سر ورق / افسانہ / ناری ۔ صبا ممتاز بانو

ناری ۔ صبا ممتاز بانو

  ناری ۔

صبا ممتاز بانو

سرمگیں نگاہوں میں ادائے دلربانہ لیے

گیسوئے دراز شانوں پہ بکھرائے

 ناری نے شب خوابی کے لبادے کو لہرایا اور

 پوری رات کے ماہتاب کے سامنے کھڑی ہوئی ۔

”چندا رے چندا۔ میں مانگوں تیری پریت۔“

چاند نے ٹکٹکی باندھ کر اس کی تر زلفوں کو دیکھا۔

کیسی پریت، دن بھر تو آفتاب کی آغوش میں

سوئے ،اور رات کو میرے پیار کو روئے۔

جا جا کہیں اور بسیرا کر۔ تو ناری ہے۔

تیرا میرا کیا ناطہ۔تیرے من کا اندھیار،بس نار ہی نار۔

وہ آنکھوں میں اشک لئے بولی۔

مجھے تو پریت تجھ سے ہے۔

تپش سے جھلستے بدن کو بس تیری تلاش۔

چاند نے اس کی آنکھوں میں جھانکا اور دھیرے سے بولا۔

پھر کیوں جاوے ہے تو سورج کے پاس ۔

وہ سن کر مسکائی اور پھر شرمائی۔

یخ بستہ بدن کوحرارت کی ضرورت ۔

چاند کی آنکھوں میں خفگی لہرائی۔

تو ناری ذات ہے، کسی کی نہ ہووے ہے۔

جو تیرا من مانگے ، جو تیرا تن مانگے۔

تو وہی کرت ہے۔ تجھ کوکیا اس کاڈر ؟

جو خاص ہے تیرے پاس بہت۔

تو جب سرپٹ دوڑے۔

آگا دیکھا نہ پیچھا۔“

 ناری کے دو آنسو اس کی پلکوں سے ٹکرائے۔

”سن او چندا،سن ۔اب میری بات تو غور سے سن۔

یخ بستہ بدن جب موت کی سرحدوں پر جاکر کھڑا ہو جائے۔

تو سورج موہے پاس آجاتا ہے۔“

چاند اس کی بات سن کر چمکا۔

”تیرے پاس آجاتا ہے یا تو اس کے پاس جاتی ہے۔

تو استری نازک سی ، کیوں برزخ کو پالے ہے۔“

ناری نے اپنے شب خوابی کے لبادے کو اٹھایا۔

”یہ دیکھ ، پیٹ لگاہے، پیٹ۔

میرے چہرے کو بھی جینا ہے۔میری آنکھوں کو، میرے منہ کو۔

میری چھاتیوںکو بھی

 یہ سب بھوجن مانگیں، بھوجن۔

یہ جو میری چھاتیوں سے چمٹے سائے ہیں۔

 سب بھوکے ہیں۔دودھ کہاں سے آئے گا۔؟

سب کے پیٹ لگے ہیں پیٹ۔

اس لئے جاوے ناری نار کے پاس۔

چاند یہ سن کر سسکا،تھوڑا سا جھجکا۔

چاندنی نے ردائے فردوس پھیلائی۔

ناری اس کے نیچے آئی۔

 

   شارٹ فکشن

   ہنڈیا۔

صبا ممتاز بانو

گاﺅں میںڈ ھنڈیا مچی ہو ئی تھی۔ بڑھیا کی ہنڈیا گم ہوگئی تھی۔

اس نے آسمان سرپر اُٹھا رکھا تھا۔ وہ بیچاری کرتی بھی کیا۔؟

اُ س کے پاس ایک ہی تو ہنڈیا تھی جس میں وہ کھانا پکاتی تھی۔

بھوک سے نڈھال بڑھیابادشاہ کے لنگر خانے کے باہر جا کر کھڑی ہوگئی۔

پہلا لقمہ لیتے ہی اس نے چلانا شروع کردیا۔

 اس بھوجن سے تو میری ہنڈیا کی خوشبو آتی ہے۔

چور چور یہ بادشا ہ چورہے۔ بادشاہ کے ہرکارے ہنسنے لگے۔

پاگل بڑھیا، بادشاہ کو چورکہتی ہے۔

بڑھیا چلاتی ہوئی اپنے قصبے میں پہنچ گئی ۔

 اس نے بیچ چوراہے پہ بادشاہ کی ہنڈیا پھوڑدی۔

بڑھیا کی بات سن کر سب ہنستے ، اس پر استہزائی جملے کستے۔

ایک رات قصبے کے ایک او رگھر کی ہنڈیا گم ہوگئی۔

بڑھیا کی جان میں جان آ ئی۔ اس نے چلا چلا کر لوگوں سے کہا۔

 ارے نادانو، جھوٹ کے پاﺅںتو نہیں ہوتے ہیں مگر سچ کے ضرور ہوتے ہیں۔بڑے بڑے،موٹے اور طاقت ور۔

ارے کم بختو ، اب بھی نہ بولے تو لُٹ جاﺅگے۔

 ظالم بادشاہ کے پجاریوںاندھی محبت کے مسافروں۔

منہ میں تالے لگانے والوکو کبھی انصاف نہیں ملتا۔

سب نے فیصلہ کیا کہ وہ اکٹھے ہوکر قاضی کے پاس جائیں گے

مل کر سب دہائی دیں گے۔رولا رپا ڈالیں گے۔

سب مل کر قاضی کے پاس پہنچ گئے۔

بادشاہ کے ہرکارے بھی ان کے ساتھ مل گئے۔

قاضی نے بادشاہ کوحکم دیاکہ وہ سب کی ہنڈیا واپس کردے۔

سب کے چہرے کھل اُٹھے۔” اب راج کرے گی خلق ِخدا۔“

ہوکے رہے گا انصاف،مل کے رہے گا انصاف۔

دہائیاں نگر نگر ،کوچے کوچے جاتی رہیں۔

کچھ مراد پاتی رہیں،کچھ بھٹکتی رہیں۔

امیدوں کی دنیا ابھی آباد ہوئی ہی تھی کہ

بادشاہ بوریا بستر سمیٹ ملک سے نکل گیا۔

بھوکے لوگ اپنی ہنڈیا کے لئے دہائی دیتے رہ گئے۔

  مائکرو فکشن

  عورت کمیٹی۔

۔صبا ممتازبانو

 اجلاس جاری ہو چکاتھا۔ چھوٹے سے منہ والے سیکرٹر ی نے اپنی چھو ٹی چھوٹی آنکھوں پر چشمہ لگایا۔

 فرداً فرداًسب ارکان کو دیکھا۔کورم پورا تھا۔ زیرلب مسکراہٹ اس کے ہونٹوں پر رینگنے لگی ۔

”آ ج تو سب حاضر ہیں اورکیوں نہ ہوتے؟۔بھئی آج عورت کمیٹی کا انتخاب جوہے۔“

 مسکراہٹ بڑبڑاہٹ میں بدل گئی۔سب سمجھ گئےسمجھ دار تو تھے۔

 باچھیں کِھل کر کانوں تک آگئیں۔

 اندر اجلاس جاری تھا اورباہر انبوہ تھا۔

گندے مندے ، صاف شفاف،اُجلے میلے،بے قرار مرد۔

گندی مندی، صاف شفاف ،میلی اُجلی،مضطرب عورتیں۔

خداخدا کرکے اجلاس ختم ہوا، دروازہ کھلا،سیکرٹری صاحب ایک ہاتھ سے چشمہ دوسرے ہا تھ

سے پتلون سنبھالتے ہوئے باہر نکلے ۔سب کی بے کل نگاہیں اس کی طرف اُٹھ گئیں۔

  ”تھا جس کا انتظار وہ شاہکار آگیا۔“

  سیکرٹری صاحب نے اپنے ہاتھ میں پکڑی فہرست کو پیار سے دیکھا

 اوربآواز بلند نام پکارناشروع کردئیے۔

 اُدھر فہرست مکمل ہوئی ، اِدھر طوفان ِ بد تمیزی برپا ہوگیا۔

 میلی عورتوں نے اُجلی عورتوں کو دیکھا اور ٹھٹھے بازی شروع کردی۔

 اُجلی عورتوں نے شرم سے سر جھکا لئے۔ ”آہ تھو ۔۔۔شریف عورتوں کی نمائندہ فاحشہ عورتیں۔“

 اُجلی عورتوں کے قدم واپسی کو مڑ گئے۔مردوں کی بستی میں مردُودُوں کی اجارہ داری تھی۔

گندی ترین عورت جسے راجکماری بنایا گیا تھا،شیطانی مسکراہٹ پھنکارتی ہوئی

 ہجوم میں سے نکلی اور نیم برہنہ ہوکر رقص شروع کردیا۔

  ”آہا میں ہوں راجکماری ۔ میں ہوں راجکماری۔“

 مردوں کی آنکھوں میں راجکماری اور اس کی سہیلیوں کی ننگی شبیہ ابھرنے

 اور کانوں میں بلبلوں کی چہکار گونجنے لگی۔

 گندی راجکماری نے دست بدست کھڑے مردوں کو دیکھا۔

 بوالہوسی کے بت نگاہوں میں ہوس لئے کھڑے تھے

 مدہوش ساعتیں گزریں تو مردوں نے گندی راجکماری کو اپنے کاندھوں پر اٹھا لیا۔

 ہاتھ ہاتھوں سے ملنے لگے۔بدن ابدان سے ٹکرانے لگا۔۔

 ان کے چہروں سے خباثت ٹپک رہی تھی اور ابدان سے بو اُٹھ رہی تھی۔

 میلی راجکماری کے بھدے تن نے تشکر کی انگڑائی لی۔ اس کا انگ انگ مچل رہا تھا۔

 مردوں کی چشم تصور پر راجکماری کے برہنہ ہیولے رقص کررہے تھے اور ان کاتن تن گیاتھا۔

گندی راجکماری کی آنکھوں میں بے حیائی اُمڈ رہی تھی۔لہنگے میں بلبل رقص کررہی تھی۔

 مردُود خوشی سے اچھلنے کودنے لگے۔

 بھلی بستی میں ارتعاش برپا تھا۔پاک عورتیں شرم وحیا کی بیڑیاں پہنے ہوئے تھیں۔

  اور ایک فاحشہ کے سر پر بدن کی تپسیا کا تاج چمک رہا تھا۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

بانو زلیخا ۔۔طلحہ کھرل

                              …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے