سر ورق / مضامین / نئی صدی کی صدا کے غزل گو: مخمور سعیدی ..غلام نبی کمار

نئی صدی کی صدا کے غزل گو: مخمور سعیدی ..غلام نبی کمار

نئی صدی کی صدا کے غزل گو: مخمور سعیدی
غلام نبی کمار
جموں و کشمیر
7053562468
مخمور سعیدی ۳۱/دسمبر۱۹۳۴ء ٹونک( راجستھان)میں پیدا ہوئے۔ان کا اصل نام سلطان محمد خاں ہے لیکن ادبی دنیا انہیں مخمورسعیدی کے قلمی نام سے جانتی اور پہچانتی ہے ۔ان کے والد ماجد احمد خاں نازش اردو کے قادرالکلام شاعر تھے۔ مخمور سعیدی کی ابتدا میں تعلیمی اور ادبی تربیت گھر پر ہوئی ۔جہاں انہیں بچپن سے ہی شعروشاعری کا ماحول ملا۔شاعری میں وہ اپنے والد صاحب جناب احمد خاں نازش سے اصلاح لیتے رہے۔ چونکہ ٹونک کئی بڑے اور اعلیٰ پایہ کے شعرا کا مسکن رہا ہے اس لیے مخمور سعیدی کے اپنے ہم وطن شاعروں سے متاثر ہونے کی یہ بھی ایک وجہ رہی ہے۔سب سے اہم اور قابلِ ذکربات یہ ہے کہ مخمور سعیدی مشہور زمانہ اورشہرت یافتہ شاعر بسمل ؔ سعیدی کے شاگررہے ہیں اس کے علاوہ وہ اختر شیرانی کے ہم وطن بھی کہلاتے ہیں۔مخمور سعیدی۲/ فروری۱۹۵۳ء میں تلاشِ معاش کے سلسلے میں دہلی آگئے تھے ۔جہاں ان کا قیام ایک لمبے عرصے تک رہابلکہ یوں بھی کہیں کہ ان کی آدھی سے زیادہ زندگی دہلی میں بسر ہوئی ،یہاں ہی ان کے زیادہ تر دوست و احباب ہوئے جنھوں نے نہ صرف انہیں زندگی میں سرآنکھوں پر بٹھایا بلکہ ان کے دنیا سے رخصت ہونے کے بعد بھی یاد کرتے رہے ہیں۔دہلی کے جن نامور شعرا کے ساتھ مخمور سعیدی کی ادبی بیٹھکیں ہوتی رہتی تھیں اورجن سے بہت گہرے دوستانہ مراسم قائم ہوگئے تھے ان میں زبیر رضوی،شمیم کرہانی،گوپال متل،کمار پاشی ،مظہرامام ،امیر قزلباش،انیس اعظمی،راج نرائن راز وغیرہ نام ہیں۔مخمورسعیدی دہلی کی شعری و ادبی محفلوں میں بارہاشریک ہوتے رہتے تھے۔دہلی میں ادبی صحافت کی جس قدر ان سے خدمت انجام پائی اس کے لیے انہیں ’’معمارانِ ادبی صحافت‘‘ میں شمار کیا جائے توکوئی مبالغہ نہیں۔انھوں نے مختلف اردو رسائل و جرائد مثلاً ماہنامہ تحریک، ماہنامہ گل فشاں،ماہنامہ نگار،ماہنامہ ایوانِ اردو،ماہنامہ امنگ،ماہنامہ اردو دنیا اورسہ ماہی فکرو تحقیق وغیرہ کی ادارت سنبھال کر ادب میں ایک کارنامۂ عظیم انجام دیا ہے مزید کئی اردو اداروں سے بھی ان کی وابستگی رہی۔اس طرح ان کی زندگی کا بیشتر حصہ دہلی میں گزرا،لیکن زندگی کے اخیر میں واپس اپنے وطن ٹونک چلے گئے ،جہاں انھوں نے زندگی کی آخری سانس لی اور وہیں مدفون بھی ہوئے ۔یہ دیکھئے مخمور سعیدی اپنی زندگی کے آخری برسوں میں کیا محسوس کرتے ہیں ،کس چیز کی تمنا کرتے ہیں اوراس بزرگی میں کیسے کیسے تصورات ان کے ذہن میں پنپنے شروع ہوجاتے ہیں۔مخمور سعیدی کو اپنے وطن سے بچھڑنے اور دور ہونے کا احساس زندگی بھر ستاتا رہا۔وہ وطن کو چھوڑ کر جانے والوں سے مخاطب ہوکر کہتے ہیں کہ وطن کی مٹی آپ کو یاد کر ے گی،آپ کے پیچھے پیچھے آپ کو آواز یں دے گی،جس دھرتی نے جنم دیا ،جہاں بچپن گزرا،جہاں بچپن کے یاردوست تھے/ہیں،جہاں ذہنی نشوونما ہوئی،جہاں اپنوں کو پیچھے چھوڑ آئے ہو وہاں کی مٹی ہردم اورہرلمحہ یاد کرے گی اور چین و سکوں سے بیٹھنے نہیں دے گی۔ظاہر ہے بلا وجہ کوئی شخص اپنے زمین اور اپنوں کو چھوڑ کر چلا نہیں جاتا ،یہ نفس اور پیٹ ہی ہے جو انسان کو معاش اور روزگار کے سلسلے میں ملکوں ملکوں کی خاک چھاننے پر مجبور کر دیتا ہے،کچھ لوگ اس معاملے میں خوش قسمت واقع ہوتے ہیں جنہیں باوجود اس کے اپنے گاؤں،وطن اورملک کی مٹی نصیب ہوتی ہے اور کچھ بد قسمت جن کی مرادیں پوری نہیں ہوتیں ،یعنی جو آرزو مند تو ہوتے ہیں لیکن ان کی آرزو پوری نہیں ہوتی۔مگرمخمور سعیدی اس معاملے میں خوش قسمت ثابت ہوئے ہیں۔ درج ذیل اشعار سے مخمور ؔ کی طبیعت بحال ہوتی ہے اور آخرکار ان کی مراد بر آتی ہے۔کچھ شعر کی قرأت کیجیے آپ کو خود بہ خود احساس ہوجائے گا:
اپنی زمیں کو چھوڑ کے جانے والو اتنا دھیان میں رکھنا
آوازیں دیتی آئے گی پیچھے پیچھے یہاں کی مٹی
اس دھرتی پر چلتے پھرتے آتے جاتے کتنے مسافر
کس کا سفر کب ختم ہو جانے ، پائے کو ن کہاں کی مٹی
***
نئی غزل کے حوالے سے دبستانِ دہلی میں مخمور سعیدی کا نام بڑی اہمیت کا حامل ہے۔اردو کے مقبول عام شعرا اور دہلی کے بیشتر معروف شعرا اِن کے معاصرین رہے ہیں۔جس دور میں مخمور سعیدی نے شاعری کرنا شروع کی تھی وہ دور دہلی کا اردو شاعری میں عہد زرّیں دور کہلاتا ہے کیونکہ اس دور میں دہلی میں اردو شعر و شاعری کے افق پر چمکنے اور دمکنے والے شعرا کی اچھی تعداد تھی۔کتنوں کے نام گنوائے جائیں ایک سے بڑھ کر ایک نام اور سب اردو کے تابندہ ستارے۔ان میں کچھ ستارے ایسے ہوئے ہیں جو اکیسویں صدی میں بھی گردش کرتے رہے اور جاتے جاتے اپنی روشن اور پُر نورکِرنوں سے دبستانِ دہلی کی اس زرخیز ادبی سر زمین کونئی صدی میں بھی منور کرگئے مخمور سعیدی بھی انہی میں ایک ادبی ستارے کا نام ہے۔ جن کا شمار جدید غزل کے بنیاد گزار شعرا کی نسل میں ہوتا ہے۔جب ان کا جنم ہوا اُس وقت ترقی پسند تحریک کے دور کا آغاز ہوچکا تھا اس تحریک کے لائحۂ عمل اور اغراض و مقاصد کا فریم ورک تک متعین ہو چکا تھا۔ اردو کے بڑے بڑے قلم کاروں کی ترقی پسند تحریک میں شمولیت ہورہی تھی۔گوکہ ترقی پسند تحریک سے وابستہ ادیبوں نے اس کی حمایت میں لکھنا شروع کر دیا تھاتاہم یہ وہ دور تھا جب مخمور سعیدی کے خیالات پروان چڑھ رہے تھے ۔مخمورؔ کی شاعری کا آغاز ۱۹۴۹ء سے ہوتا ہے۔ان کے بیشتر معاصرشعرا ترقی پسند تحریک سے وابستہ ہوگئے اور بعض نے اسے اجتناب برتتے ہوئے سلامت روی کے ساتھ اپنا تخلیقی سفر جاری رکھا۔۱۹۶۰ء میں ترقی پسند تحریک کے ردِ عمل میں ’جدیدت‘ کی تحریک شروع ہوئی ،اسی سال مخمور سعیدی کا پہلا شعری مجموعہ’’گفتنی‘‘ شائع ہوا ۔ ان کی تخلیقات نئی اوراس وقت کی ابھرتی ہوئی تحریک ’جدیدیت‘ اور دم توڑتی’ترقی پسند تحریک‘ کے عناصرسے پاک نظر آئی۔شاعر کا ذہن خیالات کا منبع ہوتا ہے چونکہ وہ اسی معاشرے کا حصہ ہوتا ہے اور سماجی و معاشی حالات اور تجربات سے ہی اس کے خیالات پنپتے ہیں،شاعر ایک عام انسان سے بہت زیادہ حساس ہوتا ہے کیونکہ اس میں تجربات کا بہت گہرائی سے مشاہدہ کرنے کی صلاحیت موجود ہوتی ہے اس سے بھی بڑھ کرایک اہم وصف اس کی تخلیقی صلاحیت اور خلاق ذہن کا ہونا ہے جس سے وہ ان تجربات اور خیالات کو پیکر میں ڈھال کر قارئین تک پہنچانے کا ایک اہم فریضہ انجام دیتاہے۔شاعر کی یہی صلاحیت اسے ایک عام انسان سے منفرد کرتی ہے ۔جو شاعرمنفرد سوچ کا حامل ہوتا ہے ،جس میں قلم کوصحیح استعمال کرنے کا ہنر ہوتاہے یعنی جوتخلیقی وصف سے معمورو سرشار ہوتاہے اور ساتھ ہی ساتھ جس میں بیان کرنے کی بہترین صلاحیت موجود ہوتی ہے ۔وہی شاعر اپنے معاصر شعرا کی بہ نسبت مقبولیت حاصل کرتا ہے۔ چنانچہ اس تجربے کے باوجود جب تک اس عمل میں شاعر کے روحانی پہلو کا دخیل نہیں ہوگا ایسا تصور کرنا بھی محال ہے کیونکہ مؤثریت و مثمریت کے لیے دونوں میں ہم آہنگی ہونا لازم و ملزوم ہے ۔تاہم جب مخمور سعیدی کی عصری غزل گوئی کا مطالعہ کرتے ہیں تو اس میں فکرو احساس کی یہ خوبی صاف نظر آتی ہے ۔ مخمور سعیدی کے افکار و خیالات میں تنوع ہے ۔’’راستا اور میں‘‘ کی غزلیں ان کے ذاتی تجربہ حسن و عشق کی سچی کیفیتوں کا اظہار ہے جس نے ان کو انسانی فطرت کا معتبر ترجمان بنا دیا ہے جس کی آواز دلنشین بھی ہے اور متاثر کن بھی۔مخمور سعیدی نے ایک حساس اور باشعور تخلیق کار کی حیثیت سے اپنے زمانے کے تمام ادبی تغیرات کو قبول کیا ہے۔ان کی غزلیں کئی جہات اور فکر کو سموئی ہوئی ہیں جس میں کئی آوازیں اجاگر ہوئی ہیں اور کئی اظہارات کا جنم ہوا ہے غرض کہ ان کی غزلوں میں بالیدگی کا عنصر نمایاں ہے اس لیے ان کی غزلوں سے ادبی رجحانات اورتحریکات سے متاثرہونے کا شبہ ہوتا ہے وگرنہ تو مخمورسعیدی خود بھی شعری مجموعہ ’’دیوار ودر کے درمیاں‘‘ کے دیباچہ میں لکھتے ہیں کہ ترقی پسند مصنفین ادب کو اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا چاہتے تھے۔انھوں نے ایسے شاعروں اور ادیبوں کو آگے بڑھایا جو اپنی فنکارانہ ذمہ داریاں بھلا کر کلیتاً ان کے ہمنوا ہوگئے۔فنی پیمانے پسِ پشت ڈال دیے گئے اور سیاسی نعرہ زنی کو شعروادب کی کسوٹی قرار دے دیا گیا۔اس سے آپ ادب کی اب تک کی سب سے بڑی تحریک سے متعلق مخمور سعیدی کے تاثرات سے واقف ہوگئے ہوں گے۔اس کے باوجود بھی ناقدینِ ادب نے انہیں ترقی پسندی سے متاثر بتایا ہے اس کی وجہ غزلوں میں ان کی ہمہ گیریت اور جدت کا پایا جانا ہے جس کی وجہ سے اس بات کا شبہ ہوتا ہے۔ڈاکٹر لطف الرحمٰن کے بقول’’ان کے یہاں سنجیدگی و متانت ،فکری گہرائی اور اعتدال پسندی بھی اسی مناسبت سے پیدا ہوتی چلی گئی جس نے ان کو فیشن زدگی اور تقلید و تتبع سے دور رکھا اور اپنی ایک اکیلی ذات کے آئینے میں انھوں نے ایک زمانے کی سیر کی۔‘‘مخمور سعیدی کی غزلوں کے یہی امتیازات انہیں اپنے عہد اور دبستانِ دہلی کے جدید غزل شعرامیں مقبولیت کا سبب بنتے ہیں۔
مخمور سعیدی اپنی شاعری کو ادبی تحریکات اور رجحانات سے بچانے میں کامیاب توہوگئے مگر ان کے بعض غزلیہ اشعار کا آہنگ ادبی تحریکات سے متاثر ہونے کی علامت بھی پیش کرتا ہے۔ مخمور سعیدی کے یہاں کلاسکیت اور رومانیت کا رنگ و آہنگ نمایاں ہے۔دراصل جو شاعر یا ادیب مقتدیوں کی طرح ناقدین کے مقرر کردہ اصولوں کے کاربند وتابع دار رہتے ہیں وہ شعرو ادب میںیکسانیت اور ادعائیت کا شکار ہوجاتے ہیں۔ وہ حیات و کائنات کے متنوع اور گونا گوں پہلوؤں کا احاطہ نہیں کرپاتے بلکہ اِسے وہ زندگی کے صرف چند زاویوں پر اپنی نگاہ مرکوز کرکے رہ جاتے ہیں۔مخمور سعیدی کسی فکر کے پابند نہیں رہے بلکہ انھوں نے کھلے اور وسیع ذہن سے شعروادب کی پرورش کی اور پھر لالہ و گل کی اس سیج پر نئے نئے اور رنگ برنگ گل بوٹے کھلانے شروع کیے۔ لیکن جیسا کہ مذکور ہوا ہے کہ ایسا ہرگز نہیں ادبی تحریکات اور رجحانات کا ان کی شاعری میں اثرونفوذ نہیں رہا۔براہِ راست نہ سہی بلواسطہ طور پر ان کی شاعری میں کہیں کہیں اس کی جھلک نظر آتی ہے۔نثار احمد فاروقی ان کے آخری شعری مجموعہ’’راستہ اور میں‘‘ کے پیش لفظ میں ان کی برگ و بار شخصیت اور متنوع شعری جہات کے حوالے سے تحریرفرماتے ہیں:
’’یہ کہاجاتا ہے کہ ادب فنکار کی سیرت و شخصیت کا آئینہ ہوتا ہے اور یہ صحیح بھی ہے،اس لیے کہ ادب میں فنکار کے جذبات و محسوسات،یا مدرکات و مشاہدات ہی کا انعکاس ہوتا ہے۔ مخمور ؔ سعیدی کے ادبی اسلوب و انداز میں ان کی شخصیت کے سارے رنگ اس طرح گھل مل گئے ہیں کہ ان کی آمیزش سے ایک منفرد رنگ و آہنگ اُبھر آیا ہے۔ اُن کے مزاج میں جو لطافت اور نفاست،ضبط اور خودداری ہے وہی اُن کی شاعری میں بھی نظر آتی ہے۔‘‘
(’راستا اور میں‘از مخمورؔ سعیدی‘ص۹)
مخمور سعیدی کی شاعری میں یقیناً ان کے فنکارانہ افکارو خیالات اور شخصیت کے متنوع پہلوؤں کی آئینہ داری ہوتی ہے اور ان سب باتوں کو نثار احمد فاروقی کے درج بالا اقتباس سے تقویت ملتی ہے۔بیسویں صدی کے اخیر تک مخمور سعیدی کے آٹھ شعری مجموعے شائع ہوئے جس میں’’گفتنی‘‘’’سیہ بر سفید‘‘’’آواز کا جسم‘‘’’سب رنگ‘‘’’واحد متکلم‘‘’’آتے جاتے لمحوں کی صدا‘‘’’بانس کے جنگلوں سے گزرتی ہوا‘‘اور’’دیوار و در کے درمیاں‘‘ قابل ذکر ہیں۔حالیہ صدی میں ان کا ایک ہی شعری مجموعہ’’راستا اور میں‘‘ کے نام سے ہے جو ۲۰۰۳ء میں شائع ہوا ہے جس کے ناشر مصنف خود ہیں۔مذکورہ شعری مجموعے سے ان کے چند شعر پیش کیے جا رہے ہیں جسے ان کے شعری سیاق و سباق کے معنی و مفہوم کسی حد تک واضح ہوتے ہیں چند شعرملاحظہ فرمائیں:
تیز بارش ، گھر کی دیواروں کو ننگا کر گئی
رنگ سارے دھو گئی ہے ، کیا کہیں کس سے کہیں
بجھا دیے ہیں اگر ہم نے خود ہی گھر کے چراغ
نہ دیں گے گھر کو اُجالا اِدھر اُدھر کے چراغ
ہے اگر اس کا سنگِ در چُپ چاپ
ہم نہ پھوڑیں گے اپنا سر چُپ چاپ
اپنی زمین کو چھوڑ کے جانے والو اتنا دھیان میں رکھنا
آوازیں دیتی آئے گی پیچھے پیچھے یہاں کی مٹی
راہ کا پیڑ کہیں ابر کا ٹکڑا ہو جاؤں
ہو جہاں دُھوپ بہت تیز ، میں سایا ہو جاؤں
ڈونڈھیں گے مرے نقشِ قدم ، قافلے والے
میں قافلۂ وقت سے آگے تو نکل جاؤں
***
مخمور سعیدی ہمارے عہد کے معتبر اور منفرد شاعر ہیں۔ جن کی شاعری گذشتہ نصف صدی پر محیط ہے ۔ناقدین نے ان کی شاعری میں کلاسیکی روایات کی نشاندہی کی ہے جو بالکل صحیح بھی ہے۔انھوں نے کلاسیکی اقدار کوکبھی اپنے دامن سے چھوٹنے نہیں دیا۔جو کہ ان کی شاعری میں ابہام کے نہ پائے جانے کی ایک خاص وجہ ہے۔یہ شعری خصوصیت ان کے یہاں ابتدا تا تاحال برقرار رہی۔مخمورؔ کی شاعری میں فکر،خیال ،جذبہ اور احساس کی سطح پر ہم آہنگی ،توازن اوروضع داری پائی جاتی ہے۔انھوں نے اس دور کی حقیقتوں اور سچائیوں سے منہ نہیں موڑا بلکہ اس کی خوب تخلیقی پیروکاری کی۔مخمور سعیدی کی شاعری کا شعری ڈکشن جدیداور کلاسیکیت کے زندہ اور تخلیقی رموز وعناصر سے متصف ہے۔ چنانچہ ان کی شاعری میں اِکہرا پن نہیں،بلکہ موصوف اپنے اندر تہذیبی و ثقافتی ابعاد رکھتے ہیں۔ان کے یہاں بھی کلاسیکی شعرا کی طرح عشق و محبت کے جلوے دکھائے دیتے ہیں لیکن یہ فن میں عیب پیدا نہیں کرتا۔اگر کلاسیکی شاعری میں عاشقانہ پن نہ ہوتا تو شاعر ی بے مزہ ثابت ہوتی۔لیکن وقت وقت کی بات ہے،ایسا بھی نہیں کہ انھوں نے موجودہ دور کی عکاسی شاعری میں نہیں کی۔نئی غزل کو مخمورسعیدی نے بہت سے اچھے اشعار عنایت کیے ہیں اس لیے کہ انھیں کلاسیکی غزل کے آداب بھی آتے ہیں اور وہ نئی زندگی کی پُرسوز سادہ المیہ سے بھی واقف ہیں۔ان کی فکر کی جو گہرائی اورگیرائی ہے وہی ان کی موجودہ صدی کی شاعری کی جان وشان ہے۔نثار احمد فاروقی نے مخمور سعیدی کی عصر حاضر میں جو شعری خصوصیات بیان کی ہیں اس میں ایک خصوصیت فارسی زبان کے ساتھ ان کا مانوس ہونا ہے۔جو خصوصیت آج کے شعرا میں معدوم ہوتی جاتی ہے ۔ان کی ذہن وفکر کی جس ماحول میں نشو ونما ہوئی اس میں فارسی زبان کا جاننا ضروری تھا۔ فارسی کے اساتذۂ کلام پر ان کی نظر ہے اس لئے موصوف اس زبان کے امتیازات اور محاسن کو سمجھتے ہیں۔اس وصف کاعکس ان کی شاعری میں کہیں کہیں محسوس کیا جا سکتا ہے۔سادگی،سلاست،فصاحت،بلاغت،تازگی،ندرت،متانت،جدت کا امتزاج ان کی شاعری کو خوبصورتی سے مزین کرتی ہے۔ان کی غزلوں کامرکزی محورایک موضوع اور خیال کے اردگرد گردش کرتا ہے۔ علامتوں کی سطح پر انھوں نے نئی نئی راہیں ہموار کی ہیں وہ دوسروں سے انہیں مستعار نہیں لیتے بلکہ خود وضع کرتے ہیں۔ عہد حاضر میں انسان کے دکھ ،درد،کرب،مسائل و مصائب،تنگ دستی،ناداری،مظلومی،ظلم وجبر،محرومی،مجبوری،لاچاری کا بیان ان کی دلنشین غزلیں ہیں۔اس میں انھوں نے دردمندی،اخلاص،احساس،متانت اور دل سوزی سے کام لیا ہے۔بالغ نظری ،وسعتِ خیالی اور شعورکی سطح پر بھی آنکا جائے تو مخمور سعیدی ایک اعلیٰ تخلیق کار ثابت ہوتے ہیں۔مخمور سعیدی کی شاعری پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے پروفیسر زاہدہ زیدی نے لکھا ہے:
’’مجموعی طور پر مخمور ؔ سعیدی کی غزل اردو کی شعری روایت اور جدید طرزِ فکر کا ایک متوازن امتزاج ہے۔ زبان و بیان پر قابل لحاظ دسترس،سادگی،بے ساختگی اور سوز وگداز، ان کی اچھی غزلوں کی کچھ قابل قدر خصوصیات ہیں……..لیکن جہاں جہاں بھی مخمورؔ سعیدی نے زیادہ جدید بننے کی کوشش کی ہے وہ اکثر ناکامیاب رہے ہیں۔‘‘
(بحوالہ:زرنقد(مضامین کا مجموعہ از محمد شاہد پٹھان،مارچ ۲۰۰۹،ص۹۳)
زاہدہ زیدی کے مذکورہ بالا اقتباس سے ایک تو مخمور سعیدی کی غزل گوئی کی خصوصیات ظاہر ہوتی ہے دوسری یہ کہ جدیدیت کے عنصر کا ذائقہ ان کی شاعری میں نہ آپایا۔مخمور سعیدی کی غزلیہ شاعری میں جو حسن اور چاشنی پیدا ہوئی ہے وہ درحقیقت ان کا تحریکوں اور رجحانوں کو نہ اپنا نا،یا اس رنگ کا مزاج پیدا نہ کرپانا۔اگر ان کی غزلوں میں کہیں کہیں جدید مزاج و منہاج کی آمیزش نظر آتی ہے یا اس کا احساس ہوتا ہے تو اس رنگ آمیزی کی جھلک ان کے یہاں فطری طور پر منعکس ہوئی ہے اگر اس میں ان کی بلاواسطہ یا شعوری کوشش ہوتی تو شعری اسلوب اور زبان و بیان شاید بے ذائقہ اور خشک محسوس ہوتی۔مخمور سعیدی کے ہاں لفظ کی بڑی اہمیت ہے وہ لفظوں کے جادوگر بھی ہیں اور مصور بھی۔الفاظ کی اس جادوگری نے ان کی غزلوں میں تحیر و استعجاب ،پراسراریت ،تنوع ،رنگا رنگی ،تہہ داری اور جامعیت پیدا کی ہے۔
مخمور سعیدی نے زندگی کا زیادہ تر وقت دہلی جیسے بڑے شہر یا مہانگرمیں گزارا۔جہاں رہ کر انھیں بے شمار تجربات سے واسطہ پڑا۔اب وہ شہر کو کس نظریے سے دیکھتے ہیں اس کے لیے دل و دماغ میں یکایک کئی سوالات پیدا ہوتے ہیں کیونکہ گاؤں میں زندگی گذر بسر کرنے والا انسان ہمیشہ شہر جانے کا متمنی ہوتا ہے کیونکہ وہ سوچتا ہے شہر میں انسان کی خوشی کا ہر سامان مل جاتا ہے۔مخمور سعیدی شہر کو کس نظریے سے دیکھتے ہوں گے اس کے تعلق سے میرے ذہن میں جوسوالات جنم لے رہے ہیں وہ یوں ہیں۔ کیا انھیں شہر کی زندگی راس آئی؟کیا شہر انھیں گاؤں سے زیادہ پُر کشش نظر آیا؟کیا شہر میں رہ کر انھیں سب آسائشیں میسر ہوئیں؟کیا شہر میں انھیں سکون و قرار نصیب ہوا؟کیا شہرمیں انہیں انسانی رشتوں میں مضبوطی اور گہرائی نظر آئی؟کیا شہر میں انھوں نے امن و سکوں پایا ؟وغیرہ وغیرہ۔یہ اوراس قسم کے دیگر سوالات ہیں جن کے جوابات مخمور سعیدی کی موجودہ صدی کی غزلوں میں مل جاتے ہیں جو ان کے شعری مجموعہ’’راستا اور میں ‘‘ میں شامل ہوئی ہیں۔شہر کو انھوں نے اپنی غزلوں میں ایک اہم علامت کے طورپر استعمال کیا ہے۔یہ لفظ ان کی درجنوں غزلوں میں مستعمل ہے۔اس ضمن میں پہلے کچھ اشعار قارئین حضرات کی ذوقِ نذر کرتے ہیں؂
پیاسی زمین اب کے تو دریا بھی پی گئی
مژدہ کہ اب نہ شہر میں سیلاب آئے گا
شہر نیا تعمیر ہوا ہے ، ڈھ جائے گا
سنگ و خِشت کا ملبہ بن کر رہ جائے گا
یہ شہر جانے کس آسیب کے اثر میں تھا!
کہ لوگ اپنی ہی پرچھائیوں سے ڈرتے تھے
کہتے ہیں ، کہ سنسان ہیں سب کوچہ و بازار میں
سنتے ہیں ، مگر شہر میں کہرام بہت ہے
شہر کا شہر بدحواس بھیڑ میں سب اُداس اُداس
جب سے دِلوں کے درمیاں ربطِ بہم دگر نہیں
سویا ہوا شہرِ بے سماعت
کس سمت مری صدا چلی ہے
لوگ ملتے ہیں مگر مل کے بچھڑ جاتے ہیں
شہر بسنے نہیں پاتے ، کہ اجڑ جاتے ہیں
شہر در شہر اِن آنکھوں نے وہ عالم دیکھا
اب کے گجرات کو دیکھا کہ جہنم دیکھا
***
مخمور سعیدی کے مندرجہ بالا میں مذکورہ اشعارکے علاوہ کئی شعرشہری زندگی اور اس کے ماحول کے تعلق میں بڑی خوبی سے ادا ہوئے ہیں۔جو سوالات راقم نے شہر کے حوالے سے قائم کیے تھے ان کے جوابات اس قسم کے اشعار سے بہ آسانی حاصل کیے جا سکتے ہیں۔مخمور سعیدی کی غزل گوئی سے یہ عقد کھل جاتا ہے کہ شہر کی رنگینی حقیقی نہیں کیونکہ یہ صرف چند لمحوں اور پلوں کی خوشی کا ساماں بہم پہنچاتی ہے درحقیقت یہاں کے چکا چوندماحول میں گھٹن ہی گھٹن ہے،جہاں ہر وقت خوف و ہراس کا سایہ انسان کے سر پہ منڈلاتا رہتا ہے،جہاں اپنائیت کا کوئی احساس نہیں،جہاں ہر وقت چہل پہل اوررونق تو رہتی ہے لیکن کب یہ رونق بے رونقی میں تبدیل ہوجائے اور آفت کا سامنا کرنا پڑے اس کا کوئی علم نہیں،تعمیری و ترقیاتی کام توہوتے رہتے ہیں لیکن کیا پتہ کب یہ اونچی عالی شان عمارتیں ڈھ کر ملبے کا ڈھیر بن جائیں اور پتھرہی پتھر ہوجائیں اورکیا پتہ کب اور کس پل یہ سب کسی واردات کی نذر ہوجائے۔یہاں ہر کوئی اپنے کام سے کام رکھتا ہے،کوئی بے مقصد کسی کی مدد کے لیے سامنے نہیں آتا۔یہ بُتوں کا شہر ہے جہاں ایک دوسرے کے غم میں شریک ہونے کا تصور کرنا محال ہے،یہاں انسانوں کے ارمانوں کی کوئی قدر نہیں،مختلف جگہوں،علاقوں،فرقوں،مذہبوں اور مختلف اعتقاد کے لوگ شہر میں ملتے ہیں،جویہاں آکے بستے ہیں،پھررشتے بنتے ہیں،انسانیت کے رشتے ،دوستی کے رشتے ۔لیکن ان رشتوں کی ڈوری زیادہ مضبوط نہیں ہوتی،ان رشتوں کی مدت زیادہ نہیں ہوتی،یہاں غیر تو غیر اپنے بھی پرائے ہوجاتے ہیں، ان رشتوں کے ٹوٹنے ،اپنوں کے بچھڑنے،دوستوں کے غیر ہونے کی وجہ سے یہ شہر بسنے سے پہلے ہی اجڑ جاتا ہے۔یہ ہمارا وہم و گماں تھا کہ مل کے جدا نہ ہوں گے۔یہاں کے لوگوں کے رشتے عارضی ہوتے ہیں۔جب کبھی اس شہر کی بھیڑ میں اچانک کوئی اپنی پہچان کا مل جاتا ہے تو اس کی چال ڈھال اور سبھاؤ سے اِک الگ ہی آن بان کا پتہ چلتا ہے ۔بیگانگی کا جو طرزِ عمل آج تک دیکھا نہ تھا اس کی جھلک نظر آئی۔یہاں امن و اماں اور سکون و قرار کا کوئی اِمکاں تک نہیں۔شاعر جب اپنی زندگی کی غم انگیز داستان سناتا ہے تو قاری اس کے ساتھ ہمدردی جتانے کی کوشش کرتا ہے اوراس کے دکھ میں اس کا شریکِ کار ہوجاتا ہے اور کچھ شاعر ایسے ہیں جو عشق و محبت کے فسانے لکھ کر لوگوں کو لطف اندوز کرنے کا کمال رکھتے ہیں،یہ شاعر کی متاعِ حیاتِ ہوتی ہے جس کو وہ ہم تک شعری انداز میں پہنچانے کا ہنر رکھتا ہے۔اس سے اس کی داستان ہمارے دلوں میں محفوظ ہوجاتی ہے اور ادب و تاریخ میں اس کے نام کا اندراج بھی ہوجاتا ہے پھر اس کے بعد مؤثریت و مرتبت کا درجہ آتا ہے۔لیکن وہ شاعر جو نہ صرف اپنی زندگی کی داستان شاعری میں مرقوم کرتا ہے بلکہ اپنے عہد و معاشرت کی مؤثرترجمانی کرتا ہے وہ دانشور و حساس شاعر کہلاتا ہے کیونکہ اس کی شاعری سماجی شعورسے ممیز اور اس سے اثر انداز ہونے کی غماز ہوتی ہے۔مخمور سعیدی کی عہد نو کی غزلیہ شاعری میں یہ خوبی جابجا نظر آتی ہے۔انھوں نے اپنی زندگی کی غم انگیز اورغیر لذت آشنا زندگی کا مرثیہ لکھنے کے علاوہ اس زمانے کی خستہ حالی، انتشاری و بے اطمینانی،ظلم وبربریت،سیاسی جبریت،آپسی منافرت،غیر منصفی و بے حمیتی اور مذہبی تنگ نظری وغیرہ کے بھی شہر آشوب لکھے ہیں۔شہر سے متعلق مخمور سعیدی کے تجربات کا اظہار ان کی غزلیہ شاعری سے ہوجاتا ہے۔انھوں نے شہر،شہر کے ماحول اور شہر کے لوگوں کو بے حد قریب سے دیکھا ہے اورشہر کے پورے نظام اور حالات کا مطالعہ ایک دیدہ ور فنکار کی طرح کیا ہے۔اس بڑے شہر کی ہمہ ہمی،رنگینی،فضائی آلودگی،شوروغوغا،اضطراب و انتشار،بے حِسّی،تصّنع اورمنافقت سب کو مخمور سعیدی نے قریب سے دیکھا ہے اور محسوس کیا۔اسی لیے ان کی غزل میں شہری اور عصری حِسّیت کا واشگاف الفاظ میں اظہار ہوتا ہے جسے ہم جدید حِسّیت بھی کہہ سکتے ہیں۔
مخمور سعیدی کی عصری غزلیں دل میں چبھن سی لی ہوئیں معلوم ہوتی ہیں۔ان میں گھٹن ،بے یقینی اور بے چینی صاف نظر آتی ہے،اکیلے پن،محرومی،تنہائی،بے سروسامانی،غم و اندوہ،یاسیت ،بے چہرگی اورگم شدگی کا رنگ و احساس ان میں خوب جھلکتا ہے۔ذیل میں جو اشعار پیش کیے جائیں گے ان میں شاعر نے’’بھیڑ‘‘ کا لفظ بھی استعمال کیا ہے اور بھیڑ شہر اور بازار میں ہی دیکھنے کو ملتی ہے اس لیے صاف طور پر کہا جا سکتا ہے کہ شاعراپنے آپ کو شہر کی بھیڑ میں کہیں کھویا پاتا ہے ۔اس بھیڑ اور چہل پہل سے وہ خوش نظرنہیں آتاہے بلکہ ایک قسم کی بے چینی اور بے قراری ہے جو اسے ہر لمحہ کھائے جارہی ہے۔اس بھیڑ میں اس کا دم گھٹتا دکھا ئی دیتا ہے،اسے اطمینابیت حاصل ہی نہیں ہوتی۔ شاعر دل کو خرابے سے تشیبہ دے دیتا ہے جو ہر ماہ و سال تاراج ہوتا ہے شاعر کی اس خلش کا اندازہ درج ذیل اشعار سے لگایا جا سکتا ہے اس ضمن میں چند شعر سماعت کیجیے:
وہ رہگذر تھی کہ تنہا ہمیں گزرتے تھے
سفر کے گمشدگاں کو تلاش کرتے تھے
بھیڑ میں مخمور اک صورت نظر آئی
جو کہیں گم ہوگئی ہے ، کیا کہیں کس سے کہیں
دل ، کہ تاراجِ ماہ و سال ہوا
اس خرابے میں اب رہا کیا ہے
ہے شہر میں چاروں طرف اک بھیڑ مگر میں
ہوں اتنا اکیلا ، کہ کہیں خود کو نہ کَھل جاؤں
یہ تیرے غم کا بُلاوا ہے ،سمجھ جاتا ہوں
راہ چلتے ہوئے جب بھیڑ میں تنہا ہو جاؤں
***
مخمور سعیدی کے درج بالا اشعار سے ان کی احساسِ شکستگی اور احساسِ نامحرومی نمایاں ہوتی ہے۔جس نے ان کے باطن میں گھر کیا ہے اور ذہن و دل پر حاوی ہوکر جذباتی بنا دیا ہے۔یہ تاثر اور یہ کیفیت ان کے ذاتی تجربات کا آئینہ ہے جو ان کی زندگی کا حاصل ہے۔ڈاکٹر سیّدہ جعفر اپنے ایک مضمون’’مخمور سعیدی کا فن‘‘ میں مخمور ؔ کی شاعری سے متعلق اپنے خیالات کا اظہار یوں کرتی ہیں:
’’زندگی کے خلا اور فرد کی مصنوعی زندگی کی بے رنگی کا آج کے فنکار کو شدید احساس ہے۔مخمورؔ کی شاید ہی کوئی نظم یا غزل ایسی ہوگی جس میں یہ احساس نہ ہو کہ انسان اپنے گھر، اپنے خاندان،اپنے وطن اور ساری کائنات میں اکیلا ہے اور یہ اذیت اسے برداشت کرنی ہے کیونکہ یہ اس عہد کی زندگی کا حصّہ ہے۔‘‘
مخمور سعیدی پر سیدہ جعفر نے اپنے احساسات کی ترجمانی میں مذکورہ مضمون میں چند اشعار پیش کیے ہیں جنہیں یہاں جوں کا توں کوٹ کیا جاتا ہے،ملاحظہ کیجیے:
یہ میرے احساسات کو ڈستی ہوئی تنہائیاں
میرے تعاقب میں رہیں اکثر مری تنہائیاں
چمکے کوئی جگنو کہیں مہکے تری خوشبو کہیں
یہ رات کا اندھا سفر یہ راہ کی تنہائیاں
تاروں کی ٹھنڈی چھاؤں میں بے خواب رکھتی ہیں مجھے
احساس کی دیوار سے سر پھوڑتی تنہائیاں
سب بستیوں میں آبسے تنہائیوں کے خوف سے
ہر شخص کی قسمت مگر اب تک وہی تنہائیاں
(مخمور سعیدی:ہمہ جہت فنکار،مرتبین :پریم گوپال متل،ارشد علی خاں،ماڈرن پبلشنگ ہاؤس،دہلی،۲۰۱۳ء،ص۲۷)
ڈاکٹر سیّدہ جعفر کا متذکرہ بالا اقتباس اور ان کے مضمون سے مخمور سعیدی کے کچھ اخذ شدہ اشعار میری تحریر کو تقویت بخشتے ہیں اس لیے اِنہیں یہاں پیش کرنے میں ،میں نے کوئی عار محسوس نہیں کی ۔کیونکہ اسے میرے مضمون کی وقعت اور اہمیت میں اضافہ ہوتاہے۔اگرچہ ان خیالات کا اظہار موصوفہ نے مخمور سعیدی کے کسی دوسرے شعری مجموعے کے حوالے سے کیا تھا تاہم ان کے خیالات اور انتخاب شدہ اشعار مخمور سعیدی کے آج کے شعری سیاق و سباق کا صاف پتہ دیتے ہیں۔مخمور سعیدی کے کئی شعری مجموعے بیسویں صدی کے اخیر تک شائع ہوکر دادِ تحسین وصول کر چکے ہیں لیکن اُن شعری مجموعوں اور اکیسویں صدی میں شائع شعری مجموعہ’’راستا اور میں ‘‘ کی غزلوں میں کافی تنوع پایا جاتا ہے۔اس مجموعے کی ایک خاص بات جس سے اس کی اہمیت دوبالا ہوجاتی ہے وہ اس میں شامل چنندہ غزلوں کا انتخاب ہے۔جن کا مطالعہ کر کے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ مخمور سعیدی حال سے متعلق ایک خاص نقطۂ کو واضح کرنا چاہتے تھے۔جس کا تجربہ انہیں زندگی کے آخری مرحلے میں ہو ا تھا۔’’راستا اور میں‘‘ میں ان کی کئی غزلیں ایسی ہیں جو پہلے سے ہی ان کے مجموعوں میں شامل ہو چکی تھیں۔لیکن ان غزلوں کی حالیہ اشاعت کا مقصد زمانۂ عصر کی زندگی اورحال کی کیفیت سے ان کی موزونیت اورمطابقت کا ہونا ہے جو کہ ان کی دوبارہ اشاعت کا جواز پیدا کرتی ہے۔
مخمورسعیدی جتنے اچھے شاعر ہیں اتنے ہی بہترین انسان بھی تھے ان کی نگاہ میں رشتوں کی بہت قدر ہے وہ رشتوں کو بہت اہمیت دیتے ہیں وہ یاری دوستی بھی اچھی طرح نبھانا جانتے ہیں تاہم موصوف کواس معاملے میں لوگوں کی بے رخی ہی نصیب ہوئی۔ ان کی غزلوں میں اس کا شدید احساس کھٹکتا ہے ۔گھر رشتوں سے بنتا ہے جب ان میں دراریں پیدا ہوتی ہیں اور اعتماد اوریقین سے بھروسااُٹھ جاتا ہے تب زندگی میں رشتوں کے جنم سے جو رنگ پیدا ہوئے تھے وہ سب پھیکے پڑ جاتے ہیں۔رشتوں کی مضبوطی اور آپس میں اعتقاد و اعتماد اور یقین ہی گھر کی خوشی کا ضامن بن سکتا ہے،آپسی منافرت و منافقت اور حسد و کینہ رکھنے سے ہم خود ہی اپنے گھروں کے چراغ بجھا دیتے ہیں جب اپنا چراغ گھر کو روشن نہ کرسکے توبھلاغیر کے چراغ سے کہاں روشن کرنے کی تمنا کی جاسکتی ہے۔اس سلسلے میں مخمورسعیدی کی غزلیں ہماری رہنمائی فرماتی ہیں،ملاحظہ فرمائیں:
یہ دنیا تو نہیں بدلی ، ذرا ماحول بدلا تھا
ہوا پہچاننا مشکل ، کچھ ایسے ہوگئے چہرے
تیز بارش ، گھر کی دیواروں کو ننگا کر گئی
رنگ سارے دھو گئی ہے کیا کہیں کس سے کہیں
کتنے بودے ہیں درختوں کے زمیں سے رشتے
جب ہوا تیز چلے جڑ سے اُکھڑ جاتے ہیں
***
شاعر کے مطابق انسان کو سچے جذبے اور ولولے کے ساتھ منزل کی آرزو کرنی چاہیے پھر جب وہ اسی حوصلے کے ساتھ اپنے مقصد کی تلاش میں منزل کی طرف نکل پڑے گا توسب راستے ہموار ہوجائیں گے اور منزلیں خود بہ خود اپنا پتادینے لگیں گیں۔اسی طرح شاعر نے جب جب اپنے خوابوں کی بلندیوں پر پہنچنا چاہا اور ان کی تکمیل چاہی تب تب انہیں یہ دنیا اپنے قدموں کے نیچے محسوس ہونے لگی اوراندازہ ہوا کہ انسان میں لگن ہے تو دنیا میں کیا کچھ ممکن نہیں ہے۔چنانچہ منزل کی جستجو میں ان کی راہ میں رکاوٹیں تک حائل ہوئیں ،ا ور ان سے نپٹتے نپٹتے یہی ان کی زندگی کا مقرب بن گئیں ۔ نتیجے میں ان کٹھن اور دشوار گزار راہوں نے ان کے حوصلوں میں اڑان بھر نے کا کام کیا۔چنانچہ کہتے ہیں:
چل پڑے اب تو سوچنا کیا ہے
منزلیں کیا ہیں ، راستا کیا ہے
قدم رکھنے لگوں جب اپنے خوابوں کی بلندی پر
تو یہ دنیا مجھے زیرِ قدم محسوس ہوتی ہے
پابہ زنجیر بھی اسی نے کیا
حوصلوں کی مرے ڑان بھی وہ
ناکام رہا کس لیے پھر بھی سفر اپنا
راہوں کا بھی ادراک تھا منزل کی لگن بھی
***
یادِ ماضی مخمور سعیدی کا محبوب موضوع ہے جس کا اظہار ان کی شاعری میں بار بار ہوا ہے۔ان کی پرانی شاعری یعنی اکیسویں صدی سے پہلے کی غزلیہ شاعری اور نئی شاعری آج کی شاعری سے مراد ہے جس میں یادِ ماضی کا الگ الگ سطحوں پر اظہار ہوا ہے اس کے علاوہ ڈکشن کی سطح پر بھی ان میں تبدیلی واقع ہوئی ہے۔۔ان کے یہاں ماضی ایک اہم علامت کے طورپر استعمال ہوئی ہے۔ مخمور سعیدی کی غزلوں میں گزری ہوئی خوشبوؤں کو دوبارہ محسوس کرنے کی آرزو ملتی ہے اس کا اندازہ اس شعر سے بخوبی ہوتا ہے جس میں وہ پرانے دنوں کو یاد کرنے کی کوشش کرتے ہیں اوران ہی یادوں سے جی کو بہلانا چاہتے ہیں شاید ان کا دل موجودہ صدی کے حالات وحادثات سے اضمحلال ہوچکا ہے۔ایسا بھی نہیں کہ پرانے سارے دن ان کے لطف میں گزرے ہوں بلکہ اب وہ غم ا ندوہ واقعات کوبھلانے میں ہی اپنی بھلائی سمجھتے ہیں۔لیکن ماضی میں مل جل کر رہنے کی جو پرمپرا یا روایت تھی اسے کسی حد تک متاثر بھی نظر آتے ہیں کیونکہ نئی صدی میں یکجہتی اور بھائی چارگی کی تشنگی شدت سے ستا رہی ہے کچھ شعر ملاحظہ کیجیے:
پرانے دِنوں کو پکاریں کسی دن
گیا وقت پھر سے گزاریں کسی دن
وہ بُرا ہوا کہ بھلا ہوا جو گزر گیا سو گزر گیا
اسے یاد کرکے نہ دل دُکھا جو گزر گیا سو گزر گیا
یاد آتیں ہیں وہ دن ،وہ راتیں
دل دُکھاتی ہیں پرانی باتیں
بستی میں کتنی رونق تھی
سب مل جل کر جب رہتے تھے
***
انور صدیقی مخمور سعیدی کی ماضی سے متعلق کی شاعری کے بارے میں اپنے ایک مضمون’’اردو شاعری کی نئی آوزا:مخمور سعیدی‘‘ میں یوں اظہارِ خیال فرماتے ہیں:
’’انھوں نے ماضی سے استمراری بندوبست نہیں کر رکھا ہے یا ماضی کی یادوں سے ان کی وابستگی صرف رومانی نوعیت کی نہیں ہے۔دراصل ماضی ان کے لیے علامت ہے ایک منظم اور مشترک طرزِ زندگی کا اس زندگی کا جو آج لمحہ لمحہ بکھرتی جارہی ہے اور فرد کو اس کے تمام تر جذباتی اور فکری رشتوں سے الگ کر رہی ہے۔پرانے شعرا زندگی اور تہذیب کی ہم آہنگی کے نغمہ گر تھے ۔آج کے شاعر اس شکستگی کے نوحہ گر ہیں۔‘‘
(مخمور سعیدی:ہمہ جہت فنکار،مرتبین: یم گوپال متل ،ارشد علی خاں،موڈرن پبلشنگ ہاؤس،دہلی،۲۰۱۳ء،ص۱۲۱)
مخمور سعیدی کے شعری مجموعہ ’’راستا اور میں‘‘ کئی اشعار ایسے ملتے ہیں جن میں خوف کی علامت نمایاں ہوئی ہے ۔ظاہر ہے یہ بھی عصرِ حاضر کے حالات کی ہی دین ہے ۔جس کے سبب ان کے ذہن و دل پر خوف و وحشت طاری ہوگئی ۔خوف و وحشت کے وہ احساسات ان کی غزلوں میں کہیں بالکل واضح انداز میں اور کہیں مبہم انداز میں حاوی ہوئے ہیں۔ان کی غزلوں میں خوف لفظ خارجی ماحول کی ہی دین ہے۔کیونکہ عصری زندگیوں کی سفاکیوں اور قتل و غارت گری کی وارداتوں،فرقہ وارانہ فسادوں اور ذات پات کے نام پر خاک و خوں کے ڈراموں نے مخمور سعیدی کے ضمیر اور باطن کو جنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔جس نے ان کے سکون و قلب کو متاثر کیا۔اب جسے وہ فرار حاصل چاہتے ہیں۔اس نوعت کے کچھ اشعار قارئین کی نذر،ملاحظہ کیجیے:
ہیں کس اندیشۂ قتل میں مہرومہ
خوف آلودہ شام و سحر ، اور میں
خوف ہے یا دِلوں کی دوری ہے؟
پاس بیٹھے ہیں سب ، مگر چُپ چاپ
اک ترے جانے سے گزری کیا خرابی شہر پر
جیسے وحشت ناک ویرانہ ، جہاں کوئی نہ ہو
دستِ وحشت نے اُلٹ دی ہے تمدن کی بساط
نقشۂ امن و امان درہم و برہم دیکھا
***
مخمور سعید ی کی نئی صدی کی غزلوں میں جہاں اخلاقی پستی کی طرف توجہ مبذول کی گئی ہے وہیں اس چمنِ ارضِ وطن ہندوستان کی کشادہ دل مٹی اور تہذیبی قدروں کو کوہِ دشتِ دامن کی وسعت کے مانند قرار دیا گیا ہے۔انھوں نے انسان کی غفلت شعاری،گم شدگی،بیگانگیت،غم زدگی،نفسی وذہنی پستی،رشتوں کی ناقدری،احساسِ کمتری،غیر تعلقی،زمانہ کی کربناکی ،کشت و خون وغیرہ وغیرہ کی اپنی غزلوں میں بہتر انداز میں منظر کشی کی ہے۔ماضی،منزل،غم،خوف،زمین،آسمان،اڑان،زندگی،
رہگذر،دھوپ،روشنی،آئینہ،سفر،گم شدہ،قدم،آشنا،نفس،بھیڑ،اکیلا،تنہائی،شہروغیرہ الفاظ کو ان کے علامتی اظہار کا آئینہ کہا جا سکتا ہے۔
’’راستا اور میں‘‘ کی بعض غزلیں اور نظمیں بیسویں صدی میں چھپی تھیں لیکن اس مجموعے میں شامل کر کے ان کی معنویت نئی صدی سے ممیز ہوگئی ہے۔انتخاب کا تجزیہ کرتے وقت اس بات کو صاف محسوس کیا جا سکتا ہے کہ اس میں انھوں نے ایک مخصوص موضوع کو ذہن میں رکھا تھا۔ اس کے علاوہ وہ اس صدی کو جو پیغام دینا چاہتے تھے اس میں وہ کامیاب ہوتے دکھائے دے رہے ہیں۔ مخمور سعیدی کی شاعری میں موجودہ صدی کی گونج سنائی دیتی ہے۔ان کی شاعری نصف صدی کا قصّہ ہے اس کے ساتھ ہی عہدِ حاضر کا مرثیہ بھی۔نصف صدی کا یہ پورا شاعر ہم سب کے لئے لائقِ احترام ہے۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

اردو میں تاریخ گوئی اور داستان گوئی کی روایت اور فن ..احمد مد سہیل

اردو میں تاریخ گوئی اور داستان گوئی کی روایت اور فن احمد مد سہیل تاریخ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے