سر ورق / ناول / ان لمحوں کے دامن میں…مبشرہ انصاری…قسط نمبر 4

ان لمحوں کے دامن میں…مبشرہ انصاری…قسط نمبر 4

ان لمحوں کے دامن میں

مبشرہ انصاری

قسط نمبر 4

خوبصورت سفید یاٹ، اس طلسمی جزیرے کو، کوسوں دور چھوڑ، سمندر کے سینے کو چیرتی اپنی ہی موج میں منزل مقصود کی جانب رواں دواں تھی….

”مجھے لگتا ہے کہ الحان مکمل طور پر تم پر فدا ہو چکا ہے….“

وہ جو دور اُفق پر نظریں جمائے نجانے کیا سوچنے میں گم تھی، عقب سے اُبھرتی مسکان کی آواز سماعت سے ٹکراتے ہی پلٹی….

”ایسی بات نہیں ہے…. اگر کوئی آپ کو دوستانہ موڈ دے تو اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ وہ آپ پر فدا ہے….“

بردباری کا مظاہرہ کرتی وہ ایک بار پھر سے یاٹ کی گرل پر کہنیاں ٹکائے دور اُفق پر نگاہیں دوڑانے لگی….

”نہیں…. وہ واقعی تمہیں پسندکرتاہے….“

مسکان چہرے پرمسکراہٹ سجائے اس کی بات کی تردید کرنے لگی تھی…. وہ متعجب بھی تھی کہ مانہ، الحان کے پسند کیے جانے کی بناءپر شاداں ہونے کے بجائے نادانستگی کا ردعمل کیونکر کےے جا رہی ہے…. اس کی جگہ اگر کوئی اور لڑکی ہوتی تو وہ یقینا خوشی کے مارے مغلوب الغضب ہو جاتی….

”اول تو ایسی کوئی بات ہی نہیں…. چلو اگر فرض کر بھی لیا جائے کہ الحان مجھ پر فداہے یا پسند کرتا ہے…. تو کیا تمہیں بُرا نہیں لگ رہا کہ وہ مجھ میں انٹرسٹ لے رہا ہے؟….“

وہ سپاٹ لہجے میں بولتی براہ راست مسکان کی جانب دیکھنے لگی….

”فی الحال میرا الحان کےساتھ ایسا کوئی رشتہ ہے نہیں کہ اس کا تم میں انٹرسٹ لینا مجھے ناگوار گزرے…. میں یقینا اس کا دل جیتنے ہی اس شو میں آئی ہوں…. اور مجھے یہ بھی بہت اچھی طرح سے معلوم ہے کہ الحان کی نگاہ کرم کسی بھی لڑکی پر ٹھہر سکتی ہے…….. وہ لڑکی میں بھی ہو سکتی ہوں، کوئی اور بھی ہو سکتی ہے…. لیکن فی الحال مجھے لگتا ہے کہ اس وقت الحان کی نگاہ کرم تم پر ہی ہے….“

متانت کامظاہرہ کرتی وہ کندھے اُچکا گئی….

مانہ سامنے کھڑی اپنی نئی نویلی دوست کی مثبت سوچ پر من ہی من میں اسے داد دئیے بنا نہ رہ سکی…. اسے محسوس ہوا کہ جزیرے پر چھوڑ آنے والی تمام لڑکیوں کے مقابل صرف ایک مسکان ہی ہے جو قابل ادراک ہے….

”سو، ایکسائیٹڈ؟‘

الحان اچانک ان دونوں کے پیچھے آ کھڑا ہوا تھا….

”یس!“

مسکان نے پلٹتے ہی شگفتگی کا اظہار کیا…. جبکہ مانہ مثبت انداز میں سر ہلاتی خاموش ہو کھڑی ہوئی تھی….

”الحان! اگر تم مائنڈ نہیں کرو تو میں سیلون جا سکتی ہوں؟ ایکچوئلی مجھے معلوم نہیں تھا کہ ہم لوگ Island پر Stay کرنے والے ہیں…. مجھے مینی، پیڈی کیور کروانا ہے…. میرے پیر بہت خراب ہو رہے ہیں…. لگ بھگ 30 منٹ میں واپس آ جاﺅں گی…. اور ہاں…. مجھے سالٹ سکرب بھی لینا ہے…. Island پر بہت کام آنے والا ہے…. پلیز….“

مسکان التجائیہ نگاہوں سے الحان کی جانب دیکھتی ریکویسٹ پر ریکویسٹ کرتی چلی جا رہی تھی…. چند ثانیے کی خاموشی کے بعد الحان، مانہ کو اپنی نظروں کا محور بنائے متانت سے مخاطب ہوا….

”تمہیں بھی کہیں جانا ہے مانو؟“

الحان کے پوچھے جانے پر وہ ایک دم سٹپٹا سی گئی تھی….

”آں…. مجھے کوسٹا کافی جانا ہے…. مال میں ہی ہے…. وہاں کی کافی اینڈ کیکس مجھے بہت پسند ہیں….“

تھوڑا ہچکچانے کے بعد وہ اپنی ریکویسٹ کرتی لب بھینج گئی….

”Ok!….“

وہ کچھ سوچتے ہوئے بولا….

”ہمیں تھوڑی پرابلم ہو سکتی ہے…. ایکچوئلی ہمارے پاس زیادہ ٹائم نہیں کہ ہم سب لوگ ایک ساتھ پہلے سلون، پھر کوسٹاکافی اور پھر شاپنگ پر ٹائم سپینڈ کریں….“

”اوہ…. آپ لوگ مجھے سلون ڈراپ کر کے کوسٹاکافی چلے جانا…. میں 30 منٹ بعد آپ لوگوں کو کافی شاپ پر جوائن کر لوں گی…. میں پورے مال کا چپا چپا بہت اچھی طرح سے جانتی ہوں اس لیے میری فکر کرنے کی ہرگز ضرورت نہیں….“

مسکان نے ایک لمحے میں الحان کی مشکل آسان کر ڈالی تھی…. وہ دھیمے سے مسکرا دیا….

”فائن….!“

”واﺅ، دیٹس گریٹ!“

مسکان مسرورکن انداز میں مانہ سے گلے جا لگی تھی…. مسکان کے خود سے لپٹتے ہی مانہ نے ایک سرسری نگاہ اپنے سامنے کھڑے الحان پر دوڑائی، جو موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے، اپنے کھلنڈری انداز میں اسے آنکھ مارتے ہی شریر سی مسکراہٹ لبوں پر سجا کھڑا ہواتھا…. اچنبھے سے اس کی جانب دیکھتی اگلے ہی پل وہ جلدی سے اپنی نظروں کا زاویہ بدل گئی….

ض……..ض……..ض

یاٹ سے لے کر پلین تک،پلین سے لے کر ایئرپورٹ تک اور پھر ایئرپورٹ سے لے کر سٹراٹ فورڈ مال کے سفر تک کے دوران الحان کے ہر ہر سوال کا جواب مسکان بڑی دلچسپی سے دیتی آئی تھی، جبکہ مانہ نے صرف ہوں، ہاں اور کندھے اُچکانے پرہی اکتفا کیا تھا….

مال پہنچتے ہی مسکان کو (سلون Solo) کے بڑے سے مضبوط شیشے سے بنے قدآور دروازے پر الوداع کہتے وہ دونوں کاریڈور میں قدم بہ قدم آگے کی جانب بڑھنے لگے تھے….

”اگر تم صرف ہوں، ہاں، سر ہلا کر یا کندھے اُچکانے کے بجائے اپنی زبان اور ہونٹوں کو تھوڑی زحمت دیتے ہوئے مجھے جواب دینا پسند کرو تو کیا میں تم سے ایک سوال پوچھنے کی کوتاہی کر سکتا ہوں؟“

الحان کے لہجے میں شکایت واضح طور پر محسوس کی جا سکتی تھی….

”مجھے آپ سے بات نہیں کرنی….“

مانہ برجستہ بولی….

”شکر الحمد للہ!“

دعائیہ انداز میںوہ اپنے دونوں ہاتھ اور سراوپر کی جانب اٹھا کر بولا۔

”اگر یہ سفر ہماری پہلی ملاقات ہوتی تو میں یقینا تمہارے گونگی ہونے کا گمان کر بیٹھتا….“

مانہ خاموشی سے اپنے قدم آگے کی جانب بڑھاتی رہی….

”خیر!…. اتنی کٹھور کیوں ہو تم؟“

وہ خاموش رہی….

”یار! تم سے پوچھ رہا ہوں….“

اس بار وہ چڑ کر بولا….

”مجھے آپ سے بات نہیں کرنی ہے تو مطلب نہیں کرنی ہے….“

جواباً وہ بھی چڑچڑی ہو رہی تھی…. اگلے ہی پل الحان نے اس کا نرم و ملاﺅم، نازک نفیس ہاتھ، مضبوطی سے اپنے ہاتھ میں قید کرتے ہی اسے کھینچ کر اپنی جانب گھماڈالا….

”کیا مسئلہ کیا ہے تمہارا؟….“

”میرا ہاتھ چھوڑیں….“

مانہ پوری قوت سے اپنا ہاتھ اس کی مضبوط قید سے آزاد کرانے کی تگ و دو میں لگی تھی…. جبکہ الحان تحمل کا مظاہرہ کرتا، براہ راست اس کے خوبصورت چہرے کا طواف کرتا، دھیمے لہجے میں اس سے مخاطب تھا۔

”مسلسل میں تمہاری تمام بدتمیزیاں برداشت کیے چلاجا رہا ہوں…. اور تم ہو کہ….“

اس نے اپنی بات ادھوری چھوڑ دی تھی….

”میراہاتھ چھوڑیں….“

وہ نہایت غصے کے عالم میں چنگھاڑی….

”اوکے، چھوڑتا ہوں…. لیکن اس شرط پر کہ تم میرے ہر سوال کا جواب دو گی….“

”میں آپ کے کسی بھی سوال کا جواب دینا ہرگز ضروری نہیں سمجھتی….“

بدستور وہی ہٹ دھرم انداز تھا…. الحان چند ثانیے یونہی کھڑا اس کا چہرہ تکتا رہا…. پھر اچانک اس کا ہاتھ آزاد کرتا ایک لمبی سانس کھینچتا تمانت سے گویا ہوا….

”کیوں کرتی ہو مجھ سے اتنی نفرت؟“

”مجھے آپ سے نفرت نہیں ہے….“

وہ اپنا ہاتھ سہلاتے ہوئے بولی…. لہجے میں خفگی پنہاں تھی….

”میں…. بس…. آپ مجھے پسند نہیں….“

”اور میں تمہیں صرف اس لیے پسند نہیں کہ میں نے تمہارے ساتھ وعدہ خلافی کی تھی؟“

لبوں اور نگاہوں…. دونوں پر سوال تھا….

”میں یہاں تمہیں صرف تمہاری وجہ سے لے کر آیاہوں…. کیونکہ تمہیںاس وقت یہاں پر موجود ہونے کی خواہش تھی…. تمہیں تمہاری بیسٹ فرینڈ کھو دینے کا ڈر تھا…. جو کہ اب یقینا نہیں ہو گا…. کیونکہ تم اس کی برتھ ڈے سیلیبریٹ کرنے کے لیے اس وقت یہاں پر موجود ہو…. پھر تم مجھے میرے ناکردہ گناہ کی معافی کیوں نہیں دے سکتیں…. انفیکٹ میں نے تو تم سے کوئی وعدہ کیا بھی نہ تھا کہ میں تمہیں ایلیمنیٹ کر دوں گا…. لیکن پھر بھی مجھے لگا کہ تمہاری خفگی کی وجہ کہیں نہ کہیں میںہی ہوں…. اسی لیے تمہیں آج یہاں لے کر چلا آیا….“

وہ لب بھینچے نظریں جھکائے کھڑی رہی…. الحان بے چینی کے عالم میں لمبی سانس کھینچتا، انگلی سے اپنی ناک سہلاتا، اک لمحے کو لب بھینچتا ایک بار پھر سے مخاطب ہوا….

”چلو ایک ڈیل کرتے ہیں….“

اس بار وہ بنا کچھ بولے، سوالیہ نگاہوں سے اس کی جانب دیکھنے لگی….

”میں نہیں چاہتا کہ تم یہ شو ابھی چھوڑ کر جاﺅ….“

مانہ نے کچھ کہنے کو لب کھولے ہی تھے کہ الحان نے ہاتھ اٹھا کر اسے کچھ بھی کہنے سے باز رکھا….

’نہیں…. پہلے میری پوری بات سنو…. میرے پاس تمہارے لیے ایک تجویز ہے…. تم Island پر رہو گی…. تمہارا جو جی چاہے وہ تم کرو…. میری طرف سے یا کسی کی بھی طرف سے تمہیں کوئی روک ٹوک نہیں ہو گی…. تمہیں کہیں بھی جانا ہو…. کسی بھی برتھ ڈے پر، کسی بھی پارٹی پر…. مجھ سے بولو…. میں یقینا تمہیں ہر جگہ لے کر جانے کو تیار ہوں….“

”لیکن آپ کیوں چاہتے ہیں کہ میں اس سٹوپڈ شو میں رہوں؟ آپ کیوں مجھے ایلیمنیٹ نہیں کرنا چاہتے…. میں یقینا آپ کے ٹائپ کی بھی نہیں…. پھر بھی….؟“

”تم ایسا کیسے کہہ سکتی ہو کہ تم میرے ٹائپ کی نہیں…. افکورس تم میرے ٹائپ کی ہو….“

”نہیں ہوں آپ کے ٹائپ کی….“

وہ زور دیتے ہوئے بولی….

”ہاں!…. شاید تم میرے ٹائپ کی نہیں تھیں…. مگر اب ہو…. مجھے نہیں معلوم کہ تم میں ایسا کیا ہے جو مجھے اٹریکٹ کرتا ہے…. مگر کچھ ہے…. کچھ ہے جو مجھے تمہاری طرف کھینچتا ہے….“

”آپ صرف میرا مذاق بنانا چاہتے ہیں…. اورکچھ نہیں….“

”تم ایسا کیوں سوچتی ہو؟“

”کیونکہ ایسا ہی ہے….؟“

الحان کا دل چاہا کہ وہ اپنا اور اس کا، دونوں کا سر پیٹ ڈالے….

”میں اب چلتی ہوں….“

”کہاں؟“

وہ متعجب ہوا….

”کوسٹا کافی!“

وہ سپاٹ لہجے میں بولی….

”میں بھی ساتھ چلوں گا….“

”آپ کیوں؟“

وہ اچنبھے سے اس کی جانب دیکھنے لگی….

”تومیں کہاں جاﺅں پھر؟“

”کہیں بھی جائیں….“

”کہیں بھی…. تو ٹھیک ہے ناں…. کوسٹا کافی ہی چلتا ہوں…. میں ایک طرف ٹیبل پربیٹھ جاﺅں گا….“

”آپ مجھ پر نظر رکھنا چاہتے ہیں؟….“

”یار! تمہیں جو سمجھنا ہے سمجھو…. میں تو کوسٹا کافی ہی جاﺅں گا….“

الحان نے کھلنڈری انداز میں مڑتے ہی اپنے قدم کوسٹا کافی کی جانب بڑھا دئے تھے، جبکہ مانہ وہیں کھڑی پیچ و تاپ کھاتی اسے گھور کر رہ گئی تھی….

ض……..ض……..ض

الحان ایک الگ ٹیبل منتخب کیے، بڑے اطمینان سے کرسی پر براجمان ہوا تھا…. گاہے بگاہے وہ نظریں اٹھا کر چند قدم کے فاصلے پر بیٹھیں مانہ اور زرین کی جانب نگاہ دوڑاتا….

”مجھے معلوم تھا مانہ!…. چاہے کچھ ہو جائے پر تم مجھ سے وعدہ خلافی ہرگز نہیں کرو گی….“

زرین ازحد شاداں دکھائی دے رہی تھی…. مانہ جواباً مسکرا کر رہ گئی۔

”اچھا سنو! یہ نواب صاحب ساتھ تشریف کیوں لائے ہیں؟“

زرین کا اشارہ الحان کی جانب تھا جو اب سر جھکائے اپنے فون پر کسی مشغلے میں مصروف تھا…. مانہ ایک اچٹتی سی نگاہ اس کی جانب دوڑاتی ازحد متانت سے گویا ہوئی….

”یہی لایا ہے مجھے یہاں…. اگر یہ نہیں لاتا…. تو شاید آج میں اس وقت تمہارے سامنے موجود نہ ہوتی….“

”اوئے ہوئے…. کیا بات ہے….“

زرین دق کرتے ہوئے بولی….

”بکواس نہیں کرو…. جلدی سے کیک کاٹو…. صرف 30 منٹ ہیں میرے پاس….“

”بڑی جلدی ہے تمہیں واپس جانے کی؟….“

”معاملے کی نزاکت کو سمجھنے کی کوشش کرو…. عاشرزمان کو اگر کان و کان بھی خبر ہو گئی ناں تو میری جاب خطرے کی سولی پر لٹک جائے گی….“

”اچھا بابا ڈرو نہیں…. سکون سے بیٹھو….“

اگلے چند منٹوں میں ایک خوبصورت، ویل ڈیکوریٹڈ ریڈ ویلوٹ کیک ان کی ٹیبل پر آن سجا تھا…. مانہ ازحد کیک کی دیوانی، کیک سامنے دیکھتے ہی رال ٹپکانے لگی تھی….

”واہ زرین! میرا من پسند کیک…. تم نے تو میرا دل جیت لیا لڑکی….“

وہ سامنے رکھے خوبصورت دل للچانے والے ریڈ ویلوٹ کیک پر ٹوٹ پڑنے کو بیقرار تھی….

”تمہی نے کھانا تھا سارا کیک…. اسی لیے تمہاری پسند کا ہی بنوایا میں نے….“

"Awww…”

مانہ لاڈ بھری نگاہوں سے اس کی جانب دیکھنے لگی….

کیک کٹنے کے چند ہی لمحوں بعد زرین یاد آتے ہی بولی….

”ارے ہاں!…. میری کچھ فرینڈز ہیں…. جو تمہارا ہر ہرناول بہت شوق سے پڑھتی ہیں…. ایکچوئلی وہ لوگ تم سے تمہارے ناول کی کاپی پر تمہارا آٹو گراف لینے کی خواہشمند تھیں…. میں نے سوچا نجانے تم کب تک اس رئیلٹی شو کا حصہ بنی رہو،اس لیے اپنی تمام فرینڈز کو میںنے یہیں آ کر تم سے آٹوگراف لینے کو بول دیا….“

وہ کچھ جھجکتے ہوئے بولی…. مانہ اچنبھے سے اس کی جانب دیکھنے لگی….

”کیا مطلب؟“

”مطلب کہ وہ لوگ پہنچ چکی ہیں…. یہاں بس آتی ہی ہوں گی….“

”تم پاگل ہو گئی ہو زرین!“

”آئی ایم سوری مانہ!“

’وٹ ڈو یُو مِین بائے سوری! تمہیں ایٹ لیسٹ مجھ سے پوچھنا چاہیے تھا….“

”کیسے پوچھتی؟…. تمہارے پاس فون ہی نہیں تھا….“

”زرین!“

مانہ اسے گھور کر رہ گئی….

”اچھا ناں…. میں نے پرامس کیا ہے ان لوگوں سے…. صرف بیس کاپیز ہی تو سائن کرنا ہیں تمہیں…. بس!“

اس نے ایک اور دھماکہ کیا….

”بیس کاپیز؟ تمہارا دماغ ٹھیک ہے؟….“

مانہ بھوجھک کے عالم میںاس کی جانب گھورنے لگی….

”پلیز….!“

وہ معصوم صورت بنا بیٹھی تھی….

”الحان سامنے بیٹھا ہے…. اور تم چاہتی ہو کہ میںاس کے سامنے اپے ناولز کی کاپیز سائن کروں؟“

”تو اس میں کیا بُرا ہے لڑکی؟“

”تم اچھی طرح سے جانتی ہوکہ میں کسی کو کان و کان خبر نہیں ہونے دینا چاہتی کہ میں….“

”کہ تم میمانہ انان ہو…. رائٹ؟“

زرین نے اگلے ہی پل اس کی ادھوری بات پوری کر ڈالی…. مانہ لمبا سانس کھینچ کر رہ گئی….

”جب تم دنیا کے سامنے آہی چکی ہو…. تو بتانے میں کیا حرج ہے کہ تم ہی ہردلعزیز میمانہ انان ہو….“

”ہرگز نہیں….“

وہ قطعی اندازمیںبولی….

”چلو ٹھیک ہے…. تم میری انسلٹ کروانا چاہتی ہو…. وہ بھی میری برتھ ڈے والے دن…. تو ٹھیک ہے…. میںان لوگوں کو منع کر دیتی ہوں….“

اب کے وہ موبائل ہاتھ میں تھامے اسے اموشنلی بلیک میل کرنے لگی تھی….

مانہ اپنے لب بھینچنے لگی…. پھر کچھ سوچتے ہی بولی….

”اچھا ٹھیک ہے…. آنے دو انہیں…. لیکن یہ پہلی اور آخری بار ہے زرین!…. آئندہ تم بنامجھ سے پوچھے کسی سے کوئی پرامس نہیں کروں گی….“

اس نے وارننگ دی

”پرامس!“

زرین کھلکھلا اٹھی….

دیکھتے ہی دیکھتے بیس سے بائس لڑکوں اور لڑکیوں پر مشتمل گروپ مانہ اور زرین کی ٹیبل کو احاطے میں لے کھڑا ہوا…. الحان، مانہ کے اردگرد اس قدر بھیڑ بھڑکا دیکھتے ہی یکایک چونک اٹھا۔ مانا خود، زرین کی اس حرکت پر پیچ و تاب کھاتی بظاہر تحمل کا مظاہرہ کیے عجلت کے عالم میں کاپیز سائن کیے چلی جا رہی تھی….

”یہ کیا سین ہے بھائی؟“

اس کی نظریں متواتر اس ہجوم کی جانب مرکوز تھیں….

”آخر ہے کون یہ محترمہ؟“

دھیرے دھیرے ہجوم خفیف ہوتا گیا…. مگر الحان کی حیرانی اپنی جگہ برقراررہی…. ایک لڑکا اپنی کاپی سائن کرا کے کافی شاپ سے باہر نکلا ہی تھا کہ الحان آندھی کی سی تیزی سے اٹھا اور اس کے پیچھے لپکا….

”ایکسکیوز می!“

”یس؟“

اس لڑکے نے پلٹ کر دیکھا….

”اگر تم مائنڈ نہیں کرو میرے بھائی، تو کیامیں یہ کتاب دیکھ سکتاہوں؟“

”شیور!“

اگلے ہی پل اس نے اپنے ہاتھ میں تھامے ناول کی کاپی الحان کی جانب بڑھا دی….

”میمانہ انان“

ناول پر لکھے رائٹر کا نام پڑھتے ہی وہ کاپی کھول کر اس کی جانچ پڑتال کرنے لگا تھا….

”یہ جن کا آٹوگراف لے کر تم آئے ہو…. وہ میمانہ انان ہیں؟“

غالباً وہ تفتیش کرنے لگا تھا….

”جی، وہ میمانہ انان ہیں…. ہم پاکستانی، مسلم اور انڈین سوسائٹی میں ازحد دلچسپی سے پڑھی جانے والی ہردلعزیز مصنفہ میمانہ انان…. آپ نے بھی یقینا ان کی کوئی نہ کوئی کاوش ضرور پڑھی ہو گی….“

”آں…. ہاں….“

اس نے بڑی چالاکی سے ایک جھوٹ گاڑھ دیا….

”میرا مطلب نہیں….“

اگلے ہی پل اس نے اپنی بات کی تردید کر ڈالی….

”کہاں سے ملے گا یہ ناول؟“

”کسی بھی بک سٹور سے…. میں نے تو آن لائن آرڈرکیا تھا…. اور آج اتنے عرصہ کی کوششوں کے بعد جا کر یہ خوش نصیب دن آیا میری زندگی میں کہ اپنی فیورٹ رائٹر کا دیداربھی ہو گیا اور آٹوگراف بھی مل گیا….“

وہ لڑکا یقینا خوش دکھائی دے رہا تھا….

”گریٹ!“

الحان نے مسکراتے ہی کاپی اس لڑکے کی جانب بڑھا دی….

”تھینکس!“

کاپی تھامتے ہی وہ مسکراتا ہوا آگے بڑھ گیا….

”میمانہ انان!“

ایک بار پھر سے اس کا پورا نام دہراتا، شریر مسکراہٹ لبوں پر سجاتا وہ واپس کافی شاپ میں داخل ہو گیا…. مانہ سب کاپیز سائن کر چکی تھی…. کھا جانے والی نظروں سے زرین کو گھورتی وہ الحان کی جانب پلٹی تھی….

”چلیں؟“

الحان نے نظریں ملتے ہی پوچھا….

اثبات میں سر ہلاتی وہ زرین کو گھورتی الحان کے ساتھ دروازے کی جانب بڑھ گئی….

”بائے!“

و ہ جاتے جاتے بھرپور انداز میں اپنی خفگی کا اعلان کر گئی تھی…. جواباً زرین خجل سی ہو کر رہ گئی….

”ابھی کیمرہ مین کی کال آئی تھی…. وہ ریکارڈنگ کے لیے پہنچ چکا ہے…. اور لو…. مسکان بھی آ گئی….“

الحان نے سامنے سے آتی مسکان کی جانب اشارہ کیا….

”ہائے!“

”ہائی!“

”آپ دونوں اپنے اپنے کام کر چکیں…. اب وہ کام کر لیا جائے؟ جس کے لیے ہم یہاں آئے ہیں؟“

”شیور!“ نیکی اور پوچھ پوچھ؟“

الحان کے پوچھنے پر مسکان نے شوخی جھاڑی…. کیمرہ مین بھی آن پہنچا…. وہ لوگ ایک کے بعد ایک تقریباً ہر دکان میں گھستے شاپنگ کر ڈالتے…. مسکان اُتاولی ہوئی چلی جا رہی تھی…. مفت میں اتنی ڈھیر ساری اور وہ بھی اتنی مہنگی شاپنگ اس نے شاید ہی اپنی زندگی میں کبھی کی تھی…. مانہ کی عدم دلچسپی کے باعث الحان بڑھ بڑھ کر اس کے لیے شاپنگ کرتا دکھائی دیا تھا…. درجنوں شاپنگ بیگز سنبھالے کھڑی مسکان خوشی سے پھولے نہ سما رہی تھی…. کیمرہ مین ان کی ریکارڈنگ کرنے میں مصروف تھا شاپ سے باہر نکلتے ہی الحان نے چند شاپنگ بیگز مانہ کی جانب بڑھا ڈالے….

”مجھے یہ سب نہیں چاہیے….“

اس نے قطعی انکار کر ڈالا….

”تمہارے پاس ڈھنگ کے کپڑے نہیں…. ابھی مسکان نے مجھے بتایا کہ تم کپڑوں کے نام پر صرف ایک ڈریس لے کر اس شومیں آئی ہو….“

”ہاں!“

مسکان نے بھی اپنی زبان کو زحمت دی….

”مگر مجھے یہ کپڑے نہیں چاہئے ہیں….“

”تو کیا انہی دو ڈریسز’ میں شوٹنگ کراتی رہو گی؟“

”ہاں….!“

وہ اپنے ہٹ دھرم اندازمیںبولی….

”کوئی ضرورت نہیں…. میں تمہیں میرا شو خوامخواہ برباد کرنے کی اجازت ہرگز نہیں دوں گا….“

وہ مانہ کو ہکا بکا چھوڑے، مسکان اور کیمرہ مین سمیت دوسری شاپ میں داخل ہو گیا تھا…. مانہ اپنا سر تھام کر رہ گئی تھی….

کافی شاپنگ کر لینے کے بعد وہ چاروں کاریڈور میں کھڑے ایک دوسرے کی شکلیں تاڑنے لگے تھے…. الحان کھوجتی نگاہوں سے ادھر اُدھر دیکھنے لگا تھا….

”کیا ڈھونڈ رہے ہو؟“

مسکان نے دلچسپی سے پوچھا….

”بُک سٹور….!“

”بُک سٹور اس طرف ہے۔“

اشارہ کرتی وہ آگے بڑھ گئی…. وہ تینوں بھی اس کے تعاقب میں چلتے بُک سٹور میں داخل ہو گئے…. انگلش ناولز الٹ پلٹ کر دیکھتا وہ اُردو ناولز کی قطار کے پاس جا کھڑا ہوا….

”تم ناولز پڑھتے ہو الحان؟“

مسکان نے حیرانگی کا اظہار کیا….

”ہاں…. کیوں؟“

وہ مصروف انداز میں بولا…. مانہ ان دونوں کو اگنور کیے، قطار میں لگے الگ الگ رائٹرز کے ناولز دیکھنے میں مصروف تھی….

”اُردو ناولز؟“

اس نے پھر سے پوچھا….

”ہاں…. کبھی کبھی….“

”پھر تو یقینا بہت رومانٹک ہو گے تم!….“

بھرپور دلچسپی سے پوچھا گیا…. الحان مسکرا دیا….

”ایسا ویسا!“

”ہوں….“

جواباً مسکان بھی مسکرا دی….

کھوجتی نگاہیں آخرکار اس ناول پر جا ٹکیں، جس کی اسے تلاش تھی۔

”زبردست ناول ہے…. میں نے تقریباً پانچ بار پڑھا ہے….“

مسکان نے (باوری پیا کی) ناول الحان کے ہاتھ میں دیکھتے ہی دلچسپی کااظہار کیا….

”آہاں؟“

”یس! میمانہ انان!“ ….

مسکان کے لبوں ے پکارا گیا اپنا پورا نام سماعت سے ٹکراتے ہی وہ یکاک چونک کر پلٹی….

”زبردست رائٹر ہے…. میمانہ انان کا کوئی بھی ناول میں مِس نہیں کرتی۔ تم یہ ناول ضرور خریدو…. ٹرسٹ می! تمہیں بھی پسند آئے گا!“

مانہ ہچکچاتے ہوئے اپنے لب بھینچے ایک بار پھر سے خود کو مصروف پوز کرنے لگی تھی…. مگر اس کے کان اس کا سارا دھیان انہی دونوں کی جانب مرکوز تھا….

”ارے میمانہ انان…. ابھی باہر تھی…. اپنے فینز کو آٹوگراف دے رہی تھی…. میں نے دیکھا….“

مانہ شہادت کی انگلی سے اپنا چشمہ درست کرتی پیچ و تاب کھانے لگی…. الحان کی شریر نگاہیں مانہ کا احاطہ کیے ہوئے تھیں….

”تم مذاق کر رہے ہو؟“

مسکان اچنبھے سے بولی….

”ہرگز نہیں…. تم مانو سے پوچھ لو….“

وہ پوری پوری ایکٹنگ کرنے لگا تھا…. مسکان سوالیہ نگاہوں سے اس کی جانب دیکھنے لگی….

”ہے ناں مانو؟“

الحان زور دے کر پوچھنے لگا…. مانہ کھا جانے والی نظروں سے اس کی جانب گھورنے لگی

”مجھے نہیں معلوم؟“

”یہ محترمہ تو اپنے آپ سے اوازار ہیں…. انہیں کیا معلوم!“

الحان نے مذاق اُڑایا….

”اچھا مسکان! تم فرض کرو…. کہ ہماری مانو ہی تمہاری فیورٹ رائٹر میمانہ انان ہے…. وہ تمہارے سامنے موجود ہے…. تم اپنی فیورٹ رائٹر سے کیا کہنا چاہو گی؟“

شریر نگاہیں مانہ پر مرکوز کیے وہ مسکان سے مخاطب تھا….

”یہ…. اور میمانہ انان؟…. امپوسبل!“

اس نے قطعی طور پر فرض کرنے سے انکار کر ڈالا….

”ارے فرض تو کرو ناں!“

”یہ محترمہ جواپنے آپ سے اوازار ہیں…. جو کسی سے ڈھنگ سے بات تک نہیں کرتی…. انفیکٹ جسے بات کرنا ہی نہیں آتی وہ اتنی دلچسپ کہانیاں کیسے لکھ سکتی ہے الحان؟…. آئی ایم سوری!“ میں تو فرض بھی نہیں کر پا رہی…. امپوسبل…. فرض کرنا بالکل بیکار ہے….“

مسکان نے صاف لفظوں میںاس کا مذاع بنا ڈالا….

مانہ اب کے غصے میں پھنکارنے لگی تھی…. الحان اندر ہی اندر ہنسی سے لوٹ پوٹ ہوئے جا رہا تھا….

”میں نے کب کہا کہ یہی میمانہ انان ہے…. صرف فرض کرنے کو بولا ہے بس….“

”آئی ایم سوری!…. میں فرض نہیں کر سکتی…. تم یہ ناول پڑھو…. اس کے بعد تم مجھے فرض کرنے کی اس گستاخی پر خود کو کوسنے لگو گے….“

وہ دبے ہونٹوں سے ہنستی مانہ کی جانب پلٹی….

”مانہ! دیکھو کیسی باتیں کر رہا ہے…. آئی مین…. تم خود بھی خود کو میمانہ انان فرض کرنے میں دقت محسوس کرو گی…. رائٹ؟“

وہ جانے انجانے میں سامنے کھڑی اپنی فیورٹ رائٹر کا مذاق بنائے چلی جا رہی تھی….

”زرین! تمہارا تو میں خون پی جاﺅں گی….“

غصے میں پھنکارتی وہ من ہی من میں زرین کو نوچ کھانے کو تیار ہو بیٹھی تھی….

”چلو آئی ایم ڈن…. شام ہونے سے پہلے ہی ہمیں واپسی کے لیے نکلنا ہے….“

الحان نے مہارت سے بات بدل ڈالی….

واپسی کا پورا سفر مسکان ، الحان سے گپیں ہانکتی رہی، جبکہ مانہ ان دونوں کو اگنور کیے سونے کی ایکٹنگ کرتی چلی گئی….

Island پہنچتے ہی عاشرزمان نے ان تینوں کا استقبال کیا تھا…. تمام لڑکیاں الگ الگ مشغلے میں مصروف تھیں۔کچھ گیم کھیلنے میں مصروف تھیں تو کچھ گپیں ہانکنے میں…. کچھ واک کرتی دکھائی دے رہی تھیں تو کچھ کھانا نوش فرما رہی تھیں….

’کیا مجھے ان حسیناﺅں کو بھی جوائن کرنا پڑے گا؟“

الحان نے یاٹ سے اُترتے ہی پوچھا…. تھکن اس کے چہرے اور لہجے میں واضح طور ر عیاں تھیں….

”نہیں…. تم تھوڑا ریسٹ کرو…. پھر تم انہیں جوائن کر سکتے ہو….“

عاشر متانت سے گویا ہوا….

”گڈ!“

دھیمے سے مسکراتا وہ آگے بڑھ گیا….

ض……..ض……..ض

چاند نکل آیاتھا…. اس کی روشنی نیلے آسمان کی فضا میں گھل رہی تھی۔ کمرے کے باہر ٹیرس پر چاندنی کھل رہی تھی…. اور وہاں بیٹھے بیٹھے چاندنی کا خرام دیکھا جا سکتا تھا…. مانہ کی نظریں باہر تاروں بھرے آسمان پر لگی تھیں….جیسے آسمان ہی نے اس کی قوت گویائی چھین لی تھی…. یکایک فضا سنسنانے لگی…. اور پھر اچانک دروازے کی چڑچڑاہٹ نے اسے اپنی جانب متوجہ کرلیا….

”مانہ! نیچے آ جاﺅ…. آشلے ایک مزے کی گیم پلان کر رہی ہے…. بہت مزہ آنے والا ہے…. موسم بھی بہت خوشگوار ہے….“

مسکان دروازہ کھولے اپنے مخصوص انداز میں گویا تھی…. مانہ پیشانی پر آئی بالوں کی لٹ کان کے پیچھے اُڑستی متانت سے گویا ہوئی….

”میرا موڈ نہیں ہے مسکان!…. آئی ایم سوری….! تم لوگ انجوائے کرو….“

”ارے…. کس قدر بور لڑکی ہو تم!….“

”بس ایسی ہی ہوں….“

جواباً مانہ منہ ہی منہ میں بڑبڑائی….

”آجاﺅ ناں!…. یہ دن لوٹ کر نہیں آئیں گے…. نجانے اس خوبصورت جزیرے پر ہمارا تمہارا ساتھ کب تک کا ہے….“

”مسکان! سچ میں بہت تھکاوٹ ہو رہی ہے…. اس وقت میں کوئی گیم ویم نہیں کھیلنا چاہتا…. پلیز ٹرائے ٹو انڈرسٹینڈ!“

وہ تھکان بھرے لہجے میں بولی….

”تھکان تو مجھے بھی بہت تھی…. مگر موسم دیکھو کتنا خوشگوار ہے…. ساری تھکان دور ہو گئی…. چلو خیر…. تمہیں گیم نہیں کھیلنی تو مت کھیلو…. مگر نیچے آ کر موسم کو انجوائے کر لو…. چلو شاباش….!“

وہ لجاجت سے بولی…. جواباً مانہ مسکرا کر رہ گئی….

”تم چلو…. میں آتی ہوں….“

”ہاں…. آ جاﺅ جلدی سے…. لیٹس ہیو سم فن…. کوئی بڈھی روح گھسی ہوئی ہے تمہارے اندر….“

وہ جاتے جاتے ٹونٹ مار گئی تھی…. دروازہ بند ہوتے ہی مانہ ایک بارپھر سے چاند پر نظریں ٹکا بیٹھی تھی….

چاند کی چاندنی کا ریلا آسمان سے زمین کی طرف لپکتا دکھائی دیا تھا…. سبزہ منور ہوا، اونچے اونچے درختوں کی پھننگیں منور ہوئیں…. دور تک پھیلے ہوئے درختوں کا جھنڈ چاندنی سے بھر گیا…. آہستہ آہستہ درخت چاندنی کی طرف بڑھنے لگے،چاندنی درختوں سے بلند ہونے لگی…. دور تک ٹھاٹھیں مارتے سمندر کا منظر بھی کھل اٹھا…. مانہ چند ثانیے ساکت بیٹھی چاند اور چاندنی کے مناظر تکتی رہی…. پھر اٹھی، بیڈ پر رکھے شاپنگ بیگ میں سے خوبصورت ویلوٹ کی بلیک شال نکالتی کچھ سوچنے لگی….

”اس کے پیسوں سے، اسی ہی کی پسندکردہ شال پہن کر نیچے آ گئی…. تو وہ اسکا غلط مطلب نہیں سمجھ بیٹھے….“

من ہی من میں بولتی وہ لب بھینچنے لگی…. نظریں شال پر ہی محیط تھیں…. وہ شال واقعی خوبصورت تھی…. بے حر نرم، بے حد ملائم، بے حد پتلی، بے حد گرم…. وہ مہنگی برانڈڈ شال، اپنے آپ میں ہی اتراتی دکھائی دے رہی تھی….

”میرے پاس اور کوئی آپشن بھی تو نہیں….“

جاری ہے ۔۔۔۔۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

ڈھل گیا ہجر کا دن نادیہ احمد قسط نمبر7

ڈھل گیا ہجر کا دن نادیہ احمد قسط نمبر7 خواب ٹوٹ جاتے ہیں بھیڑ میں …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے