سر ورق / افسانہ / منقار … سلام بن رزاق  

منقار … سلام بن رزاق  

منقار

سلام بن رزاق

بیگم نوری رحمان لباس تبدیل کرکے آئینے کے سامنے آکھڑی ہوئیں۔ ایک نگاہ اپنے سراپے پر ڈالی۔ شیفون کے ہلکے گلابی رنگ کے سوٹ میں ان کا روپ گلاب کے پھول ہی کی طرح نکھر گیا تھا۔ بال سلیقے سے کاندھوں پر بکھرے ہوئے تھے۔ گہرے براؤن رنگ کے بالوں کے درمیان ان کے سرخ و سپید رخساروں کی شعلگی میں اضافہ ہوگیا تھا، بیشتر زیورات انہوں نے رات ہی میں اتار کر رکھ دیے تھے البتہ کانوں میں بُندے، گلے میں منگل سوتر اور ناک میں کیل موجود تھی۔ کیل میں تارہ بنی ہیرے کی کنی لشکارا ماررہی تھی، سینے پر دوپٹہ سرک گیا تھا۔ا نہوں نے دوپٹے کو درست کرنے کی کوشش کی مگر سینے کا ابھار سرکشی سے باز آنے کو تیار نہیں تھا۔ پلکوں پر آئی لائنر پھراتے ہوئے انہیں غرور و طمانیت کا احساس ہواکہ چالیس پار کرنے کے بعد بھی ان کی آنکھوں کا کٹیلا پن تیز چھریوں کی طرح دھار دار تھا۔ ان کے ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ نمودار ہوئی۔ پاس ہی کئی رنگوں کی لپ اسٹک رکھی تھیں، انہوں نے ہلکے گلابی رنگ کی اسٹک منتخب کی اور جوں ہی اسے ہونٹوں کے قریب لے گئیں۔ ایک جھماکہ ہوا۔۔۔ جیسے بجلی چمکی ہو اور دوسرے ہی لمحے چاروں طرف گھپ اندھیرا۔۔۔ کل رات کا واقعہ اپنی پوری جزئیات کے ساتھ ان کے تصور میں ابھر رہا تھا۔

کل رات شادی کا ہنگامہ اپنے شباب پر تھا۔ نکاح ہوچکا تھا۔ باہر شامیانے کے زنانہ حصے میں عورتیں دولہا دلہن کو گھیرے بیٹھی تھیں۔ رخصتی کا وقت قریب تھا۔ آرسی مصحف کی رسم شروع ہونے والی تھی۔ دولہا دولہن کو آمنے سامنے بٹھا دیا گیا تھا۔ بیچ میں ایک چوکی پر قرآن شریف رکھ دیا گیا تھا۔ دلہن کی نانی کا انتظار تھا۔وہ کافی ضعیف تھیں۔ ان کی بینائی بھی کمزور تھی۔ دو عورتیں انہیں بازوؤں سے پکڑے لشٹم پشٹم چلی آرہی تھیں۔ ان کے آتے ہی آرسی مصحف کی رسم شروع ہوجائے گی۔ دولہے سے تین بار سورۂ اخلاص پڑھا کر اسے دلہن کے چہرے پر دم کرنے کے لیے کہا جائے گا۔ اس کے بعد دونوں کے سر پر سرخ دوپٹہ ڈال کر دولہا سے کہا جائے گا۔

’’دولہے میاں! اپنی دلہن سے کہو۔۔۔پیاری آنکھیں کھولو۔ میں نے تمہاری غلامی قبول کی۔‘‘ دلہن آنکھیں نہیں کھولے گی۔ دولہا وہی الفاظ بار بار دہراتا رہے گا۔ آخر بڑی منت سماجت کے بعد دلہن آنکھیں کھول کر آئینے میں دولہے کو دیکھے گی۔ تب دولہا والہانہ مسرت کے ساتھ اعلان کرے گا۔’’ کھول دِیں۔۔۔دلہن نے آنکھیں کھول دیں۔‘‘ دولہا کے اعلان کے ساتھ ہی سہیلیوں کی کلکاریاں فضا میں گونجیں گی اور سب مل کر گائیں گے۔

’’میرے بنے کی بات نہ پوچھو ، میرا بنا ہریا لا ہے۔‘‘ بعض لڑکیاں ڈھولک کی تھاپ پر تھرکنا بھی شروع کردیں گی۔ ابھی وہ یہ سب سوچ ہی رہی تھیں کہ ان کے موبائل کی بیل بجی۔ موبائل کی اسکرین پر مسٹر رحمان کا نام چمک رہا تھا۔ آج دن بھر ان کا فون نہیں آیا تھا۔ انہوں نے جھٹ سے بٹن دباکرکان سے لگادیا۔ ’’ہیلو۔‘‘ دوسری طرف سے مسٹر رحمان کہہ رہے تھے۔’’جانِ من! معافی چاہتے ہیں۔ آج صبح سے میٹنگوں کا سلسلہ ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا تھا۔ اس لیے فون نہیں کرپائے۔ آپ کیسی ہیں؟‘‘

’’میں اچھی ہوں۔ آرسی مصحف کی رسم شروع ہونے جارہی ہے۔‘‘

مسٹر رحمان بولے۔’’جانم! ٹھیک سے سنائی نہیں دے رہا ہے۔‘‘

انہوں نے موبائل کو ہتھیلی کی آڑ دیتے ہوئے کہا۔’’یہاں بہت شور ہورہا ہے۔ ٹھہریے، دو منٹ بعد میں آپ کو فون کرتی ہوں۔‘‘ وہ کال کٹ کرکے اِدھر اُدھر دیکھتی ہوئی مکان کی طرف مڑیں۔ اتنے میں کسی شناسا عورت نے پوچھا۔’’ارے! آرسی مصحف کی رسم شروع ہونے جارہی ہے۔ آپ کہاں چلیں؟‘‘

’’ممبئی سے فون آیا ہے۔ یہاں بہت شور ہے۔ بات کرکے ابھی دو منٹ میں آتی ہوں۔‘‘

’’میاں کا فون؟‘‘ شناسا عورت نے شوخی سے پوچھا۔

’’جی ہاں۔‘‘ انہوں نے ایک محجوب مسکراہٹ کے ساتھ اثبات میں گردن ہلادی۔

وہ مکان میں داخل ہوئیں۔ مختلف کمروں سے گزرتی ہوئی پچھواڑے کے کمرے میں آئیں۔ یہاں سے ایک زینہ مکان کے ٹیرس پر جاتا تھا، زینے پر اندھیرا تھا مگر آس پاس کی روشنی سے سیڑھیاں سجھائی دے رہی تھیں۔ وہ زینہ طے کرکے ٹیرس پر پہنچیں۔ یہ فون کرنے کے لیے بہت مناسب جگہ تھی۔ وہ پچھلے پانچ دنوں میں یہاں سے کئی بار ممبئی فون کرچکی تھیں۔ یہاں سے نیچے شادی کا شامیانہ نظر آرہا تھا جو بقعۂ نور بنا ہوا تھا۔ ڈھولک کی تھاپ اور گانے کی آواز یہاں بھی آرہی تھی۔ البتہ شور کافی کم ہوگیا تھا۔ ٹیرس کو بھی ٹِم ٹِم کرتے برقی قمقموں سے سجا دیا گیا تھا۔ انہوں نے موبائل پر مسٹررحمان کے نمبر پریس کئے، دوسری طرف سے مسٹر رحمان کی آواز آئی۔’’ہیلو۔‘‘

’’ہیلو۔ میں بول رہی ہوں۔ فرمایئے۔‘‘

’’ہاں، اب آواز ٹھیک ہے۔ آج دن بھر آپ کی آواز سننے کو کان ترس گئے۔‘‘

’’میں بھی آپ کے فون کا بے چینی سے انتظار کررہی تھی۔‘‘

’’وہاں کیسا لگ رہا ہے؟‘‘ رحمان صاحب پوچھ رہے تھے۔

’’میں نے پہلی بار گاؤں کی شادی میں شرکت کی ہے۔ اگر آپ بھی آتے تو بڑا لطف آتا۔‘‘

’’کیا کریں سرکاری ملازم ہیں۔لوگ کہتے ہیں آئی۔اے۔ ایس آفیسر ملک کے حاکم ہوتے ہیں مگر انہیں نہیں معلوم کہ بعض اوقات یہ حاکم کس قدر محکوم ہوتے ہیں۔‘‘

’’زرینہ اور اس کے شوہر آپ کو بہت یاد کررہے تھے۔‘‘

’’کون زرینہ؟‘‘

’’ارے میری سہیلی، جس کی بیٹی کی شادی میں میں آئی ہوں۔‘‘

’’اوہو! خیر پھر کسی مناسب موقع پر ملیں گے ان سے۔ میری طرف سے انہیں مبارک باد کہنا۔‘‘

’’اچھا۔۔۔ اب میں چلتی ہوں۔ سب نیچے شامیانے میں جمع ہیں ، آرسی مصحف کی رسم جاری ہے۔ بس جلد ہی رخصتی ہوجائے گی دلہن کی۔‘‘

’’ٹھیک ہے۔ آپ جایئے مگر جانے سے پہلے ایک رسیلی سی منقار تو دیتی جایئے۔ آج آپ کی منقار کے بغیر پورا دن بڑا بے کیف گزرا۔‘‘

’’پہلے آپ دیجئے۔‘‘ بیگم رحمان نے شوخی سے کہا۔

’’لیجئے۔۔۔‘‘ دوسری طرف سے پچکارنے کی آواز آئی۔

بیگم رحمان کی کھنکتی سی ہنسی گونجی۔ انہوں نے اپنے دونوں ہونٹ موبائل پر رکھے اور ایک طویل چوما ثبت کردیا۔ بولیں۔ ’’کیسی لگی ہماری منقار؟‘‘

’’نشہ طاری ہوگیا۔‘‘ دوسری جانب سے مسٹر رحمان کی مخمور آواز سنائی دی۔ بہت یاد آرہی ہے آپ کی۔‘‘

بیگم رحمان نے ہنستے ہوئے کہا۔’’بس کل کا ایک دن اور۔۔۔‘‘اور موبائل بند کردیا۔ وہ جانتی تھیں مسٹر رحمان بے چینی سے ان کا انتظار کررہے ہوں گے۔ انہیں یہاں آئے ہوئے پانچ روز ہوگئے تھے۔ ان کی شادی کو بیس برس کا عرصہ ہوگیا تھا مگر وہ مسٹر رحمان سے کبھی اتنے دن کے لیے جدا نہیں ہوئی تھیں۔ شروع شروع میں جب وہ میکے جاتی تھیں تو مسٹر رحمان روز وہاں حاضری دینے پہنچ جاتے تھے۔ ان کا میکہ شہر ہی میں تھا۔

مسٹر رحمان کالج کے زمانے میں ان پر عاشق ہوئے تھے۔ کالج کے ایک ڈبیٹ میں ان سے ملاقات ہوئی تھی اور دونوں ایک دوسرے کے قریب آگئے۔ پھر ملاقاتوں کا سلسلہ شادی پر ہی ختم ہوا۔ زمانۂ عاشقی کے دوران فون پر باتیں کرتے ہوئے دونوں نے کئی چیزوں کے کوڈ بنائے تھے۔ مثلاً اگر مسٹر رحمان کا فون آتا اور آس پاس کوئی ہوتا تو وہ کہتیں۔ ’’مطلع ابر آلود ہے۔‘‘ اور فون رکھ دیتیں۔ اسی طرح جب وہ مسٹر رحمان کو فون کرتیں اور ان کے ارد گرد کوئی ہوتا تو وہ کہتے ’’مانس گندھ‘‘اور فون رکھ دیتے۔ منقار کی وجہ تسمیہ بھی کچھ ایسی ہی تھی۔

ایک مرتبہ دونوں فون پر محوِ گفتگو تھے۔ تبھی مسٹر رحمان نے کہا۔

’’جانم! ہم اس وقت ایک دلچسپ منظر دیکھ رہے ہیں۔‘‘

انہوں نے کہا۔’’ہمیں بھی بتایئے۔‘‘

مسٹر رحمان بولے۔’’ اس وقت ہم اپنے گھر کی بالکنی میں کھڑے ہیں۔ سامنے کی بلڈنگ کی چھت پر کبوتروں کا ایک جوڑا بیٹھا چونچ ڈالے ایک دوسرے کو پیار کررہا ہے۔ کیا کبھی ہمیں یہ سعادت نصیب ہوگی؟‘‘

اگرچہ وہ اس وقت اکیلی تھیں مگر مسٹر رحمان کی بات سن کر ان کے چہرے پر حیا کی سرخی دوڑ گئی۔ انہوں نے شرماتے ہوئے بناوٹی خفگی سے کہا۔’’ آپ بڑے خراب ہیں۔ ہم فون رکھ رہے ہیں۔‘‘

’’نہیں نہیں، خدا کے لیے ایسا غضب مت کرنا۔ دیکھئے ہم جانتے ہیں شادی سے پہلے آپ ہمیں ایسا کوئی موقع نہیں دیں گی مگر جانم! کم سے کم فون پر تو آپ ’وہ‘ دے ہی سکتی ہیں نا جو اس وقت کبوتری اپنی ’منقار‘ سے کبوتر کو دے رہی ہے۔ فون پر ہی سہی اپنے لبِ لعلیں سے ’پچکار‘

دیجئے۔ ہم سیراب ہوجائیں گے۔‘‘

مسٹر رحمان کی اس رومانٹک فرمائش پر ان کے اندر تتلیاں سی اڑنے لگیں اور انہوں نے شرماتے ہوئے ایک موبائلی بوسہ اچھال دیا تھا۔ دوسری طرف مسٹر رحمان بھی جوابی ’پچکار‘ کے ساتھ اس جوابی بوسے کو قبول کرلیا تھا۔ اس کے بعد سے ان کے درمیان ’منقار‘ بوسے کا کوڈ بن گیا تھا۔ یہ سلسلہ شادی کے بعد بھی آج تک جاری تھا۔ اکثر مسٹر رحمان فون پر گفتگو کے بعد کہتے ’منقار‘ اور وہ مسکرا کر فون پر ہی ایک عدد ’چوما‘ ثبت کردیتیں۔ ’منقار‘ ان کے لیے ایک ایسی کلید تھی جس سے ان کے ماضی کا طلسم خانہ کھل جاتا اور وہ جوانی کی رومان پرور یادوں میں گم ہوجاتی تھیں۔ وہ یہ سب سوچتے ہوئے واپس جانے کے لیے مڑی ہی تھیں کہ اچانک بجلی چلی گئی اور چاروں طرف گھپ اندھیرا چھا گیا۔ نیچے شامیانے سے عورتوں اور بچوں کی کلکاریوں کا شور سنائی دیا۔ ڈھولک کی تھاپ تھم گئی۔ ان کا دل زور سے دھڑکا۔ وہ لمحہ بھر کو بوکھلا گئیں اور اندھیرے میں انہیں کچھ بھی سجھائی نہیں دیا۔ اگرچہ ٹیرس پر بھی اندھیرا چھا گیا تھا مگر آسمان کی چھاؤں میں ٹیرس کے داخلی دروازے کے دھندلے سے نقوش نظر آرہے تھے۔ معاً انہیں اپنے موبائل کا خیال آیا۔ انہوں نے فوراً موبائل کا بٹن آن کیا اور اس کی ملگجی روشنی میں بچتی ، سنبھلتی دروازے کی طرف بڑھنے لگیں۔ دروازے کے پاس پہنچ کر وہ ایک ہاتھ سے ریلنگ کو ٹٹولتی ہوئی دوسرے ہاتھ میں موبائل لیے ایک ایک سیڑھی کرکے نیچے اترنے لگیں۔ جوں ہی موبائل کی روشنی بند ہوتی زینہ اندھیرے میں ڈوب جاتا اور وہ جلدی سے موبائل کا بٹن آن کردیتیں۔ ابھی مشکل سے انہوں نے چند سیڑھیاں ہی طے کی تھیں کہ ان کا پاؤں پھسلا اور موبائل ان کے ہاتھ سے چھوٹ کر نیچے گر گیا۔ وہ بری طرح لڑکھڑائیں اور اپنا توازن کھو بیٹھیں۔ ان کے منہ سے ہلکی سی چیخ بھی نکل گئی مگر یہ کیا۔۔۔؟ وہ گری نہیں تھیں ، اندھیرے میں کسی نے انہیں اپنے بازوؤں میں تھام لیا تھا۔ اس سے پہلے کہ وہ سنبھلتیں، سنبھل کر اپنے پیروں پر کھڑی ہوتیں، بازوؤں کا حلقہ تنگ ہوگیا۔ اندھیرے میں کچھ دکھائی تو نہیں دے رہا تھا مگر انہوں نے محسوس کیا کہ کوئی ان کے چہرے پر جھکا ہوا ہے۔ انہوں نے اپنے چہرے پر اجنبی سانسوں کی حرارت بھی محسوس کی۔ انہوں نے کسمسا کر خوف سے لرزتی ہوئی آواز میں کہا۔’’کون ہیں آپ؟‘‘۔۔۔ چھوڑیئے۔۔۔‘‘ مگر ان کا جملہ پورا ہونے سے پہلے ہی دو گرم اور گداز ہونٹ ان کے ہونٹوں پر ثبت ہوگئے۔ وہ تڑپیں، تڑپ کر ان اجنبی بانہوں کی گرفت سے نکلنا چاہا مگر گرفت اتنی مضبوط تھی کہ وہ صرف چھٹپٹا کر رہ گئیں۔ خوف اور حیرت سے ان کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئی تھیں مگر وہ ایک نامانوس لمس کی لذت کو بھی محسوس کئے بغیر نہ رہ سکیں۔ پھر اس سے پہلے کہ وہ اس ناگہانی صورتِ حال کو سمجھ پاتیں وہ ہونٹ ان کے ہونٹوں سے جدا ہوگئے اور ایک پراسرار سرگوشی سنائی دی۔

’’آئی لو یو۔۔۔‘‘ دوسرے ہی لمحے بازوؤں کی گرفت ڈھیلی ہوگئی اور ایک ہیولا چھٹک کر ان سے علاحدہ ہوگیا۔ انہوں نے لڑکھڑا کر ریلنگ کا سہارا لیا، اگرچہ تاریکی کے سبب کچھ نہیں سجھائی دے رہا تھا تاہم انہیں اتنا اندازہ تو ہو ہی گیا کہ ایک سایہ بڑی تیزی سے زینے طے کرتا ہوا نیچے اتر رہا ہے۔وہ ریلنگ سے ٹک کر اندھیرے میں حیران و پریشان بت بنی کھڑی رہ گئیں۔ ان کا دماغ ماؤف ہوگیا تھا اور حواس مفقود تھے۔ ان کی چھاتی دھڑک رہی تھی اور سانسیں تیز تیز چل رہی تھیں۔ چند لمحوں بعد انہوں نے کسی طرح اپنے آپ کو سنبھالا اور اندھوں کی طرح ٹٹول ٹٹول کر زینے سے نیچے اترنے لگیں۔ ایک نامعلوم خوف سے ان پر اب بھی کپکپی طاری تھی۔ انہوں نے جوں توں زینے طے

کیے۔ نیچے افراتفری کا عالم تھا۔ لوگ پرچھائیوں کی طرح ادھر ادھر بھاگ دوڑ رہے تھے اور اندھیرے میں ایک دوسرے سے ٹکراتے پھر رہے تھے۔ البتہ شامیانے میں دولہا، دولہن کے آس پاس دو تین پیٹرو لیمپ روشن کردیئے گئے تھے۔ وہ آہستہ آہستہ چلتی ہوئی مکان سے باہر نکلیں اور ایک دیوار سے ٹک کر آنکھیں بند کئے چپ چاپ کھڑی ہوگئیں۔ پتہ نہیں وہ کتنی دیر تک اسی طرح گم صم کھڑی رہیں۔ دھیرے دھیرے ان کے حواس درست ہورہے تھے۔ اتنے میں کسی کا موبائل فون بجا اور انہیں فوراً اپنے موبائل فون کا خیال آگیا۔

وہ تو وہیں زینے پر گر گیا تھا۔ اب وہ مڑ کر دوبارہ اس اندھیرے میں جانے کی ہمت نہیں کرسکتی تھیں مگر موبائل کو تلاش کرنا بھی ضروری تھا۔ ابھی وہ سوچ ہی رہی تھیں کہ کیا کیا جائے۔ اتنے میں بجلی آگئی اور چاروں طرف روشنی پھیل گئی۔ بجلی کے آتے ہی شامیانے سے عورتوں اور بچوں کا مسرت آگیں شور بلند ہوا۔ ڈھولک پر دوبارہ تھاپ پڑنے لگی اور لڑکیوں نے تھرکنا شروع کردیا۔

انہوں نے پلو سے اپنا چہرہ جو پسینے سے تر تھاپونچھا۔ اپنے بال درست کیے اور دھیرے دھیرے شامیانے کی طرف بڑھیں۔ ایک بار پھر کسی کا موبائل بجا اور انہیں اپنے موبائل کی فکر ہونے لگی۔ انہوں نے پلٹ کر دیکھا ایک مہمان خاتون اپنے موبائل پر کسی سے بات کررہی تھی۔ وہ تھوڑی دیر تک وہیں کھڑی رہیں جوں ہی اس خاتون کی بات مکمل ہوئی اور اس نے کال کٹ کی، وہ اس کے پاس گئیں۔

’’ایکسکیوز می! اگر آپ کو اعتراض نہ ہو تو میں آپ کے موبائل سے ایک کال کرسکتی ہوں؟‘‘

’’آف کورس۔۔۔ اس میں اعتراض کی کیا بات ہے۔‘‘ خاتون نے موبائل ان کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا۔ انہوں نے اس کا موبائل لے لیا پھر بولیں۔

’’بات یہ ہے کہ میرا موبائل وہاں اندھیرے میں ٹیرس کے زینے پر گر گیا ہے۔ ذرا آپ میرے ساتھ آیئے نا۔۔۔‘‘

’’ہاں۔۔۔ ہاں۔۔۔ چلئے۔‘‘ خاتون ان کے ساتھ چلنے لگی۔ مگر آپ کا موبائل وہاں کیسے۔۔۔؟‘‘ خاتون نے پوچھا۔

’’یہاں شور ہورہا تھا۔ میں ٹیرس پر جاکر بات کررہی تھی۔ اسی وقت لائٹ چلی گئی اور واپسی میں زینے پر موبائل ہاتھ سے چھوٹ گیا۔

’’اوہو۔۔۔‘‘

زینہ اسی طرح مٹیالے اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا۔ انہوں نے خاتون کے موبائل پر اپنے نمبر پریس کئے۔ چند لمحوں بعد ہی زینے کے ایک کونے سے بیل کی آواز آئی۔ وہ خوش ہوگئیں۔ ان کا موبائل مل گیا۔ انہوں نے خاتون کا شکریہ ادا کیا اور اس کا موبائل اسے واپس کردیا۔

موبائل کے مل جانے پر انہیں بڑا اطمینان ہوا۔ وہ واپس شامیانے میں لوٹ آئیں اور دوسری عورتوں کے ساتھ گھل مل گئیں۔ اگرچہ وہ واقعہ کسی گڑی ہوئی پھانس کی طرح ان کے ذہن میں ٹیس ماررہا تھامگر وہ اپنے آپ کو پرسکون رکھنے کی بھرپور کوشش کررہی تھیں۔ ساتھ ہی وہ کنکھیوں سے اپنے آس پاس کے مردوں کا جائزہ بھی لے رہی تھیں۔ ایک سوال رہ رہ کر انہیں ڈس رہا تھا۔ ’’کون تھا وہ۔۔۔؟‘‘ وہ یقیناًیہیں کہیں ہے۔ انہیں میں سے کوئی ہے۔ مگر کون؟ وہ براؤن سوٹ والا۔ جس کی انگلیوں میں ہیرے کی انگوٹھیاں چمک رہی ہیں ۔ نہیں۔ نہیں۔۔۔ یہ تو بہت پستہ قد ہے۔ یہ نہیں ہوسکتا۔ انہوں نے اندھیرے میں اسے دیکھا نہیں تھا مگر اندازہ تو لگا سکتی تھیں۔ اس کا قد اچھا خاصا رہا ہوگا۔۔۔ وہ سلک کے کرتے پائجامے والا۔ نہیں۔۔۔ اس کی مونچھیں ہیں۔ اس کی مونچھیں کہاں تھیں۔ اگر ہوتیں تو انہیں ضرور محسوس ہوتیں۔ انہیں ان ہونٹوں کا گداز لمس یاد آگیا۔۔۔ انہوں نے جلدی سے اس خیال کو جھٹک دیا۔۔۔ پھر کون ہوگا؟ وہ مخملی جیکٹ والا۔ نہیں ۔۔۔ یہ تو بہت دبلا ہے۔ انہیں اس کے مضبوط بازوؤں کی گرفت یاد آگئی۔۔۔ وہ گرے کلر کا سفاری سوٹ والا۔۔۔؟ نہیں یہ تو بالکل نہیں ہوسکتا۔ اس کے ہونٹ کس قدر موٹے اور بھدے ہیں، اس کے ہونٹ تو۔۔۔ انہیں اپنے آپ پر غصہ آنے لگا۔ آخر انہیں بار بار اس کے ہونٹوں کا خیال کیوں آرہا ہے۔ پھر ایک اور نوجوان پر ان کی نظر پڑی جو دراز قد بھی تھا اور جس کے نصف آستینوں والے بش شرٹ سے اس کے بازوؤں کی مچھلیاں بھی جھانک رہی تھیں۔ ہاں۔۔۔ یہ ہوسکتا ہے۔ مگر اس کے تو ہلکی ہلکی داڑھی ہے۔ وہ تو شاید کلین شیو تھا۔ شاید کیا، کلین شیو ہی تھا۔ داڑھی ہوتی تو کیا انہیں محسوس نہیں ہوتی۔ اضطراری طور پر انہوں نے اپنے ہونٹوں کو چھوا مگر دوسرے ہی لمحے اپنی اس حرکت پر خود ہی خجل ہوئیں اور ہاتھ نیچے گرادیا، سوچتے سوچتے ان کے سر میں درد ہونے لگا۔ وہ تھک کر ایک کرسی پر بیٹھ گئیں۔ اتنے میں ان کی سہیلی زرینہ کی آواز آئی۔

’’نوری۔۔۔!‘‘ وہ انہیں کو پکار رہی تھی۔

وہ اٹھ کر ان کے پاس گئیں۔

’’کہاں چلی گئی تھیں۔ ادھر آؤ میرے پاس۔ آرسی مصحف کی رسم شروع ہورہی ہے۔‘‘

وہ اس کے پہلو میں جا کر کھڑی ہوگئیں۔ رسم شروع ہوگئی۔ پھر ہنسی ٹھٹھوں کا سلسلہ چل پڑا اور ان کے ذہن سے اس واقعہ کے نقش دھیرے دھیرے معدوم ہونے لگے۔ آرسی مصحف کی رسم کے بعد دلہن کو آنسوؤں اور ہچکیوں کے درمیان رخصت کیا گیا۔ بیٹی کی رخصتی کے بعد ان کی سہیلی زرینہ رو رو کر نڈھال ہورہی تھی۔ وہ اسے تسلی دیتی رہیں۔ رات میں وہ زرینہ کے پاس ہی سوئیں۔ تمام مہمان بھی جس کو جہاں جگہ ملی وہیں پڑ رہے۔ بیٹی کی باتیں کرتے کرتے زرینہ کی بھی آنکھ لگ گئی مگر انہیں کافی دیر تک نیند نہیں آئی۔ ایک بارپھر وہ واقعہ ان کے ذہن کو کچوکے دینے لگا۔

ان کے ذہن میں بار بار ایک ہی سوال گشت کررہا تھا۔ کون تھا وہ؟کون تھا وہ؟ کیا وہ ان پر پہلے سے نظر رکھے ہوئے تھا؟ کیا وہ ان کا تعاقب کرتا ہوا وہاں پہنچا تھا؟ یقیناًایسا ہی ہوا ہوگا۔ وہ کوئی اتفاق نہیں ہوسکتا۔ انہیں اس کی پر اسرار سرگوشی یاد آئی۔ ’’آئی۔۔۔ لو ۔۔۔یو۔۔۔‘‘ اور وہ مضطرب ہوگئیں۔ وہ جانتی تھیں کہ ان کی شخصیت میں آج بھی جنسِ مخالف کے لیے خاصی جاذبیت ہے۔ جو ایک بار انہیں دیکھتا ، دوبارہ دیکھنے پر مجبور ہوجاتا۔ پچھلے پانچ دنوں میں ،شادی میں آئے بیشتر مہمان مردوں سے وہ روبرو ہوئی تھیں۔ مگر وہ کسی سے اس درجہ بے تکلف ہرگز نہیں ہوئی تھیں کہ کوئی خواہ مخواہ کسی خوش فہمی میں مبتلا ہوجاتا۔ کئی مہمان مردوں کے چہرے ان کے تصور میں ابھرے اور ڈوب گئے مگر وہ کسی کے بارے میں بھی کوئی رائے قائم کرنے سے قاصر رہیں۔

انہیں محسوس ہورہا تھا کسی نے انہیں ایک ایسی زبان میں لو لیٹر لکھ دیا ہے جسے وہ پڑھ نہیں سکتیں۔ رفتہ رفتہ ان پر نیند کا غلبہ طاری ہونے لگا مگر آنکھیں بند کرتے ہی ان کے کان میں کوئی سرگوشی کرتا۔ ’’آئی ۔لو۔ یو‘‘ اور وہ گھبرا کر آنکھیں کھول دیتیں۔ آخر کافی دیر تک کروٹیں بدلنے

کے بعد پتہ نہیں کب ان کی آنکھ لگ گئی۔

صبح زرینہ نے انہیں اٹھایا۔ ’’نوری! تیار ہوجاؤ۔۔۔ گیارہ بجے کی ٹرین ہے۔ ڈرائیور سے کہہ دیا ہے۔ وہ تمہیں اسٹیشن پہنچا دے گا۔ دیکھو کوئی خیال نہیں کرنا۔ میں خود چلتی مگر۔۔۔‘‘

’’ارے نہیں۔ میں سمجھ سکتی ہوں۔ تم کیسے آسکتی ہو۔ مہمانوں سے گھر بھرا ہے۔ پریشان ہونے کی کوئی ضرورت نہیں۔ میں چلی جاؤں گی۔ میرا ریزرویشن ہے۔ ممبئی میں رحمان صاحب مجھے لینے آجائیں گے۔ کوئی دقّت نہیں ہوگی۔‘‘

صبح ناشتہ کرتے کراتے ان کی نگاہوں نے ایک بار چپکے چپکے مردانے میں کئی مردوں کو ٹٹولا مگر لاحاصل ۔ کہیں سے کوئی سراغ نہیں ملا۔ وہ ٹہلتی ہوئی ایک بار ٹیرس پر بھی گئیں۔ ٹیرس پر ایک نا معلوم اندیشے سے بار بار مڑ کر بھی دیکھتی رہیں کہ کوئی چپکے چپکے ان کے پیچھے تو نہیں آرہا ہے۔ مگر وہاں کوئی نہیں تھا۔ وہ زینے پر آئیں، جہاں ان کے ہاتھ سے موبائل چھوٹ کر گرا تھا، وہاں ٹوٹی ہوئی چوڑی کے دو ایک ٹکڑے پڑے تھے۔ انہوں نے اٹھا کر دیکھا ، یہ ٹکڑے انہیں کی چوڑی کے تھے۔ غالباً رات میں زینے سے رپٹتے وقت ٹوٹ گئی تھی۔ وہ بوجھل قدموں سے نیچے اتر آئیں۔

وہ لپ اسٹک ہاتھ میں لیے آئینے کے سامنے بت بنی کھڑی تھیں اور سارے مناظر فلیش بیک کی طرح ان کی نظروں کے سامنے سے گزررے تھے۔ اتنے میں ان کے موبائل کی بیل بجی۔ انہوں نے چونک کر لپ اسٹک کو سنگھار دان کے ڈیش پر رکھ دیا۔ موبائل اٹھا کر دیکھا۔ رحمان صاحب کا فون تھا۔ انہوں نے کال آن کیا۔ دوسری طرف سے مسٹر رحمان کہہ رہے تھے۔

’’کیا حال ہے جانم! کب تک نکل رہی ہیں آپ؟‘‘

’’بس نکل ہی رہی ہوں۔ آپ آرہے ہیں نا اسٹیشن پر؟‘‘

’’ہم تو دیدہ و دل فرشِ راہ کئے بیٹھے ہیں۔‘‘ پھر موبائل پر ’چوما‘ دینے کی آواز آئی۔ مسٹر رحمان کہہ رہے تھے۔ ’’لیجئے ہم نے تو اپنی ’منقار‘ دے دی، اب آپ بھی جلدی سے ایک عدد منقار عنایت کردیجئے تاکہ شام تک صبر کا عذاب جھیل سکیں۔‘‘

منقار کے مطالبے پر نہ جانے کیوں اچانک ان کا رنگ زرد پڑ گیا۔ وہ ایک دم چپ ہوگئیں۔ ادھر سے مسٹر رحمان کی آواز آرہی تھی۔ ’’ہاں تو جانم! جلدی سے ایک عدد منقار۔۔۔‘‘

’’نہیں، اس وقت نہیں۔۔۔‘‘

’’کیوں۔۔۔؟‘‘دوسری طرف سے پوچھا گیا۔

’’مطلع ابر آلود ہے۔‘‘ انہوں نے گھُٹی گھُٹی آواز میں کہا۔ ان کی آواز میں ہلکی سی لرزش بھی تھی۔

’’کوئی بات نہیں۔‘‘ادھر سے مسٹر رحمان بولے۔ ’’آپ آجایئے۔ ہم ساری کسر یہاں پوری کرلیں گے۔‘‘ دوسری طرف سے کال کٹ کردی گئی۔ آس پاس کوئی نہیں تھا۔ البتہ آئینے میں ان کا عکس انہیں گھور رہا تھا۔ نہ جانے کیوں آج انہیں اپنا ہی عکس اجنبی معلوم ہورہا تھا۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

"میں اور وہ” …عظمیٰ طور

"میں اور وہ” عظمیٰ طور وہ اکیلا اسکے سرہانے کھڑا تھا – کفن میں لپٹی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے