سر ورق / مکالمہ / … حفیظ حسین طاہر۔۔۔ سعید واثق

… حفیظ حسین طاہر۔۔۔ سعید واثق

معروف شاعر اور متعدد ڈراموں کے ہدایت کار حفیظ طاہر خصوصی نشست

                حفیظ طاہر کا نام شعر و ادب اور ٹی وی کی دنیا میں کسی تعارف کا محتاج نہیں ہے۔ دونوں شعبوں میں ان کے تخلیقی ہنر سے ایک زمانہ واقف ہے اور نہ معترف بھی ہے۔ان کی خدمات کے اعتراف کے طور پر انہیں متعدد ایوارڈ سے نوازا گیا جبکہ انہوں نے بطور سیکرٹری حلقہ ارباب ذوق لاہور بھی نمایاں خدمات انجام دیں۔ گزشتہ دنوں روز نامہ ”وقت“کے لیے ان سے ایک خصوصی انٹرویو لیا گیا۔تفصیلات نذر قارئین ہیں۔

س۔ کیا شاعری محض تفنن طبع اور اپنے جذبات کے اظہار کا نام ہے یا اس سے سماج میں تبدیلی لانے کا کام بھی لیا جا سکتا ہے؟

ج۔۔شاعری کا تعلق شعور سے ہے۔ یہ ذریعہ ہے اس شعور کو آگے بڑھانے کا جو شاعر اپنے تجربے، مشاہدے اور جذباتی رویئے سے اخذ کرتا ہے ، یہ تفنن طبع بھی ہے ، اور اوپنین میکنگ(opinion making) کا کام بھی کرتی ہے۔ بڑے بڑے شاعر اپنے ملکوں میں انقلاب لانے کا باعث بنے ہیں، جیسے پاکستان میں علامہ اقبال ؒ ، فیض احمد فیض اور حبیب جالب جبکہ بیرونی دنیا میں چلی کا پا بلونیرودو اور بہت سے عظیم شعرا ہیں جن کے کلام نے اپنے قارئین اور سامعین میں ایک انقلابی ولولہ پیدا کیا۔

س۔ کہا جاتا ہے کہ شاعری بتدریج اپنی مقبولیت کھو ر ہی ہے، اس کی نسبت نثری اظہار یہ زیادہ فروغ پا رہا ہے، کیا آپ اس خیال سے متفق ہیں؟

ج۔۔ صرف شاعری ہی نہیں بلکہ نثر کی مقبولیت بھی کم ہوتی جا رہی ہے، کیونکہ لوگوں کا ذوق مطالعہ ختم ہوتا جا رہا ہے۔قاری کا کتاب سے رشتہ کمزور ہوتا جا رہا ہے۔اس کی کئی وجوہات ہیں۔ سب سے اہم وجہ مہنگائی ہے، ایک عام آدمی پانچ سو روپے کی قیمتی کتاب خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتا جبکہ آج کے نوجوانوں کے لئے تو سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ کا استعمال ہی سب کچھ ہے ، اور وہ اسے اپنی منزل سمجھتا ہے، دوسری اہم وجہ یہ ہے کہ اردو کا رسم الخط ہی غائب ہوتا جاتا ہے، جب آپ مائیکرو سافٹ میں اردو کی فائل کھولتے ہیں تو عربی رسم الخط ہوتا ہے۔ایڈورٹائرنگ والے اردو رومن میں لکھ رہے ہیں۔ دوسری طرف قومی زبان کے فروغ سے حکومت عملی طور پر لا تعلق نظر آ رہی ہے، اس نیک کام کے لئے بھی سپرم کورٹ کو ہی آگے آنا پڑتا ہے، آخر متعلقہ ادارے کب اپنی قومی ذمہ داریوں کو پہچانیں گے، اب تو شاعری کو بیکار کا کام سمجھا جاتا ہے، حالانکہ شاعری ادب کی بہترین صورت ہے۔ اب غالب کا یہ شعر ہی دیکھ لیں۔

                                ہے کہاں تمنا کا دوسرا قدم یا رب

                                ہم نے دشت امکان کو ایک نقش پا پایا

                تا ہم میں مایوس اب بھی نہیں ہوں کیونکہ اچھا شعر کہنے والے بھی موجود ہیں اور اسے سراہنے والے بھی۔

س۔شعر گوئی کا آغاز سکول کے دنوں میں ہی ہو گیا تھا یا کالج جا کر یہ سلسلہ شروع ہوا؟

ج۔۔چھوٹے موٹے شعر تو آٹھویں جماعت میں ہی کہنے شروع کر دیئے تھے تاہم باقاعدہ شاعر ی اسلامیہ کالج ریلوے روڈ میں شروع ہوئی جہاں اس حوالے سے پروفیسر خالد اور انجم رومانی نے میری رہنمائی کی۔ بی اے میں اسلامیہ کالج سول لائن میں جناب شہرت بخاری کی سرپرستی میں ہماری سخنوری کو زیادہ جلا ملی اور مشاعروں میں بھی شریک ہونا بھی شروع کر دیا۔ اس کے ساتھ ساتھ کالج کے جریدے ”فارون“میں تخلیقات اشاعت پذیر ہونی لگیں۔اب تک میرے دو شعری مجموعے ”زیر زمین “ ، ”آٹھواں رنگ“ منظر عام پر آ چکے ہیں۔کوشش ہے کہ تیسرا مجموعہ ”زہر عشق“ بھی جلد قارئین کے ہاتھوں میں آ جائے۔ پنجابی شاعری کی ایک کتاب بھی زیر تکمیل ہے۔اس کے علاوہ نثر کے میدان میں ”منزل منزل“ کے نام سے ایک ناول ڈیڑھ سال کے عرصے میں مکمل کیا ہے۔ کہنے کو تو یہ بچوں کا ناول ہے لیکن اس میں زبان کی صحت کا پورا خیال رکھا گیا اور دیگر ضروری لوازمات پر بھی پوری محنت کی ہے اس لئے توقع ہے کہ یہ بڑوں کے ذوق مطالعہ پر بھی پورا اترے گا۔ اس کے علاوہ ڈاکو مینٹری پروڈکشن کے نام سے بھی ایک فنی کتاب آنے والی ہے۔

س۔ بطور سیکرٹری حلقہ ارباب کیسا تجربہ رہا؟

ج۔۔میں نے ایک مشکل وقت میں حلقہ اربا ب ذوق کی باگ دوڑ سنبھالی۔ یہ اہم ادبی پلیٹ فارم دوحصوں میں تقسم ہو گیا۔ میں نے شاہد شیدائی صاحب کی بیماری کے باعث چھ ماہ تک اس کی جگہ سیکرٹری کے طور پر کام کیا اور بعد میں مجھے ایک سال کے لئے باقاعدہ سیکرٹری منتخب کیا گیا۔ پوری محنت کی، حلقہ کو فعال اور متحرک کیا۔ اجلاس کی حاضری بڑھ گئی اور ان میں نامی گرامی ادیبوں اور شاعروں نے شرکت کی۔ ادب کے فروغ کے لئے اپنی اس کاوش پر مجھے فخر ہے۔ اس سلسلے میں اکثر ممبران نے تعاون بھی کیا۔ بطور سیکرٹری حلقہ میں نے ذاتی طور پر بہت کچھ سیکھا اور یہاں ہونے والی استادان فن کی گفتگو کو سن کر اپنے تخلیقی کام کو بہتر کیا، البتہ اس موقع پر یہ ضرور عرض کرنا چاہوں گا کہ یہ ایک تھینک لیس کام ہے جس کا کوئی ریوارڈ نہیں ملتا۔بعد میں تو مجلس عاملہ بھی سابق سیکرٹری کا حال تک نہیں پوچھتی۔

س۔ آپ ادبی سرگرمیوں کو بہت زیادہ وقت دیتے رہے ہیں اس پر اہل خانہ کا ردعمل کیا ہوتا تھا؟

ج۔۔بہت شدید۔۔۔بطور سیکرٹری ہر اتوار گھر سے باہر گزرتا تھا اور رات گئے واپسی ہوتی تھی۔ بچے بھی اس پر خوش نہیں تھے تا ہم اس کی اپنی سرگرمیاں بھی ہوتی ہیں اس لئے وہ عموماًکسی ردعمل سے گریز کرتے تھے۔ بیوی بچاری گھر میں اکیلی بیٹھی میرا انتظار کر رہی ہوتی تھی۔ جب اجلاس کے بعد معزز مہمانوں کو ان کے گھروں میں ڈراپ کر کے اپنے گھر پہنچتا تو اہلیہ کے شدید ردعمل کا سامنا کرنا پڑتا اور وہ اس میں حق بجانب بھی تھی۔

س۔۔بطور ٹی وی پروڈیوسر اور ہدایتکار اپنے کام پر زیادہ فخر ہے یا شادی کو اپنا بڑا کارنامہ سمجھتے ہیں؟

ج۔۔یہ ایک مشکل سوال ہے۔ شاعر ی ایک تخلیقی کام ہے۔ ویڈیو گرافی یا پروڈکشن بھی تخلیق ہی ہے۔ ایک اچھا شاعر اچھا پروڈیوسر بھی ہوتا ہے۔ شاعر لفظوں سے امیجز بناتا ہے جبکہ پروڈکشن میں یہ کام کیمرے سے لیا جاتا ہے۔ اس کی مثال کے لیئے اپنے دو شعر پیش کرنا چاہوں گا۔

                                جب چائے میں مٹھاس ملاتے تھے تیرے ہاتھ

                                وہ کپ محبتوں کا سمندر لگا مجھے

                                دہلیز پہ کھڑی تو ہلاتی تھی ہاتھ جب

                                چاہر بڑا اداس وہ منظر لگا مجھے

                مندرجہ بالا اشعار میں بہت سے امیجز ہیں ۔ مجھے اپنے دونوں کام عزیز ہیں اور ان پر ایک جیسا فخر ہے اگر میں ٹی وی پروڈیوسر نہ ہوتا تو ممکن ہے میں زیادہ شاعری کر لیتا لیکن پھر آپ کو ”عینک والا جن“ جیسا ڈرامہ دیکھنے کو کہاں ملتا۔

س۔۔کیا ٹی وی ڈرامہ اب بھی ماضی جتنا ہی مقبول ہے؟

ج۔۔ٹی وی ڈرامہ تو شاید اب پہلے سے بھی زیادہ مقبول ہے اور اس کے ناظرین کی تعداد میں اضافہ ہی ہوتا جا رہا ہے تا ہم اگر آپ سرکاری ٹی وی کی بات کر رہے ہیں تو یہ اپنا ماضی والا مقام کھو چکا ہے اور اس کی عظمت رفتہ کو واپس لانے کے لئے ایک انقلابی آدمی کی ضرورت ہے جو غیر معمولی انتظامی صلاحیتوں کا بھی مالک ہو، اور وقت کو گھما کر اس قومی ادارے کا سنہری دور واپس لانے کا ہنر جانتا ہوتا ہم اس حوالے سے مجھے حکمرانوں سے کوئی امید نہیں ہے۔ انہوں تو ہمیشہ اس ادارے کو اپنے مفاد کے لئے استعمال کیا اور پھر ٹشو پیپر کی طرح پھینک دیا۔ آپ کو یاد ہو گا سرکاری ٹی وی کے لئے منگوائے گئے ائرکنڈیشنز زرداری صاحب نے اپنے گھوڑوں کے اصطبل میں لگوا لیئے تھے۔اب اس اہم ادارے میں کام کرنے والوں کا قحط الرجال ہے۔ ملازمین کو میڈیکل بل نہیں ملتے جبکہ کام کرنے والے فنکار معاوضے کے چیک وصول کرنے کے لئے خوار ہوتے پھرتے ہیں۔ یہ ادارہ میرے لئے ماں کی طرح ہے اس کی ابتر حالت پر دل گرفتہ ہوں۔ اسے موجودہ مقام پر لانے والے حکمران اور یونین ہے۔

س۔۔ کیا عوامی مقبولیت کسی فنکار کے بڑا ہونے کی دلیل ہے؟

ج۔۔کوئی مقبول فن کار ضروری نہیں کہ بڑا فن کار بھی ہو اور یہ بھی ضروری نہیں کہ کوئی مقبول فن کار یا شاعر بڑا فن کا ر نہ ہوتا ہم مقبولیت پانے کے اور بھی بہت سے طریقے ہیں۔ جن سے ہم سب بخوبی آگاہ ہیں، اس کے علاوہ ایک چیز نصیب بھی ہے جس سے کوئی نہیں لڑ سکتا۔ ہم جانتے ہیں کہ بعض اوقات کسی شاعر کا ایک شعر ہی مقبولیت کے اتنے بڑے درجے پر فائز ہو جاتا ہے کہ دیگر شعرائے کرام کے دیوان بھی اس کے ہم پلہ نہیں ہو پاتے۔اس کے علاوہ وقت ، جگہ اور فن کے اظہار کے مواقع بھی بڑی اہمیت کے حامل ہیں، میرا خیال ہے کہ اگر احمد ندیم قاسمی خوشاب کے انگہ جیسے دور افتادہ دیہاتی علاقے سے لاہور نہ آتے تو شاید ہو احمد ندیم قاسمی نہ بن پاتے۔دراصل بڑے شہر ایک وہیکل کی طرح ہوتے ہیں ورنہ اعلی اور معیاری شاعری تو اب بھی مضافات میں بھی بہت ہو رہی ہے۔ ان علاقوں میںمتعدد بڑے تخلیق کار موجود ہیں اور تھے جیسے مجید امجد، شکیب جلالی، ظفر اقبال اور دیگر بہت سے شعرائے کرام۔ ایسے ہی ایک شاعر غلام محمد قاصر کا ایک شعر دیکھیں۔

                تیری چاہت سے باز کیوں آﺅں

                مر ہی جاﺅں گا اور کیا ہو گا؟

                حفیظ طاہر کا کلام دیکھےے۔

کمال صد تخیل سے وفا کے پر بناتا ہوں

مکانِ شاعری میںروشنی کے در بنایا ہوں

سرابِ زندگی میں سر بریدہ لوگ پھرتے ہیں

دکان عشق پر ان کے لئے میں سر بناتا ہوں

کلی تخلیق کرتا ہوں لب دلبر کی نرمی سے

پھر اس کی خوشبوﺅں سے تتلیوں کے پر بناتا ہوں

جو میرے خیر کے منظر میں اپنا شرملاتے ہیں

میں ان کے سامنے پھر خیر کا منظر بناتا ہوں

جو سونے کے محل میں بیٹھ کر لوگوں پہ ہنستے ہیں

انہی کے واسطے میں آ گہی کا ڈر بناتا ہوں

دریچے روشنی کے اور ہوا کے در پہ ہوں طاہر

میں بچوں کے لیے کچھ اس طرح کے گھر بناتا ہوں

َّّّّّّّّّ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

میرے اظہار تمنا کا جلایا کاغذ

وہ مرا دل تھا مگر سب کو بتایا کاغذ

عین سے عشق لکھا ہونٹ کی آتش دے کر

اور پھر ہجر کی پھونکوں سے اڑایا کاغذ

ایک کشتی سی سرِ شام بنائی اُس نے

میرا دل اس میں رکھا اور بہایا کاغذ

روٹھ کر اٹھتے ہوئے رابطہ لکھ کر اپنا

جاتے جاتے مرے قدموں میں گرایا کاغذ

پہلے ملبوس پہ تحریر کیا جرمِ وفا

پھر سر بزم میرے تن پہ سجایا کاغذ

دفعتاً ڈور کٹی عشق بتاں کی طاہر

آسماں پر جو کبھی دل کا چڑھایا کاغذ

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

طاہر جاوید مغل سے مکالمہ ۔۔ سیف خان

      ایک شام طاہر جاوید مغل کے ساتھ (انٹرویو و تعارف) سیف خان …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے