سر ورق / افسانہ / میرے بچپن کا بند کمرہ ۔۔۔ناصر صدیقی

میرے بچپن کا بند کمرہ ۔۔۔ناصر صدیقی

میرے بچپن کا بند کمرہ

ناصر صدیقی

                میرے کمرہ آج بھی موجود ہے۔

                میری جوانی سے لیا گیا” نو انٹری“ کی بے بسی کا نوٹس بورڑ اپنے اَن دیکھے ماتھے پر لٹکائے مےرے ہمسائے کا وہ گھر جہاں میں اپنے بچپن میںقصّے کہانیاں سننے جایا کرتا تھا اور کبھی کبھی قصہ سنتے سنتے نہ جانے کس کے زانو پر سر رکھ کر سو جاتاتھا، اس کمرے کو اپنی قید میںبندکرکے ہمیشہ سے میرے تجسس کو آزماتا رہا تھا ۔ ”اس کمرے میں کس کس نے سانسیںلی تھیں، کون کون سویا ہوگا؟“جیسے سوال مجھے اکژ ستاتے رہتے تھے۔ ابھی پچھلے ہفتے ہی میں نے اپنے بوڑھے پڑوسی سے پوچھا تھا تو انھوں نے بتایاتھا، ”بیٹا،جب میرے والد صاحب نے یہ گھر خریدا تھا تو یہ کمرہ تب بھی اسی طرح بند، اجڑا ہوااور بوسیدہ تھا، دروازہ اسی طرح دھنسا ہوا، کھڑکیاں بند اور چھت اندر کو گری ہوئی تھی ۔ ہمیں اس کی ضرورت ہی نہیں رہی تھی، نہ کھول دیا نہ گرایا۔ ممکن ہے اب میں یہاں ایک ”کچن“ تعمیر کراﺅں۔کچھ لوگ کہتے ہیں منحوس کمرہ ہے لیکن__ “وہ کھانسنے لگے تو میں نے موضوع ہی چھوڑ دیا تھا۔

                ایک رات میں اپنے بستر پر تھا کہ میں نے دیکھا کہ دن کی مدہم روشنی میں، میرے بچپن کے”بند کمرہ“ میں، ایک پرانے پلنگ کے چوڑے بستر پر دو پختہ عمر کی عورتیں پاس پاس لیٹ کر ہنستی مسکراتی باتیں کر رہی ہیں۔ چہرے شناسا نہیں تھے لیکن دونوں میں خوبصورتی اور جوانی کی دلکش شعاعیں نکل رہی تھیں۔

                اچانک دروازہ کھلا__ دونوں بیک وقت چونک گئیں۔ دروازہ کھولنے والا کوئی آٹھ ، نو سال کا بچہ تھا جس کے ہاتھ میں موم بتیاں تھیں۔

                ”ارے یہ بچہ تو میںخود ہوں!“ میں چونک گیا۔ جب وہ قریب آیا تو میں نے دیکھا وہ بچہ میں نہیں، کوئی اور ہے۔

                دونوں میں سے ایک نے اٹھ کر بچے کے ہاتھ سے موم بتیاں لیں اور آکر انھیں بستر کے نیچے چھپا سا لیا۔ دوسری نے بچے کی طرف ایک اٹھنی اچھال دی تھی۔ ایک خوش چہرہ لئے بچہ اٹھنی اٹھا کر باہر چلا گیا تودونوں ایک دوسرے کی طرف دیکھ کر مسکرانے لگیں۔

                ”باہر گرمی ہے___اندر کچھ زیادہ ___موم تک پگھل سکتی ہے، ہے نا؟”اٹھنی اچھالنے والی نے پوچھا۔

                ”ہاں! بہت گرمی ہے۔ آج زور کی بارش ہوگی دیکھنا۔“ دوسری نے جواب دیا۔

                ”ہاں لگتا تو ایسا ہی ہے۔“ پہلی نے تائید کی۔ پھر اپنے ہاتھوں کو دیکھ کر بولی، ”کےوں نا آج ہم مہندی لگائےں؟“

                ”چلو لگاتے ہیں۔“ دوسری نے اٹھکیلی سی کی۔

                پھر میںنے دیکھا کہ دونوں کے سامنے ایک گیلی مہندی سے بھرا تھال رکھا ہوا ہے اور دونوں ایک دوسرے کو مہندی لگارہی ہیں۔اپنا ایک ایک ہاتھ مہندی لگوا کر دونوں مہندی سوکھنے کا انتظار کرنے لگیں__کچھ دیر گزری تو ان میں ایک حیران سی ہوکر پوچھنے لگی:                                   ” سیما! مہندی تو ہم نے ایک ساتھ لگوائی۔ تمہاری اب تک گیلی سی ہے، میری جلدی سوکھ کیسے گئی ہے؟“

                ”شاید اس لئے کہ تجھ میں گرمی کچھ زیادہ ہے۔ “ دوسری نے آنکھوں میںہلکی شہوت لا کر جواب دیا۔ اس پر سیما مہندی کے رنگ کی طرح شرم سے لال ہوگئی۔

                شام کو گرج چمک کے ساتھ بارش آگئی۔

                دوسری نہیں، سیما نے اٹھ کر کھڑکی کھول دی۔ تب میں نے دیکھا کہ میرے بچپن کے میرے پڑوسی کے گھر کے صحن میں خوب بارش برس رہی ہے اورپانی کے بلبلے بن رہے ہیں۔”یہاں، اس کھڑکی سے بارش کا منظر تو بہت ہی دلفریب لگتا ہے۔“ دل میں سوچ کرمیںخوش ہونے لگا۔

                ”رتنا!__آج چراغ میں زیادہ تیل ڈالنا۔“ کھڑکی بند کر کے سیما بستر کی طرف آنے لگی۔

                ”کیوں؟ کیا ساری رات جاگوگی ؟“ رتنا نے مسکرا کر پوچھا۔

                ”نہیں !“ سیما شرمانے لگی،” میںآج کی رات اپنی پرانی چیزوں کو دیکھوںگی۔“

                رات ہوئی تو سیمانیچے بیٹھ کراپنی پرانی چیزوں کو الٹ پلٹ کرنے لگی۔ رتنا بستر پر لیٹی ہوئی تھی جو کبھی سیما کی طرف دیکھتی جاتی تو کبھی اپنے خیالوں میں کھو جاتی۔ کچھ دیر گزری توچند چیزیں سمیٹ کر، چند تہہ کر کے اورکچھ لے کر سیما اٹھی اور چل کر چراغ کو بجھادیا۔

                ”روشنی کیوںگل کر دی؟“اندھیرے میں رتنا کی آواز آئی۔

                ”میں کپڑے بدل رہی ہوں۔“

                ”کوئی شرمائے تو تم جیسا__“ اندھیرے میں ایک دھیمی ہنسی روشن ہوئی۔

                چراغ دوبارہ روشن ہوا تو میں نے دیکھا کہ دونوں پاس پاس بستر پر لیٹی ہوئی ہیں۔ انھیں اندھیرے میں سونا اچھا نہیں لگتا ہے__ مجھے یہی دکھائی دینے لگا تھا۔

                رات کا نہ جانے کونسا پہر تھا جب رتنا نیند میں کروٹ لے کر اوندھی ہوگئی تو سینے کے نیچے سیما کا ہاتھ آگیا۔سیما جاگ رہی تھی ،سہم کر، شرماتے ہوئے اپنا ہاتھ کھینچنے لگی۔رتنا کے جسم کا بوجھ زیادہ تھا، ہاتھ کھینچنے میں ،کچھ”دیر“ ہونے لگی۔ ہاتھ کھینچ کر سیما فوراً منہ دوسری طرف کر گئی۔                        ”رتنا کے گوشت بھرے کولہوںکی شہوت انگیز اٹھان کی برداشت اب مجھ میں بے حد کم ہوتی جا رہی ہے۔“ یہی سوچ کر جب میں نے اپنے ذہن اور آنکھوں کا گھماﺅ کہیں اور کر دیا تو دیکھا کہ اب صبح ہوچکی تھی اور کھلی کھڑکی سے باہر ،صحن میں، ایک گلاب کا سرخ پھول نظر آرہا تھا جس پہ پڑی شبنم کی بے ترتیب بوندیں جیسے کچھ کہنے لگی تھیں یا کئی سوال اٹھاتی تھیں۔”یہ کس کا گلاب ہے؟“ یہ سوال بھی فوراً میرے دل میں گھر کرگیا تھا ۔

                پھر دوپہر ہوئی۔

                اب دیکھا کہ فرش پہ بیٹھ کرسیما، رتنا کے گھنیرے بالوں کو سنوارنے لگی ہے۔پاس ہی چند پرانی طرز کے کلپ، ربن اور تیل کی شیشی پڑی ہوئی تھی۔

                ”میری اپنی کوئی بچی ہو تی تو میں اس کے بالوں کو اسی طرح سنوارتی ۔“ سیما کی آواز کمرے کو سوگوار کرگئی۔

                ”مجھے ہی اپنی بچی سمجھو__“ رتنا بولی اور پھر اچانک رونے لگی جیسے کوئی دورہ پڑا ہے۔

                ”کیا ہوا ہے رتنا؟__ اچھا،اچھا، تم ہی میری بچی ہو، اب تو چپ ہوجا“ لیکن رتنا اور بھی زیادہ رونے لگی۔ سیما گھبرا گئی، جیسے رتنا ہی اسکی اپنی بچی ہو،”اچھا یہ لو___“ یہ کہتے ہوئے سیما نے اپنی قمیض آگے سے اٹھادی۔ پستان بہت ہی صحت مند اور بھرپور تھے، رتنا کو چپ ہی کراسکتے تھے اور وہ چپ بھی تھی ۔کمرے میں اب صرف کسی بچہ کی اپنی ماں کی چھاتی چوسنے کی آواز آنے لگی تھی۔

                اچانک کمرے کا دروازہ کھلا اور ایک پگڑی باندھے، گھنی مونچھوں والا شخص اندر داخل ہوا جو یہ رواں منظر دیکھ کر غصہ میں آگیااور اپنی کمر پہ بندھا خنجر نکال کر دونوں کی طرف بڑھنے لگا۔ اسکی تپش سے بھری آنکھیں اور چمکتا خنجر دیکھ کر میں خوفزدہ ہوگیا، بھاگنے لگا اور___؟

                اور ماں کے پاس آگیا۔

                ”کیاہواہے بیٹے! تم اتنے گھبرا کیوں رہے ہو؟ ماں نے مجھے دےکھ کرپوچھا۔

                ”نہیں تو__؟“ میں نے سنبھل کر کہا،” امّی ! یہ رتنا اور سیما کون ہیں؟“

                ”یہ نام تمہیں کیسے معلوم؟“ماں حیران رہ گئی،” یہ نام تو میں نے اپنی نانی امّاں کی زبانی سنے تھے۔ تمہاری نسل کے لوگ توانھیں جانتے ہی نہیں!“

                ”ابھی کچھ دیر پہلے، نہ جانے خواب تھا، خیال تھا، لاشعور تھا یا کچھ اور جس کے زور پہ میں نے اپنے ہمسائے کے گھر کا بند کمرہ کھولا تھا تو یہ دونوں وہاںموجود تھیں۔“

                ”کیا واقعی!“ ماں اور بھی حیران رہ گئی،”یہ تو جادو ہے!“

                ”جادو نہیں امی، کوئی اور چیز ہے۔ اب انکے بارے میں بتائیے نا۔“ میں نے اصرار بھرا انداز اپنایا۔

                ”خیر جو بھی ہو۔“ ماں اب بھی حیران سی تھی،” میں نے انکے بارے میں یہ سنا تھا کہ دونوں سہیلیاں تھیں، یہ ہمارے محلّے کی تھیں، بلکہ ہمارے پڑوس کی۔ کچھ لوگ کہتے تھے کہ یہ یہاں نہیں کسی اور گاﺅں میں رہتی تھیں۔ دونوں کو قتل کیا گیا تھا۔ دونوں نے خود کشی کرلی تھی، بعض لوگ یہ بھی کہتے تھے۔ بہر حال جتنے منہ اتنی باتیں، لیکن یہ سچ ہے کہ دونوں بڑی خوبصورت عورتیں تھیں البتہ ان کے لئے کوئی رشتہ نہیں آیا، پتہ نہیں کیوں؟ بس مجھے اتنا معلوم ہے۔“ یہ کہہ کر ماں رک گئی۔

                دوسرے دن ، دوپہر کو جب ہلکی پھوار میں بھیگے ہوئے میں گھر پہنچا تو سب سے پہلے میری نظر گلاب کے پھولوں پہ پڑی جو گیلا پن کے آثار لئے ہوئے تھے۔ اپنے ”کمرے“ میں آیا تو وہاں ایک حےرت اپنے بال کھولے میرا انتظار کر رہی تھی:

                میری بیوی، ہمارے ہمسائے کی غیر مذہب لڑکی، جس کے ہاتھوں میں گیلی مہندی لگی ہوئی تھی، کی پشت پہ اپنے گھٹنے ٹیک کر اس کے بالوں کو ایسی تنو مندی اور چاہت سے سنوارنے لگی تھیں کہ انکا سینہ اٹھ سا گیا تھا اور کئی سالوں سے مامتا کو ترسی ہوئی اور خود سے بھری بھری چھاتیاں اور بھی تن گئی تھیں۔

                یہ سب کیا ہے__؟ میرا ہاتھ لاشعوری انداز میں، میری کمر پہ بندھے خنجر کی طرف بڑھنے لگا۔

                مجھے دیکھ کر بیوی گھبرا اٹھیں، کنگھی کرنا چھوڑ کے لڑکی سے بولیں،” اب تم چلو، میرے شوہر آگئے ہیں۔“وہ چلی گئی تو ایک مسکان لئے کہنے لگیں، ”منّت کررہی تھی کہ میرے بال کنگھی کر___“

                ”نہیں! خبردار! وہ بچی تھوڑی ہے! اس کے تو__“ میں رک گیا دو چھوٹے چھوٹے پستان میرے ذہن کی اسکرین میں اب بھی موجود تھے۔ ”اسے مہندی بھی تم نے لگائی ہوگی۔“ میںنے مزید پوچھا۔

                ”ہاں!“ انھوںنے پراعتماد لہجہ میں جواب دیا۔

                بیوی کا ”جواب“ میری طبیعت پھر خراب کر گیا ۔ گھٹن ہٹانے، کھڑکی کے پاس آیا کہ اسے کھول کر باہر کے موسم سے خوش ہوجاﺅں۔

                ”کیا نام تھا لڑکی کا؟ “ کھڑکی کھول کر میں نے یونہی پوچھ لیا۔

                ”رتنا۔“ میری بیوی ”سیما“ نے جواب دیا تو میں چونک گیا۔

                                                                                (ختم شد)

                    (۰۰۰۲ء تا ۔یکم اپریل۸۱۰۲ء)

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

 وارث ..شمسہ نجم

وارث شمسہ نجم        نام تو اس کا نیلی تھا لیکن چہرے پر …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے