سر ورق / کہانی / غلط فہمی ۔۔۔۔ یاسین صدیق

غلط فہمی ۔۔۔۔ یاسین صدیق

غلط فہمی !
یاسین صدیق
گھر آ کر سلمی نے قیامت اٹھا دی۔ایک قیامت شازیہ کے گھر میں اٹھ کھڑی ہوئی تھی ۔اس کا مجھے بعد میں پتہ چلا ۔ایک طرف میں سلمی کو اور اپنے گھر والوں کو اپنی پاک دامنی کی اور دوسری طرف شازیہ اپنے سسرال میں اپنی بے گناہی کا یقین دلانے کے لیے قسمیں اٹھا رہی تھی ۔ مجھے سلمیٰ سے یہ امید نہ تھی کہ وہ ایسا رویہ رکھے گی ۔شام ہونے تک سلمی نے گھر میں لڑائی جھگڑے کا طوفان اٹھا دیا ۔میں اس کے اس سوال کا جواب نہیں دے سکا اسے مطمئن نہیں کر سکا کہ ندیم کے بیٹے کی شکل و صورت مجھ پر کیوں گئی ہے ؟۔ایک رتی برابر فرق کیوں نہیں ہے؟ ۔وہی چہرے پر نشان زخم ،وہی ناک پر تل کا نشان ،وہی بائیں ہاتھ کی چھ انگلیاں ۔ مجھ سے غلطی یہ ہوئی تھی کہ میں نے شادی کے بعد سلمی کو شازیہ سے اپنی خاموش محبت کا راز بتا دیا تھا ۔سلمی نے اتنی بکواس کی ،اتنی زبان درازی کی کہ مجھے غصہ آ گیا۔میں نے چیختے ہوئے کہا
”بکواس بند کرو ذلیل عورت ۔اب بولی تو گلا دبا دوں گا “
”ہاں ۔ہاں دبا دو میرا گلا ۔اس حرافہ کا نہ دبانا ۔جس نے چند چڑھایا ہے “اس نے مجھ سے بھی بلند آواز سے کہا ۔
اس کی یہ بات سن کر میرے تن بدن میں آگ لگ گئی ۔میں اٹھا اور دو تین تھپڑ اس کے جڑ دئیے ۔ہمارا شور سن کر سارا گھر جمع ہو گیا ۔سب مجھ سے خفا ہونے لگے ۔سلمی کی ضد دیکھ کرمیں نے اپنے بھائی سلمان کو اس کے ساتھ بھیج دیاکہ وہ اسے میکے چھوڑ آئے۔آج اس نے میری والدہ کی بھی نہ سنی تھی ۔اس پر دکھ یہ کہ وہ بضد تھی کہ جو اس نے کہا ہے وہ سچ ہے۔
شازیہ کی شادی کے دو ماہ بعد میں ایک مرتبہ ان کے گھر گیا تھا اور تین چار گھنٹوں کے بعد واپس آگیا تھا۔ندیم گھر میں نہیں تھا۔ شازیہ کی ساس صرف ایک مرتبہ کمرے میں ظہر کی نمازپڑھنے گئی تھی۔ یہ سب باتیں سلمیٰ نے غصے کے عالم میں مجھے بتائیں تھیں۔ وہ عورتوں میں رہی تھی۔ شازیہ کے گھر اور اس نے شازیہ کی ساس وغیرہ کو باتیں کرتے دیکھا تھا۔ سنا تھا۔اورنتیجہ اخذ کیا تھا کہ ”ہم گناگارہیں“
سلمیٰ کو گھر گئے ہوئے چوتھادن تھا ۔جب مجھے خبر ملی کہ شازیہ کو طلاق ہو گئی ہے ۔مجھے یہ خالہ رشیدہ نے ٹیلی فون کر کے بتائی ۔ساتھ ہی وہ روتی جاتی جاتی تھی ۔ان دنوں پی ٹی سی ایل کا فون ہوتا تھا ۔ابھی تک موبائل کا زمانہ نہیں آیا تھا ۔ خالہ کے گھر ٹیلی فون تھا اور میری دکان پر تھا ۔اس سے پہلے بھی میں ہر ہفتے خالہ سے مختصر بات کر لیا کرتا تھا ۔آج خالہ کا فون آیا تھا وہ بتا رہی تھیں ”شازیہ اپنے بیٹے سکندر کو میرا ہم شکل کیوں ہے کی وجہ نہ بتا سکی تھی“
ہم دونوں گناہ گار نہ تھے مگر بنا دیئے گئے تھے۔خالہ نے بتایا ”جب شازیہ پر یہ الزام لگایا گیا تو وہ چیخی تھی، چلائی تھی، پاگل ہو گئی تھی اسی حالت میں ندیم نے اسے طلاق دے دی“ مرد اپنی عورت کی بے حیائی کو برداشت نہیں کر سکتا ہے اور یہاں تم سب ہی ہمارے خلاف تھے ہم نے جو وقت ایک ساتھ گزارہ تھاوہ اس بات کو ثابت کرنے کیلئے کافی تھا ۔پھر نسیم اختر نے بھی کہا تھا کہ رخسانہ اور امجد کی شادی والے دن ہم سارا دن ایک کمرے میں رہے تھے۔ حتی کہ میری بہن بھی میرے خلاف تھی۔اور شازیہ کے بھائی بھی شک کی نگاہوں سے دیکھتے تھے ۔ اس طرح ہماری سچائی کا یقین صرف اور صرف مجھے تھا اور شازیہ کو تھا۔امی جان ،ابو جان ، شازیہ کی والدہ ،والد ،اکمل اس معاملے میں بالکل خاموش تھے ۔
ایک غلط فہمی نے چار گھر برباد کر دئیے تھے ۔کہتے ہیں شک شیطان کا سب سے بڑا ہتھیار ہے ۔یہ شک غلط فہمی سے جنم لیتا ہے ۔
٭٭٭٭
میرا نام سکندر علی ہے ۔میٹرک کا امتحان میں نے 1986 میں دیا تھا ۔اس سے ایک سال قبل میری سب سے چھوٹی خالہ رشیدہ کی شادی ہوئی تھی ۔خالہ رشیدہ مجھ سے عمر میں چھ سات سال بڑی تھی ۔میں والدین کا پہلوٹھی کا بیٹا تھا ۔جب میں پیدا ہوا تو ان دنوں خالہ ہمارے ہی گھر میں رہتی تھیں ۔میں نے جب اس دنیا میں آنکھ کھولی تو شائد انہیں ہی سب سے پہلے دیکھا تھا ۔یوں میں کہہ سکتا ہوں کہ مجھے سب سے پہلے پیار کرنے والی خالہ رشیدہ ہی تھیں ۔بچپن میں وہ مجھے اٹھائے اٹھائے پھرتیں تھیں ۔سارا سارا دن مجھ سے کھیلتی رہتی ۔انہیں مجھ سے اورمجھے بھی ان سے بہت محبت تھی ۔ان کی گود میں جا کر چپ ہو جاتا ۔بڑے بتاتے ہیں کہ خالہ مجھ سے باتیں کرتی تو میں بھی” ہوں ہاں“ کیا کرتا تھا ۔جیسے ان کی بات سمجھ رہا ہوں ۔جب میں چھ سال کا ہوا تو خالہ اپنے گھر چلی گئیں ۔انہوں نے پانچ جماعتیں ہمارے گھر میں ہی پڑھی تھیں ۔قرآن پڑھا تھا ۔وہ ہمارے گھر چھ سال رہیں تھیں ۔جب میں دو سال کا ہوا توانہوں نے مجھے کلمہ پڑھایا تھا ۔تین سال کا ہوا تو وہ اپنے ساتھ سکول لے جاتیں ۔خود کم پڑھتی مجھے زیادہ پڑھاتیں ۔میں جب چھ سال کا ہوا تو ابو مجھے لے کر سکول لے گئے ۔ماسٹر صاحب نے میرا ٹیسٹ لیا تو بہت خوش ہوا۔میں پانچویں کی اردو کی کتاب پڑھ سکتا تھا ۔پہاڑے ،گنتی ،نظمیں مجھے زبانی یاد تھیں ۔پہلے دن ہی میں نے ماسٹر صاحب کو بلبل کا بچہ سنایاتھا ۔مجھے اول کلاس میں داخلہ ملا۔کچی پکی(نرسری پریپ) پڑھنی نہیں پڑھی تھی ۔میں آج بھی سوچتا ہوں تو میری زندگی کا سب سے پہلا غم خالہ کی جدائی کا تھا ۔دو ظلم میرے ساتھ ایک ساتھ ہوئے ۔اول خالہ کا واپس اپنے گھر چلے جانا دوسرا میرا سکول میں داخلہ ہونا۔
جب خالہ کی شادی ہوئی میں کلاس نہم کا طالب علم تھا ۔ان کی شادی خالو اکمل سے ہوئی ۔جو بہت نفیس انسان تھے ۔لاہور میں انار کلی میںان کی کپڑے کی دکان تھی ۔اور بلال گنج میں ان کا مکان تھا ۔میٹرک کا امتحان دینے کے بعد میں فری تھا ۔رزلٹ آنے میں دیر تھی ۔میں اپنی نانی سے ملنے ان کے گاوں چک 92 چلا گیا۔ میری خوش قسمتی تھی کہ خالہ وہاں آئی ہوئیں تھیں ۔مجھے بہت خوشی ہوئی ۔
مجھے وہاں گئے ہوئے تیسرا دن تھا جب اللہ تعالی نے خالہ کو چاند سی بیٹی دی ۔اسی شام خالو اکمل لاہور سے اپنی بیٹی دیکھنے گاوں آئے ۔
اور ایک دن رہ کر واپس لاہور چلے گئے تھے ۔جاتے ہوئے خالہ سے کہہ گئے کہ ”سکندر کو اپنے ساتھ ہی لے آنا لاہور اس کو چھٹیاں ہیں سکول سے ،لاہور دیکھ لے گا “ میں نے اپنے گھر امی ،ابو کو پیغام بھیج دیا کہ میں خالہ کے ساتھ لاہور جا رہا ہوں ۔دو ماہ بعد واپس آجاوں گا ۔تب تک میرا رزلٹ بھی آ جائے گا ۔ایک ماہ دس دن ہم نانی جان کے گاوں رہے ۔اس کے بعد لاہور جانے کی تیار شروع کر دی ۔
زندگی میں پہلی مرتبہ میں اپنے گاوں سے اپنے شہر پیر محل سے نانی کے گاوں چک92 جہلم اور وہاں سے لاہور گیا تھا ۔
٭٭٭٭
میں اور خالہ ننھی آمنہ کو لیے تقریبا دن کے دو بجے بلال گنج پہنچے ۔موسم بڑا خوشگوار تھا ۔میرے اندر کا موسم بھی بڑاسہانا تھا ۔خالہ کا گھر کیا تھا ایک کوٹھی تھی ۔گھنٹی بجانے پر ایک بارہ سالہ لڑکے نے گیٹ کھولا ہم اندر داخل ہوئے تو ایک پندرہ سولہ سال کی لڑکی سامنے بنے کمروں میں سے ایک سے بھاگتی ہوئی نکلی۔ پہلے خالہ سے لپٹی،اس کے انگ انگ سے خوشیاں ٹپک رہی تھیں ،ننھی آمنہ کو مجھ سے زبردستی پکڑا اور لگی چومنے ۔جس وقت وہ آمنہ کو مجھ سے پکڑرہی تھی تو میرے ہاتھ کی پشت اس کے جسم سے ایسے ٹکرائی کہ میرے جسم میں ایک کرنٹ کی لہر سرایت کر گئی ۔پورے بدن میں ایک سسرسراہٹ پھیل گئی ،میں جھرجھری لے کر رہ گیا ۔اس حادثے کا اس کو احساس ہوا ۔ اس کا سانولا چہرہ مزید سانولا ہوگیا تھا ۔اور آنکھوں میں شرم کے رنگ بکھر گئے تھے ۔
کمروں کی طرف بڑھتے ہوئے خالہ نے میرا تعارف اس سے کروایا ۔”سکندر میری بہن کا بڑا بیٹا “ اور خالہ مجھ سے مخاطب ہوئیں ”شازیہ میرے جیٹھ مجید کی بیٹی “ پھر خالہ ہم دونوں سے مخاطب ہوئی ” آپ دنوں ہم کلاس ہیں “ اس وقت شازیہ نے اپنے بائیں ہاتھ سے ننھی آمنہ کو اٹھائے ہوئے مجھ سے ہاتھ ملانے کے لیے میرے سامنے اپنا ہاتھ پھیلا دیا ۔میں حیران ،پریشان ،شرمایا سا کافی دیر تک اسے دیکھتا رہ گیاتھا ۔اس سے قبل میں نے کبھی کسی لڑکی سے ہاتھ نہیں ملایا تھا ۔جب وہ چہرے پر حیرت سمیٹے اپنا ہاتھ واپس کرنے ہی والی تھی میں نے اس کی مسکراتی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے اس کا نرم ونازک ہاتھ تھام لیاتھا ۔اس لمس کو میں اس نرمی گرمی کو اس نازکی کو میں آج تک نہیں بھول پایا ہوں ۔یہ لمس کیا ہے ؟ہم سب کے جسم کے اندر ایک برقی رو کام کرتی ہے ۔جب دو اجسام جو مثبت اور منفی ایک دوسرے سے مس ہوں تو اسپارکنگ ہوتی ہے ۔یہ اسپارکنگ لمس کہلاتی ہے ۔بعض اوقات یہ باعث لذت و تسکین بھی ہوتی ہے جس کا تعلق جنس مخالف سے ہوتاہے ۔مجھے اس کے ہاتھ کے لمس سے ملنے والی راحت و تسکین نے ایک نشہ کی کیفیت طاری کر دی ۔اس دوران خالہ ہم سے آگے بڑھ گئی تھی ۔میں لان میں اس کا ہاتھ تھامے کھڑا تھا ۔ایک دو لمحے ایسے گزر گئے میں نے اس کا ہاتھ تھاما تو تھامے رہا ۔اس نے ہلکا سا زور لگا کر میرے ہاتھ سے اپنا ہاتھ چھڑایا تھا ۔
یہ بیس مرلے کا کوٹھی نما دومنزلہ مکان تھا ۔دوکمرے ایک طرف اور دو کمرے دوسری طرف بنے تھے۔ درمیان میں برآمدہ تھا ۔کمروں کے سامنے گھاس لگا کر لان بنایا گیا تھا ۔گیٹ کے دونوں طرف دو ڈرائنگ روم تھے ۔گیٹ سے برآمدے تک سولنگ کی سڑک بنی ہوئی تھی ۔ ۔دوسری منزل پر صرف دو کمرے تھے اور کھلی چھت تھی ۔یہاں دو گھر تھے ایک میں انکل مجید اور دوسرے میں انکل اکمل۔بے شک وہ ایک ہی گھر میں رہتے تھے لیکن الگ الگ رہائش تھی ۔انکل مجید کی بیوی کا نام زبیدہ تھا ۔ان کے چار بچے تھے ۔سب سے بڑی شاذیہ ،اس سے چھوٹاجاوید چوددہ سال کاتھا ،بارہ سال کی لبنی ٰاور ساجد کی عمر پانچ سال ہوگئی ۔شام تک یہ سب میرے دوست بن گئے ۔ شازیہ میری نہ صرف میری ہم کلاس تھی بلکہ ہم قد ،ہم عمر ،ہم رنگ بھی تھی ۔چند دن بعد مجھے شدت سے احساس ہوا کہ میری ہم خیال بھی ہے ۔وہ میری طرح مطالعہ،موسیقی ، اور کھیل کی شوقین تو تھی ہی مذہبی کتابیں پڑھنا ان پر غور و فکر کرنا ایک اضافی خوبی تھی ۔مطالعہ کا شوقین انکل اکمل بھی تھے ۔ہر ماہ تین ماہنامے خریدا کرتے ۔گھر میں ان کا کمرہ الگ تھا جس میں کتابیں زیادہ سامان کم تھا ۔شازیہ انہی کے کمرے سے رسائل چرا کر پڑھا کرتی تھی ۔اب ہم دو چور ہو گئے تھے ۔دوسرے دن صبح ٓآٹھ بجے انکل اکمل مجھے اپنے ساتھ بائیک پربٹھا کر داتا دربار لے گئے ۔وہاں سے ہم انار کلی گئے جہاں ان کی کپڑے کی دکان تھی ۔ملازم ہمارے بعد آئے ۔گیارہ بجے میں نے انکل سے اجازت لی اور انار کلی کو گھوم کر دیکھا ۔چلتا ہوا اردو بازار ،بھاٹی گیٹ ،داتا دربار آ گیا ۔وہاں سے تانگے پر بیٹھ کر واپس انار کلی گیا ۔ان دنوں رکشوں کی اتنی بھر مار نہیں ہوئی تھی ابھی ۔زیادہ تانگہ گھوڑا سواری کے لیے استعمال ہوتا تھا ۔یہ 1988 کی بات ہے ۔ان دنوں ایک دوسرے کو خط لکھے جاتے تھے ۔ٹیلی فون کا بھی اتنا رواج نہیں تھا ۔میں نے اردو بازار سےخط کے ایک درجن لفافے خرید لیے تھے ۔ڈاک خانہ میں نے صبح ہی دیکھ لیا تھا بلال گنج میں ۔اس شام شازیہ اور میں نے مل کر گھر خط لکھا ۔وہ مجھے میرے بہن بھائیوں کا پوچھتی رہی ۔یہ ایسا دور نہیں تھا کہ بچوں پر شک نہیں کیا جاتا تھا ۔اب تو جوان اولاد کا ایک دوسرے سے یوں کھلے عام ملنا ممکن ہی نہیں ہے ۔اس کی وجہ ہمارے ذرائع ابلاغ بھی ہیں ۔پرائیویٹ اور غیر ملکی چینل ہیں ۔اب بچے بہت جلد عشق و محبت کو سمجھ جاتے ہیں ۔عورت و مرد کے تعلق کو جان جاتے ہیں ۔اظہار کرنے میں بھی شرم و جھجھک محسوس نہیں کرتے ۔بلکہ گرل فرینڈ بنانے اور بننے کو فیشن کے طور پر لیتے ہیں ۔لیکن ہمارا دور ایسا نہیں تھا ۔بڑے اعتبار کرتے تھے تو بچے بہت کم اعتماد کو ٹھیس پہنچاتے تھے ۔
مجھے لاہور میں آئے ہوئے چھ دن گزر گئے تھے ۔اس دوران میں شازیہ کی والدہ ،والد،بہن بھائیوں کا دل جیت چکا تھا ۔لیکن ابھی تک لاہور کی سیر نہ کر سکا تھا ۔جیسے خواب دیکھ کے آیا تھا ۔یہاں سب اپنے اپنے کام میں مصروف تھے ۔آخر میں نے خالہ سے بات کی انہوں نے انکل سے یوں جمعةالمبارک کو سیر پر جانے کا پروگرام بنا۔انکل اکمل نے مجھے انار کلی داتا دربار دیکھایا تھا ۔یہ چھ دن میں نے،آمنہ سے کھیلتے ، عمران سیریز ،رسائل پڑھتے ہوئے گزارے تھے ۔
شام کے سائے پھیل رہے تھے ۔میں ڈرائنگ روم میں ٹیپ ریکارڈ پر لتا کا سدا بہار گانا ”جانا نہ دل سے دور آنکھوں سے دور جا کے “سن رہا تھا ۔میں جب سے آیا تھا ڈرائنگ روم کو مسکن بنا لیا تھا ۔شازیہ کمرے میں داخل ہوئی ۔ مجھے سلام کیا ۔گانے کے آخری بول چل رہے تھے ۔کہنے لگی ”اس گانے کو دوبارہ لگائیں “
میں نے اس گانے کو دوبارہ لگا دیا ۔وہ میرے پاس ہی بیٹھ گئی۔ ہم نے خاموشی سے مکمل گانا سنا ۔گانے کے اختتام پر اس نے ہاتھ بڑھا کر ٹیپ ریکارڈ بند کر دیا اور مجھ سے مخاطب ہوئی ۔اس کے لہجے میں کپکپاہٹ واضح طور پر میںنے محسوس کی ”سکندر ایک بات کہوں “
”جی دو باتیں کہیں “میںنے خوش دلی سے کہا
”نہیں صرف ایک بات “اس کے لہجے میں جانے کیا تھا میں نے پریشان ہو کر اسے دیکھا ۔اس نے ایک لمحہ میری آنکھوں میں دیکھا ۔دونوں کی نظریں ملیں ۔اس نے نظروں کو جھکا کر کہا
۔میرے دوست بن جاو ،پکے دوست “
یہ کہتے ہوئے اس نے اپنا ہاتھ میرے سامنے پھیلا دیا ۔اس کی آنکھوں میں دوستی کی چمک اورالتجاکے رنگ تھے ۔میں نے گرم جوشی سے اس کا نرم و گرم ہاتھ تھام لیا ۔اس کے ہاتھ پیں پسینہ آیا ہوا تھا ۔سانس ایسے پھولی تھی جیسے بھاگ کر آ ئی ہو ۔میرے دل کے دھڑکنے کی رفتار بھی بڑھ گئی تھی ۔آج اس نے بڑی دیر تک اپنا ہاتھ میرے ہاتھ میں رہنے دیا ۔ہم نے زبان ہلائے بناں ڈھیروں باتیں کیں ۔کچھ بھی نہ کہا اور سب کچھ کہ بھی گئے ۔کچھ کہتے کہتے رہ بھی گئے ۔شازیہ عام سے نک سک کی عام سی لڑکی تھی ۔موٹاپے کی جانب مائل جسم ،سانولی رنگت ۔میں کون سا گلفام تھا ،جو نخرہ کرتا ۔میرے ماتھے پر زخم کا نشان تھا ۔جو بچپن کی چوٹ کی یادگار تھا ۔جس نے پورے چہرے کو کسی حد تک بد نما بنا دیا تھا ۔رنگت میری بھی سانولی ہی تھی ۔ہماری دوستی بھی کند ہم جنس باہم پرواز کے اصول کے عین مطابق ہوئی تھی ۔دوستی ہوئی تو ہم نے مقابلے میں تیز ترین کہانیاں پڑھنے ،شعر یاد کرنے ،سنانے کے مقابلے کرنے لگے ۔خالہ ،آنٹی زبیدہ ،جاوید وغیرہ اس میں شامل ہوتے ہم لڈو کھیلتے ،رسی کودتے ۔مل کر موسیقی سنتے ۔ایک بات ہم میں مختلف تھی شازیہ کی آواز بہت اچھی تھی ۔شام کو ان کے گھر کے لان میں ہم بیٹھ جاتے۔ وہ کوئی نغمہ کوئی غزل سناتی گھر میں پرانی موسیقی کے ہی کیسٹ تھے اس لیے ایسے ہی نغمے اسے یاد تھے ۔”میں دور چلا جاواں گا جدوں ۔۔اپنے بیگانے ڈھونڈن گے ۔اج مینوں دیوانے کہندے نے ۔۔کل ایہے دیوانے ڈھونڈن گے“۔
شازیہ کبھی کراٹے کی تعلیم بھی حاصل کرتی رہی تھی ۔گرین بیلٹ تھی ۔کبھی کبھی وہ مجھ سے جنگ بھی کیا کرتی تھی اور ہمیشہ ایک دو ککس لگادیا کرتی تھی©۔وہ بھی ایک ایسا ہی دن تھا۔ ساجد،جاوید، لبنیٰ،خالہ رشیدہ،آنٹی زبیدہ تماشائی تھے اور ہم ©©©© ”تماشا“ یہ مناظر جنگ چھت پر ہو رہے تھے ۔شام کے سات بجے کا وقت تھا یعنی مغرب کے بعد کا کہ شازیہ اور میری جنگ ہو رہی تھی۔ اب تک وہ چھ گھونسے اور اتنی ہی ککس بندہ ناچیز کے رسید کر چکی تھی۔ میں غصے سے بھرا ہوا تھا۔ مگر وہ ہاتھ نہ آرہی تھی۔اب یوں ہی اس نے کک ماری میرے ہاتھ میں پاﺅں آگیا ۔پھر کیا تھا میں اس کے اوپر چڑھ گیا ۔ ساری کسر پوری کر دی۔ میرا ایک گھونسا تو کچھ زیادہ ہی جان لیوا تھا۔ پھر آنٹی جمیلہ اور رشیدہ نے اسے میرے نیچے سے نکالا تھا۔ وہ تھی تو نرم نازک مگر پھر پتلی بہت تھی۔اب جو اٹھی تو اتنی مار کھانے کے باوجود مسکرا رہی تھی۔ دراصل میں سچ مچ غصے میں آگیا تھا۔ مجھ سے توہین برداشت نہ ہو رہی تھی۔ اسے مسکراتا دیکھ کر میں مسکر دیا ۔دل ہی دل میںاس کی ہمت، برادشت کو داد دی۔”دی آرفرینڈ“ اس نے کہا۔
مجھے شرمندگی ہوئی کھیل میں مجھے اتنا غصے میں نہیں آنا چاہئے تھا ۔ میں نے معذرت کی تو وہ ناراض ہو گئی ۔
”سکندر ایسا ہو جاتا ہے ۔اب شرمندہ ہو کر مجھے شرمندہ نہ کریں “ اس واقعے نے میرے دل میںاس کی مزید قدر بڑھا دی ۔رات خالہ رشیدہ نے مجھے اچھی خاصی جھاڑ بھی پلائی تھی۔”کچھ خیال کر لیتے آخر لڑکی ہے وہ ۔وہ تو خیر اس کی ماں برداشت کر گئی ۔جیسے تم اس کے اوپر چڑھ بیٹھے تھے ۔تم کو شرم نہیں آئی ۔اور جو مکا تم نے اس کے مارا ۔ایک لمحہ کو تو وہ بے ہوش ہی ہو گئی تھی ۔“ میں سر جھکا کر سب سنتا رہا ۔اب میرے اندر دکھ کی ایک لہر اٹھی ۔خالہ سچ کہہ رہی تھی مجھے لڑائی کے وہ مناظر یاد آئے تو میں شازیہ سے زیادہ اس کی ماں کی برداشت پر حیران ہوا ۔جب میں نے اس کا پاوں پکڑ کر اسے گھمایا تھا ،جب اسے پیچھے سے پکڑ کر کلٹی دی تھی تھی ،جب اوندھے منہ لٹا کر میں اس کی رانوں پر چڑھ بیٹھا تھا ۔یہ سب سوچ کر میں بہت شرمندہ ہوا ۔بے چینی بڑھ گئی ۔غلطی کی تلافی کیسے ممکن ہے ۔میں اٹھ کھڑا ہوا ۔اور اپنے کمرے میں آ گیا ۔کافی دیر سونے کی کوشش کی لیکن نیند آنکھوں سے کوسوں دور تھی ۔بڑی دیر تک میں لیٹا خود سے جنگ کرتا رہا ۔تصور میں شازیہ سے معذرت کرتا رہا میں نے سوچا صبح بیدار ہو کر شازیہ سے معافی مانگ لوں گا ۔یہ فیصلہ کر کے میں سو گیا ۔پہلے میں سویا ہی پڑا ہوتا تھا جب شازیہ آ جایا کرتی تھی ۔اس دن وہ نہیں آ ئی ۔جب انکل مجید اورانکل اکمل کام پر چلے گئے ،بچے سکول چلے گئے تو میں شازیہ کے گھر چلا گیا ۔آنٹی ملی میں نے سلام کیا ”اسلام علیکم آنٹی ۔شازیہ کہاں ہے “آنٹی نے مسکراتے ہوئے کہا ”کل تم نے جو پھانٹی لگائی ہے اس کی اس وجہ سے بخار ہو گیا ہے اسے ۔“آنٹی کے چہرے پر مسکراہٹ تھی لہجے میں شوخی میں نے حیران ہو کے انہیں دیکھا تو وہ دوبارہ گویا ہوئیں ”کوئی بات نہیں سکندر تم اتنے پریشان نہ ہو۔ایسا ہو جاتا ہے “ میں نے پوچھا ”اس وقت وہ کہاں ہے “ آنٹی نے بتایا ”اندر کمرے میں ہے “ میں جلدی سے اس کمرے کی طرف بڑھ گیا ۔شازیہ بستر میں لیٹی سو رہی تھی ۔میں نے اس کے پاس بیٹھ کر اس کا ایک ہاتھ پکڑ لیا ۔اچھا خاصا بخار تھا اسے ۔وہ اٹھ بیٹھی ۔میں نے یک دم اس کا ہاتھ چھوڑ دیا ۔”کیسی ہو شازی “ میں نے لہجے میں زمانے بھر کی ہمدردی سموتے ہوئے پوچھا ۔
”بس ہلکا سا بخار ہے ۔جسم درد کر رہا ہے “ اس نے لاپرواہی سے جواب دیا ۔”چلو پھر ہو جائے ایک فائٹ “ میں نے چھیڑا ۔”وہ تو میں آپ کے ہاتھ آ گئی تھی تو ۔۔۔“”شازیہ “میں نے اس کی بات کاٹی ۔”ہوں“ اس نے مجھے دیکھا ۔”میں سوری کرنے آیا تھا “میں نے التجائیہ لہجے میں کہا ۔”بکواس نہ کرو ۔کس چیز کی سوری “ ۔وہ چارپائی سے نیچے اتر آئی ۔میں ایک صوفے پر بیٹھ گیا ۔شیر مارکہ گولی ،چائے کا کپ اور گرم پانی سے نہانے کے بعد دوگھنٹے بعد وہ پہلے جیسی تھی۔
صبح انکل مجید شازیہ سے کہہ گیا تھا کہ سکندر کو اپنے ساتھ لے آنا2بجے کے قریب کچھ شاپنگ کرنا تھی۔جاوید ،شازیہ اور میں گیارہ بجے ہی چل پڑے تھے ۔میں نے اپنا سب سے بہترین سوٹ پہنا ہوا تھا۔ گھر سے تھوڑی دور آکے میں نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا تھا۔ ایک مرتبہ میں نے قلعہ میںایک لڑکے اور لڑکی کو ایسا چلتا ہوئے دیکھا تھا۔ وہ مجھے بہت اچھے لگے تھے۔ آج میں خود کو دنیا کا امیر ترین فرد شمار کررہا تھا۔ اس نے ایک لمحہ مجھے دیکھا تھا مسکرائی تھی اور بس۔ ہم باتیں کرتے داتا صا حب آ گئے۔ ہم نے الگ الگ فاتحہ پڑھی ۔دعائیں مانگیں اور ایک ساتھ تہہ خانے میں آ گئے۔ وہاں فرش پر بیٹھ کر ہم نے داتا علی ہجویری کی حیات زندگی اور دیگر بزرگوں کے بارے میں باتیں کرتے رہے تھے۔شازیہ نے کشف المحجوب نامی کتاب بارے بتایا ۔ابھی وہ ان کی کتاب بارے بتا رہی تھی کہ میں اٹھ کھڑا ہوا ۔”چلو سب سے پہلے یہ کتاب خریدتے ہیں “باہر آ کر ہم نے سڑک پار کی اور وہاں بنی کتابوں کی دکانوں میں سے ایک دکان پر کتاب خریدی ۔ ایک بجے ہم انکل مجید کی دکان پر تھے۔ انکل مجید نے ہم کو پیسے دے دیے اور ہم نے خریداری کی تھی۔ شام چاربجے ہم واپس آگئے تھے۔شازیہ نے مجھے ایک رومال خرید کر دیا تھا ۔ یہ پہلا مواقع تھا ہمارا ایک ساتھ باہر نکلنے کا اس کے بعد ہم روز ہی سیر کرنے نکل جاتے نہ کبھی انکل مجید نے کچھ کہا نہ ہی آنٹی زبیدہ نے بلکہ ان کو ہم دونوں پر اعتماد سا تھا۔ اور یہ اعتماد بھی سچا تھا کیونکہ ہم نے کبھی کوئی ایسی بات نہ کی تھی ۔جو ذومعنی ہو۔ دنیا جہاں کی باتیں کرتے ہمارے موضوع ،کائنات ،سائنس، اسلام، نفسیات، روحانیت، دوستی کے موضوع پر باتیں کرتے ، سب سے زیادہ مزہ چڑیا گھر اور شالیمار باغ کی سیر میں آتا تھا۔ یا داتا صاحب کے تہہ خانے میں فرش پر بیٹھ کر باتیں کرنے کا ۔ہم اس دوران ایک دوسرے کے تمام حالات، تمام خیالات اور پسند و ناپسند سے واقف ہو چکے تھے ،۔بعض اوقات ایسا ہوتا کہ وہ جب کوئی بات شروع کرنے لگتی تو وہی بات میں کہہ دیتا تھا۔ ایسی بات کبھی وہ کہہ دیتی اور میں کہنا چاہتا تھا زبردست ذہنی انڈر سٹینڈ نگ تھی ہماری ۔
جب سے ہم دوست بنے تھے ۔زندگی بدل گئی تھی ۔معمولات زندگی بدل گئے تھے ۔صبح بیدار ہونے سے لے کر سونے تک ہم ایک ساتھ رہتے ۔گھر کی صفائی سے لے کر بازار سے سودا سلف لانے تک ہم دونوں ساتھ ساتھ ہوتے ۔ڈیڑھ ماہ گزر گیا اس دوران انکل مجید ،انکل اکمل ،خالہ رشیدہ ،آنٹی زبیدہ (شازیہ کی امی) اور سب بچوں نے مل کر مجھے ہر جمعہ المبارک کو چڑیا گھر ،شالیمار،بادشاہی مسجد،ریس کورس پارک،قلعہ ،یادگار کی سیر کروائی ۔میں ہر ہفتے گھر خط لکھتا رہا ۔
بہت دھیرے دھیرے دوستی محبت میں بدلی اس کا ہم کو پتہ ہی نہ چلا ایسا کب ہوا کیسے ہوا ۔ہم نے تو اس موضوع پر کبھی بات ہی نہیں کی تھی ۔اس کا علم اس دن ہوا جس دن میں نے وہاں سے جانے کا پروگرام بنایا ۔گھر کی فضا سوگوار ہو گئی ۔سب اتنے اداس اور خاموش ہو گئے جیسے کوئی فتوگی ہو گی ہو ۔
µ¿میٹرک کے رزلٹ آنے میں ابھی ایک ماہ باقی تھا ۔شازیہ ،خالہ اور دیگر سب کہہ رہے تھے کہ مزید رک جاوں ۔ لیکن یہ میرے لیے ممکن نہیں تھا ۔دوسرے دن گھر آنے کی تیاری کر رہا تھا اس نے اس شام مجھے ”سفید پھول“ دیا تھا۔ مجھے بعد میں پتہ چلا کہ انتظار کی علامت ہے اور سفید پھول پاکیزہ محبت اور انتظار کی علامت ہے۔میں نے مسکراتے ہوئے اس سے وہ پھول لے لیا تھا اور ڈکشنری میں رکھ لیا تھا۔جو بازار سے خریدی تھی ۔ وہ آج تک اس کتاب میں پڑاہواہے۔ مجھے انکل اکمل بس تک چھوڑ گیا تھا ۔
٭٭٭٭
میں نے 597نمبر لئے تھے میٹرک میں۔ تمام گھر والوں کے کہنے کے باوجود میں نے الیکٹریشن کاکام سیکھنا شروع کر دیا ۔وجہ یہ کہ والدین غریب تھے ابو مریض تھے ”دمے“ کے اور میں یہ سب نہیں دیکھ سکتا تھا ۔ شازیہ نے فرسٹ ائیر میں داخلہ لے لیا تھا۔ ایک سال گزر گیااب میں اچھا خاصا کام کر نے لگا تھا اقبال صاحب دکان کے مالک تھے ۔وہ مجھ پر اعتماد کرتے تھے ۔یوں ان کی غیر حاضری میں دکان کے تمام امور میں ہی نپٹاتا تھا۔ایک سال بعد وہ مجھے2000 روپے ماہوار تنخواہ دینے لگے تھے ۔جو اس زمانے میں بہت ہوتے تھے ۔ اس دوران شازیہ کے مجھے بہت سے خطوط ملے تھے ۔میں نے ایک دو خط خالہ کو لکھے تھے جن میں شازیہ کو سلام ہی لکھا تھا ۔ویسے ان دونوں خطوط میں ،میں نے ایسے اشعار لکھے تھے ۔جن میں جدائی و محبت کا اظہار ہوتا تھا ۔
شازیہ نے اپنے خطوط میں دوستی کے رشتے کو محبت میں بدل دیا تھا ۔ وہ اپنے ہر خط میں مجھے مزید تعلیم حاصل کرنے کا مشورہ دیتی ،بلکہ اکساتی رہی ۔اسے میرا کام کرنا پسند نہیں آیا تھا ۔وہ چاہتی تھی میں پڑھ لکھ کر کوئی بڑا آفسر بنوں ۔وہ مجھے تعلیم حاصل کرنے کا مشورہ دیتی یاداشت بڑھانے کے آزمودہ طریقے لکھتی، حافظہ تیز کرنے کی مشقیں اور تیز ترین رفتار سے مطالعہ کرنے کے گر بتاتی ۔وہ اس غلط فہمی کا شکار تھی کہ میں اس کی محبت میں اس کے کہنے پر تعلیم کا سلسلہ دوبارہ شروع کر دوں گا ۔میں نے سوچا اسے جا کر سمجھاوں گا ۔”گھر کے حالات صحیح نہیں ہیں۔ان دنوں ابو کو دمہ کا دورہ پڑا تھا۔تو میں نے کام کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔“
ڈیڑھ سال بعدجب میںان کے گھر گیا اسے بتایاتو وہ ہکا بکا رہے گئی تھی، ایک ٹک مجھے دیکھتی رہی تھی مگر کچھ نہ کہا تھا۔ اسے دیکھ کر میں بھی حیران رہ گیا تھاوہ پہلے سے زیادہ خوبصورت ہو گئی تھی ۔بھرے بھرے جسم کی مالک اب اس سے میںمتاثر ہوا ۔ میں اس کے ساتھ بیٹھ کر خود کو احساس کمتری محسوس کرتا تھا ۔اس کا نالج زیادہ تھا ، تعلیم مجھ سے زیادہ تھی، خوبصورت مجھ سے زیادہ تھی، امیر بھی زیادہ تھی۔اس کی تعلیم بھی مجھ سے زیادہ تھی ۔وہ اونچے خواب رکھتی تھی ۔ میںدو دن وہاں رہا تھا ۔ ایک مرتبہ ہم سب داتا صاحب گئے تھے تو رات گئے واپس آئے تھے۔ اس نے کہا تھا” سکندر میں سمجھی آپ مجھے بھول گئے ہوں گے۔ “۔”میں بھلا آپ کو بھول سکتا ہوں میری ہر سانس سے وابستہ ہیںیادیں تیری “وہ خاموش ہو گئی۔ اس کے علاوہ ہمارے درمیان کوئی بات نہ ہوئی تھی۔ویسے تو جاتے آتے ہم باتیں ہی کرتے رہے تھے ۔میں نے شدت سے محسوس کیا کہ میرے کام کی وجہ سے یا میرے تعلیم کو جاری نہ رکھنے کی وجہ سے وہ مجھ سے دور دور رہی ۔کوئی خاص باتیں نہیں کیں اس نے مجھ سے ۔جس وجہ سے میں افسردہ سا ہو گیا تھا ۔ایسے ہی الجھا الجھا سا میں واپس آگیاتھا ۔صرف ڈیڑھ سال میں وہ اتنا بدل گئی تھی ۔میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا ۔
٭٭٭٭٭
میں لاہور سے واپس تو آ گیا تھا لیکن اب وہاں ہی رہنے لگا تھا ۔گاوں سے شہر دکان پر میں بائی سائیکل پر جایا کرتا سارا ررستہ اس کی یادوں میں کٹ جاتا ۔دکان پر مصروف ہوتا ۔دن گزر جاتا ۔شام کو واپسی پر بھی اس کی یادوں میں کھویا رہتا ۔رفتہ رفتہ میں خود سے باتیں کرنے لگا ۔یہ خود سے باتیں شازیہ سے گلے شکوے ہوتے تھے ۔ ایک عجیب سی بے چینی تھی، اضطراب سا، کوئی کام کرنے کو جی نہ چاہتا تھا۔ میں سوچتا چلا جاتاتھا ۔اس کے بے ساختہ مسکرانامیرا ہاتھ دبا نا اور ہمارا مل کر سیر کرنا الا بلا کھاتے رہنا ایک عادت ہم میں اور بھی تھی کہ جب بھی ہم کوئی کھانے کی چیز خریدتے تو ففٹی ففٹی خرچ کرتے تھے یعنی اگر ہم نے آئس کریم خریدی تو دس دس روپے دونوں ڈال لیا کرتے میںکہا کرتا تھا اس طرح ہم نقصان میں نصف کے حصہ دار ہیں ۔اس طرح ہم فائدے میں بھی شریک ہوا کرتے۔ اب کے یہ سب باتیں مجھے یاد آ نے لگی تھیں میرا حال یہ تھاکہ
بیٹھا بیٹھا اکثر گم ہو جاتا ہوں
اب میں میں نہیں رہتا تم ہو جاتا ہوں
وقت گزرتا چلا گیا چھ ماہ مزید گزر گئے ۔
موسم بدلا ۔جولائی کا کوئی دن تھا ۔جب میں شام کو گھر آیا تو مہمانوں کو دیکھ کر خوشی اور حیرانی ہوئی ۔خالہ رشیدہ ،انکل اکمل ،شازیہ ،جاوید ہمارے گھر مہمان آئے ہوئے تھے ۔انکل اکمل تو صرف ایک رات رہے اور دوسری صبح چلے گئے۔ خالہ،جاوید اور شازیہ چار دن رہے۔ میرے بھائی علی ،عثمان اور عائشہ ،میں اور شازیہ مل کر لڈو کھیلتے رہے ۔ادھر ادھر کی باتیں ہوتی رہتی ۔میں نے کام سے چھٹیاں کر لیں ۔تیسرے دن بارش ہو رہی تھی ، شازیہ نے کہا ” سکندر چلو بارش میں نہاتے ہیں“میں نے کہا” نہیں امی ،ابو اور بہن بھائی کیا سوچیں گے؟“کہنے لگی ” سوچنے دو جوسوچتے ہیں“ میں نے سختی سے انکارکر دیا تھا۔ ایک مرتبہ لاہور میں بارش ہو ئی تھی۔ ہم نے چھت پر بیٹھ کر خود پر بارش برسائی تھی اور بے سری آواز میں وہ نغمات گائے تھے کہ اﷲ پناہ۔ پہلے ہم صحن میں نہا رہے تھے۔ آنٹی زبیدہ کی طبیعت خراب تھی۔ ہمارے نغمات پسند نہ آئے تھے انہیں ۔شائد موسیقی کا ذوق نہیں تھا۔ مجبوراہمیں چھت پر جانا پڑا تھا ۔اب وہ ہماری مہمان تھی مجھے کہہ رہی تھی چلو چلیں نہاتے ہیں میں نے انکار کر دیا تھا اس کا منہ سوج گیا تھا ۔انکار کی وجہ ایک تو والدہ تھی اور میں نے سوچا تھا وہ کیا سوچیں گی۔ دوسری بات یہ کہ اب شازیہ بھی بدل گئی تھی مطلب اس کا لباس ایسا تھا کہ ” اگر بھیگ جاتی تو۔۔۔۔“ پھراب ہم میںبچپنا نہ تھا۔ عمر کے ساتھ خیالات بدل گئے تھے۔شائد میرے دل میں چور بھی تھا۔اظہار محبت کے سینکڑوں مواقع لاہور میں تھے اور بیسیوں جہاں پیدا ہوئے تھے۔ لیکن ہم دونوںادھر ادھر کی باتیں کر رہے تھے ۔ہنس ہنس کر لطیفے سنا تے رہے تھے ۔باتوں ہی باتوں میں ایک بار اس نے کہا تھا” تم بہت اچھے ہو۔میرے ہم خیال ہو۔ میں جو تم سے اتنی انسیت سے پیش آتی ہوں۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ تم سے پیار کرتی ہوں یا تم سے شاوی کروں گی“یہ کہتے ہوئے وہ برابر مسکرا رہی تھی۔ میں جو اس کو سمجھنے کا دعویدار تھا ۔ہم خیال تھا۔میرا خیال تھا کہ وہ بات کہے بھی نہ تو میں سمجھ جاتا ہوں ۔مگر صد افسوس اس کی اس بات کو نہ سمجھ سکا ۔اس کی اس بات کے اندر جو بات تھی اسے نہ سمجھ سکا ۔غلط فہمی یاکم فہمی مجھے مار گئی ۔وہ جو بین السطور کہ رہی تھی اس کی بجائے میں نے اس کے کہے الفاظ کو اہمیت دی ۔جو اس کے انداز تھے بات کہنے کے اس نا سمجھ سکا تھا ۔میں نے اس کی بات کے جواب میں کہا تھا ”اچھا،ویسے میں اس غلط فہمی کا میں شکار نہیں ہوں“ حقیقت یہ تھی کہ میں نے یہ جھوٹ کہا تھا ۔کس دل سے کہا تھا اسے دل ہی جانتا تھا ۔اس کے اندر یہ خواہش تھی کہ میں اس سے کہہ دوں ”میں تم سے پیار کرتا ہوں ۔میں تم سے شادی کرنا چاہتا ہوں ۔“تبھی اس نے ایسی بات کی تھی ۔مگر میں سمجھا تھا کہ چونکہ وہ مجھ سے امیر ہے ۔زیادہ خوبصورت ہے ،زیادہ تعلیم یافتہ ہے ۔اس کا اور میرا معیار نہیں ملتا ۔یہ بات اس نے اس لیے کہی تھی ۔یعنی میری غلط فہمی دور کرنے کے لیے ۔مگر اس بات کا مجھے ایک عرصہ تک پتہ نہ چلا تھا ۔میں اس سے ناراض بھی نہیںہوا تھا ۔اگر ناراض ہو جاتا تو وہ پوچھتی ”کیا بات ہے ناراض کیوں ہو ۔“میں کہتا ”کچھ نہیں“یا کہتا ”تم نے بات ہی ایسی کی ہے “ تو وہ کہ دیتی کہ” میں نے مذاق کیا تھا “یا کہتی ”میں نے تصدیق کے لیے پوچھاتھا“۔مگر ایسا کچھ نہیں ہوا تھا ۔میر اجواب سن کر میں نے محسوس کیا کہ وہ کچھ بجھ سی گئی ہے ۔
کاش اس کے اس اداس ہونے کا سبب پوچھ لیتا میں ۔لیکن میں نے چپ کی چادر تان لی تھی ۔شائد میں احساس کمتری کا شکار تھا ۔انہی دنوں کی بات ہے اس نے ایک مرتبہ مجھے پوچھا تھا ۔” تم نے کبھی پیار کیا ہے ؟ “میں نے کہا تھا ”نہیں “تو اس نے جواب دیا تھا کہ” میری زندگی میں بھی آنے والے تم پہلے لڑکے ہو“ ۔یہ کہہ کر اس نے معنی خیز نگاہوں سے مجھے دیکھا تھا ۔میں نے کہا تھا ”میری زندگی میں بھی تم پہلی ہو جس سے دوستی ہوئی ہے “اس کے بعد ہم دونوں خاموش ہو گئے تھے۔ اس وقت اس کی آنکھوں میں کوئی ایسا رنگ تھا جس کی مجھے سمجھ نہ آ سکی تھی ۔وہ کچھ مزید مجھ سے سننا چاہتی تھی ۔میں جو اس کے تصور سے ڈھیروں باتیں کیا کرتا تھا ۔اب وہ پاس تھی تو کھل نہ سکے تھے لب ۔دل کی باتیں دل میں رہ گئیں ساری ۔جب میں چھ ماہ پہلے لاہور گیاتھا تو اس میں وہ پہلے والی شوخیاں نہ رہیں تھیں ۔وہ قہقے نہ تھے ۔تب ہی میں نے سمجھ لیاتھا کہ اس کے مجھ سے راستے جدا ہیں۔یہ میں نے خود ہی سمجھ لیا تھا ۔اس لیے بھی اب جب وہ ہمارے گھر چار دن رہ کر گئی تو میں نے اپنے اوپر ایک خول چڑھا لیا تھا ۔اصل ہم نے اس سارے عرصے میں کبھی اظہار محبت نہیں کیا تھا بس کچھ الفاظ کو یہ معنی پہنا دئیے تھے ۔بالکل ایسے ہی الگ راستے کرتے ہوئے بھی ہم نے کچھ نہیں کہا تھا ایک دوسرے سے۔چوتھے دن خالہ ،جاوید اور شازیہ میرے ساتھ ہی شہر آئیں تانگے پر اور وہاں سے ناناکے گاوں چلی گئی تھیں ۔
٭٭٭٭٭
میں ایک ہفتے بعد دکان پر آیا ۔اب مجھے اس دکان پر کام کرتے ہوئے دو سال سے زائد عرصہ ہو چکا تھا ۔اقبال صاحب نے ایک نئی دکان ٹوبہ ٹیک سنگھ میں کھول لی تھی ۔مجھے اس دکان پر بھیج دیا گیا اور تنخواہ چار ہزار کر دی گئی۔ خرچہ الگ ۔میرے ساتھ اقبال کا چھوٹا بھائی نذیر احمد کام کرنے لگا تھا ۔وہ میرا ہم عمر ہی تھا ۔ وقت پر لگا کر اڑنے لگا۔ وہ جو کہتے ہیں ناکہ ”تیری یاد آئی تیرے جانے کے بعد“ تو یہی حال میرا تھا۔ میں اکثر سوچا کرتا کہ مجھے کم از کم شازیہ سے اظہار محبت تو کر دینا چاہے تھا۔ میں نے اب تک ایسا کیوں نہ کیا تھا۔ اس کی وجہ تھی پہلے تو یہ تھی کہ میں سوچا کرتا اگر میں نے اس سے ایسا کہہ دیا تو شاید کہہ دے ” سکندر مجھے تم سے یہ امید نہ تھی “ اب میںسوچا کرتا کہ اس نے خود ہی انکار کر دیا ہے۔ یوں دل کٹ سا جاتا۔ مگر پھر خود کو مصروف کر لیتا تھا ۔ تین سال گزر گئے۔میں شازیہ سے ملنا چاہتا تھا مگر یہ سوچ کر نہ جاتا کہ اس نے مجھ کو ٹھکرا دیا ہے۔مزے کی بات یہ ان تین سال میں اس نے مجھے تین خط لکھے تھے ۔ اب میں 24برس کا ہو چکا تھا ۔
شازیہ بھی اتنے برس کی ہو گی ۔میری منگنی اپنی پھوپھی زاد سلمیٰ سے ہو گئی ۔ سلمیٰ مجھ سے چھ سال چھوٹی تھی ۔مڈل پاس تھی ،۔قبول صورت تھی۔ ہماری جوڑی بقول لوگوں کے بہت اچھی اور خوبصورت تھی ۔ دو ماہ بعدمجھے پتہ چلا کہ اس کی منگنی ہو گئی ہے۔ اس کے خالہ زاد ندیم سے۔ شازیہ نے بی اے کیا تھا ۔ شازیہ کی منگنی کے بعد اس کا منگتیر سعودیہ چلا گیا۔ دو سال کے لئے۔ یہ 1993ءکی بات ہے جب شازیہ کی بھی منگنی ہو چکی تھی اور میری بھی۔ جب میری شازیہ سے ملاقات ہوئی تھی ۔کم از کم تین سال کے بعد، وہ ایک شادی تھی میں صرف اس شادی میں اس لئے گیا تھا کہ وہاں سلمیٰ بھی جا رہی تھی ۔میں نے سلمیٰ کو دیکھا تھا وہ جب سات آٹھ سا ل ہو گی اس سے باتیں بھی کی تھی۔ مگریہ پرانی بات تھی ۔اب ہم منگیتر تھے۔ اس کے بعد اب تک اس سے کوئی ملاقات نہ ہوئی تھی ۔ میں امی اور میری چھوٹی بہن عائشہ شادی میں گئے تھے۔
٭٭٭٭٭
رزاق کی بیوی آنٹی جمیلہ (شازیہ کی ماں) زبیدہ بی بی کی سگی بہن تھی ۔دوسری طرف رزاق کے بیٹے امجداوربیٹی رخسانہ کی ان کی ایک اور بھی بیٹی تھی نسیم اختر جو کے مجھ سے تین سال چھوٹی ہو گی ۔ جب ہم دونوںمیں اور میری بہن ان کے گھر گئے تو سب سے علیگ سلیگ کے بعدنسیماختر آگئی اور کہنے لگی ”سکندر آپ نے سلمیٰ سے منگنی بھی کر لی اور ہم کو پوچھا بھی نہیں“
میں نے حیران ہو کے پوچھا ۔” کیا مطلب ´؟“۔” مطلب یہ کہ میںنے آپ سے شادی کرنا تھی“
”اچھاااااا“
عائشہ کہنے لگی ”تم پہلے بتا دیتی اب تو بھائی کسی اور کے ہو چکے ہیں “
موسم بڑا خوبصورت تھا رات گئے تک تو میں امجد اور رخسانہ کو چھیڑتا رہا ۔انکل ،آنٹی سے باتیں کرتا رہا اور پھر ڈرائنگ روم میں آ کر سو گیا تھا۔ ۔ڈرائنگ روم میں میں اکیلا نہیں تھا۔ ایک بزرگ ابو کے چچا بھی تھے۔ رات گئے تک وہ مجھ سے اپنا ماضی سناتے رہے۔
ان کی وجہ سے ہی مجھے ڈرائنگ روم میں سونا پڑا تھا کہ وہ مجھ سے باتیں کرنا چاہتے تھے۔ باقی تمام افراد صحن میں سو ئے تھے۔ رات کے چار بج رہے ہوں میں سو گیا تھا ۔خواب میں شازیہ کو دیکھا ، ہرے بھرے کھیت اور وہ آسمان سے اتر رہی تھی۔ اس لمحے مجھے خواب میں احساس بھی نہ تھا کہ کوئی میرے پاس آ گیا ہے اور پھر شازیہ آسمان سے اتر آئی۔ اسی لمحے میں بیدار ہو گیا میری بانہوں میں کوئی سمایا ہوا تھا پہلے میںخواب سمجھا اور پھر۔۔۔وہ تو پروین تھی۔۔ میںنے بڑی نرمی سے اسے خود سے الگ کیا ۔میں اتنا گھبرایا کہ میری سانس بھی مشکل سے نکل رہی تھی ۔اسی وقت صبح کی اذان ہونے لگی ۔وہ میرے ساتھ بستر میں گھسی ہوئی تھی ۔میں نے اسے خود سے دور کیا تو وہ مزید لپٹ گئی ۔میری جان پر بنی ہوئی تھی ۔ہماری دھینگا مشتی کا اچھا خاصا شور ہورہا تھا ۔میں اسے چارپائی سے نیچے دھکا دے رہا تھا ۔
خدا کا شکر ہے اس وقت دادا جان بیدار ہو گئے ۔ انہوں نے پوچھا ۔”کون ہے “ کمرے میں اندھیرا تھااس لیے میں اسے نظر تو نہیں آ رہا تھا ۔ میں نے دادا کو بتایا کہ ”میں سکندر ہوں پیشاپ کرنے گیا تھا“ وہ خاموش ہو گئے ۔اس کے دو منٹ بعد نسیم اختر خاموشی سے اتر گئی ۔
شادی سے ایک دن قبل میرے ابو اور امی بھی آگئے سلمیٰ اور اس کے ماںپاب بھی تب سلمیٰ کو میں نے پہلی مرتبہ دیکھا ، اس نے مجھے دیکھ کر منہ چڑایا میںنے بھی جواب میں منہ چڑایا تھا۔ ہمارا خیال تھا کی کوئی دیکھ نہیں رہا مگر سب دیکھ رہے تھے اور سب ہنسنے لگے ۔سلمیٰ شرم کے مارے اندر بھاگ گئی۔ اب پتہ چلا کہ وہ اتنی صحت مند کیوں تھی۔ وہ ہنس مکھ بہت تھی۔اس شادی پر میری اور سلمیٰ کی کوئی بات نہ ہوئی مگر ہم نے آنکھوں ہی آنکھوں ڈھیروں باتیں کی تھیں۔اسی شام شازیہ آگئی تھی اس کی والدہ اور جاوید ہمراہ تھے مجھے ساری رات نیند نہ آئی تھی شازیہ اور میں نے صرف ہاتھ ملایا تھا نا کچھ اس نے کہا اور ناہی میں نے حتی کہ ایک دوسرے کو سلام بھی نہیں کیا تھا ۔بلکہ میں نے اس کے چہرے کی طرف دیکھا بھی نہیں تھا ۔دوسرے دن جب بارات آئی ہوئی تھی ۔ سب دلہا اور دلہن کے ادھر ادھر پھر رہے تھے ۔میں اور شازیہ دو کرسیوں پر بیٹھے ہوئے تھے ۔سامنے ایک میز تھا میز پر کتاب تھی اردو کا ٹیسٹ پیپر جماعت ہشتم ۔میں پہلے ہی وہاں بیٹھا ہوا تھا ۔اس نے مجھ اکیلے کو بیٹھا دیکھا تو میرے پاس آ کر خاموشی سے بیٹھ گئی ۔
میں نے ہی خاموشی توڑی ۔” مبارک ہو منگنی کی “ مجھے اپنی آواز بدلی ہوئی محسوس ہوئی ۔وہ اٹھی اور باوقار چلتی ہوئی میز کے پاس گئی اور کتاب کو ایک ایک ورق کر کے پھاڑنے لگی میں اس دیکھتارہا۔کافی ورق پھاڑنے کے بعد اس کی آواز سنائی دی
”آ پ کو بھی مبارک ہو “
کیا بات ہے شازیہ ؟ مجھ سے ناراض ہو “
”بس کچھ نہیں“۔
”کتاب کیوں پھاڑ رہی ہو ؟“
ان نے میری طرف دیکھا ۔آنکھیں بھری ہوئی تھیں ۔
بولی تو آواز میں کرب شامل تھا۔”میں تم سے پیار کرتی ہوں ، سکندر میںتم سے شادی کرنا چاہتی ہوں۔وہ رونے لگی ۔تم نے خاموشی سے منگی کر لی مجھ سے پوچھا بھی نہیں “اس کی یہ بات سن کر جو میرا حال ہوا اسے الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں ۔میں اپنا حال کیا لکھو ں۔ ایک قیامت ٹوٹ پڑی تھی ۔میں اٹھا اس کے پاس جا کھڑا ہوا ” میں بھی تم سے محبت کرتا ہوں ۔۔بہت محبت کرتا ہوں “
اسی لمحہ میری بہن اندر آئی اور دوسرے لمحے وہ باہر چلی گئی ۔تھوڑی دیر بعد وہ پھر آئی اورمجھے بتایا کہ ابو بلا رہے ہیں۔ ہم دونوں رو رہے تھے ۔عائشہ کہنے لگی ”اب رونے کا کیا فائدہ “ ہم دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا ۔اور میں کمرے سے باہر نکل گیا ۔شادی گزر گئی۔ سلمیٰ اپنے گھر چلی گئی د۔وسرے دن شازیہ بھی چلی گئی اور ہم بھی واپس آ گئے مگر۔ اب کی ملاقات بڑی کرب آمیز تھی، میری بہن نے ایک مجھ سے پوچھا”بھیاآ پ شازیہ سے پیار کرتے تھے تو سلمیٰ سے منگنی کیوں کی“میں نے اسے بتایا”بس غلطی ہم دونوں کی ہے مگر میری زیادہ ہے“
”کیا یہی بات تو شازیہ کہہ رہی تھی“ وہ حیرانی سے بولی ۔ میں مسکرا دیا ۔ میں اور شازیہ ایک جیسا ذہن رکھتے تھے ۔ خیالات ایک جیسے تھے تو تھے تو کیسے کرتے اظہار محبت۔ ندیم (شازیہ کا منگتیر ) کا وہاں کام نہ چل سکا اور ایک سال بعد واپس آ گیا۔ جبکہ اس دوران میری اور سلمیٰ کی شادی ہو گی ۔کچھ اس لئے شادی کرنا پڑی کہ عائشہ کے سسرال جلدی شادی کرنا چاہتے تھے۔ہم بہن بھائی کی شادی ایک ہی دن ہوئی ۔ ہماری شادی پڑی سادگی سے ہو ئی تھی۔ شازیہ نے شرکت نہیں کی تھی ۔بقول اس کی والدہ کے وہ بیمارتھی ۔سلمیٰ کیا گھر میں آگئی خوشیاں آگئیں۔
٭٭٭٭٭
شادی کے بعد میں نے ٹوبہ ٹیک سنگھ والی دکان چھوڑ دی اور واپس اسی دکان پر استاد کے ساتھ کام کرنے لگا ۔میں صبح جاتا اور شام کوواپس آجاتا تھا۔ سلمیٰ بھی خوش تھی اور میں بھی۔ کچھ سلمیٰ نے خود کو بدل لیا اور کچھ میں نے خود کو۔ وہ ایک اچھی بیوی ثابت ہوئی رفتہ رفتہ اسے امور خانہ داری بھی آ گئے اور وہ گھر کی طرف بھی توجہ دینے لگی ۔میںنے سلمیٰ کو پہلی رات ہی کہہ دیا تھا کہ ” اگر تم میرے والدین سے محبت نہ کرو گی تو مجھ سے محبت کی امید نہ رکھنا“ اس نے کہا تھا
”آپ مجھے دیگر تمام لڑکیوں سے مختلف پائیں گے “ اور اس نے یہ بات ثابت کر دی تھی انہی دنوں اقبال صاحب کا انتقال ہو گیا تھا ۔ آخری وقت میں تو ان کے ساتھ نہ تھا مگر انہوں نے اپنی بیوی اور بیٹے نذیر احمد سے کہا تھا ۔
” اگر میں مر جاوں تو ۔سکندر کی چھٹی نہ کروانا ۔اس کے ساتھ حصہ داری کر لینا ۔“
میں نے اقبال صاحب کی وفات کے پندرہ دن کے بعد وہ دکان کھولی ۔اب وہاں میرے سمیت تین لڑکے کام کرتے تھے اور میں سب سے سینئر تھا۔
شام کو ان کے گھر جاکر شکیلہ آنٹی کو کہا کہ”رشے خون کے نہیں جذبات کے ہوتا ہے۔ خون کے تو گروپ ہوتے ہیں ۔مجھے استاد اپنے بیٹے کی طرح سمجھتے تھے ۔میں اپنے شاگرد ہونے کا حق ادا کر دوں گا ۔“آنٹی نے کہا تھا ۔آپ کے استاد نے کہا تھا کہ ”ٹوبہ ٹیک سنگھ والی دکان بیچ دینا ۔سکندر کو کاروبار میں شریک کر لینا ۔آج سے تم دکان پر کام کرو منافع میں سے آدھاحصہ تمہارا ہوگا “میں نے ایسا ہی کیا ٹوبہ ٹیک سنگھ والی شاپ بیچ دی اس کا تمام سامان اٹھا کر اسی دکان میں لے آیا ۔اس طرح دکان میں سامان ڈبل ہو گیا ۔میں منافع میں سے آدھا حصہ استاد کے گھر ہر ماہ خود جا کر دے آتا ۔زندگی کی گاڑی ایسے چلتی رہی ۔سلمی اور میں خوش تھے ۔روز شام کو میں گھر چلا جاتا ۔سلمی ایک شوہر پرست عورت ثابت ہوئی ۔اسے علم تھا کہ میرے والدین میری جنت ہیں وہ جی جان سے خوش ہو کر ان کی خدمت کرتی ۔اللہ نے شادی کے دو سال بعد ایک بیٹی کی رحمت سے نوازا تو گھر میں ایک رونق لگ گئی ۔ایسے ہی خوشی خوشی زندگی کا سفر طے ہورہا تھا ۔لیکن زندگی کے سفر میں نشیب وفراز آتے رہتے ہیں ۔
شازیہ کی شادی میری شادی کے دوسال بعد ہوئی ندیم سعودیہ سے واپس آ گیا تھا ۔ اور اس نے ملتان میں ہی کام شروع کر دیا تھا ۔جی جان سے محنت کرنے لگا ۔اس نے گولی ٹافی بنانے کی مشینیں لگائی تھیں مال شہر بھر کی دکانوں پر سینے کے لیے سیلز مین رکھے ۔ایک سال میں ہی کام نے عروج پکڑ لیا ۔سال بھر بعد اﷲ نے شازیہ کو بیٹا دیا تھا ۔
ایک شام میں گھر واپس آیا تو سلمیٰ نے دعوتی کارڑ مجھ کو دیا۔ بچے کی خوشی میں ندیم نے ساری برادری اکٹھی کی تھی۔ ایک بات بتا دوں کہ ندیم نہ صرف اپنے والدین کا اکلوتا تھا بلکہ اس کا والد بھی اکلوتا تھا ۔برسوں بعد ان کے خاندان میں ایک بیٹا پیدا ہوا تھا ۔اس بات کو سب جانتے تھے اس لیے اچھی خاصی برادری اکھٹی ہو ئی تھی۔ہمارا وہاں جانا ہی قیامت ثابت ہوا تھا مقررہ تاریخ پر میں اور سلمیٰ ملتان گئے۔
شازیہ کا بیٹا 40دن کا ہو چکا تھا ۔ندیم اور شازیہ ہم سے مسکرا کر ملے ۔شازیہ نے اپنے بیٹے کا نام سکندر رکھاتھا ۔سکندر کو سلمی نے اٹھایا ۔ اس لمحے شازیہ کی ساس مجھے اور ننھے سکندر کو غور سے دیکھ رہی تھی۔ اسی وقت سلمیٰ نے کہا حیرت سے کہا تھا۔”شازیہ آپ کے بیٹے سکندر کی شکل سکندر سے کتنی ملتی ہے۔جاوید شازیہ کابھائی ،اس کی بیوی ،ندیم کی ماں بھی وہاں موجود تھے ۔سب ننھے سکندر کو غور سے دیکھنے لگے ۔ان کے چہروں پر حیرت تھی ۔ تب میں بے غور سے دیکھا ہو بہو میری کاپی تھا،میرے ماتھے پر ایک زخم کا نشان تھا جس طرح چاند ہو تا ہے وہ نشان اس کے ماتھے پر پیدائشی تھا۔ آنکھیں ، ناک،کان ہونٹ حتی کہ رنگ روپ بھی میرا ہی تھا۔ ناک پر عین اس جگہ تل کا نشان تھا جیسے میرے تھا ۔سب سے زیادہ حیرت کی بات یہ تھی کہ اس کے بائیں ہاتھ کی چھ انگلیاں تھیں ۔میرے بھی بائیں ہاتھ کی چھ انگلیاں تھیں ۔
پھر وہ ہوا جس کا خیال بھی نہ تھا ۔ سوال یہ پیدا ہوا کہ شازیہ کا بیٹا ، میرا ہم شکل کیوں ہے؟؟؟؟شازیہ نے اپنے بیٹے کا نام سکندر کیوں رکھا تھا ؟؟؟۔سب خواتین اس کی اپنے علم کے مطابق وضاحت کرنے لگیں ۔۔سب کے چہروں پر سوالات اور حیرت کھنڈ گئی تھی ۔سب سوالیہ نظروں سے مجھے اور شازیہ کو دیکھنے لگے ۔ان کا اس طرح مجھے دیکھنا مجھ سے دیکھا نہ گیا ۔ان کی نظروں میں شک کے سانپ اپنی زبانیں نکالے ہمیں ڈسنے کو تیار تھے ۔میں پریشان ہوگیا ۔میں مردانہ حصہ میں آ گیا۔اب سب کی زبانوں پر ایک ہی بات تھی ۔میں نے دیکھا جاوید شازیہ کے بھائی کی نظروں میں بھی میرے لیے نفرت تھی ۔رات گئے ہماری واپسی ہوئی۔سب اس گھر سے ایسے الوداع ہوئے جیسے میت کو دفنا کر آئے ہوں ۔ہم گھر واپس آ رہے تھے میں نے محسوس کیا کہ سلمی ضرورت سے زیادہ خاموش ہے ۔ میں نے دو تین بار پوچھا ”سلمیٰ کیا بات ہے ؟“اس نے کوئی جواب نہیں دیا ۔بلکہ دوسری طرف منہ پھیر لیا تھا ۔
٭٭٭٭
گھر آ گر سلمی نے قیامت اٹھا دی ۔ہماری اچھی خاصی لڑائی ہوئی ۔آخر میں نے سلمی کو اپنے بھائی کے ساتھ اس کے میکے بھیج دیا۔
وقت ہر زخم کا علاج ہے ۔شازیہ اپنے میکے جا بیٹھی سلمی اپنے ماں باپ کے گھر ۔میری زندگی میں یہ چھ ماہ اتنے اذیت ناک تھے کہ صبح سے شام رات گئے تک میں انہی سوچوں میں گم رہتا ۔مجھے سمجھ نہیں آتی تھی کہ یہ ہوا کیا ہے ۔مجھ سے زیادہ کرب انگیز زندگی شازیہ کی تھی ۔
سلمیٰ کو خدا نے بیٹی دی تھی۔ یعنی شازیہ کی طلاق کے چھ ماہ کے بعد تو میں اور میرا بھائی سلمان سلمیٰ کے ہاں گئے۔ اس نے مجھ کو دیکھ کر منہ پھیر لیا۔ میں نے بیٹی کو اٹھایا چوما وہ میرے جسم کا حصہ تھی ، میں نے اس کا نام بدیعہ رکھا اس کی شکل سلمان سے ملتی تھی میں نے صرف سلمیٰ سے اتنا کہا ”سلمیٰ ہماری بیٹی کی شکل رمضان سے (اپنے چچا) سے ملتی ہے“ اس نے ایک لمحہ کو بدیعہ دیکھا دوسرے لمحے میرے ساتھ کھڑے سلمان کو اور حیران رہ گئی ۔۔اس پورے ایک سال میں خالہ سے اکثر بات ہوتی رہی ۔وہ مجھے شازیہ کے حالات سے آگاہ رکھتی تھیں ۔میں نے خالہ سے کہا میری شازیہ سے بات کروا دیں ۔کہنے لگی ”وہ تم سے بات نہیں کرنا چاہتی “ میں نے حیرت سے کہا ”کیوں“ خالہ نے بتایا ”وہ کہتی ہے سکندر اگر مجھ سے شادی کر لیتا تو ایسا نہ ہوتا ۔اس نے غلط فہمی سے خود ہی فیصلہ کر لیا کہ میں اس سے شادی نہیں کرنا چاہتی “ مجھے وہ دن یاد آئے جب وہ ہمارے گھر آ ئی تھی ۔اور ہماری ذومعنی باتیں ہوئیں تھیں ۔خالہ نے مجھے کہا ”اگر تم کہو تو میں شازیہ کی امی سے بات کروں تمہاری شادی کی “ میں نے ایک لمحہ سوچا اور کہا ”ہاں آپ کریں بات “ اس سے تین دن بعد خالہ نے خوشخبری سنائی کہ ”شاذیہ کی امی مان گئی ہیں اس کے باپ بھی راضی ہیں لیکن شازیہ نہیں مان رہی “ میں نے رو دینے والے لہجے میں کہا ”خالہ وہ کیوں نہیں مان رہی ۔۔اب کیوں نہیں مان رہی وہ “ خالہ نے بتایا ”وہ کہتی ہے کہ اس طرح لوگ کیا کہیں گے ۔مجھ پر جو جھوٹا الزام لگا ہے ۔وہ سچ ثابت ہو جائے گا “ میں نے خالہ کی منت کی ”آپ اسے سمجھائیں اس سے بڑھ کر اور کیا لوگ کہیں گے ۔طلاق تو ہو گئی اسے ۔آخر انہیں اپنی غلط فہمی پر اتنا یقین تھا تو ندیم نے طلاق دی ہے “ خالہ نے مجھے یقین دلایا ”میں اس سے کرتی ہوں بات ۔شائد مان جائے “ قصہ مختصر چھ ماہ مزید گزر گئے ۔آخر وہ مان گئی ۔میں نے اپنی امی کو بھیج دیا ۔یہاں بھی خالہ ہی کام آئیں کیوں کہ امی جان اب میرا رشتہ پوچھنے وہاں جانا نہیں چاہتی تھیں انہیں بھی خالہ نے راضی کیا تھا ۔ابھی امی میرا رشتہ پوچھنے لاہور نہیں گئیں تھیں کہ انہی دنوں شازیہ کے ہاتھ ایک کتاب لگی جس میں ایک واقعہ لکھا ہوا تھا کہ ماحول ہم پر کیسے اثر انداز ہوتا ہے ۔اسی دن شازیہ نے مجھے کال کی میں دکان پر نہیں تھا ۔ایک ملازم نے کال اٹینڈ کی ۔جب میں واپس آیا تو اس نے مجھے بتایا ۔شام ہو چکی تھی جب میں نے خالہ کو کال کی اس دن انکل اکمل نے کال اٹینڈ کی ۔حال چال پوچھنے کے بعد انہوں نے بتایا ”سکندر میں پہلے بھی شازیہ اور تمہیں گناہ گار نہیں سمجھتا تھا لیکن اب تو اس کا یقین ہو گیا ہے کہ تم سچے ہو“ ان کی یہ بات سن کر مجھے بہت خوشی ہوئی ۔وہ کہہ رہے تھے
”مجھے آج شازیہ نے خواجہ شمس الدین عظیمی کی کتاب اسم اعظم دکھائی ہے ۔ابھی رکو میں اسے لے کر آتا ہوں “تھوڑی دیر بعد انہوں نے دوبار ہ ریسیور اٹھایا اور کہنے لگے ’ ’اس کتاب میں نفسیات کی دنیا میں ایک بہت بڑا مشہور واقعہ لکھا ہے۔ وہ یہ کہ ایک انگریز ماں کے بطن سے ایک ایسا بچہ تولد ہوا جس کے سارے نقش و نگار اور رنگ حبشی نزاد بچوں کی طرح تھا۔ ناک نقشہ موٹا، بال گھونگریالے اور رنگ سیاہ، ویسے ہی چوڑا چکلا سینہ اور مضبوط اعصاب۔ بچہ کی پیدائش کے بعد باپ نے اس حقیقت کو کہ بچہ اس کا اپنا ہے قبول نہیں کیا۔ جب معاملہ بہت زیادہ الجھ گیا اور تحقیق و تفتیش اپنی انتہا کو پہنچ گئی تو راز یہ کھلا کہ ماں حمل کے زمانے میں جس کمرے میں رہتی تھی وہاں دیوار پر ایک حبشی بچے کا فوٹو آویزاں تھا۔ بڑے بڑے نفسیات داں، دانشوروں اور ڈاکٹروں کا بورڈ بیٹھا اور باہمی صلاح مشورے اور افہام و تفہیم سے یہ بات طے پائی کہ چونکہ اس کمرے میں ایک حبشی بچے کا فوٹو لگا ہوا ہے اور عورت حمل کے زمانے میں بچے سے فطری اور طبعی طور پر قریب رہی ہے اور بار بار حبشی بچے کو دیکھتی رہی، دیکھنے میں اتنی گہرائی پیدا ہو گئی کہ اس کی سوچ(Feeling) پیٹ میں موجود بچے کو منتقل ہو گئی۔کہنا یہ ہے کہ شکم مادر میں ایک طرف نوعی تصورات بچے کو منتقل ہوتے ہیں اور دوسری طرف ماں کے یا باپ کے تصورات بچے کو منتقل ہوتے ہیں۔“
انکل کی بات سن کر مجھے بڑی خوشی ہو ۔میں نے انہیں کہا ۔”انکل یہ آپ جاوید کو بتا دیتے “
انکل نے کہا ۔”یہاں سب کے دماغ سے شک نکل گیا ہے جاوید نے اپنی بہن سے معافی مانگ لی ہے ۔یہ لو اپنی خالہ سے بات کرو“ اسی وقت خالہ کی محبت بھری آواز سنائی دی ۔”اللہ کا شکر ہے ۔میں بہت خوش ہوں “ میں نے ان کی قطع کلامی کی ”اور شازیہ “ ”وہ بھی بہت خوش ہے “اب اپنی امی کو بھیج دو ۔ہاں میں جا کر امی سے بات کرتا ہوں ۔اس سے چند دن بعد امی ،ابو ،میرا بھائی سلمان ،میری بہن اور بہنوئی شازیہ کا رشتہ پوچھنے لاہور چلے گئے ۔
اس دن میں نے سلمی سے فون پر بات کی ۔میں دکان پر بیٹھا تھا ۔میں نے سلمی کے پڑوسیوں کو فون کیا ۔وہاں پیغام چھوڑا ۔آدھے گھنٹے بعد میری سلمی سے بات ہوئی میں نے اسے کہا
” سنو سلمیٰ (اس وقت سلمیٰ کی ماں اور بھائی بھی اس کے ساتھ تھا) سلمیٰ عورت دوران حمل جس ہروقت دیکھتی ہے یا جس کے متعلق زیادہ سوچے یا جس سے محبت کرتی ہو اس کا بچہ اس مرد یا عورت کا ہم شکل ہو جاتا ہے۔ بعض بچے اپنے ماموں پر جاتے ہے ۔بعض کی شکل نانا سے ملتی ہے ۔بعض کی باپ سے اور بعض کی ماں سے کسی سے چچا یا ماما سے اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ سب گناہ گار ہیں۔ “
”تم کہنا کیا چاہتے ہو “سلمی تنک کر بولی ۔میں نے کہا اپنے بھائی کو فون دو ۔سلیم نے فون پکڑا تو میں نے اسے کتاب کا نام اور مصنف کا نام بتایا اور کہا اپنی بہن کو یہ کتاب لازمی پڑھادو ۔
اگر اس کے باوجود اسے میری بات سمجھ نہیں آتی تو میں فیصلہ بھیج دوں گا ۔
دوسرے دن امی وغیرہ رشتے کے دن مقرر کر کے آ گئے ۔سادگی سے شادی کا فیصلہ ہوا تھا ۔دوسری طرف سلمی کی طرف سے چند دن بعد فون آیا کہ مجھے آ کر لے جاو ۔میں اسی وقت سسرال روانہ ہو گیا ۔ڈیڑھ سال بعد ہمارے گھر میں خوشیوں نے قدم رکھا تھا ۔اپنے گھر میں لا کر میں نے اپنی بیوی سے تفصیلی بات کی ۔شازیہ کے رشتے کا بھی بتایا ۔تو وہ کہنے لگی ۔
”آپ نے بالکل درست فیصلہ کیا ہے ۔ایسے حالات میں اسے تنہا نہیں چھوڑا جا سکتا “سلمی نے مجھے بتایا کہ ” اس نے اس بارے کافی تحقیق کی ہے۔کہ بچے کی شکل و صور ت پر ماحول کا کتنا اثر پڑتا ہے۔ تاریخ میں ذکر ہے کہ روم کا ایک حبشی وزیر اس بات کا خواہا ںہوا کہ اس کے ہاں ایک حسین و جمیل لڑکا ہو۔ اس غرض کیلئے اس نے حکیم جالینوس سے جو اس زمانے میں حکماءفضلاءکا استاد مانا جاتا تھا، مشورہ کیا۔ حکیم موصوف نے ہدایت فرمائی کہ تین خوبصورت مناظرکی تصاویر بنائی جائیں اور بستر عروسی کے تین طرف لگا ئیں جائیں اور وقت مقاربت نیز ایام حمل میںزوجہ ان کی طرف دیکھے ۔ وزیر مذکور نے اس نصیحت پر عمل کیا۔ چنانچہ اس وجہ سے اس کے ہاں ایک نہایت حسین و جمیل بچہ پیدا ہوا۔“
اب سلمیٰ میرے گھر میںہے ۔شازیہ سے میں نے شادی اسی برس کرلی تھی۔ شازیہ کو خدا نے ایک بیٹا دیا ۔جس کا نام علی رضا رکھا ہے اور سلمیٰ کو بھی بیٹا دیا ہے ہم گھر میں خوش ہیں ۔سلمیٰ کے بیٹے کا نام ارشاد رکھا ہے۔ گزشتہ سال میری والدہ فوت ہو چکی ہیں ۔میں نے والد کو حج کروا دیا ہے۔ میںاسی الیکٹر یشن کی دکان پر کام کرتا ہوں۔ ختم شدہ

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

کرائم فائٹر۔۔۔ سید بدر سعید

غیرت کرائم رپورٹنگ بظاہر ایک دھانسودار بیٹ معلوم ہوتی ہے۔ عام خیال بھی یہی ہے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے