سر ورق / ناول / درندرہ۔۔ خورشید پیرزادہ ..قسط نمبر 17

درندرہ۔۔ خورشید پیرزادہ ..قسط نمبر 17

قسط نمبر 17

درندرہ۔۔ خورشید پیرزادہ

ایک مہینے سے پورے شہر میں امن تھا- کیونکہ اس درندے نے کوئی واردات نہیں کی تھی- اس دوران رفیق اور مراد نے کرنل کو ڈھونڈنے کی ہر ممکن کوشش کرلی تھی- وہ دونوں کرنل کے رشتے داروں سے ملنے پنڈی اور جہلم بھی ہو آئے تھے- مگر انہیں کرنل کے بارے میں کہیں کچھ پتہ نہیں چلا- اور نہ ہی کرنل کے رشتے دار کے کے نام کے کسی فرد کو جانتے تھے-

ایک دن اچانک مینانے راجو کو فون کرکے بتایا کہ راجہ نواز گھر لوٹ آیا ہے- راجو نے یہ بات فوراً رفیق کو بتادی- رفیق اور مراد دنوں راجہ نواز سے ملنے اس کے گھر پہنچ گئے- جہاں راجہ نواز نے انہیں بتایا کہ وہ سمرن کی کار لے کر اسلام آباد چلا گیا تھا اور کچھ دن وہیں رہا-

”آپ یہاں اپنی بیوی کو اکیلا چھوڑ کر اسلام آباد چلے گئے- حیرت ہے- ایک دو دن تو چلتا ہے- آپ نے اتنے دنوں تک اپنی بیوی کی کوئی خبر ہی نہیں لی-“ مراد نے کہا-

”اس سے آپ کو کوئی مطلب نہیں ہونا چاہئے- یہ میرا نجی معاملہ ہے-“ راجہ نواز نے کہا-

تھوڑی دیر بعد دونوں راجہ نواز کے گھر سے باہر آگئے- انہیں کوئی ٹھوس معلومات حاصل نہیں ہوسکیں تھیں-

”اگر میں معطل نہ ہوتا تو سالے کے منہ میں پستول ٹھونس کر پوچھتا کہ بتا یہ تمہارا نجی معاملہ کیسے ہوا-“ رفیق نے تپ کر کہا-

”کوئی بات نہیں- اب یہ آگیا ہے تو اسے اپنی نگرانی میں رکھنا ہوگا-“

”یار مراد یہ کے کے کس نام کا مخفف ہوسکتا ہے-“ رفیق نے پوچھا-

کتا کمینہ ہوسکتا ہے- کالا کوا ہو سکتا ہے- ہونے کو تو کچھ بھی ہوسکتا ہے-“

”یہی تو مصیبت ہے- سراغ ملا بھی ہے تو ایسا کہ سمجھ میں نہیں آتا کہ کیا کریں- یہ کے کے سہیل کو بھی جانتا تھا اور کرنل کو بھی- تم کیا کہتے ہو کہ کرنل اور سہیل بھی ایک دوسرے کو جانتے تھے؟-“ رفیق نے پوچھا-

”ابھی تک کوئی ایسی بات تو سامنے نہیں آئی ہے جس سے ہم یہ کہہ سکیں کے وہ دونوں ایک دوسرے کو جانتے تھے-“

”اب تک درندے نے اپنے خلاف کوئی سراغ نہیں چھوڑا- اس نے سہیل کو مار دیا- اور اندیشہ ہے کہ اس نے کرنل کو بھی مار دیا ہوگا- ورنہ اتنی تلاش کے بعد ہمیں کہیں سے تو کرنل کے بارے میں کچھ پتہ چلتا – وہ ایسے کیسے غائب ہوسکتا ہے-“ رفیق نے سوچتے ہوئے کہا-

”مجھے بھی یہی لگتا ہے- درندے نے کرنل سے اس کا گھر ہتھیا کر اسے جان سے مار دیا ہوگا- اور شاید اس کی لاش کہیں گاڑ دی ہوگی- کوئی یونہی تو دنیا سے غائب نہیں ہوجاتا – کوئی تو وجہ ہوتی ہے-“ مراد بولا-

”صحیح کہہ رہے ہو- اچھا مراد مجھے پہنچ کر تیار ہونا ہے- تم کو بتایا تھا نا کہ آج شادی میں جانا ہے-“

”ہاں بتایا تھا- مگر تمہیں وہاں مدعو نہیں کیا گیا ہے-“ مراد نے کہا-

”یار ‘ ریما کی وجہ سے مجھے جانا ہی پڑے گا- پیار محبت بیشک نہیں ہوا تھا مگر اچھی دوست تو تھی نا- مبارکباد دینے تو جانا چاہئے-“

”جاﺅ- مگر چوہان سے بچ کر رہنا-“ مراد نے ہنس کر ہوشیار کرتے ہوئے کہا

”شادی کے ماحول میں وہ زیادہ پنگا نہیں کرے گا- اور میں تو ویسے بھی بس ایک بار ریما سے مل کر اور اسے مبارک باد دے کر واپس آجاﺅں گا-“

”تمہاری میڈم بھی وہاں ہوگی- خیال رکھنا انہیں کوئی غلط فہمی نہ ہوجائے-“

”میڈم کو میں نے سب کچھ بتا دیاہے-“

”ہاں مگر خود اپنی آنکھوں سے دیکھنے پر دل کو چوٹ پہنچتی ہے- ویسے ریما کی شادی میں تاخیر کیوں ہوئی؟-“ مراد نے پوچھا-

”شاید لڑکے والوں نے تھوڑا وقت مانگ لیا تھا- مجھے پکا پتہ نہیں ہے-“

”اوکے تم نکلو- میں بھی جا رہا ہوں- آج سحرش کے کالج میں کوئی فنکشن ہے- میں اسے وہاں سے پک کرلوں گا– اور آج اس کے ساتھ باہر ڈنر کرنے کا پروگرام ہے-“ مراد نے بتایا-

مراد وقت پر کالج کے باہر پہنچ گیا- گیٹ سے لڑکیوں کی بھیڑ باہر نکل رہی تھی- مگر مراد کو سحرش کہیں نظر نہیں آرہی تھی-

”آجاﺅ جان- تم کہاں رہ گئیں— جلدی آجاﺅ- کیوں دیر کر رہی ہو-“مراد بڑبڑا رہا تھا-

جب ساری لڑکیاں باہر آگئیں تو چوکیدار نے گیٹ بند کر دیا-

”کوئی لڑکی اندر رہ تو نہیں گئی-“ مراد نے چوکیدار سے پوچھا-

”نہیں- میں پہلے ہی چیک کر چکا ہوں- سب جا چکی ہیں-“

”ایسا کیسے ہو سکتا ہے- میں تو گیٹ کے باہر ہی کھڑا تھا-“ یہ سوچتے ہوئے مراد نے نغمہ کو فو ن کیا-”ہیلو نغمہ- سحرش گھر پہنچ گئی کیا؟-“

”نہیں- وہ تو اب تک نہیں آئی- کیوں کیا ہوا— سب ٹھیک تو ہے نا؟-“ نغمہ نے تشویش بھرے لہجے میں پوچھا-

”میں بعد میں بات کرتا ہوںابھی تھوڑا مصروف ہوں-“ یہ کہہ کر مراد نے لائن کاٹ دی- اب اسے ٹینشن ہونے لگی تھی کہ سحرش کہاں گئی-

”کہاں رہ گئی میری جان— وہ تو ایسے کہیں نہیں جاتی— اسے پتہ بھی تھا کہ میں اسے لینے آﺅں گا-“ مراد سوچ میں پڑ گیا-

اچانک اس کے دماغ میں گھنٹی بجی کہ کہیں سحرش کو درندے نے تو اغواءنہیں کر لیا- یہ خیال آتے ہی اس کی روح تک کانپ اٹھی- وہ جانتا تھا کہ درندہ اپنے شکار کے ساتھ کھیل کر کیا حشر کرتا ہے- جب اسے کچھ نہ سوجھا تو اس نے رفیق کو فون کرکے ساری بات بتا دی-

رفیق نے پوری بات سننے کے بعد کہا- ”اگر سحرش کو درندے نے اغواءکیا ہے تو وہ تم سے ضرور رابطہ کرے گا- تم ایسا کرواپنے گھر جاﺅ- ہوسکتا ہے وہاں اس نے تمہارے لئے کوئی پیغام چھوڑا ہو-“

”یار میرے ہاتھ پاﺅں کانپ رہے ہیں- سحرش کو کچھ ہوگیا تو میں جیتے جی مرجاﺅں گا-“ مراد نے لڑکھڑاتے ہوئے لہجے میں کہا-

”میں تمہارے جذبات سمجھ سکتا ہوں- تم اپنے گھر پہنچو میں بھی وہیں آرہا ہوں-“ رفیق بولا-

مراد نے بائیک اسٹارٹ کی اور اپنے گھر کی طرف چل پڑا- گھر پہنچ کر وہ جیسے ہی اندر داخل ہوا تو دروازے کے پاس اسے ایک رقعہ پڑا ہوا ملا- جس پر کچھ لکھا ہوا تھا- مراد لائٹ جلا کر پڑھنے لگا-

”مسٹر مراد کیسے ہو تم— تم نے مجھے بہت پریشان کیا ہے- مگر اب میری باری ہے- کب سے تمہارے لئے ایک پلان ترتیب دے رہا تھا- سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ تمہیں کیسی موت دی جائے- تمہاری نگرانی کی تو پتہ چلا تم ایک لڑکی پر عاشق ہو- بس میرا کام آسان ہوگیا- سحرش میرے قبضے میں ہے- وہ میرے سامنے پڑی ہوئی ہے- اور شاید یہ تو بتانے کی ضرورت ہی نہیں ہے کہ اس کے بدن پر ایک دھجی تک نہیں ہے- اگر یقین نہیں ہے تو یہ تک بتا سکتا ہوں کہ اس کے بدن پر کہاں کہاں تل ہیں- اگرچہ میں اپنے کسی شکار کے ساتھ ہوس کا کھیل نہیں کھیلتا- مگر تمہاری سحرش بلا کی خوبصورت ہے- میرا دل بھی اس پر آنے لگا ہے-ہا ہا ہاہا— میرے دوسرے پیغام کا انتظارکرنا-اور ہاں اپنے دوست رفیق سے کہنا کہ وہ ریما کی شادی میں ضرور جائے- وہاں میں نے اس کے لئے ایک خاص پلان بنایا ہے- ہی ہی ہی-“

مراد کی آنکھیں غصے سے سرخ ہو رہی تھیں-”تمہیں ایسی موت دوں گا جو تم نے آج تک کسی کو نہیں دی ہوگی- کتے کمینے- حرامی النسل-“ مراد رہ رہ کر چلا رہا تھا-

جب رفیق مراد کے گھر پہنچا تو وہ سر پکڑے بیٹھا تھا- رفیق کو دیکھتے ہی بولا-”جس بات کا ڈر تھا وہی بات ہوگئی- کمینے نے سحرش کو اٹھا لیا ہے-“

”تمہیں کیسے پتہ چلا؟-“

مراد نے خاموشی سے رقعہ رفیق کے ہاتھ میں پکڑا دیا- ”جب میں گھر آیا یہ دروازے کے پاس ملا -“

رفیق نے رقعہ پڑھا تو اس کے چہرے پر بھی فکر کی شکنیں ابھرآئیں-

”مراد میں ایسی صورتحال سے گزر چکا ہوں- لیکن ایسے سر پکڑ کر بیٹھنے سے کچھ حاصل نہیں ہوگا- جتنا میں اس کی نفسیات کو سمجھ سکا ہوں- وہ ابھی سحرش کو کچھ نہیں کرے گا- دوسرے پیغام کا انتظار کرتے ہیں-“

ِِ”یار اگر میری سحرش کو کچھ ہوگیا تو میں مرجاﺅں گا- وہ میری زندگی ہے-“ مراد ٹوٹے ہوئے لہجے میں بولا-

”حوصلہ رکھو- ہم اسے کچھ نہیں ہونے دیں گے- ابھی ہمارے پاس وقت ہے- اس نے مجھے ریما کی شادی میں بلایا ہے- اس کا مطلب ہے وہ وہاں آئے گا- اور یہ اسے پکڑنے کا بہت اچھا موقع ہے- وہ ہمارے ہاتھ لگ گیا تو سحرش بھی مل جائے گی- چلو یہ وقت یوں منہ لٹکا کر بیٹھنے کا نہیں ہے- ہمیں اسے سبق سکھانا ہے- آج اس کی بیہودہ گیم اسی پر لوٹا دیں گے-“ رفیق نے اسے حوصلہ دلاتے ہوئے کہا-

”تو کیا ریما کی شادی میں‘ میں بھی تمہارے ساتھ چلوں؟-“ مراد نے پوچھا-

”ہاں بالکل- تیرے بنا بات کیسے بنے گی- چل اٹھ-“

”مگر اس نے دوسرے پیغام کا انتظار کرنے کو کہا ہے- میں کیسے جا سکتا ہوں-“ مراد نے اپنی الجھن بتائی-

”یہاں کسی اور کو چھوڑ دیتے ہیں- رک ایک منٹ- میں بھولو کو بلاتا ہوں کہ وہ یہاں رک جائے- وہ رقعہ ڈالنے والے پر نظر بھی رکھے گا-“ رفیق نے کہا-

”ہاں یہ ٹھیک رہے گا-“

چلو پھر اٹھاﺅ اپنا کٹہ- ہمیں آج درندے کا شکار کرنا ہے-“

رفیق نے فون کرکے بھولو کو مراد کے گھر پر بلا لیا اور اسے وہیں چھوڑ کر ریما کی شادی میں شرکت کے لئے روانہ ہوگئے-

”راجو کو بھی اس بار ے میں ہوشیار کردوں-“ رفیق بولا-

”ہاں بالکل-“

رفیق نے راجو کو فون کیا- بیل جاتی رہی مگر کال ریسیو نہیں کی گئی- پھر اس نے وردا کو فون کیا- وردا نے بھی فون نہیں اٹھایا-

”یہ دونوں کس کام میں اتنے مصروف ہیں کہ کال ہی ریسیو نہیں کر رہے ہیں-“ رفیق نے کہا-

”کھوئے ہوئے ہوں گے ایک دوسرے میں- نئی نئی محبت ہے نا-“ مراد بولا-

رفیق کے پاس وردا کے گھر پر تعینات ایک سپاہی کا نمبر تھا اس نے وہ نمبر ٹرائی کیا-

”ریاض حسین سے بات کراﺅ-“

”سر وہ تو یہاں نہیں ہیں- دو گھنٹے پہلے میڈم کو لے کر نکلے تھے- ابھی تک لوٹے نہیں-“ سپاہی نے بتایا-

”یہ لڑکا بھی نا-“ رفیق نے قدرے غصے سے کہا-

”کیا ہوا؟-“

”راجو ‘ وردا کے لے کر کہیں گیا ہوا ہے- شاید کہیں گھوم رہے ہوں گے- مگر اتنا بڑا خطرہ مول لینے کی ضرورت ہی کیا ہے اس کو- کیا دونوں تھوڑا انتظار نہیں کر سکتے-“ رفیق نے جھلا کر کہا-

”کل کسی بات پر دونوں میں بہت لڑائی ہوئی تھی- وردا ناراض ہوگئی تھی راجو سے- شاید اسے منانے کے لئے کہیں گھمانے لے گیا ہوگا-“ مراد نے بتایا-

”وہ تو ٹھیک ہے- مگر گھومتے گھومتے درندہ مل گیا تو—- وہ ہمہ وقت ہم پر نظر رکھتا ہے- پوری پلاننگ سے کام کرتا ہے- میں نے راجو کو سمجھایا بھی تھا مگر میری کوئی سنے تب نا-“ رفیق بری طرح جھلا رہا تھا-

”رفیق ایک بات سنو-“

”ہاں بولو-“

”ہم ریما کی شادی میں بھیس بدل کر جائیں تو زیادہ بہتر ہوگا- کیا کہتے ہو؟-“

”ہاں آئیڈیا برا نہیں ہے مگر ہمارے پاس وقت کم ہے-“ رفیق نے مجبوری بتائی-

”میں ایک ایسے میک اپ مین کو جانتا ہوں جو منٹوںمیں ہمارا حلیہ بدل دے گا-“

”چلو پھر دیر کس بات کی-“

تھوڑی دیر بعد وہ مطلوبہ میک اپ میں سے حلیہ تبدیل کروا کر داڑھی مونچھ لگا کر شادی میں پہنچ گئے-

”تمہیں کیا لگتا ہے- اس بار درندے کا پلان کیا ہوسکتا ہے-“ رفیق نے پوچھا-

”بھائی برا مت ماننا مگر میرا پورا دھیان سحرش پر لگا ہوا ہے-“

ِ”دیکھو مرا د – ہم سحرش کے لئے ہی یہاں آئے ہیں- اگر یونہی کھوئے رہے تو اپنی سحرش کے لئے کچھ بھی نہیں کر پاﺅ گے-اپنی پوری توجہ یہاں پر رکھو-“ رفیق نے اسے سمجھایا-

”وہ تو ٹھیک ہے یار- میری جان کس حال میں ہوگی- یہ سوچ کر ہی میری روح کانپ رہی ہے- وہ بہت جلدی ڈر جاتی ہے— وہ خوف کا انبار کیسے سہہ پائے گی-“ مراد بہت جذباتی ہو رہا تھا- اور اسے ہونا بھی چاہئے تھا-

”سب سمجھ رہا ہوں بھائی- تم ایسے بولو گے تو میری ہمت بھی جواب دے جائے گی- سنبھالو خود کو- وہ تو انتظار میں ہوگی کہ تم اس کے لئے کچھ کرو-“

”جانتا ہوں- اسی لئے تو جذباتی ہو رہا ہوں- اگر میں کچھ کر نہیں سکا تو میری محبت اس درندے کے آگے ہار جائے گی-“ مراد رندھے ہوئے لہجے میںبولا-

”ایسا کچھ نہیں ہوگا- امید کا دامن آخر تک ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہئے- یہ امید ہی تو ہوتی ہے جو ہمیں ہر برے وقت سے باآسانی نکال لیتی ہے- وقت کب کروٹ بدلتا ہے ہم نہیں کہہ سکتے-“

”سوری یار- مجھے سحرش کی بہت فکر ہو رہی ہے اس لئے ایسی باتیں کر رہا ہوں- اب ٹھیک ہوں- چلو دیکھتے ہیں کہ وہ درندہ کیا کرنے والا ہے- اس سے پہلے کہ وہ اپنی گیم کھیلے – ہمیں اسے پکڑنا ہے-“ مراد نے حوصلہ دکھاتے ہوئے کہا-

”یہ ہوئی نا بات-“ رفیق خوش ہوکر بولا-

”ابھی تو یہاں امن لگ رہا ہے- ہمیں ہر فرد پر نظر رکھی ہوگی-“

”ایک بات میری سمجھ میں نہیں آرہی ہے کہ میرے لئے کیا خاص کرے گا وہ-“

”تمہاری میڈم بھی تو یہاں آرہی ہیں نا؟-“ مراد نے اندیشے کا اظہار کرتے ہوئے کہا-

”یار ایسی بات تو مت کرو- وہ بیچاری پہلے ہی بڑی مشکل سے بچی ہے‘ درندے کے جال سے-“ رفیق تڑپ کر بولا-

”دیکھا – برداشت نہیں ہوتا نا- اب پتہ چلا تم کو کہ میرے دل پر کیا بیت رہی ہے-“

”وہ پہلے سے پتہ ہے- ایک منٹ-“

”کیا ہوا؟-“

”میڈم سے مل کر آتا ہوں-“

”مگر تم کو نہیں پہچانے گی-“ مراد نے میک اپ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا-

”دیکھا جائے گا- تم یہیں رکو-“

رفیق ‘ شہلا کی طرف بڑھا جو گلابی ساڑھی پہنے ہوئے تھی اور کسی خاتون سے محو گفتگو تھی- رفیق نے شہلا کے پاس آکر کہا- ”ایکسکیوز می میڈم- آپ سے ضروری بات کرنی ہے-“

”کیا میں آپ کو جانتی ہوں؟-“ شہلا نے اسے پہچانا نہیں-

”شاید-“

”چلے جاﺅ یہاں سے—تمہیں پتہ نہیں ہے کہ میں کون ہوں اور کیا کرسکتی ہوں- ایک تو یہ تم مردوں کی پرانی بیماری ہے کہ جہاں کسی پارٹی میں کوئی خاتون نظر آئی بات کرنے کا بہانہ ڈھونڈنے لگتے ہو-“ شہلا کسی غلط فہمی کا شکار ہو رہی تھی-

”آپ ڈی ایس پی صاحبہ ہیں اور مجھے جیل میں ڈال سکتی ہیں- لیکن میں پھر بھی آپ کے ساتھ بات کرنے کا خطرہ مول لینے کو تیار ہوں— بڑی مہربانی ہوگی اگر آپ میری بات سن لیں-“ رفیق اب تک آواز بدل کر بول رہا تھا اس لئے بھی شہلا کو اسے پہچاننے میں دشواری ہو رہی تھی-لیکن پھر بھی رفیق کے ساتھ ایک طرف آگئی-

”ہاں بولو- کیا بات ہے-“

”آپ اس سے اپنے دل کی بات بول کیوں نہیں دیتیں-“ رفیق نے کہا-

”یہ کیا بکواس ہے-“

”رفیق کو چاہئے کہ وہ آپ سے سب کچھ کہہ دے-“

”آئی ہیٹ ہم- یہ کڑوا سچ میں اس سے کیسے کہہ دوں-“

”کیا کہا- آپ رفیق سے نفرت کرتی ہیں-“ رفیق نے اپنی اصلی آواز میں کہا-

”ہاں بہت زیادہ نفرت ہے- مگر آپ کو اس بات سے اتنی تکلیف کیوں ہو رہی ہے-“

”ہی ہیٹس یو ٹو-“ یہ کہہ کر رفیق آگے بڑھ گیا-

”رفیق- رکو-“

”تو آپ نے مجھے پہچان لیا-“ رفیق حیران ہوکر بولا-

”تمہاری ان آنکھوں کی وجہ سے بھیڑ میں بھی پہچان سکتی ہوں- وہاں میں نے تمہاری آنکھوں پر دھیان نہیں دیا تھا اس لئے پہچان نہیں پائی-“

”میڈم درندہ یہاں کوئی گیم کھیلنے والا ہے- اس نے مجھے یہاں بلایا ہے- — دوسری بات یہ کہ اس نے میرے دوست مراد کی گرل فرینڈ کو بھی اغواءکر لیا ہے- وہ واپس آگیا ہے اور لگتا ہے کہ اس بار وہ بہت کچھ کرنے کے موڈ میں ہے- آپ فوراً یہاں سے چلی جائیں-“رفیق نے شہلا کو خطرے سے آگاہ کرتے ہوئے کہا-

”ویسے تو میں کچھ دیر میں جانے ہی والی تھی- مگر اب تو بالکل نہیں جاﺅں گی-“ شہلا کڑک لہجے میں بولی-

”میڈم آپ یہاں رہیں گی تو میری ساری توجہ آپ پر ہی رہے گی-“

”تمہیں چھوڑ کر نہیں جاﺅں گی- ڈی ایس پی ہوں اور ایسا رسک لینا میرا فرض ہے-“

”ہاں آپ ڈی ایس پی ہیں اور میں معطل شدہ انسپیکٹر- آپ میری بات کیوں مانیں گی-“ رفیق نے جھنجھلا کر کہا-

”یہ کیسی بات کر رہے ہو رفیق- وہ سب اپنی جگہ ہے اور تمہارا میرا رشتہ اپنی جگہ ہے-“

”آپ کا اور میرا رشتہ؟— بس تھوڑا اور آگے بڑھ کر آج دل کی بات کہہ ہی ڈالیں-“

”چلو چلو- اپنا راستہ ناپو-“

”میڈم – پلیز یہاں سے چلی جائیں- میری چھٹی حس کسی خطرے کی بو سونگھ رہی ہے- اس نے مجھے بلایا ہے اور ہوسکتا ہے کہ مجھے پریشان کرنے کے لئے آپ کو نشانہ بنائے- مجھے ڈر لگ رہا ہے-“

”کیوں ڈرتے ہو میرے لئے؟-“ شہلا نے عجیب سے لہجے میں پوچھا-

”آپ جانتی ہیں-“

”تم مجھے تو کہتے رہتے ہو کہ بول دو- بول دو- خود تم نے ابھی تک کچھ بھی نہیں کہا-“

”میری اوقات ہی کیا ہے آپ کے سامنے- ڈرتا ہوں کہ کہیں ٹھکرا نہ دیا جاﺅں-“ رفیق نے دھیمے لہجے میں کہا-

”اس میں اوقات کی بات کہاں سے آگئی- جاﺅ تم- مجھے تم سے کوئی بات نہیں کرنی-“

”سوری میڈم-“

”سوری ووری کی کوئی ضرورت نہیں ہے- تم جاﺅ یہاں سے-“ شہلا نے ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا-

”ٹھیک ہے میں جاتا ہوں- آپ اپنا خیال رکھنا- مجھے درندے کو ڈھونڈنا ہے- اس سے پہلے کہ وہ کوئی گیم کھیل جائے مجھے اسے پکڑنا ہے-“ یہ کہہ کر رفیق وہاں سے جانے لگا-

”رکو-“ شہلا چل کر اس کے پاس آئی اور بولی- ”تم بھی اپنا خیال رکھنا-“

”اوکے-“ رفیق مسکرا کر آگے بڑھ گیا-

رفیق دوبارہ مراد کے پاس آگیا اور پوچھا- ”کچھ ایسا ویسا دکھائی دیا کیا؟-“

”اتنے سارے لوگ ہیں یہاں- سب پر کیسے فوکس کریں-“ مراد نے کہا-

”میرے لئے ریما کی شادی میں خاص کیا ہوسکتا ہے؟-“رفیق سوچ میں پڑ گیا-

”کہیں وہ ریما کا آرٹ تو نہیں بنا رہا-“ اچانک مراد نے ایک بھیانک اندیشہ ظاہر کیا-

”اوہ مائی گاڈ- یہ تو میں نے سوچا ہی نہیں تھا- چلو دیکھتے ہیں کہ ریما کہاں ہے-“ رفیق نے جلدی سے کہا-

دونوں بھاگتے ہوئے ادھر ادھر دیکھتے ہوئے اس جگہ پہنچے جہاں ریما کو دلہن بنایا جا رہا تھا-

”ایکسکیوز میں- ریما کہاں ہے؟-“ رفیق نے ایک خاتون سے پوچھا-

وہ ذرا فریش ہونے گئی ہے- نکاح میں ابھی دیر ہے- آپ فکر نہ کریں وہ وقت پر پہنچ جائے گی-“ خاتون نے مسکراتے ہوئے کہا-

”کون سے کمرے میں ہے ہو-“ رفیق نے پھر پوچھا-

”جس کے سامنے میں کھڑی ہوں-“ خاتون بولی-

رفیق نے فوراً دروازہ پیٹنا شروع کر دیا- تب تک چوہان بھی وہاں پہنچ گیا تھا-

”ہے کون ہو تم اور دروازہ کیوں پیٹ رہے ہو-“ چوہان غصے سے بولا-

”سر میں رفیق ہوں- ریما کی جان کو خطرہ ہے-“

”کیا بکواس کر رہے ہو- دفعہ ہوجاﺅ یہاں سے-“

مگر رفیق نے چوہان کی ایک نہ سنی- اس نے دروازے پر اتنی زور سے لات ماری کہ اس کا لاک ٹوٹ گیا اور دروازہ کھل گیا- جب رفیق اندر گھسا تو اس کے رونگٹے کھڑے ہوگئے- وہ اندر کا نظارہ برداشت نہیں کر پایا-

کمرے میں ریما کی برہنہ لاش خون میں لت پت پڑی تھی- سر سے لے کر پاﺅں تک وہ خون کے رنگ میں رنگی ہوئی تھی- سنگھار میز کے آئینے پر درندہ کوئی پیغام لکھ کر گیا تھا-جسے پڑھ کر ہر کوئی کانپ کر رہ گیا-

”میرے ہاتھوں سے کوئی بچ جاتا ہے تو مجھ سے برداشت نہیں ہوتا- لیکن کوئی ایک بار بچ سکتا ہے- دوسری بار نہیں- دوسری بار میرا پلان پہلے سے بھی زیادہ بھیانک ہوتا ہے- مسٹر مغلِ اعظم— ریما کو سرخ ساڑھی کی بجائے سرخ رنگ سے رنگ دیا ہے میں نے- سب کو ریما کی شادی مبارک ہو-“

رفیق سے برداشت نہیں ہوا اور وہ روپڑا- چوہان اپنی بہن کی لاش دیکھ کر بے ہوش ہوکر گر گیا تھا-

”سوری ریما- میں تمہارے لئے کچھ نہیں کر سکا- میں نے آنے میں دیر کر دی-“ مراد نے کمرے پر غور کیا تو اس نے دیکھا کہ کمرے کی کھڑکی کھلی ہوئی تھی-

”رفیق وہ درندہ اس کھڑکی کے راستے بھاگا ہے-“ مراد نے کہا-

”چھوڑیں گے نہیں سالے کو- آﺅ دیکھتے ہیں-“

دونوں کھڑکی سے کود کر باہر آگئے- دور سے انہوں نے ایک سائے کو بھاگتے ہوئے دیکھا- رفیق اور مراد اس سائے کے پیچھے دوڑ پڑے-

”رک جاﺅ- ورنہ گولی مار دوں گا-“ رفیق نے چلا کر کہا-

مگر وہ سایہ رکا نہیں- وہ سایہ کسی چیز سے ٹھوکر کھا کر گر پڑا اور جب تک وہ اٹھتا رفیق اور مراد نے اسے چھاپ لیا-

”ارے چھوڑو مجھے- کون ہو تم لوگ- انسپیکٹر سکندر پر ہاتھ ڈالنے کا انجام بہت برا ہوگا-“

رفیق ‘ انسپیکٹر سکندر کے سر پر پستول کی نال رکھتے ہوئے بولا- ”تم یہاں کیا کر رہے تھے- جب ہم نے رکنے کا کہا تو تم رکے کیوں نہیں- جلدی بولو ورنہ سر میں کھڑکی کھول دوں گا- ویسے بھی میرا دماغ گھوما ہوا ہے-“

”میں رات کا راہی ہوں-سکندر کا کوئی بال بھی بانکانہیں کر سکتا مغل صاحب- پیچھے ہٹو- پستول میرے پاس بھی ہے-“

”پہلے تم یہ بتاﺅ کہ یہاں کیا کر رہے تھے؟-“ رفیق غرایا-

”میں نے کسی کو کھڑکی سے کود کر بھاگتے ہوئے دیکھا تھا- اسی کا پیچھا کر رہا تھا-“

”جھوٹ بول رہے ہو تم- ہم نے تمہارے آگے کسی کو بھاگتے ہوئے نہیں دیکھا- تم اکیلے ہی بھاگے جا رہے تھے-“ مراد نے کہا-

”میں اندھیرے میں کسی کا پیچھا کر رہا تھا- میرا یقین کرو-“

”رفیق ضرور کوئی گڑ بڑ ہے- ہم نے کسی کو بھی نہیں دیکھا- بس یہ اکیلا بھاگا جا رہا تھا-“ مراد نے رفیق کے کان میں کہا-

٭٭٭٭٭٭٭

راجو اور وردا اپنی محبت کے خمار میں کھوئے ہوئے تھے- انہیں ذرا بھی اندازہ نہیں تھا کہ درندے نے سحرش کو اغواءکر لیا اور ریما کو مار دیاہے- دونوں دنیا کی ہر بات سے بے خبر تھے- راجو وردا کو باہر ڈنر کروا کے آج پھر اپنے گھر لے آیا تھا-

”پورے ایک مہینے بعد ہم اس چھوٹے سے گھر میں واپس آئے ہیں- اور مزے کی بات یہ ہے کہ ہماری جنگ ابھی بھی جاری ہے-“ راجونے ہنستے ہوئے کہا-

”وہ تو جاری رہے گی- میں ہار ماننے والوں میں سے نہیں ہوں-“ وردا مسکرا کر بولی-

”میں نے بھی زندگی میں کبھی ہارنا نہیں سیکھا- ایک دن جیت میری ہی ہوگی- بلکہ ہوسکتا ہے کہ آج ہی ہوجائے-“

”اور ان تمام باتوں سے ہٹ کر میں تم کو دل کی گہرائیوں سے چاہتی ہوں-“

”میں بھی تم سے بہت بہت بہت محبت کرتا ہوں- اور اگر ایسا ہے تو آج تم ہار مان ہی لو- مجھ سے یہ دوری برداشت نہیں ہو رہی ہے-“ راجو نے شرارت سے کہا-

”میرے جذبات بھڑکانے کی کوشش کر رہے ہو- خوب سمجھ رہی ہوں میں- کچھ بھی کرلو- شادی سے پہلے کچھ نہیں-“

”اف تمہاری طلاق آخر کب ہوگی- میری تو جان پر بن آئی ہے- کوئی عاشق اپنی محبوبہ کے لئے اتنا نہیں تڑپا ہوگا جتنا میں تڑپا ہوں تمہارے لئے-“

”تسلی رکھو میرے دیوانے- طلاق کا کیس چل رہا ہے نا- تھوڑا وقت تو لگتا ہی ہے ان باتوں میں-“ وردا نے اسے تسلی دیتے ہوئے کہا-

”کہیں تڑپ تڑپ کر مر نہ جائے یہ دیوانہ-“

وردا‘ راجو سے لپٹ گئی اور بولی- ”ایسا مت بولو- پلیز ایسا مت بولو-“

”تو پھر ہار مان لو-“

”ہار نہیں مانوں گی-“ وردا نے دوٹوک جواب دیا-

”پلیز اپنے خول سے باہر آجاﺅ- میرے ساتھ ساتھ خود کو بھی کیوں تڑپا رہی ہو-“

”واہ واہ- کیا سبق پڑھا رہے ہو اپنی محبوبہ کو–“ یہ کہہ کر وردا واش روم کی طرف جانے لگی-”میں نہانے جا رہی ہوں-“

”پتہ نہیں تم کو نہانے کی کیا بیماری ہے-“ راجو نے منہ بنا کر کہا-

اچانک وردا کا پاﺅں مڑا اور وہ گرنے لگی اور خود کو گرنے سے بچانے کے لئے اس نے برابر میں رکھی میز کو تھامنے کی کوشش کی اور میز کو لیتے ہوئے نیچے گر گئی اور میز پر رکھی کتابیں بھی بکھر گئیں-

راجو جلدی سے اس کے پاس آگیا- ”کیا ہوا- تم ٹھیک تو ہو نا-“

”ہاں- بس پاﺅں لڑکھڑا گیا تھا-“ وردا نے کہا- پھر اس کی نظر ایک کتاب میں سے نکل کر گرنے والی تصویر پر پڑی اور وہ سوچ میں پڑ گئی-

راجو نے اس کے بازو پکڑ کر اٹھانے کی کوشش کی تو وردا نے اسے روک دیا اور دوبارہ اپنی توجہ تصویر پر مرکوز کر دی-

”ارے اٹھو نا- اب کیا یہیں سونے کا ارادہ ہے-“

”ایک منٹ رکو-“

”کیا پاﺅں میں موچ آگئی ہے— میں آئیوڈیکس لگا دیتا ہوں-“ راجو نے کہا-

وردا کی نظر پھر اس تصویر پر گئی اور دیکھتے دیکھتے کب اس کے چہرے پر پسینہ آگیا اور رونگٹے کھڑے ہو گئے اسے پتہ ہی نہیں چلا-

”رررراجو- یہ تصویر کس کی ہے؟-“ وردا نے تصویر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے پوچھا-

”یہ— یہ تو نغمہ ہے- تم تو اس سے مل چکی ہو- بھول گئی کیا؟-“

”ارے نغمہ کو میں کیسے بھول سکتی ہوں- اس کی تصویر کے اوپر جو تصویر ہے-اس کی بات کر رہی ہوں-“ راجو کو وردا کی آواز میں ڈر اور خوف صاف محسوس ہو رہا تھا-

 ”بات کیا ہے وردا- تم اتنی خوفزدہ کیوں لگ رہی ہو؟-“

”یہی— یہی درندہ ہے— یہی درندہ ہے-“ وردا ایک سانس میں کہہ گئی-

یہ سن کر راجو کے پیروں تلے جیسے زمین نکل گئی-

”کیا بول رہی ہو- تم ہوش میں تو ہو- تم تو کہہ رہی تھیں کہ تمہیں اس کا چہرہ یاد نہیں رہا-“

”ہاں بھول گئی تھی اس کا چہرہ- مگر یہ تصویر دیکھ کر پھر سے یاد آگیا- میرا یقین کرو راجو یہی درندہ ہے-“ وردا کی آواز بری طرح کپکپا رہی تھی-

”ہمیں یہ بات فوراً رفیق سر کو بتانی ہوگی-“

راجو نے جب رفیق کو فون کیا تو اس وقت وہ سکندر کے سر پر پستول تانے کھڑا تھا-

”ہیلو راجو-“ رفیق نے فون ریسیو کرتے ہوئے کہا- ”کہاں ہو بھائی- کتنے لاپرواہ ہوگئے ہو تم- فون بھی نہیں اٹھاتے ہو- تم ہو کہاں؟-“

”سر فون سائلنٹ موڈ پر تھا-“

”اوکے- فون کیوں کیا ہے اب؟-“ رفیق نے پوچھا-

”سر درندے کا پتہ چل گیا ہے-“

”کیا؟-“ رفیق کو یہ خبر سن کر ایسا جیسے زلزلہ آگیا ہو-

”ہاں سر- وردا نے اسے پہچان لیا ہے- اسے درندے کی تصویر دیکھ کر سب کچھ یاد آگیا ہے-“

”جلدی بولو- کون ہے وہ؟-“ رفیق نے بے تابی سے پوچھا-

راجو نے جب درندے کے بارے میں بتایا تو اس کے چہرے کا رنگ اڑ گیا- راجو کی بات سن کر اسے یقین ہی نہیں ہو رہا تھا-

”فون وردا کو دو-“ رفیق نے کہا-

راجو نے فون وردا کو تھما دیا- ”رفیق سر بات کرنا چاہتے ہیں-“

”ہاں وردا- راجو نے جو کہا کیا وہ سب صحیح ہے؟-“

”ہاں سو فیصد-“ وردا نے جواب دیا-

”ٹھیک ہے- تم دونوں وہیں رہو- کہیں مت جانا-“ رفیق نے یہ کہہ کر فون کاٹ دیا-

”سوری سکندر صاحب- آپ بھی جائیں- ہم بھی چلتے ہیں-“

 ”عجیب بات کر رہے ہو تم- وہ جو کوئی بھی تھا- وہ تو نکل گیا نا ہاتھ سے-“ سکندر نے منہ بنا کر کہا-

”تو اچھا ہے نا- آپ تو رات کے راہی ہیں‘ اب آپ بے فکر ہو کر جا سکتے ہیں- ہی ہی ہی-“ رفیق ہنستے ہوئے بولا-

سکندر کو وہیں چھوڑ کر رفیق اور مراد وہاں سے پلٹ گئے-

”مراد – اب تمہاری سحرش کو کچھ نہیں ہوگا- درندے کا پتہ چل گیا ہے- وردا نے اسے پہچان لیا ہے-“

”سچ کہہ رہے ہو-“ مراد کے لہجے میں بے یقینی تھی- یہ تو بہت بڑا معرکہ سر ہوگیا تھا-

”ہاں ایک دم سچ- لیکن ہم اسے‘ اس کے طریقے سے ہی ماریں گے- چلو سالے کے لئے ایک آرٹسٹک مرڈر کا پلان بناتے ہیں- پینٹنگ تو مجھے نہیں آتی لیکن میں اس کی موت کی پینٹنگ ضرور بناﺅں گا-الٹی سیدھی جیسی بھی بنے-“

”کون ہے وہ- مجھے بتاﺅ تو سہی-“ مراد بھی جاننے کے لئے بے چین ہو رہا تھا-

رفیق نے مراد کو درندے کے بارے میں بتا دیا- اور یہ سن کر مراد بھی حیران رہ گیا-

رفیق اور مراد نے اپنا میک اپ نکال کر ایک طرف پھینک دیا-”مراد میں میڈم سے مل کر آتا ہوں- تم یہیں رکو-“

رفیق کو اپنی طرف آتا دیکھ کر شہلا لوگوں کی بھیڑ سے ہٹ کر اکیلے میں کھڑی ہوگئی-

”داڑھی مونچھ کیوں اتار دی-“ شہلا نے پوچھا-

”جس کام کے لئے یہاں آیا تھا وہ ہوگیا- اس لئے اتار دی-“

”کیا مطلب؟-“

”درندے کا پتہ چل گیا ہے-“ رفیق نے شہلا کے اوپر دھماکہ کرتے ہوئے کہا-

”کیا— کون ہے وہ؟-“ شہلا بھی بے تاب ہوگئی تھی جاننے کے لئے-

”اپنے ایس پی صاحب-“ رفیق نے ہائیڈروجن بم سے بڑا دھماکہ کرتے ہوئے کہا-

”وہاٹ- تم ہوش میں تو ہو-“ ایک لمحے کے لئے شہلا کو ایسا لگا جیسے ٹینشن کی وجہ سے رفیق کا دماغ چل گیا ہو-

”جی ہاں پورے ہوش میں ہوں- وردا نے اس کی تصویر پہچان لی ہے- اب ان کا مایا جال سمجھ میں آیا- خود کو ہسپتال میں بھرتی کروا دیا اس نے- تاکہ اس پر کسی کا شک نہ جائے- پھر وردا کے گھر پر حملہ ہوا- ہم سب حیران تھے کہ درندہ صرف پینٹنگ رکھ کر کیوں چلا گیا- یہ سب ہمیں بھٹکانے کے لئے تھا-ایس پی صاحب کو ڈر تھا کہ کہیں کسی کو اس پر شک نہ ہوجائے-اس لئے وہ یہ مایا جال بُن کر خود کو شک کے دائرے سے نکالنا چاہتا تھا- مجھے پورا یقین ہے کہ ہسپتال میں بھی ان کا جعلی علاج ہوا ہوگا- جس ڈاکٹر نے اس کا ٹریٹمنٹ کیا تھا وہ اس دوست تھا- ہمیں بے وقوف بنانے کے لئے وہ زبردستی آئی سی یو میں رہا-“ رفیق نے ساری تفصیل شہلا کے سامنے رکھتے ہوئے کہا-

”یہ سن کر مجھے تو یقین ہی نہیں ہو رہا ہے- پولیس کا اتنا بڑا آفیسر‘ جس پر لوگوں کی حفاظت کی ذمہ داری ہے- لوگوں کو مارتا پھر رہا ہے-“ شہلا نے افسوس سے کہا-

”آپ کو ابھی یہ بھی پتہ نہیں ہے کہ یہاں اس نے کیا اندھیر مچا دیا ہے- جس کی شادی میں آپ آئی ہیں- اس کو بھی ایس پی صاحب نے مار دیا ہے-“

”اوہ مائی گاڈ-“ شہلا کی آنکھیں حیرت سے پھٹی کی پھٹی رہ گئیں-

”ہم اسے اسی کے طریقے سے ماریں گے- وہ ایک آرٹسٹ مرڈر کے لائق ہے- ہم اسے اس طرح سے ماریں گے کہ اسے فخر ہوگا کہ وہ ہمارے ہاتھوں مارا گیا-“

”میں تمہارے ساتھ ہوں-“ شہلا کا جواب سن کا رفیق کا حوصلہ اور بڑھ گیا-

”ایک بات کہنی تھی آپ سے-“

”ہاں کہو-“

رفیق نے شہلا کا ہاتھ پکڑا اور اسے مزید آگے تنہائی میں لے گیا-

”کیا کر رہے ہو- وہاں نہیں بول سکتے تھے کیا؟-“شہلا چڑ گئی-

رفیق نے شہلا کو دیوار سے ٹکا کر کھڑا کر دیا اور خود اس کے قریب آکر بولا- ”کیا آپ مجھ سے محبت کرتی ہیں-“

”مجھے نہیں پتہ-“ شہلا نے ٹالنے کی کوشش کی-

وہ دونوں ایک دوسرے کے اتنے نزدیک تھے کہ ان کی سانسیں آپس میں ٹکرا رہی تھیں-

”لیکن مجھے پتہ ہے میں آپ سے بہت محبت کرتا ہوں-“ رفیق نے آخر اپنی محبت کا اظہار کر ہی دیا-

شہلا خاموش رہی- رفیق نے محبت کی مہر لگانے کی کوشش کی تو شہلا نے اپنا چہرہ پھیر لیا- رفیق نے اپنا سر شہلا کے کندھے پر رکھ دیا اور اس کی آنکھوں سے دو آنسو ٹپک گئے-

”اسی لئے جھجھک رہا تھا اپنے دل کی بات کہنے سے- آپ نے ٹھکرا دی نا میری محبت-“ رفیق نے بھرائے ہوئے لہجے میں کہا-

”میرے پاپا نے میرے لئے لڑکا ڈھونڈ لیا ہے رفیق- میں انہیں منع نہیں کر سکوں گی-“ شہلا بولی-

رفیق نے شہلا سے دور ہٹتے ہوئے کہا- ”کوئی بات نہیں میڈم- میں بس درندے کے پیچھے جانے سے پہلے دل کی بات کہنا چاہتا تھا- کیونک زندگی کا کوئی بھروسہ نہیں ہے- آپ نے میری بات سکون سے سن لی- میرے لئے یہی بہت ہے-خدا آپ کو ہمیشہ خوش رکھے-“

”رفیق- مجھے اپنے ساتھ نہیں لے جاﺅ گے-“

”اتنی مشکلوں سے تو آپ کے زخم بھرے ہیں- بہت دنوں بعد آپ بستر سے اٹھی ہیں- آپ گھر جائیں اور ریسٹ کریں-“

”نہیں رفیق- میں بھی تمہارے ساتھ چلوں گی- مجھے اپنی ڈیوٹی بھی کرنی ہے-“

”ابھی جوائن نہیں کیا ہے آپ نے- آپ کو میری قسم- گھر جائیں- میری اتنی بات تو مان لیں‘ مجھے خوشی ہوگی- باقی آپ کی مرضی- آپ ڈی ایس پی صاحبہ ہیں- میں کون ہوتا ہوں آپ کو کچھ کہنے والا-“

شہلا کی آنکھیں بھی نم ہوگئیں-”اپنا خیال رکھنا-“

رفیق جاتے جاتے مڑ کر بولا- ”آج آپ کے بہت نزدیک پہنچ گیا تھا میں- میں یہ رات کبھی نہیں بھولوں گا- اوپر چودہویں کا چاند چمک رہا ہے اور بہت خوبصورت لگ رہا ہے- لیکن ایک چاند زمین پر بھی ہے- آج وہ بھی بہت خوبصورت لگ رہا ہے- اس چاند کے بہت قریب پہنچ گیا تھا میں- سانسیں ٹکرا رہی تھیں ہماری- چوم لینا چاہتا تھا اپنے چاند کو- مگر میرا چاند مجھ سے روٹھ گیا- منہ پھیر لیا اس نے- بھلا نہیں پاﺅں گا اس چاندنی رات کو- اپنے چاند کے نزدیک ہوکر بہت دور ہوگیا ہوں میں- جب جب ایسی رات آئے گی- مجھے آپ کی یاد آئے گی- آپ ہمیشہ خوش رہیں- بس یہی میری دعا ہے- میری عمر آ پ کو لگ جائے- اب میں جا رہا ہوں- آپ پلیز گھر چلی جانا- یہاں مت رکنا-“ رفیق نے کہا اور تیز تیز قدموں کے ساتھ وہاں سے دور ہوتا گیا-

شہلا خود کو روک نہیں سکی اور رونے لگی- ”پتہ نہیں میرے ساتھ ایسا کیوں ہو رہا ہے- میں نے پاپا کو بتایا بھی تھا کہ مجھے رفیق پسند ہے مگر وہ کچھ سننے کو تیار ہی نہیں ہیں- انہوں نے تو مجھے کسی بیوروکریٹ کے گھر ہی بھیجنا ہے- اتنا پڑھ لکھ کر‘ اتنی بڑی افسر بن کر بھی میرا اپنی زندگی پر کوئی اختیار نہیں ہے- کسی نے سچ ہی کہا ہے کہ عورت کچھ بھی کرلے‘ کچھ بھی بن جائے- معاشرہ اسے اس کی اوقات میں ہی رکھتا ہے- اس کی قسمت کا فیصلہ پھر بھی دوسرے ہی کرتے ہیں-“

رفیق نے شہلا کو وہیں چھوڑا اور دل میں غم لئے وہاں سے چلا گیا- ایسا لگتا تھا جیسے کسی بھی وقت اس کی آنکھوں سے دھارا برسنے لگے گی- اسے اپنا غم تو پتہ تھا لیکن وہ یہ نہیں جانتا تھا کہ وہ اپنے پیچھے شہلا کو بھی روتا ہوا چھوڑ کر آیا ہے- دو دلوں کو محبت تو ہو جاتی ہے مگر کبھی کبھی ایسے حالات پیدا ہوجاتے ہیں کہ اس محبت کو زبردستی دل کے کسی کونے میں دبا کرسلانا پڑتا- ایسا ہی کچھ رفیق اور شہلا کے ساتھ بھی ہو رہا تھا-

مراد نے جب رفیق کو ایسی حالت میں دیکھا تو بولا – ”کیا ہوا بھائی- سب ٹھیک تو ہے نا؟-“

”ابھی مجھ سے کچھ مت پوچھو- میں ابھی کچھ بھی کہنے کی حالت میں نہیں ہوں-“

”تمہاری حالت دیکھ کر کچھ کچھ سمجھ رہا ہوں-“

”چھوڑو ان باتوں کو- اب ہمیں اپنی پوری ٹیم کو جمع کرنا ہے-“

”ایسا کرتے ہیں راجو کے گھر چلتے ہیں- وہیں سب کو بلا لیتے ہیں-“ مراد نے مشورہ دیا-

”ٹھیک ہے-“

تھوڑی دیر بعد راجو کے چھوٹے سے کمرے میں پوری ٹاسک فورس جمع تھی-

”درندے کا پتہ تو چل گیا ہے- مگر اب اسے ٹریپ کرنا بھی کسی چیلنج سے کم نہیں ہے- ایس پی صاحب کے گھر پر کافی سخت حفاظتی انتظامات ہیں- ہر طرف گن مین ہیں- اس کے گھر میں کسی بھی قسم کا آرٹسٹک مرڈر ممکن نہیں ہے- ہمیں کسی بھی طرح اسے اس کے گھر سے باہر نکالنا ہوگا- تب ہی ہم کچھ کر پائیں گے- ہمارے پاس وقت بہت کم ہے- ہمیں جو کچھ بھی کرنا ہے آج رات ہی کرنا ہے- کیونکہ سحرش کی جان خطرے میں ہے- ہمیں درندے کو مارنا بھی ہے اور سحرش کو بچانا بھی ہے-“ رفیق نے ٹیم کے سامنے چھوٹی سی تقریر کی-

”لیکن اسے اس کی کچھار سے باہر نکالیں گے کیسے؟-“ مراد نے پوچھا-

رفیق نے جو پلان بنایا تھا اس نے سب کو اس بارے میں اعتماد میں لیا- اس کا پلان سن کر سب کے ہوش اڑ گئے تھے اور سب ہی ایک دوسرے کی طرف دیکھ رہے تھے-

”یا ر رفیق یہ کام تو بہت چیلنجنگ ہے- مگر اسے کرے گا کون- ہم میں سے کوئی بھی وہاں گیا تو اسے شک ہوجائے گا-“

”یہ کام مونا بہت اچھی طرح کر سکتی ہے-“ رفیق نے کہا-

یہ سنتے ہی مونا چونک گئی- ”کیا؟-“

”ہاں مونا- اس وقت تم ہی ہماری امیدوں کا مرکز ہو-“

”یار ہم پولیس کو انوالو کیوں نہیں کرتے- یہ کوئی بچوں کا کھیل نہیں ہے-“ مراد نے کہا-

”پولیس فورس اس کے ہاتھ میں ہے- اس کے خلاف آپریشن شروع کرنے سے پہلے ہی اسے خبر ہوجائے گی- اور ہو سکتا ہے ہم سب کو کسی نہ کسی بہانے جیل میں ڈال دیا جائے- یہ کام صرف اور صرف ہمیں ہی کرنا ہوگا-“رفیق نے تصویر کے تاریک پہلو کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا-

”مجھ سے نہیں ہوگا یہ کام—- میں وہاں جاکر پھنس گئی تو- کہیں اس چکر میں میری اپنی پینٹنگ نہ بن جائے-“ مونا نے لرزتے ہوئے کہا-

اچانک کمرے کا دروازہ بجنے لگا- سب فوراً حرکت میں آگئے- راجو‘ رفیق اور مراد نے اپنی اپنی پستولیں نکال لیں-

”کون ہوسکتا ہے؟-“ مونا نے پوچھا-

”میں نے بھولو سے کچھ سامان لانے کو کہا تھا- ہوسکتا ہے وہی ہو-“ رفیق بولا-

”میں دیکھتا ہوں کون ہے-“ راجو بولا-

”راجو دھیان سے-“ وردا فوراً بولی-

”شکر ہے وردا کچھ تو بولی- راجو تو چھا گیا-“ مراد نے چٹکی لیتے ہوئے کہا-

”استاد-“ راجو نے اشارے سے مراد کو منع کر دیا کہ وردا کے حوالے سے کوئی مذاق نہ کرے-

”کون ہے؟-“ راجو نے اندر سے ہی آواز لگائی-

”ریاض حسین دروازہ کھولو-“

”ارے یہ تو ڈی ایس پی صاحبہ کی آواز ہے-“ راجو نے کہا-

یہ سنتے ہی رفیق نے فوراً آگے بڑھ کر دروازہ کھولا- باہر سچ میں شہلا کھڑی تھی-

رفیق نے اپنے پیچھے دروازہ بند کیا اور شہلا کا ہاتھ پکڑ کر اسے ایک طرف لے گیا-

”آپ یہاں کیا کر رہی ہیں-“

”میں خود کو روک نہیں پائی- پلیز مجھے اپنے ساتھ رہنے دو- میں گھر جا کر بھی تو بے چین ہی رہوں گی-“

”آپ میرے ساتھ کیوں رہنا چاہتی ہیں-“ رفیق نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا-

”اس لئے کہ مجھے تمہاری فکر ہے-“ شہلا بھی اس سے نظریں ملاتے ہوئے بولی-

”کاش جھوٹ ہی سہی لیکن ایک بار تو آپ مجھ سے وہ بات کہہ دیتیں جسے سننے کے لئے میں دن رات بے چین رہتا ہوں-“

”کہنا تو بہت کچھ چاہتی تھی- مگر—-“ شہلا بولتے بولتے رک گئی پھر گہری سانس لے کر بولی- ”خیر چھوڑو-“

”اب آپ یہاں آہی گئی ہیں تو اکیلے واپس نہیں بھیج سکتا- آپ نے دکھی کر دیا ہے مجھے- میری کوئی بات نہیں مانی- ہاں بھئی آپ ڈی ایس پی صاحبہ جو ٹھہریں- آپ میری بات کیوں مانیں گی-“

”پلیز رفیق- یہ طعنے دینا بند کرو- میں ساتھ رہوں گی تو کچھ مدد ہی کروں گی- تم پر بوجھ نہیں بنوں گی-“

”ٹھیک ہے- اندر آجاﺅ-“

رفیق‘ شہلا کو لے کر کمرے کے اندر آگیا-

”ہیلو- مجھے امید ہے کہ میری یہاں موجودگی کسی کو پریشان نہیں کرے گی-“ شہلا نے کہا-

”میں آپ کو خاص خاص پوائنٹس بتا دیتا ہوں-“ پھر رفیق نے شہلا کو اپنا پلان بتایا-

”ہوں-مگر پہلے ہمیں یہ پتہ کرنا ہوگا کہ درندہ گھر پر ہے یا نہیں-“ شہلانے کہا-

”وہ میں نے پتہ کر لیا ہے- وہ گھر پر ہی ہے-“ رفیق نے بتایا-

”لیکن اسے گھر سے باہر کون لائے گا-“شہلا نے پوچھا-

”ہم مونا سے درخواست کر رہے ہیں- مگر یہ ڈر رہی ہے-“ مراد بولا-

”ڈرنے کی بات بھی ہے- بہت چالاک اور شاطر ہے وہ درندہ- وہ آسانی سے اس جال میں پھنسنے والا نہیں ہے-“راجو کو مونا کے ڈر کا احساس تھا-

”لیکن ہم کیا کریں- ہمارے پاس وقت نہیں ہے- جو بھی کرنا ہے فوراً کرنا ہے-“ رفیق نے کہا-

”مگر یہ کے کے کون ہے- ایس پی صاحب کا نام تو سلطان بخاری ہے-“ شہلا نے دھیان دلایا-

”اس کا جواب تو وہ درندہ ہی دے سکتا ہے- اس کے کے چکر میں ہم بہت گھن چکر بن چکے ہیں- بس اب اور نہیں-“ رفیق نے دانت پیس کر کہا-

”وردا تم نے درندے کو کیسے پہچانا- اس کی فوٹو تمہارے پاس کب اور کیسے آئی؟-“ شہلا نے وردا سے تفتیش شروع کر دی-

وردا کے کچھ کہنے سے پہلے ہی راجو بول پڑا- ”میڈم‘ وردا میز سے کچھ کتابیں اٹھا رہی تھی- اٹھاتے وقت ایک کتاب نیچے گر گئی- اس میں کچھ تصویریں تھیں- اس میں ایک تصویر ایس پی صاحب کی بھی تھی-

”ایک نکتہ مجھے بہت پریشان کر رہا ہے- ایس پی صاحب سے تو آپ لوگ عام طور پر ملتے ہی رہتے ہوں گے- پھر آپ نے اس کی آواز کیوں نہیں پہچانی-“ مونا نے ایک کام کا سوال کر دیاتھا-

”کیونکہ درندے کے روپ میں ایس پی بالکل مختلف لہجے میں بات کرتا تھا- تم یہ بتاﺅ کہ تم یہ کام کرو گی یا نہیں- رپورٹر ہونے کی وجہ سے تم یہ کام آسانی کے ساتھ کر سکتی ہو-“ رفیق نے جواب دے کر سوال کر دیا-

”ٹھیک ہے میں تیار ہوں- مجھے کیسے ‘ کیا کرنا ہے- سب بتا دو-“ مونا نے رضامندی ظاہر کرتے ہوئے کہا اور سب کے چہروں پر سکون پھیل گیا-

٭٭٭٭٭٭٭

”آہ ہ ہ ہ -“ سحرش زمین پر پڑی ہوئی کراہ رہی تھی- اس کی آنکھیں ابھی بھی بند تھیں- بے ہوشی ابھی پوری طرح ٹوٹی نہیں تھی- وہ اس بات سے قطعی بے خبر تھی کہ وہ اس درندے کے قبضے میں ہے اور کسی انجان جگہ کے ویران کمرے کے فرش پر پڑی ہوئی ہے-دھیرے دھیرے وہ ہوش کی دنیا میں واپس آرہی تھی-

پھر اس نے آہستہ آہستہ آنکھیں کھول دیں- ایک لمحے کے لئے تو اسے لگا کہ وہ کوئی خواب دیکھ رہی ہے- مگر اگلے ہی لمحے ڈر اور خوف نے اس کے پورے وجود کو گھیر لیا- وہ تھر تھر کانپنے لگی- اسے احساس ہوگیا تھا کہ وہ فرش پر پڑی ہے اور اس کے تن پر ایک بھی کپڑا نہیں ہے- ہاتھ پیر بری طرح کانپ رہے تھے جس کی وجہ سے وہ بڑی مشکل سے اٹھ کر کھڑی ہوگئی-

اس نے اٹھ کر چاروں طرف دیکھا- کمرے میں بس ایک دروازہ ہی تھا- ایک کونے میں چھوٹی سی میز رکھی تھی جس پر پیپر ویٹ کے نیچے ایک کاغذ رکھا تھا-

”یا خدا- میں یہاں کیسے پہنچ گئی-“

سحرش کو یاد آیا کہ وہ کالج سے جلدی نکل گئی تھی- اسے ایک ضروری کام سے مارکیٹ جانا تھا-اس نے اپنا جیب خرچ جمع کرکے کچھ رقم اکٹھی کر لی تھی اور آج وہ اس رقم سے اپنے محبوب کے لئے کوئی تحفہ خریدنا چاہتی تھی-وہ ایک مراد کے لئے ایک پینٹ اور شرٹ خریدنا چاہتی تھی- سوچ رہی تھی کہ جب مراد اسے ڈنر پر لے جانے کے لئے کالج آئے گا تو اسے سرپرائز دے گی- مراد کے لئے گفٹ خرید کر وہ بہت خوش تھی-جب وہ دل میں محبت اور امنگ لئے مارکیٹ سے نکلی تو درندے نے پیچھے سے اسے دبوچ لیا اور کوئی نشیلی چیز سنگھا کر اسے بے ہوش کر دیا-اس کے بعد کیا ہوا اسے کچھ پتہ نہیں تھا-

سحرش کو وہ پورا منظر یاد آگیا تھا- یہ سب یاد آنے کے بعد اس کی حالت اور نازک ہوگئی-

”مراد – پلیز مجھے بچا لو— کہاں ہو تم— تمہاری محبت کی وجہ سے اب تو میں نے جینا شروع کیا تھا— میں ابھی مرنا نہیں چاہتی- پلیز آجاﺅ مجھے بچالو-“ سحرش رو پڑی-

روتے روتے سحرش کی نظر میز پر رکھے کاغذ پر گئی- دور سے لگ رہ تھا کہ اس پر کچھ لکھا ہوا ہے- وہ لڑکھڑاتے قدموں سے میز کی طرف بڑھی اور کانپتے ہاتھوں سے میز پر رکھے کاغذ کو اٹھا لیا-

جب وہ کاغذ پڑھنے لگی تو اس کے چہرے پر خوف کے سائے اور گہرے ہونے لگے-

”ہائے سحرش— یہی نام ہے نا تمہارا— کیسی ہو تم— تم سے پوچھے بنا تم کو یہاں اٹھا لایا- سوری بالکل نہیں بولوں گا کیونکہ میں اپنی مرضی کا خود مالک ہوں- تم یہاں مراد کی وجہ سے ہو— اگر تم مراد کی محبوبہ نہ ہوتیں تو تم پر میرا دھیان ہی نہ جاتا- تم بہت خوبصورت ہو- میں نے تمہاری خوبصورتی بہت قریب سے دیکھی ہے- تمہارے کپڑے میں نے ہی تو اتارے تھے- ہی ہی ہی— تمہاری خوبصورتی پر فدا ہوگیا ہوں میں— تم بے ہوش تھیں اس لئے تمہیں پتہ نہیں چلا- — میرے فن کے لئے تم پرفیکٹ ہو- جتنی تم حسین ہو اتنی ہی حسین موت کی حقدار ہو— وہ بھی تمہارے عاشق کے سامنے- — مراد کے سامنے پہلے میں تمہاری خوبصورتی سے کھیلوں گا- پھر میرا خنجر تمہارے بدن سے کھیلے گا- اوہ گھبرا گئیں– – ارے گھبراﺅ مت— ایک دن تو تم نے مرنا ہی ہے- میرے ہاتھوں مرو گی تو تمہاری روح تک خوش ہوجائے گی— میں تمہیں دکھاﺅں گا کہ موت کیسے تمہارے نزدیک آتی ہے- اور یقین کرو ایسی خوبصورت موت ہر کسی کو نصیب نہیں ہوتی- نہ ہی میں ہر کسی کو اس قابل سمجھتا ہوں- — لیکن اس پیاری سی موت کے لئے تم کو تھوڑا انتظار کرنا ہوگا- کیونکہ تمہارے عاشق کو بھی تو یہاں آنا ہے— تم بس اپنے چہرے پر خوف کے سائے پھیلا رکھو- مجھے چہروں پر پھیلا ہوا خوف بہت اچھا لگتا ہے– – باقی کا کام تم مجھ پر چھوڑ دو— تم بس انتظار کرو اس موت کا جو دھیرے دھیرے تمہاری طرف بڑھ رہی ہے-“

ہاتھوں میں اتنی لرزش تھی کہ کاغذ اس ہاتھ سے چھوٹ گیا- اسے یقین ہی نہیں ہو رہا تھا کہ اس کے ساتھ حقیقت میں یہ سب ہو رہا ہے- وہ دیوار کے سہارے گھٹنوں پر سر رکھ کر بیٹھ گئی-

”مراد- کیا ہمارے خواب— ہماری امیدیں سب یوں بکھر جائیں گی—- کیا قدرت نے ہماری محبت کا یہی انجام لکھا ہے- مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے مراد- ایسی بھیانک موت خدا کسی کو نہ دے- اور نہ ہی کسی کی محبت کو اس طرح جدا کرے-“ سحرش بری طرح بلک رہی تھی-

بیالیس انچ ایل ای ڈی اسکرین پر درندہ سب کچھ دیکھ رہا تھا اور محظوظ ہو رہا تھا-

”بہت خوب سحرش— بہت ہی خوب- مجھے تم سے ایسے ہی خوف کی امید تھی- تمہارے خوف کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے- اب صرف مراد کو تمہارے پاس پہنچانے کا انتظار ہے- مگر تم فکر مت کرو- تمہیں زیادہ انتظار نہیں کرنا پڑے گا- تم آگئی ہو تو تمہارے پیچھے پیچھے وہ بھی آہی جائے گا– ابھی تم میں اسے تڑپا رہا ہوں- ہا ہا ہا ہا-

٭٭٭٭٭٭٭

راجو کے گھر میں سب ہی رفیق کا انتظار کر رہے تھے-

”کہاں رہ گئے رفیق سر- زیادہ وقت نہیں ہے ہمارے پاس-“ راجو نے کہا

”رفیق آتا ہی ہوگا- صبر کرو-“ شہلا بولی-

دروازے پر دستک ہوتے ہی راجو نے اٹھ کر دروازہ کھولا-

”سر آپ کہاں رہ گئے تھے- ہمیں تو فکر لاحق ہونے لگی تھی-“

”ہاں راجو ‘ بس تھوڑا وقت لگ گیا-“

ایک بار پھر سب سر جوڑ کر بیٹھ گئے اور اگلے دس پندرہ منٹوں تک اپنے پلان پر بحث کرتے رہے- اس کے بعد سب راجو کے گھر سے نکل کر اپنے مشن پر روانہ ہو گئے-

رفیق اور شہلا‘ مونا کے ساتھ اس کے چینل کی گاڑی میں تھے‘ جبکہ وردا‘ راجو اور مراددووسری کار میں ان کے پیچھے تھے-

ِ”اب تو تم بھیس بدلنے میں بھی ماہر ہوگئے ہو-“ شہلا نے رفیق سے کہا-

”مگر کیا فائدہ ایسی مہارت کا- آپ نے تو پھر بھی مجھے پہچان لیا تھا-“

”میری بات اور ہے- میں نے تمہاری آنکھوں سے پہچانا تھا-“

وہ چاندنی رات مجھے ہمیشہ یاد رہے گی- پہلی بار اتنے قریب آئے تھے ہم-جب جب ایسی رات آئے گی تو کیا آپ کو بھی میری یاد آئے گی-“ رفیق نے شہلا کی طرف دیکھتے ہوئے کہا-

”اپنا خیال رکھنا رفیق- اور فی الحال اپنا پورا دھیان اس مشن پر رکھو-“

”میرا اک کام کردو نا- یہ دل میرے نام کر دو نا-“ رفیق گنگناتے ہوئے بولا-

”ارے واہ- تم تو گاتے بھی ہو- واہ کیا بات ہے- بہت اچھا گانا ہے- چپ کیوں ہوگئے‘ گاتے رہو‘ موت کے منہ میں جانے سے پہلے ذہن بٹ جائے گا- اور بچ گئے تو پولیس کی نوکری جانے کے بعد گلوکاری کو تم اپنا پروفیشن بنا سکتے ہو-“ مونا مسکراتے ہوئے بولی-

”پورا گانا نہیں گا سکوں گا-“

”کیوں؟-“ مونا نے پوچھا-

”کوئی اتنا ہی نہیں سن پا رہا ہے تو پورا گانا کیسے برداشت کرے گا-“ رفیق نے شہلا کی طرف دیکھتے ہوئے کہا-شہلا کی آنکھیں نم تھیں-

مونا اس کی بات سمجھ نہیں پائی- وہ رفیق اور شہلا کی ان کہی محبت کے بارے میں کچھ نہیں جانتی تھی-

”ہم پہنچنے والے ہیں رفیق- مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے-“ مونا نے کہا-

”ہمت رکھو— یہ کام ہمیں ہر حال میں کرنا ہے-“ رفیق نے یہ کہہ کر مراد کو فون ملایا- ”مراد میں مونا کے ساتھ اندر جا رہا ہوں- تم پیچھے رکنا- چاروں طرف دھیان رکھنا-“

شہلا نے رفیق کا ہاتھ تھام کر کہا- ”ٹیک کیئر-“

”آپ کو ہر وقت ہوشیار رہنا ہوگا- ہمیں ابھی یہ پتہ نہیں ہے کہ ہم کس آگ سے کھیل رہے ہیں- ہمارے پاس وقت کم تھا اس لئے اس پلان پر عمل کر رہے ہیں- ویسے آپ کے لئے خطرہ کچھ کم ہے- کیونکہ یہاں ڈیوٹی پر موجود پولیس والے آپ کو اچھی طرح جانتے ہیں-“

”امید ہے سب ٹھیک ہوجائے گا- تمہارا پلان اچھا ہے- خود سے لاپرواہ مت ہونا-“ شہلا نے کہا-

شہلا کو گاڑی میں چھوڑ کر رفیق اور مونا ایس پی کے بنگلے کی طرف بڑھنے لگے- مونا کے ہاتھ میں مائیک تھا اور رفیق کے ہاتھ میں کیمرہ-

”گیٹ کھولو- ہمیں ایس پی صاحب کا انٹرویو کرنا ہے-“ مونا نے گیٹ پر کھڑے سیکورٹی گارڈ سے کہا-

”ایس پی صاحب کسی کو انٹرویو نہیں دیتے- یہ بات آپ کو معلوم ہونا چاہئے-کیونکہ آپ پہلے بھی آچکی ہیں-“ گارڈ بولا-

’ایک لڑکی دلہن بننے سے پہلے ہی سرعام شادی کی تقریب میں قتل کر دی گئی اور پولیس سو رہی ہے- ہمیں ایس پی صاحب کا جواب چاہئے ورنہ ہم خبر چلا دیں کہ ایس پی صاحب کتنے نالائق اور نااہل آفیسر ہیں— انہیں بتانا ہوگا کہ اب تک درندے کو گرفتار کیوں نہیں کیا گیا-“

درندہ ایس پی اپنے بیڈ روم میں ایل ای ڈی پر سحرش کو دیکھ دیکھ کر محظوظ ہو رہا تھا- درروازے پر دستک سن کر چونک گیا ‘ اس نے ٹی وی بند کیا اور اپنے ہاتھ میں تھاما ہوا خنجر ایک دراز رکھ کر دروازہ کھولا اور چلا کر بولا- ”کیا بات ہے- کتنی بار کہا ہے مجھے ڈسٹرب مت کیا کرو-“

”سر باہر میڈیا والے آئے ہیں-“ سپاہی نے کہا-

”جانتا ہوں- سی سی ٹی کیمرے میں نے شوقیہ نہیں لگا رکھے ہیں- انہیں یہاں سے دفعہ کرو-“ ایس پی گرج کر بولا-

”سر وہ رپورٹر بول رہی ہے کہ اگر آپ نہیں ملیں گے توہ وہ ٹی وی پر نیوز چلا دے گی کہ آپ کتنے نالائق اور نااہل آفیسر ہیں- وہ درندے کے کیس کے بارے میں معلومات چاہتی ہے-“

”ٹھیک ہے انہیں ڈرائنگ روم میں بٹھاﺅ- لیکن ان سے کہہ دینا کہ اپنا کیمرہ بند رکھیں اورمیری ویڈیو لینے کی کوشش نہ کریں-“ ایس پی نے کہا-

”اوکے سر-“

رفیق اور مونا ڈرائنگ روم میں آکر بیٹھ گئے- مونا بہت گھبرائی ہو لگ رہی تھی- اور اپنے اس ڈر کو وہ مسکراہٹ کے پردے میں چھپانے کی کوشش کر رہی تھی-

”اس نے کیمرہ بند رکھنے کے لئے کیوں کہا ہے؟-“ مونا نے رفیق کی طرف دیکھ کر دھیرے سے کہا-

”اسے ڈر ہے کہ کہیں وردا اسے ٹی وی پر دیکھ کر پہچان نہ لے-“ رفیق نے وجہ بتائی-

”اب سمجھ میں آیا وہ انٹرویو دینے سے کیوں کتراتا ہے— اس کا مطلب ہے کہ وہ ایکسپوز ہونے سے بہت ڈرتا ہے-“

”ہر مجرم ڈرتا ہے- یہ ایک فطری ردعمل ہے-“ رفیق نے کہا-

”کہیں اسے ہم پر شک تو نہیں ہوجائے گا-“ مونا اپنے خوف کا اظہار کرتے ہوئے بولی-

”تم الٹی سیدھی سوچیں اپنے ذہن سے نکال کر صرف انٹرویو پر دھیان دو-“

کچھ دیر بعد ایس پی صاحب بڑے رعب سے کمرے میں داخل ہوئے-

اس کو آتا دیکھ کر مونا اور رفیق ایسے کھڑے ہوگئے جیسے اس کا احترام کر رہے ہوں-

”گڈ ایوننگ سر- میں اپنے نیوزچینل کے لئے آپ کا انٹرویو کرنا چاہتی ہوں-“ مونا بولی-

”اور میرا انٹرویو کرنے کے لئے آپ کو یہ رات کا ہی وقت ملا تھا-“ ایس پی نے ہنستے ہوئے کہا-

”سر ساری حدیں ختم ہو تی جا رہی ہیں- شادی کی تقریب میں درندے نے دلہن کو اپنی درندگی کا نشانہ بنایا- ا س کا نام ریما تھا- آپ یہ بتائیں کہ آپ کی پولیس فورس اس درندے کو ڈھونڈنے میں اب تک ناکام کیوں رہی ہے- پورا شہر خوف کے سائے تلے سانس لے رہا ہے- آخر یہ کب تک چلتا رہے گا؟-“

”ہم سے غلطی ہوگئی تھی کہ ہم نے درندے کا کیس ایک قابل پولیس افسر سمجھ کر انسپیکٹر رفیق کو دے دیا تھا- اس نے درندے کے کیس میں کوئی کارکردگی نہیں دکھائی- ہم اپنی غلطی کو سدھارنے کی کوشش کر رہے ہیں- اور اب ایک ہونہار انسپیکٹر یہ کیس ڈیل کر رہا ہے- اس نئے انسپیکٹر کا نام سکندر ہے- مجھے امید ہے کہ وہ جلد از جلد ہمیں کسی نہ کسی کامیابی کی نوید سنائے گا-“

”وہ تو اندھیرے میں اکیلے گھومتے رہتے ہیں سر- خود کا رات کا راہی کہتے ہیں- وہ کسی کامیابی کی نوید کیا سنائیں گے-“ رفیق نے بیچ میں دخل دیتے ہوئے کہا-

”آپ کون ہیں؟-“ ایس پی نے رفیق سے پوچھا-

”سر یہ میرا کیمرہ مین ہے-“ مونا بولی-

”اوکے- اس سے کہو بیچ میں نہ بولے- سکندر بہت ذہین انسپیکٹر ہے- وہ ضرور کامیاب ہوگا- اور ہمارے ڈپارٹمنٹ کی بھی پوری توجہ اسی کیس پر ہی ہے-“

”سر آپ کے پیچھے جو پینٹنگ ٹنگی ہوئی ہے کیا میں اسے قریب سے دیکھ سکتا ہوں- بہت اچھی پینٹنگ لگ رہی ہے-“ رفیق بولا-

”نہیں دیکھ سکتے— اور کچھ— جس کام کے لئے آئے ہو اس پر دھیان دو-“ ایس پی نے سخت لہجے میں کہا-

”سوری سر- میں بس ویسے ہی-“ رفیق چپ ہوگیا-

”سر ایک بہت ہی خفیہ بات ہے- کیا آپ کے پاس آکر بتاﺅں- کیونکہ دیواروں کے بھی کان ہوتے ہیں-“ مونا بولی-

”ہاں آﺅ اور بلا جھجھک بتاﺅ- کیا بات ہے-“

مونا ایس پی کے قریب آکر بیٹھ گئی-

”سر مجھے لگتا ہے کہ انسپیکٹر رفیق ہی درندہ ہے- آپ کو کیا لگتا ہے-“ مونا نے رازداری سے کہا-

”ویسے تو اس پر شک کرنے کی کوئی وجہ نہیں ہے مگر کچھ بھی ہوسکتا ہے-“

مونا اپنے پلان پر عمل کرنے کے لئے پوری طرح تیار تھی- اس کے رائٹنگ پیڈ کے نیچے ہاتھ میں انجیکشن تھا-

”سر وہ تصویر کس کی ہے-“ مونا نے دیوار پر ٹنگی تصویر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا-

ایس پی نے جیسے ہی گردن گھمائی‘ مونا حرکت میں آگئی اور انجیکشن ایس پی کی گردن میں لگانی ہی والی تھی کہ ایس پی نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا-

”پیچھے میری تیسری آنکھ بھی ہے-“ ایس پی غرا کر بولا- اس کے اندر کا درندہ پھر بیدار ہوچکا تھا-

رفیق فوراً حرکت میں آیا مگر ایس پی نے پستول نکال کر رفیق پر فائر کیا اور تین گولیاں رفیق کے سینے میں گڑ گئیں- سائینلسر ہونے کی وجہ سے صرف کارک کھلنے جیسی آواز ہی ابھری تھی-

”رفیق-“ بوکھلاہٹ میں مونا رفیق کا نام لے کر چلائی-

”ہوں- رفیق- اب آئی نا پوری بات سمجھ میں—- تمہارا تو میں وہ حال کروں گا کہ تمہاری روح بھی پچھتائے گی کہ اسے تمہارے جسم میں کیوں بھیجا گیا-“ ایس پی نے مونا سے کہا-

اچانک مونا نے اپنی لات گھمائی اور ایس پی پیٹ پر لات پڑنے سے پیچھے کی طرف گرا مگر اس نے فوراً پستول مونا کی طرف تان لیا-

”بس اب کوئی اور حرکت مت کرنا ورنہ تمہاری کھوپڑی میں چڑیا برابر جو بھیجہ ہے وہ نہیں رہے گا-“

ایس پی فرش سے اٹھا اور مونا کی طرف بڑھا- ”اب تمہاری پینٹنگ بھی بنے گی- مجھ پر ہاتھ اٹھانے والے کو میں زندہ نہیں چھوڑتا-

اچانک ایس پی کو اپنی گردن میں سوئی کی چبھن محسوس ہوئی- اس نے مڑ کر دیکھا تو اس کے پیچھے رفیق کھڑا تھا-

انجیکشن لگتے ہی ایس پی کے ہاتھ پاﺅں کانپنے لگے اور پستول اس کے ہاتھ س چھوٹ کر گر گیا-”یہ— تم نے —مجھے کیا لگا — دیا ہے-“ وہ بے ربط لہجے میں بولا-

”یہ کلر زیرو سیون انجیکشن ہے- یہ تمہارے اندرونی اعضاءکو تباہ کرکے رکھ دے گا- ابتداءتو ہوچکی ہے- تیس منٹ بعد تم تڑپ تڑپ کر جان دے دو گے-“ رفیق سنگدلی سے بولا-

”یو— باسٹر—- ڈ— میں— تمہیں چھوڑوں گا— نہیں-“

”اپنی فکر کر درندے-اگر دس منٹ کے اندر اندر تمہیں اس کا اینٹی ڈوٹ انجیکشن نہیں لگا تو یہ تمہیں تڑپا تڑپا کر مار دے گا- اس کے بعد ہر پندرہ منٹ بعد تم کو ایک اینٹی ڈوٹ کی ضرورت پڑے گی- — اس کا مکمل اثر ختم کرنے کے لئے تم کو دس اینٹی ڈوٹ لینی ہوں گی- تب جا کر تمہاری جان بچ سکتی ہے- اور ہاں میں یہ بتانا تو بھول ہی گیا کہ یہ کلر زیرو سیون انجیکشن امپورٹڈ ہے- یہاں پاکستان میں نہ یہ انجیکشن ملے گا اور نہ ہی اس کا اینٹی ڈوٹ-یہ انجیکشن بھی میرے پاس ہے اور اینٹی ڈوٹ بھی-“ رفیق کی باتیں سن کر دوسروں کو دہشت میں مبتلا کرنے والا درندہ خود دہشت کا شکار ہو رہا تھا- اور جو خوف وہ اپنے شکار کے چہرے پر دیکھ کر لطف اندوز ہوتا تھا وہ خوف خود اس کے چہرے سے چھلک رہا تھا-

تھوڑی ہی دیر میں ایس پی کے منہ سے خون نکلنے لگا- اور خون دیکھ کر خوف کی پرچھائیں مزید دبیز ہوتی گئی-

”واہ کیا بات ہے—- کتنا خوبصورت خوف ہے آپ کے چہرے پر- جلدی سے بتاﺅ سحرش کہاں ہے ورنہ تمہیں کوئی اینٹی ڈوٹ نہیں ملے گی-“ رفیق نے اس کی حالت کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا-

”مجھے پہلی اینٹی ڈوٹ دو پھر بتاﺅں گا-“ درندہ پہلے اپنی زندگی کی فکر کر رہا تھا-

”ایسے نہیں ملے گی- جلدی بتاﺅ ورنہ تم ترستے ہی رہ جاﺅ گے اینٹی ڈوٹ کے لئے-“ رفیق نے دھمکی دیتے ہوئے کہا-

”ٹھیک ہے- بتاتا ہوں- آہ ہ ہ ہ -“ ایس پی کراہتے ہوئے بولا-

ایس پی نے اس جگہ کا پتہ بتا دیا جہاں اس نے سحرش کو قید کر رکھا تھا-

”ویری گڈ- اب دس منٹ میں جنگل پہنچو- پہلی اینٹی ڈوٹ تمہیں وہیں ملے گی- یہ پین اپنی جیب میں رکھنا- اس میں اسپائی کیمرہ لگا ہوا ہے- تم نے کوئی بھی ایسی ویسی حرکت کی تو میرا موڈ خراب ہوجائے گا- اور میں ساری اینٹی ڈوٹ ضائع کر دوں گا-“ رفیق اسے جتاتے ہوئے بولا-

”میں دس منٹ میں جنگل نہیں پہنچ سکتا-“ ایس پی گڑگڑایا-وہ جو دوسرے کے گڑگڑانے کا مزا لیا کرتا تھا‘ آج خود موت کے خوف سے گڑگڑانے پر مجبور تھا‘ شاید اس لئے کہ وہ مکافاتِ عمل کو بھول گیا تھا-

”وہ میرا مسئلہ نہیں ہے- چلو مونا-“

”مجھے پہلی اینٹی ڈوٹ تو دے دو- آہ ہ ہ ہ -“ ایس پی درد سے کراہ رہا تھا-

”میں نے کہا نا جنگل میں پہنچنے سے پہلے نہیں ملے گی- تمہارا کھیل ختم ہوا درندے- اب ہماری باری ہے-“

رفیق نے جیسے ہی ایس پی جیب میں پین لگایا‘ باہر گاڑی میں بیٹھی ہوئی شہلا لیپ ٹاپ پر براہ راست اندر کا نظارہ دیکھنے لگی-

”گریٹ- پلان کامیاب رہا- اب دیکھنا یہ ہے کہ ایس پی صاحب چپ چاپ جنگل پہنچتے ہیں یا نہیں- مجھے امید ہے کہ سحرش کا پتہ تو تم نے لگا ہی لیا ہوگا-“ شہلا نے مسکراتے ہوئے سوچا-

رفیق اور مونا ایس پی کے ڈرائنگ روم سے نکل کر گیٹ کی طرف بڑھ ہے تھے-

”شکر ہے میں نے بلٹ پروف جیکٹ پہن رکھی تھی- نہیں تو آج میں گیا تھا کام سے-“ رفیق نے ہلکی آواز میں کہا-

”تمہیں کیا لگتا ہے- کیا وہ جنگل میں آئے گا-“ مونانے پوچھا-

”اسے آنا ہی پڑے گا-ہم نے اپنا کام کر دیا ہے- اب انتظار کرو اور دیکھو کہ آگے کیا ہوتا ہے- اور اگر وہ جنگل میں نہیں آیا تب بھی اس کی موت تو یقینی ہے ہی-اسے کوئی نہیں بچا سکتا- کلر زیرو سیون سے آج تک کوئی نہیں بچا- یہ انجیکشن زیادہ تر بین الاقوامی جاسوس استعمال کرتے ہیں- بہت خفیہ ہتھیار ہے اور اتنا ہی خطرناک بھی-“ رفیق نے بتایا-

”تم اس کے بارے اتنا کچھ کیسے جانتے ہو- اور یہ انجیکشن تم کو ملا کہاں سے-“

”میرا ایک خاص دوست فرنچ خفیہ ایجنسی میں کام کرتا ہے-پچھلے سال وہ کسی کام سے پاکستان آیا ہوا تھا- اسی نے مجھے یہ انجیکشن اور اس کی معلومات فراہم کی تھی- تب میں نے سوچا بھی نہیں تھا کہ کبھی اسے استعمال کرنے کی نوبت بھی آئے گی- مگر میں نے اسے سنبھال کر رکھ لیا تھا- اور دیکھ لو آج وہ کام آگیا-“ رفیق نے تفصیل بتاتے ہوئے کہا-

باتیں کرتے ہوئے رفیق اور مونا گیٹ سے باہر آگئے- وہ چینل کی گاڑی میں گھسے ہی تھے کہ شہلا بولی- ”تم کیمرہ تو ٹھیک سے لگایا تھا نا-“

”ہاں- کیوںکیا ہوا؟-“

”کوئی ویڈیو نہیں آرہی- مشکل سے ایک ڈیڑھ منٹ ویڈیو آئی پھر بندہوگئی-“

”کیا- ایسا کیسے ہوسکتا ہے؟-“ رفیق نے حیران ہوکر کہا-

”ضرور ایس پی صاحب نے کیمرے میں کوئی ہیراپھیری کی ہے-“ مونا بولی-

”مجھے بھی ایسا ہی لگتا ہے-“ شہلا نے اس کی تائید کی-

”اب کیا ہوگا رفیق- اب ہمیں یہ پتہ نہیں چل پائے گا کہ وہ کیا کر رہا ہے-“ مونا بولی-

”تم لوگ فکر مت کرو- اس کی زندگی ہماری مٹھی میں ہے- ہم-“ رفیق بولتے بولتے رک گیا کیونکہ شہلا نے اس کی بات کاٹ دی تھی-”اوہ مائی گاڈ- یہ تو سحرش ہے-“

رفیق نے فوراً لیپ ٹاپ کی اسکرین پر دیکھا- ”ہوسکتا ہے- میں سحرش سے کبھی ملا نہیں- وہی ہوگی-“

”اس نے سحرش کی یہ کیا حالت بنا دی ہے— اسے جانوروں کی طرح برہنہ کر رکھا ہے- میں نہیں دیکھ سکتی-“ مونا نے منہ پھیر لیا-

”آخر یہ چاہتا کیا ہے- کیا اسے اپنی جان پیاری نہیں ہے-“ شہلا نے کہا-

”وہ درندہ ہے- وہ کب کیا کرے گا‘ یہ ہم کبھی نہیں جان سکتے- لیکن جو بھی وہ کلر زیرو سیون سے تو نہیں بچے گا-“

”مگر سحرش کا کیا ہوگا؟-“ شہلا نے سوال کیا-

”ہم اسے کچھ نہیں-“ اور اس بار موبائل کی بیل نے رفیق کی بات کاٹ دی-”ہیلو-“

”آہ ہ ہ ہ- مسٹر مغلِ اعظم- کمال کر دیا تم نے- بہت سنا تھا کلر زیرو سیون کے بارے میں- وہ تم نے مجھ پر استعمال کر لیا- تم نے بہت اعلیٰ گیم کھیلی ہے میرے ساتھ- آہ ہ ہ ہ-“

”ہماری گیم اچھی لگی نا- ابھی تو شروعات ہے- آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا-“ رفیق نے کہا-

”آگے جو بھی ہوگا – میری مرضی سے ہوگا- یہ گیم اب میرے طریقے سے آگے بڑھے گی-تم سحرش کی ویڈیو دیکھ رہے ہوگے- بیچاری میرے فن کا حصہ بننے کے لئے بہت بے چین ہو رہی ہے- دس منٹ بعد میں اسے اپنا آرٹ کا نمونہ بنانے کے لئے اس کے پاس پہنچ رہا ہوں-اگر اسے زندہ دیکھنا چاہتے ہوتو ساری اینٹی ڈوٹ مجھے دے دو- میں وعدہ کرتا ہوں کہ اسے کچھ نہیں ہوں گا- ایڈریس تو تم میں نے بتا ہی دیا تھا- اینٹی ڈوٹ لے کر وہیں پہنچ جاﺅ- نہیں آئے تو نتیجہ بہت برا ہوگا- میں تو مروں گا ہی مگر تمہارے اور تمہارے دوست مراد کے لئے اپنے فن کا ایسا نمونہ چھوڑ جاﺅں جسے تم دونوں زندگی بھر بھلا نہیں سکو گے-“ درندے نے یہ کہہ کر فون کاٹ دیا-

”کیا ہوا رفیق- کیا یہ ایس پی کا فون تھا-“ شہلا نے پوچھا-

”ہاں- وہ یہ گیم اپنے طریقے سے کھیلنا چاہتا ہے- وہ ساری اینٹی ڈوٹ ایک ساتھ حاصل کرنا چاہتا ہے- اوراس کے بدلے میں سحرش کو چھوڑنے کے لئے تیار ہے- مجھے اینٹی ڈوٹ کے ساتھ اسی جگہ پر بلایا ہے جہاں اس نے سحرش کو قید کرکے رکھا ہوا ہے-“

”کہاں ہے سحرش؟-“ شہلا نے پوچھا-

”سجاول کی طرف جو راستہ جاتا ہے اسی پر ایک فارم ہاﺅس میں سحرش کو قید کیا ہوا ہے- صحیح لوکیشن کا مجھے نہیں پتہ-“ رفیق بولا-

”اب تمہارا کیا ارادہ ہے-“

”اس وقت ہمارے لئے سب سے اہم سحرش کی زندگی ہے- ایس پی درندہ ہے کچھ بھی کر سکتا ہے- فی الحال تو وہ بھی یہیں ہے اور ہم بھی یہیں ہیں- ہمیں اس سے پہلے فارم ہاﺅس پہنچنا ہوگا- چلو جلدی- مونا تم ہٹو میں ڈرائیو کرتا ہوں-“ رفیق نے مونا کی جگہ ڈرائیونگ سنبھال کر گاڑی آگے بڑھا دی اور مراد کو فون پر ساری بات تفصیل کے ساتھ بتادی اور یہ بھی اسے اب کہاں آنا ہے-

”رفیق ہم سب کا ایک ساتھ وہاں جانا مناسب نہیں ہے- پتہ نہیں اس نے کیا گیم پلان کی ہوئی ہے- وہاں ہم دونوں ہی چلتے ہیں-“ مراد نے کہا-

راجو ‘ان کی باتیں سن رہا تھا فوراً بول پڑا- ”ایسے کیوں بول رہے ہو استاد- مجھے ایک دم سے پرایا کر دیا تم نے- میں بھی ساتھ چلوں گا-“

”راجو سچوئیشن ہمارے کنٹرول میں نہیں ہے- اور ہم جانتے ہیں کہ وہ گیم کھیلنے کا ماہر ہے- کب کیا گیم کھیل جائے یہ ہم آخر وقت تک نہیں جان سکتے- اور وردا کے ساتھ بھی تو کسی کا ہونا ضروری ہے-“ مراد نے سمجھاتے ہوئے کہا-

”وردا کو اس کے گھر ڈراپ کر دیتے ہیں- وہاں سیکورٹی تو ہے-“ راجو بولا-

”نہیں- میں بھی تمہارے ساتھ ہی رہوں گی- گھر میں مجھے زیادہ ڈر لگے گا- اور سارا دھیان تم پر ہی اٹکا رہے گا- اور تم لوگوں نے یہ ٹیم کیا مذاق کرنے کے لئے بنائی ہے- میں گھر نہیں جاﺅں گی- سن لیا تم دونوں نے- اور جو زخم درندے نے مجھے دیئے ہیں وہ تب ہی بھریں گے جب میں اسے اپنی آنکھوں کے سامنے مرتے ہوئے دیکھوں گی-“ وردا مضبوط لہجے میں بول رہی تھی-

”ایک بار پھر سوچ وردا- وہاں بہت خطرہ ہے- وہ ضرور کوئی خطرناک کھیل کھیلنے کے چکر میں ہے-‘ ‘ مراد نے اسے سمجھاتے ہوئے کہا-

”کچھ بھی ہو- میں راجو کے ساتھ رہنا چاہتی ہوں- میں نے خواب دیکھا تھا-“

”اس خواب کو چھوڑو وردا- وہ میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتا-“ راجو بولا-

”سچ میں یار – تم دونوں تو پاگل ہوگئے ہو ایک دوسرے کی محبت میں-“ مراد ان کی باتوں سے متاثر ہوکر بولا-

”استاد کیا تم سحرش کے لئے پاگل نہیں ہو رہے ہو‘ جو ہمیں کہہ رہے ہو-“

”ہاں وہ تو میں ہوں- یار اسے کچھ ہوگیا تو میرا کیا ہوگا- کیسے جی پاﺅں گا میں-“ مراد اپنی سحرش کے لئے بہت دکھی ہو رہا تھا-

”تم فکر مت کرو- ہم اسے کچھ نہیں ہونے دیں گے-“ راجو نے اس کا کندھا تھپتھپاتے ہوئے کہا-

ادھر رفیق فون پر ساری باتیں سن رہا تھا- ”یار کوئی مجھ سے بھی بات کرلے-“

”اوہ سوری- میں بھول گیا تھا کہ تم فون پر ہو- میں راجو اور وردا کے ساتھ باتوں میں لگ گیا تھا-“ مراد نے معذرت کرتے ہوئے کہا-

”ہاں میں تم لوگوں کی باتیں سن رہا تھا- میں بھی یہی چاہتا ہوں کہ ہم سب ایک ساتھ وہاں نہ جائیں- ہم دونوں چلتے ہیں- باقی لوگ محفوظ جگہ پر رک جائیں-“ رفیق بولا-

”واہ بھئی واہ- میں کہیں نہیں رک رہی ہوں- بھول گئے‘ تم نے کہا تھا کہ آپ خود گولی ماریں گی درندے کو- آج وہ موقع آیا ہے تو مجھے ساتھ نہیں رکھنا چاہتے-“ شہلا طیش میں بولی-

”میڈم آپ سو فیصد فٹ نہیں ہیں- اور آپ ساتھ ہوں گی تو ہمار ادھیان آپ پر ہی رہے گا-“ رفیق نے کہا-

”میڈم پر دھیان کیوں رکھو گے؟-“ مونا کی سمجھ میں یہ بات نہیں آئی-

”ارے میری باس ہیں- ان پر دھیان نہیں رکھوں گا تو سسپینڈ کر دیں گی- سمجھا کرو-“ رفیق بات کو گھماتاہوا بولا-

”لیکن میرے خیال سے میڈم ٹھیک کہہ رہی ہیں- ہم سب وہاں چلیں گے- میرے لئے یہ اسٹوری بہت اہم ہے- میڈیا میں میرے نام کی دھوم مچ جائے گی- ایسی کوریج آج تک کسی رپورٹر نے نہیں کی ہوگی-“

”رفیق اب کیا کریں- کوئی بھی رکنے کو تیار نہیں ہے- وہاں بہت خطرہ ہے- لیکن کوئی اس خطرے کو سمجھنے کے لئے تیار ہی نہیں ہے-“ مراد نے کہا-

”ہمارے پاس کسی کو کہیں ڈراپ کرنے کا وقت بھی نہیں ہے- ہمیں فوراً سے پیشتر اس فارم ہاﺅس پر پہنچنا ہے- اگر فل اسپیڈ سے چلیں گے تب بھی ہمیں آدھا گھنٹہ تو لگ ہی جائے گا- چلو جیسی دوستوں کی مرضی- سب ہی چلتے ہیں- جو ہوگا دیکھی جائے گی-“ رفیق بولا-

تو پھر ایسا کرتے ہیں کہ ایک ہی گاڑی میں آجاتے ہیں سب- الگ الگ رہنے سے مشکل پیش آسکتی ہے- تم چینل کی گاڑی روکو ہم اسی میں آجاتے ہیں- اس میں جگہ کافی ہے-“ مراد نے کہا-

”ٹھیک ہے- میں گاڑی روک رہا ہوں-“ یہ کہتے ہوئے رفیق نے وین روک دی-

مراد نے کار سڑک کنارے پارک کر دی اور تینوں بھاگتے ہوئے مونا کی وین میں آگئے-

وین میں بیٹھتے ہی مراد کی نظر لیپ ٹاپ کی اسکرین پر پڑی- سحرش ڈری سہمی ایک کونے میں بیٹھی ہوئی تھی- سحرش کو اس حال میں دیکھ کر مراد چلا اٹھا- ”سحرش— اوہ میرے خدا- اس نے میری سحرش کا یہ کیا حال بنا یا دیا ہے-رفیق تم نے بتایا نہیں کہ لیپ ٹاپ پر سحرش کی لائیو کوریج آرہی ہے-“ بولتے بولتے مراد کی آنکھیں بھیگ گئیں-

”کیسے بتاتا یار- یہ سب ہم سے ہی نہیں دیکھا گیا تو تم کو کیسے بتاتے-“

”تو کلر زیرو سیون کسی کام نہیں آیا- ہم اس کے ساتھ گیم کھیلنے چلے تھے- مگر اب خود ا س کی گیم میں پھنستے نظر آرہے ہیں-“ مراد سحرش کو ایک اس حال میں دیکھ کر رونے جیسا ہوگیا تھا-

”ایسا نہیں ہے- وہ سحرش کی وجہ سے مذاکرات کر رہا ہے-“ رفیق نے بتایا-

”ہاں- مگر ہمارے کنٹرول میں تو کچھ نہیں ہے نا- یہ گیم شروع ہم نے کی تھی- مگر اب کنٹرول وہ کر رہا ہے-“ مراد بولا-

”ہاں وہ بھی اس لئے کہ ہمیں سحرش کی فکر ہے- اگر سحرش اس کے قبضے میں نہ ہوتی تو ہم آج اسے گیم کھیلنا سکھا دیتے-“ رفیق نے اپنی مجبوری بتاتے ہوئے کہا-

”اس کی جان خطرے میں ہے- پھر بھی گیم کھیلنا چاہتا ہے- بہت ہی کمینہ ہے وہ- پتہ نہیں کس مٹی کا بنا ہوا ہے-“ راجو نفرت سے بولا-

”درندہ ہے نا- اپنی عادت سے مجبور ہے-“ رفیق نے کہا-

”ارے اسکرین سے ویڈیو غائب ہوگئی-“ مراد چونک کر بولا-

”وہ درندہ ہر لمحے اپنی چال بدلتا رہتا ہے- اسی لئے تو ہاتھ نہیں آتا- سالا ایک منٹ بھی چین سے نہیں بیٹھتا-“

”اس نے ویڈیو کیوں بند کر دی؟-“ شہلا نے پوچھا-

”یہ تو وہی بتا سکتا ہے – اب وہیں جاکر پتہ چلے گا کہ کیا ماجرا ہے-“ رفیق نے ایک موڑ کاٹتے ہوئے کہا-

”وہ جگہ بہت سنسان ہے رفیق- اور ارد گرد چھوٹی بڑی پہاڑیاں بھی ہیں- ہمیں ہر پل ہوشیار رہنا ہوگا-“ مراد نے علاقے کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا-

پندرہ منٹ بعد وہ اس فارم ہاﺅس کے نزدیک پہنچ گئے- اچانک رفیق نے وین دائیں طرف موڑ کر کچے میں جھاڑیوں کے بیچ گھسا دی-

”کیا کر رہے ہو؟-“ شہلا نے اسے ٹوکا-

”یہاں سے دس منٹ کا راستہ ہے- وہاں تک پیدل جاﺅں گا- وین لے کر فارم ہاﺅس کے زیادہ نزدیک جانا ٹھیک نہیں ہوگا- تم سب لوگ اپنے اپنے موبائل چیک کرو- سگنل ہیں کہ نہیں-مراد تم جھاڑیوں کے بیچ میں سے ہوتے ہوئے وہاں پہنچنا اور چوکس رہنا-“ رفیق نے ٹیم کو کمانڈ کرنا شروع کر دیا-

”کیا تم وہاں اکیلے جاﺅ گے-“ شہلا نے پوچھا-

”ہاں اس نے اینٹی ڈوٹ کے ساتھ مجھے ہی بلایا ہے- میں سامنے کے راستے سے جاﺅں گا اور مراد پیچھے نظر رکھے گا- اپنے اپنے پستول نکال کر ہاتھ میں لے لو- ہمارا سامنا کس چیز سے ہونے والا ہے‘ ہمیں خود نہیں پتہ- اوکے-“ رفیق نے بیگ سے اینٹی ڈوٹ نکال کر جیب میں رکھی اور وین کا دروازہ کھولنے لگا

”رفیق-“ شہلا نے آواز دی-

”جی میڈم-“

”اپنا خیال رکھنا-“

”آف کورس-“ وہ جھاڑیوں سے باہر آگیا اور فارم ہاﺅس کی طرف بڑھنے لگا-

چاندنی رات تھی- اس لئے چاروں طرف روشنی پھیلی ہوئی تھی- مگر ہر طرف ہو کا عالم تھا- نہ آدم نہ آدم زاد- دور کہیں سے کتوں کے بھونکنے کی آوازیں آرہی تھیں- سناٹا بھی ایسا کہ کمزور دل انسان تو برداشت ہی نہ کرپائے- سڑک دور تک سنسان نظر آرہی تھی-

مراد دبے پاﺅں جھاڑیوں کے راستے فارم ہاﺅس کے پیچھے کی طرف بڑھ رہا تھا- وہ ہاتھ میں پستول لئے ایک دم چوکنا نظر آرہا تھا- لیکن آنکھوں میں سحرش کا چہرہ گھوم رہا تھا- اور دل میں ایک صدا تھی کہ ”میں تمہیں کچھ نہیں ہو نے دوںگا- کچھ نہیں ہونے دوں گا-“

رفیق تیز قدموں سے چلتا ہوا دس منٹ میں اس فارم ہاﺅس کے گیٹ پر پہنچ گیا- فارم ہاﺅس کافی بڑا تھا اور چاروں طرف دیواریں تھیں جن کی اونچائی زیادہ نہیں تھی-

”کیا یہی وہ فارم ہاﺅس ہے جہاں اس نے سحرش کو قید کرکے رکھا ہوا ہے- یہاں تو بس ایک چھوٹا سا کمرہ دکھائی دے رہا ہے- کہیں ہم غلط جگہ تو نہیں آگئے-“ رفیق دل ہی دل میں سوچ رہا تھا-

جب مراد جھاڑیوں سے ہوتا ہوا فارم ہاﺅس کے پیچھے پہنچا تو اس نے بھی وہی سوچا جو رفیق سوچ رہا تھا- ”یہ فارم ہاﺅس تو نہیں لگتا- یہاں تو صرف ایک چھوٹا سا کمرہ ہے-“

مراد دیوار پھلانگ کر اندر آگیا اور جھاڑیوں میں چھپتے چھپاتے اس چھوٹے کمرے کی طرف بڑھنے لگا-

رفیق بھی پوری ہوشیاری سے چاروں طرف دیکھتا ہوا اس کمرے کی طرف بڑھ رہا تھا- یہاں تک کہ دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھ لیا- مراد کمرے کے بائیں طرف اور رفیق دائیں طرف تھا-دونوں دیوار سے لگتے ہوئے ایک دوسرے کے قریب آگئے-

ِ”تمہیں کیا لگتا ہے- کیا ہم صحیح جگہ پر ہیں؟-“ مراد نے آہستہ آواز میں پوچھا-

”جگہ تو یہی ہونی چاہئے- ویسے وہ درندہ الٹی بازی چل رہا ہے- ابھی ہم اسے ڈھونڈ رہے ہیں- جبکہ اصولاً اسے ہمیں ڈھونڈنا چاہئے تھا اینٹی ڈوٹ کے لئے-“ درندے کی چالوں پر رفیق بھنایا ہوا تھا-

”اسے کہیں سے اینٹی ڈوٹ مل گئی ہوگی- تب ہی تو وہ اتنی آسانی سے یہ چالیں چل رہا ہے-“ مراد نے اپنا خیال پیش کیا-

”نہیں ایسا نہیں ہوسکتا- مانتا ہوں کے پورے ملک میںیہ کسی نہ کسی کے پاس مل سکتی ہے- مگر اسے ڈھونڈنے میں وقت لگے گا-“ رفیق نے اس کے خیال کی نفی کرتے ہوئے کہا-

”ہاں مگر یہ ممکنات میں سے تو ہے نا-“ مراد بولا-

”ہاں ممکن تو ہے– اس میں تو کوئی شک کی بات نہیں ہے-“ رفیق اب مراد سے متفق ہو رہا تھا-

اس کمرے پر تالا لگا ہوا ہے- اسے کھول کر دیکھتے ہیں- اگر یہی وہ فارم ہاﺅس ہے تو سحرش کو یہیں کہیں ہونا چاہئے- کیا خیال ہے-“ مراد نے رفیق کی طرف دیکھتے ہوئے کہا-

”ٹھیک ہے تم تالا توڑو- میں تمہیں کور کرتا ہوں-“

”بھائی میں اسے توڑنے کی نہیں کھولنے کی بات کر رہا ہوں- “ مراد نے ہلکی آواز میں کہا- اور پھر مراد کو تالا کھولنے میں زیادہ وقت نہیں لگا-

دروازہ کھلے ہی رفیق اور مراد پستولیں تان کر کمرے کے اندر گھس گئے-

”یہاں تو کوئی بھی نہیں ہے-“ مراد کمرے میں نظریں دوڑاتا ہوا بولا-

”ایک منٹ- غور کرو- یہ وہی کمرہ ہے جس میں اس نے سحرش کو رکھا ہوا تھا-“ رفیق نے کمرے کو پہچانتے ہوئے کہا-

”اوہ ہاں- اور وہ دیکھو دیوار پر کیمرہ بھی لگا ہوا ہے-“

”آخر یہ حرامی چاہتا کیا ہے- کیا اب اسے اینٹی ڈوٹ کی ضرورت نہیں ہے-“ رفیق نے جھلا کر کہا-

”میری بات مان- اسے کہیں سے اینٹی ڈوٹ مل چکی ہے- ورنہ وہ ہم سے پہلے یہاں موجود ہوتا‘ اینٹی ڈوٹ کے لئے-“ مراد نے اپنا خیال ظاہر کیا-

” وہ ہم سے پہلے ہی یہاں آچکا ہے- او رکچھ نہ کچھ کرکے گیا ہے- کیا کرکے گیا ہے- یہی سوچنے کی بات ہے-“ بولتے بولتے رفیق کی نظر کمرے کے ایک کونے میں رکھے ڈسٹ بن پر گئی اور وہ چونک کر مراد سے بولا- ”اوہ میرے خدا—- مراد نکلو یہاں سے— اس نے شاید بم فٹ کیا ہوا ہے-“

ان دونوں نے بھاگ کر کمرے سے باہر قدم رکھے ہی تھے کہ ایک دھماکے کے ساتھ زمین لرز اٹھی- بہت زبردست دھماکہ تھا-

”یہ کیسی آواز تھی؟-“ وردا نے کہا-

”یہ تو بم بلاسٹ کی آواز ہے-“ شہلا نے فوراً جواب دیا-

”ہاں میڈم مجھے بھی ایسا ہی لگ رہا ہے- میں جا کر دیکھتا ہوں-“ راجو اٹھنے لگا تو وردانے اس روک لیا- ”نہیں- اکیلے وہاں جانا مناسب نہیں ہے- رفیق کو فون کرو اور پوچھو کہ کیا بات ہے-“

وردا کے بولنے سے پہلے ہی شہلا رفیق کا نمبر ملا چکی تھی- کال جا رہی تھی مگر وہ ریسیو نہیں کر رہا تھا- شہلا نے دو تین بار ٹرائی کیا لیکن کسی نے نہیں اٹھایا-

”رفیق فون کیوں ریسیو نہیں کر رہا-کم آن رفیق فون اٹھاﺅ-“ شہلا بڑبڑارہی تھی-

”میں مراد کا فون ٹرائی کرتا ہوں-“ راجو نے مراد کا نمبر ملایا اور بولا-”استاد بھی کال ریسیو نہیں کر رہا ہے- ضرور کچھ گڑبڑ ہے- وردا مجھے جانا ہی ہوگا- وہ ضرور کسی مصیبت میں ہیں-“

وردا الجھن میں پڑگئی- ”پھر میں بھی ساتھ چلوں گی-“

”ارے یار تمہاری محبت نے تو میرے پیروں میں جیسے بیڑیاں ڈال دی ہیں- تم بھلا ساتھ کیوں چلو گی-میں وہاں کوئی پکنک منانے نہیں جا رہا- تم یہیں رکو- میں فون کرکے بتادوں گا کہ کیا صورتحال ہے-“ راجو نے اتنی آواز میں کہا جسے صرف وردا سن سکے-

”راجو تم یہیں رکو- میں وہاں جا رہی ہوں-“ شہلا نے کہا-

”نہیں میڈم- آپ یہیں رکیں- میں دیکھتا ہوں کہ آخر بات کیا ہے-“

”دس از مائی آرڈر- ریاض حسین- تم یہیں رکو گے- میں جاکر دیکھتی ہوں-“ شہلا نے اپنی افسری دکھاتے ہوئے کہا-

”میڈم میں بھی آپ کے ساتھ چلتی ہوں-“ مونا بولی-

”کیا تم کو پستول چلانی آتی ہے؟-“ شہلا نے پوچھا-

”جی ہاں- پستول چلانی بھی آتی ہے اور ہاتھ پیر بھی چلانے آتے ہیں-“ مونا نے جواب دیا-

”پھر ٹھیک ہے- چلو-“

ادھر فارم ہاﺅس کا منظر بہت ہی برا تھا- رفیق اور مراد خون میں لت پت زمین پر پڑے ہوئے تھے- وہ دونوں کمرے سے باہر نکلنے میں تو کامیاب ہوگئے تھے- مگر پھر بھی دھماکے کی زد میں آہی گئے تھے-دونوں کی پستولیں ہاتھ سے چھوٹ چکی تھیں اور انہیں یہ بھی ہوش نہیں تھا کہ وہ اس وقت کہاں پڑے ہیں-

مراد نے پلکیں جھپکاتے ہوئے آنکھ کھولی تو اس کے چہرے پر خوف کی پرچھائیاں پھیلنے لگیں- ”رفیق- وہ آرہا ہے- تمہاری گن تو ہے نا تمہارے پاس- میری گن تو پتہ نہیں کہاں ہے-“

”آہ ہ ہ ہ-“ رفیق کراہتے ہوئے بولا- ”میری گن بھی پتہ نہیں کہاں ہے- مجھ سے تو اٹھا بھی نہیں جا رہا-“

”ہمیں اٹھنا ہی ہوگا- اپنے دائیں طرف دیکھو- وہ ہماری طرف ہی آرہا ہے-“ مراد نے کہا-

رفیق نے دائیں طرف گردن گھماکر دیکھا- ”تم صحیح کہہ رہے ہو- اسے شاید اینٹی ڈوٹ مل گیا ہے- وہ صرف ہمیں یہاں بلانے کے لئے ڈرامے بازی کر رہا تھا-“

درندہ بڑے اسٹائل سے آگے بڑھ رہا تھا- اس کے ہاتھ میں بیس بال کا بیٹ تھا-

”کیسا لگ رہا ہے تم دونوں کو- امید کرتا ہوں کہ تم دونوں خود کو بڑا اچھا محسوس کر رہے ہو گے- بم بلاسٹ کا حصہ بننا بھی کسی کسی کو نصیب ہوتا ہے- ہی ہی ہی ہی-“ درندہ مزے لیتا ہوا بولا-

”اگر ایسی بات ہے تو تم خود اس بلاسٹ کا حصہ بن کر خوش نصیب کیوں نہیں بن جاتے- کبھی خود کو بھی تو نصیب والا بننے کا موقع دیا کرو-“ رفیق چلا کر بولا-

”لگتا ہے ابھی بھی بہت دم ختم ہے مغلِ اعظم میں- کوئی بات نہیں- ابھی سارا دم نکال دیتا ہوں-“ اور درندے نے رفیق پر بیس بال کا بیٹ رفیق پر برسانا شروع کر دیا-

وہ سب سے زیادہ اس کی ٹانگوں کو نشانہ بنا رہا تھا تاکہ وہ اٹھنے کے قابل نہ رہے- اس کے علاوہ جسم کا کوئی حصہ اس کی زد سے بچا ہوا نہیں تھا- پیٹ پر مسلسل بیٹ پڑنے سے رفیق کے منہ سے خون نکلنے لگا تھا- اور مراد بے بسی سے پڑا ہوا اپنی آنکھوں کے سامنے یہ سب تماشہ ہوتا دیکھ رہا تھا- اس نے اٹھنے کی بہت کوشش کی مگر زخموں کی وجہ سے اٹھ نہیں سکا- جب درندے کا دھیان مچلتے ہوئے مراد پر گیا تو وہ رفیق کو چھوڑ کر مراد پر ٹوٹ پڑا- اس بار بھی زیادہ تر ہدف ٹانگیں ہی تھیں- اور تھوڑی ہی دیر میں مراد بھی رفیق کی طرح بے دم ہونے لگا- بم بلاسٹ کے بعد یہ درند ے کی طرف سے دوہرا حملہ تھا- جسے دونوں سہنے سے قاصر نظر آرہے تھے-

”آہ ہ- تمہیں اینٹی ڈوٹ کہاں سے ملا- آہ ہ ہ -“ رفیق نے کراہتے ہوئے پوچھا-

”تم نے میرے ساتھ بہت اعلیٰ گیم کھیلی تھی- اور میں تو تقریباً تمہاری اس گیم میں پھنس ہی چکا تھا- مگر میں نے ہوش سے کام لیا- سب سے پہلے تو اپنی جیب سے تمہارا اسپائی پین ہٹایا- پھر اپنے دوست ڈاکٹر شکیل کو فون کیا- ویسے تو کلر زیرو سیون خفیہ ہتھیار ہے مگر ڈاکٹر شکیل کو اس کا توڑ معلوم تھا- اس کا گھر میرے گھر سے نزدیک ہی ہے- اس نے فوراً مجھے ماسٹر ڈوز دیا- بس اس سے بات بن گئی- کیوں کیسی رہی- ہی ہی ہی ہی-“ درندے کی مکروہ ہنسی فضا میں گونجنے لگی-

”بہت خوب رہی- لیکن جو بھی ہو – آج تم نے ثابت ر دیا ہے کہ تم نامرد ہو- دھوکے سے ہمیں بم بلاسٹ کا نشانہ بنایا- اور اب کسی بزدل کی طرح ہمارے پہلے سے ٹوٹے جسموں کا کچومر بنا رہو ہو-آہ ہ ہ -“ رفیق نے طنز کرتے ہوئے کہا-

”خاموش- زیادہ بکواس کرنے کی ضرورت نہیں ہے- تم نہیں جانتے کہ خود کو نامرد کہنے پر میں نے اپنی بیوی کا کیا حال کر دیا تھا-“ درندہ غصے سے لال پیلا ہوتا ہوا بولا-

”اوہ – تو تمہاری بیوی بھی تھی- کون تھی وہ بے وقوف عورت جس نے تم سے شادی کر لی تھی- ہا ہاہا-“ رفیق نے اسے اور تپاتے ہوئے کہا-

”ہاں تھی- اور اس نے میری پیٹھ پیچھے میرے چھوٹے بھائی کے ساتھ ناجائز تعلقات قائم کر رکھے تھے- جب میں نے انہیں رنگے ہاتھوں پکڑا تو اس نے مجھ نامرد کہہ دیا تھا- اس کی یہ ہمت- میں نے کلہاڑی اٹھائی اور اس کے ساتھ ساتھ اپنے بھائی کے بھی اتنے ٹکڑے کر دیئے جتنے کوئی قصائی بھی گائے بکری کے نہیں کرتا-اور سچ بتاﺅں- وہ میری پہلی واردات تھی- اور پہلا خون کرتے ہوئے مجھے جو مزا آیا مت پوچھو- میں بہت دیر تک ان کے خون اور بوٹیوں سے کھیلتا رہا تھا- آج بھی وہ دن یاد کرتا ہوں تو دل خوشی سے جھوم اٹھتا ہے- وہ میرا اب تک کا سب سے بہترین قتل تھا-اس کے بعد تو مجھے قتل کرنے کا نشہ سا ہوگیا-“ درندہ بڑی بے رحمی سے اپنی واردات کو بڑے مزے سے بیان کر رہا تھا-

”تو میرا شک صحیح نکلا- تم سچ میں نامرد ہو- اور ایک نامرد ہی تم جیسا بزدل اور ڈرپوک ہوسکتا ہے-“ جان پر بنی ہوئی تھی مگر رفیق اب بھی اس کے رعب میں نہیں آیا تھا-

”تمہاری یہ زبان آج تم کو بہت تڑپتی ہوئی موت سے آشنا کروائے گی-“ درندے نے رفیق کے سر کا نشانہ لے کر بیٹ اوپر اٹھایا‘ مگر پھر کچھ سوچ کر رک گیا- ”نہیں اتنی آسان موت نہیں دوں گا تم کو- تڑپا تڑپا کر ماروں گا- کیا خیال ہے مغلِ اعظم- کیوں نہ ایک گیم ہوجائے- میں سحرش ڈارلنگ کو لے کر آتا ہوں- تم لوگ اسے کمرے میں ڈھونڈ رہے تھے اور وہ درخت کے پیچھے چھپی ہوئی تھی- ایک نمبر کی کمینی لگتی ہے مجھے- ابھی لے کر آتا ہوں کنجری کو- گیم کا اہم حصہ تو اسے ہی بنانا ہے نا- لیکن پہلے یہ پستولیں ہٹالوں یہاں سے- یہ میری گیم کا مزا خراب کر سکتی ہیں-ہی ہی ہی ہی—- تمہارے پاس موبائل ہوں گے وہ بھی مجھے دے دو- ویسے بھی جہنم میں کوئی موبائل نیٹ ورک کام نہیں کرتا- ہی ہی ہی ہی-“ درندہ پستولیں اور موبائل لے کر وہاں سے چلا گیا-

”مراد- تم ٹھیک تو ہو نا-“

”یار ہاتھ پاﺅں کام ہی نہیں کر رہے ہیں- اور اب وہ سحرش کو لینے گیا ہے- وہ میری آنکھوں کے سامنے کوئی گھناﺅنی گیم کھیلنا چاہتا ہے اور میں کچھ بھی نہیں کر سکوں گا اپنی سحرش کے لئے-“ مراد تڑپ کر بولا-

”تم ایسا مت سوچو- جب ہم سوچتے ہیں کہ اب ہم کچھ نہیں کرسکتے ‘ تب قدرت کی طرف سے کوئی ایسی ممکنہ وجہ نمودار ہوجاتی ہے کہ ہم اپنے کام کو مزید بہتر انداز کرنے کے قابل ہوجاتے ہیں-“ رفیق نے اسے دلاسہ دیتے ہوئے سمجھایا-

”اس بم بلاسٹ کی وجہ سے میرا جسم بری طرح زخمی ہے‘ اوپر سے اس نے مار مار کر رہی سہی کسر بھی نکال دی ہے- میں اپنی مرضی سے ہاتھ کی انگلیاں بھی ہلانے کے قابل نہیں رہا ہوں- بہتر کیا کر سکوں گا-“ مراد نے بے بسی سے کہا-

میرا بھی یہی حال ہے دوست- ورنہ کیا وہ میری جیب سے موبائل نکال کر لے جاسکتا تھا- لیکن تم دیکھنا‘میں اٹھوں گا ضرور- مجھے درندے کے ہاتھوں موت قبول نہیں ہے- مجھے یقین ہے کہ میرے اندر ابھی بھی کچھ تو بچا ہوا ہے‘ جس کے سہارے میں اٹھ سکتا ہوں-“ رفیق نے اٹھنے کی پوری کوشش کی لیکن وہ اٹھ نہیں سکا-

درندہ‘ سحرش کو بازو سے پکڑ گھسیٹا ہوا وہاں لے آیا- اس کے دوسرے ہاتھ میں تیز دھار کلہاڑی تھی‘ جس کا پھل چاند کی روشی میں چمک رہا تھا-

رفیق کو اٹھنے کی کوشش کرتے دیکھ کر وہ بولا-’ ’واہ مغلِ اعظم- ابھی بھی بہت دم باقی ہے تم میں- لگتا ہے میرے بم نے تم کو زیادہ نقصان نہیں پہنچایا- چلو کوئی بات نہیں— دوسرا بم حاضر ہے- مجھے یقین ہے کہ سحرش نام کا یہ ایٹم بم ضرور کام کرے گا- کیوں سحرش ڈارلنگ- ٹھیک کہہ رہا ہوںنا میں- چل جا پہلے جاکر اپنے یار سے مل لے- میں اب اتنا ظالم بھی نہیں ہوں کہ دو پیار کرنے والوں کو آخری بار ملنے کا موقع بھی نہ دوں- جاﺅ دیکھو زندہ بھی ہے یا مرگیا— کیا تمہیں اپنے عاشق کی بالکل بھی پرواہ نہیں ہے- تمہیں تو میرے کہنے سے پہلے ہی دوڑ کر مراد سے لپٹ جانا چاہئے تھا- دیکھونا بیچارے کی کیا حالت ہو رہی ہے-“ درندے نے سحرش کو مراد کے اوپر دھکیل دیا-

”مراد- تمہارا یہ کیا حال ہوگیا ہے-“ سحرش نے روتے ہوئے کہا-

”کچھ مت پوچھو- مگر اس نے تم کو کہاں سے اغواءکرلیا- تم تو کالج کے فنکشن میں تھیں-“

”اس نے مجھے کالج سے نہیں اٹھایا- کالج سے تو میں جلدی نکل گئی تھی-“

”کیوں؟-“ مراد نے پوچھا-

”تمہارے لئے کچھ خریدنا چاہتی تھی- ایک پینٹ شرٹ کا گفٹ دینا تھا تم کو- شاپنگ کرکے کالج واپس آرہی تھی کہ اس نے مجھے پیچھے سے کچھ سنگھا کر اغوا کر لیا-“ سحرش نے بلکتے ہوئے کہا-

”بس- ملاقات کا وقت ختم ہوگیا— اب گیم کھیلنے کا وقت ہوگیا ہے- میری ہر گیم کی طرح یہ گیم بھی بہت ہی سادہ سی ہے- آﺅ سحرش اور اس کلہاڑی سے مغلِ اعظم کی گردن کاٹ دو- یہ کام انجام دینے کے لئے تمہارے پاس صرف پانچ منٹ کا وقت ہے- اگر تم نے اپنا کام نہیں کیا تو یہ پستول دیکھ رہی ہو- اس کی گولی سیدھی تمہارے عاشق کی کھوپڑی میں گھس جائے گی- ہی ہی ہی- چلو شروع ہوجاﺅ-“ درندے نے سحرش کو ہدایت دیتے ہوئے کہا-

”نہیں- پلیز یہ مجھ سے نہیں ہوگا-“ سحرش گڑگڑائی-

ٹھیک ہے پھر- میں اس کلہاڑی سے مراد کی گردن کاٹ دیتا ہوں- پھر نہ کہنا کہ میں نے تم کو ایک چانس نہیں دیا اپنے عاشق کو بچانے کا- دیکھا مراد- یہ لڑکی کتنی دغاباز نکلی— ا س کے ضرور رفیق کے ساتھ ناجائز تعلقات ہیں ورنہ یہ انکا ر کیوں کرتی— یہ تمہاری پیٹھ پیچھے رفیق کے ساتھ عیاشی کرتی ہے- اور محبت کا ناٹک کرتی ہے تمہارے ساتھ- چھی – کتنی گندی لڑکی ہے یہ-“ درندہ اپنی ہی بول رہا تھا-

”بکواس بند کر کتے-“ مراد چیخ کر بولا-

”اوکے سحرش ‘ دوسری گیم کھیلتے ہیں- تم ایسا کرو کہ رفیق کے درد کا احساس کم کرنے کے لئے اس کے ساتھ جنسی کھیل کھیلو- بیچارے کو درد سے کچھ راحت ملے گی- مراد کو پتہ چلنا چاہئے کہ تم اس کی جان بچانے کے لئے کچھ بھی کر سکتی ہو- آج تو مراد کے سامنے ہو ہی جائے یہ کھیل-کیا خیال ہے- ہی ہی ہی-“ درندہ بے تحاشہ ہنس رہا تھا جیسے اس صورتحال سے پوری طرح لطف اندوز ہو رہا ہو-

”شٹ اپ یو باسٹرڈ‘ تم انسان نہیں حیوان ہو-“ سحرش چلا کر بولی-

”اوہ رئیلی— ہاں شاید اسی لئے لوگ مجھے درندہ کہتے ہیں-“ درندے نے سحرش کو بالوں سے پکڑ کر اسے مراد کے اوپر سے اٹھا لیا-”اب تمہاری آنکھوں کے سامنے تمہارے اس عاشق کے ٹکڑے ٹکڑے کروں گا- کتنی خودغرض ہو تم- اپنے عاشق کی جان بچانے کے لئے اتنا چھوٹا سا کام بھی نہیں کر سکتیں- لعنت ہے تمہاری محبت پر- چھی-“ درندہ تھوکتا ہوا بولا-

پھر اس نے سحرش کو ایک طرف دھکیل دیا او ر مراد کی گردن پر کلہاڑی کا پھل رکھ دیا- ”مسٹر مراد کیسا لگ رہا ہے تمہیں- تم نے دیکھا‘ تمہاری محبوبہ نے تم کو دھوکہ دے دیا نا—- یہ عورت ذات ہوتی ہی دھوکے باز ہے- کوئی بھی عورت بھروسہ کرنے کے قابل ہے ہی نہیں- امید ہے کہ تم جہنم میں بھی یہ بات یاد رکھو گے- میں تمہیں اتنی بھیانک موت دینے والا ہوں کہ اس کے بعد تم کو جہنم بھی زیادہ آرام دہ محسوس ہوگی- ہا ہا ہا ہا- گڈبائے مسٹرمراد-“ درندے نے وار کرنے کے لئے کلہاڑی ہوا میں لہرائی-

”رکو-“ سحرش چلا کر بولی-

”کیوں رکوں— ہاں اگر گیم کھیلنی ہے تو رک جاتا ہوں- ہی ہی ہی-“

”ہاں میں کھیلوں گی-“ سحرش نے سسکتے ہوئے کہا-

”کون سی گیم کھیلو گی- جان سے مارنے والی یا جسم سے کھیلنے والی- ہی ہی ہی-“ جیسے درندے کو توقع رہی ہو کہ آخر سحرش اس کی بات مان ہی لے گی-

ِِ”مجھے سوچنے کے لئے تھوڑ اوقت دو-“

”تمہارے پاس فیصلہ کرنے کے لئے صرف ایک سیکنڈ ہے- جلدی بولو ورنہ مراد کی گردن دھڑ سے الگ ہوجائے گی-“

”سحرش— تم بھاگ جاﺅ یہاں سے – بھاگو-“ مراد چیخ کر بولا-

”تمہیں بیچ میں بولنے کے لئے کس نے کہا- مجھے گیم کے بیچ میں دخل اندازی ذرا بھی پسند نہیں ہے- اور یہ بیچاری کپڑوں کے بغیر کہاں بھاگے گی— ذرا سوچو اس حالت میں دیکھ کر سڑک چھاپ لوگ اس کا کیا حشر کردیں گے-“ درندے نے مراد کے منہ پر لاتے مارتے ہوئے کہا-

”اسے مت مارو پلیز-“ سحرش چیخ پڑی-

”تو پھر جلدی سے فیصلہ کرلو-“

”ٹھیک ہے- میں دوسری والی گیم کھیلوں گی-“ سحرش نے فیصلہ کرتے ہوئے کہا- کیونکہ رفیق کی جان لینے کی نسبت اسے یہ گیم زیادہ آسان لگ رہی تھی-

”مجھے پتہ تھا کہ تم دوسری والی گیم کا ہی انتخاب کرو گی- جو کام تم رفیق کے ساتھ مل کر چھپ چھپاکے کرتی ہو وہ آج کھلے عام کرنے میں کیا عار ہے- ہیں نا- دیکھا مراد تم نے— تمہاری محبوبہ کتنی بڑی چھنال ہے—- چل اب شروع ہوجا-ورنہ میرا دماغ گھوم گیا تو ایک منٹ میں مراد کے بدن کے سو ٹکڑے کر دوں گا- “

سحرش لڑکھڑاتے قدموں سے رفیق کے پاس آکر بیٹھ گئی-

”سحرش- مت کرو ایسا- مجھے مار دو تو زیادہ اچھا ہے- یہ تو میرے لئے موت سے بھی زیادہ دردناک سزا ہے- میں تم سے کبھی ملا نہیں مگر مراد اکثر تمہارے بارے میں بتاتا رہتا تھا- تم میری چھوٹی بہن کی طرح ہو- پلیز یہ گناہ مت کرو-“ رفیق نے سحرش کی طرف دیکھتے ہوئے کہا-

” واہ بھئی- اب ایک نیا ناٹک شروع ہوگیا- سحرش جلدی کھیل شروع کرو- اگر میرے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا تو تم بہت پچھتاﺅ گی-“ درندے نے چلا کر کہا-

سحرش اٹھی اور مراد کے اوپر لیٹ کر اسے چھپا لیا- ”مجھے کوئی گیم نہیں کھیلنی- کرو جو کرنا چاہتے ہو-“ سحرش ہمت کرکے بولی-

”یہ ہوئی نا بات- مجھے یقین تھا کہ میری سحرش اتنی کمزور نہیں ہوسکتی- چلے بے نامرد ہیجڑے ‘ تجھے جو کرنا ہے‘ کرلے-“ مراد نے خوش ہوکر کہا-

یہ سن کر درندے کا چہرہ غصے سے تپنے لگا- اس نے سحرش کے بال پکڑے اور اسے مراد کے اوپر سے کھینچ کر زمین پر پٹخ دیا-اور اس کے پیٹ میں زور سے لات ماری کہ وہ ہوش و خرد سے بیگانی ہوگئی-

”سالی چھنال- میری گیم خراب کرتی ہے-“

”کمینے چھوڑ دے اسے-“ مراد چلا کر بولا-

”بس – اب کوئی گیم نہیں ہوگی- میں نے تم لوگوں کو بہت موقع دے دیا- وہ دیکھو جہنم کے دروازے کھل رہے ہیں- اور میں جلد سے جلد تم لوگوں کو ٹکڑوں کی شکل میں وہاں روانہ کرنا چاہتا ہوں- اور اس کی ابتداءکرتا ہوں مغلِ اعظم سے-“ درندے نے اپنے کہے پر عمل کرنے کے لئے کلہاڑی اوپر اٹھالی- اس کا نشانہ رفیق کی گردن تھی-

”جہاں ہو وہیں رک جاﺅ- ورنہ گولی تمہارے سر کے آر پار ہوجائے گی-“ شہلا نے چلا کر کر کہا – اس نے درندے کے سر کا نشانہ لے رکھا تھا- اس کے ساتھ مونا بھی پستول لئے کھڑی تھی-

”اوہ ڈی ایس پی صاحبہ- آپ بھی یہاں ہیں- بہت خوب- اب تو اور بھی زیادہ مزا آئےگا- ہاہاہاہا-“ درندے نے قہقہہ لگاتے ہوئے کہا-

”یہ کلہاڑی ایک طرف پھینک کر اپنے ہاتھ اوپر کرلو-“ شہلا نے حکم دیا-

درندے نے کلہاڑی زمین پر گرا دی لیکن نہایت پھرتی کے ساتھ اس نے اپنی جیب سے پستول نکال کر شہلا پر فائر کیا- گولی شہلا کے ہاتھ پر لگی اور پستول اس کے ہاتھ سے چھوٹ کر دور جاگری-مونا نے وقت ضائع کئے بغیر درندے پر فائر کیا جو سیدھا اس کے سینے پر لگا- لیکن وہ مسکراتا ہوا آگے بڑھتا رہا-

”مونا اس کے سر میں گولی مارو-آہ ہ ہ -“ شہلا نے درد سے کراہتے ہوئے کہا-اس کے ہاتھ سے خون بہہ رہا تھا-

”اپنی پستول نیچے پھینک دو- ورنہ ڈی ایس پی صاحبہ کی کھوپڑی میرے نشانے پر ہے-“ درندے نے چلا کر کہا-

”میری فکر مت کرو- مار دو اسے-“ شہلا بولی-

اور اگلے ہی پل مونا کے ہاتھ سے بھی پستول نکل گئی- اس کے ہاتھ سے بھی خون بہہ رہا تھا-

”میرا نشانہ کبھی خطا نہیں ہوتا-اسی لمحے تمہارا بھیجہ بھی اڑا سکتا ہوں- مگر جب تم دونوں اتنی ہمت کرکے یہاں تک آ ہی گئی ہو تو تمہاری موت بھی بہت خاص ہونی چاہئے-“

ایس پی‘ شہلا کے قریب گیا اور اس کے جسم پر لاتیں برسانی شروع کر دیں-”بہت ڈھیٹ ہو تم— کھائی میں گر کر بھی بچ گئیں-“

ِِ”کتے‘ دور ہٹ جا-“ رفیق نے چیخ کر کہا-

”ارے واہ- میں مار اس کتیا کو رہا ہوں اور چیخیں اس کتے کی نکل رہی ہیں- کوئی یارانہ لگتا ہے- واہ یہ تو بہت ہی دلچسپ سچوئیشن ہے- کتیا جلدی بتا‘ وہ تیرے لئے کیوں چلا رہا ہے- تم دونوں ڈیوٹی کرتے تھے یا عشق فرماتے تھے-تب ہی تو میں کہوں تم لوگ درندے کو پکڑ کیوں نہیں سکے- ہی ہی ہی- تم کو کتنا سمجھایا میں نے کہ کچھ کرو—- کچھ کرو— اس درندے کو پکڑو— مگر تم لوگوں کو عشق بازی سے فرصت ملے تب نا- مجھے پکڑنے کا تو تم لوگوں کے پاس ٹائم ہی نہیں تھا- ہیں نا-“ درندہ او رمزے لے رہا تھا- شکار جتنے بڑھ رہے تھے اس کا مزا بھی دوبالا ہو رہا تھا-

”بند کرو اپنی یہ بیہودہ بکواس-“ رفیق پھر چیخا-اور کراہنے لگا-

٭٭٭٭٭٭٭

جاری ہے

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

ڈھل گیا ہجر کا دن نادیہ احمد قسط نمبر7

ڈھل گیا ہجر کا دن نادیہ احمد قسط نمبر7 خواب ٹوٹ جاتے ہیں بھیڑ میں …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے