سر ورق / ناول / جنون۔۔ مہتاب خان

جنون۔۔ مہتاب خان

جنون 

مہتاب خان

جذبے جب حد سے بڑھ جاتے ہیں تو جنوں کی شکل اختیار کر لیتے ہیں اور جنوں پاگل پن کا دوسرا نام ہے- اسی لیے کسی بھی شعبہ میں کامیابی حاصل کرنے والی شخصیات کولوگ پاگل ہی قرار دیتے ہیں-

ایک نوجوان کے جنوں کا احوال اس کے خواب اور اس کے جنوں نے اس کے دشمن کو بھی دوست بنا دیا تھا-

سیٹھ داؤد بہت خوش نظر آ رہا تھا-اپنی ہر فلم کی مہورت کے موقع پر وہ ایسا ہی خوش نظر آتا تھا-اس فلم کا ہدایت کار عادل مہدی تھا، ایک شاٹ کی عکس بندی سے فلم کا افتتاح ہونا تھا-سیٹ تیار تھا-وہ دونوں سیٹ پر پہنچے وہاں فلم انڈسٹری کے بڑے بڑے لوگوں کا مجماع تھا-سیٹھ داؤد سہانی رات کی کامیابی پر مبارکبادیں وصول کر رہا تھا،جبکہ عادل عکس بندی کے انتظام میں مصروف تھا-

وہاں ،جنت، کا ہدایت کار ساحر مراد بھی موجود تھا-جنت ریلیز ہو گئی تھی اور بہت کامیاب فلم ثابت ہوئی تھی-رش ایسا بڑھا تھا کہ ٹکٹ ملنا دشوار ہو گیا تھا-ہر فلم بین اس کی فلم کی تعریف کر رہا تھا-ساحر سب کی توجہ کا مرکز بنا ہوا تھا-لوگ اسے مبارکباد دے رہے تھے-اس نے اپنی فلم میں سب نئے چہرے لیے تھے-اور ان نئے آرٹسٹوں سے بہت اچھا کام لیا تھا-

                                                                                                                       **********************

مطلوبہ شاٹ ایک ہی ٹیک میں اوکے ہو گیا -پورا سیٹ مہمانوں کی تالیوں سے گونج اٹھا-اس کے بعد مٹھائی اور مشروبات کا  دور شروع ہو گیا-

عادل کو یہ بات بڑی  ناگوار گزر رہی تھی کہ ساحر سب کی توجہ کا مرکز بنا ہوا تھا-وہ ٹہلتا ہوا اس کی طرف آ گیا جہاں ساحر ڈسٹری بیوٹرز کے درمیان گھرا کھڑا تھا-

” ہیلو ساحر کیسے ہو؟”

"الله کا کرم ہے تم سناؤ ، مہورت مبارک ہو اور سہانی رات کی کامیابی بھی-” ساحر نے خلوص دل سے کہا-

"شکریہ ساحر-” پھر کچھ دیر ٹہر کر وہ بولا- ” لڑکے بتا رہے تھے کہ تمھاری فلم بھی کچھ کامیاب ہوئی ہے لیکن سہانی رات کی ٹکر کی نہیں-"

"میں اسے سہانی رات کی صف میں رکھنا پسند نہیں کروں گا-"

"تم حد سے بڑھ رہےہو-” عادل غصیلے لہجے میں بولا-"اور مجھ پر چوٹ کر رہے ہو-"

"میں نے تو ایک بات کی ہے میں پہلے بھی تم سے کہہ چکا ہوں ان گھٹیا فلموں سے نکلو اور معیاری فلمیں بناؤ-یہ میرا مخلصانہ مشورہ ہے مانو یا نہ مانو تمھاری مرضی-"

"تم ہوتے کون ہو مجھے مشورہ دینے والے جمعہ جمعہ آٹھ دن ہوئے ہیں تمہیں انڈسٹری میں آئے ہوئے وہ بھی اپنے باپ کی دولت کے بل بوتے پر-چلے ہو عادل مہدی کو مشورہ دینے-” عادل نے استہزایہہ انداز میں کہا  پھر بولا-"ایک فلم بنا کر خود کو بڑا ڈائریکٹر سمجھنے لگے ہو،جلتے ہو تم مجھ سے اپنے باپ کی دولت سے ہٹ کر کچھ کر دکھاؤ تو مانوں-"

سیٹھ داؤد نے یہ صورت حال دیکھی تو تیزی سے آگے بڑھا-

"اے عادل کا ہے کو مہمان سے بد تمیزی کر رہے ہو-"

"رہنے دیں داؤد صاحب ہم تبادلہ خیال کر رہے ہیں-"ساحر نے جلدی سے کہا –

"جھوٹ نہ بولو ہم جھگڑا کر رہے تھے-"

جھگڑا تم کر رہے تھے میں تو تبادلہ خیال کر رہا تھا-” ساحر نے کہا-

لفڑا مت کرو بابا-” سیٹھ داؤد ان دونوں کے درمیان آتا ہوا بولا-عادل بڑبڑاتا ہوا وہاں سے چلا گیا-

آج یہ صورت حال دیکھ کر کون کہہ سکتا تھا کہ اس وقت کے بدترین کاروباری حریف کبھی بہترین دوست بھی رہے ہوں گے-

                                                                                                              ******************************

ساحر اپنے آفس میں بیٹھا تھا-اس کے سامنے ٹی وی ڈرامہ پروڈیوسر رامیض بیٹھا تھا-دونوں ادھر ادھر کی باتیں کر رہے تھے-ان دونوں میں بڑی اچھی دوستی تھی-

” تمھاری اور عادل کے اختلافات کی خبریں چھپی ہیں-"

"اختلافات تو ہیں ہمارے درمیان-” ساحر نے کہا -"میں نے اسے آئینہ دکھانے کی کوشش کی تھی-آخر میں اس کا دوست ہوں-اسے سیدھا راستہ دکھانا چاہتا ہوں-فلم ،ٹی وی،ڈرامے وغیرہ ایک ایسا میڈیم ہیں جو بہت کم وقت میں بہت سے افراد کو ایجوکیڈ  کرنے کا ذریعہ بن سکتے ہیں-اور ہم ان ذریعوں سے مثبت پیغام لوگوں تک پہنچا سکتے ہیں-جو بہت تیزی سے لوگوں پر اثر انداز ہو سکتے ہیں- دلچسپ پیرائے میں کہی  ہوئی باتیں انسانی دل پر جلد اثر کرتی ہیں- میں یہی کچھ اسے سمجھانا چاہتا ہوں مگر وہ  راستہ بھٹک گیا ہے-"

"تمھاری باتیں اپنی جگہ مگر وہ تمھارے بارے میں بڑی گھٹیا باتیں کر رہا ہے جبکہ  تمہارا کہنا ہے کہ وہ  کبھی تمہارا بہترین دوست تھا-"

"دراصل محرومی کے احساس نے اسے حسد میں مبتلا کر دیا ہے-جس قسم کی فلمیں وہ بنا رہا ہے یہ اس کا مزاج نہیں ہے-میں اسے بہت اچھی طرح جانتا ہوں،وہ انڈسٹری کی بھیڑ چال میں چل پڑا ہے-ان کے رنگ میں رنگ گیا ہے اور چاہتا ہے کہ میں بھی رنگ جاؤں- وہ مجھ سے سینیئر ہے-میری کامیابی اسے شکست کا احساس دلاتی ہے-میرا سراہا جانا اس کے لیے ناقابل برداشت ہے-"

"چھوڑو یار یہ باتیں چلو پہلے ڈنر کرتے ہیں،پھر میرے ساتھ ایک شوٹ پر چلنا تھوڑا سا کام باقی ہے-"رامیض نے کہا-

"کہاں چل رہی ہے شوٹنگ ؟”

کلفٹن میں میری آنٹی کے بنگلے میں ہو رہی ہے-"

اسی وقت آفس کا دروازہ کھلا  اور سیٹھ داؤد اندر آیا-آتے ہی اس نے ہانک لگائی "اندر آ سکتا ہوں ساحر صاحب؟”

ساحر اسے دیکھ کر حیران تھا-وہ اندر آ گیا اور گرمجوشی سے ساحر سے ہاتھ ملایا پھر رامیض کی طرف مڑ کر بولا-"آپ کی تعریف؟” اس نے رامیض کی طرف ہاتھ بڑھاتے ہوئے کہا –

یہ ٹی وی ڈرامہ پروڈیوسر رامیض ہیں-"ساحر نے کہا-"اور سنائیں کیسے آنا ہوا؟”

"تم کو مبارکباد دینے آیا ہوں،اور تم سے کاروبار کی بات بھی کرنی تھی-” سیٹھ داؤد نے کہا -"میں تمہارے ساتھ فلم بنانا چاہتا ہوں-"وہ ہچکچاتے ہوئے بولا-

"لیکن آپ تو عادل کے ساتھ………..”ساحر کو حیرت ہوئی تھی-

"میں اس کے ساتھ دو فلمیں بنا رہا ہوں سوچا ایک تمھارے ساتھ بھی بنا لوں……….”

"عادل یہ برداشت نہیں کرے گا-"

"کیسی باتیں کرتے ہو،میں اس کا پابند ہوں؟نہیں کرے گا تو نہ کرے-"وہ بے پروائی سے بولا-

"میری فلم کی کامیابی کی کوئی ضمانت نہیں ہے اس میں آپ کی فلموں کی طرح مرچ مسالہ نہیں ہوتا مطلب فلم گرم نہیں ہو گی سمجھ گئے نہ آپ؟”

"او بابا میں کچھ نہیں جانتا جیسی مرضی بناؤ………….میں تمھارے ساتھ فلم ضرور بناؤں گا-"

کچھ دیر وہ ادھر ادھر کی باتیں کر کے چلا گیا-اس کے جانے کے بعد رامیض نے کہا

"کیا خیال ہے اس کے لیے فلم بناؤ گے؟”

"سوچوں گا-"

"اور تمہارا وہ خواب وہ کہانی جس پر تم فلم بنانا چاہتے تھے وہ کب شروع کرو گے؟”

"جب تک وہ لڑکی مل نہیں جاتی جسے میں اس فلم کی ہیروئن بنانا چاہتا ہوں،وہ فلم نہیں بن سکتی-"

ڈنر کے بعد وہ دونوں شوٹنگ پر آ گئے تھے-رامیض کی آنٹی کا یہ بنگلہ کلفٹن کے ایک پوش ایریا میں واقع تھا-یہ ایک بڑی وسیع و عریض اور دیدہ زیب عمارت تھی-رامیض نے عمارت کے باہر سے کچھ شاٹس لیے تھے-پھر وہ بنگلے کے اندر آ گئے-جہاں یونٹ کے افراد نے تمام انتظامات مکمل کے ہوئے تھے-یہ ایک ہال نما کمرہ تھا-کمرے کے چاروں طرف کیمرے نصب کر دیے گئے تھے-لائٹس لگا دی گئی تھیں اور عکس بندی کے تمام انتظامات مکمل تھے-

"تم نے سویرا کو ریہرسل کروا دی؟”رامیض نے اپنے اسٹنٹ سے پوچھا-

"جی سر-"

"کیمرے  کا رخ دروازے کی طرف کر دو-"رامیض نے ایک کیمرہ مین  کو ہدایت دی سویرا  کمرے میں داخل ہونے سے باہر جانے تک کیمرے کی زد میں رہنی چاہیے اور تم ہیرو کو فوکس کرنا-"اس نے دوسرے کیمرہ  مین  سے کہا -پھر اس نے اسسٹنٹ کو اشارہ دیا-

"سویرا اندر آئے-"اس نے انٹرکام پر کہا-

"لائٹس آن -” رامیض نے آواز لگائی،لائٹس ان کر دی گئیں،پورا کمرہ بقعہ نور بن گیا تھا-

اسی وقت دروازہ کھلا -ساحر اور رامیض کیمروں کی رینج سے باہر کھڑے تھے-ساحر کی نگاہ کیمرے پر تھی-"اوہ یہاں کیا ہو رہا ہے؟’ کمرے میں گونجنے والی سریلی کھنک دار اور حیران آواز نے ساحر کو بے اختیار نظریں اٹھانے پر مجبور کر دیا-وہ متوحش کھڑی کیمروں کو حیران نظروں سے دیکھ رہی تھی-لمحۂ بھر کے لیے اس کی نظر ساحر سے ملی تھی اور اس کی دل کی دنیا کو زیر و زبر کر گئی تھی-اسے محسوس ہوا جیسے زمین کی گردش ایک دم تھم گئی ہے-اس کی نگاہ لڑکی کے چہرے پر جمی ہوئی تھی-وہ تھی ہی اتنی حسین،ترشے ہوئے لب،گوری کھلتی ہوئی رنگت،شہد رنگ حسین ساحر آنکھیں اور آنکھوں پر پلکوں کی گھنی جھالر اور سب سے بڑھ کر معصومیت،وہ ملکوتی حسن کا شاہکار تھی-

"کون ہیں آپ؟یہاں شوٹنگ چل رہی ہے-آپ اندر کیسے آئیں اور یہ سویرا کہاں رہ گئی؟”رامیض چلاتے ہوئے بولا تو ساحر جیسے ہوش میں آ گیا-اسی وقت سویرا نامی لڑکی کمرے میں داخل ہوئی-

"میں انٹری دینے والی تھی کہ یہ لڑکی اندر چلی گئی میں سمجھی کہ…………..”

"آپ کہاں سے ٹپک پڑیں محترمہ،کچھ بولیں گی یا یوں ہی بت بنی کھڑی رہیں گی؟” رامیض جھنجھلا کر بولا-

وہ جو متوحش کھڑی تھی،گڑبڑا کر بولی-"میں نتاشا کی دوست ہوں،اس سے ملنے آئ  ہوں-"

"نتاشا اپنے کمرے میں ہوگی-” رامیض نے کہا-

"سوری-"کہتے ہوئے وہ مڑی اور تیزی سے باہر نکل گئی-

فلم انڈسٹری اور ذاتی زندگی میں ساحر نے بے شمار حسین لڑکیاں دیکھی تھیں مگر یہ ملکوتی حسن اس نے پہلی بار دیکھا تھا-اس کے برسوں پرانے خواب کو تعبیر ملنے والی تھی-وہ چہرہ جس کی تلاش میں وہ سرگرداں تھا مل گیا تھا،وہی تیکھے نقوش،وہی ساحر آنکھیں ویسے ہی لانبے اور گھنے بال اور وہی بھرپور سراپا سب کچھ وہی تھاجو اس نے اپنی آئیڈیل فلم کی ہیروئن کے بارے میں سوچا تھا-

اسے اپنا حلق خشک ہوتا محسوس ہو رہا تھا-یہ جھٹکا تھا ہی اتنا شدید کہ وہ خود کو سنبھال نہیں پا رہا تھا-وہ پسینے میں شرابور ہو گیا تھا-اس کے چہرے پر ہوائیاں اڑی ہوئی تھیں-

"تمہیں کیا ہوا ساحر؟طبیعت تو ٹھیک ہے؟”رامیض جو اسے دیکھ رہا تھا کرسی سے اٹھ کر اس کے پاس چلا آیا-

"پپ……….پانی-” اس نے اس کے لیے پانی منگوایا-لائٹ مین کا لایا ہوا پانی کا گلاس اس نے ایک سانس میں خالی کر دیا-

"میری طبیعت ٹھیک نہیں ہے-"

"ڈاکٹر کے پاس چلیں-” رامیض فکرمندی سے بولا-

"نہیں کچھ دیر میں ٹھیک ہو جاؤں گا-"

"آج شوٹنگ کینسل-” رامیض نے یونٹ کے افراد سے کہا-"چلو باہر کھلی فضا میں بیٹھتے ہیں-” اس نے ساحر سے کہا-وہ دونوں باہر جا کر لان میں پڑی کرسیوں پر بیٹھ گئے-

"اب کیسا محسوس کر رہے ہو؟”کچھ دیر بعد رامیض نے پوچھا-

پتا نہیں اچانک کیا ہو گیا تھا؟اب ٹھیک ہوں-” ساحر نے کہا پھر کچھ دیر ٹہر کر بولا-

"وہ وہی تھی-"

"کون وہی؟”

"وہی چہرہ جسے میں برسوں سے تلاش کر رہا ہوں-"

"اوہ سمجھا………….تمہارا برسوں پرانا خواب وہ فلم تو تم اسے اپنی فلم میں ہیروئن لینا چاہتے ہو…….. سویرا کو؟”

"نہیں یار سویرا سے پہلے جو کمرے میں آئ تھی-"

"تم نتاشا کی دوست کی بات کر رہے ہو-"اس کی آنکھوں میں حیرانی تھی-

"ہاں وہی-"

"اگر وہ فلموں میں کام کرنے کے لیے آمدہ نہ ہوئی تو؟”رامیض نے کہا-

"اس نے انکار کیا تو مجھے بہت افسوس ہوگا-چلو ہمیں ابھی اس سے بات کرنی چاہئے-میں وقت ضایع نہیں کرنا چاہتا-"

اتنی جلدی بھی کیا ہے؟میں نتاشا کے ذریعے اس سے بات کر لوں گا-"

"نہیں اٹھو ہم ابھی بات کریں گے-"ساحر نے اٹھتے ہوئے کہا –

وہ دونوں نتاشا کے کمرے کی طرف بڑھ گئے-رامیض نے دروازے پر ہلکی سی دستک دی اور دروازہ کھول کر اندر چلا گیا-

ساحر بھی اس کے ساتھ تھا-نتاشا ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے بیٹھی میک اپ کر رہی تھی-جبکہ وہ صوفے پر بیٹھی تھی……….وہ شاید کہیں باہر جانے کی ارادہ رکھتی تھیں-

"بھائی جان آپ……..”نتاشا آئنے میں رامیض کا عکس کو دیکھ کر چونکی پھر پلٹ کر بولی-"آپ نے میری دوست کو بلا وجہہ کیوں ڈانٹا اسے پتا نہیں تھا کہ یہاں شوٹنگ چل رہی ہے-” پھر وہ ساحر کی طرف دیکھ کر چونکی اور سوالیہ نظروں سے رامیض کو دیکھنے لگی-

"میں ان سے سوری کہنے ہی آیا ہوں-مجھے ان سے اس لہجے میں بات نہیں کرنی چاہیے تھی-"وہ اس لڑکی کی جانب دیکھ کر بولا جسے ساحر پہلے ہی ایک ٹک دیکھ رہا تھا-

"یہ ساحر مراد  ہیں مشھور فلم پروڈیوسر،اور میرے بہترین دوست-"اس نے ساحر کا تعارف کروایا  تو وہ جو ربیکا کو دیکھنے میں محو تھا ایک دم چونکا-

"یہ ربیکا ہے میری دوست-” نتاشا نے ربیکا کا تعارف کروایا-"آپ لوگ کھڑے کیوں ہیں بیٹھ جائیں-"نتاشا نے صوفے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا –

"ساحر صاحب آپ کو یہاں دیکھ کر مجھے بہت خوشی ہو رہی ہے-میں اور ربیکا آپ کی فلم جنت ہی دیکھنے جا رہے تھے-"ربیکا بھی دلچسپی سے ساحر کو دیکھ رہی تھی-

"اوہ واقعی ……….یہ میرے لیے اعزاز کی بات ہے-"ساحر نے کہا –

"ہم اس وقت ان کی ایک فلم پر ہی بات کرنے آئے ہیں-” رامیض نے تمہید باندھی -"جیسا کہ مس ربیکا آپ جانتی ہیں کہ ساحر صاحب بہت صاف ستھری اور اچھی فلمیں بناتے ہیں،ایسی ہی ایک گریٹ فلم وہ مستقبل میں بنانا چاہتے ہیں،جس کا خواب انہوں نے برسوں پہلے دیکھا تھا-لیکن وہ فلم اس لیے نہیں بن سکی تھی  کہ ان کے ذہن میں ہیروئن کا جو تصور تھا اس پر کوئی لڑکی پوری نہیں اتر رہی تھی-لیکن آج آپ ان کے اس تصور پر پوری اتری ہیں اور انہیں یہ امید پیدا ہو گئی ہے کہ اب ان کا وہ برسوں پرانا خواب پورا ہو سکتا ہے-"

"میں سمجھی نہیں……….آپ لوگ کیا چاہتے ہیں؟”کافی دیر بعد وہ بولی تھی-نتاشا بھی حیران نظروں سے انہیں دیکھ رہی تھی-

"ربیکا صاحبہ ،بلا شبہ آپ بے حد حسین ہیں مگر میری پسندیدگی کی وجہہ آپ کا حسن نہیں بلکے میری حیرت اور مسرت کی وجہ یہ ہے کہ میری زندگی کی سب سے بڑی آرزو آپ کے زریعے تکمیل تک پہنچ سکتی ہے-میں اس فلم کے زریعے حب الوطنی کا پیغام اپنی قوم کو دینا چاہتا ہوں-وہ کیرکٹر صرف آپ کر سکتی ہیں-میں جس لڑکی کی تلاش میں برسوں سے سرگرداں ہوں وہ آپ ہیں،اب آپ ہی بتائے اتنے طویل انتظار کے بعد کسی کو اچانک اپنے خوابوں کی تعبیر مل جائے تو اس کا کیا حال ہوگا-"

آ آ آ ………آپ مذاق تو نہیں کر رہے ؟”ربیکا کی آواز میں لرزش تھی-

"ہرگز نہیں………میری آپ سے التجا ہے میری بات ماں لیں-"

"یہ میرے بس میں نہیں-"

"آپ مجھے بتائے کیا قباحت ہے؟”

"میری والدہ اجازت نہیں دیں گی-آپ کو تو پتا ہے فلمی دنیا کا ماحول-"

"اب تو بہت اچھے اور شریف گھرانوں کی لڑکیاں اس طرف آ رہی ہیں-ماحول تو انسان خود بناتا ہے-میرے پاس اس کا حل ہے-میں آپ کی والدہ کو منا  لوں تو کیا آپ مان جائیں گی-"وہ نیم رضامند دکھائی دے رہی تھی-کچھ دیر بعد وہ ہچکچاتے ہوئے بولی-

"آپ امی سے بات کر کے دیکھ لیں-"

                                                      **************************

ساحر مستقبل کے حسین تصور میں کھویا ہوا تھا.اس کے برسوں کے خواب کی تعبیر ملنے والی تھی-وہ اور رامیض نتاشا کے ساتھ ربیکا کے گھر جا رہے تھے-جو نتاشا کے گھر کے قریب ہی ساحل سمندر پر ہی ایک شاندار بلڈنگ کے دوسرے فلور پر واقع ایک لگژری اپارٹمنٹ تھا-

ربیکا اور اس کی امی نے بڑی گرمجوشی سے ان کا استقبال کیا تھا-جب انہیں ساحر کی ان کے ہاں آمد کا مقصد معلوم ہوا تو وہ کچھ پریشان نظر آنے لگی تھیں اور انہوں نے صاف انکار کر دیا تھا-آخر وہ رامیض اور نتاشا کے سمجھانے بجھانے ساحر کے یقین دلانے اور کافی بحث و مباحثے کے  رضامند ہوئی تھیں-ربیکا کو انہوں نے صرف ساحر کی ایک فلم میں کام کرنے کی اجازت دی تھی-لیکن اس کے ساتھ انہوں نے انہیں  خبردار بھی کر دیا تھا  کہ اس کے  ددھیال والے اس کے فلم میں کام کرنے پر اعتراض کر سکتے ہیں اور کوئی رکاوٹ بھی کھڑی کر سکتے ہیں-

اپنے ماضی کے حوالے سے انہوں نے جو تفصیل بتائی تھی اس کے مطابق وہ چوہدری افضل نامی شخص کی دوسری بیوی تھیں-جن کا دو سال پہلے انتقال ہو گیا تھا-چوہدری صاحب نے یہ اپارٹمنٹ اور خاطر خواہ رقم ان کے اکاؤنٹ میں چھوڑی تھی-جس سے یہ ماں بیٹی عیش و عشرت کے  زندگی باآسانی گزا ر سکتی تھیں- جاتے جاتے وہ ایک غلط فیصلہ بھی کر گئے تھے-اپنی بیٹی ربیکا کی منگنی اپنی بہن کے بیٹے چوہدری فرزین کے ساتھ کرنے کا فیصلہ جو ان ماں بیٹی کو بلکل پسند نہیں تھا-کیونکہ فرزین ایک بگڑا ہوا رئیس زادہ تھا،اور معاشرے کی تمام برائیاں اس کے اندر پائی جاتی تھیں-چوہدری افضل کی وفات کے بعد وہ ان کے خاندان سے کوئی رابطہ نہیں رکھنا چاہتی تھیں-اس لیے اانہوں نے ربیکا کی منگنی توڑنے کا فیصلہ کیا تھا جو انہیں پہلے ہی ناپسند تھا–اور اس پر تین ماہ پہلے ہی عمل درآمد کیا تھا-جسے فرزین نے اپنی توہین سمجھا تھااور بڑا سیخ پا ہوا تھا-بہرحال وقت گزرنے کے ساتھ شاید اس نے یہ فیصلہ قبول کر لیا تھا اب اس خاندان کا اس کے گھرانے سے کوئی تعلق نہیں رہا تھا-

                                                                                                                       ***************************

ربیکا بڑی ذہین لڑکی ثابت ہوئی تھی-ساحر بڑا خوش تھا-اس نے اسکرپٹ ربیکا کو پڑھنے کے لیے دیا تھا-جلد ہی اس نے اپنا کردار سمجھ لیا تھا-یہ حب الوطنی کے جذبے سے سرشار ایک فائٹر لڑکی کا کردار تھا،جو وطن عزیز کی حفاظت کے لیے اپنی جان قربان کر دیتی ہے-

ساحر نے فیصلہ کیا تھا کہ وہ فلم کی شوٹنگ زیادہ تر آوٹ ڈور -ان دنوں وہ اسی سسلے میں لوکیشنز تلاش کر رہا تھا-کبھی کبھی ربیکا بھی اس کے ساتھ ہوتی تھی-ورنہ زیادہ تر وقت ان کا اسٹوڈیو میں گزرتا تھا-وہ اپنے کاموں میں مصروف رہتا تو ربیکا باہر نکل جاتی اور ادھر ادھر دوسرے اسٹوڈیوز  کے چکر لگانے لگتی-

اس روز اس کو اپنی فلم کا ٹائٹل سانگ ریکارڈ کرنا تھا-تمام دن کی محنت کے بعد کہیں جا کر گا نا ریکارڈ ہوا تھا-وہ جانے کا ارادہ کر ہی رہا تھا کہ اسے ربیکا کا خیال آیا،اس نے اس کی تلاش میں چاروں طرف دیکھا وہ کہیں نظر نہیں آئ -اس نے پیون سے پوچھا تو اس نے بھی لاعلمی کا اظہار کیا-وہ اسے ڈھونڈنے باہر نکل گیا-

اچانک اس کی نظر عادل پر پڑی جو اسی طرف چلا آ رہا تھا-اس کے ساتھ کوئی لڑکی بھی تھی-وہ بھی اس کی طرف بڑھنے لگا-عادل کو علم ہو گیا تھا کہ ساحر اپنی نئی فلم کا گا نا ریکارڈ کر رہا ہے-ذرا آگے جاکر ساحر کی نظر عادل کی ساتھ لڑکی پر پڑیں تو وہ ٹھٹک گیا-وہ ربیکا تھی-وہ دونوں ہنستے ہوئے اس کے قریب آ گئے-” ہیلو -"عادل نے بڑی خوشدلی سے اس سے ہاتھ ملاتے ہوئے کہا -"بھئی بڑی خوشی ہوئی یہ سن کر کہ تم نے اپنی مشھور زمانہ فلم شروع کر دی ہے-"

ساحر نے کوئی جواب نہیں دیا،بس ناراضگی سے ربیکا کو دیکھتا رہا-

"عادل صاحب تو بڑے خوش مزاج اور دل چسپ آدمی ہیں-"وہ معصومیت سے ہنستے ہوئے بولی-

"کیا بات ہے ساحر-"عادل نے معنی خیز لہجے میں کہا-"اتنے گم صم کیوں ہو؟”

"وجہ شاید تم کو معلوم ہے-"ساحر نے گہری سانس لے کر کہا –

"اوہ”عادل نے قہقہہ لگایا-"تمھاری تازہ دریافت ہے بڑی باصلاحیت،میں انہیں اپنی آئیندہ آنے والی فلم میں کاسٹ کر رہا ہوں-"ربیکا نے چونک کر عادل کو دیکھا-

"تم جا کر آفس میں بیٹھو میں آ رہا ہوں-"ساحر نے ربیکا سے کہا تو وہ وہاں سے چلی گئی-

"وہ میرے علاوہ کسی اور فلم میں کام نہیں کرے گی اس کی والدہ نے اسے صرف ایک فلم میں کام کرنے کی اجازت دی ہے-"

"اجازت لینا میرا کام ہے-تمہیں پتا ہے میں ہمیشہ ٹیلنٹ کی حوصلہ افزائی کرتا ہوں-میری فلم میں تو وہ کام ضرور کرے گی-"عادل نے بے پروائی سے کہا –

ساحر یہ سن کر ششدر رہ گیا-ساحر کو ایسا لگا کہ جیسے عادل نے اس کی زندگی اس سے چھین لی ہو-عادل فلم تیزی سے بناتا تھااگر وہ کسی طرح ربیکا کو آما دہ  کر لیتا اور اپنی بے ڈھنگی فلم میں چانس دے دیتا تو اس کا امیج تباہ کر دیتا-یہ سوچ کر وہ پریشن ہو گیا-ساحر کے ذہن میں آندھیاں چل رہی تھیں-

"کیا سوچ رہے ہو؟”

ساحر نے چونک کر خالی خالی نظروں سے اسے دیکھا-"تم اسے اپنی فلم میں رول نہیں دو گے-"

"اس میں کیا حرج ہے؟وہ اس نگری میں آئ ہے تو دوسرے پروڈیوسر بھی اسے کاسٹ کریں گے-وہ تمھاری ملکیت تو نہیں ہے جو تم سے اجازت لی جائے-"عادل کو احساس ہو گیا تھاکہ وہ ساحر کو کتنی بڑی چوٹ دے سکتا ہے-عادل کے دل میں لڈو پھوٹ  رہے  تھے-

"میں تم سے پرانے تعلقات کے حوالے سے التجا کرتا ہوں کہ فل الحال اسے کاسٹ نہ کرو-میری فلم ریلیز ہونے دو،میری بات ماں لو-"ساحر کو ڈر تھا کہ وہ اپنی چرب زبانی سے ربیکا اور اس کی امی کو اپنی فلم میں کام کرنے پر آما دہ  کر لے گا-

عادل اس کی حالت زار پر خوش ہو رہا تھا-اب آیا نہ اونٹ پہا ڑ  کے نیچے،اب دیکھو گا تمہیں-اس نے سوچا-

"میری سمجھ میں نہیں آ رہا تم اتنے جذباتی کیوں ہو رہے ہو؟”

تم نہیں سمجھو گے، خدا حافظ-” ساحر تیزی سے گھوما اور چلا گیا-

"تم باہر کیوں گئی تھیں؟عادل سے کیوں ملی تھیں ؟”وہ اپنے آفس میں پہنچتے ہی ربیکا پر برس پڑا-

"تو کیا ہوا،اس میں پریشانی کی کیا بات ہے اور یہ آپ مجھ سے کس لہجے میں بات کر رہے ہیں؟”وہ خوفزدہ نظر آ رہی تھی-

"پریشانی کی بات ہے کان کھول کر سن لو تم عادل کی کوئی آفر قبول نہیں کرو گی بلکہ کسی کی بھی کوئی آفر قبول نہیں کرو گی-"

"جی”ساحر کا رویہ اس کے لیے ناقابل فہم تھا-

"وہ فارمولا فلمیں بناتا ہے اور اس کی ہیروئن عریانیت کا مظاہرہ کرتی ہے-وہ تمہیں اس طرح فوکس کرے گا کہ تمہیں پتا ہی نہیں چلے گا بے وقوف لڑکی،وہ تمہارا امیج خراب کرنا چاہتا ہے،وہ تمہیں تباہ کرنا چاہتا ہے اور مجھے برباد کرنا چاہتا ہے-"

وہ ایسا کیوں چاہیں گے-وہ بتا رہے تھے کہ آپ دونوں بچپن کے دوست ہیں-"وہ ڈرتے ڈرتے بولی-

"ہونہہ دوست………..”کچھ دیر بعد وہ بولا "چلو اٹھو تمہیں گھر چھوڑ دوں ………..” وہ خاموشی سے اٹھی اور اس کے ساتھ باہر نکل گئی-

                                                                                                                               *****************************

دوسرے دن ساحر حسب معمول دیر سے سو کر اٹھا تھا-اس نے لیٹے  لیٹے انگڑائی  لی اور بیڈ کی سائیڈ  ٹیبل سے اخبار اٹھایا جو ملازم  صبح  رکھ گیا تھا-اس نے اخبار کی سرخیوں پر نظر دوڑائی،وہی لگی بندھی خبریں تھیں،ملکی سیاست کی ابتری کی،حادثات،قتل،ڈاکہ ،اغوا کی وارداتوں کی خبریں اس نے شوبز سے متعلق صفحہ کھولا،نمایاں انداز میں شایع شدہ ایک تصویر نے اسے چونکا دیا-اس کے سارے جسم میں کرنٹ سا دوڑ  گیا-وہ اچھل کر اٹھ بیٹھا-اور حیرت سے آنکھیں پھاڑے تصویر کو گھورنے لگا-وہ ربیکا کی تصویر تھی اور اس کے ساتھ ہی اس کا انٹر ویو چھپا تھا-اس کا سر گھوم گیا اس نے اسی وقت اپنا موبائل اٹھایا اور ربیکا کا نمبر ڈائل کیا-

"ہیلو”ربیکا کی آواز آئ

"تم نے یہ انٹرویو کب دیا؟”

کون سا انٹرویو…….میں نے کوئی انٹرویو نہیں دیا-"

"آج کا اخبار اٹھا کر دیکھو……..شوبز کی چکا چوند نے تمہیں اندھا کر دیا ہے-اگر تمہیں پبلسٹی دینی ہوتی تو میں یہ کا م بہت پہلے کر چکا ہوتا-"

"ایک منٹ…….”ربیکا نے کہا پھر فون پر خاموشی چھا گئی-

"یقین کیجئے میں نے کوئی انٹرویو نہیں دیا-"کچھ دیر بعد وہ بولی تھی-"میری تو کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا……اوہ یاد آیا میں عادل صاحب کے سیٹ پر گئی تھی،وہاں ایک لڑکی آ کر مجھ سے باتیں کرنے لگی تھی،وہ صحافی  تھی لیکن اس نے مجھے یہ بات نہیں بتائی تھی کہ وہ انٹرویو لے رہی ہے-"

"میں نے تمہیں منع کیا تھا کہ کسی اجنبی سے بات نہیں کرو گی……..کہا تھا کہ نہیں وہ بری طرح چیخا تھا-

"مجھے آپ کی فلم میں کام نہیں کرنا آپ اپنے لیے کوئی اور ہیروئن ڈھونڈ لیں-"ربیکا نے تیزی سے کہا اور فون بند کر دیا-

ساحر ہکا بکا رہ گیا تھا-اس کی تو دنیا ہی اندھیر ہو گئی تھی-یہ اس نے کیا کہ دیا تھا-(جاری ہے)

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

ان لمحوں کے دامن میں مبشرہ انصاری قسط نمبر 6

ان لمحوں کے دامن میں مبشرہ انصاری قسط نمبر 6 چکاچوند روشنی میںیکایک قدموں کی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے