سر ورق / ناول / ڈھل گیا ہجر کا دن نادیہ احمد قسط نمبر7

ڈھل گیا ہجر کا دن نادیہ احمد قسط نمبر7

ڈھل گیا ہجر کا دن

نادیہ احمد

قسط نمبر7

خواب ٹوٹ جاتے ہیں

بھیڑ میں زمانے کی

ہاتھ چھوٹ جاتے ہیں

دوست دار لہجوں میں

سلوٹیں سی پڑتی ہیں

اک ذرا سی رنجش سے

شک کی زرد ٹہنی پہ

پھول بدگمانی کے

اس طرح سے کھلتے ہیں

زندگی سے پیارے بھی

اجنبی سے لگتے ہیں

غیر بن کے ملتے ہیں

عمر بھر کی چاہت کو

آسرا نہیں ملتا

خامشی کے وقفوں میں

بات ٹوٹ جاتی ہے

اور سِرا نہیں ملتا

معذرت کے لفظوں کو

روشنی نہیں ملتی

لذتِ پذیرائی پھر کبھی نہیں ملتی

پھول رنگ وعدوں کی

منزلیں سکرتی ہیں

راہ مڑنے لگتی ہے

خاک اڑنے لگتی ہے

خواب ٹوٹ جاتے ہیں

اِک ذرا سی رنجش سے

ساتھ چھوٹ جاتے ہیں

دھڑکتے دل، کانپتے وجود اور خشک لبوں کے ساتھ چہرے پہ بے پناہ حیرت لئے وہ ایک ٹک زبیر کی طرف دیکھ رہی تھی جو اس کا ہاتھ تھامے اس محل نما کوٹھی میں داخل ہوا ۔بیش قیمت سامان سے سجے وسیع ہال میں کھڑے ہوکر اس نے ایک نظر اپنے معمولی حلیے پر ڈالی، تیل میں چپڑے بال، گھسا ہوا معمولی بے رنگ جوڑا جو اس کی معمولی حیثیت کی چغلی کھاتا تھا اور پھر بے یقین نظروں سے زبیر کی سمت دیکھا ۔نکھرا اور بے شکن لباس، تازہ شیو اور پاس سے اٹھتی بھینی سی کلون کی مہک۔ اس طویل سفر کے بعد بھی وہ کتنا تروتازہ لگ رہا تھا۔وہ اب بھی ہمیشہ کی طرح پرسکون اور سنجیدہ تھا پر فاطمہ کے لئے نہایت تکلیف دہ مرحلہ ثابت ہورہا تھا۔ وہ ایک شاک سے نکل کر دوسرے شاک کا سامنا کر رہی تھی ۔ عام حالات میں تو کوئی اسے اس گھر میں ملازمہ بھی نہ رکھتا کہاں سفینہ کی منت سماجت پہ زبیر اسے گھر میں بیوی بنا کر لے آیا تھا اور اب یقینناََ اس گھر کے مکین واویلا مچا کر اسے باہر کا راستہ دکھائیں گے۔

”شکر ہے تم پہنچ گئے زبیر“۔ فاطمہ اپنی ہی سوچوں میں گم ڈوبتے دل کے ساتھ اس بے جوڑ شادی کے خوفناک انجام کا سوچ رہی تھی کہ ایک نسوانی متفکر آواز پہ چونک کر اس نے آواز کے منبع کی سمت دیکھا۔ وہ ایک دوہرے وجود کی شاندار لباس اور قیمتی زیور سے سجی قبول صورت پینتیس چالیس سالہ خاتون تھیں ۔ چہرے سے شدید پریشانی جھلک رہی تھی۔ زبیر نے یکدم فاطمہ کا ہاتھ چھوڑا اور چند قدم آگے بڑھا جبکہ وہ تیز قدموں سے چلتیں اس سے لپٹ کر رونے لگیں۔

”آپا آپ اور یہاں وہ بھی اس وقت۔ سب خیریت تو ہے نا آپ رو کیوں رہی ہیں“۔ وہ اب پہلے سا پرسکون نہیں تھا بلکہ اس کی آواز اور چہرے پہ واضح پریشانی لکھی تھی۔ پیچھے فاطمہ ہونقوں کی طرح کھڑی ان دونوں کو دیکھے گئی۔ زبیر کی پشت تھی پر وہ خاتون جسے وہ آپا کہہ رہا تھا نے بھی فاطمہ پہ توجہ نہ دی۔ اس کی سسکیاں فاطمہ کے کانوں تک اب بھی پہنچ رہی تھیں۔

”بابا کی طبیعت ٹھیک نہیں زبیر انہیں اسپتال لے گئے ہیں “۔ سسکیاں بھرتے وہ بمشکل بولیں اور پھر زار و قطار رونے لگیں۔ زبیر ان کا سر سہلاتا رہا پر انہیں خودسے الگ نہیں کیا۔

”حد کرتے ہیں آپ لوگ مجھے کیوں نہیں بتایا“۔ وہ کچھ برہم ہوا پر آواز دھیمی ومتفکر تھی۔ ان کو دھیرے سے خود سے الگ کرتا وہ اب ان کی سنگت میں آگے بڑھ رہا تھا جبکہ فاطمہ کسی غیر ضروری اور اضافی سامان کی طرح اب تک وہیں کھڑی تھی۔

”بابا نے منع کیا تھا تمہیں بتانے سے، کہہ رہے تھے تم سفر میں ہو گے تمہیں پریشان نہ کریں“۔ بھرائی ہوئی آواز میں چلتے چلتے انہوں نے زبیر کو بتایا۔

”اور آپ کب پہنچیں“۔ دور جاتے زبیر کا یہ آخری جملہ فاطمہ نے سنا ۔ اب وہ کمرے میں تنہا تھی۔ اپنا گھر ، اپنا شہر چھوڑتے ہوئے ماں اور بھائی کی پریشانی سینے کا بوجھ تھی تو اب اس پل آنے والے وقت کے اندیشے ناگ بن کر ڈرا رہے تھے۔ زندگی میں جانے ابھی اور کتنے امتحان باقی تھے۔ ایک طوفان تھما نہیں تھا کہ دوسرا سر اٹھارہا تھا ۔ اس میں پہلے سے نبٹنے کی طاقت نہ تھی دوسرے کو جھیلنے کا حوصلہ کہاں سے لائے گی۔ لاتعداد منفی سوچوں سے دماغ کی چولیں ہل رہی تھیں۔اتنا تو اسے اندازہ تھا کہ زبیر اور اس کا کوئی مقابلہ نہیں۔ وہ فقط ایک سرکاری اسپتال کا ڈاکٹر ہوکر کسی عام سے خاندان کا فرد ہوتا پھر بھی فاطمہ اور اس کی حیثیت میں بہت فرق تھا لیکن یہاں پہنچ کر تو اسے یہ فرق آسمان سے زمین کا لگ رہا تھا۔ وہ جو پہلے ہی خود کو اس کے قابل نہیں سمجھتی تھی اس کا احساسِ محرومی اس پل شدید تر ہوگیا تھا۔ پریشانی، بے خوابی، بھوک پیاس اور اب یہ شاک ، اسے بری طرح چکر آیا تھا کہ اس نے خود کو گرنے سے بچانے کی خاطر جھک کر قریبی صوفے کی پشت کو تھاما۔

ہمت تو پیچھے چھوڑ آئی تھی اب کہاں سے لائے ہمت وہ ان حالات کا سامنا کرنے کی۔ اس کا دل چاہا وہ اس پل اتنا شدید اور پھوٹ پھوٹ کر روئے کہ اس کا ہر غم، پریشانی، محرومی اور دکھ آنسوو ¿ں کے اس سیلاب میںبہہ جائے۔

٭….٭….٭

ٹیپو نے خوف سے تھر تھر کانپتے ماں کے خون میں لتھڑے بے جان وجود کو دیکھا۔خوف سے اس کی سانسیں تیز تیز چل رہی تھیں۔ اِس پل اس میںاتنی بھی ہمت نہ تھی کہ ہاتھ لگا کر ماں کی نبض ہی ٹٹول لیتا اور تو اور کسی پاس پڑوس والے کو مدد کے لئے بلا لاتا۔ اس کا چڑیا سا دل خوف کے زیرِ اثر بند ہونے کو تھا۔ سفینہ کا بے جان وجود کمرے کے فرش پہ پڑا تھا جبکہ ٹیپو خود دیوار کا سہارا لئے پیروں کے بل بیٹھا تھا۔ دونوں ہاتھوں کو گھٹنوں کے گرد لپیٹے اس نے ڈر کے مارے اپنا منہ گھٹنوں میں چھپا لیا۔ شہباز کا ہاتھ روکنے کی ہمت نہ تھی تو ماں کا خون صاف کرنے کا حوصلہ کہاں سے لاتا۔ پورا کمرہ خون سے بھر چکا تھا اور اپنے ہی خون میں لت پت بے جان سفینہ کو چھوڑ کر شہباز فاطمہ کی تلاش میں نکل کھڑا ہوا تھا۔ اسے اندر ہی اندر یہ خوف پریشان کر رہا تھا کہ اگر اس بات کی بھنک بھی عارف کو پڑ گئی کہ فاطمہ گھر سے جاچکی ہے تو وہ یقینناََ شہباز کے ٹکڑے ٹکڑے کردے گا۔ اس نے تو بیٹی کے عویض اپنی جان کی خلاصی چاہی تھی پر یہاں تو بازی ہی الٹ گئی تھی۔ سفینہ نے اسی کے آخری مہرے سے اسے شہ مات دے ڈالی تھی وہ غصے سے کیوں نہ بلبلاتا۔ اسے اس وقت جوان بیٹی کا خیال تھا نہ ہی چھوٹے بیٹے کا، وہ تو بیوی کو بھی جس بے دردی سے مار کر آیا تھا ایک بار بھی اسے خیال نہ آیا کہ وہ زندہ بھی ہوگی یا نہیں۔ لیکن نہیں ۔۔۔۔۔وہ جانتا تھا سفینہ بڑی ڈھیٹ مٹی سے بنی تھی اسی لئے تو اتنے سالوں سے اتنی بہت سی مار کھا کر بھی آج تک اس کے ساتھ زندگی گزار رہی تھی۔ اسے یقین تھا سفینہ نے فاطمہ کو یہیں کہیں کسی کے پاس چھپا رکھا ہے۔ وہ اس کی حیثیت اور طاقت سے واقف تھا۔ بھلا ایسا کون سا سخی مل گیا جو خالی ہاتھ لڑکی بیاہ کر لے گیا۔ یہ بھی ایک اتفاق تھا کہ وہ ڈاکٹر زبیر کو کسی بھی حوالے سے نہیں جانتا تھا۔ بیوی کے علاج کو چھوڑ اسے تو سرے سے بیوی میں ہی دلچسپی نہیں تھی۔ سفینہ نے بھی اس کے سامنے کبھی ذکر نہ کیا تھا۔ ویسے بھی ان کی کون سی میاں بیوی والی بات ہوتی تھی۔ گھر کو سرائے سمجھ کر آتا، کھا پی کر سو جاتا۔ جب آنکھ کھلتی گھر سے نکل جاتا ۔ ہاں جب پیسے چاہیئے ہوتے تو سفینہ کی جان کو آجاتا۔

تھک ہار کر وہ شام ڈھلے گھر پلٹا ۔ پورا گھر تاریکی میں ڈوبا ہوا تھا۔ باہر کا دروازہ یونہی کھلا تھا جیسے وہ صبح چھوڑ کر گیا تھا۔ اندر آیا تو خاموشی اور اندھیرا پاکر اس کا ماتھا ٹھنکا۔ گھر پہ اس وقت بھوت بنگلے سا گمان ہوا تھا۔ ایک پل کو اسے لگا شائد سفینہ بھی ٹیپو کو لے کر چلی گئی ہے۔ صحن کی بتی جلا کر وہ عادتاََ ٹھوکر سے کمرے کا دروازہ کھولتا اندر داخل ہوا اور ٹھٹھک کر رک گیا۔کمرے میں نامانوس سی بو کے ساتھ اندھیرے میں ٹیپو کی دھیمی سسکیاں مسلسل اس کے کانوں تک پہنچ رہی تھیں۔ بٹن دبا کر بلب جلایا تو روشنی نے ہر بھید سے پردہ اٹھا دیا۔ سفینہ کی لاش کمرے میں اسی جگہ پڑی تھی جہاں صبح وہ اسے مار پیٹ کر پھینک گیا تھا۔ سامنے دیوار سے لگے ٹیپو کا چہرہ خوف سے زرد پڑ چکا تھا۔ آنسوو ¿ں کی لکیروں سے بننے والے نقش و نگار عجیب وحشیانہ منظر پیش کر رہے تھے۔ وہ ایک ٹک سفینہ کے بے جان وجود کو تکتا رہا ۔ پاس آکر اس کی نبض ٹٹول کر موت کی تصدیق کرتے ہوئے خود اس کا اپنا حلق سوکھ رہا تھا۔ وہ جو پہلے ہی عارف کی طرف سے پریشان ہورہا تھا اب سفینہ کے قتل کے الزام کا سوچ کر اس کی روح فنا ہوگئی تھی۔

”سالی کم ذات، مرتے مرتے مجھے بھی مار گئی۔ مرنا تو مقدر میں تھا اس کے جانے بیٹی کو کہاں بھگا دیا کمینی نے۔ “اپنا سر دونوں ہاتھوں سے پیٹتے وہ بے بسی سے غرایا۔ ٹیپو کی تو جان ہی نکل گئی۔

”وہ حرامی عارف تو میرے ٹوٹے کر ڈالے گا۔ اس سے پہلے کہ اسے کچھ خبر ہو میں نکل لوں یہاں سے ۔ پولیس سے بچ گیا تو عارف نہیں چھوڑے گا“۔ وہ منہ ہی منہ میں بڑبڑاتے دروازے کی طرف لپکا ۔ آج کا پورا دن خاموشی سے نکل گیا تھا۔ اگر کسی کو فاطمہ کے چلے جانے کی ہوا نہیں لگی تھی تو سفینہ کی موت کی اطلاع بھی ابھی اس چارد یواری تک ہی تھی لیکن یہ بات زیادہ عرصہ چھپی نہیں رہ سکتی تھی۔ صبح یہ بھید بھی کھل جائے گا کہ اس گھر میں کیا قیامت آگئی ہے۔ ابھی وقت تھا اس کے پاس فرار کا ورنہ دو جگہ سے دھر لیا جاتا۔ سفینہ سے بدسلوکی کا تو پورا محلہ گواہ تھا۔ سب ہی مان لیتے اسے شہبازنے مارا ہے اور پھر خود اس کا اپنا بیٹا اس واقعے کا چشم دید گواہ۔ بھلا اسے سزا سے کون بچا سکتا تھا۔ اس نے جلدی جلدی اپنی دو چار چیزیں بیگ میں ڈالیں اور باہر کی طرف لپکا مگر کچھ سوچ کر پلٹ آیا۔

”یہ تو میرے بڑھاپے کا آسرا ہے اسے یہاں کیوں چھوڑ کر جاو ¿ں۔ “ کمرے میں آکر اس نے ٹیپو کو بازو سے پکڑ کر گھسیٹا۔

”ابا ۔ امی۔ بچاو ¿“۔ ٹیپو درد سے تڑپتا چیخنے لگا اور صبح سے یہ پہلی بار تھا کہ اس کی زبان سے کوئی لفظ نکلا تھا۔

”مر گئی تیری امی ۔ اور وہ جو تیری بھگوڑی بہن ہے تجھے لینے لازمی واپس آئے گی ۔ تیرے ذریعے ہی تو اس حرافہ کو پکڑوں گا“۔ وہ ماں کو مدد کے لئے پکارتا رہا۔ شہباز نے بالوں سے پکڑ کر دو لگائیں تو اس کی گھگی بندھ گئی۔ اسے کھینچتا ہوا وہ اپنے ساتھ لے گیا ایک ایسی منزل کی جانب جس کے متعلق اس وقت وہ خود بھی نہیں جانتا تھا۔

٭….٭….٭

 زبیر گھر واپس آتے ہی الٹے پیروں اسپتال نکل گیا تھا جہاں اس کے والد کو ایڈمٹ کیا گیا تھا۔ رات کی سیاہ دھاری صبح کی سفید دھاری سے الگ ہورہی تھی جب فاطمہ نے اسے بناءکچھ کہے گھر سے نکلتے دیکھا۔ وہ اب ہال کے وسط کی بجائے کونے میں جابیٹھی تھی۔ اس دوران کسی نے بھی اس کی طرف توجہ نہیں دی۔ بچے سب سو رہے تھے اور زبیر کی بہنیں کمرے سے ہی نہیں نکلیں۔ ملازم بھی اس وقت کوئی نہ تھا اور ہوتا بھی تو اسے بھی اپنے جیسی سمجھتا۔ اپنی سیاہ چادر کی بکل مارے وہ ڈری سہمی اجنبیوں کی طرح اس در و دیوار کو تکتی رہی ۔ قریب دو گھنٹے بعد زبیر کی واپسی ہوئی۔ اس وقت تک سورج نکل آیا تھا ۔ سچ کی طرح روشن اور چمکدار صبح طلوع ہوچکی تھی۔ تھکے تھکے قدموں سے چلتا وہ ہال میں داخل ہوا ۔ کونے میں دبکی سر جھکائے بیٹھی فاطمہ کو دیکھ کر وہ بری طرح ٹھٹھکا اور پھر سر پہ ہاتھ مارتا تیز قدموں سے اس کے قریب پہنچا۔

”آئی ایم سو سوری فاطمہ۔ اپنی پریشانی میں تمہیں بالکل بھول ہی گیا تھا میں“۔ اس کو پاس پاکر وہ سیدھی ہوکر بیٹھ گئی۔ زبیر نے اس کا ہاتھ تھامتے تاسف سے کہا۔ اس کی آواز میں وہ ہمیشہ والی کھنک اور بشاشت نہ تھی۔ وہ خاصہ ڈپریس لگ رہا تھا ۔

”آپ کے بابا کیسے ہیں؟“ وہ اس کی پریشانی سے واقف تھی۔ انسان ہونے کی پہلی نشانی یہی تو ہے کہ اپنے غم میں گھلتا وہ دوسرے کے درد کو بھی محسوس کرے۔ اس کے مسائل شدید نوعیت کے تھے پر وہ جو اس کے مسئلوں کا حل بن کر اس کی زندگی میں آیا تھا پریشانی اس کی بھی کم نہ تھی۔ فاطمہ کو اندازہ تھا زبیر کے لئے اپنے والد کی کیا اہمیت ہے۔ اسے انہوں نے بِن ماں کے پالا تھا اور وہ ان سے بہت زیادہ انسیت رکھتا تھا ایسے میں ان کی طبیعت خراب ہونے کا سن کر اسے کچھ ایسا ہی ردِ عمل کرنا تھا۔

”پتا نہیں، ابھی تو انڈر آبزرویشن ہیں۔ رپوٹس آنے تک کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ تم دعا کرو“۔ فاطمہ نے بس سر ہلایا۔وہ بہت ضبط سے بیٹھی تھی۔ اس کی دعاو ¿ں میں اثر ہوتا تو وہ آج ایسے اپنے محور سے بچھڑ کر نہ بیٹھی ہوتی۔ ماں اور بھائی کی پریشانی میں گھلنے کی بجائے ان کے ساتھ ہوتی۔ دل ڈھیروں تاسف میں گھرا تھا پر اس نے خود پہ قابو پاتے زبیر کو تسلی دی۔

”تم اس وقت سے یہاں بیٹھی ہو میں جلدی میں نکل گیا۔ اٹھو تم کمرے میں چل کر کچھ دیر آرام کرلو میں آپا وغیرہ سے مل کر انہیں بابا کی طبیعت کے متعلق بتادوں“۔وہ فاطمہ کو اپنے کمرے میں لے آیا۔ اس نے ناشتے کا پوچھا پر فاطمہ کی بھوک تو کل رات سے ہی غائب تھی۔ زبیر خود اتنا تھکا ہوا تھا اس نے بھی زیادہ زور نہیں دیا۔ اسے فریش ہوکر سونے کی تاکید کرتا وہ جلد ہی کمرے سے نکل گیا تھا ۔ درد سے پورا جسم ٹوٹ رہا تھا۔ سر درد سے پھٹا جارہا تھا ایسے میں چہرے پہ ٹھنڈے پانی کے چند چھینٹے مارنے سے جلتی آنکھوں کو سکون ملا تھا۔ بستر پہ گرنے کے سے انداز میں لیٹی تو نیند نے آلیا جو تختہِ دار پہ بھی آجاتی ہے۔

٭….٭….٭

دروازے پہ ہونے والی دھیمی سی دستک پہ وہ گھبرا کر اٹھی۔ زبیر ہولے سے دروازہ کھولتا کمرے میں داخل ہورہا تھا۔ فاطمہ نے پاس پڑی چادرتیزی سے اٹھائی اور اپنے گرد لپیٹ لی۔ اس پہ ایک نگاہ ڈال کر دھیما سا مسکراتا زبیر بیڈ کے دوسری جانب ریلیکس سے انداز میں آبیٹھا۔ فاطمہ کچھ اور سمٹ گئی۔ فاطمہ نے انگلیاںمڑوڑتے یہاں وہاں دیکھا اور پھر نگاہ سامنے لگے وال کلاک پہ جا ٹھہری۔

”سات بج گئے“۔ اسے حیرت کا شدید جھٹکا لگا تھا۔ اسے یاد تھا جب وہ صبح سوئی اس وقت بھی سات بج رہے تھے۔

”یہ گھڑی۔۔۔“ فاطمہ نے زبیر کی طرف دیکھا ۔ بڑھی ہوئی شیو، بے تحاشہ تھکاوٹ اور بے خوابی ۔ فاطمہ نے اسے کبھی اس حلیے میں نہیں دیکھا تھا۔

”ٹھیک ہے“۔ زبیر نے مسکراتے ہوئے اس کا جملہ مکمل کیا۔

”میںپورا دن سوتی رہی“۔ وہ بے یقینی سے کہتی کچھ شرمندہ ہوئی۔ اسے زبیر کے حوالے سے بھی شرمندگی ہوئی ۔ وہ اگر اب دستک دے کر اندر آیا تھا تو اس کا مطلب اس نے تو سارا دن آرام ہی نہیں کیا۔

”اچھی بات ہے۔ سو نے سے طبیعت بحال ہوگئی ہوگی۔میں شاور لے لوں پھر تم بھی نہا دھو کر کپڑے بدل لو ۔باہر آجاو ¿ کھانا سب کے ساتھ کھاتے ہیں“۔بستر سے سستی سے اٹھتے وہ اب باتھ روم کی طرف جارہا تھا۔

”باہر سب مطلب۔۔۔۔“فاطمہ کو ایک نئی پریشانی نے آگھیرا۔

”میری تینوں بہنیں اور ان کے بچے ہیں“۔یہ وہ لمحہ تھا جس کا سامنا کرنے کی ہمت وہ کل سے خود میں جمع کر رہی تھی پر کس کس بات کے لئے ہمت اکٹھا کرتی۔

”اور آپ کے بابا؟“۔اس نے ڈرتے ڈرتے پوچھا۔

”وہ الحمدللہ ٹھیک ہیں۔ کل صبح گھر آجائیں گے ان شاءاللہ“۔زبیر مطمعن سا کہتا باتھ روم میں گھس گیا جبکہ فاطمہ کے سینے پہ بوجھ آدھرا تھا۔ پتا نہیں کس انداز میں وہ لوگ اس شادی پہ اپنا ردِ عمل ظاہر کرے گیں۔ ان سب کا فاطمہ سے مل کر اسے دیکھ کر کیسا رویہ ہوگا یہ وہ خوف تھا جو اس گھر میں داخل ہوتے وقت سے اس کی سانسیں روک رہا تھا اور اب وہ لمحہ آن پہنچا تھا جس کا چاہتے نا چاہتے فاطمہ کو سامنا کرنا ہی تھا۔

٭….٭….٭

انصاری ہاو ¿س میں اس وقت بہت سے لوگ جمع تھے اور پریشانی سب کے چہروں سے عیاں تھی۔ تینوں بیٹیاں بچوں سمیت پہلے سے وہاں موجود تھیں اور خوب چہل پہل تھی۔ زبیر نے فاطمہ کا سب سے تعارف کروایا اور ان میں سے کسی نے اچھا یا برا کوئی ردِ عمل ظاہر نہ کیا۔اس کا مطلب زبیر ان سب کو پہلے ہی ساری بات بتا چکا تھا اور جو کہنا سننا تھا وہ سب ہوچکا تھا۔ زبیر کی بڑی بہن نگہت البتہ فاطمہ کو کھانے سے متعلق پوچھتی رہیں ۔ کبھی خود بھی اس کی پلیٹ میں کچھ ڈال دیتیں۔ باقی دونوں نے ایسی کسی بات پر بھی اپنی خاموشی نہ توڑی۔ اس وقت ان کا اہم اور مشترکہ موضوع ان کے والد کی طبیعت تھا اور وقتاََ فوقتاََ وہ سب اسی متعلق بات کرتے رہے۔بچے اسے کافی شوق سے دیکھ رہے تھے جیسے وہ چڑیا گھر سے نکلا ہوا کوئی جانور ہو اور اب بناءپنجرے کے اس گھر میں آزاد گھوم رہا ہے۔ ان سب کی نظروں سے کنفیوز ہوتی فاطمہ میں تو ان سب کے سامنے اتنی ہمت بھی نہ ہوئی کہ وہ ان کے والد کی خیریت ہی دریافت کرپاتی اس لئے جیسے ہی موقع ملا وہ بھاگ کر واپس اپنے کمرے میں آگئی۔ کچھ دیر بعد زبیر پھر اسپتال لوٹ گیا اور رات اس نے تنہا ہی اس کے کمرے میں گزاری۔ دن کو اتنا سوچکی تھی تو اب رات کو نیند کیسے آتی ۔ زبیر کے گھر والوں کے ردِ عمل کی ٹینشن کم ہوئی تو ذہن گھوم پھر کر بس ایک ہی نقطے پہ جا ٹکا تھا کہ پتا نہیں پیچھے ماں اور بھائی کے ساتھ باپ نے کیسا سلوک کیا ہوگا۔ ان حالات میں جبکہ زبیر خود اتنی پریشانی کا شکار ہے وہ اسے واپس جانے کا بھی تو نہیں کہہ سکتی تھی۔

”مجھے امی کی بات نہیں ماننی چاہیئے تھی“۔کل رات کی طرح بارہا اس نے خود کو کوسا تھا۔ لیکن یہ سب کچھ اب بے معنی تھا۔ جو ہونا تھا وہ ہوچکا تھا اور حقیقت وہ تھی جس کا اس پل سامنا تھا۔ اب تو جو بھی تھا دل پہ پتھر رکھ کر انتظار کرنا تھا کہ زبیر کے بابا کی طبیعت بہتر ہوجائے تاکہ وہ پیچھے جاکر سفینہ کی خبر لے سکے۔ ایک بار اسے ماں اور بھائی کی خیرت پتا چل جاتی تو زندگی کتنی آسان ہوجاتی پر وہ کہاں جانتی تھی زندگی آسان نہیں بہت مشکل ہے۔ یہ سیدھی لکیر نہیں بلکہ خم دار سڑک ہے جہاں اگلا موڑ کس طرف لے جائے کوئی نہیں جانتا۔جائے نماز پہ بیٹھ کر اس نے انصاری صاحب کی صحت اور درازیِ عمر کی دعا مانگی اس کے بعد سفیہ اور ٹیپو کی خوشیوں کی دعا ئیں مانگتی رہی۔ رات کے کون سے پہر اس کی آنکھ لگی اسے پتا ہی نہ چلا پر صبح وہ اپنے وقت پہ اٹھ گئی تھی۔

 ناشتے کے بعد زبیر، وقار انصاری صاحب کو گھر لے آیا تھا۔ ان کے ذاتی معالج بھی ساتھ آئے تھے۔

”انصاری صاحب ہائپر ٹینشن کے مریض ہیں یہ تو آپ پہلے سے جانتے ہیں۔ ایسے میں تھوڑی سی بے احتیاطی بڑی پریشانی کا سبب بن سکتی ہے لیکن یہ ماشاءاللہ اب بالکل ٹھیک ہیں“۔ فاطمہ کے سوا سب لوگ وقار انصاری صاحب کے گرد جمع تھے۔ ڈاکٹر پرویز کی بات سن کر سب کے چہرے مطمعن و شاد تھے۔ وہ خود بستر پہ کمر ٹکائے بیٹھے تھے ۔ کچھ تھکے تھکے تو تھے پر بیمار نہیں لگ رہے تھے ۔

”ڈاکٹر صاحب ہارٹ اٹیک کا خطرہ تو نہیں ہے؟“پاس کھڑی کوثر نے سوال کیا۔

”ارے بالکل نہیں۔ یہ ان کی رپوٹس آگئی ہیں آپ خود دیکھ لیں۔ “ڈاکٹر پرویز نے پاس رکھی فائل کی طرف اشارہ کیا۔ ظاہر ہے زبیر پوری تصدیق کرچکا تھا اس لئے وہ کل رات سے اتنا مطمعن تھا۔

”دراصل ان کو سینے میں بائیں جانب درد اٹھا تو سب لوگ پریشان ہوگئے۔ میں بس پوری طرح تصدیق چاہتا تھا اسی لئے انہیں اسپتال شفٹ کرنے کا کہا۔ “ڈاکٹر نے مزید کہا پھر ان کی ادویات اور خوراک کو لے کر کچھ ہدایات دیں ۔ زبیر نے انہیں دروازے تک رخصت کیا اور واپسی پہ فاطمہ کو ساتھ لے آیا۔ وہ ڈرتی جھجکتی اندر تو نہیں آئی بس دروازے پہ ہی رک گئی۔

”آپ سب کو مجھے انفارم کرنا چاہیئے تھا۔ آپا کو لندن سے بلایا جاسکتا تھا تو مجھے کیوں نہیں بتایا“۔واپس آکر زبیر نے بابا کی طرف دیکھتے سب سے مشترکہ خفگی کا اظہار کیا۔

”آپا کا تو پہلے سے پروگرام تھا اور تم بھی پہنچ ہی رہے تھے ۔ بابا نے سختی سے منع کیا تھا تمہارے گھر پہنچنے تک تمہیں کسی قسم کی اطلاع نہ دی جائے“۔چھوٹی سکینہ نے صفائی دی۔

”بابا یہ بات غلط ہے۔ آپ اپنی سب باتیں مجھ سے شئیر کرتے ہیں اور اپنی صحت کی بات ہی گول کردی“۔زبیر ان کے پاس بیڈ پہ جا کر بیٹھ گیا۔ تینوں بہنیں سامنے صوفے پہ بیٹھی تھیں جبکہ فاطمہ دروازے کی اوٹ میں چھپی کھڑی ان کی باتیں سن رہی تھی۔ آج اس نے اپنا سب سے اچھا جوڑا پہن رکھا تھا ۔ کاٹن کا عنابی اور سفید سوٹ جو اس گھر اورگھر کے مکینوں کے شایانِ شان تو نہ تھا پر اس کی اوقات کے مطابق تو اچھا ہی تھا۔ سفینہ نے جلدی جلدی میں اس کے بیگ میں جو کچھ ڈالا اسے تو خبر بھی نہ تھی یہ تو اب بیگ سے سامان نکالتے اسے یہی سب سے بہتر کپڑے لگے اور اس نے پہن لئے۔

”یار میں نے سوچا تم وہاں بھی یہی دوائیاں، مریض، علاج اور نسخوں میں الجھے رہتے ہو گھر کے مریض کا قصہ سنا کر تمہیں بور کیوں کروں“۔وقار انصاری صاحب خاصے خوشگوار موڈ میں تھے۔

”بہت خوب یعنی آپ کی بیماری سے بور ہوجاو ¿ں گا میں۔ “

”اچھا یار ناراض کیوں ہوتا ہے ۔ دیکھو نا اب تو میں بالکل ٹھیک ہوں۔ تمہارا وہ جاسوس بتا تو گیا ہے تمہیں سب“۔انہوں نے اس کا ہاتھ دباتے منانے کی کوشش کی ۔

”بات ہی آپ نے کچھ ایسی کی تھی خیر میں بھی آپ کا بیٹا ہوں ناراضی کا بدلہ ناراضی سے ہی لوں گا“۔زبیر کا لہجہ دھمکی آمیز تھا۔

”ٹھیک ہے بھئی جیسے کو تیسا اسی کو کہتے ہیں۔ کرلو سارے بدلے پورے بس وہ پھیکے دلیے کا لنچ نہ کروانا۔ بڑا ہی بدمزہ ہوتا ہے“۔وقار صاحب بیٹیوں کی نسبت اس سے کچھ زیادہ ہی مانوس تھے۔ یوں بھی بیٹیوں کو تو ماں ملی زبیر کو تو انہوں نے تنہا پالا۔ پھر ان سب کی شادی کو بھی کافی وقت گزر چکا تھا ۔ زبیر سے ان کا تعلق باپ سے بڑھ کر دوست والا تھا۔ شرارت، ہنسی مذاق سب چلتا تھا ۔

”پھیکے دلیے کو چھوڑیں جو خبر آپ کو دینے لگا ہے نا بابا اسے سن کر آپ کی بھوک پیاس ہی اڑ جائے گی“۔کوثر نے ہیجان خیز لہجے میں کہا۔ باقی دونوں کی نسبت اسے بھائی کا آناََ فاناََ شادی کرنا برا لگا تھا لیکن وہ اظہار اس لئے نہیں کر پائی کیونکہ باقی سب خاموش رہیں۔ پھر کچھ بابا کی طبیعت کا بھی معاملہ سامنے تھا۔ فاطمہ کے پیروں تلے سے زمین ہی نکل گئی۔

”آپا پلیز۔ کیوں میرا سرپرائز خراب کر رہی ہیں۔ تھوڑا سا تو سسپنس رہنے دیں“۔زبیر نے شرارت سے آنکھ دبائی اور مسکراہٹ دبائے بابا کی طرف دیکھا۔ کوثر اس شرارت پہ بھی نہ ہنسی کیونکہ اسے یقین تھا بابا اس بات پہ خوب غصہ کرنے والے ہیں۔

”یار بتاو ¿ بھی ہوا کیا ہے آخر تم لوگ تو اب سچ میں مجھے ہارٹ اٹیک کرواو ¿ گے“۔اس کے چہرے پہ مسکراہٹ کے رنگ وہ پہلے ہی دیکھ چکے تھے ۔ اتنا تو اندازہ تھا بات کوئی ہنسی مذاق والی ہوگی اسی لئے ذرا مصنوعی غصے سے گھرکا۔

”بتاو ¿ں گا نہیں دکھاو ¿ں گا بابا“۔ وہ دروازے کی طرف گیا اور فاطمہ کو کھینچ کر اندر لے آیا۔ وقار انصاری کی پیشانی پہ بل نمودار ہوئے۔

”یہ نور فاطمہ ہے آپ کی بہو“۔فاطمہ کو ان کے پاس بیڈ پہ بٹھاتے اس نے تعارف کرایا۔

”زبیر؟“انہیں واقعی شاک لگا تھا۔ فاطمہ کاپورا جسم بری طرح خوف سے کانپ رہا تھا ۔اس نے تو اس پل سر اٹھا کر دیکھنے سے بھی اجتناب کیا۔

”بابا میں نے شادی کرلی“۔زبیر نے سنجیدگی سے بتایا۔

”اس طرح ۔۔۔اچانک“۔انہوں نے بے تاثر لہجے میں سوال کیا۔

”کرنی پڑی۔حالات ہی کچھ ایسے ہوگئے تھے کہ آپ کو بتانے اور آپ سے اجازت لینے کا وقت ہی نہیں ملا لیکن مجھے پورا یقین ہے آپ اسے میری پہلی اور آخری غلطی سمجھ کر معاف کردیں گے“۔ان کا ہاتھ تھامے زبیر نے بڑے مان اور محبت سے کہا۔ فاطمہ اب بھی کسی بت کی طرح وہاں بیٹھی تھی۔

”کیا سوچ کر تم نے اس سے شادی کی بھئی؟“وقار انصاری کی تیز آواز پہ وہ کانپ سی گئی۔ زبیر بھی حیرت بھری نظروں سے انہیں دیکھے گیا جو سنجیدہ نظروں سے سامنے بیٹھی فاطمہ کو دیکھ رہے تھے۔ ان کی نظروں کا ارتکاز خود پہ محسوس کرتے فاطمہ نے ڈرتے ڈرتے چہرہ اٹھایا اور اس وقت اسے اندازہ ہوا ان کی مخاطب فاطمہ تھی زبیر نہیں۔

”جی!“خشک لبوں پہ زبان پھیرتے اس نے بمشکل تھوک نگلا۔

”یہ تم سے شادی کو غلطی کہہ رہا ہے اور تم خاموش بیٹھی ہو۔ میری طبیعت ٹھیک ہوتی تو دو لگاتا اس نالائق کو۔ “وہ اب بھی سنجیدہ تھے مگر بات انتہائی غیر سنجیدہ تھی۔ فاطمہ کی تو اب بھی کچھ سمجھ میں نہیں آیا۔ اس کی حالت تھی بھی کہاں مذاق سمجھنے والی۔

”بھئی شادی انسان جب بھی کرتا ہے سوچ سمجھ کر کرتا ہے۔ غلطی سے بھی کوئی شادی جیسی غلطی نہیں کرتا ہے“۔کمرے کا ٹینشن زدہ ماحول وقار انصاری کی بدولت خوشگوار ہوگیا تھا۔

”آپ ناراض تو نہیں ہیں نا بابا؟“اتنا اندازہ تو بہرحال زبیر کو بھی تھا کہ بابا کا ردِ عمل شدید ہرگز نہیں ہوگا اسی لےے تو اس حالت میں بھی فاطمہ کے متعلق بتا دیا۔ اس نے تو شادی بھی اسی مان اور اعتماد کے ساتھ کی تھی کہ اس کے بابا اس کے مسئلے کو ضرور سمجھیں گے۔

”خوشی کے موقع پہ کون الو ناراض ہوتا ہے بھلا۔ اچھا وہ میرا سیف کھولو اس میں ایک سیاہ باکس ہے وہ نکالو جلدی سے“۔انگلی سے اپنی الماری کی طرف اشارہ کرتے انہوں نے پاس کھڑے زبیر کو ہدایت دی۔ وہ نا سمجھتے ہوئے بھی ان کی مطلوبہ شے نکال لایا اور ان کے ہاتھ میں تھما دی۔

”یہ لو بھئی نور فاطمہ تمہاری منہ دکھائی۔ “مخملی چوکور ڈبے میں دو بھاری جڑاو ¿ کنگن تھے جو انہوں نے نور فاطمہ کو دئیے۔ وہ حیران سی کچھ بھی نہ کہہ پائی۔ دل میں اندیشوں کی پھانس جتنی تکلیف سے چبھی تھی اتنی ہی آسانی سے نکل گئی۔

”انہیں سنبھال کر رکھنا تمہاری مرحومہ ساس کے ہیں۔ ان کا باقی سب زیور تو تینوں بیٹیوں کو دے دیا بس یہ رکھے تھے سوچا کوئی ماں کی نشانی بیٹے کے لئے بھی رہنا چاہیئے“۔زبیر کی طرف دیکھتے وہ مسکرائے اور نور فاطمہ کے سر پہ ہاتھ رکھ کر اسے ڈھیروں دعائیں دیں۔

٭….٭….٭

اگلی صبح روشن و چمکدار تھی۔ انصاری صاحب کی طبیعت میں بہتری تو کل رات ہی آچکی تھی پر اب اکلوتے بیٹے کی شادی نے تو جیسے ان میں نئی توانائی بھر دی تھی۔ نگہت آپا کی موجودگی میں ہی جلد از جلد ولیمہ کی تقریب کرنے کا پلان بنا اور بس پھر جیسے انصاری ہاو ¿س میں رونقیں لوٹ آئیں۔ ولیمہ کے لئے دو دن بعد کی تاریخ طے ہوئی۔ بیٹیوں کے سسرال فون کر دئیے گئے، تمام دو ر و نزدیک کے رشتے داروں کو اطلاع دے دی گئی۔ زبیر یہ سب اتنی جلدی نہیں چاہتا تھا کیونکہ اسے فاطمہ کی خوشی بھی عزیز تھی جو سفینہ اور ٹیپو کے بغیر ادھوری تھی لیکن اس وقت وہ خود بھی بے بس سا اپنے والد اور بہنوں کو خوشی کا اظہار کرنے سے روک نہیں پایا۔ نور فاطمہ اس کی پوزیشن سمجھتی تھی۔ اس گھر اور یہاں کے مکینوں نے اسے عزت و مان کے ساتھ بہو تسلیم کیا تو یہ بھی غنیمت تھا ورنہ اب تک جو تقدیر نے اس کے ساتھ کیا ایسے میں بہتری کی امید تو نہ ہونے کے برابر تھی پر جن بیٹیوں کے ساتھ ماو ¿ں کی دعائیں ہوں ان کے راستے یونہی آسان ہوجاتے ہیں۔ پھر بھی دل میں ایک کسک تھی کہ کاش زبیر جلد از جلد ماں کو لے آئے۔ چند ایک بار اس نے سوالیہ نگاہوں سے زبیر کی سمت دیکھا پر وہ نظریں چرا گیا۔ شائد وہ بھی ان آنکھوں میں لکھا سوال پڑھ چکا تھا۔

ولیمہ دھوم دھام سے ہوا۔ سکینہ نے اسے اپنے ہاتھوں سے دولہن بنایا۔ پہلی بار اتنی سج دھج کے ساتھ بھاری جوڑے اور قیمتی زیور میں وہ پرستان کی پری لگ رہی تھی کہ جس نے دیکھا زبیر کی قسمت پہ رشک کیا جس نے آسمان کا چاند چرا کر پہلو میں سجا لیا۔ وہ جتنی کم عمر تھی اتنی ہی حسین اور نازک اس پہ دولہن بن کر رنگ روپ اور بھی نکھر آیا ۔ اس کے حسین چہرے سے نگاہ ہٹانا مشکل ہورہا تھا۔ گھر سے اگلے روز مہمانوں کا رش چھٹا تو زبیر نے واپسی کا سفر باندھا۔ بہنوں کو اعتراض تھا پر اس نے تسلی دی وہ بس ایک دن میں ہی لوٹ آئے گا۔ وقار انصاری صاحب کا خیال تھا اسے اب یہ ملازمت جلد از جلد چھوڑ دینی چاہیئے کیونکہ وہ اکلوتی اولاد کو خوامخواہ کی دشمنی میں ملوث نہیں کرنا چاہتے تھے۔بھلے انہوں نے سامنے سے کوئی بات نہیں کی تھی پر دل میں شہباز کی طرف سے کھٹکا انہیں بھی تھا کہ وہ خاموش نہیں بیٹھے گا اور سفینہ بھی یہ راز آخر کب تک چھپا پائے گی۔ وہ خود بھی اب کچھ ایسا ہی چاہتا تھا لیکن فی الفور کچھ نہیں ہوسکتا تھا۔ ابھی تو اسے بس سفینہ کو سمجھا کر ٹیپو کے ساتھ واپس لانا تھا۔ فاطمہ نے بھی ساتھ چلنے کی خواہش کی تھی لیکن یہ ہرگز دانشمندانہ نہیں تھی ۔

 شہر پہنچ کر زبیر کو جو خبر ملی وہ اس کے گمان سے باہر تھی اور جسے سن کر اس کے پیروں تلے سے زمین نکل گئی تھی۔ سفینہ کی موت کے ساتھ ٹیپو اور فاطمہ کے شہباز سمیت لاپتہ ہونے کی خبر شہر میں گردش کر رہی تھیں۔ بالا ہی بالا کسی پہ کچھ ظاہر کئے بغیر اس نے جو معلومات اکٹھی کی اس کے مطابق ساتھ والی رابعہ نے جب دو دن تک سفینہ یا اس کے بچوں کو نہ دیکھا تو خود ہی خیریت معلوم کرنے چلی آئی۔ گھر خالی تھا اور اندر سفینہ کی لاش پہ مکھیاں بھنبھنا رہی تھیں۔ کمرے میں شدید بدبو اور جما ہوا سیاہی مائل لہو تھا۔ وہ روتی بلکتی خوف سے تھر تھر کانپتی گھر لوٹ آئی۔ شہباز، فاطمہ اور ٹیپو کی ڈھونڈ مچی۔ سب نے اپنی اپنی سی کوشش کی اور پھر محلے والوں نے خاموشی سے سفینہ کی تدفین کردی۔ زیست کے سفر کا اختتام اتنا سفاکانہ بھی ہوسکتا تھا اس نے کہاں سوچا تھا۔ محلے والوںسے سفینہ کی قبر کا پوچھ کر اس نے فاتحہ پڑھی اور اسی شام واپس لوٹ آیا البتہ چند لوگوں کو ٹیپو کے حوالے سے ملنے والی خبر پہنچانے کی ذمہ داری سونپ کر اپنا کانٹیکٹ نمبر وغیرہ دے دیا تھا۔ تمام راستہ شدید پریشانی میں گزرا تھا۔ تاسف تھا کہ کم ہوکے نہیں دیتا تھا۔ خود اسے سفینہ کی موت کا اتنا ملال تھا تو وہ سمجھ سکتا تھا فاطمہ کس کرب سے گزرے گی اور اس پہ ستم اسے نور فاطمہ کو اس کرب سے گزرتے دیکھنا برداشت کرنا تھا۔ ناجانے وہ اسے یہ خبر کیسے سنا پائے گا۔ کاش اس رات وہ سفینہ کی بات نہ مان کر اسے بھی اپنے ساتھ لے آتا تو آج وہ زندہ ہوتی۔۔۔پر شائد یہ سب تقدیر میں یونہی لکھا تھا لیکن نور فاطمہ؟

٭….٭….٭

اس کا ردِ عمل بالکل وہی تھا جیسا زبیر نے سوچا تھا ۔وہ بچوں کی طرح بلک بلک کر روئی تھی۔ دھاڑے مار مار کر بین کرتے اس نے اپنا آپ پیٹا تھا کہ اسے سنبھالنا مشکل ہوگیا تھا۔ کیوں ماں کی بات مان کر اس نے شادی کے لئے ہاں کی جو اس کی زندگی اور خوشیوں کی خاطر اپنی جان قربان کر گئی۔ کیسے اسے یاد نہیں رہا اس کا باپ انسان نہیں وحشی درندہ ہے۔ چند پیسوں کی خاطر وہ پہلے بھی کتنی بے رحمی سے سفینہ کو مارتا رہا تھا پھر اب اتنی بڑی بات پر کیسے وہ اسے چھوڑ دیتا۔ روتے روتے وہ بیہوش ہوگئی۔ مشکلوں سے ہوش میں آئی تو ایسی چپ لگی جو ایک ہفتے تک نہ ٹوٹی۔ صبح سے شام تک بس کمرے میں بند رہتی۔ کھانا پینا حرام کرلیا تھا اس نے خود پہ ایسے میں زبیر کو اپنا آپ مجرم لگ رہا تھا۔ کاش وہ اسی وقت واپس لوٹ جاتا تو کم سے کم ٹیپو ہی اسے مل جاتا جس کی گمشدگی الگ معمہ بنی ہوئی تھی۔ یہ بھی تو کنفرم نہیں تھا اسے شہباز ساتھ لے گیا ہے یا پھر بچہ خود کہیں نکل گیا ہے۔ یہ بھی تو ہوسکتا تھا اسے عارف نے اٹھوا لیا ہو۔ اتنے سارے ممکنات پہ سوچتے ہوئے اس کا دماغ شل ہورہا تھا اس پہ نور فاطمہ کی حالت۔ گھر میں سب اس کی دلجوئی کرتے ، اس کا بے تحاشہ خیال رکھتے۔ وہ خاموشی سے سر جھکائے بیٹھی رہتی ۔ کسی دلاسے پہ سر اٹھاتی نا کسی پچکار پہ مسکراتی۔

آہستہ آہستہ یہ سلسلہ بھی ختم ہوگیا ۔ نندوں کو واپس لوٹنا تھا ۔ گھر میں اب بس وقار انصاری اور زبیر ہی تھے۔ وہ دونوں اس کا بہت خیال رکھتے۔ انصاری صاحب تو اسے بیٹے سے بڑھ کر چاہتے تھے۔ زبیر بھی اس کا دھیان بٹانے کی کوشش کرتا۔ چھٹیوں کا یہ مہینہ بس یونہی دوڑ بھاگ میں گزر گیا اور پھر وہ واپس چلا گیا۔ اسے ڈیوٹی بھی تو جوائن کرنی تھی۔ فاطمہ پہ گھر کی ذمہ داری آن پڑی تو آہستہ آہستہ وہ بھی اپنے غم سے باہر نکل آئی یہ اور بات دل اب بھی درد سے بھرا ہوا تھا پر ظاہر پہ قابو پاچکی تھی۔دل تو چاہتا تھا اپنا آپ ختم کرلے اور اس اذیت بھری زندگی سے چھٹکارہ حاصل کرلے بالکل اپنی ماں کی طرح لیکن یہی تو بے بسی ہے کہ ہم چاہیں یا نا چاہیں جینا تو پڑتا ہے۔ یہ بھی نہیں معلوم ہم زندگی گزارتے ہیں یا زندگی ہمیں گزار رہی ہوتی ہے پر آخری سانس تک اس کی تمام تر سفاکی اور زہر کو اپنے اندر اتارتے یہ وقت گزارنا ہی پڑتا ہے۔

٭….٭….٭

اسے یہاں آئے ابھی بس چند ہفتے ہی ہوئے تھے۔ یہاں کا ماحول اور لوگ بہت عجیب تھے۔ ان کی زبان، ان کا انداز اور پھر یہ کام اس کے لئے نیا تھا۔ اجنبیت اور خوف کا ایک نیا جہان تھا جس سے چند روز پہلے اس کا تعارف ہوا تھا۔ ایک بیس بائے بیس فٹ کی گندی اور تاریک دوکان۔ جگہ جگہ گریس اور تیل کی کالک جو اٹھتے بیٹھتے اس کو بھی میلا کرتی گئی۔یہاں آٹھ دس لڑکے کام کرتے تھے۔ ان میں کچھ اس کے ہم عمر تھے تو کچھ اس سے بڑے پر ان سب کا رہن سہن اور بات چیت کا انداز مشترک تھا۔ بات بے بات غلیظ گالیاں بکنا اور ایک دوسرے پہ بیہودہ جملے کسنا ان کا پسندیدہ مشغلہ تھا۔ البتہ زبان بس استاد کے آنے پہ رکتی تھی جو بات سے زیادہ لات کا استعمال کرتا تھا۔

”تیز تیز ہاتھ چلا یہ کیا لڑکیوں کی طرح نزاکت دکھا رہا ہے“۔ استاد نے ایک زوردار لات کمر پہ رسید کی ۔ وہ جو پیروں کے بل بیٹھا تھا بیلنس برقرار نہ رکھ سکا اور گر پڑا۔

”کر رہا ہوں استاد“۔اٹھ کر بیٹھتے اس نے ٹائر ٹیوب کو صابن والے پانی میں جلدی جلدی گھمانا شروع کیا لیکن خوف کے مارے ٹیوب ہاتھ سے نکل کر گر گئی۔ چھوٹے چھوٹے ہاتھ کالک سے اٹے ہوئے تھے۔ کندھے سے قمیض پھٹی ہوئی تھی۔ چہرے پہ تیل اور گریس سے بنے نقش و نگار کے باعث اس کی اصل رنگت اور صورت واضح نہیں تھی۔ اس چھوٹی سی موٹر ورکشاپ میں ٹیپو کو شہباز نے بہت منت ترلوں کے بعد ملازم رکھوایا تھا۔اس کے ننھے ملائم ہاتھوں سے کتابیں اور قلم چھین کر ان میں اوزار پکڑا دئیے گئے تھے۔ وہ ابھی کام نہیں جانتا تھا اس لئے اسے پیسے بھی سب سے کم ملتے تھے ۔ اسی ورکشاپ کے پچھلے حصے میں ٹین کا چھوٹا سا کمرہ تھا جہاں ان دونوں کی رہائش تھی۔

”سالے تیرے باپ کو پورے ہفتے کا پیسہ بھرا ہے۔خود تو وہ پڑا ہوگا کمینہ نشہ کرکے اور تو یہاں نخرے دکھا رہا ہے“۔استاد نے منہ میں تیلی گھماتے ایک اور لات رسید کی۔ اس بار وہ سامنے والی دیوار سے ٹکرایا تھا۔ سب کو ہفتہ وار تنخواہ ملتی تھی اور پچھلے ہفتے کی ساری تنخواہ شہباز پہلے ہی اپنی جیب میں ڈال چکا تھا۔

”میرا مال حرام کا نہیں جو تم باپ بیٹے پہ اڑاو ¿ں۔ سیدھی طرح کام کرے گا تو ہی روپیہ ملے گا ورنہ دھیلا نہیںدوں گا تجھے“۔اسے بالوں سے پکڑ کر اٹھاتے وہ مکروہ صورت انسان مسلسل گالیاں بک رہا تھا۔

”چل اب میری شکل مت دیکھ، جلدی سے یہ ٹائر لگا ورنہ چمڑی ادھیڑ دوں گا تیری“۔ اسے زمین پہ پٹخ کر اس نے ٹھڈا مارا۔ وہ گھٹڑی بنا اینٹوں کے فرش پہ پڑا کراہ رہا تھا۔ خوف کے مارے آنسو بھی آنکھوں سے نہیں نکل رہے تھے۔ جانتا تھا اگر رویا تو استاد اس سے زیادہ مارے گا اس لئے کانپتے ہاتھوں سے وہ ایک بار پھر پنکچر تلاش کرنے لگا تھا۔ باقی سب بھی اسے مار اور گالیاں کھاتا دیکھ کر کام میں مصروف ہوچکے تھے۔

 عارف کے خوف سے شہباز شہر چھوڑ کر بھاگ آیا اور پھر ناجانے کتنے ہی قصبوں ، شہروں میں بھٹکتا وہ ٹیپو کو ساتھ لئے مارا مارا گھومتا رہا۔ پچھلے چند ہفتوں میں اس نے بھیک تک مانگ کر اپنا پیٹ بھرا تھا۔ ٹیپو کو ساتھ لاکر بھی وہ اب بری طرح پچھتا رہا تھا ۔ اس کے تو اپنے پاس سر چھپانے کی جگہ نہ تھی ایسے میں وہ اسے کہاں سے کھلاتا پلاتا لیکن اس چھوٹے سے قصبے میں آتے ہی اس کا یہ مسئلہ بھی حل ہوگیا تھا۔ بچے کو اس نے گاڑیوں کی ورکشاپ میں کام پہ ڈال دیا تھا اور اب اسی کی کمائی سے اپنی گزر بسر کر رہا تھا۔

سارا دن وہ استاد کی گالیاں سنتا، ساتھ کام کرنے والے لڑکوں کی بیہودہ گوئی برداشت کرتا رات کو شہباز نشے میں اسے سفینہ اور نور فاطمہ کے حوالے سے غلیظ باتیں سناتا۔ اس کی مری ہوئی ماں کو فاحشہ اور بہن کو بھگوڑی کہہ کر بلاتا۔اس کا معصوم ذہن ان سب باتوں کے معنی کہاں سمجھتا تھا ۔وہ تو بس اتنا جانتا تھا کہ اسے تو شہباز کے بنائے اس جہنم میں رہ کر سفینہ اور فاطمہ کا تاوان بھرنا تھا کیونکہ شہباز کو پورا یقین تھا نور فاطمہ اپنے بھائی کو ڈھونڈتی لازمی اس تک پہنچے گی۔ زندگی جبرِ مسلسل بنتی جارہی تھی ۔۔ یہ ایک ایسا قید خانہ جہاں سے رہائی بس مر کر ہی ممکن تھی پر وہ اتنا خوش نصیب نہ تھا۔

٭….٭….٭

ہر بار کی طرح اس بار بھی نور فاطمہ کی نگاہوں نے زبیر کے چہرے پہ اپنے سوال کا جواب کھوجنا چاہا جو وہ پچھلے ڈھائی تین ماہ سے تلاش کر رہی تھی۔ ہر بار جب وہ گھر واپس لوٹتا تو نور فاطمہ کی آنکھوں میں بس ایک ہی تحریر ہوتی اور زبیر کے چہرے پہ وہی مایوسی بھرا انکار۔ اس بار بھی ٹیپو کا کچھ پتا نہیں چلا تھا۔ ابھی تو ماں کی موت پہ صبر نہیں آیا تھا اور صبر آتا بھی کیسے۔ ماں کی میت دیکھی ہوتی ، اس سے لپٹ لپٹ کر روئی ہوتی تو شائد آج دل کو قرار آجاتا۔ بھائی کی صورت آنکھوں کے سامنے سے ہٹ کر نہ دیتی تھی۔ پتا نہیں وہ کہاں ہوگا کس حال میں ہوگا۔ زندہ بھی ہوگا یا۔۔۔۔۔ ایسی ہی لاتعداد دل دہلا دینے والی سوچیں اس کا سکون برباد کر دیتیں۔دھیان بدلنے کو بس گھر کے کام کاج تھے شائد اسی لئے گھر اس نے بخوبی سنبھال لیا تھا۔ اپنی فطرت کے مطابق وہ انصاری صاحب کا بہت خیال رکھتی اتنا کہ وہ اسے اپنی بیٹیوں سے بڑھ کر ماننے لگے تھے۔ اس بار زبیر واپس آیا تو اس کے چہرے کا رنگ بدلا بدلا تھا۔وہ استعفی دے چکا تھا اور بس اپنی مدتِ ملازمت مکمل کر رہا تھا تو دل کو اس کی طرف سے بھی دھڑکا ہی لگا رہتا تھا۔ فاطمہ کو لگا شائد قسمت اس بار اس پہ مہربان ہوچکی ہے۔دھڑکتے دل کے ساتھ زیرِ لب بہت سی دعائیں کرتے اس نے پوچھا ۔ خبر وہ نہ تھی جس کی نور فاطمہ منتظر تھی پر اتنے وقت میں یہ پہلی بڑی خبر تھی جسے سن کر اس کے گلابی ہونٹوں پہ بھرپور مسکراہٹ ابھری تھی۔

”مجھے یقین نہیں آرہا“۔ زبیر نے اسے اخبار دکھایا تو وہ ناقابلِ یقین حیرت سے بولی۔

”یقین تو ویسے مجھے بھی نہیں آرہا۔ تم خاصی نالائق جو تھی“۔ آنکھیں سکیڑے اس نے ناراضی جتائی۔ وہ اب بھی بے تحاشہ حیرت اور بے یقینی سے اخبار کا وہ حصہ دیکھ رہی تھی جہاں اس کا رزلٹ چھپا تھا اور نور فاطمہ نے پورے ضلع میں تیسری پوزیشن لی تھی۔ حیرت سے بے یقینی اور پھر یقین کا مرحلہ طے کرتی وہ کچھ سمجھ ہی نہیں پا رہی تھی کہ آخر اس خبر پہ کیا ردِ عمل اختیار کرے۔ کتنا شوق تھا اسے آگے پڑھنے کا، زندگی میں کچھ کرنے کا۔ کتنی محنت کی تھی سفینہ نے اسے اس مقام تک پہنچانے میں اور آج وہی اس کی خوشی میں شریک نہ تھی۔ درد سے تو اس کا رشتہ پرانا تھا پر یہ خوشیوں بھرے کامیابی کے پل بھی انمول تھے۔ویسے تو زبیر کے آنے پہ کھانے کا ہمیشہ ہی وہ خصوصی اہتمام کرتی پر آج کچھ زیادہ ہی محبت سے اس کے لئے کھانا پکایا۔ وہ اور انصاری صاحب دونوں اس دبی دبی مسکراہٹ اور سر خوشی کا راز جانتے تھے تو ایک طرح سے مطمعن تھے۔ زبیر نے تو شکر کیا کہ اس کی اداسی کا قفل ٹوٹا ۔

 دوپہر سے لے کر اب تک وہ کئی بار اس اخبار کو دیکھ چکی تھی۔ بات بے بات مسکراہٹ بھی لبوں کا طواف کر رہی تھی۔ اب بھی کمرے میں آکر وہ اسی صفحے پہ نگاہیں جمائے بیٹھی تھی جب خود پہ جمی زبیر کی نگاہوں کو محسوس کرتے اس نے سر اٹھایا۔

”کیا دیکھ رہے ہیں“؟

”تمہیں دیکھ رہا ہوں“۔وہ مسکراتے ہوئے بولا پر نگاہیں اب بھی اسی پہ ٹکی تھیں۔ جلدی سے اٹھ کر اس نے اخبار کا تراشہ اپنی الماری میں سنبھال دیا ۔آج کی یہ خبر کل ایک حسین یاد بننے والی تھی اس لئے وہ اسے محفوظ کرلینا چاہتی تھی۔ یوں تو کچھ یادیں دل میں بھی تھیں پر وہ ہرگز حسین نہ تھیں۔

”کیوں ؟“کچھ شرمندہ سا ہوکر اس نے پوچھا۔ جانتی تھی وہ اس بچپنے پہ یقینناََ اس کا دل ہی دل میں مذاق اڑا رہا ہوگا۔

”میرا دل کر رہا تھا“۔زبیر کی مسکراہٹ اور ڈھٹائی بدستور تھی۔

”مت دیکھیں نا“۔وہ الجھی۔ اب اس کمرے میں ایسی کون سی جگہ تھی جو وہ اس کی نظروں سے اوجھل ہوجاتی۔

”ارے بھئی کیوں نہ دیکھوں میرا حق ہے“۔بستر پہ نیم دراز وہ اسے باقاعدہ تنگ کررہا تھا۔

”مجھے شرم آرہی ہے“۔

”لیکن مجھے تو نہیں آرہی“۔

”ٹھیک ہے تو پھر میں باہر چلی جاتی ہوں“۔وہ زچ ہوکر صوفہ سے اٹھی اور دروازے کی طرف بڑھی

”اچھا رکو نا تم سے کچھ بات کرنی ہے“۔زبیر نے ہاتھ بڑھا کر اسے اپنی طرف کھینچ لیا۔اس کے بکھرے بال انگلی کی پوروں سے چہرے سے ہٹاتے اس کی آنکھوں میں دیکھا پر اب شرارت کے بجائے سنجیدگی تھی۔

”کوئی ضروری بات ہے کیا؟“اس کی بانہوں میں سمٹی وہ کچھ بے چین ہوئی۔ اسے اس بدلے موڈ سے ڈر لگ رہا تھا۔

”ہاں بے حد ضروری اور بہت اہم“۔زبیر نے لب بھینچے۔

”دیکھو نور ہر انسان کے ذہن میں اپنے شریکِ حیات کے لئے ایک خاکہ موجود ہوتا ہے۔ جانے انجانے اس کی خواہش ہوتی ہے کہ اس کا ہم سفر پورا نا سہی مگر تھوڑا بہت اس خاکے سے ملتا جلتا ہو“۔ا س کا لہجہ ہمیشہ کی طرح دھیما تھا۔ وہی ٹھہر ٹھہر کر بولنا اور دل میں اتر جانا لیکن نور فاطمہ کو تاسف نے آگھیرا تھا۔ ان چاہے ہونے کا ملال ایک دم غالب آیا تھا۔

”میں جانتی ہو زبیر میں آپ کی سوچوں سے بہت مختلف ہوں۔ آپ کے تصور اور معیار پہ کسی صورت پورا نہیں اترتی میں لیکن۔۔۔“لب کاٹتے شرمندگی سے کہتی اس نے زبیر کی گرفت سے نکلنا چاہا۔

”تم جو ہو مجھے قبول ہو۔ پہلے جتنی اچھی لگتی تھی اب اس سے زیادہ اچھی لگتی ہو ۔ تمہارے ساتھ سے بڑھ کر کچھ اور اہم نہیں نہ ہی کچھ اور چاہیئے“۔اس کی کوشش کو ناکام کرتے زبیر نے اسے کچھ اور پاس کیا۔ وہ اس کی مضبوط بانہوں کی گرفت میں تھی جو ہربار اس کا حفاظتی حصار بن جاتی تھیں۔ وہ دونوں ایک دوسرے کی آنکھوں میں دیکھ رہے تھے۔

”تو پھر آپ کیا کہنا چاہتے ہیں“۔نور نے پلکیں گرادیں۔

”میری بس اتنی خواہش تھی اور ہے کہ میری بیوی ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ لڑکی ہوتی۔ “وہ اب اس کے کھلے بالوں میں انگلیاں گھما رہا تھا۔

”لیکن بدقسمتی سے میں نہیں ہوں“۔نور کے چہرے پہ ملامتی مسکراہٹ ابھری۔

”لیکن تم نے کہا تھا تم آگے پڑھنا چاہتی ہو زندگی میں کچھ بننا چاہتی ہو“۔اس نے یاد دلایا۔

”وہ تو بس ایک خواب تھا اور ہر خواب کی تعبیر و تکمیل نہیں ہوپاتی“۔وہ وقت ، وہ یادیں بہت تلخ تھیں۔ اس وقت کو کیسے بھولا جاسکتا تھا بھلا۔ سب کچھ اس ایک دن میں ہی تو ہوگیا تھا۔ زندگی سے موت کا سفر۔۔۔۔امید سے انجام کا سفر۔

”یہ خواب تم نے دیکھا تھا اور میں جانتا ہوں تم اسے پورا کرنے کی اہلیت بھی رکھتی ہو۔ یہ خواب حقیقت بن سکتا ہے نور، تم آگے پڑھنا شروع کردو“۔زبیر نے یقین دہانی کرائی۔

”یہ بھلا اب کیسے ممکن ہے؟“

”کیوں ممکن نہیں۔ تم نے کہا تھا تم کوشش کرو گی“۔

”ہاں مگر اس وقت۔۔۔“اس نے کہنا چاہا لیکن زبیر نے بات کاٹ دی۔

”ایک مرد کی کامیابی کے پیچھے عورت ہوسکتی ہے تو کیا ایک شوہر اپنی بیوی کی کامیابی کا حصے دار نہیں بن سکتا۔ مرد بھی تو عورت کو سہارا دے کر کامیابی کی سیڑھی تک پہنچا سکتا ہے نا۔ اور پھر ذرا سوچو اس ملک میں کتنی لڑکیاں ہوںگی جو اس سال پوزیشن ہولڈر ہیں“۔ زبیر نے سمجھایا۔

”آپ نے اب تک جو کچھ میرے لئے کیا ہے نا زبیر یہی بہت ہے۔ اب اس گھر کے لئے ، آپ کے لئے میری کچھ ذمہ داری ہے اور میں نہیں چاہتی زندگی میں آپ کو کبھی اپنے فیصلے پہ پچھتانا پڑے“۔وہ تو پہلے ہی اس کی ممنون تھی۔ مشکور تھی۔ احسانوں کے بوجھ تلے دبی تھی۔ مزید اس پہ بوجھ نہیں ڈالنا چاہتی تھی۔ اب تو بس یہی خواہش تھی کہ اس کی ذات سے زبیر اور اس کے گھر والوں کو کوئی تکلیف نہ پہنچے۔ وہ ان کے ہم پلہ نہیں یہ خلا اتنا بڑا تھا کہ اب وہ بس اسے حسنِ اخلاق اور خدمت سے ہی پر کرسکتی تھی۔ یقینناََ زبیر بھی نور فاطمہ سے کچھ ایسی ہی امید رکھتا اگر وہ ایک عام سا روائتی مرد ہوتا۔ جس کی خواہش و حسرت عورت کا قرب اور دل کا رستہ معدے سے ہوکر نکلتا ہے۔ جو بیوی کے روپ میں ملازمہ لانا چاہتا ہے۔لیکن وہ مختلف تھا اور نہیں چاہتا تھا نور ایک روائتی عورت بن جائے ۔ اپنی اور اپنے خاندان کی خدمت کے عویض اچھی بیوی کا ٹیگ حاصل کرنے کی مشقت میں گھلتی احساسِ کمتری کی ماری عورت جو بالآخر گھریلو سیاستوں میں الجھی ساس نندوں کی چغلیاں کرکے اپنے دل کو بوجھ ہلکا کرنے لگتی ہے۔ وہ بیوی اور ملازمہ کے فرق کو سمجھتا تھا۔ٹھیک ہے شوہر کی خدمت، اس کے اپنوں کا خیال رکھ کر عورت اپنے شوہر سے محبت و فرمانبرداری کا ثبوت دیتی ہے پر یہ سب اس پہ جبراََ نافذ نہیں کیا جاسکتا۔ نا تو اسے ان کاموں کے لئے مجبور کیا جاسکتا ہے نہ اس سے یہ سب زبردستی کروایا جاسکتا ہے۔ بیوی کو تابعدار مرد کا حسنِ سلوک بناتا ہے ۔

”میں بہت پچھتاو ¿ں گا نور اگر یہ وقت ہاتھ سے نکل گیا۔ میں نہیں چاہتا تم اپنی زندگی بس چولہے کے آگے کھڑے ہوکر ضائع کردو“۔اس نے کھل کر اپنے خدشات کا اظہار کیا۔

”یہ سب میں اپنی خوشی سے کرتی ہوں آپ کے لئے اور مجھے یہ کرنا اچھا لگتا ہے“۔وہ نہ بھی کہتی تو زبیر جانتا تھا اور یہ بھی جانتا تھا وہ تمام عمر اپنے فرائض بخوبی نبھائے گی۔انسانوں کی پرکھ تھی اس میں۔ یونہی اس نے نور فاطمہ کا انتخاب نہیں کیا تھا ۔

”لیکن تمہاری خوشی کچھ اور تھی اور اب وہی میری بھی خوشی ہے نور فاطمہ اس لئے مزید کوئی بحث نہیں ہوگی ۔ “اس نے بات ہی ختم کر دی فیصلہ ہوچکا تھا۔ اور نور فاطمہ جانتی تھی زبیر زندگی کے اہم اور بڑے فیصلے یونہی چٹکی بجا کر کرنے والوں میں سے تھا۔ اس کے سامنے احتجاج وہ پہلے بھی نہیں کر پائی تھی اس بار بھی یہ احتجاج کام نہ آیا تھا۔

٭….٭….٭

 ”آپ سوئیں نہیں اب تک؟“لاو ¿نج میں لگی فرینچ ونڈو سے سر ٹکائے باہر لان پہ نظریں جمائے وہ اپنی ہی سوچوں میں مگن تھیں۔ سمیر کی آواز پہ ٹھٹک کر وہ اپنے خیالوں کی دنیا سے باہر آئیں۔

”تم بھی تو جاگ رہے ہو“۔اپنی کلائی پہ بندھی گھڑی دیکھتے وہ مسکرائیں۔ صبح کے تین بج رہے تھے۔ آج انصاری صاحب اور فریحہ گھر پہ نہیں تھے ۔ زبیر انصاری ہوتے تو انہیں اتنا سب سوچنے کا موقع ہی نہ ملتا۔ اب تنہائی میسر آئی تو سوچوں کی ڈور خودبخود ماضی میں جا الجھی۔ ایسے میں کمرے میں بند گھٹن کا شدید احساس انہیں لاو ¿نج میں لے آیا تھا اور اب وہ پتا نہیں کب سے یہاں کھڑی تھیں۔ اپنے خیالوں میں گم وقت گزرنے کا احساس ہی نہیں ہوا۔

اس ایک گرم سیاہ رات میں انہوں نے کئی سال کا طویل اور اذیت ناک سفر طے کیا تھا۔ وہ پل جو کبھی ذہن سے محو نہ ہوئے تھے پر جنہیں اپنے اردگرد کے لوگوں سے چھپاتے روح نڈھال ہورہی تھی انہیں ایک بار پھر اسی ترتیب سے دہرانا اس بار بھی ڈاکٹر نور فاطمہ کے لئے اتنا ہی تکلیف دہ اور دشوار تھا جتنا اس وقت جب انہوں نے انصاری ہاو ¿س میں پہلا قدم رکھا تھا۔ یا پھر جب انہیں ماں کی موت اور بھائی کی گمشدگی کی خبر ملی تھی۔ وہی درد آج اتنے سال بعد بھی انہوں نے اپنے اندر اترتا محسوس کیا تھا۔ زندگی بہت آگے بڑھ کر بھی وہیں کھڑی تھی جہاں بہت کچھ پاکر بھی سب کچھ کھو جانے کا قلق دل کو اداس کردیتا تھا۔ گزرے ماہ و سال کسی فلم کی طرح آنکھوں کے سامنے تھے۔اپنی تعلیم جاری رکھنے کا فیصلہ اس وقت تو محض ڈاکٹر زبیر انصاری کی خوشی پہ خاموشی اختیار کرتے ہوئے ہی کیا تھا لیکن کچھ وقت بعد جب زندگی کی ہیجان خیزی کچھ کم ہوئی تو انہیں احساس ہوا تھا کہ اعلیٰ تعلیم ان کی ضرورت ہی نہیں ان کی زندگی کی سب سے بڑی خواہش تھی۔ اور سفینہ کا اکلوتا خواب۔ وہ اپنے بچوں کو پڑھا لکھا کر کسی قابل بنانا چاہتی تھی خاص طور پہ فاطمہ کو تاکہ زندگی میں اسے کبھی اپنی ضرورت کے لئے کسی کا محتاج نہ ہونا پڑے۔ اس کی یہ خواہش بہت سال بعد پوری تو ہوئی مگر وہ اس وقت یہ سب دیکھنے کے لئے دنیا میں نہیں تھی۔ نور فاطمہ کی زندگی کا وہ حصہ مشکل ہی نہیں تکلیف دہ بھی تھا جہاں گھراور شوہر کی ذمہ داریوں کے ساتھ انہوں نے میڈیکل جیسی ٹف تعلیم جاری رکھی۔ ان کی خاطر زبیر انصاری نے اپنا گھر اور ملازمت چھوڑ کر اسلام آباد شفٹ ہونے کا فیصلہ کیا اور یہ بہت بڑا فیصلہ تھا۔ اپنی زندگی کے آخری سالوں میں وقار انصاری صاحب بھی ان کے ساتھ ہی رہے ۔ زبیر انصاری نے اگر اپنے وعدے کو نبھاتے نور فاطمہ کے ساتھ ہر ممکن تعاون کیا تو انہوں نے بھی اپنی ہر ذمہ داری دل و جان سے نبھائی۔ وقار انصاری وقتِ رخصت نور فاطمہ کے لئے خوشیوں کی دعا کرتے دنیا سے گئے تو نندوں نے ان کے حسنِ سلوک کی بدولت انہیں سر آنکھوں پہ بٹھایا۔ شوہر کے شانہ بشانہ چل کر بھی انہوں نے ہمیشہ ان کی خواہش و مرضی کو مقدم سمجھا۔ اپنا تو ان کا کوئی خاندان تھا ہی نہیں پر اپنے شوہر کے خاندان کوانہوں نے اپنا بنایا۔ ان کے دلوں میں خود اپنی جگہ بنائی۔ مرحلہ طویل اور مشکل تھا پر ناممکن نہیں ۔ اچھی بیوی، بہترین بہو اور ذمہ دار ماں کی اعلیٰ مثال قائم کرتے نور فاطمہ آج اس خاندا ن کا غرور تھیں، مان تھیں۔ اگر سفینہ نے زور زبردستی کرکے زبیر انصاری کی صورت ان کے لئے بہترین ہمسفر کا انتخاب کیا تھا تو انہوں نے زبیر انصاری کو بھی اپنے فیصلے پہ پچھتانے نہیں دیا تھا۔ وہ شکرگزاری کی مٹی سے بنی ماں کی اولاد تھیں ہر حال میں مشکور ہی رہتیں لیکن اوپر والے نے تو ان کا مقدر سنہری حروف سے لکھا تھا اسی لئے تو اتنا چاہنے والا شوہر نصیب میں تھا۔ آج دامن میں سب کچھ تھا ۔ نہیں تھی تو ٹیپو کی کوئی خبر نہ تھی۔ وہ مل جاتا تو یہ تشنگی بھی چلی جاتی جو برسوں سے ساتھ چل رہی تھی۔

 ”سوال کے جواب میں ایک اور سوال“۔اس نے جتایا۔سمیر کا ارادہ سونے کا تھا لیکن نیند اسے بھی نہیں آرہی تھی لہذا اپنا پسندیدہ ٹائم پاس یعنی کھاتا کھول کر بیٹھ گیا تھا۔ سونے سے پہلے گھر کا چکر لگا کر تسلی کرنا اس کی عادت تھی۔ لاو ¿نج میں اندھیرا تھا پر لان سے آتی مدہم روشنی میں نور کو کھڑکی پہ سر ٹکائے دیکھ کر اسے شدید حیرت ہوئی تھی۔

”نیند نہیں آرہی تھی“۔اپنی آنکھوں کی نمی کو سمیر سے چھپاتے وہ دھیمے لہجے میں بولیں اور بیٹے کی طرف دیکھنے سے اجتناب کیا۔

”میں اکاو ¿نٹس چیک کر رہا تھا“۔وہ بھی ان کے برابر آکھڑا ہوا اور لان میں دیکھنے لگا۔

”خود کو اوور برڈن کیا ہوا ہے تم نے۔ وقت پہ کھانا اور وقت پہ سونا اچھی عادت ہے“۔حتیٰ الامکان خود پہ قابو پاتے بظاہر وہ نارمل ہوچکی تھیں لیکن سمیر سے اپنے آنسو چھپا کر بھی ان کی آواز کی نمی پوشیدہ نہ رہ پائی تھی۔ ان کی نصیحت پہ تو خیر اس نے ہرگز توجہ نہیں دی تھی اور اپنے اندر اٹھتے سوال کو بھی نہیں روکا تھا۔

”آپ ڈسٹرب ہیں یا پھر اپ سیٹ۔ مجھے نہیں بتائیں گیں“۔نور انصاری نے اس کے سنجیدہ چہرے پہ نگاہ کی۔ جوان بیٹے سے دل کی بات چھپانا کتنا مشکل مرحلہ ہوتا ہے اس کا اندازہ انہیں اس وقت بخوبی ہورہا تھا ۔

”ایسی کوئی بات نہیں میری جان۔ بتایا تو ہے نیند نہیں آرہی تھی“۔دھیمے انداز میں کہتے وہ ہلکا سا مسکرائیں اور اس کے بالوں پہ ہاتھ پھیرا۔

”آپ کے اور ڈیڈ کے درمیان کوئی ایشو چل رہا ہے کیا“۔یہ وہ بات تھی جو وہ اتنے دن سے پوچھنا چاہ رہا تھا۔ اس کے ذہن میں کبھی ایسی بات نہ آتی اگر اس نے اپنے والدین کے درمیان اس رات وہ ادھوری گفتگو نہ سنی ہوتی۔ جسے سننے کے بعد اس کے لئے یہ یقین کرنا ہی مشکل ہورہا تھا کہ اس کے ممی ڈیڈی میں کبھی کسی بات کو لے کر تنازعہ بھی ہوسکتا ہے لیکن انصاری صاحب کی طبیعت کا اچانک خراب ہونا اور ماں کے چہرے کی اداسی جیسے اس کے شک پہ یقین کی مہر ثبت کرتے چلے گئے تھے۔

”یہ تم سے کس نے کہا“۔نور انصاری کو شاک لگا تھا۔

”نہیں بس مجھے ایسا لگا شائد آپ کا ڈیڈ سے کوئی جھگڑا ہوا ہے“۔اس نے بات بنائی۔ اب یہ بتاتا کیا اچھا لگتا کہ ان کے کمرے کے باہر کھڑے ہوکر ان کی پرسنل باتیں سنی تھیں۔

”تم نے دیکھا کبھی اپنے ڈیڈ کو مجھ سے جھگڑا کرتے؟“انہوں نے ابرو اٹھا کر سوال کیا۔

”ظاہر سی بات ہے اسی لئے مجھے بھی تعجب ہوا پر آپ اور ڈیڈ پچھلے دنوں اسٹریسڈ تھے تو مجھے لگا۔۔۔۔“۔اب اس سے زیادہ وہ کیا کہتا۔ کھل کر بات بھی اسی صورت ہوتی جب ماں کی طرف سے کوئی سراغ ملتا۔ انہوں نے تو یکدم اس کی بات جس اعتماد سے رد کی اس کے بعد مزید کچھ کہنے کی گنجائش ہی نہیں بچتی تھی ۔

”اسٹریس کام سے ہوتا ہے، روزمرہ کے چھوٹے موٹے مسائل کام کا حصہ ہوتے ہیں بٹ نتھنگ ٹو وری“۔وہ ان کی اداسی کو زبیر انصاری سے ناراضی سمجھ رہا تھا یہ جان کر انہیں تسلی ہوئی تھی۔ مگر اس کا ذہن اب بھی الجھا ہوا تھا۔ اگر جھگڑا نہیں تو پھر ان کے درمیان وہ بحث۔۔۔۔۔ اور ممی کی یہ اداسی۔ آخر کچھ تو تھا ان سب باتوں کے پیچھے ۔( ہوسکتا ہے میں نے نتیجہ غلط نکالا ہو بات وہ نہ ہو ۔ کچھ اور ہو۔۔۔پر کیا؟) اور اس کیا کے آگے سب دھرا کا دھرا رہ جاتا تھا۔ بات کہاں سے شروع ہوئی پہنچی ایک بار پھر اسی اندھے موڑ پر تھی۔

”خیر تمہاری نگہت آپا سے بات ہوئی؟“۔اپنی طرف سے تو نور انصاری بیٹے کو مطمعن کر چکی تھیں لہذا بات کا رخ بدل دیا ۔ یوں بھی وہ سمیر سے کچھ شئیر کرنا چاہ رہی تھیں۔ وہ اسرار جو پہلی بار انہیں اپنی نند کی باتوں سے محسوس ہوا اور جسے انہوں نے ان سے بات کرتے قصداََ ظاہر نہیں کیا تھا۔

”نہیں میری پھوپھو سے بات نہیں ہوئی ۔ ایک آدھ دن میں خود کال کرلوں گا۔“وہ دونوں اب کھڑکی سے ہٹ کر صوفہ کی طرف جارہے تھے۔

”مجھے لگتا ہے نگہت آپا کو فریحہ پسند ہے“۔نگہت آپا کی بات نے کچھ شک تو ان کے دل میں بھی ڈالا تھا۔ انصاری صاحب ہوتے تو وہ ان سے ذکر کرلیتیں ۔ سمیر تھوڑی پہ ہاتھ ٹکائے ٹانگ پہ ٹانگ جمائے ان کے سامنے والے صوفہ پہ مطمعن سا بیٹھا تھا۔ ان کی بات سن کر ماتھے پہ بل نمودار ہوئے ۔

”بہت بڑا دل ہے پھوپھو کا ۔ فریحہ کو پسند کرنا خاصے دل جگرے کا کام ہے“۔وہ ایک آنکھ دبائے سوچتے ہوئے بولا۔ نور انصاری جو اس وقت بے تحاشہ سنجیدہ تھیں اس کی غیر سنجیدہ بات پہ بس ایک ٹک اسے دیکھے گئیں اور یہ ان کا خاص تنبیہی انداز ہوتا تھا اپنے بچوں کے لئے کہ جب بھی انہوں نے اپنی ناراضی کا اظہار کرنا ہوتا یا بات ان کے مطابق نہ ہورہی ہوتی تو وہ بس سنجیدہ نظروں سے دیکھتیں اور یہ ممی کا موڈ خراب ہونے کا الارم ہوتا تھا۔

”کمال کرتی ہیں ممی، اب کون سی پھوپھو اپنی بھتیجی کو پسند نہیں کرتی ہوںگی“۔وہ ہنستے ہوئے بولا تو نور انصاری نے سر جھٹکا۔

”کبھی تو سیریس ہوا کرو سمیر میں دوسری پسندیدگی کی بات کر رہی ہوں۔ مجھے ان کی باتوں سے شک سا گزرا ہے وہ عمیرکے حوالے سے شائد فریحہ میں انٹرسٹڈ ہیں۔ آئم ناٹ شئیور لیکن ان کی بات کچھ عجیب سی تھی“۔انہوں نے ساری بات کھل کر بتائی کس طرح نگہت آپا ان سے ڈھکے چھپے انداز میں کچھ کہہ رہی تھیں۔بھلے ان کی بات کو اس وقت نظرانداز کر دیا تھا لیکن وہ اتنی بیوقوف نہیں تھیں کہ اس پیغام کو نہ سمجھ سکتیں۔

”آپ نے فریحہ سے اس سلسلے میں کوئی بات تو نہیں کی؟“اس نے سوال کیا۔ سمیر اب خاصہ سنجیدہ نظر آرہا تھا۔

”نہیں یہ تو میں نے ابھی تمہارے ڈیڈ کو بھی نہیں بتایا۔ یونہی خیال آیا تو تم سے شئیر کر لیا ویسے عمیر اچھا لڑکا ہے۔ ہمارا دیکھا بھالا بچہ ہے اگر ایسا ہوجائے تو ہمیں خوشی ہوگی“۔ وہ دونوں لاہور سے واپس آتے تو کوئی بات ہوتی اور فریحہ سے تو بات اسی وقت ہوتی جب کچھ کنفرم بھی ہوتا۔ وہ پہلے سے اس کے دماغ میں ایسی کوئی بات ڈال کر اس کا ذہن کیوں خراب کریں۔

”جیسے آپ مناسب سمجھیں۔ فریحہ سے پوچھ لیجئے گا بہرحال اس کی خوشی سب سے پہلے“۔یہ بات سمیر نہ بھی کہتا تو وہ ہرگز ایسا کوئی فیصلہ بیٹی کی مرضی جانے بغیر نہ کرتیں۔ اتنی تعلیم اور خود مختاری دینے کے بعد اولاد سے ان کی زندگی کا اہم فیصلہ کرتے ان کی مرضی معلوم نہ کرناحق نہیں جہالت کہلاتا ہے۔ زور زبردستی ان پہ اپنے فیصلوں کا نفاذ اس لمحے کرنا جس پہ ان کی تمام زندگی کا انحصار ہو ۔ بچپن جیسی کچی سوچ کے ساتھ جنہیں آئسکریم کا فلیور بھی ان کی مرضی سے لے کر دیا جاتا ہے بڑے ہونے پر جب وہ دنیاوی شعور حاصل کرلیتے ہیں تو ان پہ جبراََ اپنے فیصلے مسلط کر دئیے جاتے ہیں جن کا نتیجہ ہرگز مثبت نہیں ہوتا۔ ماں باپ سے بڑھ کر اولاد کی بہتری کوئی نہیں سوچتا پر ان پہ اپنی مرضی مسلط کرنے کی بجائے انہیں اعتماد میں لے کر ان کی خوشی سے کئے جانے والے فیصلے فردِ واحد کے لئے نہیں بلکہ نسلوں کے لئے بہترین ثابت ہوتے ہیں۔

”ڈونٹ وری پوچھ لوں گی“۔انہوں نے اسے تسلی دیتے مسکراتے ہوئے کہا۔” لگے ہاتھوں تم بھی بتادو اپنی خوشی ویسے وہ کشمالہ بری نہیں‘ ‘۔موقع ملتے ہی انہوں نے اسے بھی دوبارہ گھیر لیا تھا۔ سچ بات تو یہ ہے انہیں کشمالہ واقعی اچھی لگی تھی۔ وہ سمیر کے ساتھ خوب جچتی۔

”وہ تو اتنی اچھی ہے کہ انسان کو بدہضمی ہوجائے۔ “سمیرکی شرارت پہ نور انصاری نے بمشکل ہنسی دبائی۔

”بکو مت، ہمیشہ ٹال دیتے ہو“۔انہوں نے ڈپٹا تو سمیر انگڑائیاں لیتا اٹھ کھڑا ہوا۔

”میرا خیال ہے میں جاکر سو جاو ¿ں ورنہ آپ یہیں کھڑے کھڑے میری شادی کروا دیں گیں“۔ان کے ماتھے پہ بوسہ دے کر وہ اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔

 نور فاطمہ انصاری بیٹے کے لمس کو اپنی جلتی ہوئی پیشانی پہ محسوس کرتی رہیں۔ وہ جانتی تھیں سمیر جاتے جاتے انہیں اپنے انداز میں دلاسہ دے کر گیا ہے۔ ان کی پریشانی پہ تسلی دے کر گیا ہے ۔وہ بے شک اسے نہ بتائیں اور بھلے وہ آگاہ نہیں پر وہ ان کے ساتھ ہے۔فرطِ جذبات سے بے اختیار ان کی آنکھیں چھلک گئی تھیں اور اس پل وہ جانتی تھیں یہ آنسو تکلیف یا پریشانی کے نہیں بلکہ بے انتہا خوشی کے ہیں۔ زیست کا حاصل ہے جو فرمانبردار اولاد د کی صورت آنکھوں کی ٹھنڈک اور دل کا سکون ہے۔ نور فاطمہ اس لمحہ اپنے رب کا جتنا شکر ادا کرتیں کم تھا۔اور بے شک ہم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلائیں گے جو نوازنے پہ آجائے تو پیروں کی دھول ذرہِ آفتاب بن کر دمکنے لگتی ہے۔زندگی جنت سی حسین اور مکمل ہوجاتی ہے ۔

٭….٭….٭

صبح سویرے سورج کی سنہری کرنیں انصاری ہاو ¿س کی پرشکوہ عمارت پہ دستک دینے پہنچ چکی تھیں۔ فریحہ کے بغیر علینہ کی بیزاری شدید تر ہوتی جارہی تھی اس پہ مونس والا قصہ الگ حواسوں پہ سوار تھا۔فریحہ ہوتی تو اس سے کچھ کہہ سن کر دل ہلکا کرلیتی کہ اس سے بات چیت کرنا اب اتنا مشکل نہ لگتا تھا۔ مونس کی طرف سے بھی اسے اچھی خاصی پریشانی تھی۔ کچھ دکھ بھی تھا کہ سمیر نے اس کے ساتھ تھوڑی زیادہ کر دی ہے۔

” کم سے کم اسے تھانے میں بند نہیں کروانا چاہیئے تھا آخر اس کے گھر والے پریشان ہوں گے“۔ ایک بار تو دل میں آئی باپ کو فون کر کے بتادے پر اس سے تو بات نہ کرنے کی ٹھانی تھی۔ دوسرے اگر سمیر کو پتا لگ جاتا تو وہ اس کا ٹینٹوا ضرور دبا دیتا(اس بار سچ میں)۔ ویسے اسے سمیر کے رویے پہ بھی شدید حیرت تھی۔

”اتنا برا نہیں مسٹر اکڑو جتنا نظر آتا ہے“۔اور اپنی بات کا مفہوم سوچتے ہوئے علینہ نے ایک بار اپنی بینائی کی کمزوری پہ بھی دھیان دیا تھا۔(کم بخت برا نظر بھی تو نہیں آتا) وہ بس سوچ کر رہ گئی تھی۔ سب باتیں ایک طرف انصاری صاحب اور فریحہ کی واپسی مو ¿خر ہونے کا غم ایک طرف۔

 کل عمیر آرہا تھا ۔ نور کا مشورہ تھا ایک دن مزید وہاں گزار کر اسے ائیر پورٹ سے ریسیو کرکے گھر پہنچیں۔ فریحہ کا انٹرسٹ نہ تھا اس لئے وہ جزبز ہوئی پر زبیر انصاری کو بھی یہ بات مناسب لگی تھی۔ بار بار سفر کرنا مشکل تھا یا پھر دوسری صورت سمیر کو جانا پڑتا جو اس کے حالیہ شیڈول میں ناممکن تھا۔ فریحہ کی مرضی شامل تھی یا نہیں۔۔۔۔ ان کی واپسی ایک دن بعد ہی ہوئی تھی۔

 فریحہ کی واپسی نے جہاں علینہ کے دل کی کلی کھلائی تھی وہیںعمیر کی آمد سے وہ بالکل اسی طرح بدمزہ ہوئی تھی جس طرح ایک مہمان دوسرے مہمان کی آمد پہ ہوتا ہے۔ ظاہر سی بات ہے سب کی توجہ علینہ سے ہٹ کر عمیر کی طرف منتقل ہوگئی تھی ۔ وہ تو ان کی کچھ لگتی بھی نا تھی جبکہ عمیر سے تو ان کا انتہائی قریبی تعلق تھا۔

”میرا واقعی دماغ کھسک گیا ہے“۔ اسے اپنی سوچ پہ غصہ آیا ۔ یہ کون سی بے سر پیر کی باتیں لے کر بیٹھ گئی تھی وہ۔ چند روز پہلے اسے یہی توجہ اچھی نہیں لگ رہی تھی۔ اس میں احسان نظر آرہا تھا اور اب نظر انداز ہونے کا خوف دل جلانے لگا تھا۔

”اللہ جانے میں کب اور کیسے نارمل ہوپاو ¿ں گیں۔ ہو پاو ¿ں گی بھی یا شائد ہمیشہ ایسی احمق رہوں گی۔ “خود کو کوستے اس نے اپنا تجزیہ کیا۔ وہ واقعی احمقو ں کی سردار تھی۔ دراصل حقیقت میں جن باتوں سے وہ شدید نالاں اور خائف رہتی تھی ان کی کمی اپنی زندگی میں محسوس کرتی تھی۔ اس کی زندگی کی طرح اس کی شخصیت بھی انتہائی پیچیدہ تھی۔ وہ مسائل جو اسے وراثت میں ملے تھے آج اس کی زندگی میں عدم تحفظ، دوہری شخصیت اور نفسیاتی مسئلوں کی صورت موجود تھے جو دن بہ دن اسے الجھائے چلے جارہے تھے۔ احساسِ کمتری وجود کی دیواریں توڑتا کسی نہ کسی بہانے باہر نکلنے کو بے تاب ہوتا ۔ چند روز پہلے فریحہ سے اپنا موازانہ کرتے اسے اپنا آپ بے مول اور ارزاں محسوس ہوا پر فریحہ کے خلوص اور دوستانہ برتاو ¿ نے اس سوچ میں دراڑ ڈالی تھی۔ یہی وجہ تھی کہ وہ دو دن میں اس کی غیر موجودگی سے بری طرح بوکھلا گئی تھی۔ اب کچھ یہی صورتحال عمیر کے ساتھ بھی در پیش تھی کہ مہمان وہ بھی تھی اور مہمان عمیر بھی تو موازانہ یہاں بھی آچکا تھا ۔ حماقت سے زیادہ کچھ نہیں تھا پر حماقتیں بھی پرلطف ہوتی ہیں ۔

٭….٭….٭

عمیر کی آمد سے گھر کا ماحول دو آتشہ ہوگیا تھا۔وہ سمیر سے دو سال بڑا تھا ۔اپنی باتونی اور ملنسار طبیعت کی بدولت اس نے جلد گھر میں سب کی توجہ بٹور لی تھی۔ علینہ اس کی طرف کم ہی توجہ دیتی ۔ سب سے الگ تھلگ اور خاموش بغیر کسی ردِ عمل اس کی باتیں سنتی رہتی لیکن آہستہ آہستہ وہ ان سے محظوظ ہونے لگی تھی۔ ظاہر نہ کرتی پر اس کا دل بھی کرتا وہ فریحہ کی طرح کھل کر ان لطیفوں پہ قہقہے لگائے اور خوب دل کھول کر ہنسے۔وہ ان کا کزن تھا، چند روز رہنے آیا تھا نا کہ یہاں اس کی پوزیشن کمزور کرنے ، یہ سوچ بھی اسے اپنی بیوقوفی پہ ماتم کرتے ہوئے آئی تھی ۔ اور پھر اس کی تو حیرت کی انتہا ہی نہ رہی جب رات کے کھانے کے بعد حسبِ عادت لاو ¿نج میں بیٹھ کر کافی اور کھٹی میٹھی باتوں سے لطف اندوز ہوتے عمیر نے اسے بھی شاملِ گفتگو کرلیا۔

” علینہ تم اتنی دیر سے خاموش کیوں بیٹھی ہو۔ “ وہ عمیر تھا سمیر نہیں، تکلف وغیرہ تو اسے آتے نہ تھے اور پھر علینہ بھلے مہمان تھی لیکن وہ تو ان کے خاندان کا حصہ تھا۔ اسے عجیب سا محسوس ہوا تھا علینہ کا اتنا خاموش اور لاتعلق رویہ اور یہ اس کا ضرورت سے زیادہ خاموش اور لاتعلق رہنا ہی تھا کہ عمیر کا دھیان اس پہ گیا۔

”بول کے تجھ پہ گماں ہونے لگا تصویر کا“۔ اس برجستہ شعر پہ سب کے چہرے پہ مسکراہٹ بکھری اور سب ہی علینہ کی طرف متوجہ ہوگئے ماسوائے سمیر کے جو کافی کے کپ میں منہ دئیے بے نیازی کا مظاہرہ کر رہا تھا لیکن کن انکھیوں سے عمیر کو دیکھ رہا تھا۔

”میں کیا بولوں، میں سن رہی ہوں“۔ سب کو اپنی طرف متوجہ پاکر وہ کھسیانی ہوئی۔

”حالانکہ سنتے تو صرف مرد ہیں۔ کیوں ماموں؟“ عمیر نے اپنا ہاتھ زبیر انصاری کے آگے کیا ۔ قہقہہ لگاتے انہوں نے تائیدی انداز میں اپنا ہاتھ مارا۔

”بھئی ہمیں تو خود عمر گزر گئی سنتے سنتے۔ “ وہ بھی شریر ہوئے۔ نور فاطمہ نے سر جھٹکتے کافی کا کپ میز پہ رکھا۔

”عمیر بھائی آپ سے مل کر لگتا ہے زمانہ بد ل چکا ہے۔ اب خواتین ہماری طرح خاموشی سے سنتی ہیں۔ بولتے تو صرف مرد حضرات ہیں“۔ فریحہ نے جھٹ لقمہ دیا۔

”سمیر تم نے وہ لطیفہ تو سنا ہوگا۔ پانچ عورتیں اکٹھی بیٹھی تھیں اور سب خاموش تھیں“۔ وہ اب سمیر کی طرف متوجہ تھا جس نے کنجوسی سے بس مسکرانے پہ اکتفا کیا تھا۔ البتہ باقی سب نے عمیر کے جوک کو انجوائے کیا۔ کچھ دیر یونہی خواتین و حضرات کی ٹانگ کھینچتے گزرے اور عمیر ایک بار پھر علینہ کی طرف متوجہ ہوا۔

”تمہاری اسکولنگ دوہا کی ہے نا۔ کون سے اسکول میں تھی تم“۔اس نے سوال کیا۔علینہ کے متعلق سرسری سی معلومات اس نے اپنی سویٹ ممانی سے ہی حاصل کی تھی۔ویسے تو انصاری خاندان کا ہر فرد شاکرہ نانی سے واقف تھا اور عمیر کا بھی ان سے غائبانہ تعارف تو تھا۔

”کیمبرج اسکول میں“۔اسے حیرت ہوئی تھی کہ وہ اس کے متعلق یہ سب کیسے جانتا ہے پر اپنی حیرت پہ قابو پاتے اس کا جواب مختصر تھا۔

”ویری نائس۔ بڑا کمال کا اسکول ہے ۔ میرا کولیگ دوہا سے ہے۔ اس نے بھی ہائی اسکول وہیں سے کیا تھا پھر ہائر اسٹڈیز کے لئے یوکے آگیا۔ اینڈ ہی از این ایکسٹرا آرڈنری بریلئینٹ“۔عمیر کی زبان سے ادا ہونے جملے نے علینہ کی سردمہری میں دراڑ ڈالی۔ اسکول اور اس سے جڑی کئی یادیں اس پل یاد آئی تھیں ۔ پہلی بار اسے اس گفتگو میں دلچسپی کا عنصر نظر آیا۔

” پھر تو یقینناََ تم بھی ایک غیر معمولی اسٹوڈنٹ ہو گی کیونکہ عام سے طلبہ کا وہاں ٹکنا محال ہے“۔وہ متاثر لہجے میں بولا تھا۔

”مڈل اسکول میں اسکالر شپ تھا میرے پاس“۔علینہ کا انداز فخریہ تھا۔ وہاں بیٹھے سب نے ہی اسے توصیفی نظروں سے دیکھا اور اس بار یہ بتانے کی ضرورت تو ہرگز نہیں کہ ان سب میں سمیر انصاری شامل نہیں تھا۔

”ہیٹس آف تو یو میم“۔وہ اپنی دو انگلیاں ماتھے تک لے کر گیا۔ علینہ کے چہرے پہ دھیمی سی مسکراہٹ ابھری۔اپنی تعریف و توصیف سننا زندگی کی ہر اسٹیج پہ اچھا لگتا ہے۔ تنقید سچ بھی ہو تو باعثِ تکلیف ہوتی ہے بھلے چند پل کو ہی لیکن ہمیں دکھ محسوس ہوتا ہے اور اس نے تو بس اب تک خود پہ تنقید ہی سہی تھی۔ کوئی اس کی خوبی کا ذکر کر رہا تھا تو احساسِ تفاخر روح کو سیراب کر رہا تھا۔

”پھر تو آگے بھی کچھ شاندار پلان کیا ہوگا۔ کیا پڑھ رہی ہو“۔علینہ اب کافی مطمعن تھی۔

”میں بی بی اے کر رہی ہوں فنانس میں۔ لاسٹ سمیسٹر۔ اس کے بعد ایم بی اے کا پلان ہے ان شاءاللہ“۔وہ بڑے اعتماد سے بولی تو سمیر نے سر اٹھا کر دیکھا۔ اس کا چہرہ خوشی سے سرخ ہورہا تھا۔ آنکھوں میں جگنو تمتما رہے تھے۔ وہ بے تحاشہ مسکرا رہی تھی اور اس کے چہرے پہ خوشی کے یہ رنگ بڑے بھلے معلوم ہورہے تھے۔

”شکر ہے وقت کے ساتھ پاکستان میں بھی کچھ تبدیلی آتی دکھائی دی ورنہ اب تک تو لڑکیاں پروفیشنل اسٹڈیز میں بس ٹیچنگ یا میڈیسن تک محدود تھیں“۔ اس کا لہجہ عام سا تھا لیکن فریحہ نے باقاعدہ گھور کے دیکھا۔

”اچھی بات ہے تم نے مینجمنٹ کا انتخاب کیا۔ کوشش کرنا اسے پرکیلٹکلی یوٹالائز کرو۔ پڑھ کر گھر مت بیٹھ جانا۔ “ علینہ نے مسکراتے ہوئے سر ہلایا۔

”نور ممانی آپ کی بات نہیں کررہا میں۔ آپ تو ہماری فیملی کا مان ہیں“۔ اس محفل میں تین ڈاکٹر بھی موجود تھے جن میں سے دو خواتین اور وہ اپنے خلاف آتے ہی مخالف بلاک کھلنے نہیں دے سکتا تھا اس لئے فوراََ وضاحتی بیان دے ڈالا پر فریحہ کا ذکر قصداََ گول کر دیا تھا جس پہ اس کا منہ سوج گیا تھا۔

”پاکستان کے دو سب سے بڑے ملک گیر مسائل جانتے ہیں۔ پہلے نمبر پہ صحت دوسرے پہ تعلیم“۔ فریحہ دفاعی پوزیشن سنبھالے میدان میں اتر آئی۔

”اور ان کے پیچھے چھپی ہے گڈ گورننس۔ درست ایڈمنسٹریشن نہیں ہوگی تو یہ دونوں مسائل جیسے پچھلے ستر سال سے قائم ہیں اگلے ستر سال تک قائم رہیں گے“۔ سمیر خود کو روک نہیں پایا تھا۔ عمیر نے مسکراتے ہوئے آنکھوں کی آنکھوں میں سمیر کا اس طرفداری پہ شکریہ ادا کیا جسے اس نے نہایت سنجیدگی سے قبول کیا کیونکہ یہ تو بس وہی جانتا تھا اس وقت وہ عمیر کی فیور نہیں کر رہا تھا۔ علینہ نے ناقابلِ یقین حیرت سے سمیر کی طرف دیکھا جو ایک بار پھر کافی کی طرف متوجہ ہوچکا تھا۔ یہ شخص واقعی بہت عجیب تھا۔ اس سے کچھ بعید نہ تھا کب ، کہاں اور کیسے وہ کیا کہہ دے۔

”وِش یو لک علینہ“۔ عمیر خوشدلی سے بولا جبکہ علینہ سنجیدگی سے شکریہ کہتی ٹی وی کی سمت دیکھنے لگی تھی۔ عمیر اور فریحہ میں بحث جاری رہی جسے مسٹر اینڈ مسز انصاری دیر تک انجوائے کرتے رہے۔

٭٭٭

صبح کچن میں ہنگامہ مچا ہوا تھا۔ کل رات سے ملازمہ کو شدید بخارتھا۔نور فاطمہ نے اسے رات ہی چھٹی دے دی تھی کہ وہ آج کا دن آرام کر سکے۔ کچن کا کام ویسے بھی وہ خود اچھے سے کرلیتی تھیں لیکن آج صبح جلدی جلدی میں وہ اپنا اور ڈاکٹر انصاری کا ناشتہ بنا کر اسپتال نکل گئیں پیچھے سب گھر والوں کے ناشتے کی ذمہ داری فریحہ کے ذمہ تھی جو عام حالات میں کہاں کچن میں جھانک کر دیکھتی تھی۔ پہلے پڑھائی پھر ملازمت ، ایسے میں بہت سے بہت کافی، چائے بنانے چلی گئی۔ ویسے اس نے بیکنگ کا کورس بھی کیا ہوا تھا کیونکہ اسے شوق تھا مگر یہ کئی سال پرانا قصہ تھا جب اس نے ایف ایس کیا تھا۔ اب تو عام کھانا پکانابھی اسے زہر لگتا تھا۔ صبح کے ناشتے کی ہڑبونگ شروع ہوئی تو اس کے ہاتھ پاو ¿ں پھول گئے۔ سمیر کو آفس نکلنا تھا، پھر عمیر اور علینہ گھر پہ تھے اور اس کے بعد اسے اسپتال بھی جانا تھا۔

 علینہ بھی مدد کو چلی آئی کہ اسے فریحہ کا اترا ہوا چہرہ اچھا نہیں لگ رہا تھا پر کام کے معاملے میں تو وہ ا س سے بھی ایک ہاتھ آگے تھی۔ چائے بنا لیتی تھی گھر میں وہ بھی شاکرہ نانی کی دس ہزار باتیں سننے کے بعد سیکھی تھیں ورنہ کچن کا رخ وہ بس اپنا کھانا نکالنے کے لئے کرتی تھی۔ اس کی اسی ڈھٹائی پہ تو شاکرہ اسے سناتی تھیں پر اس کے کان پہ جوں نہ رینگتی۔ اب اندازہ کریں ایک پھوہڑ دوسرے پھوہڑ کی مدد بھی کرتا تو کیا۔

”کیا تھا جو ممی آج تھوڑا دیر سے چلی جاتیں۔ سمیر بھائی کی تو خیر ہے لیکن عمیر بھائی “۔ رات کو نور نے ایک زبردست سے کانٹینینٹل ناشتے کا مینو بنایا تھا۔ انہیں اگر صبح مجبوری نہ ہوتی تو وہ اس سب سے فارغ ہوکر ہی نکلتیں ۔ فریحہ نے آملیٹ فرائینگ پین میں ڈالتے الٹی سیدھی شکلیں بنائیں۔ علینہ پاس کھڑی جلدی جلدی چائے تیار کر رہی تھی۔

”کوئی بات نہیں عمیر بھائی کو بھی آملیٹ ہی بنا دیں“۔ فریحہ نے بمشکل آملیٹ پلٹا اور پھر جو عجیب و غریب شکل نمودار ہوئی تو اس نے باقاعدہ شکوہ کناں نظروں سے علینہ کی طرف دیکھا جیسے کہہ رہی ہو یہ سارا قصور ان دو انڈوں کا ہے میں نے تو کچھ نہیں کیا۔

”فرائی انڈے بھی اچھے ہوتے ہیں“۔ علینہ نے فریحہ کی رونی صورت دیکھ کر فوراََ کہا اور خود بھی آج فرائی ایگ کھانے کا فیصلہ کیا۔( یہ واہیات شکل والا آملیٹ اس سڑے ہوئے ڈی سی کو مبارک ہو)۔ جیسے تیسے آملیٹ پلیٹ میں منتقل ہوا پر اس وقت تک وہ کسی دل جلے کی طرح سیاہ بھی ہوچکا تھا۔

”تم یہ ناشتہ باہر میز پہ رکھ آو ¿ میری بہن“۔ ٹرے میں سمیر کا ناشتہ رکھتے اس نے علینہ سے درخواست کی۔ جانتی تھی اسے تو وہ دس سنائے گا اس پھوہڑ پنے پہ ۔علینہ بھی کہاں صبح صبح اس کی صلواتیں سننے کے موڈ میں تھی پر فریحہ کی مشکل کا سوچ کر سر ہلا دیا۔

”کیا ہے یہ؟“سمیر نے اس بے رنگ اور آڑھے ترچھے ملغوبے کو دیکھتے سوال کیا ۔ (اسے ڈی سی کس نے بنایا۔ صاف تو پتا چل رہا ہے یہ آملی۔۔۔۔۔نہیں نہیں انڈوں کی کوئی چیز ہے۔ بندہ اندازہ لگا لیتا ہے)

”آپ کی نظر کمزور ہے“۔وہ تنک کر بولی۔ اب اس کا کیا قصور تھا اس سب میں جو وہ اسے نخرے دکھاتا۔

”سکس بائے سکس“۔اس نے برجستہ کہا۔

”اسے آملیٹ کہتے ہیں“۔علینہ نے باقاعدہ پلیٹ کی طرف اشارہ کیا۔ چہرے پہ بلا کی سنجیدگی اور تاثر کچھ ایسا تھا جیسے اسپینش آملیٹ پیش کر رہی ہو۔

”تم کیوں لائی۔ رفعت کہاں ہے“؟سمیر نے کانٹے سے اس کا تجزیہ کرتے سوال کیا۔ اسے اگر آملیٹ بنانے کے کسی تھرڈ کلاس مقابلے میں رکھا جاتا تو یقیناََ یہ اپنا انڈہ واپس لے آتا۔

”رفعت کو کل رات سے بخار ہے وہ آج چھٹی پر ہے اس لئے میں۔۔۔“علینہ نے جلدی جلدی بتانا چاہا مگر سمیر نے جملہ کاٹ دیا۔

”زہر تو نہیں ڈالا اس میں؟“سمیر کے سوال پہ علینہ کا منہ حیرت سے کھلا کا کھلا رہ گیا تھا۔

”یہ فریحہ باجی نے بنایا ہے“۔وہ جل کر بولی۔

”مطلب اگر تم بناتی تو یقینناََ زہر ڈال دیتی“۔اس کے تپنے سے محظوظ ہوتا وہ مزید دل جلانے لگا۔ویسے بھی یہ سمیر کا پسندیدہ مشغلہ تھا۔ وہ فریحہ کو بھی اسی لئے تنگ کرتا تھا کیونکہ وہ بآسانی جلنے کڑھنے لگتی تھی اور اب علینہ کی یہ کمزوری بھی اس کے ہاتھ آگئی تھی کہ وہ مزاج میں بہت حد تک فریحہ جیسی ہے۔ اس سے پہلے کہ علینہ اس کی کسی بات کا جواب دیتی عمیر ڈائئنگ ہال میں آگیا۔ علینہ کا جملہ دم گھٹنے سے اندر ہی اندر ہلاک ہوگیا۔ سمیر جو اس کی طرف سے کسی جلی کٹی کا منتظر تھا مسکراتے ہوئے اسے دیکھنے لگا اور پھر اس کی نگاہوں کے زاویے پہ گردن گھمائی۔

”ارے واہ اس وقت اللہ سے کچھ اور ہی مانگ لیتا۔ بڑی بھوک لگ رہی تھی اور ناشتہ ریڈی“۔کرسی کھینچتا وہ چٹخارے لیتا اس ادھورے افریقہ کے معدوم نقشے کو جس حسرت سے دیکھ رہا تھا علینہ کو اس کی دماغی حالت پہ شدید قسم کا شک گزرا تھا۔البتہ ڈی سی صاحب کا موڈ عمیر کو دیکھ کر غارت ہوگیا تھا۔

”تم کچھ اور ہی مانگ لو کیونکہ یہ میرے لئے ہے“۔ سمیر کو یہ دخل اندازی ہرگز پسند نہیں آئی تھی۔ عمیر نے سامنے پڑی پلیٹ اپنی جانب کھسکانے کی کوشش کی مگر سمیر نے پلیٹ ہاتھ میں پکڑے کانٹے سے روک ڈالی۔

” فریحہ تمہارے لئے دوسرا بنا دے گی۔ مجھے آفس کے لئے نکلنا ہے“۔اس کی طرف دیکھے بناءسمیر نے بغیر وقت ضائع کئے جلدی جلدی اپنا آملیٹ کھانا شروع کر دیا۔ علینہ اس سرد جنگ پہ حیران کھڑی تھی جب ایکدم سمیر نے منہ اٹھا کر اس کی سمت دیکھا۔

”تم گئی نہیں اب تک۔ جاو ¿ کچن میں فریحہ کی ہیلپ کرو“۔ اس حکمیہ انداز پہ علینہ کے کانوں سے دھواں نکلنے لگا۔ یہ تیور برداشت کرنے والوں میں سے وہ تھی بھی نہیں لیکن یہاں اب مجبوری عمیر تھا جس پہ پچھلی رات علینہ کا بڑا متاثر کن امپریشن بنا تھا اور وہ اپنی زبان کے جوہر سمیر کو دکھا کر اس تاثر کو اپنے ہی ہاتھوں سپردِ خاک کرنا نہیں چاہتی تھی سو بس دل مسوس کر رہ گئی ۔ سلگتی ہوئی تیوریاں سمیر پہ ڈالتی وہ پیر پٹختی کچن میں چلی گئی تھی۔

ژ              ژ

جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

ان لمحوں کے دامن میں مبشرہ انصاری قسط نمبر 6

ان لمحوں کے دامن میں مبشرہ انصاری قسط نمبر 6 چکاچوند روشنی میںیکایک قدموں کی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے