سر ورق / افسانہ / آوارہ عورت۔۔۔شہباز اکبر الفت

آوارہ عورت۔۔۔شہباز اکبر الفت

آوارہ عورت
شہباز اکبر الفت

کہانی اور زندگی کا آپس میں اٹوٹ رشتہ ہے،کہانیاں زندگی سے کشید ہوتی اور زندگی کے ساتھ ہی آگے بڑھتی ہیں،جہاں زندگی رک جائے، وہاں کہانیاں بھی جمود کا شکار ہوجاتی ہیں،کہانی کار کبھی کہانی کی تلاش میں ہلکان نہیں ہوتا، سیل رواں کی طرح بہتی ہوئی زندگی کے کسی کونے پر چپ چاپ کھڑا ہو جاتا ہے اور کہانیاں اس کو اپنے اردگرد،آس پاس ہر طرف بکھری،خود سے لپٹی ہوئی مل جاتی ہیں
پہلی بارمیں نے اسے ایک شاپنگ مال کے باہر دیکھا تھا، دوسری مرتبہ ایک سینما کی پارکنگ لاٹ میں اور تیسری دفعہ ایک فاسٹ فوڈ ریسٹورنٹ کی میز پر، پہلی نظر میں ہی وہ مجھے کوئی اچھی عورت نہ لگی، ڈھلتی عمر کے باوجود جسم پر بھڑکیلا لباس ،چہرے پر میک اپ کی موٹی تہہ اور اس پہ مستزاد اس کی مشکوک حرکات،اس کی نظریں مسلسل حرکت میں تھیں، ہر آنے جانے والے کا اس طرح بغور جائزہ لے رہی تھی ، جیسے کسی کو تلاش کر رہی ہو، ایک دو بار مجھ سے بھی نظر ملی تو میں گڑبڑا کر رہ گیا ، لاتعلقی ظاہر کرنے کے لیے ادھر ادھر دیکھنے کی کوشش کی لیکن نہ چاہنے کے باوجود بھی نظر دوبارہ اسی پر جا کر ٹک جاتی، نہ جانے اس کی آنکھوں میںایسی کےا بات تھی کہ میں نے ہمیشہ خود کو اس کی طرف کھنچتا ہوا محسوس کیا
” گشتی ہے صاحب“ ویٹر نے کھانا سرو کرتے ہوئے سرگوشی کی
٭٭٭
ٓیہ بڑے بڑے ادیب اور فلاسفر محبت کے بارے میں اپنے الگ الگ نکتہ نظر سے اکثر مجھے الجھا دیتے ہیں ،کبھی کبھی تو اپنے جذبوں کی صداقت پر بھی شبہ ہونے لگتا ہے،حیران ہوں کہ آخر یہ موئی محبت ہے کیا چیز ،اگر صنف مخالف میں کوئی کشش محسوس ہوتی ہے، اس کا سراپا، چال ڈھال،گفتگو، لہجہ اچھا لگتا ہے، دل کو بھاتا ہے، اس میں اپنایت محسوس ہوتی ہے، اپنا بنانے کو دل کرتا ہے،دوری سے دل تڑپتا ہے، قربت کی خواہش پیدا ہوتی ہے تو کیا یہ محبت نہیں ہے؟
کیا محبت صرف ہجر کے آزار کا ہی نام ہے اور وصل کی خواہش صرف گناہ اور ہوس؟
میرا ایمان ہے کہ محبت کبھی دکھ نہیں دیتی، دکھ ہمیشہ ان سے ملتا ہے جن کو کبھی ٹوٹ کر چاہا ہو اور وہ کوشش کے باوجود بھی اس کی قدر نہ کرسکیں، امامہ کی بے وفائی نے بھی ایسا دکھ دیا ،جس کا کوئی مداوا ہی نہیں تھا، میں کبھی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ ایک دن وہ لڑکی بھی مجھے چھوڑ دے گی جس نے میرے ساتھ جینے مرنے کے وعدے کیے تھے،ساتھ نبھانے کی قسمیں کھائی تھی، امامہ کو میں نے اس قدر ٹوٹ کر چاہا تھا کہ اس کے بغیر سانس لینے کا تصور بھی محال لگتا تھا، یونیورسٹی کے پہلے دن سے وہ میرے ساتھ تھی اوراب ہم جاب بھی ایک ہی جگہ کر رہے تھے،اس کی محبت ہی میری سب سے بڑی قوت تھی جس نے مجھے آگے بڑھنے اور کچھ کر گزرنے کا حوصلہ دیا تھا،جب جاگتی آنکھوں کو خواب دیکھنے کی عادت پڑ جائے تو پھر نیند کہیں پلکوں پہ ہی دھری کی دھری رہ جاتی ہے، اسے اپنانے کی دھن میں دن اور رات کی تمیز کیے بغیر مسلسل محنت کر رہا تھا،میں نے سوچ رکھا تھا کہ اپنا ذاتی فلیٹ خریدتے ہی اس کے ساتھ شادی کر لوں گا، وہ بھی میرا بھرپور ساتھ دے رہی تھی، سب کچھ ٹھیک ٹھاک چل رہا تھا کہ اچانک تابش کی آمد نے سب کچھ تہس نہس کر دیا ، کری ایٹو مائنڈانٹرٹینمنٹ جہاں امامہ انٹریئر ڈیزائنر اور میں بطورسکرپٹ ایڈیٹرکام کر رہا تھا، تابش ایکٹنگ کے شعبہ میں قسمت آزمائی کے لیے آیا، قبول صورت ہونے کے باوجود اس کے اندر بلا کی خود اعتمادی تھی، ہینڈسم ، ویل ڈریس اور ڈرامائی سے لہجے میں مکالموں کی ادائیگی کا ہنر ہی سب کو اس کی طرف متوجہ کر دینے کے لیے کافی تھا، اوپر سے سکرین ٹیسٹ پاس کرنے کے بعد اسے میرے نئے ڈرامے کے لیے مرکزی کردار میں بھی کاسٹ کر لیا گیا، امامہ کی طرف اس کے جھاکاﺅ کو میں نے پہلے دن ہی محسوس کرلیا تھا لیکن مجھے اپنی محبت پر اعتماد تھا، اگر میں نے اس کے علاوہ کسی کی طرف آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھا تھا تو وہ کیسے بدل سکتی تھی؟
٭٭٭
اب سمجھ آئی تھی کہ محبت کے سارے فلسفے لفظوں کا گورکھ دھندہ، حقیقت میں یہ زندگی کی بساط پر پھیلا ہوا شطرنج کا وہ کھیل ہے جس میں کسی شاطر کی ایک چال، ایک مہرہ بھی پانسہ پلٹ کر میرے جیسے اناڑی کو شہ مات دے سکتا ہے، امامہ بارے میرے تمام دعوے بھی ریت کی دیوار ثابت ہوئے تھے، تابش کے ساتھ اس کی ہلکی پھلکی نوک جھونک اور ہنسی مذاق نے اب سنجیدہ صورت اختیار کرلی تھی، جس دن شوٹ نہ ہوتی، امامہ کی بے چینی دیکھنے لائق ہوتی، تابش کی کال پر وہ سارے کام چھوڑ کر اپنے کمرے میں گھس جاتی اور گھنٹوںاس کے کمرے سے ابھرنے والی سرگوشیوں اور دبے دبے قہقہوں سے میرا دل لرزتا رہتا،اب اس کا رویہ بھی بدل گیا تھا، لہجے میں سردمہری، آنکھوں میں بے اعتنائی، گفتگو میں اختصار سے بھی واضح تھا کہ اسے اب میری ضرورت نہیں رہی، کبھی کبھی ہم جس محبت کے لئے اپنی پوری زندگی تیاگ دیتے ہیں،آخر میں وہ نری حماقت اور وقت کا ضیاع ہی ثابت ہوتی ہے، تب احساس زیاں سے بہتے آنسو بھی گزرے وقت کا مداوا نہیں کر پاتے، میں اکثر سوچتا ہوں کہ آخر ہمیں ہمیشہ انہی لوگوں سے پیار کیوں ہوجاتا ہے، جنہیں نہ ہماری ضرورت ہوتی ہے، نہ ہمارے پیار کی، گلہ محبت کا گلہ گھونٹ دیتا ہے، جب کہنے اور سننے کو کچھ باقی نہ رہے تو خاموشی سے پیچھے ہٹ جانا چاہئے، بے ثمر رفاقتوں کو سینے سے لگائے رکھنے میں کبھی دکھ کے سوا کچھ نہیں ملتا، میں بھی اسے اس کے حال پر چھوڑ کر خاموشی سے پیچھے ہٹ گیا
”دیکھو! میں جانتا ہوں کہ اس میں تمہارا کوئی قصور نہیں،ساری غلطی میری ہے، تم نے تو ہمیشہ میرا ساتھ نبھانے کی ہمیشہ پوری کوشش کی، میری ہر کمی اور کوتاہی کو نظر انداز کیا، محبت میں اپنی ہر ناکامی کا ذمہ دار بذات خود میں آپ ہوں،مجھے یقین ہے کہ تم میرے بغیر بھی خوش رہ سکتی ہو، مجھے چھوڑ کر تمہیں کوئی فرق نہیں پڑے گا لیکن ….. لیکن ایک بات ہمیشہ یاد رکھنا، تم سے بچھڑ کر بھی میں ہمیشہ صرف تمہارا ہی رہوں گا، یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ کسی اور کو تمہاری جگہ دے دوں،تمہارے علاوہ نہ کسی کو سوچا ہے اور نہ ہی سوچنے کی ہمت،زندگی کے کسی پل،کسی بھی موڑ پر، جب دل چاہے، پلٹ کر دیکھ لینا، ہمیشہ اپنا منتظر پاو ¿گی، تمہاری یادوں کے سوا کوئی دوسرا میرے ساتھ نہیں ہوگا“ ڈرامے کا ایک مکالمہ لکھتے ہوئے میری آنکھیں بھر آئی تھیں
لیکن میں اس آوارہ سی عورت کو کیوں گھورے جا رہا ہوں ؟
٭٭٭
اس کا نام شبنم تھا، پیشہ ور عورت تھی، کئی سالوں سے دھندہ کر رہی تھی، شام ڈھلے کسی چوراہے، پارک، شاپنگ مال، سینما یا ریسٹورنٹ میں مل جاتی، اس کے گاہکوں میں ہر قسم کے لوگ شامل تھے، اس کو صرف پیسے سے مطلب تھا، جو دام بھرتا، اس کے ساتھ چلی جاتی، یہ ساری تفصیلات مجھے اسی ویٹر نے بتائی تھیں جس نے اس کا تعارف گشتی کہہ کر کروایا تھا، ویٹر کے زرا سے اشارے پر وہ مکمل خود اعتمادی کے ساتھ اٹھ کر میری میز پر آگئی اور تھوڑی دیر بعد ہی معاملات طے ہو گئے
٭٭٭
” کچھ اپنے میں بتاﺅ“ میں نے شراب سے بھرے ہوئے گلاس کا آخری گھونٹ بھی اپنے معدے میں اتارا تو اس کی تلخی پورے وجود میں گھل گئی, سگریٹ کے کش لگاتے ہوئے دھویں کا مرغولہ ہوا میں چھوڑ کر سوال داغا, مجھے اس کے بارے میں جاننے سے کوئی دلچسپی نہیں تھی, کچھ وقت گزار کر اپنی گھبراہٹ کو کم کرنا چاہ رہا تھا
” کیا کرو گے جان کر، میری زندگی تو ہمیشہ سے ایک کھلی کتاب ہے، لوگ پڑھتے ہیں، سمجھتے ہیں اور چھوڑ جاتے ہیں“ اس کے لہجے میں تلخی ابھر آئی
” ہونہہ“ میں نے ہنکارا بھرا ” دراصل یہ میری زندگی کا پہلا موقع ہے ، اس سے پہلے آج تک نہ کبھی شراب کو ہاتھ لگایا نہ کسی عورت کے پاس گیا“ میں نے پوری ایمانداری سے کہا
” اوہ، صحیح ، تو آج یہ سب کیوں؟“ اس نے حیرت سے میری آنکھوں میں جھانکا، قمیص اتارتے ہوئے اس کے ہاتھ رک گئے تھے
” بھولنے کا ہے، سب کچھ بھولنے کا “ میں نے بوتل اٹھا کر دوبارہ گلاس بھرا اور لہراتے ہوئے ترنگ میں آکر کہا
” کیا بھولنے کا ہے ؟“ اس کے چہرے پر کوئی سایہ سا لہرا گیا تھا
” اپنی محبت، کسی کی بے وفائی“ میں سسک پڑا ” مگر تم کیوں پوچھ رہی ہو آوارہ عورت “ میں نے غصے میں جھنجھلا کر گلاس دیوار پر دے مارا ، اس کے استفسار نے گویا دبی ہوئی چنگاری کو ہوا دے دی تھی
” مطلب یہ کہ کیا محبت صرف تم جیسے پارسا لوگ ہی کر سکتے ہیں ، میری جیسی جسم فروش عورت کو اس کا کوئی حق نہیں ؟“ اس نے آہستگی سے کہا اور شاید آنسوﺅں کو چھپانے کے لیے منہ پھیر لیا تھا ۔
” او خدایا ! یہ دل ہے یا کوئی آتش کدہ،محبت ہے یا الاو ¿،تم اپنی آگ میں جل رہی ہو، میں اپنی آگ میں جل رہا ہوں، سب اپنی اپنی آگ میں ہی جل رہے ہیں“ میں نے اس کے شانوں کو جھنجھوڑا
” لیکن تمہارے ساتھ کیا ہوا؟“
” کچھ نہیں صاحب، محبت کی تھی، محبت کا خراج بھی ادا کیا لیکن اسے محبت کی نہیں، جسم کی ضرورت تھی بس، اس نے ضرورت پوری کی اور مجھے ایسے دوراہے پر لاکر چھوڑ گیا جہاں نہ واپسی کا راستہ تھا، نہ آگے کی منزل ، تب سے کسی آوارہ، بے چین روح کی طرح بھٹک رہی ہوں“
” بہت برا ہوا“ مجھے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ کیا کہوں ، سارا نشہ ہرن ہوگیا
” مجھے اس کے بعد بھی ایک سہاراملاتھا ، اس نے شادی بھی کی لیکن میں وفا نہ کر سکی، پہلی محبت کی ناکامی، محبوب کی بے وفائی نے میرے اندر نفرت بھر دی تھی، مجھے لگا تھا کہ محبت صرف جسموں کے ملاپ کا ہی نام ہے، میں نے شوہر کے ہوتے ہوئے بھی دوسروں میں محبت ڈھونڈنا شروع کر دی ، لوگ آتے گئے اور اپنے حصے کی محبت وصول کرکے چلتے گئے، آخر شوہر نے بھی تنگ آکر طلاق دے دی “ اس نے پلو سے آنسو پونچھے ” اس دن مجھے احساس ہوا کہ رشتے چاہے خون کے ہوں یا احساس کے، انہیں مسلسل توجہ اور اپنائت کی ضرورت ہوتی ہے، اپنوں کو اپنی ذات سے زیادہ اہمیت دے کر ہی انہیں اپنی زندگی کا جزو لانفیک بنایا جاسکتا ہے، ہمیشہ یاد رکھیں کہ جب کوئی آپ سے الگ ہوتا ہے تو اس کے دور جانے کی ایک بڑی وجہ آپ خود بھی ہوتے ہیں، دوسروں میں خامیاں نکالنے سے پہلے اپنی ذات کا محاسبہ کریں، رشتوں میں دراڑ پڑنے کی وجہ آپ کو اپنے اندر سے ہی مل جائے گی“
اف، کیا فلسفہ بیان کر دیا تھا اس آوارہ سی عورت نے، زمانے کی ٹھوکروں نے اسے جو سکھایا ، وہ تو کتابوں میں بھی درج نہیںتھا، تو کیا امامہ کے معاملے میں، مجھے بھی اپنی ذات کا محاسبہ کرنا چاہئے؟ بے انتہا محبت کے باوجود اسے کب بتایا تھا کہ میں اسے اپنانے کے لیے کس قدر سنجیدہ ہوں، اسے کیسے پتہ چلتا کہ میری دن رات کی مصروفیت کا سبب کسی قسم کی بے اعنائی نہیں، ہم دونوں کا ایک مشترکہ گھر بنانے کی جدوجہد تھی۔
آہ! تنا ہی عرصہ ہوگیا ، نہ کبھی اسے کہیں گھمانے کے لیے لے کرگیا، نہ کہیں اکٹھے کھانا کھایا ، کمال ہے، مجھے تو یہ بھی یاد نہیںکہ آخری بار لو یو کب کہا تھا، تیزی کے ساتھ سوچتے ہوئے مجھے اپنے آپ پر حیرت ہونے لگی
ابھی بھی کچھ نہیں بگڑا، مجھے فوراً اس کے پاس پہنچنا چاہیے، محبت کا یقین نہیں، اس کا احساس دلانا چاہئیے۔
میں نے ادھ کھلی شرٹ کے بٹن بند کرتے ہوئے جیب سے پیسے نکالے اور شبنم کی طرف بڑھا دیئے
” سوری، میں یہ سب نہیں کرسکتا، میں اپنی محبت کے پاس واپس جا رہا ہوں، تمہارے وقت کا ہرج ہوا، یہ اس کی قیمت ہے“
شبنم نے ایک نظر اپنے ہاتھ میں موجود کرنسی نوٹوں پر ڈالی ، اس کے ہونٹوں پر طنزیہ سی مسکراہٹ ابھر آئی, کچھ دیر غور سے میری طرف دیکھتی رہی
” تم مردوں میں بس یہی ایک خرابی ہے, پیار کسی اور سے کرتے ہو, وقت کسی اور کو دیتے ہو, خواب کسی اور کو دکھاتے ہو, بھاگتے کسی اور کے پیچھے ہو, ٹھوکر کسی اور سے کھاتے ہو, روتے کسی اور کے پاس جاکر ہو ” اس نے ایک ٹھنذی آہ بھری
"میں بھی صرف پیسوں کے لیے یہ کام نہیں کرتی“
آوارہ عورت نے پیسے میرے منہ پر مار دیئے
٭٭٭

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

 وارث ..شمسہ نجم

وارث شمسہ نجم        نام تو اس کا نیلی تھا لیکن چہرے پر …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے