساسنائی دیا۔ دونوں باہر نکلے تو دیکھا گلی میں بہت سے لوگ جمع تھے اور سب افسردہ نظروں سے کچرے میں پڑے ہوئے گلابی کو دیکھ رہے تھے۔ جتنے منہ تھے اس سے زیادہ باتیں ہورہی تھیں۔

”کتنا اچھا اور کتنا کالا تھا….‘ بھوسی ٹکڑے والا یامین مغموم ہوکر کہہ رہا تھا۔ ”پوری کالونی میں اس سے زیادہ کالا کوئی نہ تھا…. ہائے بے چارہ…. پرسوں ہی کہہ رہا تھا…. یامین بھائی آئندہ میں آدھی بوری بھوسی ٹکڑے دوں گا…. بے چارہ بھوسی ٹکڑے دیئے بغیر ہی مرگیا۔“

”صبر کرو یامین بھائی صبر…. “کلو دھوبی نے اسے دلاسا دیا۔” بھوسی ٹکڑے نہیں ملے تو کیا ہوا…. آپ کچھ اور کھا لینا۔“

”بس بھیا زندگی موت کا کوئی بھروسا نہیں ہے ۔“یامین نے ناک سنکتے ہوئے کہا۔

”ٹھیک کہتے ہو یامین بھائی ….“ دنبے نائی نے اپنے بالوں کا ٹوکرا ہلایا۔” ابھی تم زندہ ہوگیا پتا پھیری پر نکلتے ہی دنیا سے نکل لو…. کیوں بھائی یامین….؟“

”آمین….“کسی نے بڑے خلوص اور صدق دل سے کہا۔

”اس کا منہ کتنا خوفناک ہوگیا ہے….“ مجو قصائی کانوں کو ہاتھ لگانے لگا۔” ابے میں نے سنا ہے مرنے کے بعد آدمی کا منہ ایسا ہی ہوجاتا ہے خوفناک سا….“ یہ دلارے بھائی کا نافرمان شاگرد بابو باﺅلا تھا۔

”بس بھائی کیا بتائیں تمہیں …. اللہ معافی دے….“ نجمو سبزی فروش نے سرد آہ بھری ۔”یہ سب گناہوں کا نتیجہ ہوتا ہے کسی کا مرنے کے بعد منہ خوف ناک ہوجاتا ہے اور کسی کامرنے سے پہلے ۔“ نجمو نے دنبے نائی کا منہ سب کو دکھایا۔

”لیکن یہ مرا کیسے….؟ “کسی نے پوچھا۔

”لگتا ہے کسی عظےم صدمے سے مرا ہے…. “کسی اور نے جواب دیا۔

” بجلی کا بل دیکھ لیا ہوگا ایک مہینے کا….“ کوئی دور کی کوڑ ی لایا۔

” ابے اب بل کہاں آتے ہیں…. اب تو بلے آتے ہیں….“کسی بل جلے نے گرم سانس لے کر کہا ۔

 للو اورپنجو ابھی تک دفتر کے دروازے پر ہی کھڑے ساری باتیں سن رہے تھے۔ اچانک انہوں نے دیکھا کہ چاچا چراندی اپنی مخصوص چال چلتے ہوئے آرہے تھے۔ وہ ایسے اُچک اُچک کر چلتے تھے جیسے اونٹ پر سواری کررہے ہوں۔ للو اور پنجو ان کو دیکھتے ہی تھوڑا اندر کی جانب کھسک لےے، کیوں کہ چاچا توان کی جان کے دشمن نمبرون تھے۔ چاچا لوگوں کا رش دیکھ کر ٹھٹکے اور پھر تیر کی طرح آگے بڑھے۔ آتے ہی توپ کی طرح گولے برسانے لگے۔

”کیا بات ہے …. کیا ہوگیا؟ کیوں فالتو فنڈ میں رش لگایا ہوا ہے…. کیا ہوا؟ ہیں؟ یہ کوئی بات ہے بھلا ؟ ایسے ہی منہ لٹکا کر کھڑے ہوگئے رستے میں….فالتو فنڈ میں راستہ روک لیا ہے صبو صبو…. کوئی آیا گیا بھی نہیں دیکھتے …. ادھر کوئی فلم چل رہی ہے؟ “چاچا کا انداز ایسا کٹ کھنا تھا جیسے ابھی ایک ایک کی ٹانگ پر پٹکا بھر لیں گے۔

”چاچا…. یہ لاش پڑی ہے گلابی کی ۔“ دنبے نے منہ بناکر نشان دہی کی ۔لاش کا سنتے ہی چاچا کو چکر آگئے۔ وہ لڑکھڑا گئے تھے۔

”لل…. لا…. لاش…. ابے کدھر سے آگئی لاش…. ؟کیوں میری جان نکالے دے رہا ہے کم بخت….؟ خاما خائی میں ٹیلر بازی کررہا ہے۔“

”ارے یہ رہی لاش…. کچرے پر….“ بابو باﺅلے نے بھی اپنے اصل منہ سے تھوڑا کم برا منہ بنایا۔” ویسے چاچا تمہارے ساتھ بڑی بے مانٹی ہوگئی ہے۔“

”ابے بدبخت کیسی بے مانٹی…. ؟ کس نے کی ہے میرے ساتھ بے مانٹی؟ “

”گلابی نے کی ہے بے مانٹی…. دیکھو ناچاچا….نمبر تو تمہارا لگا ہوا تھا…. یہ لائن توڑ کر تم سے آگے نکل گیا۔ “

”نمبر….؟ “چاچا کی عقل میں آدھی بات ہی آسکی تھی۔” ابے کس چیز کا نمبر….؟ “وہ چیز ہی چاچا کے پلے نہیں پڑرہی تھی۔

ابھی اس احمقانہ گفتگو کا سلسل جاری تھا کہ یک لخت لاش میں حرکت پیدا ہوئی۔

 دیکھتے ہی دیکھتے لاش نے ایک تباہ کن انگڑائی لی۔ اس کریہہ عمل میں لاش کے ہاتھ پیر فالج زدہ آدمی کی طرح مڑگئے تھے۔ لاش کو حرکت میں آتا دیکھ کر سارے کورس کی شکل میں ڈرکے چلائے۔ سب سے بلند آواز چاچا چراندی کی تھی۔ سب کے سب کارٹونوں کی طرح بھاگ نکلے ۔چاچا چراندی ایک ہی جمپ میں کونسلر صاحب کے دفتر میں آگھسے۔ للو اور پنجو ایک سائےڈ ہوکر کھڑے ہوگئے تھے۔ اُدھر گلابی بھتنا بنا ہوا حیران حیران سا دفتر میں چلا آیا۔

             دہشت کے مارے چاچا کا خو ن پانی ہوگیا۔ وہ میز کے پیچھے جاچھپے۔” ابے روک لے اسے…. روک بے بدبخت لاش کو …. ابے یہ پھر سے زندہ ہوگیا کالیے کی اولاد…. مرکے بھی سکو ن ہے اسے…. اسے روکو، ورنہ یہ میرا خون ہے پی لے گا فالتو فنڈ میں۔“چاچا میز کے پیچھے سے بار بار اوپر اُچک کر چیخ رہے تھے۔ ایسا لگ رہا تھا کوئی بزرگ مینڈک اُچھل رہا ہے۔

”چاچا…. بے فکر رہو یہ تمہارا خون نہیں پےے گا…. یہ صرف اچھی ذات والا خون پیتا ہے۔“ پنجو نے ان کو تسلی دی۔

”چاچا جی …. ہوش کرو…. آجاﺅ باہر…. یہ مرا نہیں ہے ۔ادھر سورہا تھا ۔ہم نے ہی سزا کے طور پر اسے کچرے پر ڈالا تھا۔“ للو نے ان کا ڈرو خوف نکال دیا۔

 ہر طرف خاموشی چھاگئی۔ پھر وہ غصے میں بھرے لبالب میز کے عقب سے نکل آئے ۔”ابے بدبخت…. تو فالتو فنڈ میں مرنے کا ڈراما کررہا تھا…. پہلے ہی بھتنے جیسی صورت ہورہی ہے۔ اوپر سے لاش بنا ہواتھا۔ خبردار جو آئندہ مرا۔ اگر مرے گا تو میں تجھے جان سے ماردوں گا۔“

گلابی توتلایا۔”میں ملاتھولی نا…. میں جندہ تا …. سولاتا۔“ (میں مرا تھوڑی تھا…. میں تو زندہ تھا…. سورہا تھا)

”ارے چھوڑو چاچا سب باتوں کو…. آپ آرام سے بیٹھو…. چل بھئی گلابی …. بھاگ کے چاچا کے لئے ایک ٹھنڈی سی بوتل لے آ…. دیکھ تو کتنے پسینے آرہے ہیں …. کیسی چوہے جیسی شکل نکل آئی ہے۔“

”بش تھندی بوتل …. ؟ “گلابی ‘ للو کو دیکھنے لگا۔” وہ بی ایت….؟“

”نہیں…. ایسا کرو دو کریٹ لے آ۔“ پنجو نے خونی لہجے میں کہا۔”ابے للو…. تجھے بولانا…. خالی ایک ٹھنڈی بوتل لے آ…. چاچا سے پیسے دے دو۔“

چاچا کا ہارٹ اٹیک ہوتے ہوتے رہ گیا۔” ابے بدبخت پیسے بھی میں دوں ….؟“

”توپیو گے بھی تو تم…. ہم تو خالی نیت لگائیں گے….“

”ابے چل میں نہیں پی رہا بوتل دو تل…. ہائیں…. اے یاد آیا…. میں تو ادھر ہی آرہا تھا ۔ایک درخواست لکھوانے۔“ چاچا کو اچانک یاد آگیا۔” ایک شکایت لکھو اور شرفو دودھ والے کو دے دینا۔“

”چاچا…. خدا کا خوف کرو…. اب وہ کونسلر ہیں….“

”ابے رین دے…. بات کرریا اے فالتو فنڈ میں …. کونسلر ہوگیا ہے تو کیا ہوا…. رہے گا تو دودھ والا ہی…. ابھی کل ہی دیکھا تھا…. محلے میں دودھ دیتا پھررہاتھا اپنی پھٹ پھٹی پر….“

اتنے میں گلابی کو نا جانے کیا ہوا وہ چپ چاپ باہر نکل گیا۔

”اچھا چلو چاچا…. لکھواﺅ…. ؟“للو نے کاپی کھول کر پین سنبھال لیا۔

”سب سے اوپر میرا نام لکھیو ….ذرا خودکشی سے….“

”غالباً یہ خودکشی کی درخواست ہے …. ؟ “للو نے وضاحت طلب سے چاچا کو دیکھا۔چاچا…. خوش خطی کہنا چاہ رہے ہوں گے۔ پنجو ‘چاچا کی جہالت سمجھ گیا تھا۔

“ہاں تو سب سے پہلے میرا نام لکھنا درخواست برائے چوری قیمتی چیز….“

”چاچا ایسا کرو پہلے سارا قصہ سنادو…. میں بعد میں درخواست بنادوں گا۔“ للو نے رائے دی جسے چاچا نے بہت پسند کیا….

بولے اچھا تو سنو…. بھئی کل رات کا ذکر ہے۔ چاچا باقاعدہ کسی داستان گو کی طرح شروع ہوگئے۔ کل میں سورہا تھا چارپائی پر…. اپنے آنگن میں…. کل چودھویں کی رات تھی…. چاند بھی تسلے کی طرح پورا گول ہورہا تھا…. تارے بھی ٹم ٹم کررہے تھے اور پھر آسمان پورا کالے بادلوں سے ڈھکا ہوا تھا…. بارش کے امکان بھی تھے اور ہوا بھی بڑی ٹھنڈی چل رہی تھی….

یہ سب لکھناہے چاچا۔ للو نے قطعی کلامی کرتے ہوئے پوچھا۔ یہ ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا…. چاند تارے…. بادل بارش…. اور ٹم ٹم….

ابے تو بدبخت سب کچھ لکھے گا تو پوری بات سمجھ میں آئے گی…. جب پوری ہوئی تھی تو یہ سب چیزیں وہاں موجود تھیں….

تو چاچا…. چاند تاروں سے گواہی دلواﺅگے…. للو نے الجھتے ہوئے کہا۔

ایک بات عقل میں نہیں آئی…. پنجو حیران تھا۔ چاند تارے بھی چمک رہے تھے اور کالے بادل بھی چھائے ہوئے تھے…. ایسا کیسے ہوسکتا ہے….؟

ابے میرے آنگن سے ایسا ہی نظر آرہا تھا…. چاچا اپنے موقف پر ڈھیٹ بن گئے۔ تو بیچ میں پٹ پٹ مت کر …. چاچا کا نمک پارہ چڑ ھ گیا تھا۔

لعنت بھیجو چاچا اپنے آنگن میں …. آگے لکھواﺅ….

ابے لکھ کہاں رہا ہے…. آگے سناتا ہوں…. تو چاند چمک رہا تھا ستارے ٹم ٹم کررہے تھے…. کالونی کے کتوں کے بھونکنے کی آوازیں بھی آرہی تھیں….

چاچا…. چور…. پنجو نے پھر درمیان میں اپنی ٹانگ پھنسائی۔

چور….؟ یعنی میں چور…. ؟ چاچا کا منہ پچکے ہوئے پپیتے جیسا ہوگیا۔

مم…. میر امطلب ہے …. وہ چور کب آیا تھا….؟

جب چور آیا تھا تو اس نے مجھے جگاکر ٹیم نہیں بتایا تھا…. چاچا نے اسے بری طرح گھورا۔ ہاں تو میں کہہ رہا تھا کہ میں اپنے آنگن میں سورہا تھا…. پھر چور آیا…. اس نے دیوار ٹاپی اور میرا تہمد اتار کر لے گیا۔

اس مرتبہ للو اور پنجو کے اچھلنے کی باری تھی۔

یعنی …. یعنی کہ چور…. تہمد اتار کر…. لے گیا اور…. اور آپ کو خبر تک نہ ہوئی…. جبکہ ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا بھی چل رہی تھی…. دونوں پاگل ہورہے تھے….

ابے تو مجھے کیسے خبر ہوتی…. اس بخت نے اتنی ہوشیاری سے تہمد اتارا تھا…. اگر مجھے پتہ لگ جاتا تو میں اس انتڑیاں نہیں نکال دیتا…. چاچا نے جٹ لی کی طرح دو انگلیاں آنکڑوں کی طرح موڑ کر ایکشن سے بتایا۔

تو چاچا آپ ایسے ہی…. میرا مطلب ہے بے خبر سوتے رہے….؟

ابے کیا دس مرتبہ بتاﺅں…. ہاں لے کے ….

کوئی بھنگ ونگ یا چرس پی تھی…. سونے سے پہلے …. للو نے اہم نکتہ اٹھایا۔

اوقبر کے کیڑے…. میں کیوں پینے لگا بھنگ اور چرس….

تو پھر ایسی کتے کی نیند ….مم…. میرا مطلب ہے اتنی گہری نیند میں انٹا غفیل پڑے رہے…. کہ چور تہمد بھی اتار کر لے گیا اور آپ یونہی…. ایسے ہی …. خراٹوں پے خراٹوں مارتے رہے …. پنجو نے آنکھیں نچائیں۔

ابے تھکن ہی اتنی زیادہ ہورہی تھی…. بس وہ ایک مرتبہ ہاتھ آجائے۔ اس کا تو میں حشر…. ریڈیو سے سے نشر کروا دوں گا….

پھر چاچا جی …. صبح آپ کے گھر والوں نے دیکھا ہوگا….؟

ابے میں نے خود دیکھا تھا…. تہمد غائب تھا…. میں فوراً جمپ لگاکر گلی میں آگیا اور ساری کالونی میں گھوم پھر کر چور کی تلاش بھی کی تھی….

ہائیں…. دونوں حےرت سے جھوم گئے ۔ابے لے …. باہر بھی نکل گئے …. پوری کالونی بھی گھوم لی ….

تو کیا ہوا…. ؟ چاچا نے بھنویں چڑھالیں۔ باہر نکلنے پر پابندی تھی کوئی کرفیو لگا ہوا تھا گلی میں ….؟

آپ کے گلی آنے کے بعد تو کرفیو کا سماں پیدا ہوگیا ہوگا….

کیوں …. کیوں بے …. ؟میں کوئی دہشت گرد ہوں…. ؟ کوئی بم پھوڑنے گیا تھا۔

گلی میں دہشت بھی پھیلا رہے ہو…. صبح صبح …. شکر کرو چاچا…. کسی نے گدو نہیں پہنچایا….

لعنت ہو تم دونوں پر…. آخر چاچا کی برداشت کا غبارہ پھٹ گیا۔ بات کہاں سے کہاں لے گئے…. میں تہمد کی چور ی کا بتارہا ہوں اور تم مجھے گدو پہنچا رہے ہو….

آپ کا تہمد ابھی تک ساری گفتگو کے گرد لپٹا ہوا ہے چاچا جی ….

یہ سب ابھی اور اسی وقت میرے سامنے لکھو….

تو بتائیں چاچا…. چور…. یعنی کہ چور اتنی آسانی سے تہمد کیسے اتارکر لے گیا؟

ابے بدبخت …. تارپر سے تہمد اتارنے میں چور کو کہا مشکل ہوگی…. تار پر لٹکا ہوا تھا تہمد…. دھوکر سکھانے والا تھا …. چور نے تار پر سے اتارا اور چمپت ہوگیا…. چاچا نے ایک دم ڈراپ سین کردیا۔

للو اور پنجو ایسے ڈھیلے پڑگئے جیسے ان کا پنکچر ہوگیا ہے۔

چاچا…. واہ…. کمال کردیا…. قسم سے کیا کہانی کو پوری کالونی میں گھمایا ہے اور کیا کلائمکس پر لاکر اچانک ختم کیا ہے…. جواب نہیں چاچا…. ہم تو کچھ اور ہی سمجھ رہے تھے…. اچھا بھئی…. ٹھیک ہے …. آپ کی درخواست شام تک کونسلر صاحب تک پہنچ جائے گی…. آپ اس طرف سے بے فکر رہیں….

چاچا اٹھتے ہوئے بولے۔ لکھ لیجیو ذرا جما جما کے….اور آج ہی پہنچادے شرفو تک….

اب ٹانگ کیسی ہے چاچا….؟ للو کو دفعتہ یاد آگیا۔

چاچا کے زخم گرین ہوگئے وہ بن مانس کی طرح دانت نکوس کر غرائے۔ سب یاد ہے ایک ایک بات یاد ہے…. وہ سب کچھ میرے دل پر لکھا ہے…. کبھی موقع لگا تو بدلہ ضرور لوں گا…. ابھی تو میں پریشان ہوں ….

اتنے میں گلابی اندر آیا۔ اس کے ہاتھ میں پیپسی کی ایک خالی بوتل تھی۔

یہ لو…. تھندی بوتل…. اس نے فراخ دلی سے چاچا کو بوتل پکڑا دی ۔ وہ بوتل کو الٹ پلٹ کر دیکھنے لگے۔ ابے تو اس کا میں کیا کروں؟

ابے گلابی …. احمق…. یہ خالی بوتل کیوں لایا ہے ؟ پنجو نے اسے گھر کی دی۔

تم نے تو کہاتا…. ایت بوتل لانا تھالی۔

تو میں اس خالی بوتل کا کیا کروں؟ …. چاچا کو غصہ آرہا تھا ۔خواہ مخواہ میں بوتل کی آس میں انہوں نے اپنی کہانی کو اتنا لمبا کھینچا تھا۔

چاچا ایسا کرو…. بوتل کے منہ کو ہونٹوں سے لگاکر پھونک مارو…. یہ باجے کی طرح بجے گی…. اب بے چارا اتنی گرمی میں بوتل لایا ہے محنت کرکے …. اس کی محنت تو رائیگاں نہیں جائے گی …. للو نے انہیں مشورہ دیا۔

چاچا کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ روئیں نصیب کو پیٹیں گلابی کو…. پھر وہ ان لوگوں کو کوستے ہوئے باہر نکل گئے۔ بے دھیانی میں خالی بوتل بھی ساتھ لے گئے۔ کچھ دور جاکر انہیں خےال آیا کہ وہ تو بوتل بھی لے آئے ہیں۔ بڑے تلملائے پھر سوچا چلو اب آہی گئی ہے تو ذرا اسے بجاکر بھی دیکھیں …. اس طرح چاچا بوتل ہونٹوں سے بجاتے ہوئے ہنسی خوشی گھر کو روانہ ہوگئے۔

اوف…. للو نے سرپکڑلیا۔چاچا نے تو دماغ کا دہی بنادیا…. میرا تو دماغ ہی پھٹنے والا تھا….

شتل ہے تمہارا دماگ نئی پھتا…. ادھل اول کچلا ہوجاتا…. یہ مسٹر گلابی تھے۔

توتلے تو اپنی توتو بند رکھا کر…. للو اس پر الٹ پڑا۔ پتا ہی نہیں چلتا بول رہا ہے یا نوکاپہاڑا یاد کررہا ہے۔

عین اسی لمحے دفتر میں کالونی کی ایک جانی پہچانی اور بدعقل شخصیت لڑکھڑا کر اندر آئی۔ یہ جناب سخن اکبر آبادی تھا۔ ان کا پیراپنے ہی علی گڑھ کٹ پاجامے میں الجھ گیا تھا اس لئے وہ اوندھے منہ گرتے گرتے رہ گئے پھر وہ کھسیا کر جھکا اور گویا کورنش بجالایا۔

آداب عرض کررہا ہوں…. اس کا ہاتھ مسلسل ہینڈ پمپ کی طرح چل رہا تھا۔

کیا کررہا ہوں…. ؟ پنجو چونک پڑا۔

آداب…. سخن دوبار جھکا۔

اچھا…. آداب عرض….

بےٹھو سخن جی …. کیا ہسپتا ل سے آرہے ہو؟ للو نے پوچھا۔

ہسپتال؟اسپتال کیوں بھئی ….؟

پولیو کے ٹیکے لگوائے ہوں گے ناں….آج کل پولیو کے ٹیکے جو لگ رہے ہیں….

کھی کھی کھی…. سخن ہنستے ہوئے انگریوں کا منکی لگ رہا تھا۔ اما مزاخ کررہا ہو….

میں سیریس ہوں …. اگر مذاق کروں تو گلابی کھڑے کھڑے مرجائے۔ للو نے گلابی کو داﺅ پر لگادیا۔ گلابی کالا تو ہی ‘پیلا بھی ہوگیا۔ مجموعی طور پر کالا پیلا ہوگیا۔ ایک بار پھر گلابی باہر چلا گیا۔ کسی نے اسے روکا بھی نہیں۔

جی سخن صاحب …. کوئی کام…. ؟ پنجو نے اسے مطلب کی بات پر کھینچا۔

ہاں …. وہ ہمیں بڑا ضروری کام ہے…. سخن کے چہرے پر خفگی اور نفرت کے آثار نمایاں ہوگئے۔ ایک شکایت ہوگئی ہے ہمیں….

اس کا اظہار تو آپ نے اندار آتے ہی کردیا تھا۔

اصل میں ہمیں …. سخن نے برامانے بغیر اپنی بات جاری رکھی۔ اپنے پڑوسی جمال گدھا گاڑی والے سے ایک شکایت ہوگئی ہے…. وہی جمال جس کو جمال گھوٹا بولتے ہیں…. وہ منحوس ہمارے گھر کے دروازے پر ہی اپنا گدھا باندھنے لگا ہے چند روز سے…. لوگ یہ سمجھ رہے ہیں کہ گدھا ہم نے خریدا ہے …. یعنی حد ہی ہوگئی ابھی کل ہی ایک عزیز مل گئے پوچھنے لگے میاں کیا نیازیرو میٹر گدھا شوروم سے نکلو کر لائے ہو…. کبھی ہماری اتنی بے عزتی نہیں ہوئی….

یعنی ہمیشہ اس سے زیادہ ہوئی ہے ؟ پنجو نے پوچھا۔

اما…. تمہیں مزاخ سوجھ رہا ہے ہماری عزت داﺅ پر لگی ہوئی ہے۔

تو آپ جوئے کا شوق بھی رکھتے ہیں….؟

میاں ہمارا دماغ پہلے ہی گدھے نے خراب کردیا ہے ۔ اوپر سے تم دونوں اور الٹے سیدھے سوال کرے جارہے ہو…. شکایت درج کرنا ہے تو کرو…. ورنہ ہم تو چلے۔

سخن میاں روٹھ کر جانے لگے۔

ارے ارے سخن صاحب …. آپ تو ناراض ہوگئے سچ مچ…. دونوں نے لپک کر اسے دبوچا اور زور سے دھکا دے کر کرسی پر بٹھایا۔ اب آپ بتائیں آپ کیا چاہتے ہیں….؟ گدھے کو گولی مار کر ہلاک کردیا جائے…. ؟ اسے پھانسی دلوادیں…. یا پھر اس کا سرقلم کروا دیں….؟

لاحول ولاقوة …. سخن نے کمر سہلائی ‘ ہم ایسا ہرگز نہیں چاہتے….بلاوجہ گدھے کا خون ہماری گردن پر ہوگا…. میدانِ حشر میں گدھا ہمارا دامن چبانے کے لئے دوڑ رہا ہوگا…. ہم صرف یہ چاہتے ہیں کہ وہ جمال گھوٹااسے ہمارے گھر کے آگے نہ باندھے۔

میر امطلب ہے اپنے گھر کے اندر باندھے…. پنجو نے اپنے پچھلے بیان کی تردید کی۔

ہاں …. اپنے گھر کے اندر بھلے باندھے…. چاہے اپنے کمرے میں باندھ لے….اپنی چارپائی پر سلائے اسے …. مجھے کوئی اعتراض نہیںہے …. سخن غصے میں بولتا چلا گیا۔ انتہائی نامعقول اور بدتمیز گدھا ہے…. ایک تو آتے جاتے ہمیں اپنی پونچھ مارتا ہے …. اور اوپر سے گھر کے دروازے کو باتھ روم بنادیا ہے۔

تو آپ کو تو خوش ہونا چاہئے…. اس بے روزگاری کے دور میں ایک روزگار کا ذریعہ میسر آگیا ہے…. آپ دروازے پر گدھوں کا باتھ روم کا بورڈ لگوادیں اور ریٹ بھی لکھ دیں…. یار للو یہ کس قسم کی شکایتیں آرہی ہیں ہمارے پاس۔

ایمان سے میں جارہا ہوں …. سخن پھر جھٹکے سے اٹھ کر بھاگا۔ بمشکل سے دوبارہ سمجھا بجھا کر کرسی پر دھکیلا گیا۔

بیان جاری رکھا جائے۔ للو نے جج کی طرح سخن کو حکم دیا۔

وہ بے ہودہ گدھا آتے جاتے ہمیں منہ بھی چڑاتا ہے اوپر والا ہونٹ اٹھاکر….

کیسے …. کیسے …. کس طرح….؟ پنجو نے گویا فرمائش ہی کرڈالی۔ سخن نے یاد کرکے گدھے جیسی شکل بنائی جس میں اسے زیادہ محنت نہیں کرنا پڑی۔ معمولی سی تبدیلی سے ہوبہو گدھے جیسے شکل ہوگی۔ وہ اوپری ہونٹ سکیڑ کر انہیں شکل دکھانے لگا۔

پھر بولا ایسی شکل بناتا ہے وہ نامراد….

آپ میں کیا کیا جوہر چھپے ہوئے ہیں سخن صاحب …. آج پہلی مرتبہ معلوم ہوا…. للو نے انہیں خراجِ تحسین پیش کیا۔

ہاں یار واقعی….پنجو نے بھی اس کی تائید کی۔ کمال کردیا…. لگ ہی نہیں رہا تھا کہ یہ کسی انسان کا منہ ہے….

بس اب یہ کام جلد از جلد کرناہے…. اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم کل ہی گلی میں مشاعرہ کرا رہے ہیں…. دور دور سے شاعر آرہے ہیں…. مگر مشاعرہ تو تب ہی ہوگا جب وہ گدھا ہٹے گا….

نہ بھی ہٹے تو کیا فرق پڑتا ہے۔ للو نے کہا۔ آپ مشاعرہ کرادینا…. پھر آپ اپنی سنانا گدھا اپنی سنائے گا…. شاید آپ کو یہ ڈر ہے کہ پہلا انعام گدھے کو نہ مل جائے۔ ویسے آپ بے فکر رہیں…. ہم جمال گھوٹے کو سمجھادیں گے….

وہ پرلے درجے کا بے عقل اور کوڑھ مغز ہے…. بہتر یہ ہوگا کہ گدھے کو سمجھادینا ۔وہ خود ہٹ جائے گا…. سخن یہ کہہ کر کھڑا ہوگیا۔ اچھا بھئی….میں اب چلتا ہوں….

سخن صاحب جاتے جاتے کوئی تڑپتا ہوا شعر ہوجائے۔ للو نے اس کی رگ خواہش پھڑکاڈالی۔

شعر کل سننا مشاعرے میں …. اور تم نے آنا ضرور ہے وہاں…. یاد سے…. سخن یہ کہہ کر باہر نکل گیا ۔اچانک دھڑام کی آواز آئی اور پھر سخن کی چیخ بھی سنائی دی۔ للو اور پنجو نے باہر نکل کر دیکھا۔ سخن اکبر آبادی برے برے منہ بناتا ہوا کھڑا ہورہاتھا۔ اس کے نزدیک ہی زمین پر ایک کیلے کا پچکا ہوا چھلکا پڑا تھا۔ ادھر ایک لمبی سلپ کا نشان بھی بنا ہوا تھا۔ صورتِ حال واضح تھی کہ چند لمحے قبل یہاں کیا ماجرا پیش آیا ہوگا۔ سخن جھولی پھیلا پھیلا کر چھلکا پھینکنے والے کی شان میں قصدیہ خوانی کررہا تھا آخر میں ایک دہائی نما شعر پڑھا۔

خدا اس ناس پیٹے کا ستیاس کرے

جس کی سازش سے اعلیٰ حضرت سخن کرے

سخن بڑبڑاتا ہوا اور اپنے جسم کی مالش کرتا ہوا چلا گیا۔ اس کے جاتے ہی ایک پوشیدہ جگہ سے گلابی کسی ہیرو کی طرح نکلا۔ اس کا منہ کالے گلاب کے پھول کی طرح کھلا ہوا تھا۔ اس کا چہرہ چغلی کھارہا تھا کہ یہ کامیاب سازش اسی کی تھی۔ للو نے گلابی کی کالی بھٹ گردن دبوچ لی اور اسے یونہی اندر لے آیا۔

اوبدبخت …. یہ کیلے کا چھلکا تونے پھینکا تھا….؟

حیرت انگیز طو رپر گلابی نے فوراً قبول کرلیا۔ ہاں …. ہاں…. میں نے پھتیاتا…. گلدن تو چھول میلی….کیوں کی تھی یہ حرکت….؟

تیلا میں نے کھلیداتا آتھ آنے تا…. اس نے سات چھلتا بھی تو آتا اے…. تیلا میں نے تھالیا…. چھلتے تے پیتے بی وتھول ہودئے….

اور ابھی وہ مر مرا جاتا تو پھر….؟

اتھا اے…. مل جاتا…. ایت چھا عرقو تم ہوجاتا پاکستان سے…. دونوں اسے گھورتے رہے پھر للو نے کہا۔ یار …. پنجو…. میں ذرا گھر سے ہوکر آتا ہوں …. بس پانچ منٹ میں آیا…. یہ کہہ کر وہ چلا گیا۔ ابھی للو کو گئے کچھ ہی دیر ہوئی تھی کہ دفتر کی عقبی دیوار کے سوراخ سے انہیں سرسراہٹ کی آواز سنائی دی اور اسی سوراخ سے ایک مڑا تڑا کاغذ اندر آکر گرا۔ یہاں قارئین کو یہ بات بتادی جائے کہ دفتر کی عقبی جانب گندی گلی تھی اور دفتر کی اس دیوار میں ایک بڑا سوراخ تھا۔ پنجو کو ایسا لگا کہ کسی نے جان بوجھ کر وہ کاغذ اندر پھینکا ہے۔ اس نے جلدی سے کاغذ اٹھالیا۔ کاغذ پر انتہائی گندگی اور بھونڈی رائٹنگ میں کچھ لکھا ہوا تھا۔ صاف نظر آرہا تھا کہ لکھنے والے کے محنت اور صفائی سے لکھنے کی ناکام کوشش کی تھی۔ پنجو نے پھرتی سے گلابی سے کہا۔

ابے توتلے….بھاگ کے جا ذرا…. دیکھ یہ کس نے پھینکا ہے ….؟ ابھی وہ گندی گلی میں ہی ہوگا….

گلابی جلدی سے باہر کی طرف بھاگا۔

پنجو نے بمشکل سے وہ رقعہ پڑھا لکھا تھا۔

للو اور پنجو ….میں کافی دنوں سے تمہاری نگرانی کررہا ہوں۔ اصل میں مجھے چند ہوشیار اور پورے دن کے فالتو بندوں کی ضرورت ہے ۔میرا تعلق ایک خفیہ سرکاری ادارے سے ہے اور میں برائیوں اور جرائم کے خلاف کام کرتا ہوں اور چاہتا ہوں کہ تم دونوں بھی میرے ساتھ کام کرو…. میں تمہیں کام بتایا کروں گا او رتم وہ کام کیا کرو۔ بے فکر رہو میںتمہیں ہر کام کی تسلی بخش دیہاڑی دیا کروں گا۔ گلابی بھی تمہارے ساتھ ہوگا۔ اگر چاہو تو ایک دو فالتو بندوں کو ساتھ ملاسکتے ہو۔ اس طرح ہماری باقاعدہ ایک تنظےم بن جائے گی۔ تنظیم کا نام اور اپے کوڈ ہم بعد میں سوچ لیں گے۔ اگر تم لوگ تیار ہوتو جواب اسی سوراخ سے گندی گلی میں پھینک دینا۔ ویسے مجھے امید ہے تم لوگ تیار ہوجاﺅگے…. اس لئے پہلا کام بھی بتارہا ہوں سخن اکبر آبادی کے مشاعرے مےں ایک خطرناک مجرم ایک شاعر بن کر رہا ہے تمہیں اس کا سراغ لگاکر پکڑنا ہے۔ مجھے تلاش مت کرنا ورنہ نقصان اٹھاﺅ گے اور یہ سب راز میں رکھنا…. جواب شام تک دے دینا۔

تمہارا ہونے والا باس

 ایکس ٹو

پنجو کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا یہ بیٹھے بٹھائے ایک نیا چکر شروع ہوگیا تھا اور یہ تھا کون ایکس ٹو؟ جو اتنا پراسرار بن رہا ہے۔ للو آجائے تو اس سے مشورہ لینا پڑے گا۔ للو سے پہلے گلابی واپس آگیا۔

کیا ہوا….؟ پتا چلا کچھ….؟ پنجو نے بڑی بے قراری سے سوال کیا۔

نئی…. گلابی نے مایوسی سے کھوپڑی ہلاتی۔ دندی دی کھال تی۔(گندی بھی خالی تھی)

پنجو گہری سوچ میں غرق ہوگیا۔ جیسے ہی للو نے پنجو نے اسے ایکس ٹو کا رقعہ دکھایا۔ للو بھی بے انتہا حیران ہوا۔

یار…. یہ کیا چکر ہے…. ؟ یہ ایکس ٹو کیا بلا ہے….؟

معلو م نہیں …. ویسے کیا خیال ہے اسے ہاں کا جواب دے دیں….؟

للو نے کہا۔ ہاں کرتو دیں…. لیکن یار کسی لمبے چکر میں نہ پڑجائیں۔

دیکھا جائے گا…. پنجو نے لاپرواہی سے کہا۔ یہ بھی تو سوچ…. ہمیں کام کی دیہاڑی بھی ملے گی….

یہ بات تو ہے …. للو نے سوچا پھر بولا تو ٹھیک ہے ….ہم اسے ہاں کا جواب دے دیں گے….

گلابی کو بھی سب کچھ بتاکر تاکید کی کئی کہ یہ راز کسی کو مت بتانا۔

اب مسئلہ مشاعرے کا تھا لیکن اس سے پہلے گدھے کو ہٹانا تھا۔ تاکہ مشاعرہ ہوسکے آج ہی دونوں کام ضروری کرنا تھے۔ خط کا جواب اور گدھے کا ہٹانا۔ للو نے بہت اچھا اور تفصیلی جواب لکھ کر گلابی کے حوالے کردیا۔

یہ پکڑ…. ہم تو جارہے ہیں اپنے مشن پر…. تم یہ خط سوراخ سے گندی گلی میں ڈال دینا…. اور ایک کام اور کرنا…. سوراخ سے جھانک کر دیکھتے رہنا کہ رقعہ اٹھانے کون آتا ہے…. جو بھی آئے گا وہی ایکس ٹو ہوگا سمجھ گئے….؟

اوتے…. گلابی نے اوکے کی ایسی تیسی کردی۔

دونوں نے بیک وقت اسے غصیلی نظروں سے دیکھا تھا جسے گلابی تحسین آمیز سمجھا تھا۔ پھر انہوں نے گلابی کو حالات کے نالے میں چھوڑا اور سخن کے گھر کی طرف روانہ ہوگیا۔ واقعی سخن کے دروازے پر ایک شریر گدھا بندھا ہوا تھا۔ آج تو جمال نے حد کردی تھی گدھے کی رسی چھوٹی سی کرکے دروازے کی کنڈی کے ساتھ باندھ دی تھی یعنی اب دروازہ کھلے گا تو گدھا دروازے کے ساتھ ہی اندر چلا جائے گا۔ للو نے تھوڑا سائیڈ میں ہوکر بڑی بے دردی سے دروازہ بجایا۔ جواب میں انہیں کسی برتن وغیرہ کے گرنے کی آواز سنائی دی۔ جو کسی نے چونک کر گرادیا تھا۔ للو دوبارہ دروازہ پوری قوت سے دھڑ دھڑایا اس مرتبہ سخن کی کراری اور مکروہ آواز سنائی دی۔

ابے کون ہے بھائی…. ؟ آرہا ہوں…. صبر کرو…. ایک تو چین نہیں لینے دیتے…. سخن شاید کسی اہم کام میں جتا ہوا تھا۔اگلے ہی لمحے پنجو نے آگے بڑھ کر بڑی بے صبری سے دروازے پر دستک دی۔ سخن کی دھاڑ سنائی دی۔ اس نے کرنٹ کی تیزی سے اپنا باقی کام مکمل کیا اور جیسے تیسے دروازے تک آگیا۔

او صبر صبر…. چھری تلے دم لے بھیا…. نان اسٹاپ دروازہ پیٹے چلے جارہا ہے….

سخن نے بڑی زبردست طاقت لگاکر دروازہ کھول دیا تو گدھا بھی اندر گھستا چلا گیا۔اگلے ہی لمحے سخن اور گدھا عید مل رہے تھے۔ پہلے پہل تو سخن یہ سمجھا کہ اس کا کوئی بچھڑایار بغل گیر ہوگیا ہے مگر اس کے کسی یار کی اتنی موٹی گرد ن نہیں تھی۔ اور نہ ہی اتنا اور لمبا منہ تھا۔اب جو سخن نے گدھے کا چہر ہ اپنے چہرے سے صرف تین ملی میٹر کے فاصلے پر دیکھا تو وہ منہ پھاڑ کر چلا یا۔ گدھے نے بھی خیر سگالی کے طور پر اپنا اوپری ہونٹ سکیڑ کر لمبے لمبے دانت اور مسوڑے دکھائے پھر جو سخن نے گالیاںدیں وہ وہ کوسنے دیئے کہ عرش اور فرش ہل کر رہ گئے۔گدھے پر بھلا کیا اثر ہونا تھا۔ وہ اسی طرح سخن کو برا درانہ محبت سے دیکھتا رہا۔ سخن ‘جمال کو چھانٹ چھانٹ کر گالیاں دے رہا تھا اورجمال گھوٹا…. وہ سامنے ہی اپنے گھر کے صحن میں کسی کے چالیسویں کا پلاﺅ مزے لے لے کر کھارہا تھا۔اس نے شور تو پہلے ہی سن لیا تھا لیکن جب تک پلاﺅ سامنے تھا تو اسے ہر شے خبیث لگ رہی تھی پھر اس نے اپنے نام کے ساتھ گالیاں سنیں تو اس کا میٹر چل پڑا۔ سخن گلی میں کھڑا اس کی غیرت کو لعنت دے رہا تھا۔جمال کے برداشت کا بھگونا بھر گیا وہ پلنگ سے اترا اور بڑی پھرتی سے گدھے کو مارنے والی سونٹی اٹھائی۔ سخن بدستور گلی میں کھڑا تالیاں پیٹ پیٹ کر جمال گھوٹے کو کوسنے دے رہا تھا۔ اچانک تھڑاح سے دروازہ کھلا اور جمال گھوتا سپر مین کی طرح اڑ کر سخن کے عقب میں آپہنچا۔ پہلی فرصت میں اس نے ایک سونٹی رکھ کر دی۔ سخن کو کمر سے نیچے پھر سخن کو ڈانس دیکھنے کے لائق تھا۔وہ مینڈک کی طرح اِدھر اُدھر پھدکنے لگا۔ جمال گھوٹے کے خطرناک تیور دیکھ کر للو اور پنجو نے تو پہلے ہی سائیڈ پکڑلی تھی۔

ابے چلغوزے کے چھلکے …. تو مجھے گالیاں دے رہا تھا…. ٹھہر …. تجھے تو میں ابھی بتاتا ہوں….

جمال سونٹی سونت کر پھر لپکا۔ اور بس ایک ہی جگہ دھڑادھڑ سونٹی مارتا چلا گیا۔جہاں پہلی ضرب لگائی تھی سخن پاگل ہوگیا تھا ۔ گول دائرے میں بھاگتا جارہا تھا اور اس کے ساتھ کوڑا جمال شاہی کھیل رہا تھا۔گلی میں ٹھیک ٹھاک رش لگ گیاتھا۔ لوگوں نے بڑی مشکلوں سے بیچ بچاﺅ کرایا۔ ورنہ آج سخن کے جسم سے وہ حصہ ہی غائب ہوجاتا جہاں مسلسل سونٹی کی ضربیں لگ رہی تھیں۔ اتنے میں سخن‘ جمال سے بچنے کے لئے گدھے پر چڑھ گیا تھا۔ جو اس کے لئے سب سے بہترین پناہ گاہ ثابت ہوئی تھی۔

اما کیا کرتے ہو میاں…. ایک بزرگ ہاتھ اٹھاکر درمیان میں ٹپک پڑے۔

جان سے ہی ماردوگے کیا….؟ کیوں ماررہے تھے اس غریب کو….؟ دیکھتے نہیں پہلے ہی چلتی پھرتی میت ہورہا ہے….

ابے یہ میرے کولمبس کو اور مجھے گالیاں دے رہا تھا چما کی شکل کا….

جمال کے منہ سے جھاگ نکل رہے تھے۔

لوگوں کی حمایت پاکر سخن پھیل گیا۔ ابے تو تجھے بھی اپنا بھائی باندھنے کے لئے میرا ہی دراز ملا تھا….؟ کسی دن تیرے اس ناہنجار کولمبس کو نیلا تھوتا دے دوں گا…. تونے ابھی میرا اصلی روپ نہیں دیکھا ہے….

ابے جا ….بڑ ا آیا کہیں سے….جمال لوگوں کے ہاتھوں سے نکلا جارہا تھا۔

تیرا اصلی روپ میں نے دیکھ لی اہے جب تو نیکر پہن کر گٹر صاف کررہا تھا ساری پسلیاں گن لی تھیں میں نے….

چلو اوئے…. بس…. بہت ہوگیا…. چودھری بشیر نے ہاتھ اٹھائے…. بس اب لڑائی لڑائی معاف کرو…. اور یہ سب صاف کرو…. ان کا اشارہ سخن کے دروازے کی جانب تھا۔ جہاں گدھے نے آنے جانے کے راستے کو خراب کردیا تھا بلکہ بلاک کردیا تھا۔

واہ…. میں کیوں کروں صاف…. میں تو ہرگز یہ کام نہیں کروں گا۔ سخن نے صاف انکار کردیا کیونکہ کام بہت زیادہ تھا۔ اور اسے کہہ دو…. آئندہ یہ میرے دروازے پر اپنے کولمبس کو نہیں باندھے….

ہاں بھئی جمال یہ بڑی غلط بات ہے تمہاری…. پہلے والے بزرگ نے فوراً حق اور انصاف کا ترازو اٹھالیا۔ گدھے کو اپنے دروازے پر باندھا کرو۔

گدھے نے یہ بات سن کر بزرگ کو دیکھا اور اسی اسٹائلش طریقے سے منہ چڑایا۔بزرگ بوکھلا گئے سب لوگ سخن کی حمایت میں بول رہے تھے۔للو اور پنجو نے بھی جمال گھوٹے کو سمجھایا۔ تب وہ مان گیا اور اسی وقت گدھے کو اپنے دروازے کے آگے باندھ دیا۔ اسی خوشی میں سخن میں عقبی تکلیف کو بھول کر سب لوگوں کا شکریہ ادا کرنے لگے ۔ ہاتھوں سب کو مشاعرے میں شرکت کرنے کی دعوت دے ڈالی۔ بڑا اصرار کیا کہ سب کو آنا ہے۔ سب لوگوں نے گدھے کے سر پر ہاتھ رکھ کر قسم کھائی اور اسے یقین دلایا کہ وہ لوگ ضرور آئیں گے۔ یہ دیکھ کر سخن کی مسرت کا کوئی ٹھکانہ نا رہا اور جب خوشی کسی طرح برداشت نہ ہوسکی تو اس نے عاجز آکر نچلا دھڑ زور سے مٹکاڈالا۔آخر خوشی کا اظہار کہیں نہ کہیں اور کسی نہ کسی طریقے سے کرنا تو تھا اصل بات یہ تھی کہ سخن شہرت کا بھوکا تھا۔ وہ چاہتا تھا کہ کچھ بھی نہ کرنا پڑے اور اس کی شہرت ہر طرف پھیل جائے ۔ چاروں طرف سخن سخن ہونے لگے اور اس میں کوئی شک نہیں تھا کہ اس کی ہر بے وقوفی اور حماقت آمیز کرتوتوں کے بعد ہر طرف سخن سخن ہی ہونے لگی تھی۔ یہ بات دیگر ہے کہ کوئی اسے خطرناک پاگل اور نفسیاتی مریض قرار دیتا تھا۔ کوئی اس کی بیمار ذہنی کیفیت پر تاسف کرنا تھا تو کوئی چچا چھکن اور منشی منقیٰ سے تشبیہہ دیتا تھا۔ غرض جتنے بھی پوری کالونی میں انسانی منہ تھے اتنی ہی لغتیں اور پھٹکار سخن پر پڑتی تھیں اس کی حرکتیں ہی ایسی ہیں۔

 للو اور پنجو جب کھوتا پرابلم حل کرنے کے بعد واپس دفتر پہنچے تو انہوں نے اندر داخل ہوتے ہی ایک محیر العقول منظر دیکھا۔ دونوں ڈر گئے گلابی دفتر کی عقبی دیوار کے ساتھ چپکا کھڑا تھا۔ اس کا منہ دیوار کی جانب تھا مگر…. منہ ….منہ کہاں گیا؟ وہ تو سرکٹا بنا ہوا تھا۔

ہائیں…. یہ تو گلابی ہوا کرتا تھا…. اب سرکٹا بن گیا…. پنجو کے منہ سے ڈری ڈری آواز نکلی۔

اس کا منہ کدھر گیا…. ؟ للو بھی حیرت کے حوض میں ڈبکیاں لگارہا تھا۔ ادھر گلابی کا دھڑ مچل رہا تھا اس کی گھگھیاتی ہوئی آواز آئی۔

بتاﺅ…. بتاﺅ…. میلا منہ نتالو…. گلابی چھپکلی کی کٹی ہوئی دُم کی طرح مچل رہاتھا۔

میلا منہ …. ابے تو تو سر سے پیر تک میلا ہے….

مدے بتاﺅ…. میں مل داﺅں دا…. گلابی نے راگ ملہار شروع کردیا ۔ تب للو اور پنجو سمجھے کہ دیوار کے سواخ میں اس کی ٹیڑھی میڑھی کھوپڑی پھنس گئی ہے اور ایسا ایکس ٹو کو دیکھنے کے چکر میں ہوا ہوگا۔ دونوں آگے بڑھے اور گلابی کے ہاتھ پکڑ کر اپنی پوری قوت لگادی۔ طاقت لگاتے وقت ان دونوں نے اپنی ایک ایک ٹانگ دیوار پر ٹکا دی تھی اس طرح طاقت دگن ہوگئی تھی۔ درد کی شدت سے گلابی کے منہ سے ایک ایسی ہولناک توتلی چیخ نکلی کہ گلی میں کھڑا ایک مریل کتا ڈر کے مارے گرگیا اور پھر اٹھ کر ایسا بھاگا کہ اپنے سارے رشتے ناطے توڑ کر یہ شہر چھوڑ گیا۔ہمیشہ ہمیشہ کے لئے فائدہ یہ ہوا کہ گلابی کا سر نکل گیا اب وہ فرش پر پڑے چھوٹے چھوٹے سانس لے رہا تھا۔ للو اور پنجو باہر ڈاکٹروں کی طرح اس کا سر چیک کررہے تھے۔

لگتا ہے اس کا سر کچھ لمبا ہوگیا ہے۔

وہ تو ہوگا…. کھینچا ہی اتنی بے دردی سے تھا ہم نے ….

گلابی بھی گڑبڑا کر اپنی کھوپڑی ٹٹول رہا تھا۔

گلابی بچے…. یہ بتا…. رقعہ ڈالا تھا گلی میں ؟ للو نے سوال کیا ۔ گلابی نے اپنا مقبرے کے گنبد جیسا سر اقرار میں ہلادیا۔

گڈ…. ویری گڈ…. للو نے ہی اسے شاباش دی پھر اسے کس نے اٹھایا تھا؟

مائیتل نے…. گلابی نے مختصر اور جامع جواب سے نوازا۔

مائیکل …. للو غصے سے پھدک پڑا ۔ ابے وہ جدی پشتی چمار…. وہ کیوں لے گیا ؟ تو نے اسے روکا نہیں؟

میں نے روتا تا…. گلابی سچے مچے انداز میں بتارہا تھا۔ مدروہ مانا ہی نئی…. سالی دلی نا کچلا اتھاتے تلالی میں والا…. اول لے دیا….

اس مائیکل نے سارا معاملہ بگاڑ دیا ہے۔ للو کا غصہ لینٹر کی چھت سے لگا ہوا تھا۔ اب وہ ایکس ٹو ہماری طرف سے انکار سمجھے گا….

یک بارگی اسی سوراخ سے ایک آم کی برسوں پرانی گٹھلی آکر للو کی عین منہ پر لگی ۔آناً فاناً للو کو پتا چل گیا کہ یہ کس زمانے میں سندھڑی آم رہا ہوگا۔ اس میں ایک ربڑ کے ساتھ کاغذ لگا ہوا تھا۔ للو نے جلدی سے کاغذ نکال کر کھولا اور بلند آواز میں پڑھا۔

اچھے جارہے ہو…. اور بے فکر رہو میںنے مائیکل کی ٹرالی سے تمہارا رقعہ پارکرلیا تھا۔ مجھے تم سے ہاں کی توقع ہی تھی کل مشاعرے میں ضرور جانا۔وہ مجرم بڑا خطرناک ہے پولیس اس کی تلاش میں جگہ جگہ چھاپے مار رہی ہے اسی لئے اس نے شاعر کا روپ بدل لیا ہے کل رات سے پہلے تمہیں خرچہ پانی مل جائے گا۔

ایکس ٹو

وہ لوگ متحیر رہ گئے لیکن خوش بھی تھے کہ ایکس ٹو نے رقعہ حاصل کرلیا تھا۔

یار یہ تو کوئی واقعی چالاک اور ہوشیار آدمی لگتا ہے…. شکر ہے جوابی خط اس نے پڑھایا۔ پنجو بڑی دیر بعد بولا ۔

بس پنجو…. للو نے خوفناک انداز میں مٹھیاں بھینچیں ۔ اب کل کا انتظار ہے ۔ کل میں مشاعرے میں اس چور کے پتر کی گردن دبوچ لوں گا…. ایسے…. یوں کرکے …. للو نے گلابی کی گردن دبا ڈالی۔ وہ بھی پہلی ہی سانسیں ہی درست کررہا تھا کہ دوبارہ سانسوں میں خلل پیدا ہوگیا۔ وہ تو پنجو نے اسے بچایا اور نہ للو پر تو جذباتی کیفیت طاری تھی۔ کچھ بھی ناگہانی آفت پڑسکتی تھی۔

پنجو نے للو سے ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے کہا۔ یار خواہ مخواہ میں اس غریب کا انچر پنچر ڈھیلا کردیا ہے…. دیکھ اس کی ساری توانائیاں ختم ہوگئی ہیں….

اوہ…. سوری یار گلابی بچے…. للو کو اپنی غلطی کا احساس بری دیر بعد ہوا۔ میری وجہ سے تونے اتنی تکلیف اٹھائی…. چل اچھا…. یہ لے …. یہ آم کی گٹھلی لے لے …. گھر جاکر پراٹھے کے ساتھ کھالینا…. ہوسکتا ہے اس میں کہیں تھوڑا بہت جوس باقی ہو…. تیری توانائی بحال ہوجائے گی….

گلابی آم کارسیا تھا اس نے گٹھلی لے کر اسے بغور دیکھا ور پھر سونگھا تو اس کا بھیجہ پھٹنے لگا۔ یوں محسوس ہوا جیسے ابھی قے ہوجائے گی۔اس میں گندی گلی ساری بوسمائی ہوئی تھی۔ اس میں سے تو بدبو آلی اے….

اب بدبو دیکھ لے…. یا اپنی صحت دیکھ لے…. شکر کر…. تو آم کی گٹھلی تو کھائے گا…. جا…. جاکر دیکھ…. کتنے غریب لوگ دن بھر کے فاقے کرتے ہیں…. راتوں کو بھوکا سوجاتے ہیں…. پھر بھی صبر شکر کرتے ہیں…. تجھے بہت غریب غرباءملیں گے اپنے پاکستان میں…. جو کئی کئی دن فاقے میں گزار دیتے ہیں…. جنہیں روٹی کا ایک معمولی ٹکڑا بھی نہیں ملتا…. تیرے تو عیش لگے ہوئے ہیں…. خوب مو ج کررہا ہے …. سندھڑی آم کھائے گا پراٹھے کے ساتھ….ہیں….؟ اور کیا چاہئے تجھے …. فل عیاشی لگی ہوئی ہے…. آم اور پراٹھا….

گلابی بھی پٹائی میں آگیا اور ایسا دل للچایا کہ گٹھلی جیب میں بڑی حفاظت کے ساتھ رکھ لی۔ اس کے ایک چچا پولیس میں تھے۔ گلابی نے سوچا کہ اگر اس سے جوس نہ نکلا تو اس کے چچا تو لازمی اس گٹھلی سے جوس نکال ہی دیں گے۔ آخر وہ پاکستان پولیس والے جو ہیں۔

چلو یار…. اب اٹھو…. ٹائم بہت ہوگیا ہے…. پنجو کھڑا ہوگیا۔

شام زیادہ ہوگئی تھی انہوں نے دفتر کے دروازے پر تربوز کے سائز کا تالا لگا اور اپنے اپنے گھروں کی جانب چل پڑے۔

دوسرے روز صبح ہی صبح سخن اکبر آبادی کو اس کی ماں نے بڑی محبت سے بیلن کھینچ کر مارا جو سخن کی کھوکھلی کھوپڑی پرٹن سے جالگا۔ اچھا خاصا ایسا زبرست خواب دیکھ رہا تھا کہ اسے پوری دنیا کا سب سے بڑا شاعر تسلیم کرلیا گیا تھا او راس کے اعزاز میں بہت ہی شاندار اور عالمی پیمانے پر بڑی تقریب کا اہتما م کیا گیا تھا جو کوٹ ادو میں منعقد ہورہی تھی وہاں بھارتی وزیرِ اعظم واجپائی اسے اپنے ناپاک ہاتھوں سے گولڈ میڈل پہنا رہا تھا۔ امریکی صدر جارج ڈبلیو بش نے اس کی خدمات کے اعتراف میں اسے ایک ایلمونیم کا لوٹا دیا تھا جو سخن کے لئے کسی امتحان سے کم نا تھی۔ جیسے ہی سخن نے گولڈ میڈل پہننے کے لئے سرجھکایا بیلن کی ضرب نے اسے غائب کرکے گلوڈ اسٹار بنادیا تھا ۔ساتھ ہی اماں کی چنگھاڑتی ہوئی آواز سنائی دی۔

اٹھ جا…. خبیثا…. نیستیا…. کب تک نیستی پھیلاتا رہے گا پوستی کی اولاد…. دیکھ کتنی مکھیاں بھنک رہی ہیں تیرے منہ پر….

سخن کو لعنتیاں بھی پڑگئیں اوراس کے والد کا تعارف بھی ایسی مہارت سے کیا گیا تھا گویا دریا کو کوزے میں بند کردیا گیا ہو۔ سخن بیلن کھاکر باﺅلے کتے کی طرح اچھلا سرپکڑ کر کولہو کے بیل کی مانند صحن میں چکر کاٹنے لگا۔ رات کو وہ چارپائی پر ہی سوتا تھا مگر صبح گھرکے پالتو مینڈھے کے پاس آنکھ کھلتی تھی۔ساری رات کروٹیں بدلا ہوا وہ چارپائی سے مینڈھے تک کا سفر طے کرلیتا تھا۔ مینڈھے کو غصے تو بہت آتا تھا مگر وہ منہ سے کچھ نہیں کہتا تھالیکن پھر بھی بہت کچھ کرجاتاتھا۔ ساری کی ساری مصیبت اماں پر آتی تھی کیونکہ وہی کپڑے دھوتی تھی۔

سخن دکھ اور غصے کے عالم میں ڈکرایا۔ آج بھی میرا گولڈ میڈل ضائع کرادیا تو نے اماں….؟

کسی روز تو بھی ضائع ہوجائے گا موئے…. نکھٹو…. پڑے پڑے سارا دن سنڈاتا رہتا ہے…. چل جاکے نہا…. جب تک تو گھر میں رہتا ہے ساری کالونی کی مکھیاں ادھر ہی بھن بھناتی رہتی ہیں …. اتنا میل جم گیا ہے تجھ پر….تیزاب سے نہا لے…. سخن کی اماں نے بھی تابڑ توڑ قسم کا جواب دیا تھا۔

اماں دیکھ لینا….ایک روز تیرا بیٹا پوری دنیا میں مشہور ہوجائے گا….بچے بچے کی زبان پہ سخن سخن ہورہی ہوگی…. سخن حسبِ دستور دعویٰ کیا۔

لے…. وہ تو اب بھی بچہ بچہ بولتا پھرتا ہے …. سخن پاگل سخن پاگل…. اماں نے اس کا دل مسوس کر رکھ دیا ۔ اچانک سخن کو یاد آیا کہ آج تو مشاعرہ کرانا ہے ساری تیاریاں باقی تھیں۔ وہ جلدی سے غسل خانے میں گھس گیا ۔زندگی میں پہلی مرتبہ اپنی مرضی سے نہایا تھا۔ ناشتے کے بعد سخن باہر بھاگا اور مشاعرے کے تیاریوں میں لگ گیا۔ علاقے کے سارے حالی موالی سخن کے سنگتی یار تھے۔ سبھی نے سخن کا ساتھ دیا۔ گلی میں تمبو لگ گیا۔ کئی تخت ملاکر ایک اسٹیج تیار کیا گیا۔ مائیک اور لاﺅڈ اسپیکروں کا بھی انتظام تھا۔ ان تیاریوں کے اخراجات کے لئے سخن کو بڑے پاپڑ تلنا پڑے تھے۔ علاقے کے کچھ مخیر حضرات کو بڑی مشکلوں سے پٹایا تھا۔ اور کچھ کے قدموں میں لوٹنا بھی پڑا تھا۔ جو اس کے لئے معمولی سی بات تھی ۔ اپنی مشہوری کے لئے وہ کالونی کے چوک پر…. جو ماموں چوک کہلاتا تھا…. ڈانس کرنے کو بھی تیار تھا۔ شام ہوتے ہی لوگ گلی میں آنا شروع ہوگئے تھے۔ کالونی کے تمام لچے ‘ لفنگے اور ٹاپ کے چھچھورے وہاں جمع ہوگئے تھے۔ انہوں نے ابھی سے سخن پر فقرے کسنا شروع کردیئے تھے۔ سخن نے مشاعرے کی صدارت کے لئے خالو خلیفہ کو بلایا تھا۔ کیونکہ وہ ان کی خوش نودی چاہتا تھا۔ سات بجے کے بعد وہاں شعر اءاکرام کی آمد شروع ہوگئی۔ ایک سے بڑھ کر ایک عجیب وغریب انسانی نمونہ تھے۔ کوئی عمر وعیار جیسا تھا کوئی ملا دو پیازہ بنا ہوا تھا۔ کسی کا حلیہ شیخ چلی جیسا ہورہا تھا۔ کسی کے دانت باہر کو نکلے ہوئے تھے۔ ایک ڈھانچہ نما شاعر کو گودوں گود اسٹیج پر لاکر انڈیلا گیا۔ سامعین میں ایک جانب چاچا چراندی کی منڈیا بھی نظر آرہی تھی۔ للو اور پنجو اور گلابی بھی آچکے تھے اور گہری نظروں سے سب شاعروں کا جائزہ لے رہے تھے۔ اجمیری بینڈ بھی وہاں بلوایا گیاتھا جو اس وقت ایک حزنیہ دھن بجارہے تھے یوں لگ رہ اتھا وہاں کوئی فوتگی ہوگئی ہے۔ اتنے میں خالو خلیفہ اٹھے اور مائیک کے پاس آپہنچے تاکہ مشاعرے کا باقاعدہ آغاز کیا جائے عین اسی وقت جمال گھوٹے کے گھر سے کھوتے کی دل دوز آواز گونج اٹھی۔ اجمیری بینڈ والے کھوتے کی آواز کے ساتھ ساتھ موسیقی ترتیب دے رہے تھے۔ یعنی ڈھینچوں کی صدا کے ساتھ مشاعرے کا آغاز ہوگیا۔ جب گدھا خاموش ہوا تو خالو خلیفہ نے تمام حاضرین پر ایک حقارت آمیز نظر ڈالی پھر مائیک کے قریب منہ لاکر ناک سے بڑی زوردار آواز نکالی۔ جو لاﺅڈ اسپیکروں سے کالونی کے آخری تک نکڑ تک سنی گئی۔ سارے کے سارے چونک کر ہوشیار باش ہوگئے۔ پھر خالو نے دیکھے بغیر اسٹیج کی جانب منہ کرکے زور سے تھوکا۔

تھو…. جو سخن کے نصیب میں لکھا تھا۔ جلدی جلدی اپنا منہ صاف کرنے لگا۔

سب کالونی والوں کو سلام ہو…. مجھ سے تو سب ہی واقف ہوں گے…. میں اس مشاعرے کا صدر بنایا گیا ہوں اس کے لئے سب سے زیادہ چندہ میںنے ہی دیا تھا…. بے چارہ سخن میرے پیروں میں لوٹ رہا تھامجھے ترس آگیا میںنے چندہ دے دیا…. آپ سب یہ بھی جانتے ہیں کہ پکوڑا اسٹاپ پر میرا بجلی ہوٹل ہے…. تو بھائیوں …. آج میں سب سے پہلے اپنے علاقے کے اکلوتے شاعر جناب سخن اکبر آبادی کو ہی دعوت دیتا ہوں و ہ یہاں تشریف لائیں اور اپنے کلام سے ہمیں سلائیں….

کوئی چھچھورا چلایا ابے کیا استاد…. لوری سنانے آریا ہے….

خالو نے جلدی سی تصحیح کی معاف کرنا بھائیوں ….میں سنائیں کہنا چاہ رہا تھا منہ سے سلائیں نکل گیا…. سخن صاحب کے لئے میں ایک شعر لکھوا کر…. میرا مطلب ہے لکھ کر لایا ہوں …. یہ کہہ کر خالو نے اپنی جیب سے کے ٹو سگریٹ کا پھٹا ہوا پاکٹ نکالا اس کی پشت پر بھونڈی سے تحریر میں شعر لکھا تھا وہ شروع ہوئے ۔عرض کیا ہے۔

یوں تو ہیں دنیا میں جانور اور بھی اچھے

لوگ کہتے ہیں سخن کی ہے بات کچھ اور

ایک زبردست قہقہہ پڑا۔ سخن کی شکل امچور جیسی ہوگئی ۔ وہ اٹھ کر احتجاجی لہجے میں بولا۔ خالو…. یہ آپ نے مجھے جانور بناڈالا۔

ایں …. جانور…. ؟ خالو نے چونکہ کر دوبارہ کاغذ پڑھا۔ رائٹنگ گندی سی تھی۔ اس لئے میں سخن ور کو جانور پڑھ لئے پھر اطمینان سے بولے۔

خیر جو ہوا سو ہوا…. تم ادھر آجاﺅ…. ویسی بھی سخن ور اور جانور میں فرق ہی کیا ہے بھلا….؟ آجاﺅ ادھر….

سخن لوگوں کے درمیان سے بڑی بے غیرتی سے چلتاہوا مائیک تک آیا ۔ مائیک نیچے رکھ کر آلتی پالتی مار کر بیٹھ گیا جیسے ابھی ناشتہ آنے والا ہے ۔ آج تو وہ پورا چھیلالگ رہا تھا۔ ادھار کا تنگ موری والا پاجامہ …. اس پر لمبی لمبی آستینوں والا کڑھا ہوا کرتا…. کے کام والی سلیم شاہی ‘ فرش کو چھوتا ہوا موتیوں والا ازار بند…. بنولے کے تیل میں چپڑا ہوا سر…. آنکھوں میں ہاشمی سرمہ …. کلے میں پان کا بیڑا…. لبوں پہ لالی کے ساتھ ایک مسکان …. ان سب چیزوں نے مل کر سخن کو قابلِ دید بنادیاتھا۔پورا اوڈھوں کا دولہا لگ رہا تھا۔ اس نے اپنی نشیلی آنکھیں نچاکر کہا۔

ایک قطعہ عرض کررہا ہوں…. خالو…. اس نے خالو خلیفہ کو متوجہ کیا۔ ذرا توجہ فرمائیے۔

خالو نے ہنہ کر کے دوسری طرف پھیرلیا۔

سخن کھیسا کر شروع ہوا۔

کرو وہ کام کہ دنیا میں چمن چمن ہونے لگے

فالتو فنڈ میں ہر طرف سخن سخن ہونے لگے

وہ مقام حاصل ہو سخن کو جسے دیکھ کر

دشمنوں کے سینوں میں جلن ہونے لگے

سخن کے چرسی یار نشے کی پینگ میں جھومنے لگے۔ چاچا چراندی چلاچلاکر سخن کو برا بھلا کہہ رہے تھے۔اجمیری بینڈ کا چپٹا ان کے قریب ہی کھڑا بڑا اولا بھونپو بجارہاتھا۔ چاچا اس کی مکروہ آواز سے تنگ آگئے تھے۔ بھاگ کر کہیں سے ایک جگہ پانی لائے اور بھونپو کے کھلے ہوئے منہ میں سارا پانی انڈیل دیا۔ اب چپٹے نے بھونپو بجایا تو اس میں سے صرف کڑ کڑ کی آواز ہی نکلی ۔ چاچا فاتحانہ انداز میں جگ بلند کئے کھڑے تھے۔

اب بجا…. اب بجا کے دکھا…. ابے ہم سے پراندہ کرے گا تو…. ادھر سخن آگے ہنہنا رہا تھا۔

ایک نظم پیش کررہا ہوں…. غریب کی آرزو…. اجازت ہے….؟ سارے سامعین نے نعرہ بلند کیا۔ اجاجت ہے۔

سخن بے قابو ہوکر شروع ہوگیا

کاش ایسا ہوتا…. لیکن نہیں ‘ کاش ویسا ہوتا

اور پھر اے کاش‘ کچھ بھی نہ ہوتا

میرے پاس تو فقط ایک خالی گاڑی ہے

کاش اس میں ایک کھوتا بھی جتا ہوتا

اور پھر ہم دونوں بھائی مل جل کر

شاٹ کٹ ٹنڈو باگو روانہ ہوتا

وہ میری روٹی کھاتا‘ میں اس کا چارا چباتا

کبھی میں گاڑی چلاتا تو کبھی وہ گاڑی چلاتا

یونہی ہنستے مسکراتے اور دکھ درد بانٹتے

دونوں بھائیوں کا سفر پر خطر تمام ہوجاتا

اے کاش ایسا ہوتا اے کاش ویسا ہوتا

اس نظم پر تمبو میں بڑی ہلڑ بازی مچی لوگ ایک دوسرے کا سردھننے لگے۔ چاچا نے موقع پاکر چپٹے کے بال نوچ ڈالے وہ اپنے ماسٹر دلارے بھائی کے اوپر سے قلابازی کھاگیا۔ ہر طر ف سخن کے چرچے ہونے لگے ۔ سخن جھک جھک کر سب کو آداب کررہا تھا ۔خالو نے دوبارہ مائیک سنبھال لیا۔

یہ تھے جناب سخن اکبر آبادی…. جو غریب کی آڑ میں اپنی آرزو بیان کررہے تھے…. یہ بے وقوفیاں تو چلتی ہی رہیں گی ۔ سب سے پہلے میں مہمان شاعروں کا تعارف بھی کرا دوں…. وہ جو سب سے کو نے میں پیک دان کے پاس اونگھ رہے ہیں ۔ وہ ہیں جناب بشیر بھلکڑ…. غالباً وہ اپنے تمام شعر بھول چکے ہیں …. او رپھر ان سے ٹیک لگائے جناب حکیم جاوید جنگلی آرام فرما رہے ہیں۔ ان کے بعد جناب اللہ دتا منہ پھٹ بےٹھے ہیں جو مسلسل کچھ بولے جارہے ہیں …. شکل سے پاگل نظر آنے والے جناب حبیب خان گاﺅدی بھی پیر پھیل اکر اپنی توند کھجا رہے ہیں…. جناب چندا کمانڈو صاحب بھی ہوشیاری سے بےٹھے ہیں …. پھر جناب فرید جمال کلو اور آخر میں جناب سوکھے خان پھٹکار لیٹے لیٹے تماشہ دیکھ رہے ہیں …. سب سے پہلے میں چھانگا مانگا کے جنگلات سے آئے ہوئے جناب جنگلی صاحب کو حکم دیتا ہوں کہ وہ یہاں آئیں اور دماغ کا کچور نکالیں…. جناب جنگلی صاحب ….جنگلی صاحب افریقی ڈانس کے انداز میں آئے اور بدتمیز سے پھسکڑ ا مار کر بےٹھ گئے پھر انہوں نے اپنی انٹی سے چند کاغذنکالے جن پر اشاعر لکھے ہوئے تھے او رپھر حلق پھاڑ پھاڑ کر اپنے اشعار سنانے لگے۔

ادھر للو نے پنجو سے کہا۔ غور سے دیکھ…. ان میں سے محروم کون ہوسکتا ہے….؟

یار مجھے تو سب کے سب بدمعاش لگ رہے ہیں …. کوئی بھی مجرم ہوسکتا ہے ‘ وہ قریب القبر شاعر سوکھا بھی مجرم ہوسکتا ہے۔ پنجو نے جواب دیا۔ گلابی اب تک خاموش کھڑا جاسوسوں کی طرح سارے شاعروں کو گھور رہا تھا۔

ادھر شاعر باری باری اپنا کلام سنارہے تھے۔ اچانک پولیس سائرن سے علاقہ گونجنے لگا۔ سب لوگ چونک گئے۔ للو اور پنجو نے دیکھا کہ چندا کمانڈو پر ایک دم بدحواسی چھاگئی تھی۔ دونوں نے تاڑ لیا کہ یہی وہ مجرم ہے۔ پولیس کے یہاں آنے سے پہلے ہی چندا کمانڈو ‘تمبو کے نیچے سے پچھلی جانب نکل گیا۔ اب کوئی شک نہیں رہا تھا کہ چندا کمانڈو ہی وہ مجرم ہے۔ للو اور پنجو ایک ساتھ اس کے تعاقب میں دوڑے گلابی نے ان کی تقلید کی باقی سارا علاقہ اندھیرا میں ڈوبا ہوا تھا۔ مجرم آگے آگے اور جاسوس پیچھے پیچھے بھاگ رہے تھے۔ سخن اندھیرے کی وجہ سے مجرم ان کی آنکھوںسے اوجھل ہوگیا۔ للو اور پنجو ایک جگہ رک گئے۔ ان کی سانسیں زیر و زبر ہورہی تھیں۔

ابے کہاں بھاگ گیا وہ….؟

شاید گندی گلی میں گھسا ہوگا…. پنجو نے خدشہ ظاہر کیا۔

اور یہ گلابی بھی غائب ہے …. للو پریشان ہوگیا تھا۔

وہ مجرم کے پیچھے ہی گیا ہوگا…. چلو آﺅ…. گلی میں چلتے ہیں…. ٹھیک ہے آﺅ…. اٹیک….

دونوں گلی میں گھس گئے اندھیرا یہاں بے حد گاڑھا تھا۔ اس لئے للو کو کھلا ہوا گٹر نظر نہیں آیا اس کا ایک پیر سیدھا گٹر کے حلق میں چلا گیا۔ للو کے منہ سے چیخ سن کر پنجو چونکا کیا ہوا….؟

میرا پیر…. گٹر میں چلا گیا….

پنجو نے اندازے سے للو کا ہاتھ پکڑا اور کھینچ کر اس کا پیر نکالا ۔ ابے…. میری چپل…. للو پھر چیخا۔ گٹر میں رہ گئی…. ہائے ہائے…. ابھی پچھلے جمعہ کو ہی مسجد سے چرائی تھی۔

دیکھ لیا چپل چرانے کا انجام….

یار پنجو…. بھائی نہیں ہے میرا…. یار میری چپل نکا ل دے…. للو اس کی منت کرنے لگا۔

پنجو کچھ کہنے والا تھا کہ اچانک اس کی نظر ایک ہیولے پر پڑی جو ان سے کافی فاصلے پر تھا۔ شاید اس طرف کہیں سے مدہم سی روشنی پڑرہی تھی۔ اس لئے پنجو نے ہیولے کو دیکھ لیا۔وہ آواز دباکر جوش سے بولا۔

ابے…. للو…. وہ …. وہ مجرم…. کمانڈو….

للو بھی دم بخود رہ گیا…. گدھر ہے …. کہاں؟

چل آجا…. وہ کھڑا…. دونوں ایک ساتھ دبوچ لیں گے….

دونوں کمال ہوشیار سے آگے بڑھے اور اچانک اس سائے کے چھاپ لیا۔ سائے کے منہ سے چیخ بھی نہیں نکل سکی۔ اف توبہ…. پھر جو للو اور پنجو ایکشن میںآ ئے تھے انہوںنے سائے کے دو مارا لگائی وہ درگت بنائی کہ توبہ ہی بھلی۔

دونوں مجرم کو ایسی ککیں ماررہے تھے جیسے وہ فٹ بال ہو۔ ریسلنگ کے تمام مشہور داﺅ بھی آزماڈالے۔ جن میں گولڈ برگ‘ انڈر ٹیکر اور وارایئر کے خوفناک داﺅ بھی شامل تھے۔ وہ اپنے بوس ایکشن ٹو کے آگے سرخ رد ہونا چاہتے تھے۔ انہیں یقین تھا کہ اس مشن میں کامیاب ہونے کے صلے میں انہیں ڈبل دیہاڑی ملے گی۔ پھر آخر میں اس کی ایک ایک ٹانگ پکڑی اور ایسے ہی بھنگی کے بانس کی طرح کھینچتے ہوئے گلی میں لے آئے جہاں کالونی کے سارے لوگ شعر اءاکرام اورپولیس والے کھڑے تھے۔ سارے انسان اور پولیس والے حیرت سے انہیں دیکھنے لگے سخن اسٹیج پر اکڑوں بیٹھا اپنی تقدیر پر ماتم کناں تھا۔ اس کے عقب میں دلارے بھائی شہنائی کی غمگین دھن بجاکر ماحول کی دردناکی میں اضافہ کررہے تھے۔

للو اور پنجو نے قریب آکر مجرم کی ٹانگیں چھوڑ دیں۔

سنبھالیں انسپکٹر صاحب …. للو نے فخر سے سینہ پھلانے کی کوشش کی۔ یہ رہا مجرم …. غالباً آپ اس کی تلاش میں ہی ادھر آئے تھے۔

مجرم اوندھے منہ پر پڑا تھا۔ انسپکٹر صاحب نے دو سپاہیوں سے کہا۔ چلو اوئے…. سیدھا کرو اسے…. مکھڑا تو دکھاﺅ ا س کا…. بڑا سر میں درد کیا ہے اس بلو نے….

پہلی مرتبہ انہیں مجرم کا نام معلوم ہوا۔ اسے بلو کہا جاتا تھا۔ سپاہیوں نے اسے سیدھا کیا تو سب کے منہ سے متحیر انہ آوازیں نکل گئیں۔ للو اور پنجو کے پیروں تلے زمین نکل گئی۔ وہ تو مائیکل تھا۔ اس کا چہرہ جگہ جگہ سے سوجھ گیا تھا۔منہ پہ اتنے نیل پڑگئے تھے کہ وہ نیل گائے جیسا لگ رہا تھا۔ دونو ںنے اسے مار مار کر اپنے دل کے ارمان نکالے تھے۔ طبیعت سے اس غریب بھنگی کی دھنائی کی تھی ۔ انہیں اپنا مستقبل قریب بڑا تکلیف دہ نظر آرہا تھا۔ ابے یہ کون سی مخلوق ہے….؟ انسپکٹر بڑا جھنجھلایا۔

یہ ابے یہ تو ہماری کالونی کامائیکل جیکسن ہے …. چاچا چراندی بھی قریب آگئے تھے۔ انہوں نے للو ‘پنجو کو گھورتے ہوئے انسپکٹر سے کہا۔ او بھائی انسپکٹر…. یہ دونوں ایک نمبر کے غنڈے ہیں…. ان کو گرفتار کرلو اور دفعہ تین سو دو قتل کے تحت مقدمہ چلا کر پھانسی پر لٹکادو…. ڈائریکٹ….

اب یہ کون ہے….؟ انسپکٹر نے چاچا چراندی کی طر ف اشارہ کیا۔

ایسے دو تھے ہماری کالونی میں…. بشیر چودھری نے انسپکٹر کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا۔ ایک کو بلی لے گئی اور یہ بچ گیا….

اچانک سب نے گلابی کی ولولہ خیز آواز سنی۔ فتر مت ترو…. میں آدیا ہوں میلے بھائیو….

سب کی گردنیں مڑگئیں۔ پاکستانی فلم کے آخری منظر کی طرح گلابی ہیرو کی طرح تھکا ہارا مگر کامیاب آرہا تھا۔ حیرت کی بات یہ تھی کہ اصل مجرم چندا کمانڈو یعنی بلو اس کے کندھے پر ہاتھ دالے بڑے دوستانہ اسٹائل میں آرہاتھا۔ پتا نہیں گلابی نے کیا جادو کردیا تھا اس پر…. کس طرح بھلا پھسلا کر لے آیا تھا اسے ۔ یعنی گلابی نے پورا کا پورا میدان اکیلے ہی اکیلے مارلیا تھا۔للو اور پنجو کے چہرے نظر بٹو کی طرح ہوگئے تھے۔ ان کا دل چاہ رہا تھا کہ کسی گٹر کا ڈھکن کھلے اور وہ اس میں سماجائیں۔ اتنی محنت اور بھاگ دوڑ کے نتیجے میں ان کے ہاتھوں صرف ایک بھنگی آسکا تھا۔ یہ ڈوب مرنے کا مقام تھا کہ ان کا چپراسی ان سے بازی لے گیا تھا۔

کمانڈو نے پولیس دیکھ کر بھاگنے کی کوشش تو کی تھی مگر گلابی اس کے ساتھ میل کی طرح چپک گیا۔ سپاہیوں نے اسے حراست میں لے لیا۔ ویسے بھی پولیس والوں کو پکا پکایا حلوہ مل گیا تھا۔

کمانڈو نے بڑے غصے سے گلابی کو دیکھا اور چیخا۔ تم نے میرے ساتھ دھوکا کیاہے تم تو کہہ رہے تھے۔ مشاعرے کے بعد سب کو گلتی ملے گی…. کہاں گئی گلتی….؟

انسپکٹر نے پلٹ کر دونوں لاتیں جوڑ کر کمانڈو کو ماریں یہ رہی دولتی….

سچ ہے لالچ بری بلا ہے۔ چودھری بشیر نے چاچا چراندی کا منہ پکڑ کر سارے ناظرین کو دکھایا۔ سب اچک چک کر لالچ کی بلا دیکھنے لگے۔

مائیکل کو فوراً کالونی کے اسپتال پہنچایا گیا۔ مائیکل کا دل خون کے آنسو رو رہاتھا۔ وہ اپنی ڈیٹنگ کے دوران یہ سوچ سوچ کر بلبلا رہا تھا کہ اس کے ماتحتوں نے ہی اس کی مار لگادی۔ للو‘ پنجو نے تو خواب میں بھی نہیں سوچا ہوگا کہ مائیکل ہی حقیقت میں ایکس ٹو ہے۔ جو ایک خفیہ سرکاری ایجنسی سے تعلق رکھتا تھا اور بھنگی کے روپ میں کالونی کے اندر اپنی زندگی گزار رہا تھا۔ بس اسے یہ اطمینان ہوگیا تھا کہ للو پکڑ اگیا ہے۔ یعنی اس کے کارندوں نے یہ مشن پورا کرلیاتھا۔

مائیکل کو زرو کوب کرنے کے جرم میں انسپکٹر‘ للو اور پنجو کو بھی لے جانے پر بضد تھے مگر اتفاق سے ادھر شرفو کونسلر صاحب گٹکے کی تلاش میں خجل خوار ہوتے ہوئے آنکلے۔ ان کی مداخلت کے سبب للو اور پنجو کی جان چھوٹی۔ مشاعرے کا تو کباڑا ہوگیا تھا۔ سارے شاعر اپنے بوریا بستر گول کرکے بھاگ لئے تھے۔ صرف سخن اکیلا ابھی تک رو رہا تھا۔

                                                ختم شد

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

کرائم فائٹر۔۔۔ سید بدر سعید

غیرت کرائم رپورٹنگ بظاہر ایک دھانسودار بیٹ معلوم ہوتی ہے۔ عام خیال بھی یہی ہے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے