سر ورق / جہان اردو ادب / امین صدرالدین بھایانی۔۔۔ محمد زبیر مظہر پنوار

امین صدرالدین بھایانی۔۔۔ محمد زبیر مظہر پنوار

سوال ..آپ کا اصل اور قلمی نام ۔۔

جواب ۔۔ امین صدرالدین بھایانی

سوال ۔۔ آپکی تعلیمی قابلیت اور خاندانی پس منظر کے متعلق کچھ بتائیں  ۔۔

جواب ۔۔ میرے والدین نے اپنے بچپن میں قیامِ پاکستان کے وقت بھارتی صوبے گجرات کے شہر بھاونگر سے پاکستان ہجرت کی۔ میری پیدائش کراچی کے سیونٹھ ڈے ایڈوانٹس ہسپتال، ابتدائی تعلیم کھارادر میں آغا خان پرائمری اسکول، پروگریسیو سیکنڈری اسکول، گارڈن ویسٹ، نشتر روڈ سے میٹرک، پریمیئر ایوننگ کالج، ناظم آباد سے انٹرمیڈیٹ اور پھر آخر میں نیشنل کالج شہیدِ ملت روڈ سے بی کام کیا۔

 

سوال .. ادب سے لگاؤ کی خاص وجہ اور آپ کو کب ایسا لگا کہ آپکے اندر ایک تخلیقکار موجود ہے جو بہت سی باتیں کہنا لکھنا چاہتا ہے ۔

جواب ۔۔ علم و ادب سے قلبی تعلق والدِ مرحوم صدرالدین بھایانی کی طرف سے وراثت میں ملا۔ والد معروف گجراتی روزناموں "ڈیلی ملت” اور پھر "ڈیلی ڈان” میں طویل عرصے تک بطور نیوز ایڈیٹر اور اُس سے قبل فلمی ہفت روزہ ”نگار ویکلی“ سے بطور سرکیولیشن مینیجر منسلک رہے۔

ادبی ذوق رکھتے تھے۔ "سنیھ ساگر” کے تخلص سے گجراتی زبان میں شاعری اور نثرنگاری بھی کیا کرتے۔ والد صاحب کے اسی ادبی ذوق کی باعث بچپن سے ہی مجھے ارد گرد کتابیں ہی کتابیں نظر آئیں۔ ان کتابوں نے اپنا اثر دکھانا شروع کیا۔ میری پہلی تحریر شائع ہوئی تو والدِ محترم کی خوشی دیدنی تھی۔

ابنِ صفی مرحوم وہ پہلے ناول نگار تھے جن کو میں نے اپنے بچپن میں جماعتِ چہارم سے ہی باقاعدگی کے ساتھ پڑھنا شروع کردیا تھا۔ پھر یگر ادیبوں کا طالعہ بھی کیا۔ سچ تو یہ ہے کہ وہی میرے روحانی استاد ہیں۔ اس فہرست میں اے حمید مرحوم بھی شامل ہیں۔

گو کہ علم و ادب سے وابستگی بچپن سے ہی ورثے میں ملی لیکن اس شوق کو صحیح معنوں میں ہفت روزہ نگار کے بانی و مدیر الیاس رشیدی مرحوم نے ہی مہمیز کیا۔ میں انہیں بھی اپنا قلمی استاد مانتا ہوں۔ 1984ء میں اُن کی حوصلہ افزائی اور راھنمائی میں قلم و قرطاس سے رشتہ ایسا استوار ہوا کہ ماشاءاللہ اب بھی یونہی جاری و ساری ہے۔ بچوں کے رسالوں کے بعد ادارہِ نگار وہ پہلا مقام تھا جہاں سے میں نے باقاعدگی کے ساتھ لکھنا شروع کیا۔

نگار میں باقاعدہ مضمون نگاری کا آغاز کیا اور پھر روزنامہ جنگ، اخبارِ جہاں سمیت دیگر اخبارات و جرائد میں مضامین لکھنے کے علاوہ معروف فلمی شخصیات کے انٹرویو بھی کیے۔ ان تمام کی تعداد سو سے زائد ہے۔ البتہ افسوسناک بات یہ ہے کہ دیس پردیس کی مسافریوں کے دوران بیشتر ریکارڈ اِدھر اُدھر ہو گیا۔ (چند مخلص دوستوں کی مدد سے اُس گمشدہ ریکارڈ کو تلاش و یکجا کر کے کتابی صُورت میں شائع کروانے کی کوشش کر رہا ہوں)۔ اخباری فوٹوگرافرکی حیثیت سے بھی فرائض انجام دیے۔ میری تصاویر نگار کے علاوہ میگ ویکلی، کراچی میں بھی شائع ہوئیں۔

پاکستان سے امریکا منتقل ہو جانے کے بعد اگرچہ معاشی تگ و دو نے مصروفیات میں بری طرح جکڑ لیا اس کے باوجود قلم سے رشتہ ہر ممکن حد تک استوار رکھنے کی اپنی سی کوشش کر کے وقت نکال کر افسانہ نگاری جاری رکھی، الحمد اللہ جو آج بھی جاری ہے۔

پاک و ہند کے ادبی جرائد میں میرے افسانے بفضلِ خدا، تواتر کے ساتھ شائع ہو رہے۔ اب تک میرے دو افسانوی مجموعے "بھاٹی گیٹ کا روبن گھوش” جو مئی  2016 اور "بےچین شہر کی پُرسکون لڑکی” اگست 2018 میں شائع ہوئے، کو میری توقعات اور امیدوں سے بڑھ کر پریزائی میسر آئی۔

سوال ۔۔ پہلی کہانی کب لکھی اور کس مجلہ یا اخبار میں شائع ہوئی ۔

جواب ۔۔ لکھنے کا آغاز تو درحقیت بچپن میں کیا تھا اور وہ کہانی نہیں بلکہ کوئی مضمون نگاری سے ابتدا ہوئی تھی مگر اب نہ تو مجھے یاد ہے اور نہ ہی کسی قسم کا کوئی ریکارڈ ہی میرے پاس ہے کے اُس میں سے چیک کر کے بتا سکوں

سوال ۔۔ ہمارے معاشرے کا چونکہ ماحول ایسا ہے کہ انٹلیکچوئل طبقے کو اہمیت کم دی جاتی ہے پھر آپ تو انٹلیکچوئل طبقہ کے سب سے حساس ترین لوگوں میں سے ہیں آپکو ضرور شروعات میں فیملی دوستوں محلوں داروں سے کچھ نہ کچھ عجیب سننے کو ملا ہو گا خاص کر پہلی دو چار کہانیوں کے بعد لوگوں کا ری ایکشن کیا تھا آپ کے متعلق ۔۔

جواب ۔۔ ابو چونکہ خود ادیب تھے۔ گحراتی زبان میں نثر اور شاعری کرتے تھے تو سب سے زیادہ حوصلہ افزائی تو مجھے اُن کی طرف سے میسر رہی۔ ہاں البتہ عام لوگوں کی طرف سے اس بات کو کوئی خاص اہمیت نہ دی جاتی تھی۔ بلکہ سچ کہوں تو اب بھی میرے پرانے بچپن اور لڑکپن کے دوست مجھے ایک ادیب کے طور پر نہیں لیتے نہ ہی اُن کی طرف سے اپنے افسانوں وغیرہ پر کوئی تبصرہ نہیں ملا اور نہ ہی کوئی تعریف۔ یہی حال میرے اُن ساتھیوں کا ہے جو کہ میرے افسانہ نگاری سے قبل صحافت کے دور کے حلقے میں شامل تھے اور ماشاءاللہ اب بھی نہیں۔ ایک آدھ ہی کی طرف سے کوئی تبصرہ وغیرہ ملا ہو تو ملا ہو۔ عموما اس حوالے سے بات بھی نہیں ہوتی۔

عام لوگوں کی طرف سے بڑا ہی حیران کن رویہ سامنے آتا ہے جیسے ہی کسی ایسے شخص کو پتہ چلتا ہے کہ میں افسانہ نگاری کرتا ہوں اور میرے دو مجموعے بھی آ چکے ہیں تو وہ پہلے تو حیران رہ جاتے ہیں اور پھر پہلا سوال یہ پوچھتے ہیں کہ "پیسے کتنے ملتے ہیں؟” 🙂

سوال ۔۔ صیح معنوں میں آپکی کونسی تحریر تخلیق آپکی پہچان بنی جس نے آپکو عام عوام میں سے اٹھا کر علمی و ادبی طبقہ میں متعارف کروایا ۔

جواب ۔۔ میں سمھجتا ہوں کہ "گڑ کی ڈلی” وہ افسانہ ہے جو میری پہنچان بنا۔ یہ افسانہ ہندوستان میں "ثالث” میں بھی شائع ہوا۔ یہ ہندوستان میں شائع ہونے والا میرا پہلا افسانہ ہے۔ اس لحاظ سے مجھے ہندوستان میں متعارف کروانے کا سہرا ڈاکٹر اقبال حسن آذاد صاحب کو جاتا ہے۔ پھر اس افسانے کو ہانگ کانگ ریڈیو کی اُردو سروس کے لیے عابد علی بیگ بھائی نے ریکارڈ کیا جو کہ ہانگ کانگ سمیت امریکا کے کئی ریڈیو اسٹیشنوں کے ادبی پروگراموں سے نشر ہوا۔

سوال ..آپ کےادباء میں سے بہترین دوست جو رائیٹر بننے کے بعد بنے ہوں اور آپکی ہمیشہ رہنمائی کی ہو ۔

جواب ۔۔ میری خوش نصیبی کے مجھے بہترین ادیب دوست میسر آئے جن میں محمود ظفر اقبال ہاشمی، فارس مغل، حسن امام اور ڈاکٹر شفقت محمود سرِفہرست ہیں۔

ان دنوں میں اپنا پہلا ناول بعنوان "خوابوں میں جاگا ہوا آدمی” لکھ رہا ہوں۔ اس ناول کو لکھنے کی تحریک مجھے محمود ظفر اقبال ہاشمی بھائی جو کہ اب تک "سفید کلاب”، "اندھیرے میں جگنو”، "قلم، قرطاس و قندیل” اور "میں جناح کا رواث ہوں جیسے یادگار ناول لکھ چکے ہیں اور برادر فارس مغل کے دو ناولوں "ہمجان” اور تازہ ترین ناول "سو سال وفا” نے دی ہے۔ ان دونوں کے ناول پڑھ کر میرے دل و دماغ میں ایک خاص تحریک نے جنم لیا بلکہ سچ پوچھیں تو میرے اندر سوئے ہوئے ناول نگار کو جگا دیا۔ سو اب میں ان دنوں دیگر تمام کام چھوڑ کر اپنی شدید منصبی و نجی مصروفیات کے باوجود تھوڑا تھوڑا کر کے اس ناول کو لکھ رہا ہوں اور اب تک کل چھ ابواب صبطِ تحریر میں آ چکے ہیں اور ساتواں باب زیرِ تحریر ہے۔

محمود ظفر ہاشمی بھائی کے حوالے سے ایک اور بات بتاتا چلوں کہ انہوں نے میرے تازہ ترین افسانوی مجموعے "بےچین شہر کی پُرسکون لڑکی” کے کل 55 نسخے باقاعدہ بے حد اصرار کر کے قیمتاً ملک بھر میں اپنے احباب اور کالج اور یونیورسٹیوں کی لائبریریوں کے لیے باقاعدہ ادائیگی کر کے خریدے۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ ایک بہت بڑی بات ہے اور بلاشبہ میرے لیے یہ بھرپور حوصلہ افزائی ہے۔

سوال ۔۔ آپکی نظر میں ادب کی معاشرے میں گنجائش کتنی ہے اور آج کا قاری ادیب سے کیا چاہتا ہے ۔

جواب ۔۔ میں سمجھتا ہوں کہ ادب کا جنم تو ہوا ہی معاشرے کے لیے اور معاشرے میں موجود متعدد اکائیوں کی ذہنی و نفسیاتی تربیت کے لیے ہے۔ مگر ہمارے معاشرے میں کتابی ادب کے حوالے سے لوگوں میں ایک عجب بلکہ صحیح معنوں میں کہا جائے تو ایک غلط فہمی سی پیدا ہو گئی ہے کہ اب اس برقی دور میں کاغذی ادب کی کوئی جگہ نہیں اور لوگوں نے اپنا تعلق انٹرنیٹ کے توسط سے شوشل میڈیا سے جوڑ لیا ہے اور اُسے ہی ادبی کا ایک زریعہ سمجھنے میں مصروف ہیں۔ جو کہ کسی حد تک تو ٹھیک ہے البتہ یاد رکھے کہ یہ شوشل میڈیا ہے یعنی کہ سماجی رابطہ کا زریعہ اور اکثر عام طور پر سماج انسان کے عمومی رویوں کا آئنیہ دار ہوتا ہے آپ اُسے ادب کا ترجمان قرار نہیں دے سکتے اور اگر کوئی ایسا سوچتا ہے تو یہ کسی حد تک تو درست ہو سکتا ہے مگر اِسے سو فیصدی درست قرار نہیں دیا جا سکتا۔

یہاں امریکا میں اب بھی کاغذی ادب کی وہی اہمیت و حیثیت ہے۔ میں گذشتہ دنوں ایک سلیف پبلشنگ کمپنی کے ایجنٹ سے فون پر گفتگو کر رہا تھا اور اُس نے مجھے بتایا کہ اس وقت امریکا میں ہر سال ایک ملین یعنی دس لاکھ سے زائد کاغذی کتب شائع ہوتی ہیں اور خوب خوب بکتی ہیں۔

میں سمجھتا ہوں کہ پاکستان میں بھی ادب کا قاری موجود ہے اور ہمارے یہاں بھی پبلشر ادارے دھڑا دھڑ  کتابیں شائع کر رہے ہیں اور سچ تو یہ ہے کہ کتاب بک بھی رہی ہے مگر اس کا فائدہ صرف شائع کرنے والے اور بیچنے والے ہی تک محدود ہے لکھنے والے اس سے بالکل محروم ہیں اور کتاب سے ملنے والے مالی فوائد کی ایکویشن سے اُسے ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت دور کر دیا گیا ہے۔

قارئین کا ایک طبقہ وہ بھی ہے جس کی دسترس میں انٹرنیٹ ہے اور وہ اپنا ادب (اب وہ کونسا ادب ہے، اُس کا معیار کیا ہے اور ادب کے نام پر مختصر اقتباسات پر ہی اکتفا کرنا ہی ادب بینی ہے اب یہ ایک عحلحیدہ موضوع ہے) انٹرنیٹ پر اپنے فون پر ہی حاصل کرنا چاہتا ہے اور سچ تو یہ ہے کہ ان میں اکثریت اگر مفت میں کتاب ملے تو لے کر گھر کی الماری میں سجانے کو تو تیار ہین بلکہ منہ چڑھ کر مفت کتاب کا تقاضہ کرتے ہیں مگر خرید کر کتاب پڑھنا اپنی توہین گردانتے ہیں اور مفت کتاب کی طرح سے پی ڈی ایف کے متقاضی رہتے ہیں۔

اب آپ نے پوچھا کہ آج کا قاری چاہتا کیا ہے؟

اب قارئین کی بھی تو کئی اقسام ہیں۔ ایک وہ ہے جو ادب سے اپنی ذہنی و نفسیاتی تربیت اپنے ذوقِ جمیل کی آبیاری کرنا چاہتا ہے اور دوسری طرح کا قاری ایسا ہے جو صرف تفریحِ طبع کی خاطر مطالعہ کرتا ہے اور عموما وہ مطالعہ شوشل میڈیا سمیت کاغذی تفریحی ادب تک ہی محدود ہے۔ سو ہمارے یہاں بنیادی طور پر دونوں ہی طرح کے قارئین موجود ہیں البتہ آخرالذکر طبقے کے قارئین تعداد میں زیادہ ہونے کے سبب اس نوعیت کا ادب زیادہ نظر آتا ہے البتہ سنجیدہ ادب کے قارئین بھی بہر طور موجود ہیں اور یہ طبقہ ایسے ادب کا شائق ہے جو کہ اُن کو سوچ جو حلا بخشے اور وہ مطالعہ انہیں فکری طور پر بھی آگہی عطا کر سکے۔

سو ہمارے یہاں اس نوعیت کے قاری کو مطئیں کرنے والے ادبا کی بھی کوئی کمی نہیں مگر جیسا کہ میں نے پہلے عرض کیا کہ کتاب، ادیب، پبلشر اور بک سیلرز کی اس ایکویشن میں سب سے زیادہ نقصان میں یا پھر ہوں کہہ لیں کہ سب سے آخر میں ادیب ہے اور سب س آگے یا فائدے میں پبلشر لہذا ایسے ادیب لکھ تو رہے ہیں مگر صرف سوکھی واہ واہ بھی تو کسی بھی شبعے کو آگے لے جانے کا سبب تو کسی طور نہیں بن سکتی۔ لکھنے والا خواہ کوئی ہی کیوں نہ ہو اُس کو اپنے اور اپنے بیوی بچوں کے لیے روٹی، کپڑا اور مکان کی ضرورت بہرحال رہتی ہے اور ہمارا موجودہ نظام کسی بھی اچھے لکھنے والے کو اس کی کوئی ضمانت نہیں دے سکتا تو پھر بھلا اچھا ادب کیسے وجود میں آ سکتا ہے۔۔

سوال ۔۔ کسی زمانے میں ترقی پسند ادباء تحریک کا جنم ہوا تھا ۔ کیا اس سے اردو ادب کا فائدہ ہوا یا نقصان ۔۔

جواب ۔۔ میں نہیں سمجھتا کہ کوئی بھی تحریک بشمول ترقی پسند ادباء تحریک ادب کو نقصان پننچانے کا موجب بن سکتی ہے۔ بلکہ میں تو سمجھتا ہوں کہ زیر تذکرہ تحریک سمیت تمام تر تحاریک دراصل ادب کو  مستحکم کرتی ہیں۔ دیکھیں اچھا ادب معاشرے سے ہی جنم لیتا ہے۔ اگر کسی ادب کی جڑیں معاشرے میں نہیں تو پھر وہ کچھ بھِی ہو سکتا ہے ادب نہیں۔ یہ ساری تحاریک ہمارے معاشرے ہی کا تو حصہ ہیں۔ ان تمام تحاریک نے معاشرے کے مختلف طبقات کے توسط سے ہی جنم لیا ہے تو کیا ہم ان طبقات اور اُن کے توسط سے جاری کردہ تحاریک کو ادب سے الگ کر کے کیا کوئی خلائی ادب تخلیق کریں گے تو کیا وہ ادب کہلائے گا۔ جی نہیں۔

سو میں یہ سمجھتا ہوں کہ ان تمام تحریک بطورِ خاص ترقی پسند تحریک نے ہمارے ادب کو مزید زرخیر کیا۔ کیسے کیسے ادیب عطا کیے اور کیسا کیسا منفرد ادب فراہم کیا۔

سوال۔۔ ادب میں جدیدیت اور مابعدجدیت کا فلسفہ کس حد تک ہمارے قاری پہ اثر انداز ہوا یا پھر ہمارا قاری یا ادیب بیسویں صدی کی پہلی پچاس دہائیوں میں کھڑا نظر آتا ہے ۔۔

جواب ۔۔ بہت ہی دلچسپ سوال ہے۔

دیکھیں ہمارے یہاں ہر نقاد سے لے کر ہر ادیب کی زبان سے آپ کو جدیدت اور مابعدِجدیت کا فلسفہ بولتا نظر آئے گا اور جیسا کہ آپ نے سوال کیا کہ کیا اب بھی ہمارا قاری اور ہمارا ادب بیسویں صدی کی پہلی پچاس دہائیوں میں کھڑا نظر آتا ہے

اس سوال کا جواب بہت ہی آسان اور سامنے کی بات ہے۔ مگر میں آپ کو اس کا جواب دینے سے پہلے آپ سے ہی ایک سوال کرنا چاہوں گا۔

ہم اس وقت 2018 میں سانس لے رہے ہیں مگر کیا ہمارا معاشرہ اور اس معاشرے میں سانس لیتا انسان درحقیقت 2018 ہی میں کسی ترقی یافتہ اور جدید معاشرے میں سانس لیتے انسان  کو حاصل شہری سہولیات، انصاف، حتی کہ بنیادی انسانی حقوق جس میں روٹی، کپڑا، مکان، پانی، بجلی، تحریر و تقریر کی آزادی، اپنے حق کے حصول کے لیے آواز بلند کرنے کے حق کے سو میل کے قریب بھِی پہنچ پایا ہے۔

اب آپ کے سوال کا جواب بہت آسان ہوگیا ہے

اگر آپ کا جواب ہاں میں ہے تو ہاں ہمارا قاری، ادیب، ادب جدیدیت اور مابعدجدیت سے آگے کی منازل طے ک رچکا ہے

اور اگر آپ کا جواب نا میں ہے تو پھر  ہمارا قاری اور ہمارا ادب، ادیب سمیت بیسویں صدی کی پہلی پچاس دہائیوں میں ہی کھڑا  ہے

دیکھیں ادب جس معاشرے میں جنم لے رہا ہے اُسے اُس سے جدا کر کے نہیں دیکھا جا سکتا۔ سو جس روز ہمارا معاشرہ من الحیث الجموعی جدیدیت میں قدم رکھے گا اُسی روز اور اُس کے ساتھ ہی ہمارا ادب بھی جدیدیت کی بین اقوامی دوڑ کا حصہ بن جائے گا۔۔

سوال ۔۔ کیا آپکی نظر میں موجودہ کا ادب قاری یا عام آدمی جو کہ سرسری مطالعہ کرتا ہے اس کو اپیل کرتا ہے بالخصوص اردو ادب ۔۔

جواب ۔۔ آپ کی اس بات کا جواب میں اُوپر کہیں دے چکا ہوں۔

قارئین کا ایک طبقہ وہ بھی ہے جس کی دسترس میں انٹرنیٹ ہے اور وہ اپنا ادب (اب وہ کونسا ادب ہے، اُس کا معیار کیا ہے اور ادب کے نام پر مختصر اقتباسات پر ہی اکتفا کرنا ہی ادب بینی ہے اب یہ ایک عحلحیدہ موضوع ہے) انٹرنیٹ پر اپنے فون پر ہی حاصل کرنا چاہتا ہے اور سچ تو یہ ہے کہ ان میں اکثریت اگر مفت میں کتاب ملے تو لے کر گھر کی الماری میں سجانے کو تو تیار ہین بلکہ منہ چڑھ کر مفت کتاب کا تقاضہ کرتے ہیں مگر خرید کر کتاب پڑھنا اپنی توہین گردانتے ہیں اور مفت کتاب کی طرح سے پی ڈی ایف کے متقاضی رہتے ہیں۔

سو ایسے ادبی قارئیں کے ذہنی رجحانات اُن کی پوسٹوں سے ہی عیاں ہو جاتے ہیں کہ اُن کی خود ساختہ دانشوری کس قدر سطحی ہے۔۔

سوال ۔۔ کیا وجہ ہے کے اردو ادب کا معیار اس لیول تک نہیں پہنچ پایا جہاں آج مغرب ہے حالانکہ ماضی میں اردو ادب اور ادباء نے اچھی خاصا عالمی لیول کا کام کیا مگر اب فقدان ۔۔

جواب ۔۔ اس کی بے شمار وجوہات ہیں۔

اولین وجہ تو یہ ہے کہ اُردو ادب کا انگریزی ترجمہ کم و بیش نہ ہونے کے بر ابر ہی ہے۔ انگریزی اس وقت عالمی نوعیت کی زبان ہے اور جب تک ہمارا ادب انگریزی سمیت دیگر اہم ترین زبانوں میں ترجمہ ہو کر سامنے نہیں آ ئے گا نہ تو ہمارے ادب اور نہ ہی ادیب کی کوئی پہچان بن سکے گی۔

دوسری بات: ہمارے یہاں کون سا شبعہ ہے جس  کا معیار عالمی سطح پر بلند قرار دیا جا سکتا ہے (ماسواَئے کرپشن کے) تو ادب بھی اُسی معاشرے کا حصہ ہے جہاں دیگر تمام شبعہ جات تنزلی کا شکار ہیں سو یہ سارے شبعہ جات باہم مربوط ہیں۔صرف ادب سے یہ امید رکھنا عبث ہے کہ عالمی سطح پر جا کر ازخود خود منوا لے گا۔۔

سوال ۔۔۔۔ آپکی نظر میں ماضی و حال کے دو نام بطور بہترین افسانہ نگار  اور ناول نگار ۔۔ کس وجہ سے ۔۔

جواب ۔۔ ماضی میں بھی بے شمار تھے اور اب بھی کئی ہیں۔ میں صرف اپنی ذاتی پسند و نا پسند کی بات تو ضرور کر سکتا ہوں مگر کسی طور فتوی دینے کی پوزیشن میں نہیں۔

میرے پسندیدہ ناول نگاروں میں قرہ العین حیدر، عبداللہ حسین، شوکت صدیقی۔ موجودہ دور میں مستنصر حسین تارڑ، مرزا اطہر بیگ، محمود اقبال ظفر ہاشمی اور فارس مغل۔ چند اور نام بھی ہیں جو اس وقت میرے ذہن میں نہیں آ رہے۔۔

سوال۔۔ ہمارے ہاں فن افسانہ نگاری  کا خلاء پیدا ہو گیا ہے اسکی وجہ آپ ناقدین کو مانتے ہیں یا ادباء کو ۔ ناقدین کو اسلیے کے شاید وہ آج بھی نئے ادب کو قبول کرنے میں عار زرا جھجھک محسوس کرتے ہیں یا پھر افسانہ نگار کیونکہ ہمارے ہاں موضوعات کے چناؤ میں غلطی کر بیٹھتے ہیں ایسے موضوعات جنہیں پڑھ پڑھ قاری اکتا چکا ۔ یا پھر منتخب موضوع کو نبھانے میں ادیب غلطی کر بیٹھتا ہے ۔

جواب ۔۔ سب ہی کسی نہ کسی حد تک اس کے زمہ دار ہیں۔

 جی بالکل بجا فرمایا کہ ناقدین نئے ادب اور ادیب کو قبول کرنے میں یقینا ہچکچاہٹ کا شکار ہیں۔

گو کہ اس وقت بہت سے نئے لکھنے والے بہت اچھا لکھ رہے ہیں مگر ناقدین کی سوئی ایک جگہ ہی جا کر اٹک سی گئی ہے۔ یہ بات بھی درست ہے کہ اکثر لکھنے والے یا تو نئے موضوعات کے انتخاب میں تو کبھی اُسے نبھانے میں کوتاہی کا شکار ہوتے ہیں۔ مگر ساتھ ہی اس بات کو بھی ضرور مدِ نظر رکھا جائے کہ نئے لکھنے والوں کو سینئیر اور تجربہ کار ادیبوں کا کی طرف سے راہنمائی اور حوصلہ افزائی بھی بہت ہی مشکل سے ہی حاصل ہوتی ہے ایسے میں بھی بہت سے نئے لکھنے والے کمال کا افسانہ لکھ رہے ہیں جن میں بہت سی نئی خواتین افسانہ نگار بھی شامل ہیں۔

اس حوالے سے میں یہاں فیس بک پر موجود متعدد افسانہ بزم کی تعریف ضرور کرنا چاہوں گا کہ ان کے سبب بہت سے نئے لکھنے والے سامنے آئے ہیں اور نئے لکھنے والوں کو کسی نہ کسی حد تک راہمنائی اور حوصلہ افزائی بھی میسر آ رہی ہے۔

سوال ۔۔۔ آپکی نظر میں تنقید کا مطلب اور سب سے بہترین تنقیدی کام کس کا رہا ۔

جواب ۔۔ دراصل ہمارے اس وقت تنقید جس طرح سے ہو رہی ہے اور بطورِ خاص یہاں فیس بک پر وہ کسی طور تنقد نہیں۔ میں افسانہ نگار ہوں۔ اب کسی دوست کی دعوت پر یا کسی افسانوی نشست پر شامل ہو کر کسی افسانے پر اپنی رائے دے دی تو وہ میری ذاتی رائے ہے تنقید نہیں۔

دیکھیں تنقید کی اصل غرض و غایت عصری ادب کا معیار مقرر کرتے ہوئے اُس ادب میں موجود پوشیدہ عناصر کو بے نقاب کر کے قاری کے سامنے پیش کرنا ہے۔ ساتھ ہی عصری وگذشتہ دور کے ادب کا ایک ایسا تقابلی جائزہ لینا کہ جس کے تحت ادیب اور قاری دونوں ہی یہ جان سکیں کہ موجود ادب معیار کے کس پائیدان پر براجمان ہے۔

ماضی میں ہم دیکھتے ہیں تو تنقید کے میدان میں ہمیں بڑے بڑے نام نظر آتے ہیں جیسا کہ ڈاکٹر وزیر آغا اور ممتاز شیریں وغیرہ۔ آج ہم ان ناموں کے ہم پلہ نام سے نہ ہونے کے برابر واقف ہیں۔۔

سوال ۔۔۔ مغربی ادب میں آپکی پسندیدہ شخصیات کے دو نام اور انکی تخلیقات یہ بھی بتائیں کیوں اور کس وجہ سے ۔۔

جواب ۔۔ نہایت ہی ایمانداری کے ساتھ عرض ہے کہ مغربی ادب کے حوالے سے میرا مطالعہ شاید اتنا وسیع نہیں کہ میں آپ کہ اس سوال کا تشفی بخش جواب پیش کر سکوں گا لہذا میرا خیال ہے اس سوال کو جاننے ہی دیں 🙂

سوال ۔۔ اردو ادب میں افسانچہ ۔ فلیش فکشن یا مائیکرو فکشن مطلب مختصر ترین کہانیوں کی گنجائش ہے کہ نہیں اگر ہے تو کیوں اگر نہیں تو کیوں ۔۔

جواب ۔۔ میں ذاتی طور پر تو یہ سمجھتا ہوں کہ اُردو ادب میں ہر اُس صنف کی بھرپور گنجائش ہے جسے لوگ پڑھنا اور لکھنا چاہتے ہیں۔

البتہ اتنا ضرور عرض کرنا چاہوں گا کہ ہمارا قاری پہلے ہی مطالعے سے گریزاں ہے اُسے طرح طرح سے ناموں سے کنفیوژ نہ کیا جائے تو یہ اُس کے اور خود ادب کے حق میں بہت بہتر ہے۔ افسانہ اور افسانچہ

افسانچہ مختصر کہانی اور افسانچہ مختصر ترین کہانی اللہ اللہ خیر صلہ۔۔

سوال ۔۔ زندگی سے کیا چاہتے ہیں اگر مل گیا ہے تو مزید خواہش ۔۔

جواب ۔۔ زندگی سے کبھی بہت کچھ نہیں چاہا۔ مگر اُس رحمن و رحیم نے مجھے میری توقعات سے کہیں بڑھ کر نوازا ہے۔ جس کے لیے میں اس عظیم ذات کا جتنا بھی شکر ادا کروں کم ہے۔ شکر الحمد اللہ۔۔

سوال ۔۔ محبت کی اہمیت اور مفہوم آپکی نظر میں ۔۔ آپکو کبھی محبت ہوئی ۔۔

جواب ۔۔ محبت کا مفہوم: رانحھا کردی کردی آپے رانجھا ہوئی

محبت کی اہمیت: خدا نے اگر دنیا میں محبت نہ رکھی ہوتی تو پھر یہ دنیا اُس گلاب کے پھول کی مانند ہوتی جس میں خوشبو ہی نہ ہو۔

جی بالکل محبت ہوئی اور جس سے ہوئی اور پھر شادی بھی انہی سے ہوئی 🙂

سوال ۔۔۔ اپنی نجی زندگی مطلب فیملی سے وابستہ دلچسب خوبصورت اور انمول واقعہ ۔۔

جواب ۔۔ واقعات تو بہت سارے ہیں ماشاءاللہ مگر اس وقت کوئی خاص واقعہ یاد نہیں آ رہا۔

سوال ۔۔ آپکی شخصیت چند ایسے پہلو جو عام لوگوں کی نظروں سے اوجھل رہے ہمیشہ ۔۔

جواب ۔۔ اپنے لڑکپن اور نوجوانی میں میری یہ شدید خواہش تھی کہ میں فلم ہدایتکار بنوں۔ ویسے بھی مجھے فلمیں دیکھنے کا بے پناہ شوق ہے۔ سو جو فلم پسند آتی اُسے اس نیت سے درجنوں بار دیکھتا کہ میں ہدایتکاری سکیھ سکوں۔ حالات نے مجھے پاکستانی فلموں کے نامور ہدایتکار محمد جاوید فاضل سے کراچی میں اُس وقت ملوایا جب وہ لاہور سے کراچی شفٹ ہوچکے تھے اور ٹی وی ڈرامے بنا رہے تھے۔ میری اُن سے اکثر ہفت روزہ نگار دفتر میں ملاقات ہوتی۔ ہم اُن کی فلموں پر دیر گئے تک بات چیت کرتے رہتے۔ اُنہیں میں نے اپنی لڑکپن کی خواہش بارے بھی بتایا تھا اور یہ بھی بتایا کہ میں اس وجہ سے اُن کی فلمیں صرف سیکھنے کی نیت سے درجنوں بار دیکھ چکا ہوں۔ ایک روز میں اور مرحوم کراچی آڑٹس کونسل کے ایک پروگرام میں شریک تھے۔ ہم دونوں ہی وقت سے پہلے آ گئے تھے تو پھر وہی گفتگو کا سلسلہ چل نکلا۔ انہوں نے بتایا کہ جلد ہی وہ ایک نئی ڈرامہ سیریل کا آغاز کر رہے ہیں اور اگر میں چاہوں تو اُنہیں بطور اسسٹنٹ جوائن کر سکتا ہوں۔ میری تو خوشی کی انہتا نہ رہی۔ ان دنوں میں اپنے امریکی ورک ویزا کا انتظار کر رہا تھا جس کا انٹرویو میں اسلام آباد میں کوئی دو ماہ قبل دے آیا تھا اور ویزا ملنے کی کوئی خاص امید نہ تھی۔ اس واقعے کے بعد ایک روز میرا ویزا آ گیا اور میں امریکا روانہ ہوگیا۔ سو میرا خواب بس خواب ہی رہ گیا۔ 🙂

سوال ۔۔ اپنے فالورز قارئین اور ادباء کے لیے پیغام ۔۔۔

جواب ۔۔ گو کہ میرے فالورز کچھ خاص تو نہیں البتہ بس اتنا عرض کرنا چاہوں گا کہ اس وطن کی قدر کریں اس کے لیے خلوص دل و نیت سے کام کریں اور اس کی ترقی میں اپنا حصہ ضرور ڈالیں۔

ادبا کے نام ضرف اتنا پیغام ہے کہ جب تک ہم آپس میں متحد نہ ہوں گے پبلشر مافیا ہمارا خون یونہی چوستے رہیں گے۔۔

محمدزبیرمظہرپنوار

اردو لکھاری ڈاٹ کام اور میرے لیے کوئی خصوصی پیغام اگر دینا چاہیں تو ۔۔

امین صدر الدین بھایانی ۔

امجد جاوید بھائی نے اُردو لکھاری ڈاٹ کام کی جو بنیاد ڈالی ہے میں اس کے لیے انہیں مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ ساتھ پنوار بھائی آپ سے یہ کہنا چاہوں گا کہ آپ جس تند دہی سے ادبی کام کے ساتھ ساتھ ادبا کے انٹریوز کر رہے ہیں وہ بلاشبہ ایک قابلِ قدر کام ہے۔ اللہ آپ کو ہمت اور اجر عظیم فرمائے، آمین۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

سید کامی شاہ ۔۔ محمدزبیرمظہرپنوار

سید کامی شاہ ۔۔۔۔۔ انٹرویو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔  اردو لکھاری ڈاٹ کام) میزبان ۔۔ محمدزبیرمظہرپنوار  1..آپ کا اصل …

ایک تبصرہ

  1. Avatar
    ارشد عبدالحمید

    نہایت عمدہ اور بھرپور گفتگو۔جس تفصیل سے امین بھائی نے جواب دیے اس سے ان کی تخلیقی اور ادبی ترجیحات کی بخوبی وضاحت ہوئی۔جواب اس لیے بھی اچھے تھے کہ سوال اچھے تھے۔میں نے امین بھائی کے چند افسانے پڑھے ہیں اوروتبصرے بھی۔واقعی ادب سے ان کا شغف گہرا اور قلبی ہے۔
    بہت خوب۔بہت شکریہ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے