سر ورق / جہان اردو ادب / جمیل حیات۔۔۔ زبیر مظہر پنوار

جمیل حیات۔۔۔ زبیر مظہر پنوار

سوال ۔۔ آپ کا اصل اور قلمی نام تاریخ پیدائش آبائی شہر ۔

جواب۔۔جمیل حیات۔اسی نام سے لکھتا ہوں۔ضلع اٹک کے گاؤں اکھوڑی میں 2 مئ 1977 کو پیدا ہوا۔

سوال ۔ اپنی تعلیمی قابلیت اور خاندانی پس منظر کے متعلق کچھ بتائیں ۔

جواب ۔۔میرے والد حضرت نور محمد عاجز پنجابی اور اردو کے صوفی شاعر تھے۔حضرت سخی شھباز قلندر کے سلسلے کے ایک بزرگ سید بشیر احمد شاہ بخاری کے مرید اور خلیفہ مجاز تھے۔پیشے کے لحاظ سے معلم تھے اور بطور ایس ایس ٹی ریٹائر ہوئے۔حضرت بشیر شاہ بخاری کا مزار اچھرہ لاہور میں ہے۔والد کا انتقال 2009 میں عید الاضحی کے دوسرے دن 29 نومبر کو ہوا۔ان کا مزار اکھوڑی میں ہے جہاں ہر سال عرس منایا جاتا ہے۔میں نے فرسٹ ائیر سے ایم اے انگلش تک گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج اٹک میں ریگولر پڑھا۔2005 میں پرائویٹ پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے اردو کیا۔2011 میں علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی سے ایم فل اردو اور 2015 میں پی ایچ ڈی اردو بھی علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی سے کیا۔میرا تھیسس 2015 میں جمع ہوا لیکن 2018 میں وائیوا ہوا اور ڈاکٹریٹ کی ڈگری دینے کی نوید سنائ گئ۔

پہلے بطور پرائمری ٹیچر گورنمنٹ پرائمری سکول ڈھوک پٹہ میں پڑھاتا رہا اور اب PPSC کے ذریعے لیکچرر اردو منتخب ہو کر گورنمنٹ کالج باہتر ضلع اٹک میں فرائض سر انجام دے رہا ہوں۔

سوال ۔۔ ادب سے لگاؤ کی خاص وجہ اور آپ کو کب ایسا لگا کہ آپکے اندر ایک تخلیقکار موجود ہے جو بہت سی باتیں کہنا لکھنا چاہتا ہے ۔

جواب ۔۔میرے خامدان میں زیادہ تر لوگ تعلیم کے شعبے سے متعلق ہیں ۔بابا گھر میں جاسوسی۔سسپنس۔سچی کہانیاں اور سب رنگ ڈائجسٹ لایا کرتے تھے اس کے علاوہ ادبی ناول اور صوفیا کے ملفوظات بھی موجود تھے۔اس لیے ادب سے تعلق بچپن سے تھا۔بانو قدسیہ کا ناول راجہ گدھ اس وقت پڑھا جب میں چھٹی کلاس میں تھا۔میٹرک تک آتے آتے جہاں منٹو پریم چند غلام عباس احمد ندیم قاسمی کو پڑھا وہیں تمام اہم شعرا کو بھی پڑھ لیا تھا۔صوفیا کے ملفوظات داتا صاحب کی کشف المہجوب امام غزالی ابن عربی اور عبدالکریم الجیلی اور القشیری کو بھی پڑھ لیا تھا۔

1996 میں پہلی غزل لکھی لیکن پہلا افسانہ 2003 میں لکھا وہ شائع نہ ہو سکا اور بعد میں جھیل کے اس پار کے عنوان سے ناول کی صورت اختیار کر گیا۔

سوال ۔۔ پہلی کہانی کب لکھی اور کس مجلہ یا اخبار میں شائع ہوئی ۔

جواب ۔۔پہلا افسانہ سہ ماہی اجرا میں کنڈیکٹر کے عنوان سے 2013 میں شائع ہوا۔اس وقت مدیر احسن سلیم مرحوم تھے جو بہت شفقیق تھے۔ان سے بہت اچھا تعلق رہا۔

سوال ۔۔ ہمارے معاشرے کا چونکہ ماحول ایسا ہے کہ انٹلیکچوئل طبقے کو اہمیت کم دی جاتی ہے ۔۔ اور آپ تو ماشاءاللہ سے انٹلیکچوئل طبقہ کے سب سے حساس ترین لوگوں میں سے ہیں۔ یقینا ابتدائی دنوں   میں ” فیملی دوستوں اور محلوں داروں سے کچھ نہ کچھ عجیب سننے کو ملا ہو گا خاص کر آپ کے لیے پہلی دو چار کہانیوں کے بعد لوگوں کا ری ایکشن کیا تھا۔

جواب۔۔گاءوں والے اس وجہ سے پہلے ہی عزت کرتے تھے کیونکہ میرے والد اور تایا جی دونوں استاد تھے۔پھر فقر کا سلسلہ بھی تھا۔تو لوگ بہت خوش ہوئے۔میں خود ہی رسالہ لے کر اپنے اساتذہ اور دوستوں کے پاس لے کے جاتا اور ان کو اپنا افسانہ پرھ کے سناتا۔

سوال ۔۔ صیح معنوں میں آپکی کونسی تحریر یا تخلیق آپکی پہچان بنی جس نے آپکو عام عوام میں سے اٹھا کر علمی و ادبی طبقہ میں متعارف کروایا ۔

جواب۔۔میں ابھی تک ادب کا ایک ادنی سا طالب علم۔ہوں تاہم جو افسانے میری پہچان بنے ان میں "صور اسرافیل”جو عالمی افسانہ فورم پر جو بن کھلے مرجھا گئے کے عنوان سا شائع ہوا اس پر بہت سے ادبا نے اچھے تبصرے کئے۔یہ افسانہ نیرنگ خیال راولپنڈی اور بیاض لاہور میں شائع ہوا۔اس افسانے کا موضوع دہشت گردی اور تصوف ہے۔اس کے علاوہ "جانے سے ابا” جو کہ ممبئ کے شمارے ‘شاعر” میں اور نیرنگ خیال راولپنڈی میں شائع ہوا ۔

سوال۔۔آپ کےادباء میں سے بہترین دوست جو رائیٹر بننے کے بعد بنے ہوں اور آپکی ہمیشہ رہنمائی کی ہو ۔۔

جواب ۔۔حامد سراج صاحب اور محمد الیاس صاحب سے دوستی فیس بک کے ذریعے رائٹر بننے کے بعد ہوئ۔دونوں صاحبان نظر نے میری راہنمائ کی۔بہت محبت کرنے والے ان بزرگوں کے علاوہ خاقان ساجد صاحب۔ابرار مجیب ۔صدف اقبال آپی۔رابعہ الرباءآپی۔سیمیں کرن آپی ۔منزہ احتشام۔کامران رانجھا۔محترم حمید شاہد صاحب۔عرفان جاوید صاحب۔صغیر رحمانی کے ساتھ بھی فیس بک کے ذریعے تعلق بنا۔شاعری میں سید عفیف سراج کے ساتھ تعلق بنا جن سے بہت رہنمائ لی۔وہ میرے استاد ہیں۔

سوال۔۔ آپکی نظر میں ادب کی ہمارے معاشرے میں گنجائش کہاں تک ہے اور آج کا قاری ادیب سے کیا چاہتا ہے ۔

جواب۔۔ادب کی معاشرے میں ہر وقت گنجائش رہتی ہے۔کسی بھی معاشرے کی زبان کے ذخیرہ الفاظ کو عوام الناس تک پہنچانے کے لیے ادب کو ہی وسیلہ بنانا پڑتا ہے۔چنانچہ ادب کی گنجائش رہتی ہے۔

قاری کو ان دیکھی دنیاءوں کی سیر کرنے کے لیے اور نامعلوم کو معلوم بنانے کے لیے ادیب کا سہارا چاہیے۔چنانچہ قاری اور ادیب کا تعلق ناگزیر ہے۔آج کا قاری ماضی کے قاری سے اس لیے مختلف ہے کہ انٹر نیٹ کے اس دور میں اب قاری کے پاس معلومات کے ذراءع زیادہ ہیں۔چنانچہ اب وہ ادیب سے زیادہ توقعات لگائے ہوئے ہے ۔

سوال۔۔ کسی زمانے میں ترقی پسند ادباء تحریک کا جنم ہوا تھا ۔ کیا اس سے اردو ادب کا فائدہ ہوا یا نقصان ۔۔

جواب۔۔ترقی پسند تحریک کی وجہ سے اردو ادب میں نت نئے موضوعات کا اضافہ ہوا۔شجر ممنوعہ سمجھے جانے والے موضوعات تک رسائ ترقی پسند تحریک کی وجہ سے ممکن ہوئ۔اس لیے یہ تحریک اردو ادب کئے بہت فائدہ مند ثابت ہوئ

سوال۔۔ مغرب میں ادب پہ جدیدیت مابعدجدیت کا نظریہ بہت سٹرونگ چھاپ چھوڑ کر گیا اسکے اثرات کیا نکلے ۔ اور ہمارے ہاں کا ادیب اسے قبول کر پایا یا نہیں یا پھر وہ آج بھی پچاس سال پیچھے کھڑا ہے ۔

جواب ۔۔مختلف مغربی تحریکوں کے زیر اثر اردو ادیب بھی اپنے ناولوں افسانوں اور شاعری میں ایک طرف ایسی تیکنیکوں کا استعمال کرتے رہے جو یہاں کے قاری کے لیے نئ تھیں۔جیسے مرزا اطہر بیگ کے ناول حسن کی صورت حال خالی جگہ پر کرو ۔صفر سے ایک تک۔اور حبس  انور سجاد کا جنم روپ وغیرہ ۔نتیجہ یہ نکلا کہ ناول سے کہانی غائب ہوگی۔قاری جو رواں بیانیے کا عادی تھا دلچسپی ختم کر بیٹھا۔اسی طرح شاعری میں بھی تجربات ہوئے ۔

سوال۔۔ کیا آپکی نظر میں جیسا ادب آج تخلیق ہو رہا ہے وہ قاری یا عام آدمی جو کہ سرسری مطالعہ کرتا ہے اس کو اپیل کرتا ہے ..

جواب۔۔قاری کو وہی فن پارہ اپیل کرے گا جو اس کے لئے بالکل نیا ہو۔پرانے اور گھسے پٹے موضوعات کی طرف اس کی توجہ نہیں ہو گی۔آجکل اگرچہ ادب بہت زیادہ تخلیق ہو رہا ہے لیکن جو یاد رہ سکے اپنے ان مٹ نقوش قاری پر ثبت کر سکے وہ بہت کم۔ہے۔کوئ ایسا شعر تخلیق نہیں ہوا جو ضرب المثل کی صورت اختیار کر سکے۔البتہ بعض افسانہ نگاروں نے بہت عمدہ افسانے تخلیق کئے۔چنانچہ ایسا ادب قاری کو اپیل کرے گا جس میں اس کی مٹی کو اور اس سے وابستہ دکھوں اور کسی حد تک سکھوں کو موضوع بنایا گیا ہو۔

سوال۔۔ کیا وجہ ہے کے اردو ادب کا معیار اس لیول تک نہیں پہنچ پایا جہاں آج مغرب ہے حالانکہ ماضی میں اردو ادب اور ادباء نے اچھا خاصا عالمی لیول کا کام کیا مگر اب فقدان کیوں ۔۔

جواب۔۔ادیب کے ہاں اب وہ مشاہدے کی گہرائ نہیں ۔دوسرا تساہل پسندی ہے۔تیسرا اردو ادب کو دوسری زبانوں میں ترجمہ نہیں کیا جا رہا ۔

سوال۔۔ آپکی نظر میں ماضی و حال کے دو نام بطور بہترین افسانہ نگار  اور ناول نگار ۔۔ کس وجہ سے ۔۔

جواب۔۔ماضی میں منٹو اپنی تلخ حقیقت نگاری کی وجہ سے اور بلونت سنگھ اپنی فطری اور دلنشیں منظر نگاری اور سراپا نگاری کی وجہ سے

مرزا رسوا مٹتی ہوئ تہذیب کو موضوع بنانے کی وجہ سے

حال میں ناول نگاروں میں محمد الیاس برجستہ طنز و مزاح اور معاشرے کی حقیقی تصویر دکھانے کی وجہ سے ۔۔

سوال۔۔ آپکی نظر میں ماضی و حال کے دو نام بطور بہترین افسانہ نگار  اور ناول نگار ۔۔ کس وجہ سے ۔۔

جواب۔۔محمد الیاس برجستہ طنزو مزاح اور معاشرے کی سچی تصویر کشی کرنے کی وجہ سے اور جمیلہ ہاشمی لاجواب منظر کشی کی وجہ سے

افسانہ نگاروں میں محمد الیاس اور حامد سراج کے ہاں رنج و الم کو جس طرح مجسم صورت میں لایا گیا ہے وہ لاجواب ہے۔محمد الیاس اگر "بوسہ وداع” کے بعد کچھ بھی نہ لکھتے تو اردو ادب میں ان کا نام زندہ رہتا۔حامد سراج نے ماضی پرستی اور کھوئے ہوءوں کی جستجو کو جس طرح موضوع بنایا وہ رلاتا ہے۔

نوجوان افسانہ نگاروں میں منزہ احتشام اپنی نڈر اور تلخ حقیقت نگاری کی وجہ سے جو اس نے اپنے افسانوں میں دکھائ ہے مجھے بطور افسانہ نگار پسند ہے۔اس نے ان موضوعات پر بے باکانہ لکھا ہے جن پر ہمارے یہاں بہت کم۔لکھا گیا ہے۔

سوال۔۔ ہمارے ہاں فن افسانہ نگاری  کا خلاء پیدا ہو گیا ہے اسکی وجہ آپ ناقدین کو مانتے ہیں یا ادباء کو ۔ ناقدین کو اسلیے کے شاید وہ آج بھی نئے ادب کو قبول کرنے میں عار مطلب زرا جھجھک محسوس کرتے ہیں یا پھر افسانہ نگار کیونکہ ہمارے ہاں موضوعات کے چناؤ میں غلطی کر بیٹھتے ہیں ایسے موضوعات جنہیں پڑھ پڑھ قاری اکتا چکا ۔ یا پھر منتخب موضوع کو نبھانے میں ادیب غلطی کر بیٹھتا ہے ۔

جواب۔۔یہاں میں آپ سے جزوی اختلاف کروں گا۔ہر ماہ شائع ہونے والے رسائل میں لاتعداد افسانے چھپ رہے ہیں۔دو وجوہات ضرور ہیں۔افسانہ نگاروں کے ہاں مشاہدے کی کمی ہے۔دوم نقاد حضرات میں جانبداری کا پایا جانا ۔اپنی پسند کے ادیبوں پر بے تکان لکھتے ہیں لیکن اہل ادیب پیچھے رہ جاتے ہیں۔ایک مثال دوں گا۔محمد الیاس کے اب تک پانچ ناول سنگ میل سے شائع ہو چکے ہیں لیکن پی ایچ ڈی کے جو تھیسس ناول۔پر لکھے گئے ان میں بھی محمد الیاس کا تذکرہ نہیں۔اردو ناول۔میں سماجی شعور محمد افضال بٹ کا تھیسس کا ہے لیکن اس میں محمد الیاس کا تذکرہ نہیں۔اسی طرح حال ہی میں ڈاکٹر امجد طفیل کا مضمون اکیسویں صدی میں پاکستان اردو ناول کے عنوان سے چھپا ۔اس میں بھی محمد الیاس کے ناولوں پر بات نہیں ہوئ۔اسی طرح محمد الیاس کے افسانوں کو بھی نظر انداز کیا جاتا ہے۔یہ ایک مثال میں نے دی۔اور بھی کئ ادیب ہیں جو اس طرح کے سلوک کے سزا وار سمجھے گئے ۔

سوال۔۔ آپکی نظر میں تنقید کا مطلب اور سب سے بہترین تنقیدی کام کس کا رہا ۔

جواب۔۔تنقید کا مطلب کسی بھی فن پارے کے محاسن اور معائب کو دیانت داری کے ساتھ قاری اور مصنف کے سامنے اس طرح لانا کہ مصنف کی اصلاح ہو سکے اور قاری تک فن پارے کا صحیح ابلاغ ہو سکے۔ڈاکٹر سید معین الرحمان اور ڈاکٹر ممتاز احمد خان کا کام۔تحسین کے قابل ہے۔

سوال۔۔ مغربی ادب میں آپکی پسندیدہ شخصیات کے دو نام اور انکی تخلیقات یہ بھی بتائیں کیوں اور کس وجہ سے ۔۔

جواب۔۔برازیلین ناول۔نگار پاءلو کویلہو۔الکیمسٹ۔برائیڈا۔گیارہ منٹ۔ویرونیکا کی خود کشی۔

خدا اور بندے کے تعلق کو اس نے سادگی کے ساتھ بیان کیا۔

مارلو اپنے ناول جیو آف مالٹا کی وجہ سے۔برناباس کے کردار کو اس نے اس کی مکمل باطنی خباثت کے ساتھ عکس بند کیا۔

سوال۔۔ اردو ادب میں افسانچہ ۔ فلیش فکشن یا مائیکرو فکشن مطلب مختصر ترین کہانیوں کی گنجائش ہے کہ نہیں اگر ہے تو کیوں اگر نہیں تو کیوں ۔

جواب۔۔گنجائش نہ بھی ہو تو لوگ بنا لیتے ہیں ۔تاہم وہی تحریر زندہ رہتی ہے جس میں اپنا آپ منوا لینے کی صلاحیت ہو۔

سوال۔۔ زندگی سے کیا چاہتی ہیں اگر مل گیا ہے تو مزید خواہش ۔۔

جواب۔۔راضی با رضا ہوں۔معرفت الہی کی تمنا ہے ۔

سوال۔۔ محبت کی اہمیت اور مفہوم آپکی نظر میں ۔۔ اور کیا آپکو کبھی محبت ہوئی ۔۔

جواب۔۔مخلوق سے محبت خالق تک پہنچنے کی سبیل ہے اس لئے میری نظر میں محبت کی بہت اہمیت ہے۔مجھے بھی محبت عطا ہوئ۔مجازی بھی اور حقیقی بھی۔

سوال ۔۔ اپنی نجی زندگی مطلب فیملی سے وابستہ دلچسب خوبصورت اور انمول واقعہ ۔۔

جواب۔۔جب میں آٹھویں جماعت میں تھا تو ہم پانچ دوست سردیوں کی راتوں میں لوگوں کے گھروں میں جا کر دروازوں کی گھنٹیاں بجا کر بھاگ جاتے تھے۔ایسی ہی ایک رات عشا ء کی نماز پڑھ کر جب ایک گھر کے دروازے پر کنڈی کے ساتھ دھاگہ باندھ کے ہم تھوڑا دور بیٹھے کے دھاگے کو ہلانے لگے تو ایک بابا دروازے پر آیا۔ہم۔ساکت بیٹھ گئے اس نے دیکھا تو کوئ بھی نہیں تھا۔ہم نے دوبارہ اور سہ بارہ بھی اسی طرح کیا۔وہ باہر آتا تو کوئ بھی نہ ہوتا ۔ہم دبک کے بیٹھے ہوتے۔اس بار جب ہم۔نے ایسا ہی کیا تو وہ دروازے کے ساتھ ہی لگا کھڑا تھا۔پرانا بابا تھا سمجھ گیا ۔کنڈی کے ساتھ لگے دھاگے کو پکڑ کے ہماری طرف آیا۔ہم۔اس وقت سر نیچے کئے زمین پر لیٹے تھے۔جیسے ہی ہم۔نے دوبارہ کنڈی کھٹکھٹانی چاہخ۔بابے نے مومنانہ فراست سے ہاتھ میں پکڑا ڈنڈہ اس زور سے گھما کے مارا کہ تارے نظر آ گئے۔بڑی مشکل سے جان بچا کے بھاگے

سوال۔۔ آپکی شخصیت کے چند ایسے پہلو جو عام لوگوں کی نظروں سے اوجھل رہے ہمیشہ ۔۔

جواب۔۔سادہ مزاج ہوں جلد اعتبار کر لیتا ہوں۔لوگ مجھے مغرور سمجھتے ہیں حالانکہ میں تنہائ پسند ہوں۔

سوال۔۔ اپنے فالورز قارئین اور ادباء کے لیے پیغام ۔۔۔

جواب۔۔۔میرا پیغام۔محبت ہے چونکہ میرا جس سلسلے سے تعلق ہے وہ پریم لڑی ہے اس وجہ سے بھی ۔میں سب سے محبت کرتا ہوں اور اس وجہ سے بھی کہ میری زندگی کا مقصد اللہ پاک کی معرفت ہے اور وہ تبھی حاصل ہو سکتی ہے جب مخلوق سے محبت ہو۔اس لیے آپ لوگ بھی انسانیت سے پیار کیجیے۔انسانیت کی بھلائ کے لیے کام کیجیے

سوال۔۔ اردو لکھاری ڈاٹ کام اور میرے لیے کوئی خصوصی پیغام اگر دینا چاہیں تو ۔

جواب۔۔زبیر بھائ اور اردو لکھاری ڈاٹ کام۔کی انتظامیہ کے لئے دل سے دعائیں ۔آج کل کے نفسا نفسی کے دور میں وقت نکال کر لوگوں کو رابطے میں رکھنا کوئ آسان کام۔نہیں۔اللہ پاک آپ کو اس کا اجر دے اور انسانیت کی بھلائ کے کام کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

امین صدرالدین بھایانی۔۔۔ محمد زبیر مظہر پنوار

سوال ..آپ کا اصل اور قلمی نام ۔۔ جواب ۔۔ امین صدرالدین بھایانی سوال ۔۔ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے