سر ورق / کہانی / دیدی کا پیڑ … یوگیش کناوا/عامر صدیقی

دیدی کا پیڑ … یوگیش کناوا/عامر صدیقی

دیدی کا پیڑ

یوگیش کناوا/عامر صدیقی

ہندی کہانی

…………….

دفتر کے باہر،کوﺅں کی تیز کائیں کا ئیں سن کر کچھ لوگ باہر آئے۔ مجھے دیکھ کر انکو کائیں کا ئیں کی وجہ سمجھ آ گئی تھی، لیکن ڈر کے مارے وہ نزدیک نہیں آ پا رہے تھے کہ کہیں کوئی کوا غصے میں آکر چونچ نہ مار جائے۔ دفتر کے لوگوں سے ملنے کےلئے، اپنے ان دوستوں کو پیار سے پھسلا کر میں دفتر میں چلا گیا۔ نئے لوگوں کو یہ نظارہ حیرت انگیز لگ رہا تھا۔ بھلا کوا بھی انسان کا اتنا گہرا دوست اور وہ بھی اتنے برسوں بعد۔

شام سے ہی کافی گہما گہمی تھی، لوگوں کا آنا شروع ہو گیا تھا۔ بھاگ دوڑ کر کے سبھی باتیں دیکھنی تھیں۔ کہیں کوئی بھول چوک نہ ہو جائے۔سبھی مہمانوں کی خاطر داری میں کوئی کمی نہ رہے۔ آج پورے ایک سال کی ہو گئی ہے میری بیٹی، بس اسی کے جنم دن کی ڈنرپارٹی رکھی تھی کالونی میں ہی۔ کھانا بنانے والے سے لے کر سارے انتظامات دیکھنے تھے۔ ٹھیک سات بجے میں نے بیٹی کے ہاتھ سے ایک نیم کا پودا اپنے کوارٹر کے باہر ہی لگوایا۔ تمام مہمانوں نے اس پر اپنے اپنے حساب سے رائے ظاہر کی۔ کوئی ماحولیات کی بات کر رہا تھا، کوئی طویل عرصے تک یاد رکھنے والی سوغات بتا رہا تھا۔ بس اسی گہما گہمی میں رات کافی ہو گئی تھی۔ تمام مہمانوں کو رخصت کرکے اب ہم تینوں بھی یعنی میں، میری بیوی اور میری بیٹی آرام کرنا چاہ رہے تھے۔ میں من ہی من میں بہت خوش تھا کہ پوری کالونی کا ڈنر ارینج کیا تھا اور کھانا بھی بہت اچھا بناتھا۔ بڑی ہی دھوم دھام سے پورا دن نکل گیا۔ بیٹی میری گود میں ہی سو گئی تھی، اسے بیڈ پر لیٹاکر، اب ہم آج کے پورے انتظام اور پارٹی میں آئے مہمانوں کے بارے میں بات چیت کرتے ہوئے سو گئے۔

وقت کی رفتار بہت تیز ہوتی ہے۔ پتہ ہی نہیں چلتا ہے کہ کب ہاتھ سے پھسل جاتا ہے۔ بیٹی اب پورے سات سال کی ہو گئی تھی۔ ہر سال ایک پودالگانا اس کے جنم دن کا ایک لازمی حصہ بن گیا تھا۔ میری تنخواہ کے مطابق مجھے اب بی ٹائپ کے کوارٹر کے بجائے سی ٹائپ کے کوارٹر میں شفٹ ہونا تھا۔ بیٹی کا لگاﺅ پرانے کوارٹر سے ہی تھا، اس میں وہ پلی بڑھی تھی، سو لگاﺅ ہونا فطری تھا اور اس پر اس کی پیدائش کے دن پر ہر سال لگائے گئے چھ پیڑ، آہستہ آہستہ بڑے ہو گئے تھے۔ پہلا پیڑ کافی بڑا ہو گیا تھا۔ ہم لوگ اب سی ٹائپ کے کوارٹر میں شفٹ ہو گئے تھے۔ پرانے والے کوارٹر میں دفتر کا ہی ایک اور ملازم رہنے لگا تھا۔ ایک دن اس نے نیم کے بڑے والے درخت کو جو بیٹی کے پہلے پیدائش کے دن پر لگایا تھا، چھٹوا دیا۔ یا یوں کہیں کہ تقریباً ساری بڑی ٹہنیاں کٹوا دیں۔ اب صرف تنا اور اوپر کی دو تین موٹی ٹہنیاں ہی بغیر پتوں کے نظرآ رہی تھیں۔ میری بیٹی جیسے ہی اسکول سے واپس آئی، وہ زور زور سے رونے لگی۔ بڑی مشکل سے اس نے بتایا کہ پرانے والے کوارٹر میں جو انکل آئے ہیں، انہوں نے میرا درخت کاٹ دیا ہے۔ میرے درخت کو بہت درد ہو رہا ہے، بہت گندے ہیں یہ انکل۔ وہ ایک چھوٹا سا ڈنڈا لے کر باہر جانے لگی۔ کہنے لگی کہ اس ڈنڈے سے ان انکل کو ماروںگی۔ انہوں نے میرا درخت کاٹ دیا، بہت گندے ہیں یہ انکل۔ بس اسی طرح سے سارا دن روتی رہی۔ ہمارے لاکھ سمجھانے پر بھی وہ نہیں مانی اور نہ ہی اس نے کھانا کھایا۔ بس روتے روتے ہی سو گئی۔ ہمیں بھی کافی افسوس ہو رہا تھا، پر اسے کیسے سمجھاتے کہ اس پیڑکے لیے چھٹوانا ضروری تھا ورنہ چُورُو کی آندھیاں اس کو تنے سے اکھاڑ دیتیں۔

کچھ وقت کے بعد اس پیڑ پر پھر سے نئے پتے دکھائی دینے لگے۔ میری بیٹی بہت خوش تھی۔ شام کو میں جب دفتر سے واپس گھر آیا، تو کالونی کے مین گیٹ پر ہی وہ کھڑی میرا انتظار کر ہی تھی۔ بہت خوش تھی آج وہ۔ جیسے ہی اس نے مجھے دیکھا چہک کر بولی کہ پاپا میرے والے پیڑ کے خوبصورت پتے آئے ہیں، چلو دکھاتی ہوں۔ میں کافی تھکا ہوا تھا، لیکن بیٹی کا من رکھنے کےلئے میں اس کے ساتھ چل پڑا۔ آج اس کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں تھا۔ کالونی کے سارے بچوں کو ایک ہی بات کہہ رہی تھی کہ میرے پیڑ کے پتے آگئے۔ میرے پاپا صحیح کہتے تھے، نئے پتے آئیں گے، اس میں آگئے۔

اب میری بیٹی تیرہ سال کی ہو گئی تھی۔ اسی وقت میری منتقلی ہوگئی۔ جب ہم لوگوں نے دوسرے شہر کے لئے جانا طے کیا، تو میری بیٹی سب سے زیادہ اداس تھی۔ وہ بار بار کالونی میں لگائے اپنے پیڑ وں کے پاس جا کر بیٹھ رہی تھی۔ پورے بارہ پیڑ تھے۔ باری باری وہ سبھی پیڑ وں کے پاس جا کر بیٹھ رہی تھی، گویا کہہ رہی تھی کہ تم ٹھیک سے رہنا، اپنا خیال رکھنا۔ اب شاید دوبارہ نہیں آو ¿ں گی یہاں، پر تم مجھے بھولنا مت، میں بھی نہیں بھولوںگی۔

نئے شہر میں، میں نے اپنا گھر خرید لیا تھا۔ شہر بڑا اور جگہ کی کمی تھی۔ ایسے میں گھر کے باہر پیڑ لگانا ناممکن تھا۔ اس بار کی سالگرہ پر پودا کہاں لگائیں، یہی فکر مجھے اور میری بیٹی کو ستا رہی تھی۔ بہت سوچ بچار کے بعد گھر کے سامنے والے پارک میں، ایک بیلوپتر کا پودا لگانے پر اتفاق ہوا۔ ہم نے ایک پودا پھر سے بیٹی کے ہاتھوں سے لگوا دیا۔ اس بار ایک پودا میرے بیٹے نے بھی لگایا۔ روزانہ پانی دینا، اس کی دیکھ بھال کرنا ،دونوں کے معمول کا حصہ ہو گیا تھا، لیکن اب ہر بار ایک پودا لگانا ممکن نہ تھا۔ آس پاس جگہ کی کمی اور دور جا کر پودالگانے کا مطلب ہے اسے لاوارث چھوڑنا، جس کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ یہی سوچ کر اب صرف گملے میں ایک پوداہر سال لگانے کی بات سوچی۔

پچھلا شہر چھوڑے ہمیں تقریبا ً سات آٹھ سال ہو گئے تھے۔ اچانک ہی مجھے ایک محکمہ جاتی کام سے اپنے پرانے دفتر، چُورُو کے دورے پر جانے کا حکم ملا۔ میں سوچ رہا تھا چلو اس بار پرانے لوگوں سے کئی برسوں بعد ملاقات ہوگی۔ ویسے تو ایک دو لوگوں سے میرا رابطہ ابھی تک مسلسل بنا ہوا ہے، لیکن صرف ٹیلی فون پرہی بات چیت ہو پاتی تھی، ملے ہوئے عرصہ گزر گیاتھا۔ شام کو دفتر کا کام ختم کرکے جب میں گھر پہنچا ،تو میں نے بتایا کہ مجھے تین دن کے سرکاری کام سے چُورُو جانا ہے۔ بیٹی بہت خوش ہوئی اور کہا کہ ارے واہ چُورُو جانا، لیکن پاپا ابھی مت جاو ¿ نا، میرا اےگزام ہو جائے تب چلنانا، میں بھی اپنے پیڑ وں کو دیکھ کر آو ¿ں گی۔ میں نے کہا کہ بیٹا سرکاری کام ہے نا، ابھی جانا ہی پڑے گا۔

میں صبح سویرے ہی بس سے چُورُو کے لئے روانہ ہو گیا۔ سات آٹھ برسوں میں کافی تیزی سے تبدیلی آ گئی تھی۔ فتح پور سے چُورُو جانے والی سڑک اب ہائی وے بن چکی تھی۔ بس سرپٹ دوڑی جا رہی تھی۔ میں پرانی یادوں میں کھو گیا۔ کہاں وہ دن تھے جب فتح پور سے چُورُو کا یہ چھتیس کلو میٹر کا چھوٹا سا ٹکڑا ہی پورے دو گھنٹے کا سفر ہوتا تھا۔ ہچکولے کھاتی بس پیٹ میں کھایا پیا سب ہلا کر رکھ دیتی تھی۔پورا جسم ٹوٹ سا جاتا تھا۔ اور آج دیکھو صرف تیس منٹ میں ہی یہ سفر مکمل ہو گیا ہے۔ بھئی واہ! ترقی تو بڑی ہی تیز رفتاری سے ہو رہی ہے۔ کوئی پانچ گھنٹے کے سفر کے بعد میں اپنی منزل پر پہنچا۔ وہاں کا نظارہ دیکھ کر تو میں دنگ ہی رہ گیا۔ چوڑی چوڑی سڑکیں، سڑکوں پر ڈیوائیڈر، لائیٹیں، گویا پورا شہر ہی بدل گیا ہو۔ میں سب سے پہلے ہوٹل جاکر اپنا سامان رکھنا چاہ رہا تھا اور میں نے وہی کیا۔ ٹھیک گیارہ بجے میں اپنے دفتر پہنچا۔ وہاں پہنچنے پر میری حیرت کا ٹھکانا نہیں رہا۔ جن کومیں بھلا چکا تھا، وہ ہی میرے استقبال کا سب سے پہلے جیسے انتظار کر رہے تھے۔ میں یقین نہیں کر پا رہا تھا، ہاں میرے پالے ہوئے کوے، میرے دوست، جن کو میں اب کبھی کبھار ہی یاد کرتا تھا، وہ مجھے اتنے برسوں کے بعد بھی بھول نہیں پائے تھے۔ میں دفتر کے دروازے پر ہی پہنچا تھا کہ چالیس پچاس کوے کائیںکائیں کی آواز کے ساتھ میری طرف آئے۔ گویا ان میں دوڑ لگی ہو کہ پہلے مجھ سے کون ملتا ہے۔ میں وہیں باہر ہی رک گیا۔ اپنے ان بے لوث دوست کی محبت سے چور انہیں دُلارتا رہا۔ میں اپنے ماضی میں کھو سا گیا تھا۔ یہی میرے دوست، جن کے لئے میں کوارٹر کی چھت پر گھنٹوں کھڑا رہتا تھا۔ ان سے باتیں کرتا تھا۔ یہ بھی تو کبھی میرے کندھوں پر، کبھی سر پر بیٹھ جاتے تھے۔ لوگ مجھے پاگل سمجھتے تھے۔ کئی بار کہتے تھے کوے کا سر پر بیٹھنا بڑا ہی منحوس ہوتا ہے، کوئی ٹوٹکا کرو۔ میں لوگوں کی باتوں کو سنا ان سنا کر کے، بس اپنی ہی دنیا میں مست تھا، اپنے خاندان اور اپنے دوست کوﺅں کے ساتھ۔ مجھے یقین ہی نہیں تھا کہ اتنے برسوں کے بعد بھی، یہ مجھے اس طرح سے ملیں گے۔

دفتر کے باہر، کوﺅں کی تیز کائیںکائیں سن کر کچھ لوگ باہر آئے۔ مجھے دیکھ کر انہیں کائیںکائیں کی وجہ سمجھ آ گئی تھی، لیکن ڈر کے مارے وہ نزدیک نہیں آ پا رہے تھے کہیں کوئی کوا غصے میں آکر چونچ نہ مار جائے۔ دفتر کے لوگوں سے ملنے کےلئے، اپنے ان دوستوں کو پیار کرکے میں دفتر میں چلا گیا۔ نئے لوگوں کو یہ نظارہ حیرت انگیز لگ رہا تھا۔۔ بھلا کوا بھی آدمی کا اتنا گہرا دوست اور وہ بھی اتنے برسوں بعد۔

انہوں نے تقریباً گھیر کر زبردستی مجھے کالونی جانے کے لئے مجبور کر دیا۔ میری حیرت کا تب ٹھکانا نہیں رہا، جب وہ مجھے زبردستی اس پیڑ کے پاس لے کر گئے،جو بیٹی کے پہلے جنم دن پر لگایا تھا۔ پیڑ کو مکمل طور پر کاٹ دیا گیا۔ اب صرف ایک ٹھونٹھ ہی بچا تھا۔سبھی کوے جیسے مجھ سے شکایت کر رہے تھے، دیکھو دیدی کے پیڑ کا کیا حال کیا ہے ان لوگوں نے۔ مجھے دیکھ کر بڑا ہی افسوس ہوا۔ آخر یہ بے زبان پیڑ کیا تکلیف دے رہا تھا لوگوں کو۔ میں وہیں بیٹھ گیا۔ شاید مجھ سے زیادہ افسوس ان کوﺅں کو تھا ،لیکن وہ بیچارے کر کچھ بھی نہیں پائے تھے۔ تبھی اس کوارٹر میں رہنے والا ملازم باہر آیا، اس نے بتایا کہ ان کوﺅں نے اس مزدور کا سر چونچیں مار مار لہولہان کر دیا تھا، جس کو اس پیڑکو کاٹنے کا ٹھیکہ دیا تھا۔ کوﺅں کے ڈرسے وہ یہ ٹھونٹھ آج تک کاٹنے نہیں آیا۔

یہ بات سن کر میں نے ان کوﺅں کے تئیں اپنی محبت جتانے لگا۔ انہیں اپنے ساتھ لایا بچا کھانا کھلایا، جیسے پہلے ہر دن صبح صبح کھلاتا تھا۔ میں اس رات سو نہیں پایا۔ سوچتا رہا انسانوں سے تو زیادہ سمجھدار یہ بے زبان ہے، جو اپنا لالچ نہیں جانتے۔ اس پیڑ کاٹنے والے مزدور کو بھگانے کے لئے ان کوﺅں کی کوششوں کا تصور کر رہا تھا کہ کس طرح سے انہوں نے میری بیٹی کے لگائے پیڑ کی حفاظت ہے۔ مبارک ہو یہ ہی سچے دوست ہیں میرے ماحول کے ، انسانوں سے تو صرف اور صرف تباہی کی ہی امید کر سکتے ہیں، لیکن یہ کبھی تباہی نہیں کر سکتے۔

تین دن تک میں ان دوستوں کے ساتھ گھنٹوں گزارتا رہاتھا۔ آخر آج واپسی کا وقت آ گیا تھا۔ مجھے ان سے بچھڑنا بہت بھاری لگ رہا تھا۔ انہیں بھی شاید یہ سمجھ آ گیا تھا کہ مجھے واپس لوٹنا ہے۔ آج شام وہ زیادہ اچھل کود نہیں کر رہے تھے۔ خاموش۔ بس ایک دم خاموش۔ میرے اچانک ہی آنسو آگئے، میں خاموشی وہاں سے چل دیا ،بِناکچھ بولے۔

٭٭٭

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

کرائم فائٹر۔۔۔ سید بدر سعید

غیرت کرائم رپورٹنگ بظاہر ایک دھانسودار بیٹ معلوم ہوتی ہے۔ عام خیال بھی یہی ہے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے