سر ورق / ناول / ساڈا چڑیا دا چنبا نفیسہ سعید قسط نمبر 4

ساڈا چڑیا دا چنبا نفیسہ سعید قسط نمبر 4

ساڈا چڑیا دا چنبا

نفیسہ سعید

قسط نمبر 4

نبیرہ کے فون کرنے کے دو دن بعد ہی صالح محمد اور عائشہ فاطمہ کے گھر آن موجود ہوئے۔ ان کا غصہ سے سرخ چہرہ اور اکھڑا اکھڑا انداز فاطمہ کو سمجھا گیا کہ ضرور دال میں کچھ کالا ہے۔ ویسے بھی صالح محمد نہ صرف ان سے بڑے تھے بلکہ اپنی بارعب شخصیت کے باعث سارے خاندان میں عزت کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے۔ ان کی اس طرح بغیر اطلاع آمد فاطمہ اور گھر کے دیگر افراد کےلئے اچنبھے کا باعث تھی۔

”مجھے تو یقین نہیں آتا کہ تم اتنی ظالم بھی ہو سکتی ہو۔“

فاطمہ کے سلام کے جواب میں انہوں نے کھڑے کھڑے ہی انہیں لتاڑ دیا۔

”بھلا پرائے دیس سے ایک بچی لاکر اس کے ساتھ ایسا سلوک بھی روا رکھا جا سکتا ہے، جو تم سب نے مل کر نبیرہ کے ساتھ کیا۔ مجھے تو شرم آتی ہے تمہیں اپنی بہن کہتے ہوئے۔“ وہ صوفہ پر بیٹھنے کے بعد بھی مسلسل بول رہے تھے۔ غصہ کی شدت سے ان کا چہرہ لال بھبھوکا ہو رہا تھا۔

”میری سمجھ میں نہیں آرہا ماموں کہ ہم نے ایسا کیا کر دیا جو آپ آتے ہی اتنا غصہ کر رہے ہو۔“ فاطمہ تو خاموشی سے سرجھکائے کھڑی تھیں، لیکن رفیدا جو ماموں کی آمد کی اطلاع سن کر ابھی بھی لاﺅنج میں آئی تھی۔ زیادہ برداشت نہ کر سکی اور فوراً ہی بول پڑی۔ اس کے اس طرح بولنے کا صالح محمد نے سخت برا منایا۔ جس کا اندازہ ان کے چہرے کے بگڑے زاویے کو دیکھ کر بخوبی لگایا جا سکتا تھا۔

”تم خاموش رہو رفیدا ہم تم سے بات نہیں کر رہے۔“ رفیدا کی دخل اندازی عائشہ کو بھی پسند نہ آئی اور انہوں نے فوراً ٹوک دیا۔

”یہ اس گھر کی ممبر ہے مامی اور آپ اس سے اس لہجہ میں بات نہیں کر سکتیں۔“ سکندر نے ایک نظر رفیدا کے خفت زدہ چہرے پر ڈالی اور پھر فوراً پلٹ کر عائشہ کو جواب دیا۔

”اور تم لوگ سب کر سکتے ہو؟“ عائشہ نے تیکھے لہجے میں پوچھا۔

”میں آپ کی بات سمجھا نہیں، آپ ذرا کھل کر بتائیں ، کیا کہنا چاہتی ہیں۔“ سکند کی بے نیازی پورے عروج پر تھی۔

”پہلے تو تم مجھے یہ بتاﺅ یہ سامنے کھڑی لڑکی کون ہے؟“ صالح محمد نے عائشہ کو اشارے سے خاموش کرواتے ہوئے دروازے میں کھڑی ایدھا کی سمت دیکھا۔ جس کا مختصر لباس انہیں مجبور کر رہا تھا کہ اس کے متعلق کی جانے والی گفتگو کے دوران بھی اس کی طرف نگاہ اٹھانے سے گریز کیا جائے۔

”حماد کی میڈ۔“ جواب سکندر کے بجائے رفیدا کی جانب سے آیا۔

”لیکن مجھے تو یہ میڈ سے زیادہ کچھ اور دکھائی دے رہی ہے۔“

”میں آپ کا مطلب پھر نہیں سمجھا کہ آپ کیا کہنا چاہ رہے ہیں۔“

”اس عورت کا حلیہ میڈ سے زیادہ دھندا کرنے والی جیسا ہے۔“ اب انکل صالح سے مزید برداشت نہ ہوا اور وہ تڑخ کر بولے۔

”ماموں آپ جو بات کرنے آئے ہیں وہ کریں۔ میرے گھر کے کسی بھی فرد کی کردار کشی کا آپ کو کوئی حق حاصل نہیں ہے۔“ سکندر نے بات کرنے کے دوران ایدھا کو بھی کمرے میں واپس جانے کا اشارہ کر دیا۔

”دیکھو فاطمہ بات صرف اتنی ہے کہ ایدھا اور سکندر کے درمیان جو بھی تعلق ہے وہ اب کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے۔“ صالح محمد کے ان الفاظ نے کمرے میں موجود تمام لوگوں کے چہرے کی رنگت کو یکسر تبدیل کر دیا۔ کسی کو امید نہ تھی کہ وہ اس طرح کھل کر اس موضوع پر گفتگو کریں گے۔

”اول تو شرعی اور قانونی لحاظ سے یہ تعلق ناجائز ہے۔ دوئم اس تعلق کے نتیجہ میں یہ اپنی بیوی کی حق تلفی کر رہا ہے۔ جس کا اسے قطعی احساس نہیں ہے اور نہ ہی تم اسے اس غلطی کا احساس دلا رہی ہو جبکہ یہ تمہاری ذمہ داری ہے کیونکہ تم اس کی ماں ہو۔“

”پہلے تو مجھے یہ بتائیں کہ آپ سے یہ سب بکواس کس نے کی ہے؟“ سکندر نے نبیرہ کی جانب تکتے ہوئے زہر خند لہجہ میں کہا۔

”جس نے بھی کہا تم وہ چھوڑو صرف یہ بتاﺅ کیا یہ سب غلط ہے۔ کیا تم نے ایک ماں کی گود اجاڑ کر ڈیڑھ، دو ماہ کا بچہ اس عورت کے حوالے نہیں کیا؟ جواب دو میری ان سب باتوں کا۔“

”میں نے آپ کو پہلے بھی بتایا تھا کہ وہ حماد کی میڈ ہے۔“

”میڈ ہونے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ بچہ کو ماں سے مکمل طور پر علیحدہ کر دیا جائے۔ بہرحال اب تک جو بھی ہوا وہ سب ہو گیا۔ لیکن آئندہ تم مجھے نبیرہ کا سرپرست سمجھنا اور یاد رکھنا یہ اب میری ذمہ داری ہے اور اس کے سلسلے میں ہونے والی کسی بھی شکایت کی باز پرس میں خود تم سے کروں گا۔ کیونکہ اللہ کے سامنے اس پر کی جانے والی ہر زیادتی کا ذمہ دار میں ہوں۔ میں نے ہی تمہاری نیک نیتی کی گواہی دے کر اس کے باپ سے یہ رشتہ مانگا تھا۔“ بات کرتے کرتے صالح محمد اٹھ کھڑے ہوئے۔ ان کے ساتھ ہی عائشہ بھی اٹھ کھڑی ہوئیں۔

”اور ایک بات اور آئندہ اگر تم لوگوں نے اس بچی سے کوئی زیادتی کرنے کی کوشش کی تو میں اپنا اور تمہارا رشتہ بھول جاﺅں گا اور پھر کہیں ایسا نہ ہو کہ میں تم لوگوں کو عدالت میں گھسیٹنے پر مجبور ہو جاﺅں۔“ سکندر کچھ کہتے کہتے رک گیا۔ فاطمہ بالکل خاموش تھیں جیسے منہ میں زبان ہی نہ ہو۔

”ماموں آپ اطمینان سے بیٹھیں اور کھانا کھا کر جائیں۔“ رفیدا نے آگے بڑھ کر صالح محمد کے ہاتھ تھامتے ہوئے کہا۔

”نہیں رفیدا پہلے یہ صرف میری بہن کا گھر تھا۔ لیکن اب بیٹی کا بھی ہے اور میں بہن بیٹی کے گھر سے پانی پینا بھی پسند نہیں کرتا۔“ انہوں نے اپنا ہاتھ چھڑوا کر رفیدا کے سر پر رکھتے ہوئے کہا۔

”اور ہاں فاطمہ اب اس بچی کی گود خالی کرنے سے پہلے ہی سوچ لینا کہ اس کا باپ بھی یہاں موجود ہے۔“ صالح محمد نے آگے بڑھ کر نبیرہ کے سر پر ہاتھ رکھا جو قریبی صوفے پر سر جھکائے خاموش بیٹھی اپنے ہونٹ چبا رہی تھی۔ صالح محمد کے اس محبت بھرے اظہار نے اس کے دل کو مزید دکھی کر دیا اور اس کی آنکھیں پانی سے لبالب بھر گئیں۔

”اور ایک آخری بات سکندر تمہیں اور بتا دوں، کسی بھی قانون کے تحت تم اپنی پاک باز اور نیک بیوی سے اس کے بچے چھین کر ایک بے لباس اور فاحشہ کے حوالے نہیں کر سکتے۔ کیونکہ جو تربیت یہ اپنے بچوں کی کر سکتی ہے وہ ایدھا کے بس کی بات نہیں ہے اور اگر یقین نہ ہو تو کسی بھی عدالت میں اس بات کو ثابت کرکے دکھا دینا چلو عائشہ۔“ عائشہ کو پکارتے ہوئے وہ شیشے کا دروازہ کھول کر لاﺅنج سے باہر نکل گئے۔ ان کے باہر نکلنے کے کچھ دیر تک تو سب لوگ اپنی اپنی جگہ ساکت کھڑے ایک دوسرے کو دیکھتے رہے۔ ان کو سمجھ ہی نہ آرہا تھا کہ یہ سب کیا ہو گیا۔ ماحول پر ایک سکوت سا طاری ہو گیا تھا جسے رفیدا کی آواز نے توڑا اور سب ہی یکدم ہوش میں آگئے۔

”ماں تم کو آج کل بہت ہمدردی ہو رہی تھی اس سے اب بھگتو۔“ یہ کہہ کر وہ کمرے میں رکی نہیں کچھ گنگناتی اپنے کمرے کی سمت بڑھ گئی اگلے ہی پل سکندر اور فاطمہ بھی اس کے پیچھے ہی چل دیئے نبیرہ خاموشی سے اٹھ کر اپنے کمرے میں آگئی ربیعہ کے کہنے پر صالح محمد سے بات کرنے کا اس نے رسک ضرور لے لیا تھا لیکن یہ نہ جانتی تھی کہ اب آگے کیا ہونے والا ہے۔ صالح محمد کی آمد کا رد عمل رات ہونے سے پہلے ہی ظاہر ہونا شروع ہو گیا شام کو ہی سکینہ اپنے بیٹے کبیر کے ساتھ آگئی کچھ دیر بعد ہی عمر اور روزینہ بھی پہنچ گئے غالباً ان کی یہ آمد فاطمہ یا سکندر کی طرف سے کئے جانے والے فون کال کا نتیجہ تھا۔ آتے ہی ان کا زور زور سے بولنا اس بات کی نشاندہی کر رہا تھا کہ وہ تمام بات سے بخوبی آگاہ ہیں نبیرہ کے کمرے کا دروازہ کھلا ہوا تھا جس سے باہر ہونے والی ہنگامہ آرائی اس کے کمرے تک آرہی تھی۔

”اس کی اتنی جرا ¿ت کیسے ہوئی کہ اس نے ماموں کو فون کرکے سکندر کی کردار کشی کی۔“ سکینہ کا اشارہ یقینا اسی کی جانب تھا۔

”معاف کرنا سکندر اس میں سارا قصور تمہارا ہے تم اچھی طرح جانتے ہو میرا میاں ابھی بھی میرا موبائل چیک کرتا ہے کہ میں کس سے بات کر رہی ہوں ایک تم ہو جس نے شاید کبھی یہ بھی نہیں دیکھا کہ تمہاری بیوی کے فون میں کس کس کا نمبر موجود ہے۔“ سکینہ کی بات سو فیصد جھوٹ پر مبنی تھی اس کا میاں نہ صرف ایک شریف النفس انسان تھا بلکہ اس پر سکینہ کا مکمل کنٹرول بھی تھا۔ نبیرہ تو کیا کوئی بھی نہیں مان سکتا تھا کہ وہ سکینہ کا فون چیک کرتا ہو گا لیکن اس کی بات رد کرنے کی جرا ¿ت بھی کسی میں نہ تھی۔

”میری اور روزینہ کی شادی کو اتنے سال ہو گئے اس میں ابھی تک اتنی جرا ¿ت نہیں ہے کہ کسی سے میری شکایت کر سکے۔“ یہ عمر کی لن ترانی تھی دونوں بہن بھائی یہ ثابت کرنے کی کوشش کر رہے تھے کہ سب سے زیادہ آزادی اس گھر میں صرف نبیرہ کو ہی حاصل ہے جس کا وہ ناجائز استعمال کر رہی ہے۔ جواباً سکندر نے کیا کہا نبیرہ کو سمجھ ہی نہ آیا ایک تو اس کی آواز خاصی دھیمی تھی دوسرا اسے حماد کے رونے کی آواز اندر تک سنائی دی تھی یقینا اس کی وجہ کبیر تھا وہ جب بھی آتا تھا مسلسل حماد کے ساتھ شرارت کرتا اس سلسلے میں اسے کوئی بھی منع نہ کرتا تھا جب حماد زیادہ چڑ جاتا تو رونے لگتا پھر کچھ دیر تک تو کبیر باز رہتا لیکن جیسے ہی حماد سب کچھ بھول کر پھر اس سے کھیلنے کی کوشش کرتا وہ دوبارہ اسے تنگ کرکے رلا دیتا ایسا ہی اب بھی مسلسل ہو رہا تھا۔ تھوڑی تھوڑی دیر بعد حماد کے رونے کی آواز باہر سے آنے والی آوازوں کو معدوم کر دیتی نبیرہ چڑ سی گئی اسے کبیر پر سخت غصہ آیا جو ایک چھوٹے معصوم بچے کو مسلسل تنگ کر رہا تھا لیکن وہ باہر جا کر کچھ کہہ نہ سکتی تھی کیونکہ اس وقت باہر جا کر کچھ کہنا بالکل ایسے تھا جیسے بھڑوں کے چھتے میں ہاتھ ڈالنا لہٰذا وہ خاموشی سے اٹھی قریب رکھا دوپٹہ اٹھایا باہر نکل آئی لاﺅنج میں سب کو نظر انداز کرکے اس نے جیسے ہی شیشے کا دروازہ ھکیل کر باہر نکلنا چاہا یکدم حماد بھاگتا ہوا اس کی طرف آیا وہ بے اختیار رک گئی سرخ سفید رنگت، گول مٹول حماد نبیرہ نے جھک کر اس کے گال پر بوسہ دیا۔

”میرے ساتھ باہر چلو گے آئس کریم لے کر دوں گی۔“ اس کے لہجہ میں مامتا جھلک رہی تھی۔

”نہیں۔“ حماد نے نفی میں اپنا سر ہلایا۔

”تم گندی عورت ہو میرے پاپا کو تنگ کرتی ہو۔“ ملائی زبان میں جیسے ہی اس نے یہ جملہ کہا اسے اپنے قریب ہی کبیر کا قہقہہ سنائی دیا یہ جملہ یقینا اسی کا سکھایا ہوا تھا نبیرہ کو یقین آگیا کہ اس خاندان کا ہر فرد نفسیاتی مریض ہے وہ ایک ٹھنڈی سانس بھر کر سیدھی ہو گئی پہلے دل تو چاہا کہ اسے خوب کھری کھری سنائے یا کم از کم سکندر سے جا کر یہ سوال کرے کہ۔

”یہ ہے وہ تربیت جس کیلئے تم نے اپنے بیٹے کو میڈ کے حوالے کیا تھا۔“ وہ جانتی تھی کہ ان دونوں باتوں کا کوئی فائدہ نہیں ہے نہ تو کبیر پر اس کی کسی ڈانٹ کا اثر ہونے والا تھا اور نہ ہی سکندر کے نزدیک اس کے کہے گئے کسی جملے کی اہمیت تھی خود کو بے وقعت کرنے سے اچھا تھا خاموشی سے باہر نکل جائے اور اس نے ایسا ہی کیا لکڑی کے گیٹ سے باہر نکلتے ہی اس کی نگاہ سامنے روڈ کے دوسری طرف کھڑی شوبھا پر پڑی شوبھا نے اسے دیکھتے ہی ہاتھ ہلایا۔ نبیرہ نے ایک پل کیلئے سوچا اور روڈ کراس کرکے اس کے قریب جا پہنچی۔

”میرے ساتھ مارکیٹ تک چلو گی۔“ چونکہ شوبھا انڈین تھی اس لئے نبیرہ اس سے ہمیشہ اردو میں ہی بات کرتی تھی۔

”شیور۔“ اس نے مسکراتے ہوئے جواب دیا۔

پاکستان سے واپس آتے ہوئے اسے ردا نے کافی رقم دی تھی اور آج انکل صالح بھی جاتے ہوئے اسے کچھ ملائی کرنسی دے گئے تھے جبکہ سکندر کا کہنا تھا کہ جب میں ضرورت کی ہر چیز تم کو لا دیتا ہوں تو پھر الگ سے پیسوں کا کیا جواز بنتا ہے البتہ امان کی شادی کے سلسلے میں اس نے نبیرہ کو نہ صرف اچھی خاصی شاپنگ کروائی تھی بلکہ خاصی رقم بھی دی تھی جس میں سے ابھی بھی کچھ اس کے پاس محفوظ تھی اسی لئے وہ مارکیٹ تک آگئی تھی تاکہ اپنی ضرورت کی کچھ اشیاءخرید کر کمرے کی الماری میں رکھ لے پھر واپسی میں وہ سامنے ہی اسٹال لگائے بیٹھی ملائی عورت کے پاس رک گئی اس کے پاس سانبھر اور بوائل چاول موجود تھے جن کے ساتھ لال بڑی مرچ کی چٹنی اور چھوٹی چھوٹی فرائی مچھلیاں بھی تھی۔

”کھانا کھاﺅ گی۔“ گھر کی ٹینشن کو خارج کرنے کیلئے ضروری تھا کہ اپنا دھیان باہر لگایا جائے اسی سوچ کے تحت اس نے شوبھا سے سوال کیا اور اس کے مثبت جواب کے ساتھ ہی دونوں سامنے رکھی کرسیوں پر بیٹھ گئیں۔ کچھ دور فٹ پاتھ پر غالباً کوئی چینی عورت بیٹھی تھی اس کے پاس رکھے مالٹے اس بات کی نشاندہی کر رہے تھے وہ عبادت کر رہی ہے۔ نبیرہ بڑی دلچسپی سے اس سارے منظر کو دیکھ رہی تھی۔

”جانتی ہو یہ جس جگہ بیٹھی ہے یہاں ان کی مخصوص عبادت گاہ ہے۔“ شوبھا نے اس کی نظروں کے تعاقب میں دیکھتے ہوئے اسے معلومات فراہم کیں۔ اتنی دیر میں ان کا آڈر کیا ہوا کھانا بھی پہنچ گیا تھا۔

”ہاں مجھے ایک دفعہ سکندر نے بتایا تھا کہ یہ اپنی عبادت گاہیں اسی طرح روڈ کے کنارے بناتے ہیں اور پھر وہاں یہ سب فروٹ رکھ جاتے ہیں جو غالباً ان کے کسی دیوتا کےلئے ہوتا ہے۔“ نبیرہ نے آہستہ آہستہ کھاتے ہوئے جواب دیا۔

”ہاں اور جب ان کی کوئی منت پوری ہونی ہو تو دیوتا وہ فروٹ رات میں ہی زمین پر آکر کھا لیتا ہے ورنہ اگلی صبح یہ سب کچھ ویسا ہی عبادت گاہ میں موجود رہتا ہے۔“

”اور اگر یہ تمام فروٹ رات ہی کوئی شخص آکر لے جائے تو کیسے پتا چلے کہ دیوتا نے کھایا؟“ نبیرہ کو چینی قوم کے اس عقیدے نے تھوڑا سا حیران کر دیا۔

”ظاہر سی بات ہے سب کو ہی پتا ہے کہ یہ منت کا پھل ہوتا ہے پھر کیسے کوئی شخص اتنی جرا ¿ت کر سکتا ہے کہ عبادت گاہ میں آکر چوری کر لے۔“ شوبھا نے اسے سمجھاتے ہوئے کہا۔

”تم کبھی خود آزما کر دیکھ لینا اگر منت پوری نہ ہونی ہو تو پھل صبح تک اسی روڈ کے کنارے موجود مخصوص عبادت گاہ میں رکھا ملے گا بصورت دیگر تمہاری منت پوری ہو گئی ہو گی۔“

”اچھا۔“ نبیرہ نے مزید بحث میں الجھنا بے کار سمجھا سب کے اپنے اپنے عقائد اور رسومات ہوتی ہیں اس سلسلے میں الجھنا صرف بے وقوفی ہوتی ہے اس خیال نے اسے مزید کچھ کہنے سے باز رکھا اور پھر جب وہ ڈیڑھ سے دو گھنٹہ بعد گھر واپس آئی تو سکینہ جا چکی تھی البتہ روزینہ اور عمر گھر میں موجود تھے۔ وہ خاموشی سے اپنے کمرے میں آگئی شاپنگ بیگ بیڈ پر رکھے ہی تھے کہ روزینہ بھی اس کے پیچھے ہی آگئی ویسے بھی وہ بڑی بے ضرر سی عورت تھی کبھی کسی کے مسئلے میں دخل اندازی نہ کرنے والی اس کی جاب کافی سخت تھی صبح سے لے کر شام سات تک وہ آفس رہتی آج ہی شاید وہ آفس سے سیدھی ہی یہاں آگئی تھی، تھکن اس کے چہرے پر پھیلی ہوئی تھی۔

”السلام علیکم بھابی آجائیں بیٹھ جائیں۔“ نبیرہ نے خوش دلی سے سلام کرکے بیڈ پر اس کیلئے جگہ بنائی۔

”کیسی ہیں آپ؟“ وہ بھی اس کے قریب ہی بیٹھ گئی۔

”شکر الحمدا للہ میں تو بالکل ٹھیک ہوں سوچا چلتے چلتے تمہاری خیریت بھی دریافت کر لوں کیسی ہو تم؟“

”آپ کے سامنے ہی ہوں جیسی ہوں۔“ نہ چاہتے ہوئے بھی وہ تھوڑی سی تلخ ہو گئی۔

”ویسے تم نے اچھا کیا انکل صالح کو ایدھا اور سکندر کے بارے میں سب کچھ بتا دیا۔“ روزینہ دھیمی آواز میں بولی نبیرہ کی سمجھ میں نہ آیا کہ اسے کیا جواب دینا چاہئے کیونکہ اس گھر میں رہتے ہوئے اس کیلئے دوست اور دشمن کی پہچان بہت مشکل تھی وہ جواباً خاموش رہی۔

”میں جانتی ہوں نبیرہ تمہارے لئے ہم میں سے کسی پر بھی اعتبار کرنامشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن بھی ہے پھر بھی یقین کرو میری سب ہمدردیاں تمہارے ساتھ ہیں اگر تمہیں اس گھر میں رہتے ہوئے کبھی بھی میری مدد درکار ہو ضرور بتانا ہو سکتا ہے میں تمہارے کسی کام آجاﺅں۔“ روزینہ ہمیشہ سے نبیرہ کے ساتھ ہمدردانہ رویہ رکھتی تھی جس کا اندازہ کئی بار اسے ہوا تھا پھر بھی اس سلسلے میں کسی پر اعتبار کرنا ایک مشکل امر تھا وہ نہیں چاہتی تھی کہ کسی کو بھی علم ہو کہ صالح محمد کو فون اس نے کیا ہے یہ ہی سوچ کر وہ خاموش رہی۔

”اچھا چلو اب میں چلتی ہوں۔“ اس کی مسلسل خاموشی کو محسوس کرکے روزینہ اٹھ کھڑی ہوئی۔

”عمرگاڑی اسٹارٹ کر رہا تھا میں نے سوچا تم سے مل لوں۔“ اس نے اپنے جلدی اٹھنے کا جواز بھی بتا دیا اس کے ساتھ ہی نبیرہ اٹھ کھڑی ہوئی۔

”شکریہ بھابی آپ کی اس ہمدردی کا۔“ روزینہ سے گلے ملتے ہوئے اس نے کہا۔

”یقین کریں اگر مجھے کبھی بھی کوئی مسئلہ ہوا تو میں ضرور آپ سے ڈسکس کروں گی۔“ ربیعہ نے اسے جو حوصلہ عطا کیا تھا اس کی جھلک اس کے لہجہ میں بھی آگئی ہے جسے روزینہ نے بھی واضح طور پر محسوس کیا اسے آج اور کل کی نبیرہ میں ایک واضح فرق نظر آیا اسے اندازہ ہوا کہ شاید نبیرہ کو اس گھٹن میں کوئی روزن مل گئی ہے جس نے اسے زندگی گزارنے کا سلیقہ سکھا دیا ہے یا شاید گزرتے وقت نے اسے مضبوط کر دیا تھا بہرحال جو بھی تھا روزینہ کو یہ سب اچھا لگا کیونکہ اسے ہمیشہ باحوصلہ عورتیں اچھی لگتی تھی۔

QQQQ

محسوس کر رہا ہوں میں جینے کی تلخیاں

شاید مجھے کسی سے محبت نہیں رہی

”ایک انجان نمبر سے آنے والا انجان مسیج جانے کس کا تھا جو نبیرہ کے موبائل پر موصول ہوا نمبر غالباً پاکستان کا تھا اور ایسا پہلے ایک ہفتہ سے مسلسل ہو رہا تھا اور وہ چاہ کر بھی نہیں جاننا چاہتی تھی کہ یہ نمبر کس کا ہے ابھی بھی مسیج پڑھ کر بے دلی سے اس نے موبائل سائیڈ پر رکھ دیا۔

”کس کا مسیج ہے؟“ سکندر کمپیوٹر پر کوئی کام کر رہا تھا بظاہر تو ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے وہ نبیرہ سے قطعی لاتعلق ہو لیکن اس کے سوال کرتے ہی نبیرہ کو اندازہ ہوا کہ اس کی توجہ مکمل طور پر اس کی طرف ہی لگی ہوئی تھی۔

”پتا نہیں۔“ اس نے بے دلی سے جواب دے کر آنکھیں موند لیں۔

”یہ نمبر تو پاکستان کا ہے۔“ سکندر نے کب اس کے قریب رکھا فون اٹھایا اسے پتا ہی نہ چلا جب اپنے قریب سکندر کی آواز سنی تو چونک کر آنکھیں کھول دیں سکندر غالباً اسی نمبر پر کال ملا رہا تھا نبیرہ کے پاﺅں سے تو زمین ہی سرک گئی وہ سوچ بھی نہ سکتی تھی کہ سکندر اس طرح بھی کر سکتا ہے کیونکہ وہ جیسا بھی تھا کم از کم تجسس اس کی فطرت میں شامل نہ تھا یہ یقینا سکینہ کی پڑھائی ہوئی کوئی پٹی تھی نبیرہ گھبرا کر اٹھ کھڑی ہوئی۔

”میرا فون دو۔“ سکندر نے اس کا بڑھا ہوا ہاتھ سختی سے تھام لیا فون ابھی بھی اس کے کان سے لگا تھا یقینا دوسری طرف بیل جا رہی تھی فون کئے بنا بھی وہ جانتی تھی کہ دوسری طرف کون ہے کال ریسیو کر لی گئی تھی نبیرہ کو سانس لینا محال ہو گیا دوسری طرف سے کچھ کہا گیا سکندر نے کوئی بھی جواب نہ دیا وہ مسلسل خاموشی سے دوسری طرف کی بات سن رہا تھا نبیرہ کا ہاتھ ابھی بھی اس کے ہاتھ میں تھا۔

”یہ سنان کون ہے؟“ کان سے فون لگائے لگائے وہ نبیرہ کی طرف پلٹا۔

”اب یہ مت کہنا کہ تم نہیں جانتیں کیونکہ تمہارا وہ پرانا عاشق ابھی بھی تمہارے فراق میں مر رہا ہے۔“ پتا نہیں سنان نے فون بند کیا تھایا ابھی بھی لائن پر موجود تھا نبیرہ کو سمجھ ہی نہ آیا کہ وہ کیا جواب دے۔

”اماں…. اماں۔“ وہ اسے بازو سے پکڑ کر باہر لے آیا۔

”کرو ذرا ماموں صالح کو فون میں انہیں بتاﺅں اس نیک پارسا عورت کے کرتوت جس کے یار ابھی بھی پاکستان سے اسے فون کرتے ہیں۔“ وہ مسلسل چلا رہا تھا جبکہ نبیرہ دعا کر رہی تھی کہ زمین پھٹے اور وہ اس میں سما جائے یہ تو صرف وہ اس اور اس کا اللہ ہی جانتا تھا کہ سکندر جو کچھ کہہ رہا ہے سب لغو اور فضول ہے لیکن آج اس کی اسی بات کی گواہی دینے والا وہاں کوئی نہ تھا۔

”کیا ہو گیا کیوں اتنا ہنگامہ کر رہے ہو؟“ فاطمہ کے ساتھ رفیدا بھی کمرے سے باہر آگئیں۔

”کسی سے مسیج پر بات کر رہی تھی، میں نے اس کے ہاتھ سے فون چھین کر کال ملالی دوسری طرف کوئی مرد تھا فون ریسیو کرتے ہی بولا میں جانتا تھا جان من تم ضرور فون کرو گی کیونکہ تم تو بنی ہی اپنے سنان کےلئے تھیں یہ جانے سکندر جیسے لوگ کہاں سے بیچ میں آگئے۔“ سکندر کی بات سو فیصد جھوٹ پر مبنی تھی نبیرہ جانتی تھی کہ سنان کبھی بھی ایسا گھٹیا زبان استعمال نہیں کرتا اپنی اس دن کی بے عزتی کا بدلہ لینے کا موقع آج ہی سکندر کے ہاتھ آیا تھا جسے وہ کسی بھی صورت ضائع نہ کرنا چاہتا تھا اسی لئے اس کے جو دل میں آرہا تھا وہ بکے جا رہا تھا اس کی ہر بات کا مقصد صرف اور صرف نبیرہ کو بد کردار ثابت کرنا تھا کیونکہ اسی طرح وہ صالح محمد کو نیچا دکھا سکتا تھا۔ نبیرہ کا ذہن بالکل ہی ماﺅف ہو گیا۔

”توبہ استغفار میرے بیٹے کو سارے خاندان میں بدنام کر دیا اور اپنے گندے کرتوتوں کا پتا ہی نہیں۔“ فاطمہ اس کے قریب آکر بولیں۔ ”بکواس کر رہا ہے یہ بہتان لگا رہا ہے مجھ پر۔“ نبیرہ سکندر سے اپنا بازو چھڑواتے ہوئے زور سے چیخی۔

”میں بکواس کر رہا ہوں۔“ سکندر نے اسے بالوں سے پکڑ کر گھسیٹا۔

”پھر سے کہنا میں بکواس کر رہا ہوں۔ بولو ذرا ایک بار پھر سے بولو۔“ وہ مسلسل اس کے بالوں کو جھٹکے دیتا ہوا بولا۔

”ہاں…. ہاں۔ جھوٹ بول رہے ہو تم۔“

فاطمہ اس کے قریب آکر بولیں۔“ بکواس کر رہا ہے یہ بہتان لگا رہا ہے مجھ پر۔“ نبیرہ سکندر سے اپنا بازو چھڑواتے ہوئے زور سے چیخی۔

”میں بکواس کر رہا ہوں۔“ سکندر نے اسے بالوں سے پکڑ کر گھسیٹا۔

”پھر سے کہنا میں بکواس کر رہا ہظوں۔ بولو ذرا یک بار پھر سے بولو۔“ وہ مسلسل اس کے بالوں کو جھٹکے دیتا ہوں بولا۔

”ہاں…. ہاں۔ جھوٹ بول رہے ہو تم۔“

وہ تکلیف اور ذلت کے ملے جلے احساس کے تحت روتے ہوئے بولی۔

”صرف مجھ سے اپنا بدلہ لینے کیلئے جھوٹا الزام لگا رہے ہو۔“

”میں تم پر الزام لگا رہا ہوں آوارہ عورت۔“ سکندر نے اس کے منہ پر ایک زور دار طمانچہ مارا۔ اسے لگا اس کی سانس بند ہو جائے گی۔ وہ زمین پر بیٹھ کر زور زور سے رونے لگی اس سے قبل کہ سکندر ایک بار پھر اس کی طرف بڑھتا فاطمہ دونوں کے درمیان آگئی اور سکندر کو بازو سے پکڑ کر روک لیا۔

”چھوڑ دو اسے سکندر یہ ماں بننے والی ہے اس حالت میں اگر بچے کو کوئی نقصان پہنچا تو کیا ہو گا لوگ ہمیں ہی ذلیل کریں گے اسے کوئی کچھ نہ کہے گا۔“ فکر اس کی نہ تھی بلکہ اس بچے کی تھی جو دنیا میں آیا نہ تھا جو بھی تھا فاطمہ کی بروقت مداخلت نے اسے بچا لیا تھا۔

”اسے تو میں چھوڑ دیتا ہوں لیکن تم ابھی ماموں صالح کو فون کرو اور ہاں عبدالوہاب اور اس کی پاکستانی بیوی کو بھی بلاﺅ میں سب کو بتاﺅں اس عورت کے کرتوت۔“ وہ ہاتھ میں پکڑا موبائل نچا کر بولا۔

”صالح کسی کام کے سلسلے میں پاکستان گیا ہوا ہے واپس آجائے تو میں ضرور بات کروں گی لیکن فی الحال ابھی تم اپنی زبان بند رکھو۔“

”اور یہ تم کسے فون ملا رہی ہو؟“ سکندر سے بات کرتے کرتے وہ رفیدا کی طرف متوجہ ہوئی جو لینڈ لائن سے کسی کا نمبر ڈائل کر رہی تھی۔

”عبدالوہاب کو۔“ رفیدا کے جواب نے نبیرہ کے ہوش گم کر دیئے سنان کے مسیج ابھی بھی اس کے موبائل میں موجود تھے جو سکندر کے ہاتھ میں تھا یہ مسیج اسے گناہ گار ثابت کرنے کیلئے کافی تھے اگر پاکستان بھی اس نمبر کا حوالہ دیا تھا تو سب سمجھ جاتے کیا قصہ ہے اور اسے ہی قصور وار سمجھا جاتا اس کا دماغ شل ہو گیا وہ سمجھ نہ پا رہی تھی کہ سنان نے اس کا نمبر لیا کہاں سے لیکن وہ اتنا جانتی تھی کہ وہ ابھی بھی اسے مسیج بھیجے گا جو اس کے گناہوں کی فہرست میں اضافہ کا سبب بنیں گے ضروری تھا کسی طرح شفا کو فون کرکے یہ سب کچھ بتایا جائے یا کم از کم ربیعہ سے ہی اس کا رابطہ کرنا لازمی ہو چکا تھا اس سے پہلے اگر یہ سب کسی اور سے ربیعہ تک پہنچے گا تو لازمی اسے ذلت کا سامنا کرنا پڑے گا۔

”اللہ میری مدد فرما۔“ بے اختیار اس کے دل سے دعا نکلی جو اگلے ہی لمحے عرش پر جا پہنچی۔

”رکھو فون جب تک صالح بھائی سے بات نہ ہو تم عبدالوہاب کو فون نہیں کرو گی۔“ فاطمہ نے آگے بڑھ کر لائن ڈسکنکٹ کر دی جس کا رفیدا نے خاصا برا منایا غصہ کے اظہار کے طور پر وہ صوفہ سے اٹھی گود میں رکھا کشن زمین پر پھینکا اور پاﺅں پٹختی اپنے کمرے میں چلی گئی۔ زور دار دروازہ بند کرنے کی آواز لاﺅنج میں بھی سنائی دی۔ سکندر لاﺅنج کا دروازہ کھول کر باہر نکل گیا حماد اس سچوئیشن سے گھبرا کر رونے لگا تھا ایدھا اسے اٹھا کر اندر کمرے میں لے گئی۔ فاطمہ اس طرح کچن کی جانب بڑھ گئیں جیسے کچھ دیر قبل یہاں کچھ ہوا ہی نہ تھا نبیرہ دیوار سے ٹیک لگا کر زور زورسے رونے لگی اس کے رونے کی آواز سن کر فاطمہ پھر نکلیں کچھ دیر کھڑی اسے دیکھتی رہیں کچھ سوچا پھر آگے بڑھیں نبیرہ کو زور سے تھام کر کھڑا کیا وہ بنا احتجاج کئے اٹھ کھڑی ہوئی۔

”اپنے کمرے میں جاﺅ یہ مسئلہ رونے دھونے سے حل ہونے والا نہیں ہے۔ سکندر بہت غصہ میں ہے، میں کوشش کروں گی کہ آج جو کچھ ہوا اس کا ذکر اپنے بھائی سے نہ کروں لیکن تم بھی آئندہ احتیاط کرنا اپنے پچھلے معاشقے کو بھول جاﺅ اب تم شادی شدہ عورت ہو جس کیلئے اس کا مرد ہی سب کچھ ہوتا ہے اگر مرد کے تعلق غیر عورتوں سے ہوں تو کوئی انگلی نہیں اٹھاتا لیکن اگر عورت خراب ہو تو معاشرہ جینے نہیں دیتا اب تم خود سوچو تم پاکستان سے آتے ہی پریگننٹ ہو گئیں ساتھ ہی تمہاری عاشقی کی خبریں بھی عام ہو رہی ہیں بھلا بتاﺅ ہمارے لئے کتنی بے عزتی ہے یہ سب کچھ جو سنے گا وہ تو تمہارے بچے پر بھی شک کرے گا۔“

”فاطمہ کا اظہار ہمدردی اس کی سمجھ میں اب آیا تو اس بات کا مقصد یہ ثابت کرنا تھا کہ میں بدچلن عورت ہوں اسی لئے اتنی تمہید باندھی گئی اس کا مطلب یہ تھا کہ ان میں سے کوئی بھی ایسا نہ تھا جو انسان کہلانے کے لائق ہو اسے یکدم ہی اپنے آپ سے گھن محسوس ہوئی جو سکندر جیسے خود غرص شخص کا بچہ دوسری بار پیدا کرنے والی تھی۔ وہ تو آج تک یہ ہی سمجھ نہ پائی تھی کہ سکندر، اس کی ماں اور بہن کو اس سے کیا دشمنی ہے؟ اگر وہ سکندر کی شادی پاکستان میں نہیں کرنا چاہتے تھے تو کیوں کی؟ یہ شتہ اس کے ماں باپ نے زبردستی تو نہ دیا تھا پھر وہ جتنا سوچتی اس کا دماغ شل ہوتا جاتا سکندر کا رویہ اس کی سمجھ سے بالاتر ہو گیا تھا اس کے اس نفسیاتی پن کی کوئی نہ کوئی وجہ ضرور تھی جو جلد ہی اسے معلوم ہو گئی جسے سنتے ہی نبیرہ پر سب کچھ واضح ہوتا گیا۔

QQQQ

”نبیرہ سے بات ہوئی؟“ ردا نے شفا کے قریب بنچ پر بیٹھتے ہوئے اپنا کئی بار کا کیا ہوا سوال بھی پھر سے دہرایا جہاں تک شفا کو یاد پڑتا تھا پچھلے پندرہ دن سے اس کی ماں کوئی پچاس دفعہ یہ سوال کر چکی تھی جس کا جواب ہمیشہ نفی میں ہی ہوتا ہے۔

”نہیں امی اس کا فون ابھی بھی آف جا رہا ہے۔“ اس نے جواب دے کر دور کھڑے جنید اور امان پر ایک نظر ڈالی جو آئی سی یو کے باہر کسی ڈاکٹر سے مصروف گفتگو تھے۔

”پاپا کو روم میں کب شفٹ کر رہے ہیں۔“

”میرا خیال ہے شام تک کر دیں گے تم ایسا کرو نبیرہ کے گھر کے نمبر پر فون کرو دیا، پھر سکندر سے بات کرو تم جانتی ہو تمہارے پاپا نے روم میں جاتے ہی ایک بار پھر نبیرہ کی بابت دریافت کرنا ہے۔“

”دو دن پہلے میری سکندر بھائی سے بات ہوئی تھی انہوں نے کہا تھا گھر جا کر نبیرہ سے بات کرواتے ہیں لیکن ابھی تک ان کی کال ہی نہیں آئی اب مجھے اچھا نہیں لگ رہا ایک بار پھر انہیں ڈسٹرب کروں۔“ شفا نے تفصیل سے جواب دیا۔

”اچھا۔“ ردا نے کچھ دیر سوچا اور پھر اپنے پرس کی زپ کھول کر تھوڑی سی تلاش کے بعد ایک کارڈز نکالا شفا کی طرف برھایا۔

”اس کے پیچھے نبیرہ کے گھر کا نمبر ہے میرا خیال ہے تم اس نمبر پر فون کرو۔“ اسے کارڈ تھما کردہ جنید کی جانب چل دیں اور پھر کئی بار کی کوشش نے شفا کو مایوس کر دیا بیل تو جا رہی تھی شاید گھر پر کوئی نہ تھا وہ بھی بنچ سے اٹھ کر وہیں چل دی جہاں اس کے گھر کے دیگر افراد موجود تھے۔ پہلے وہ آئی سی یو کی طرف گئی شیشے کی دیوار سے اس پار اپنے باپ پر ایک نظر ڈالی ان کی آکسیجن ہٹا دی گئی تھی ایک نرس ان کے قریب کھڑی تھی غالباً انہیں روم میں شفٹ کیا جا رہا تھا اسے کس قدر اطمینان حاصل ہوا پھر وہ واپس پلٹ کر اپنی ماں کی جانب آگئی۔

”میرا خیال ہے ان کے گھر پر ہی کوئی نہیں ہے مگر آپ پریشان نہ ہوں میں آج رات ہی گھر جاتے ہی دوبارہ فون کروں گی۔“ ردا کے سوال کرنے سے قبل ہی اس نے انہیں تفصیل بتا کر تسلی بھی دے ڈالی اور پھر اپنے وعدہ کے مطابق رات کے نو بجے جب ملائیشیا میں بارہ بج چکے تھے اس نے دوبارہ کال کی تین بار فون کسی نے ریسیو نہ کیا چوتھی بار دوسری طرف سے فون اٹھا لیا گیا۔

”ہیلو….“ نیند میں ڈوبی ہوئی آواز رفیدا کی تھی۔ شفا شرمندہ سی ہو گئی اپنی پریشانی میں اس نے ٹائم کے اس فرق پر دھیان ہی نہ دیا تھا جو بھی تھا اب فون بند کرنا نری حماقت تھی۔

”السلام علیکم مجھے نبیرہ سے بات کرنی ہے۔“ رفیدا سے اس کی ویسے بھی اتنی بات چیت نہ تھی۔

”اماں…. اماں۔“ رفیدا نے بنا جواب دیئے فون سائیڈ پر رکھ کر اپنی ماں کو پکارا اس کی تیز آواز ایئر پیس سے باہر بھی سنائی دے رہی تھی جلد ہی فون ایک بار پھر اٹھا لیا گیا۔

”السلام علیکم آنٹی میں شفا بات کر رہی ہوں۔“

”وعلیکم السلام بیٹا خیریت تم نے اتنی رات میں فون کیا۔“

”جی دراصل نبیرہ کا فون مسلسل آف جا رہا تھا۔“ اس کی سمجھ میں نہ آیا کہ وہ کیا بات کرے۔

”ہاں وہ ہسپتال میں ہے۔“

”ہسپتال میں….“ اسے اچنبھا سا ہوا جہاں تک اسے یاد پڑتا تھا ابھی تو نبیرہ کی ڈلیوری میں تقریباً دو ماہ کا وقت درکار تھا پھر وہ ہسپتال میں کیوں تھی وہ گھبرا سی گئی۔

”آنٹی سب ٹھیک تو ہے نا؟“

”ہاں ہاں اللہ کا شکر ہے سب ٹھیک ہے۔ دراصل سکندر کو اللہ تعالیٰ نے ایک اور بیٹے سے نوازا ہے۔“

”اوہ۔ آپ کو بہت بہت مبارک ہو۔“ اسے عجیب تولگا فاطمہ نے نبیرہ کے بجائے سکندر کا نام لیا۔ لیکن وہ بولی کچھ نہیں۔

”خیر مبارک اور تمہارے وہاں سب خیریت ہے۔“

”جی ہاں بس پاپا کو ہارٹ اٹیک ہوا ہے اسی سلسلے میں نبیرہ سے رابطہ کر رہے تھے جو نہ ہو سکا سو آپ کو زحمت دی اب پلیز ہو سکے تو میری اس سے بات ضرور کروا دیجئے گا، میں منتظر رہوں گی۔“

”اچھا۔ اب کیسے ہیں احتشام بھائی۔“

”شکر الحمدا للہ اب تو ٹھیک ہیں بہرحال آپ سکندر بھائی اور نبیرہ کو بھی ہماری طرف سے مبارک دیجئے گا اور ہو سکے تو اس کی ہم سے بات کروا دیں کیونکہ گھر میں سب ہی بہت پریشان ہیں۔“

”میں سکندر سے کہہ دوں گی وہ بات کروا دے گا تم گھر پر سب کو میرا سلام دینا۔“ اس کے ساتھ ہی فاطمہ نے فون بند کر دیا۔

”عجیب سے لوگ ہیں اگر آنٹی فون بند کرنے سے پہلے اللہ حافظ کہہ دیتیں تو ان کا کیا ہوتا۔“ شفا نے کلس کر سوچا تھوڑی دیر تو وہ ریسیور ہاتھ میں لئے بیٹھی رہی پھر فون رکھ کر دوبارہ اپنی مما کا نمبر ملایا تاکہ انہیں نبیرہ اور اس کے بیٹے کے بارے میں اطلاع دے سکے۔

QQQQ

وہ دائیں طرف کروٹ لئے کاٹ میں لیٹے اس چھوٹے سے فرشتے کو دیکھنے میں اتنی محو تھی کہ کب دروازہ کھول کر سکندر اور حماد اندر آئے اسے پتا ہی نہ چلا۔

”واﺅ یہ تو بہت کیوٹ ہے۔“ حماد کی آواز اس کے کان سے ٹکرائی وہ یکدم دم چونک اٹھی۔ سکندر بھی کاٹ کے پاس کھڑا تھا۔

”مجھے یہ بے بی لینا ہے۔“ حماد اس کے قریب آگیا۔

”جسٹ اے منٹ بیٹا ابھی دیتے ہیں تمہیں یہ پیارا سا بے بی۔“ سکندر نے باہر رکھی بے بی چیئر لا کر کاٹ کے قریب رکھ دی۔ حماد اس پر چڑھ گیا اور فوراً کاٹ میں لیٹے ابوذر کے ننھے سے ہاتھ کو تھام لیا نبیرہ اس منظر کو بڑی دلچسپی سے دیکھ رہی تھی۔

”ایک مکمل فیملی میں، میرا شوہر اور میرے دونوں بچے۔“ کچھ دیر کیلئے ہی سہی اس نے اپنے دل کو اطمینان دلایا۔

”کیسی ہو؟“ سکندر اس کے قریب آکھڑا ہوا۔

”ٹھیک ہوں۔“ مختصر سا جواب دے کر وہ اٹھ بیٹھی او ربیڈ سے ٹیک لگا لی۔ اتنی دیر میں سکندر اپنی جیب سے کچھ نکال چکا تھا۔

”یہ لو اپنا سیل۔“ اس نے نبیرہ کا موبائل اس کے تکیے کے قریب رکھ دیا۔

”میں نے سم تبدیل کر دی ہے نئی سم میں تمہارے تمام جاننے والوں کا نمبر محفوظ کر دیا ہے مجھے امید ہے کہ اب تم اپنا نمبر فالتو لوگوں کو نہ دوں گی۔“ بات کرتے کرتے وہ رکا ایک نگاہ نبیرہ پر ڈالی جو خاموشی سے بیٹھی اپنے ناخنوں کو تک رہی تھی۔

”تمہارے گھر والے تم سے بات کرنا چاہتے ہیں چاہوتو تم خود فون کر لو۔ اس میں بیلنس ہے ورنہ تمہاری بہن کچھ دیر تک تمہیں کال کر لے گی۔“

”اوہ تو یہ وجہ ہے جو آج اتنے عرصہ بعد مجھے فون لوٹانے کی ضرورت پیش آئی۔“ نبیرہ نے تلخی سے سوچا اس سے قبل کہ وہ کچھ کہتی اس کا سیل گنگنا اٹھا۔ امان کا نمبر سکرین پر جگمگا رہا تھا۔

”ہیلو۔“ یس کا بٹن پش کرکے اس نے فون کان سے لگا لیا دوسری طرف شفا تھی جس نے بڑے پرجوش انداز میں اسے مبارکباد دی پھر گھر کے قریباً تمام افراد نے اس سے فرداً فرداً بات کی اس کی ناسازی طبیعت کے باعث ردا نے سب کو منع کر دیا کہ کوئی اسے احتشام صاحب کے بارے میں نہ بتائے گا ویسے بھی اب وہ بالکل ٹھیک تھے اور جب اس سے امان کی بیوی حریانے بھی بات کی تو اسے یکدم رحاب یاد آگئی۔

”رحاب بھابی کہاں ہیں؟“ فون رکھنے سے قبل اس نے شفا سے دریافت کیا۔

”وہ دراصل پنی امی کی طرف گئی ہیں۔ مرینہ پاکستان آئی ہوئی ہے اگلے ہفتہ سنان کی شادی ہے اسی سلسلے میں شاپنگ میں مصروف ہیں۔“ شفا نے تفصیل سے جواب دیا اور نبیرہ کچھ بول ہی نہ سکی سنان سے اس کا کوئی رشتہ نہ تھا جو تھا وہ بھی ٹوٹے ہوئے زمانے گزر گئے پھر بھی جانے کیوں اس کی شادی کا سنتے ہی نبیرہ کا دل بجھ سا گیا اسے احساس ہوا شاید سنان آج بھی اس کے دل میں کہیں موجود ہے۔

”میں بھی کتنی بے وقوف ہوں خود ایک شادی شدہ زندگی گزار رہی ہوں دو بچوں کی ماں بن چکی ہوں اور آج بھی یہ چاہتی ہوں کہ سنان کسی کا نہ ہو شاید میں خود غرض ہوں جو کسی دوسرے کو خوش نہیں دیکھ سکتی، اس سوچ نے اسے شرمندہ کر دیا۔

”اللہ کرے سنان کو وہ تمام خوشیاں نصیب ہوں جو میرا مقدر نہ بن سکیں۔“ اس نے صدق دل سے دعا کی۔

کیسے انداز شوق سے کہہ دیا تم نے الوداع

جیسے صدیوں سے تیرے دل پر کوئی بوجھ تھے ہم

اس کی آنکھ سے آنسو ٹپکا اس نے گھبرا کر سکندر ک طرف دیکھا جو فون پر شاید امان سے بات کرنے میں مصروف تھا۔

”شکر ہے اس نے نہیں دیکھا ورنہ جانے میرا کیا حشر کرتا۔“ اپنے دل کی خلش دور کرنے کیلئے اس نے کاٹ میں پڑے ابوذر کو گود میں اٹھا لیا اسے اپنے سینے سے بھینچتے ہوئے اسے احساس ہوا کہ اس کی زندگی کا حاصل تو اب صرف اس کے بچے ہیں

QQQQ

جانے وہ کون تھی جو پچھلے آدھے گھنٹہ سے مسلسل سکندر کے پاس کھڑی تھی نبیرہ نے اسے، آج سے قبل پہلے کبھی نہ دیکھا تھا فاصلہ ہونے کے باوجود وقفہ وقفہ سے اس کی کھنکتی ہنسی کی آواز نبیرہ کے کانوں سے ٹکرا رہی تھی آج حماد کی سالگرہ تھی جس کا اہتمام ایک قریبی ہوٹل میں کیا گیا تھا تمام مہمان آچکے تھے جن سے نبیرہ بخوبی واقف تھی واحد یہ لڑکی تھی جسے اس نے آج پہلی بار دیکھا تھا اسے حیرت تھی کہ سکندر جیسا خشک مزاج مرد بھی کسی لڑکی کے ساتھ کھڑا بلند و بانگ قہقہہ لگا سکتا ہے اسی تجسس نے اسے مجبور کیا کہ وہ روزینہ سے اس لڑکی کے بارے میں دریافت کرے جو اس کے برابر ہی صوفہ پر براجمان کسی رشتہ دار خاتون سے باتوں میں مگن تھی جب اسے نبیرہ نے ٹہوکا دیتے ہوئے اپنی طرف متوجہ کیا ہے۔

”بھابی یہ لڑکی کون ہے؟“ اس نے کچھ فاصلے پر کھڑی لڑکی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے روزینہ سے دریافت کیا۔

”کون سی لڑکی ہے؟“ روزینہ نے بے دھیانی سے یہاں وہاں دیکھا۔

”افوہ وہ سامنے دیکھیں بلیک میکسی میں جو سکندر کے قریب کھڑی ہے۔“

”کہاں…. اوہ اچھا وہ والی۔“ نبیرہ کے اشارے کی طرف دیکھتے ہوئے اس نے سر ہلایا۔

”وہ سکندر کے چھوٹے چچا رجی احمد کی بیٹی نور ہلیزا ہے۔“

”مگر میں نے تو اسے پہلے کبھی نہیں دیکھا؟“ نبیرہ نے حیرت سے کہا۔

”حالانکہ میں تو کئی بار ان کے گھر گئی ہوں۔“

”نہیں دیکھا ہو گا کیونکہ وہ اس سے قبل یہاں تھی نہیں۔“ روزینہ نے اپنی توجہ مکمل طور پر نبیرہ کی طرف مرکوز کردی۔

”اصل میں شاید تمہیں کسی اور بات کا علم بھی نہیں ہے۔“

”کسی اور بات سے کیا مراد ہے آپ کی؟“ نبیرہ نے اپنے قریب ہی کاٹ میں لیٹے ہوئے ابوذر کے منہ سے فیڈر ہٹا کر سائیڈ پر رکھتے ہوئے سوال کیا۔

”یہ لڑکی سکندر کی صرف کزن ہی نہیں ہے بلکہ اس کی سابقہ منگیتر اور محبوبہ ہونے کا اعزاز بھی رکھتی ہے۔“ وہ آہستہ آواز میں بولی۔

”واٹ….”سکندر کی محبوبہ“ کیا یہ سچ ہے؟“ درحقیقت خبر خاصی حیران کن تھی۔

”ہاں بھلا میں تم سے جھوٹ کیوں بولوں گی۔“

”نہیں نہیں بھابی میرا یہ مطلب نہیں ہے مجھے حیرت صرف اس بات پر ہے کہ جب سکندر کی کزن نہ صرف اس کی محبوبہ بلکہ منگیتر بھی تھی تو پھر میں ان دونوں کے درمیان میں کہاں سے آگئی۔“ اس نے اپنے قریب کھڑے حماد کو دیکھا جو ابوذر کو پیار کرنے آیا تھا۔ حماد ماں کے قریب نہ پھٹکتا تھا مگر بھائی کی محبت اسے ٹکنے نہ دیتی تھی۔ ذرا ذرا دیر میں وہ اسے چھونے ضرور آتا تھا۔ اس کا ابوذر سے یہ اظہار محبت نبیرہ کو بہت اچھا لگتا ابھی بھی وہ سب کچھ بھول کر ایک پل کیلئے حماد اور ابوذر کی جانب متوجہ ہو گئی اسی سمے اس کی نگاہ ایدھا پر پڑی جو سکندر اور نور ہلیزا کے پاس کھڑی ہوئی تھی۔

”بھابی کیا آپ کو ان دو عورتوں کے درمیان میری جگہ نظر آرہی ہے؟“ اس کی اس بات کا جواب روزینہ کے پاس نہ تھا، اس نے ایک ٹھنڈی سانس بھری۔

”آپ مجھے بتائیں گی کہ سکندر نے نور ہلیزا سے شادی کیوں نہ کی؟“

”ہاں مگر پہلے تم یہ وعدہ کرو کہ کسی سے یہ سب باتیں نہ کرو گی جو میں تمہیں بتاﺅں گی۔“

”آپ اچھی طرح جانتی ہیں کہ میری کسی سے اتنی دوستی نہیں ہے جس سے میں یہ سب کچھ شیئر کروں۔“

”اصل میں نبیرہ شادی سے صرف پندرہ دن قبل یہ لڑکی اپنے بینک میں جاب کرنے والے کسی سکھ نوجوان کے ساتھ بھاگ گئی تھی۔“ روزینہ کی آواز بالکل مدھم ہو گئی۔

”اوہ….“ اس کی سمجھ میں نہ آیا وہ مزید کیا کہے۔

”اور پھر اس کے بعد نہ جانے اس نے رامیش سے نکاح کیا یا نہیں مجھے تو یہ بھی علم نہیں ہے کہ وہ مسلمان ہوا بھی تھا یا نہیں بہرحال جو بھی ہے کچھ عرصہ قبل جب تم پاکستان گئی تھیں اپنے بھائی کی شادی کے سلسلے میں، ان ہی دنوں یہ محترمہ روتی دھوتی واپس آگئیں اور ماں باپ نے اسی عزت سے دوبارہ گلے لگا لیا وہ تو شکر ہے اپنے ساتھ کوئی بچہ نہیں لے آئی ورنہ جانے اس کا کیا مذہب ہوتا جس کی ماں مسلمان اور باپ سکھ تھا اللہ معاف کرے۔“

”اس کا مطلب یہ ہوا کہ نور ہلیزا کی محبت نے سکندر کو کبھی میرا نہ ہونے دیا۔“

”غلط سمجھ رہی ہو تم سکندر نے اس کا غم ایک ہفتہ سے زیادہ نہ منایا تھا، اس واقعہ کے صرف ایک ماہ بعد ہی اس کا افیئر کسی ہندو لڑکی سے شروع ہو گیا تھا یہ وہ دن تھے جب فاطمہ برملا یہ کہتی تھیں کہ سکندر ایک ہندو کو اسلام میں داخل کرنے والا ہے وہ لڑکی رفیدا کی دوست بھی تھی۔“

”اوہ پھر….“ اس کے رکتے ہی نبیرہ جلدی سے بولی۔

”پھر کیا وہ بھی سکندر کو دھوکہ دے گئی اور یہاں سے جاب ختم کرکے انڈیا واپس چلی گئی لیکن جاتے جاتے اس نے سکندر پر نہایت ہی رکیک قسم کے الزامات لگائے جانتی ہو اس نے کیا کہا؟“ بات کرتے کرتے اس نے نبیرہ کے خوبصورت چہرے پر ایک نظر ڈالی پنک کا مدانی سوٹ کی جھلک اس کے چہرے پر بھی پڑ رہی تھی جس سے نبیرہ کی رنگت خاصی کھلی کھلی سی محسوس ہو رہی تھی۔

”نہیں….“ نبیرہ نے نفی میں سر ہلایا۔

”جلدی سے بتا دیں میرا خیال ہے کیک آگیا ہے۔“ اسے خطرہ تھا کہیں روزینہ کی بات درمیان میں ہی نہ رہ جائے جبکہ آج وہ سب کچھ جان لینا چاہتی تھی۔ سکندر کی مختلف پرتوں میں چھپی شخصیت حیرت در حیرت اس کے سامنے عیاں ہو رہی تھی اس کی شخصیت کا ہر نیا رنگ اسے چونکا رہا تھا، وہ حیرت کے ساتھ ساتھ شاک بھی تھی اس کا دل دھک دھک کر رہا تھا جانے اب روزینہ مزید کیا کہنے والی تھی کون سا نیا انکشاف اس کی نوک زبان پر تھا۔ مارے تجسس اس کا سارا وجود ہمہ تن گوش تھا۔

”سادھنا جانے سے پہلے مجھ سے اور رفیدا سے ملی تھی اس کا کہنا تھا کہ سکندر ہم جنس پرستی کا شکار ہے۔“

”کیا۔“ اس کا منہ شدید حیرت کے عالم میں کھلا کا کھلا رہ گیا۔

”ہاں نبیرہ جانے یہ سچ تھا یا جھوٹ ہو وہ کہتی تھی کہ اس نے یہ سب کچھ خود اپنی آنکھوں سے دیکھا اس کا کہنا تھا سکندر کی اس گھٹیا حرکت نے اسے مجبور کیا ہے کہ وہ اپنے وطن واپس لوٹ کر اپنے ہی ہم مذہب سے شادی کر لے کیونکہ اسے یہاں آکر اپنے ہم مذہبوں اور سکندر میں کوئی نمایاں فرق نظر نہ آرہا تھا۔“ نبیرہ کے کان سائیں سائیں کر رہے تھے اس نے دور کھڑے سکندر پر ایک نگاہ ڈالی بظاہر صاف ستھری لیکن درحقیقت گھناﺅنی شخصیت۔

”بیٹا زندگی میں ہمیشہ کوشش کرنا بلندی کی جانب دیکھو۔“ اس کے کانوں میں اپنے باپ کا یہ جملہ گونجا، اس کا دل رو دیا۔

”کاش پاپا آپ یہاں ہوتے تو آپ کو پتا چلتا کہ میں کتنی بلندی پر ہوں جہاں سے نیچے آنا نہ صرف مشکل بلکہ ناممکن ہے، آپ کے اس شوق بلندی نے مجھے ایک پہاڑ پر لاکھڑا کیا ہے۔ پاپا جہاں سے گر کر میرا وجود ریزہ ریزہ ہو سکتا ہے اور کچھ بھی نہیں، جانے کیوں ماں باپ اپنی اولاد کو ایسی بلندیوں کی طرف دھکیلتے ہیں جہاں سے واپسی کا کوئی راستہ نہیں ہوتا۔

”بھابی ان سب باتوں کا انکل صالح کو علم تھا؟“ اس نے ایک نظر دور بیٹھے انکل صالح اور عائشہ آنٹی پر ڈالی۔

”تمہارا کیا خیال ہے؟“ روزینہ نے پلٹ کر اس سے سوال کیا۔

”میرا تو یہ خیال ہے کہ وہ لاعلم تھے ورنہ کبھی میرے ساتھ یہ زیادتی نہ کرتے۔“ وہ پراعتماد لہجہ میں بولی۔

”تو پھر یہ سن لو کہ تمہارا خیال سو فیصد غلط ہے۔“ روزینہ اٹھ کھڑی ہوئی کیک کاٹنے کےلئے ٹیبل پر رکھا جا چکا تھا۔

”اٹھ جاﺅ تم بھی کیونکہ رفیدا مسلسل ہمیں ہی دیکھ رہی ہے۔“ نبیرہ خاموشی سے اٹھ کھڑی ہوئی۔

”ایک اور دھوکہ، ایک اور مفاد پرستی، یہ سب لوگوں کو میں ہی کیوں نظر آئی تھی۔“ اس کے دل میں ایک شکوہ سا ابھرا۔

”اصل میں یہاں کوئی بھی سکندر کو رشتہ دینے پر آمادہ نہ تھا اور سچی بات تو یہ ہے کہ اسے بھی شادی کا کوئی خاص شوق نہ تھا وہ تو رفیدا اور اس کی ماں چاہتی تھیں کہ اسے ایک غیر اخلاقی اور گھناﺅنے فعل سے باز رکھا جائے جس کا بہتر حل اس کی شادی میں پوشیدہ تھا اس سلسلے میں مامی نے اپنے بھائی سے رابطہ کیا جنہوں نے اپنی بیوہ بہن کے دکھ کو محسوس کرکے تمہارے رشتہ کیلئے کوشش کی اور خوش قسمتی سے وہ کامیاب بھی رہے اور سب کچھ تو چھوڑو مجھے صرف اتنا بتاﺅ تمہارے ماں باپ سگے تھے؟“ اس نے اپنی بات کے اختتام پر ہی نبیرہ سے سوال کیا۔ ایسا سوال جس کا جواب وہ جانتی تھی لیکن اس سوال میں چھپا طنز نبیرہ کو زمین میں گاڑ گیا۔

”ہمیں تو یہ سمجھ میں نہیں آتا کس طرح تمہارے گھر والوں نے بغیر کسی انکوائری اور چھان بین کے سکندر کو تمہارا رشتہ دے دیا؟“ ایک اور سوال جس کا جواب وہ دینا ہی نہ چاہتی تھی اسی لئے خاموشی سے آگے بڑھ گئی انکل صالح کے پاس سے بنا سلام و دعا لئے وہ ٹیبل کی جانب آگئی جہاں کیک کاٹنے کیلئے اس کا انتظار ہو رہا تھا وہ پہلا دن تھا جب نور ہلیزا اس کی زندگی میں آئی لیکن پھر آنے والے دن میں اس کی حیثیت نبیرہ کی زندگی میں ایک لازمی کردار کی سی ہو گئی ایک ایسا کردار جو اس کی روزمرہ زندگی کا لازمی حصہ بن گیا۔

QQQQ

ابوذر جاگ گیا تھا اس کے رونے کی آواز سنتے ہی نبیرہ بے چین ہو اٹھی جلدی جلدی شاور بند کیا۔ باتھ گاﺅن لپیٹا جب تک باتھ روم کا دروازہ کھول کر وہ کمرے میں آئی ابوذر کی آواز خاموش ہو گئی شاید حماد آگیا تھا۔ ابوذر اسے پہچانتا تھا اکثر و بیشتر اسے سامنے دیکھ کر وہ رونا بھی بھول جاتا تھا اب بھی یقینا ایسا ہی ہوا تھا لیکن کمرے میں موجود ابوذر کی کاٹ خالی تھی غالباً فاطمہ اسے باہر لے گئی تھیں کیونکہ رفیدا گھر پر نہ تھی اور حماد کسی ایسی حرکت کا مرتکب نہیں ہو سکتا تھا یہ سوچ کر اس نے کپڑے بدل لئے اور اپنے کمرے کا دروازہ کھول کر کاریڈور سے ہوتی ہوئی لاﺅنج میں آگئی سامنے رکھے صوفے پر نور ہلیزا ٹانگ پر ٹانگ دھرے اپنے موبائل پر بزی تھی اس کے قریب ہی ابوذر خاموشی سے لیٹا تھا قریب رکھی بے بی چیئر پر بیٹھا حماد مزے سے پزا کھا رہا تھا فاطمہ بھی اپنے سامنے پزا اور کون کا ٹن لئے بیٹھی تھیں۔ نور ہلیزا کی وہاں موجودگی قطعی غیر متوقع تھی اسی لئے نبیرہ تھوڑی سی نروس ہو گئی۔

”السلام علیکم۔“ اس نے بنا کسی کی جانب دیکھے سلام کیا جس کا جواب دینے کی زحمت کسی نے نہ کی۔ نورہلیزا مسلسل موبائل پر بزی تھی اور فاطمہ کھانے میں، وہ تھوڑی سی شرمندہ ہو گئی۔

”لائیں اسے مجھے دے دیں۔“ نہ چاہتے ہوئے بھی اسے نور ہلیزا کو مخاطب کرنا پڑا۔ نبیرہ کے پکارنے پر اس نے نگاہ اٹھا کر اک ذرا کی ذرا اس کی جانب دیکھا اور خاموشی سے ابوذر کو اٹھا کر اس کی طرف بڑھا دیا جسے نبیرہ نے فوراً سے بیشتر تھام لیا۔

”جب نہانے جایا کرو تو اسے مجھے دے جایا کرو ابھی نور نہ دیکھتی تو یہ کاٹ سے گر جاتا۔“ کھانے کا شغل جاری رکھتے ہوئے اس کی ساس نے جتایا۔

”جی اچھا۔“ مختصر سا جواب دے کر وہ کچن میں آگئی تاکہ ابوذر کےلئے فیڈر تیار کر سکے سامنے سلیب پر موجود فاسٹ فوڈز کے ڈبے اس امر کی نشاندہی کر رہے تھے کہ یہ سب نور ہلیزا لے کر آئی ہے کیونکہ اس کے علاوہ اس وقت گھر پر کوئی اور موجود نہ تھا، نبیرہ نے بنا کسی چیز کو ہاتھ لگائے خاموشی سے فیڈر تیار کیا کچن کی کھڑکی پر پڑنے والی بوندوں نے اسے احساس دلایا کہ باہر بارش ہو رہی ہے وہ کھڑکی کے مزید قریب ہو گئی تاکہ باہر کا منظر دیکھ سکے۔

ہلکی ہلکی بوندا باندی میں خوبصورت ہرے بھرے درخت اور بھی حسین و دلفریب لگ رہے تھے۔ بے خیالی میں ہی اس کی نگاہ گھر کے گیٹ پر پڑی رفیدا اپنی سائیکل لے کر اندر آرہی تھی وہ ہمیشہ سائیکل پر ہی آفس جاتی تھی نبیرہ نے گھڑی پر ایک نظر ڈالی ابھی رفیدا کی واپسی میں پورا گھنٹہ باقی تھا غالباً اس کی جلدی واپسی کا سبب بھی نور ہلیزا ہی تھی۔ نبیرہ تیزی سے کچن سے نکل کر اپنے کمرے میں آگئی اس وقت اس کا موڈ رفیدا کا سامنا کرنے کا بالکل بھی نہ تھا، ابوذر فیڈر پیتے ہی سو گیا اس نے اپنے کمرے کی کھڑکی پر پڑا پردہ ہٹا کر باہر جھانکا بارش ابھی بھی جاری تھی سامنے ہی سکندر کی گاڑی کی موجودگی اس بات کا ثبوت تھا کہ وہ بھی گھر آچکا ہے نبیرہ کا دل چاہا وہ سڑک پر دور تک اس بارش میں بھیگتی ہوئی جائے اس خیال کے آتے ہی اس نے پلٹ کر ایک نظر ابوذر پر ڈالی اور ایک ٹھنڈی آہ بھری عشاءکے بعد وہ ابوذر کو لے کر باہر نہ جا سکتی تھی یہ اس کی ساس کا حکم تھا جس پر عمل کرنا اس کی مجبوری تھی اس نے اپنے کمرے کے پیچھے کی جانب کھلنے والے دروازہ کا لاک کھولا اور پہلی ہی سیڑھی پر بیٹھ گئی جانے کتنی دیر وہ اس طرح بیٹھی رہی جب اس کی توجہ کچھ ملی جلی آوازوں نے اپنی جانب مبذول کروائی نور ہلیزا گھر جا رہی تھی رفیدا اسے چھوڑنے باہر آئی تھی حماد بھی ان کے ساتھ تھا کچھ ہی پل میں سکندر کی گاڑی کے اسٹارٹ ہونے کی آواز نے واضح کیا کہ وہ نور ہلیزا کو اس کے گھر سیگا پور چھوڑنے گیا ہے۔

اس کا بے ساختہ دل چاہا وہ بھی ساتھ جائے کیونکہ وہاں ربیعہ رہتی تھی پچھلے کچھ دنوں سے اس کا دل ربیعہ سے ملنے کو چاہ رہا تھا نہ چاہتے ہوئے بھی اپنی اس خواہش کو دل میں دبائے وہ اندھیرے میں سیڑھی پر بیٹھی رہی گاڑی کی دور تک معدوم ہوتی لائٹیں دیکھ کر وہ اٹھ کھڑی ہوئی پیٹ میں اٹھتی ٹیس نے اسے احساس دلایا وہ بھوکی ہے اسی لئے خاموشی سے کچن میں رکھے ٹیبل پر آگئی جہاں دوپہر کا سالن اور چاول جوں کے توں موجود تھے اس نے پلیٹ میں تھوڑا سا کھانا نکالا اور کمرے میں آگئی، سکندر کی واپسی کب ہوئی اسے علم ہی نہ ہو سکا ویسے بھی وہ آج کل زیادہ تر دوسرے کمرے میں ہی سوتا تھا وجہ ابوذر تھا بقول سکندر کے رات میں وقفہ وقفہ سے ابوذر کے رونے کی آواز اسے ڈسٹرب کرتی تھی جس کی بنا پر وہ صبح اپنا کام صحیح طور پر انجام نہ دے پاتا تھا، جو بھی تھا سکندر کی اس روٹین سے اب نبیرہ کو کوئی فرق نہ پڑتا تھا۔ وہ تنہائی کی عادی ہو چکی تھی اس کی زندگی میں اب اگر کوئی احساس باقی تو وہ یقینا ابوذر تھا۔ اس کے علاوہ اسے اب کسی کی بھی کوئی پروا نہ رہی تھی۔ یہ ہی وجہ تھی وہ بنا کسی احساس کے جلد ہی سو گئی۔

QQQQ

جانے فون کے دوسری جانب کون تھا۔ وہ پچھلے پندرہ منٹ سے سکندر کو اسی طرح فون پر بات کرتا دیکھ رہی تھی۔ اس کی آواز اس قدر دھیمی تھی کہ باوجود کوشش کہ وہ سن نہ پا رہی تھی کہ فون کس کا ہے۔ ٹی وی پر اس کی پسندیدہ ملائی سیریل آرہی تھی جسے پوری توجہ سے دیکھتے ہوئے بھی اس کا دھیان بار بار بھٹک کر سکندر کی جانب جا رہا تھا۔ فون بند کرتے ہی اس نے اپنے قریب بیٹھی رفیدا سے کچھ کہا۔ جس نے فوراً نبیرہ پر نگاہ ڈالی۔

”لگتا ہے بھابی کے گھر مہمانداری کا رواج نہ تھا۔“ یکدم رفیدا کے با آواز بلند مخاطب کئے جانے پر وہ چونک اٹھی۔ رفیدا کی بات کا مقصد کیا تھا، وہ سمجھ ہی نہ پائی اور نا سمجھی والے انداز سے اس کی جانب تکا۔

”وہاں تو شاید کسی بھی چیز کا رواج نہ تھا۔ مہمانداری تو بہت دور کی بات ہے۔“ یہ طنزیہ فقرہ سکندر کی جانب سے آیا تھا۔ وہ اب بھی نہ سمجھ پائی تھی کہ کیا ہوا ہے؟

”تم مجھ سے کچھ کہہ رہی ہو؟“ سکندر کی بات کو قطعی نظر انداز کرتے ہوئے اس نے بڑے تحمل سے رفیدا کو مخاطب کیا۔

”ظاہر ہے تمہارے علاوہ اور کون ہے یہاں کم ذات، جس سے کچھ کہا جائے۔“ سکندر تنک کر بولا جبکہ رفیدا خاموشی سے ٹی وی اسکرین پر نظریں جمائے ٹانگیں ہلا رہی تھی۔ بالکل ایسے جیسے بات کو ہوا دینے کے علاوہ اس کا دوسرا مقصد نہ تھا۔ اس کی تو سمجھ میں ہی نہ آرہا تھا کہ یکدم سکندر کو ہوا کیا ہے وہ ہونق بنی اس کی جانب دیکھ رہی تھی۔

”جانتی ہو فون کس کا آیا تھا؟“

”نور ہلیزا کا۔“ کچھ دیر نبیرہ کے چہرے پر نظریں جمائے ہوئے اس نے خود ہی جواب بھی دے دیا۔

”کہہ رہی تھی تمہاری بیوی بہت جاہل عورت ہے۔ اسے گھر میں آئے ہوئے کسی بھی مہمان سے سلام دعا لینے کی بھی تمیز نہیں ہے۔“ سکندر کی آواز یکدم تیز ہو گئی۔ کمرے سے ایدھا اور حماد بھی باہر نکل آئے۔ جن پر نظر پڑتے ہی وہ رج کر شرمندہ ہوئی۔ اسے سمجھ نہ آیا نور ہلیزا کی اس بے جا شکایت کا مقصد کیا ہے؟

”میں نے اسے سلام کیا تھا جس کا جواب اس نے خود ہی نہ دیا تھا۔ میری بات کا یقین نہ ہو تو اماں سے پوچھ لیں۔“ اس نے شرمندہ سی آواز میں فاطمہ کی گواہی طلب کی جو اس سارے قصے سے لاتعلق مزے سے ٹی وی دیکھ رہی تھیں۔ یہ تو اس گھر کا شروع سے رواج تھا۔ دونوں ماں، بیٹیاں کوئی بھی بات شروع کرنے کے بعد بالکل اس طرح ظاہر کرتیں جیسے میاں، بیوی کے کسی بھی مسئلے سے ان کا کوئی تعلق نہ ہو۔ ابھی بھی فاطمہ کا اندازہ یہی ظاہر کر رہا تھا۔

”تمہارے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ میں جھوٹ بول رہا ہوں۔“ وہ یکدم دھاڑا،نبیرہ خائف سی ہو گئی۔

”میرا یہ مقصد نہ تھا۔“

”تو کیا نور ہلیزا جھوٹ بول رہی ہے؟ یہ مقصد تھا تمہارا۔“ سکندر نے اس کی بات کاٹتے ہوئے ہاتھ میں پکڑا موبائل دیوار پر دے مارا۔ اس کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا۔ سکندر کے اس قدر غصہ کی وجہ کیا ہے؟ اس نے ایسا کیا کیا تھا جو سکندر اتنا انتہائی ری ایکٹ کر رہا تھا۔

”ماں یہ تمہارا لایا ہوا عذاب ہے جو میں بھگت رہا ہوں۔“ قریب رکھی کرسی پر اس نے زور سے لات رسید کی۔ نبیرہ ڈر کر اٹھ کھڑی ہوئی۔ سکندر کی تیز آواز سنتے ہی ابوذر بھی ڈر گیا اور با آواز روزنے لگا، جسے فوراً آگے بڑھ کر ایدھا نے گود میں لے لیا۔ یہ دیکھتے ہی نبیرہ کے تن بدن میں آگ لگ گئی۔

”چھوڑو اسے ہاتھ مت لگانا۔“ سکندر کو بھول کر وہ غصہ کی کیفیت میں ایدھا کی جانب بڑھی اور اس کے ہاتھ سے ابوذر کو کھینچ لیا اور یہی شاید اس کی ایک بڑی غلطی تھی جس کا اندازہ اسے اگلے ہی پل ہو گیا۔ سکندر غصہ کی کیفیت میں تیزی سے آگے بڑھا اور اسے گلے سے دبوچ لیا۔

”ابھی میں نے تم سے کہا تھا تمہیں بالکل بھی تمیز نہیں ہے اور تم نے ایک ہی سیکنڈ میں میری بات کو سچ کر دکھایا۔“

”چھوڑو مجھے۔“ اس کے ایک ہاتھ میں ابوذر لٹکا رو رہا تھا۔ دوسرے ہاتھ سے بمشکل وہ خود کو چھڑواتی ہوئی بولی۔ اس کی آنکھوں کے آگے آتا اندھیرا اسے احساس دلا رہا تھا۔ اگر سکندر نے مزید اسے کچھ دیر اسی طرح دبوچے رکھا تھا۔ شاید وہ اپنے پاﺅں پر مزید کھڑی نہ رہ سکے گی۔”زندگی کتنی خوبصورت ہوتی ہے۔“ اس احساس نے اسے مسلسل مزاحمت پر مجبور کر دیا۔

”چھوڑو اسے یہ تو مر جائے گی اور تمہاری ساری جوانی جیل کی اندھیری کوٹھڑی میں گزر جائے گی۔“ بھائی سے ہمدردی جتاتے ہوئے رفیدا نے اسے چھڑوانے کی کوشش کی، سکندر نے اسے دھکا دے کر صوفہ پر دے پھینکا۔

”یاد رکھنا جب تک میرے گھر میں ہو میرے گھر آئے ہوئے کسی بھی فرد کو تم سے شکایت نہ ہو، ورنہ جان سے مار دوں گا۔“ غصہ سے دندناتا ہوا وہ لاﺅنج کا دروازہ کھول کر باہر نکل گیا۔ ایدھا حماد کو لے کر پہلے ہی وہاں سے جا چکی تھی۔

”آئے ہائے جلدی جاﺅ رفیدا، بھائی کو روکو، کہیں اس غصہ میں کچھ اور نہ کر لے، میرا بدنصیب بچہ۔“ فاطمہ نے دہائی دی، رفیدا فوراً سے پیشتر سکندر کے پیچھے بھاگی نبیرہ بمشکل اٹھی، روتا ہوا ابوذر ابھی بھی اس کی گود میں تھا۔ بے بسی کی شدت میں اس کا دل چاہا وہ دھاڑیں مار، مار کر روئے اپنی اس خواہش کو بمشکل ضبط کرتی وہ کمرے تک آئی اور پھر نیچے کارپٹ پر بیٹھتے ہی پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔ آج اسے احساس ہو گیا تھا کہ اس گھر میں اس کا وجود ایک فاضل پرزے سے زیادہ کچھ نہیں ہے۔ وہ سمجھ چکی تھی کہ سکندر اور اس کے گھر والوں کو اس کی ضرورت نہیں ہے۔ ابھی تک اس گھر میں اس کا قیام صرف اور صرف نبیرہ کی کوششوں کا نتیجہ تھا۔ لیکن آج یہ تمام کوششیں لاحاصل ہو گئیں۔

”آر یا پار اب مجھے جلد ہی اپنی زندگی کا کوئی فیصلہ کرنا ہو گا۔“ اس ساری رات روتی بلکتی نبیرہ نے اپنے دل کو یہ سمجھاتے گزار دی کہ اب اسے جلد ہی کوئی فیصلہ کرنا ہو گا اور اس سلسلے میں وہ پہلے ربیعہ کو اعتماد میں لینا چاہتی تھی، لیکن ساتھ ہی ساتھ اس کیلئے اب ناگزیر ہو چکا تھا کہ وہ اپنے گھر والوں کو اپنے تمام حالات بتائے۔ تاکہ اس کی روشنی میں کوئی نیا قدم اٹھایا جا سکے۔

اس سے قبل کہ وہ کسی کو کچھ بتاتی یکدم ہی حالات کچھ ایسے تبدیل ہوئے کہ وہ چاہتے ہوئے بھی کسی سے کچھ نہ کہہ سکی۔

QQQQ

جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

ان لمحوں کے دامن میں مبشرہ انصاری قسط نمبر 6

ان لمحوں کے دامن میں مبشرہ انصاری قسط نمبر 6 چکاچوند روشنی میںیکایک قدموں کی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے