سر ورق / ناول / من کے دریچے عابدہ سبین قسط نمبر 4

من کے دریچے عابدہ سبین قسط نمبر 4

من کے دریچے

عابدہ سبین

قسط نمبر 4

”امپاسیبل مجھے لگتا ہے محبت کی گہرائی آپ سے زیادہ کوئی نہیں سمجھتا اور آپ کہتے ہیں کہ محبت وقت کا زیاں ہے۔“

”جس شخص کا خمیر محبت سے گندھا ہو وہ محبت کے وجود سے انکار نہیں کر سکتا۔“

”مجھ پر ریسرچ کرنے سے تمہیں کچھ حاصل نہیں ہو گا۔“

”اوں ہوں، ریسرچ نہیں کر رہا۔ آپ سا بننا چاہتا ہوں۔“

”ہو ہی نہیں سکتا۔“

نہال نے بیچ میں بول کر حتمی فیصلہ دیا۔

”کیوں….؟“

”وہ کڑیاں دیکھ کر منہ موڑ لیتا ہے اور توں کڑیاں دیکھ کے دنیا توں منہ موڑ لیتا ہے۔“

”یونو…. یہ بھی اسٹائل ہے بگ بی، جتنا منہ موڑتے ہیں لڑکیاں اتنا ہی مرتی ہیں ان پر۔“

”ہائے ربا…. تُسی اس لیے ریزرو رہتے ہو بھائی جان!“ نہال نے کلیجہ تھاما۔

”تم لوگ کبھی نہیں سدھر سکتے۔ بھلا میری عمر ہے اس چھچھور پن کی۔“

”یو نو بگ بی! شادی کے لیے بیسٹ ایج ہے آپ کی۔ بندے کو اسی عمر میں شادی کرنی چاہیے جب وہ میچور ہو جائے۔“

”تھینکس فار ایڈوائز۔“

”بلال کی کر دو، میرے پیچھے کیوں پڑ گئے ہو۔“

”قربان تیری سادگی…. کیا خیا ل ہے آپ کا ہر ویک اینڈ پر گاﺅں کے چکر ابا جی کی محبت میں لگ رہے ہیں۔ وہ خود ہی یہ پلان کر رہے ہیں۔“

”مطلب؟“

”مریم فاروق کی کشش ہر ویک اینڈ پر گاﺅں لے جاتی ہے اور ہم معصوم بلاوجہ مارے جاتے ہیں۔ آپے دونوں شام کو چھت پر چہل قدمی کرتے ہیں، میں اور نہال ابا جی کی جھڑکیاں کھاتے ہیں۔“

”اور تب ہی ہم دونوں نے فیصلہ لیا ہے کہ اس ویک اینڈ پر ہم ان کے ساتھ نہیں جائیں گے۔ ہمارا ویک اینڈ خراب کر دیتے ہیں۔“ نہال نے پُرجوش اندازمیں فیصلہ سنایا تھا۔

ض……..ض……..ض

ریحاب واقعی صبح چلی گئی تھی۔ اب میرب سے بات کرنا بہت کٹھن مرحلہ تھا۔ جو بھی ہے میرب اعجاز تمہیں منا تو میں لوں گا مگر اس سے پہلے میں نے کچھ اور سوچا ہے۔ اس نے اپنی سوچ کو عملی جامہ پہنایا اور یاسر سے تمام باتیں شیئر کریں۔“

”اب امی ابو کو منانا تیری ذمہ اری ہے۔ لیکن یہ طے ہے کہ یاسر کہ شادی مجھے صرف میرب سے کرنی ہے۔“

”اور اگر وہ نہ مانی۔“

”وہ من جائے گی، آئی بیلیو، مگر کیا امی ابو مان جائیں گے۔“

”آج تک تیری ایسی کوئی خواہش ہے جو انہوں نے رد کی ہو۔ مگر اعجاز انکل کی طرف سے کچھ۔“

”اچھی بات منہ سے نکال یاسر۔ میں جا رہا ہوں یہ معاملہ تیرے سپرد کر کے اور اب صرف جب ہی آﺅں گا جب تم سب کو منا لوں گےاور مجھے یقین ہوجائے گا کہ میرب اعجاز صرف میری ہے۔“

”اوکے!“

”ایک کام اور کر دے، مجھے اس کا سیل نمبر دے دے۔“

”وہ ریحاب کی طرح خوش مزاج نہیں ہے، ریزرو سی ہے۔ میری بھی اس سے زیادہ بات چیت نہیں ہے۔“

”غلط! وہ بہت خوش مزاج لڑکی ہے۔“

یاسر بولا تھا تب ہی امی آ گئیں۔

”درید ایک دو دن رک جاتا اور۔“

”امی میری چھٹی کل ختم ہو رہی ہے، پھر اسفند نے بھی فون کر کے تنگ کیا ہوا ہے۔“

اس نے گھر میں سب کو اسفند کے بارے میںبتا دیا تھا۔ امی کو تو اس سے ملنے کا بہت اشتیاق تھا۔

”اچھا اگلی بار اسے لے کر آنا ساتھ۔“

”ہاں! یاسر کی شادی پر ضرور لاﺅں گا۔“

”تیری بھی ساتھ ہی کروں گی۔“

”دیکھیں گے۔“

وہ مسکراتا ہوا اٹھ کے ابو سے ملنے چلا گیا اور سب سے مل کر وہ ایک بار پھر سے یاسر کو یاد دلاتا ہوا باہر نکلا تھا۔ یاسر اس کے ہمراہ ہی آیا تھا۔

گیٹ سے باہر ہی انہیں اعجاز انکل کھڑے مل گئے تھے۔

”السلام علیکم انکل!“

اس نے احترام سے سلام کیا۔ حال چال پوچھا۔

”جا رہے ہو، اتنی جلدی۔“

”بس انکل، چھی ختم ہو رہی ہے کل۔“

’اچھا…. اللہ تمہیں کامیاب کرے…. مگر بچے چکر جلدی لگا لیا کرو، تمہارے ابوکی طبیعت اب ٹھیک نہیں رہتی۔“

انہوں نے پیار سے سمجھایا تھا۔

”جی ان شاءاللہ! اس بار جلد آﺅں گا۔“

قدرے خفیف سا وہ سر جھکا گیا۔

ض……..ض……..ض

وہ رات کو گھر لوٹا درید عباس کو سامنے دیکھا تو کھل سا گیا۔ درید بھی بہت چاہت سے اسے گلے لگا تھا۔

”کیسا ہے، بڑا بے شرم ہے، بھول ہی گیا تھا۔“

”تجھے بھولنا اتنا آسان کام ہے، ہاف وائف۔“ آنکھ دبا کر شوخی سے بولا تھا۔ اسفند ہنس دیا۔

”تھینکس بھیا آپ آ گئے، وگرنہ اسفند بھیا کی حرکات و سکنات آج کل مشکوک ہو گئی تھیں…. آفس کے بعد ایسے گھر سے نکلتے ہیںکہ دیکھیں اب لوٹے ہیں۔“

”تجھے صرف بکواس کرنی آتی ہے۔“

اسفندنے اسے ایک لگایا تھا۔ اور درید کے ساتھ بیٹھ کر حال احوال لینے لگا۔ وہ سب اس وقت صحن میںبیٹھے ہوئے تھے۔ درید کے آنے سے جیسے وہ بہت کھل سا گیا تھا۔ اسے درید سے وہ ہی لگاﺅ سا ہو گیا تھا جو سعد رسول سے تھا کبھی….اور اگر درید عباس نہ ہوتا تو شاید سعد رسول کی کمی عمر بھر اسے دکھی کرتی۔“

”گھر میں سب ٹھیک تھے؟“

”ہاں! اور سب تجھے سلام کہہ رہے تھے۔ امی نے خاص الخاص کہا ہے کہ اگلی بار تجھے ساتھ لے کر آﺅں۔“

”اچھا۔“ وہ اتنے خلوص پر خوشی سے مسکرایا تھا۔

”بھئی لگتا ہے بھابی سے صلح ہو گئی ہے۔ چہرہ پر نور برس رہا ہے۔“

عدیل پکا کھوجی تھا، اسفند ہنس دیا۔ درید گھورنے لگا۔

”میں نے تیری کھوج لگا لی بھئی۔“

”مجھے اتنی کھلی چھٹی کب دی ہے، تین تین پہرے دار ہیں میرے۔ نظریں بھی ڈھنگ سے ملانے نہیں دیتے۔ اور خود شام میں روز جانے کس سے ملنے جاتے ہیں۔“ وہ کلس کر بولا۔

”میری طرف سے کھلی چھٹی ہے تجھے، مگر لڑکی صرف ایک ہی ہو۔“

درید نے کہا، بلال نے اس کے سامنے روز کی طرح جوس کا گلاس رکھا۔ بھلا ایک گلاس سے پیٹ بھرتا ہے کبھی۔

اس کی ذومعنی بات درید سمجھ گیا تھا۔

”پیٹ تو بھرتا ہے میاں نیت نیک ہونی چاہیے۔ زیادہ پینے سے لوز موشن بھی لگ جاتے ہیں۔ اسی لیے موشن ہو یا اموشن، کنٹرول میں رکھنے چاہئیں۔“

”خاک…. یہ زندگی کا مزہ نہیں۔“

”تیرا قصور نہیں، ملتان کی آب و ہوا ہی ایسی ہے۔“

”ہور کی، کوئی لڑکی غلطی سے پتا بھی پوچھ لے تو پہلے منڈے نے فون نمبر مانگنا ہے، دوستی کی آفر مانگنی ہے۔ لڑکی نوں آپے پتہ چل جائے گا کہ لڑکا ملتان توں بی لانگ کر دا وا۔“

”توں، وڈا سیانا۔“

طلال نے نہال کو لتاڑا تھا۔

اسی ہنسی مذاق میں کافی وقت بیت گیا تھا۔ وہ درید سے اس دن والی بات نہ پوچھ سکا۔مگر اگلے دن وہ شام میں لائبریری نہیں گیا تھا بلکہ درید کے ساتھ شام گزاری تھی اور درید نے اسے ساری اسٹوری سنا دی۔

”اگر اب بھی گھر نہ جاتا تو شاید عمر بھر پچھتاتا۔ تھینکس گاڈ اسفند، میرا نقصان زیادہ نہ ہوا،مگر وہ ناراض ہے مجھ سے۔“

”وہ حق پر ہے۔“

”میں اسے منانا چاہتا ہوں۔اس کی غلط فہمی دور کرنا چاہتا ہوں۔ میں اسے چھوڑ کر نہیں آیا تھا بلکہ۔“

”اللہ کرم کرے گا یار، ان شاءاللہ یاسر تمہیں گڈ نیوز ہی دے گا۔“

”انشاءاللہ!“

درید کے دل سے نکلا تھا۔

ابھی اسے لوٹے ہفتہ بھی نہیں ہوا تھا کہ یاسر نے اسے فون کر کے بتایا۔

”سب راضی ہیں، صرف میرب نہیں مانتی۔ انکل بھی خوش ہیں مگر وہ صرف میرب کی مرضی کے بنا کوئی فیصلہ نہیں کرنا چاہتے۔“

”مجھے اس سے بات کرنی ہے یاسر پلیزمجھے اس کا نمبر دو۔“

وہ بے چین ہو گیا۔ یاسر نے اسے ریحاب کا نمبر دیا تھا۔

”ریحاب! تمہاری بہن احمق ہے اسے سمجھاﺅ پلیز۔“

”کیا ہوا….؟؟“

”مانا کہ میں سزا کا مستحق ہوں۔ وہ جو چاہے سزا دے مگر یہ نہ کرے۔ وہ منع کر رہی ہے۔ ریحاب اسے سمجھاﺅ۔“

”تم خود اس سے بات کیوں نہیں کرتے۔“

”وہ میری سنے گی؟“

”ہاں!“

”اس کو ریحاب سے میرب کا نمبر مل گیا تھا اور رات میں ہی وہ اس کا نمبر ملا رہا تھا۔ دو تین بار ملانے پر کال ریسیو کی تھی اس نے۔

”ہیلو…. کون؟“

شاید وہ نیندمیں تھی۔

”درید عباس۔“

اس کی آواز سن کر دوسری طرف سناٹا چھا گیا تھا۔

”میرب پلیز فون بند مت کرنا….“

”ایم سوری میرب پلیز……..! تم مجھے جو سزا دو گی میں سہہ لوں گا، مگر انکار مت کرو۔ میں تمہارے بنا نہیں رہ سکتا۔“

”دو سال سے میرب اعاز کی خبرلی آپ نے۔“

”بہت بڑی غلط فہمی کا شکار ہو گیا تھا میں۔ مانتا ہوں، تسلیم کرتا ہوں اپنی ہر خطا۔ مگر دو سال کیسے جیا یہ میرا رب جانتا ہے میرب…. ہر رشتہ سے قطع تعلق کربیٹھا تھا میں۔“

”ایک بار مجھ سے پوچھ تو لیتے، بنا کچھ کہے، بنا بتائے چلے گئے، مڑ کر دیکھا تک نہیں۔ ہر رابطہ ختم کر دیا۔ میں نے آپ سے کہا تھا کہ میں خود آپ سے شیئر کروں گی ہربات۔ انتظار تو کرتے، وقت تو دیتے مجھے۔“

اس کی آواز میں نمی گھل گئی، جو درید عباس کا دل کاٹ گئی۔

”مجھے اس وقت اپنی دنیا تباہ ہوتی نظر آئی تھی میرو، میں نہیں سہہ سکتا تھا کہ تم کسی اور کی ہو۔“

 ”مجھے محبت کی راہ پر لا کر خود راہ بدل گئے۔ میں کیسے کسی اور کی ہو سکتی تھی۔ آپ میرے لیے ہر راستہ بند کر گئے تھے درید عباس۔“

”مگر اب مجھے جینا آ گیا ہے۔ زندگی کے ان مشکل لمحو ںمیں جب آپ کی کمی شدت سے محسوس ہوئی، آپ منہ موڑ گئے۔ ایک بار پلٹ کر بھی نہیں پوچھا کہ تم کیوں باربار کال کر رہی ہو۔ اب صبر آ گیا ہے، جی لوں گی میں۔“

”مگر میں نہیں جی سکتا میرب اعجاز۔ میرے حال پر رحم کرو۔فار گاڈ سیک! مجھے معاف کر دو۔“ اس کے لہجے میں سچائی تھی۔

”میرب تم پہلی لڑ کی ہو میرے دل میں سمانے والی اور تمہارے بعد ہزاروں چہرے آئے مگر مجھ پر اثر نہ کر سکے۔ اگر میرے دل میں تم نہ ہوتیں، تمہاری محبت نہ ہوتی تو دو سال میں خود پر ہر خوشی حرام نہ کرتا۔ میں نے مڑ کر وہ شہر نہ دیکھا جہاں میں پیدا ہوا، جہاں میرا گھر تھا، میرے ماںباپ تھے۔ ان تمام محبتوں پر صرف تمہاری محبت حاوی رہی۔ میں پلٹ کر نہیں گیا کہ تم وہاں جا کے شدت سے یاد آﺅ گی۔ کہیں تم سے سامنا ہو گیا تو کمزور پڑجاﺅں گا۔“

”آجاتے، ایک بار آتے تو آپ۔“ وہ روتے ہوئے چیخی تھی۔

”اب تم مجھے بے بس کر رہی ہو، رو تو مت یار پلیز!“

”کیا فرق پڑتا ہے آپ کو، میں تو دو سال سے رو رہی ہوں۔ کبھی پوچھا آپ نے، اب بھی ویسے ہی جی لیں جیسے جی رہے تھے۔“

”اتنا عرصہ مجھ پر وقت بھاری رہا میرب، مگر تم نہیں سمجھو گی کہ اس غلط فہمی نے میری زندگی پر کیسا اثرکیا۔ سارا قصور تمہارا ہے۔ بتا نہیں سکتی تھی کہ تم دو بہنیں ہو۔“

”آپ کو انٹرسٹ کب تھا ان باتوں میں، اور ٹھیک ہے سارا قصور میرا ہے تو۔ مجھے میرے قصور کے ساتھ رہنے دیں۔“

”تم مجھے ہرٹ کر رہی ہو میرب۔“

”آپ نے بھی مجھے ہرٹ کیا ہے۔“

”او کے سوری! بس کہو تو کان پکڑ لوں۔“

”کوئی ضرورت نہیں ہے۔“ وہ اب بھی خفا تھی مگر کال کاٹ گئی۔ درید سر پیٹ کر رہ گیا۔

ض……..ض……..ض

دو دن بعد وہ لائبریری آیا تھا۔ غیرارادی طور پر وہ منتظر بھی تھا حریم کا مگر بظاہر کتاب کا مطالعہ بھی کر رہا تھا۔ دو گھنٹے گزر جانے کے بعد بھی وہ نہیں آئی تو اسے تشویش سی ہوئی تھی۔ مگر اس کے پاس کوئی رابطہ نہیں تھا کہ وہ حریم فاطمہ کی مما کی طبیعت ہی دریافت کرتا، سو وہ اٹھ کر مسجد چلا گیا اور عشاءکی نماز کے بعد گھر لوٹا تو درید عباس کا مسکراتا چہرہ منتظر تھا۔

”اس نے ہاں کر دی اسفند، امی نے مجھے اور تجھے بلایا ہے۔“اس نے افند کو گھما ڈالا۔

”رئیلی!“ اسفند بھی خوش تھا اس کے لیے۔

”کب جائے گا…. پھر۔“

”نیکسٹ ویک،تو بھی تیار رہنا۔“

”ہوں۔“ وہ مسکرایا۔

اس کا روز کا معمول بن چکا تھا لائبریری جانا مگر حریم فاطمہ کا انتظار کئی دن پرمحیط ہو گیا جو اس کی کیئرنگ نیچر کو بے چین کر گیا۔

”خیر ہے اسفند، کل بھی رات بھر جاگتا رہا، آج بھی بے کل ہے۔ ورنہ میں تو خوش تھا کہ اب تو پُرسکون نیند لیتاہے۔“

”پتہ نہیں درید، بس دل بے کل سا ہے۔“

”کوئی پرابلم ہے۔“

درید کے پوچھنے پر نفی میں سر ہلا دیا۔

جانے کیوں اس کے دل میںبے چینی تھی کہ حریم فاطمہ مشکل میں ہے۔

”آیت الکرسی پڑھ کر سو جا، اللہ کرم کر گا۔“

درید نے مشورہ دیا تھا مگر وہ جانتا تھا کہ اس نے سب کچھ پڑھ ڈالا تھا، پھر بھی سکون نہیں آیا۔

اگلے دن پھر وہ اسکا منتظر رہا۔ جب وہ نہیں آئی تو اس نے ٹھان لی کہ ضرور پتا کر کے رہے گا۔ یہ بھی سچ تھا کہ انسانی ہمدردی کے علاوہ اس کے دل میں کچھ نہ تھا۔ اگر اسے حریم کے بارے میں پتا نہ ہوتا تو شاید وہ اتنا بے چین نہ ہوتا۔ اب جبکہ وہ جانتا تھا کہ وہ اور اس کی ماں اکیلی ہیں، نہ اس کے والد حیات تھے اور نہ ہی کوئی بھائی تھا۔ ماں ہاسپٹل میں ایڈمٹ تھی، رشتے دار کوئی ملتے نہیں تھے۔ وہ تنہا اس ماں کی ذمہ داری اٹھا رہی تھی اور پابندی سے یونیورسٹی بھی جاتی تھی۔

اس کے ذہن میں حریم کی نوٹ بک پر لکھا ایڈریس تھا سو وہ پوچھتا پوچھتا آخر پہنچ گیا تھا۔ حالانکہ اس شہر میں اس کی واقفیت بھی خاصی نہیں تھی مگر اس نے حریم فاطمہ کاگھر ڈھونڈ لیا تھا۔ گنجان علاقے میں گھر کے سامنے کھڑا تھا وہ۔ اسے ڈور بیل بجاتے عجیب سے جھجک مانع تھی۔

اس سے پہلے کہ وہ ڈور بیل بجاتا، دروازہ خود ہی کھل گیاتھا۔ ایک ادھیڑ عمر عورت نکلی تھی۔ اسفند اس سے پوچھناچاہتا تھا مگر وہ شاید جلدی میں تھی۔ اس پر ایک نظر ڈالتی وہ تیزی سے باہر نکل گئی۔ اسفند کئی لمحے ادھ کھلے دروازے کو دیکھتا رہا، پھر ہمت کر کے دروازہ بجایا تھا۔

ایک نوعمر لڑکا آیا تھا۔

”حریم فاطمہ….“

”باجی اندر ہیں، آ جائیں….“

اس نے اسفند کو بتایا۔ اسے ساتھ لاکر اندر بٹھایا، گھر میں گہرا سناٹا تھا۔

تعزیت کرنے آئے ہیں آپ۔“

لڑکے کے الفاظ تھے کہ بم، وہ یکدم اٹھ کھڑا ہوا۔ تعزیت اس کا مطلب….“

وہ ابھی اس شاک سے نہیں نکلا تھا کہ سیاہ اسکارف ہمیشہ کی طرح لپیٹے حریم فاطمہ اندر آئی تھی۔ اس کا چہرہ اس کے دکھ کی گواہی دے رہا تھا۔ آنکھیں گریہ و زاری سے سوجھی ہوئی تھیں۔ گہرا حزن و ملال تھا اس کی آنکھوں میں۔

”سر…. آپ….؟“

اس کی آمد یقینا اس کی توقع کے قطعی برعکس تھی….

”بہت افسوس ہوا حریم، مجھے تویہیں آ کر علم ہوا کہ تمہاری والد کی ڈیتھ ہو گئی ہے۔“

”جی سر، ممابھی مجھے تنہا کر گئی۔“

”اللہ پاک ان کی مغفرت فرمائے اور تمہیں صبر عطا کرے۔ (آمین‘)“ اسفند نے گہرے ملال سے کہا تھا۔ حریم نے چہرے پر تیزی سے پھیلنے والے آنسو صاف کیے۔ اس کا دکھ اسفند کو شدت سے دل میں اترتا ہوا محسوس ہوا تھا۔ کیونکہ وہ جانتا تھا کہ تنہا رہنا کتنا کٹھن ہے۔ اس نے عمر تنہا گزاری تھی، مگر وہ مرد تھا اور حریم ایک کمزور دوشیزہ…. ہمارے معاشرے میں ایک لڑکی کا تنہا زندگی گزارنا بہت مشکل امر ہے۔ شاید تب ہی اس نے حریم کے دکھ کو بہت محسوس کیا تھا۔

ض……..ض……..ض

”بگ بی نہیں آئے اب تک۔“

طلال نے ایک بار پھر گھڑی پر نظر ڈالی جو دس بجانے والی تھی۔ ان چاروں کے چہروں پر فکرمندی جھلکنے لگی۔ وہ تو عشاءپڑھ کر سیدھے گھر آتے ہیں۔“

”وہ مسجد نہیں گئے آج، میںپوچھ آیا ہوں۔“

نہال نے بتایا۔ درید کے چہرے پر پر اس وقت سب سے زیادہ پریشانی تھی۔

”لائبریری سے پتا کر کے آﺅں۔“

”وہاں سے وہ روز کے ٹائم پر نکل آیا تھا۔“

درید خود جا کر معلوم کر کے آیا تھا اور اسی باعث وہ بہت پریشان بھی تھا کہ آخر اسفند لائبریری سے کہاں گیا۔ نماز پڑھنے وہ گیانہیں حالانکہ وہ لائبریری سے سیدھا مسجد جاتا ہے اور پھر سیدھا گھر۔“

”تم لوگ پلیز کھانا کھا لو۔ آ جائے گا وہ۔“

درید نے کہا۔ اس کے انتظار میں اب تک کسی نے کھانا تک نہیں کھایا تھا۔ درید نے زبردستی انہیں کھانا کھلایا اور ان کی تسلی کے لیے دو چار نوالے خود بھی لیے حالانکہ اس کا دل اسفند میں اٹکا ہوا تھا۔ دس سے سوئی گیارہ کا ہندسہ بھی کراس کر گئی تھی۔ سیل فون اس کا سوئچ آف جا رہا تھا۔ اور یہ ہی وجہ تھی کہ اس کی ٹینشن بھی ہر گزرتے منٹ کے ساتھ بڑھ رہی تھی۔

تقریباً ساڑھے گیارہ بجے دروازہ بجا تھا اور وہ چاروں جو صحن میں ہی بیٹھے تھے، یکدم کھڑے ہوئے تھے۔ درید نے بے تابی سے بھاگ کر دروازہ کھولا تو سامنے اسفند ہی تھا۔ درید نے گہری سانس خارج کرکے اللہ کا شکر ادا کیا تھا۔ وہ بہت خاموشی سے اندر آیا تھا۔

”کہاں تھے آپ بھیا۔“ طلال اور نہال نے بیک وقت پوچھا۔

ان کے چہروں پر اپنے لیے فکر اور جھلکتی محبت دیکھ کر وہ حیران ہوا تھا۔

”اسفند بارہ بجنے والے ہیں، کہاں تھا تو….؟“ ہر جگہ تجھے دیکھ آیا میں۔ لائبریری کے بعد کہاں تھا؟“

اللہ پاک کیسے انسانوں کے دلوں میں ایک دوسرے کی محبت ڈال دیتاہے بنا تعلق، بنا کسی رشتے کے۔ اس دور میں جہاں سگے رشتے بھی ایک دوسرے کے دشمن ہیں۔ ان کی محبت مثالی تھی۔

”ایم سوری گائز! ارجنٹ کام تھا، وہاں چلا گیا تھا۔“

اس نے طلال کا گال تھپک کر انہیں تسلی دی۔

”جان نکال دی تھی آپ نے بگ بی۔“

”ڈونٹ وری، آئی ایم فائن یار!“

اس نے دونوں بازوﺅں میں ان دونوں کو سمیٹا تھا۔

انہیں ٹال کر جب وہ باتھ لے کر قدرے فریش ہو کر لیٹا تھا تب درید عباس نے کہا۔

”میں ٹین ایج بچہ نہیں جسے تم ٹال دو گے۔ کہاں تھے تم اور چہرے پر اتنا گہرا رنج آنکھوں میں سرخی، چال میں مایوسی میں نے نوٹس کی ہے اسفند ضیائ، پلیز ٹیل می، کیا ہوا….؟“

آج تک اسے درید عباس میں سعد رسول کی محض جھلک نظر آتی تھی مگر اس لمحے اسے لگا کہ سعد رسول ہی اس کے سامنے بیٹھا اس سے جرح کر رہا ہے۔ وہ یکدم اٹھ بیٹھا کتنے لمحے اس نے درید کے چہرے کے نقوش کھوجے تھے کہ کہیں واقعی سعد تو نہیں۔ آج عرصے بعد اس کی آنکھوں کے گوشے نم ہوئے تھے۔ آنکھوں کی سرخی گہری ہوئی تو درید بہت شاکڈ سا اسے دیکھنے لگا۔

”آر یو اوکے اسفند!“

اس لمحے وہ خود کو اتنا کمزور محسوس کر رہا تھا کہ بنا کچھ کہے وہ درید عباس سے لپٹ گیا۔ درید نے نا سمجھتے ہوئے بھی دونوں بانہیں مضبوطی سے اس کے گرد باندھ لی تھیں۔

کتنا وقت وہ درید کے گلے لگا رہا تھا۔ پھر الگ ہوا تو چہرہ بھیگا ہوا تھا۔

”کیا بات ہے….؟“ اتنے عرصے میں آج سے پہلے تجھے اتنا کمزور میں نے کبھی نہیں پایا تھا۔ اسفند کیا ہواہے۔“

اس نے اب تک درید کو حریم کے بارے میں نہیں بتایا تھا کہ وہ اس بات کو ایشو بنا لیتا اور خدانخواستہ طلال تک ہلکی سی خبر بھی پہنچی تو اس نے فسانے بنا دینے تھے۔ حالانکہ حقیقت میں ایسا کچھ بھی نہیں تھا، مگر آج واقعی اس کا دل بہت بھاری ہو رہا تھا۔ اور اپنے لیے ان سب کے چہروں پر محبت اور پریشانی دیکھ کر اسکو یہ یقین ہی گیا تھا کہ کم از کم وہ تنہا نہیں ہے۔

تب ہی اس نے درید عباس کو حریم فاطمہ کے بارے میں بتا دیا۔

کئی دن سے وہ نہیں آ رہی تھی۔ میں ویسے ہی اس کی مما کی طبیعت پوچھنے اس کے گھر گیا۔ وہاں جاکے علم ہوا کہ اس کی مما تو اس دنیا میں رہی نہیں۔ درید جانے کیوں مجھے اس معصوم لڑکی کا دکھ اپنے دل میں اتنی شدت سے محسوس ہوا کہ میں کمزور پڑ گیا۔ میں نے ساری زندگی تنہا گزاری مگر مجھے زیادہ پرابلمز اس لیے نہیں ہوئیں کہ میں ایک مرد ہوں، وہ…. وہ تو کمزور سی لڑکی ہے، کیسے رہ پائے گی اس معاشرے میں تنہا۔“

درید ے خاموشی سے اس کی باتیں سنی تھیں۔

ہمارا ایمان ہے اسفند کہ وہ رب کبھی ہمیں ہماری برداشت سے بڑھ کر آزمائش نہیں دیتا۔ اگر اس لڑکی پر آزمائش ہے تب وہ ہی ذات باری تعالیٰ اس کے لیے وسیلہ بھی بنائے گا۔ ہو سکتاہے اس پاک ذات نے اس لڑکی کے لیے کوئی بہترین فیصلہ محفوظ کر رکھا ہو۔“

”بے شک درید وہ ہم سے زیادہ ہمیں جانتا ہے اور ہم سے کہیں بہتر ہمارے لیے سوچتا ہے۔ بس ویسے ہی یار میرا دل آج بہت اداس سا ہو گیاتھا، شاید اپنے پرانے دن یاد آ گئے تھے۔“

”ہو جاتا ہے کبھی کبھی۔“

درید نے اس کا سر تھپکا۔

”اللہ پاک اسے ہمت اور صبر عطا فرمائے۔ اور اس کی حفاظت فرمائے۔ بے شک وہ ہی ہماری حفاظت کرنے والاہے۔“

درید کی بات پر اس نے سر ہلایا تھا۔

”اوکے، ناﺅ ریلیکس۔ اب پلیز تمام باتیں ذہن سے نکال کر سو جاﺅ۔“ وہ اسے شانہ تھپک کر کہتا خود بھی جاکر لیٹ گیا تھا۔“

ض……..ض……..ض

”دیکھو حریم! موت بر حق ہے ہر انسان کو قضا آنی ہے۔ میں تمہارے دکھ کا مداوہ تو نہیں کر سکتا، سوائے اس کے کہ تمہارے لیے دعا کروں اور تمہیں صبر کی تلقین کروں۔ میری کوشش ہے کہ تمہیں اس دکھ کے احساس سے نکال سکوں۔“

وہ حریم کی تنہائی شدت سے محسوس کر رہا تھا۔ تب ہی آج پھر اسے حوصلہ دینے چلا آیا تھا۔

”کیسے صبر آ سکتاہے اسے جس کی دنیا ہی اجڑ جائے سر۔ مما کے علاوہ میرا تھا کون! صرف وہ ہی تو میری کل کائنات تھیں۔“

اس کے آنسو ہزار ضبط کے باوجود بھی نہیں رُک رہے تھے۔

”مجھے تمہاری تنہائی کا احساس ہے حریم،کیونکہ خود میں نے بھی ایک عمر تنہا گزاری ہے۔“

”شاید یہ تنہائی ازل سے ہمارا مقدر ہے سر جی۔ پہلے میں اور ممابھی تنہا تھا اور اب مجھے یہ کڑا وقت تنہا گزارنا ہے۔ پھر جی…. آپ نے جس طرح میرا ساتھ دیا، میرا حوصلہ بڑھایا، آپ کا یہ احسان میں کبھی نہیں بھول سکتی۔“

”میں نے جو کیا وہ انسانیت کے ناطے میرا فرض تھا حریم، خدا کے لیے اسے احسان کا نام نہ دو۔“

اس نے نرم لہجے میں اسے ٹوکا تھا۔

”سر آپ کے پیرنٹس بھی نہیں ہیں۔“

”نہیں، عرصہ ہوا وہ خالق حقیقی سے جا ملے تھے۔“

”پھر آپ اکیلے رہتے ہیں، بہن بھائی بھی تو ہوں گے ناں آپ کے ساتھ۔“

”تمہاری طرح اکیلا ہوں میں بھی، ہاں چار بہت اچھے دوست اللہ پاک نے عطا کیے ہیں جنہوں نے میری تنہائی دور کر دی۔“

اس نے فرسٹ ٹائم اپنے بارے میں کچھ بتایا تھا اسے۔

شام میں درید اس سے پوچھ رہا تھا۔

”تو گیا تھا حریم کی طرف؟“

جواب میں اس نے اثبات میں سر ہلایا تھا۔

”تجھے نہیں لگتا اسے تیری ضرورت ہے۔ کتنے دن بعد آج تو گیا حالانکہ وہ ان دنوں بہت بڑے دکھ سے گزر رہی ہے اور اسے ایک ہمدرد کی ضرورت ہے۔“

”آف کورس! اسے کسی ہمدرد کی ضرورت ہے، مگر درید عباس ہم کبھی بھی خود کو دوسروں کے سامنے Define نہیں کر سکتے، ہماری نیت ہمارے دل کا حال صرف ہمارا رب جانتا ہے۔“

”واٹ ڈو یو مین!“ درید نے حیرت سے پوچھا۔

”وہ مجھے سر کہتی ہے۔ بہت احترام دیتی ہے۔ میرے دل میں بھی اس کا احترام بہت زیادہ ہے۔ مگر لوگ دلوں میں جھانک کر نہیں دیکھتے۔ جو تم کہہ رہے ہو وہ قطعی غیرشرعی ہے۔ میرے روز اس کے گھر جانے سے اس کے وقار پر کوئی حرف آئے، مجھے اچھا نہیں لگے گا۔ یو نو، وہ لڑکی تنہا ہے۔“

جس گہرائی میں وہ سوچتا تھا، درید وہ نہیں سوچ پایا تھا۔ مگر اب اسے لگا کہ اسفندٹھیک کہہ رہاہے۔

”یو آر رائٹ….مگر یار پھر بھی دن بھر اکیلی رہتی ہے اور تو جانتا ہے کہ اکیلے انسان کوہزاروں سوچیں ستاتی ہیں، کم از کم فون پر ہی سہی، اسے حوصلہ دیتے رہنا۔“

”ہوں…. ایک دو دن کی بات ہے پھر وہ یونیورسٹی جانے لگی گی تو دل کو کچھ صبر آ جائے گا۔ ذہن دوسری طرف ہو گا تو شاید وہ اس صدمے سے باہر نکل آئے۔“

”اسفند! ایک بات کہوں۔“

وہ جو بات کہنے جا رہا تھا ا س نے پہلے سینکڑوں بار سوچا تھا، پھر بھی اسے شک تھا کہ اسفند برانہ مان جائے۔

”ہاں! اسفند نے اچنبھے سے اسے دیکھا تو بات کہنے کی بھی اجازت مانگ رہا تھا۔

”تنہا تم بھی ہو، تنہا وہ بھی ہے۔ ہو سکتا ہے اللہ پاک نے تمہیں حریم سے ملوایاہی اس لیے ہو کہ تم اس کا سہارا بن سکو۔“

اس کی بات پر اسفند کئی لمحے ساکت سا اس کا چہرہ دیکھتا رہا۔

درید عباس کیا تجھے لگتاہے میری زندگی میںاس کی گنجائش ہے۔ میں اسے کیا دے پاﺅں گا۔ اور جب میں اسے وہ مقام ہی نہیں دے سکتا جو کہ ہونا چاہیے تو کیوں اس کی زندگی داﺅ پر لگاﺅں۔ ہو سکتا ہے کوئی ایسا شخص بھی ہو جس کے دل میں اس کی ہی چاہت ہو بس۔“

درید نے سنہرے کانچ سی آنکھوں میں جھانکا تھا جہاں اضطراب برپا ہونے لگا تھا۔

”تو کیوں وہ بات کر رہا ہے درید جسے میرا من قبول نہ کرتا ہو۔ اور اگر واقعی اللہ پاک نے میرے لیے ایسا کوئی فیصلہ کر دیا تو پھر میرے من کو راضی بھی وہ خود کر دےے گا۔ وہ ہی دلوں میں محبت ڈالتا ہے۔“

دریدنے اس کی برداشت کا مزید امتحانہیں لیا تھا، ٹاپک چینج کر دیا۔ مگر اس کے اندر جیسے محبت پھر سے رو پڑی تھی۔

ض……..ض……..ض

”درید کہاں ہے؟“

وہ آج شام گھر پر ہی تھا۔ درید کے علاوہ سب صحن میں بیٹھے تھے۔

”یو نو بگ بی! اس کی لو اسٹوری آج کل ہٹ ہے، مصروف ہوں گے میرب بھابی سے فون پر۔“

طلال کتنی باریک بینی سے تجزیہ کرتا تھا۔ اسفند مسکرا دیا۔

”اچھی بات ہے ناں! تم نے نوٹس کیا اس میں کافی چینج آیا ہے۔“

”ہوں، اور دن بدن پیارے بھی ہو رہے ہیں۔“

طلال مزے سے بولا۔ درید بھی چھت سے اتر آیا تھا۔

”بگ بی! کیا واقعی محبت انسان کو بدل دیتی ہے؟“

وہ یقینا درید کو چھیڑ رہا تھا۔

”ہاں ناں! یار، دیکھا نہیں بلال کتنا بدل گیا ہے۔ حریم فاروق کی محبت میں۔ ہم جیسوں کو تو منہ ہی نہیں لگاتا۔“ درید عباس ہمیشہ ایک تیر سے دو شکار کرتا تھا مگر اس لمحے اس کی بات جہاں طلال کی چلتی زبان بند ہوئی تھی وہیں بلال کے چہرے پر بھی سایہ سا لہرا گیا تھا جو اسفند اور درید دونوں نے شدت سے نوٹ کیاتھا۔

”چل نہال اٹھ، تیری دوا لے آﺅں، کل پھر جانا بھی ہے۔“

بلال نے ان کی باتیں قطعی اگنور کرتے ہوئے چارپائی پر بے سُدھ لیٹے نہال کو اٹھایا تھا جسے کل رات سے شدید بخار تھا۔

”ضروری ہے کہ کل ہی جائیں،اگلے ہفتے چلے جائیں گے۔“

طلال کا سارا موڈ جھنجھلاہٹ میں بدل گیا تھا۔

”ابا جی کا فون ملا کر دے دوں تجھے خود کہہ دینا۔“

اس کا جلا کٹا لہجہ طلال پر گھڑوں پانی ڈال گیا۔

بلال زبردستی نہال کو اٹھا کر ڈاکٹر کے پاس لے گیا تھا جبکہ طلال اپنے سیل فون سے کھیلنے لگا۔ اسفند اور درید نے ایک دوسرے کی شکل دیکھی۔

کچھ تو تھا جس نے ناصرف بلال کو ڈسٹرب کیا تھا بلکہ ہر وقت زندگی کو فل انجوائے کرنے والے طلال احمد کو بھی عجیب سی خاموشی میں مبتلا کر رکھا تھا۔

”کچھ توخاص ہے کل، تمہارے ابا جی نے ارجنٹ بلا لیا۔“

”اتوار کو بلال کا نکاح ہے۔“

بڑی خبر وہ بہت سنجیدگی سے سنا رہا تھا۔

”واقعی میں!“

درید نے مسکرا کے خوشی کا اظہار کیا۔

”چھوٹے چچا کی بیٹی مقدس سے۔“

اس کی خوشی کو طلال کی اگلی بات نے حیرت میں تبدیل کر دیا جبکہ اسفند کو بھی شاک لگا تھا، کیونکہ یہ بات اب سب کو پتا تھی کہ بلال مریم کو چاہتا ہے۔

”مگر بلال تو مریم کو پسند کرتا ہے ناں….؟“

”سو واٹ! اباجی کوکیا فرق پڑتا ہے کہ بلال کیا چاہتا ہے اور کسے چاہتا ہے۔ انہوں نے صرف ہمیشہ اپنی مرضی اور اپنی خوشی کے لیے ہر فیصلہ کیاہے، بلال خوش ہو نہ ہو۔ وہ خوش ہیں کہ انہوں نے بلال کا رشتہ اپنی پسند سے اپنے بھائی کی بیٹی جس کی عمر بمشکل پندرہ سال ہو گی اس سے طے کر دیا۔“

ان دونوں کے لیے یہ باتیں شدید حیرت اور تاسف کا باعث تھیں۔ بلال کے دل ٹوٹنے کا دکھ اور پھر ایک کم عمر بچی کے ساتھ رشتہ طے کرنا۔

”اور بلال چپ چاپ مان گیا۔“

”کیا کرتا، ہمیں یہ حق کب حاصل ہے بگ بی، کہ ہم اپنی مرضی سے کر سکیں۔ بلال نے بھی خاموشی اختیار کر لی۔ اب چاہے عمر بھر وہ خود نہ رہے مگر یہ طے ہے کہ اباجی کے سامنے کچھ نہیں بولے گا۔“

”غلط…. یہ غلط ہے، بلال کو اسٹینڈ لینا چاہیے۔“

”اباجی سے بدتمیزی کرے یا ان کے سامنے اَڑ جائے؟“

”نہیں، وہ انہیں قائل کرنے کی کوشش تو کرے۔ اپنی پسند اپنی محبت کا تو بتائے۔“

”بلال بھائی کی خاموشی ان کی محبت کی وجہ سے ہی ہے۔ وہ خود پر ہونے والی زیادتی سہہ لے گا مگر مریم آپی پر آنچ نہیں آنے دے گا۔“

”اس کے بغیر جی لے گا۔“

”ان کے ساتھ جینا زیادہ کٹھن ہے۔ آپ نہیں جانتے کہ اگر بلال بھائی نے مریم آپی کا نام بھی لیا تو خاندان بھر میں فسادبرپا ہو جائے گا اور ہر شخص صرف مریم آپی کو قصوروار ٹھہرائے گا۔“

”اس کی وجہ؟“

اسفند نے پہلی بار کچھ پوچھا تھا۔ وہ صرف سن رہا تھا۔

”سب سے بڑی وجہ کہ وہ چچا کی دوسری بیوی کی اولاد ہیں اور چچا نے اپنی پسند سے شہر کی زیادہ پڑھی لکھی لڑکی سے شادی کی تھی۔ مریم آپی نے بھی اعلیٰ تعلیم حاصل کی ہے، اپنی امی کی طرح۔ اور ہمارے خاندان میں زیادہ پڑھی لکھی لڑکیوں کو ویسے ہی بُرا سمجھا جاتا ہے۔“

”2013ءمیںبھی اتنی جہالت، حالانکہ اب تو گاﺅں دیہات کے لڑکے لڑکیاں بھی تعلیم حاصل کر کے اچھی جاب کے متلاشی رہتے ہیں۔ زمانہ بہت بدل گیا ہے طلال۔“

”زمانہ بدل کر کہیں بھی چلا جائے، ہمارے ابا جی کے اصول نہیں بدل سکتے۔ یو نو درید بھیا! میں صرف اسی لیے اپنی زندگی فل ٹائم انجوائے کرتا ہوں کیونکہ میںجانتا ہوں کہ میرے پاس یہ چند سال ہیں جو میں اپنی مرضی اپنی خوشی سے جی سکتا ہوں۔“

”ویری سیڈ! بائی گاڈ مجھے اتنا گہرا شاک لگا کہ اس دور میںبھی جب دنیا اس قدر ایڈوانس ہو گئی ہے، اب بھی ایسی سوچ!“

”اور تم دیکھو درید، کہ پھر بھی طلال نے خاموشی سے ان کی بات مان لی، حالانکہ آج کل کی اولاد اپنی بات منواتی ہے۔“

”اس لیے کہ ان کے پاس کوئی آپشن نہیں ہے۔“

طلال نے موضوع کو سمیٹا تھا۔ بلال اور نہال کی آمد پر وہ تینوں چپ ہو گئے تھے۔

ض……..ض……..ض

”درید، تیرا جانا ضروری ہے، بس تو چلا جا۔“

درید کی امی کا فون آ چکا تھا۔ انہوں نے درید کو بلوایا تھا۔اب درید اس کے ساتھ بحث کر رہا تھا۔

”بہت ضروری ہے،اگر تو نہیں گیا ناں تو سمجھ تیری میری ختم۔“

”تیری میری کیا۔“

اسفندنے مسکراہٹ لبوں میں دبائی تھی۔ درید کی صورت میں رب نے اسے دوست جیسی نعمت عطا کی تھی۔ وہ کبھی بھی اسے ناراض نہیں کر سکتا تھا۔ سو وہ چپ چاپ اس کے ساتھ آ گیا تھا مگر شام تک ہی درید اندازہ لگا چکا تھا کہ وہ بور ہو رہا ہے حالانکہ امی ابو یاسر سب نے بہت خلوص اور اپنے پن سے اسے ویلکم کیا تھا۔

”شکل پربارہ بج رہے ہیں،کیا ہوا۔“

”کچھ نہیں، بس دل نہیں لگ رہا۔“

”دل نہیں لگ رہا یا کچھ یاد آ رہا ہے۔“

درید نے خوامخواہ ہی ہوا میں تیر چلایا تھا۔

”سچ بتاﺅں! ذہن میں بلال کا خیال چپک کر رہ گیا ہے۔جانے کیسے ہیں اس کے ابا جن کے نزدیک اولاد سے زیادہ اپنی مرضی اہم ہے۔“

”بلال کو بھی خاموشی سے ہر غلط فیصلے پر سر نہیں جھکانا چاہیے۔ آج وہ چپ رہا تو سمجھو اس نے طلال اور نہال کے لیے بھی ہر دروازہ بند کر دیا۔“ درید کے خیال میںبلال کو اپنے حق کے لیے آواز اٹھانی چاہیے۔

”مگر یار، وہ کیسے اپنے والد کے سامنے ڈٹ جائے۔“

”اپنی ماں سے کہہ کے بات منوانے، ماں کو بچوں کی خوشی سے زیادہ کوئی بھی چیز اہمیت نہیں رکھتی۔“

”تجھے لگتا ہے کہ ان کے ابا کے آگے ان کی اماں کی چلتی ہو گی۔“

اسفندنے اسے دیکھا جو پُرسوچ انداز میں سر ہلانے لگا تھا۔

کچھ دیر بعد یاسر آ گیا تو درید غائب ہو گیا۔ وہ جانتا تھا کہ درید کہاں گیا ہے۔ میرب اعجاز نے ہاں کر دی تھی، مگر وہ ناراض تو اب بھی تھی اور درید عباس اسے منانے آیا تھا۔

”اگر ایسے ہی منہ موڑ کے بیٹھنا تھا تو مت آتیں۔“

”اب چلی جاﺅں۔“

”لُک میرب! جو کچھ بھی ہوا غلط فہمی کے باعث ہوا، ارادتاً میں نے تمہیں ہرٹ نہیں کیا۔“

”آپ کی جلد بازی کے باعث ہرٹ ہوئی ہوں میں۔ پل بھر میں کیے گئے فیصلے سے دکھ پہنچا ہے مجھے اور پھر دو سال تک پلٹ کر دیکھا تک نہیں۔ آپ کو اتنا بھی اعتبار نہیں تھا مجھ پر کہ ایک بار پوچھ لیتے۔“

وہ روہانسی ہو گئی۔ درید عباس گہری سانسیں خارج کر کے رہ گیا۔

”تسلیم تو کر رہا ہوں اپنی ہر خطا اور کیادو سال میں نے سکون سے گزارے ہیں میرب اعجاز۔ اک اک لمحہ تمہارے لیے تڑپتا رہا ہے میرا دل۔ محبت کی ہے میں نے تم سے اپنے دل کی تمام تر گہرائیوں کے ساتھ۔ تمہیں چھوڑ کر جانا میرے لیے خود کسی سزا سے کم نہیں تھا۔“

وہ سنجیدہ ہو گیا۔

میرب نے اس کا چہرہ دیکھا، جہاں سچائی رقم تھی۔

”اور اب تک جھیل رہا ہوں یہ سزا۔ختم کر دو اب ناراضگی پلیز!“

”کیا کروں اور؟ جو چاہتے تھے مان تو لی ہے آپ کی بات۔“

”صرف میری خواہش پر ہاں کی، تمہارے دل میں تو ناراضگی اب بھی اسی طرح ہے۔“

”کس نے کہا۔“

”ضرورت ہے کسی کو کہنے کی۔ روز تین بار تمہارا نمبر ڈائل کرتا ہوں جو بنا رسپانس کے بزی کر دیا جاتا ہے، اور کیا سمجھوں میںاسے میرب اعجاز!“

”اندازہ ہوا کہ مجھے کتنی تکلیف ہوئی ہو گی جب آپ میرے ساتھ یوں کرتے تھے۔“

”تم مجھ سے بدلے لے رہی ہو۔“

اس نے گھورا۔ وہ بمشکل اپنی ہنسی روک پائی۔

”جو مرضی سمجھیں۔“

”اوکے، فائن! بٹ یاد رکھنا،مِس میرب اعجاز بہت جلد تمہارا سارا قرض سود سمیت چکاﺅں گا۔ جتنا ستانا ہے ستالو، جو بدلہ لینا ہے لے لو۔ میرا وقت بھی قریب ہے، پھر کیا کرو گی۔“

”آپ مجھے دھمکی دے رہے ہیں۔“

”جو مرضی سمجھو۔“

”اوکے! میں ابھی پاپا سے بات کرتی ہوں۔ ابھی وقت میرے پاس بھی ہے۔“

وہ الٹا اسے ہی دھمکانے لگی تھی۔ درید حیرین رہ گیا اس کی چالاکی پر۔ اسے گھورا تو وہ ہنس کر اٹھ کے بھاگ گئی۔

ض……..ض……..ض

جاری ہے۔۔۔۔۔۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

ان لمحوں کے دامن میں مبشرہ انصاری قسط نمبر 6

ان لمحوں کے دامن میں مبشرہ انصاری قسط نمبر 6 چکاچوند روشنی میںیکایک قدموں کی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے