سر ورق / مزاحیہ شاعری / اس ہفتے کی مزاحیہ شاعری۔۔۔ نوید ظفر کیانی

اس ہفتے کی مزاحیہ شاعری۔۔۔ نوید ظفر کیانی

کھانے کو مرے گھر میں الگ خاک نہیں ہے

اور جسم پہ مہنگائی میں پوشاک نہیں ہے

رشوت سے سبھی کام بنے جاتے ہیں بھیا!

اس دیس میں یہ کام شرمناک نہیں ہے

بیگم نے دبایا ہے بڑی شان سے اس کو

اس دور میں شوہر کی کوئی دھاک نہیں ہے

فیشن بھی کرو خوب مگر دھیان میں رکھنا

یہ اپنا وطن ہے کوئی بینکاک نہیں ہے

مہمان جو بننا ہے تو آ جاﺅ خوشی سے

کھانے کو مگر دال تو ہے کاک نہیں ہے

اک وہ ہے کہ ٹوتھ پیسٹ سے دانتوں کو ہے مانجھے

اک ہم ہیں ہمارے لیے مسواک نہیں ہے

دولت ہے فقط لیڈرِ جانباز کی میراث

لیڈر نہیں جو صاحبِ املاک نہیں ہے

خاوری

سیلفیاں چور کے انداز میں فلمانے کا

شکریہ! آپ کا یوں ساتھ نظر آنے کا

 ڈیوٹیاں خوب نبھاتا ہے بڑ ی بیگم کی

نیک شوہر بھی سپاہی ہے کسی تھانے کا

 دال کھانے سے طبیعت میں گرانی سی ہے

آج پھر موڈ ہے پی سی میں ڈنر کھانے کا

 خوب پردہ ہے کہ ہاتھوں کو چھپا رکھا ہے

جینز پہ جچتا ہے فیشن ترے دستانے کا

 شاپ کیپر نے جو شوکیس میں لا رکھا ہے

وہ سٹیچو ہے مرے دل کے صنم خانے کا

 جا بجا شہر میں قائم ہیں سموکنگ سنٹر

یہ نیا دور ہے شیشے کو بھی چلمانے کا

جس کو تم خاص تغافل کی ادا کہتے ہو

وہ تو انداز ہے گل خان کے شرمانے کا

یہ تری آخری ٹکر ہے گلی کے بکرے

عید کا دن ہے تجھے پیٹ میں ڈکرانے کا

ہاشم علی خان ہمدم

بہ فیضِ رکشہ پہنچ تو گیا سٹیشن پر

لگا ہوا ہے بدن سارا وائبریشن پر

وہ میرے شوقِ سخن سے خفا نہیں ہوتی

میں اعتراض نہیں کرتا اُس کے فیشن پر

طعام اس کے بھی گھنٹوں کے بعد ملتا ہے

پرنٹ ہوتا ہے جو وقت انویٹیشن پر

وہ چار بیویاں اک گھر میں لے کے بیٹھا ہے

زمانہ گنگ ہے اس آدمی کے پیشن پر

لو! نون ہارگیا ، پی ٹی آئی جیت گئی

مگر پڑے گا کہاں فرق کوئی نیشن پر

معاملات کیے جارہے ہیں طے سارے

سوال اٹھے گا کراچی میں آپریشن پر

کوئی محکمہ نہ جاہل وزیر کو بھایا

سو اس نے ہاتھ رکھا جا کے ایجوکیشن پر

نوید صدیقی

گر وہی اور نہیں اور نہیں اور نہیں

پھر کوئی اور نہیں اور نہیں اور نہیں

مجھ کو تاریکی کی عادت ہے شب فرقت میں

روشنی اور نہیں اور نہیں اور نہیں

چل چکی تیری بہت دل پہ حکومت میرے

اب تری اور نہیں اور نہیں اور نہیں

ساقیا! درد سے پھٹ جاے گا سینہ میرا

گر ملی اور نہیں اور نہیں اور نہیں

بے زبانی نے گلا گھونٹ کے رکھا تھا میرا

خامشی اور نہیں اور نہیں اور نہیں

توڑنا ہے تو ابھی توڑ دو زنجیروں کو

بے بسی اور نہیں اور نہیں اور نہیں

جس قدر جان لیا تم کو وہی کافی ہے

آگہی اور نہیں اور نہیں اور نہیں

غضنفر علی

اِس صدی میں یہ کیسا وبال آگیا

ماہ گزرے نہیں اور سال آگیا

دودھ کی نہر کا جب سوال آ گیا

میں بھی ہاتھوں میں لے کر کدال آگیا

سارے روزے رکھے کے رکھے رہ گئے

سامنے جب وہ رُوئے ہلال آگیا

رکھ کے دس بیس کاندھوں پہ بندوق پھر

کوئی میداں میں مردِ کمال آگیا

جانے کیسی سواری رکھی تھی وہاں

بند کمرے میں بابا کو حال آ گیا

یہ بڑھاپے میں جوشِ جوانی غضب

کیسے باسی کڑھی میں اُبال آ گیا

آج کے عشق کی دین ایسی بھی ہے

مہندی سوکھی نہیں ، نونہال آ گیا

اُس کو جاگیر کیا مفت میں مل گئی

مُردو صورت پہ رنگِ جلال آ گیا

ہے مجاز ایک گنجے کی یہ ٹینشن

کس طرح اُس کے شیشے میں بال آ گیا

نیاز احمد مجاز انصاری

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

اس ہفتے کے منظوم قہقہے۔۔۔ نوید ظفر کیانی

      مفلسی کے دور میں کھایا جو اک گھر کا نمک عمر اس …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے