سر ورق / ترجمہ / بے رنگ پیا ۔ امجد جاوید ۔ قسط نمبر 4

بے رنگ پیا ۔ امجد جاوید ۔ قسط نمبر 4

قسط نمبر 4

ان کے سفر کا اختتام ایک فارم ہاﺅس پر ہوا ۔جس کا رہائشی پورشن بہت شاندار اور سرسبز و شاداب تھا ۔ طاہر دیکھ چکا تھا کہ یہاں پر سیکورٹی کا کافی بندو بست تھا۔ آیت نے کار پورچ میں روکی۔تبھی چند گارڈ آ گے بڑھے ۔انہوں نے سلام کیا تو وہ جواب دیتے ہوئے آگے بڑھ گئی ۔طاہر اس کے ساتھ تھا ، وہ دونوں لاﺅنج میں گئے تو سامنے صوفے پر رابعہ بیٹھی ہوئی تھی ۔ اس کے ساتھ سرمد بیٹھا ہوا تھا۔ بہت اچھی صحت ، گول مٹول ،سلکی بال ، گہری آنکھیں، گلابی مائل گول چہرہ، نیکر ٹی شرٹ میں ملبوس کرسی پر بیٹھا تھا۔ اس نے کار رکتے ہی مڑ کر دیکھا تھا۔ انہیں دیکھتے ہی رابعہ کھڑی ہو گئی لیکن سرمد یوں تیزی سے اس کی جانب بڑھا جیسے اس کی اصل ماں آ گئی ہو ۔ وہ بھاگتاہوا آیت کے گلے لگ گیا۔وہ اس کے ساتھ یوں جڑا ہوا تھا جیسے بچھڑنے کے بعد ملا ہو۔ سرمد کے والہانہ انداز میں سے آیت کی کشش صاف دکھائی دے رہی تھی ۔دونوں میں کس قدر ربط تھا، طاہر بخوبی سمجھ سکتا تھا۔ وہ کچھ دیر سرمد کو پیار کرتی رہی پھر اسے خود سے الگ کیا تو سرمد کی نگاہ طاہر پر پڑی۔ اس کی نگاہوں میں اجنبیت تھی، پھر بھی وہ طاہر کی جانب بڑھا اور اس نے اپنا ننھا سا ہاتھ مصافحہ کے لئے اس کی جانب بڑھایا۔ نجانے طاہر اس وقت کس کیفیت میںتھا کہ اس نے دونوں ہاتھوں سے سرمد کا ہاتھ تھام لیا۔ پھر اس کے پھولے ہوئے گالوں پر ہاتھ پھیرتے ہوئے اسے پیار کیا۔ سر مد نے ہاتھ چھڑایا اور آیت کے پاس چلا گیا جو صوفے پر بیٹھی رابعہ سے حال احوال پوچھ رہی تھی۔ سرمد اس کے ساتھ بیٹھ گیا تھا۔اس کے ساتھ ہی پڑے صوفے پر طاہر بیٹھا تو رابعہ اندر چلی گئی ۔طاہر دیکھتا رہا ، وہ سرمد میں گم تھی۔ اس کی باتیں یوںسن رہی تھی جیسے وہ کوئی بہت اہم باتیں کر رہا ہو۔کچھ دیر تک وہ طاہر کوبھی بھولی رہی یا پھر طاہر کو یہی گمان ہوتا رہا کہ سرمد کو ملنے کے بعد سارے جہان ہی کو بھول گئی ہے۔کچھ دیر بعد وہاں کی ملازمہ مشروب لے کر لاﺅنج میں آ گئی۔ اس نے ٹرے میز پر رکھی تو رابعہ بھی آ کر وہیں بیٹھ گئی۔ تب آیت نے طاہر کی طرف دیکھ کر رابعہ سے کہا

” یہ طاہر باجوہ ہیں، تمہارے ہی علاقے کے ایک زمیندار کے بیٹے، آج کل یہاں رہ رہے ہیں، کیونکہ یہ اپنے علاقے کی نمائندگی کر رہے ہیں،رکن اسمبلی ہیں۔“

” جی ۔“ رابعہ اتنا ہی کہہ سکی ۔تب آیت نے کہا

 ”ہم آج شام تک یہیں ہیں۔ میں اور سرمد آج ان کے ساتھ لنچ لیں گے ۔“

 ” جی ٹھیک ہے ۔“ رابعہ نے کہا۔ تب تک ملازمہ واپس جا چکی تھی ۔

لنچ کے بعد جب سرمد سو گیاتو رابعہ اسے اپنے کمرے میں لے گئی ۔ اور وہ دونوں بھی ایک کمرے میں چلے گئے جہاں مکمل سکون تھا۔ ان کے سامنے چائے کے مگ رکھ دئیے گئے ۔ تبھی مگ سے چائے کا سپ لیتے ہوئے آیت بولی

” میرے داداجی، فضل داد کے دو بیٹے تھے۔ سلیم فضل اور فہیم فضل ۔میرے چاچا فہیم کے بیٹے اویس کے ساتھ میری منگنی ہو چکی تھی۔یہ منگنی کب ہوئی تھی ، اس کا مجھے بھی نہیںیاد تھا۔ یہیںلڑکپن کے ابتدائی دنوں میں سب گھر والوں کی مرضی سے ہوئی تھی ۔میں بھی ذہنی طور پر اویس کو قبول کر چکی تھی۔ایک عام مشرقی لڑکی کی طرح میں بھی اسے چاہتی تھی ۔ وہ میرا ہونے والا شوہر تھا۔ مجھے اس کی اچھی بات یہ لگتی تھی کہ اس نے کبھی میرے معاملے میں مجھے روکا ٹوکا نہیںتھا۔ میری خواہش تھی کہ جتنا پڑھ سکتی ہوں اتناپڑھوں۔ دراصل میرے بابا فہیم نے میرے اندر ایک جذبہ بیدار کر دیا تھا۔ وہ میری تربیت اپنے حساب سے کر رہے تھے۔ ان کی منشاءیہ تھی میں نہ صرف کاروبار کو سمجھوں بلکہ اسے جدید انداز میں چلانے کے لئے تعلیم حاصل کروں ۔ زندگی کے کسی بھی حصے میں اگر مجھے ضرورت پڑے تو میں کسی کی محتاج نہ رہوں ۔بابا کی اس خواہش کو دادا نے مہمیز دی اور یوں میں بزنس کی تعلیم کے لئے کوشاں رہی ۔اویس مجھ سے ایک برس آگے تھا،تب تک ہر معاملہ ٹھیک چل رہا تھا ۔“

” مطلب اس کے بعد کوئی خرابی آ گئی ؟“ طاہر نے جلدی سے پوچھا

” نہیں خرابی نہیں۔“ یہ کہہ کر وہ لمحہ بھر سوچنے کو رکی پھر بولی۔” بعض اوقات انسان سوچتا ہے کہ اس کے ساتھ برا ہوا ، لیکن ہربار ایسا نہیںہوتا۔ یہ بہت بعد میں کہیں جا کر پتہ چلتا ہے کہ نہیں، یہ اچھائی کی شروعات تھیں۔قدرت کہہ لو یا قسمت کانام دے لو، وہ کچھ الگ سے چاہ رہی ہوتی ہے۔رب کے نظام کے بر عکس جب جاتے ہیں تو ہماری خواہشیں اور ارادے ٹوٹ جاتے ہیں ۔ “

” ہاں یہ تو تم نے ٹھیک کہا۔آگے کیا ہوا؟“ طاہر نے تجسس سے پوچھا

”ہاں۔! انہی دنوں یونیورسٹی کے پہلے سال میں آئی تو ہمارا ایک کلاس فیلو تھا، وقارحسین،وہ جس کے بھائیوں سے تم ملے تھے،وہ مجھ میں کچھ زیادہ ہی دلچسپی لینے لگا۔ میرا چونکہ دھیان ہی اس طرف نہیںتھا اس لئے پہلے دو چار مہینے تو میں نے اس کی توجہ کو محسوس نہیں کیا۔“ وہ اپنی رُو میں کہتی جا رہی تھی کہ طاہر نے اسے ٹوکتے ہوئے پوچھا

” نہیں یہاں تھوڑا رُکو ، ایک بات بتاﺅ ،جسے تم ’توجہ‘ کا نام دے رہی ہو ،وہ کیا تھی ، کیسی تھی؟“

اس پر آیت نے ایک لمحہ بھی نہیںسوچا بلکہ اگلے ہی لمحے کہیں گم ہو تے ہوئے کہتی چلی گئی۔

”وہ میری طرف دیکھتا تھا، اس کے دیکھنے میں ایک جا ذبیت تھی ،ایک کشش تھی، جیسے وہ میرے اندر سے توانائی کشید کر رہا ہے ۔ مجھے یوں لگتا جیسے میں اس کے حصار میں ہوں۔میرے ارد گرد بہت سارے لوگ تھے ۔ میں کوئی چھوئی موئی ٹائپ لڑکی نہیں تھی ۔مجھ میں بڑا اعتماد تھا لیکن میں اس کا سامنا کرتے ہوئے گھبرا جایا کرتی تھی ۔بعض اوقات مجھے اس کے قریب ہونے سے بڑا سکون ملتا تھا، نجانے کیا تھا، میں کوئی حتمی فیصلہ نہیںکر پائی تھی اس کے بارے میں ۔“

” کیوں نہیں ، مطلب کوئی فیصلہ کیوں نہیںہوا اس کی شخصیت کے بارے میں۔“

” نہیں وہ شخصیت کے حوالے سے بہت اچھا تھا، مطلب کہو تو بیسٹ۔ وہ وجیہ تھا، دراز قد ، سرخ و سپید چہرہ۔ گھنے بال ، ہلکی ہلکی داڑھی، کپڑے پہننے کا سلیقہ بھی تھا اسے ۔مطلب وہ سب جو ایک لڑکے میں بیسٹ ہو سکتا ہے۔ ہمارے درمیان ایک اچھا تعلق بن گیا تھا۔ وہ ہمارے گروپ میں تھا۔ اچھی دوستی تھی ۔اس کا رویہ بہت اچھا تھا۔ گفتگو بہت بہت سنبھل کر کرتا تھا، مہذبانہ رویہ ہوتا تھا،ایک لڑکے میں جو خوبیاں ہونی چائیں تھیں، وہ اس میں موجود تھیں۔فیصلہ شاید اس لئے نہیں ہو پارہا تھا کہ میں خود منگنی یافتہ لڑکی تھی ۔ کوئی ایسی لڑکی جس کی زندگی میں کوئی مرد نہ آیا ہوا ہو ، ممکن ہے وہ خود کو وقار حسین سے کمتر ہی خیال کرتی ۔اس کا میرے ساتھ رویہ کوئی برا نہیںتھا، یا مجھے یہ محسوس ہوتا کہ وہ کوئی بری نیت رکھتا ہے ۔بس وہ دھیرے دھیرے میرے حواس پر چھا گیا تھا ۔ “ آیت نے یاسیت سے کہا

” مطلب تم بھی اس سے محبت کرنے لگی؟“ طاہر نے پوچھا

” ارے نہیں، ایسا تو میںنے ایک فیصد بھی محسوس نہیںکیا تھا۔ضروری نہیںکہ ہر پسند آ نے والے بندے کے ساتھ محبت ہو جائے ۔کوئی پسند آ جانا ، یاکسی کے اچھے ہونے کا مطلب یہ نہیںکہ اس سے محبت ہو جائے ۔“

” اچھا یار اب وقار حسین کی تعریفوں سے باہر نکلو ، آگے بتاﺅ ۔“ طاہر نے ہنستے ہوئے کہا

 ”شاید مجھے احساس نہ ہوتا، یا محسوس کر کے بھی میں نظر انداز کر دیتی لیکن میرے ساتھ گروپ میں جو لڑکیاں تھیں، انہوں نے بات کا بتنگڑ بنانا شروع کر دیا۔ظاہر ہے وہ بھی تو یہ سب دیکھ رہی تھیں۔تب میںنے بھی سنجیدگی سے سوچا کہ ایسا نہیںہونا چاہئے ۔ اویس کو ،ہمارے خاندان والوں کو پتہ چلے یا پھر یونیورسٹی میں کوئی اسکینڈل بن جائے تو یہ میری ذات ،میرے کردار پر دھبہ لگنے والی بات تھی ، جسے میں قطعاً برداشت نہیںکر سکتی تھی ۔میں نے اس پر سوچ کر ایک فیصلہ کیا کہ وقار حسین کو سمجھا دوں ۔“ آیت نے پرانے لمحوں میں گم ہوتے ہوئے کہا تو طاہر تیزی سے بولا

” اچھا، پھر تم نے اس سے بات کی؟“

”ہاں ، میں نے ایک دن اسے بلاکر ایک ریستوران میں ملنے کو کہا۔ ہم وہاں ملے ۔میں نے بہت مناسب لفظوں میں تمہید باندھ کر اس کے رویے کے بارے میں پوچھا،تو اس نے میری ساری بات سن کر کہہ دیا کہ وہ مجھ سے محبت کرتا ہے،ایسی محبت کہ شاید کوئی دوسرا نہ کر سکے۔“

” صاف کہہ دیا اس نے ۔ مطلب اسے تم سے محبت تھی ؟“ اس نے خوشگوار حیرت سے پوچھا

” شاید محبت سے بھی آگے کچھ ۔ میں نے پوچھا اور اس نے اقرار کرنے میں لمحہ بھی نہیںلگایا۔“ اس نے کھوئے ہوئے انداز میں کہا تو وہ تیزی سے بولا

” تم نے یہ نہیںکہا کہ تمہاری منگنی ہو چکی ہے ۔ یونیورسٹی میں تمہاری ذات ، اسکینڈل اور ….“

” ساری باتیں کیںاور پوری تفصیل سے کیں۔ سب کچھ سن کر اس نے کہا میرے منہ سے کبھی کسی دوسرے کے سامنے یہ لفظ نہ نکلا ہے اور نہ نکلے گا ۔ میرے کسی عمل سے کسی کو محسوس ہوا تو میں معذرت خواہ ہوں۔ اب کوئی پوچھے تو آپ تردید کر دیں۔آپ کو تو مجھ سے محبت نہیںہے نا۔آپ سچ بولیں گی۔“

” واہ ۔! اس نے یہ نہیںکہا کہ تم بھی مجھ سے محبت کرو یا کوئی ایسی بات؟ مثلا جیسے کہ میں تمہارے بنا نہیں رہ سکتا۔ میری زندگی تم ہو ، تم نہ ملی تو میں مر جاﺅں گا وغیرہ۔“ طاہر نے حیرت سے پوچھا

” نہیں، بلکہ اس نے کہا کہ محبت مجھے ہے اور میں کرتا رہوں گا ، تمہیں کبھی نہیں کہوں گا کہ تم مجھے محبت کرو، کیونکہ یہ نہ دان کی جا سکتی ہے اور نہ چھینی جا سکتی ہے ۔ یہ تو من مرضی کا سودا ہے ۔“ اس نے یوں کہا جیسے وہ اس لمحے میں کہیں کھو ہو گئی ہو

” اچھا تو پھر ؟“ اس نے تیزی سے پوچھا

” وہ میری اس سے تنہائی میں پہلی ملاقات تھی ۔مجھے اس کی اندر کی سچائی ،اعتماد اور حوصلے نے متاثر تو کیا۔ لیکن یہ بات صاف ہو گئی کہ وہ میرے لئے کسی طرح بھی تکلیف دہ نہیں ہو سکتا تھا۔“ وہ یوں بولی جیسے وہ اس دور سے باہر آ گئی اور خود کو سمیٹ رہی ہو ۔طاہر نے آیت کے چہرے پر دیکھا اور بولا

” اعتراض کرنے کو تو میں کر سکتا ہوں یہ کیا سچائی ہوئی کہ اس نے اپنی خواہش کا اظہار کر دیا، اور تم اس سے متاثر ہو گئی ۔ تم یہ سچ کیوں نہیںبولتی ہو کہ اس نے اپنی وجاہت سے تمہاری توجہ کھینچ لی تھی ۔ اور بہت ساری وجوہات ہو سکتی ہیں۔ لیکن خیر ، میں مان لیتا ہوں کہ اس نے سچ بولا۔ “

” تم اب بھی غلط سمجھ رہے ہو ۔وہ وجیہ تھا ، اس میں کوئی شک نہیں، لیکن ایک بات سمجھادوں ،بات چاہے ایک ہی ہو مگر لہجہ اور لفظوں سے پتہ چل جاتا ہے کہ تاثر خوشبو دار ہے یا بدبو دار۔“ وہ سنجیدگی سے بولی

” اچھا بات آ گے بڑھاﺅ ۔تم اس سے متاثر ہو گئی ، آگے ؟“ طاہر نے دبے ہوئے لہجے میں پوچھا

”اس ملاقات کے بعد ہم روزانہ ملتے لیکن پھر کبھی کوئی ایسی بات نہیںہوئی۔اچھے کلاس فیلوز کا جو ماحول ہوتا ہے ، وہ ہم میں دن بدن بہتر ہو رہا تھا۔ مگراس کا انداز بدل گیا تھا۔اب میری سہیلیوں کو یہ فکر لگ گئی کہ وہ اب ایسا کیوں ہو گیا ہے کہ توجہ ہی نہیںدیتا ۔بہانے بہانے کوئی نہ کوئی بات چلتی ضرور تھی۔ یوں ہر آنے والے دن کے ساتھ میرے دل میں اس کے لئے احترام بڑھتا چلا گیا۔“ اس نے بتایا

” ہاں ، اس نے اپنے طریقے سے تمہاری توجہ حاصل کر ہی لی ؟“ وہ شاید اپنی بات منوانے پر مصر تھا

”تم منفی سوچ نہ رکھو ، اور نہ ہی مثبت ، بلکہ میں جو کہہ رہی ہوں اُسے سنو ۔“ آیت نے اسے سمجھایا

” اوکے ، کہو ۔“ وہ ہار مانتے ہوئے بولا تو آیت کہتی چلی گئی۔

”یہ تعلق ایسا نہیں تھا کہ میرے دل میں اس کے لئے کوئی محبت تھی ۔ کئی سارے ایسے معاملات سامنے آئے، جس سے مجھے یقین ہوتا چلا گیا کہ وہ مجھ سے کتنی محبت کرتا ہے۔ جبکہ میرے دل میںاس کے لئے احترام تو بڑھا، محبت نہیں ۔ کیونکہ میں خود اویس سے محبت کرتی تھی ۔ جلد یا بدیر مجھے اس کا ہونا تھا۔اس بات کا وقار حسین کو پور ی طرح ادراک تھا، اور اویس کے بارے میں میری محبت کی شدت کو بھی سمجھتا تھا۔“

” کیامیں پوچھ سکتا ہوں کہ ایسا کیا عمل تھا جس سے تمہیں اس کی محبت پر یقین ہو گیا۔“

” کوئی ایک کام نہیںتھا،اس کے بہت سارے ایسے کام تھے ، کلاس فیلوز کے درمیان ہونے والے معمولی کاموں یا رویے کی بات نہیں کر رہی ہوں۔ دراصل اس نے میری محبت کا احترام کیا تھا۔“

” تمہاری محبت کا احترام ، وہ کیسے ؟“

” میرے سامنے کبھی اس نے اویس کے بارے میں کوئی غلط بات نہیں کی ۔ نہ کبھی اس حوالے سے حق جتایا کہ وہ مجھ سے محبت کرتا ہے۔ ایک دو بار میں نے اویس سے ملنا چاہا تو وہ مجھے خود اس کے پاس چھوڑ کر آیا ۔کوئی غلط فہمی ، کوئی غلط رویہ نہیں اپنایا۔ خیر۔! کبھی کبھی مجھے وقار حسین پرترس بھی آتا ، یہ کس راہ کا راہی ہو گیا ہے جس کی کوئی منزل ہی نہیں۔ میں تو اسے مل نہیں سکتی تھی لیکن وہ کیوں مجھ سے محبت کرتا ہے ، کیوں وقت ضائع کر رہا ہے ؟ کئی لڑکیاں اس کے اشارہ ابرو کی منتظر تھیں ۔لیکن وہ کسی کی طرف توجہ ہی نہیں دیتا تھا۔“

” اس کا کوئی جواب ملا پھر تمہیں؟“

” ہاں ملا۔“ اس نے کہا اور لمحہ بھر خاموشی کے بعد بولی ،” ان دنوں ہمارا ٹورناران گیا ہوا تھا۔ہم سب کلاس فیلو خوب انجوائے کر رہے تھے۔ جس ہاسٹل میں ہم ٹھہرے ہوئے تھے ، وہاں ایک شام وقار ہاسٹل سے باہر سر سبز پہاڑی پر سورج ڈوبنے کے منظر میں کھویا ہوا تھا۔ میں اسے کھڑکی سے دیکھ رہی تھی ۔تبھی مجھے خیال آ یا کیوں نا اس سے بات کروں۔میں کچھ دیر تو سوچتی رہی ، پھر کمرے سے نکل کر اس تک جا پہنچی ۔ میری آہٹ پاکر مجھے دیکھا اور مسکرا دیا۔ میں اس کے پاس جا بیٹھی۔میں نے بلا تمہید جو ذہن میں تھا، سب اسے کہہ دیا۔اس نے خاموشی سے مجھے سنا،سنتا رہا،پھر بڑے ٹھہرے ہوئے لہجے میں بولا۔“ یہ کہہ کر آیت رُک گئی ۔جیسے وہ لفظ دہرانے کے لئے حوصلہ جمع کر رہی ہو ۔ تبھی طاہر نے فوراً ہی پوچھا

” کیا کہا اس نے ؟“

 آیت نے ایک طویل سانس لی اور پھر کہنے لگی

”آیت مجھے اس سے کوئی غرض نہیں کہ تم مجھے چاہو یا نہ چاہو ،مجھ سے محبت کرو یا نہ کرو ،میں اس کا کوئی ریٹرن نہیں مانگتا، تمہاری ہمدردی ، رفاقت ، وجود ، کچھ بھی نہیں۔بس مجھے تم سے محبت ہے ، جس سے تم مجھے روک نہیں سکتی ہو ۔ میں یہ حق تمہیں کبھی نہیںدوں گا کہ تم مجھے اس محبت سے روک سکو ۔کیونکہ مجھے خود اس پر اختیار نہیںہے۔“

یہ کہہ کر آیت خاموش ہو گئی ۔ طاہر بھی عجیب سی کیفیت میں چپ رہا ۔چند لمحوں بعد اس نے الجھے ہوئے انداز میں پوچھا

” یہ کیا بات ہوئی ،وہ ایسی محبت کیوں کر رہا تھا؟اسے اگر تم سے محبت تھی اور تمہاری رفاقت کی اُسے پرواہ نہیںتھی، تمہارا حصول نہیںچاہتا تھا تو یہ کیا…. کیا ثبوت تھااس بات کا ؟“

” یہی بات میں نے اس سے پوچھی، کیا ثبوت ہے ؟تو اس نے بڑے اعتماد سے کہا کہ اس کی شادی ہونے والی ہے ۔اس کے گھر والے اس کی شادی کرنا چاہتے ہیں اور پہلے سال کے امتحان کے بعدوہ شادی کر لے گا۔“

” اور پھر اس نے شادی کر لی ؟وہ اپنی زندگی میں کھو گیا۔بیٹا بھی پیدا ہو گیا؟تو اس میں محبت …. مجھے اب تک تمہاری سمجھ نہیں آ رہی، یہ کیا کہنا چاہ رہی ہو تم ؟“طاہر نے پھر سے الجھتے ہوئے کہا لیکن آیت کسی دوسری دنیا سے بات کر رہی تھی ۔ اس نے طاہر کے لفظوں اور لہجے پر توجہ دئیے بغیر کہا

” بات یہاں تک رہ جاتی تو بہت اچھا تھا۔ ہمارا یونیورسٹی کا دوسرا برس پورا ہو جانے والا تھا۔سب کچھ معمول پر تھا ۔اویس یونیورسٹی سے فارغ ہو چکا تھا، اس لئے داداجی کے ساتھ بزنس میں شامل ہو گیا تھا۔ ہمارے گھر والے میری اور اویس کی شادی کرنے کی تیاریاںکر رہے تھے ۔میں اور اویس دونوں آنے والے دنوں کی پلاننگ کر رہے تھے۔ میں چاہ رہی تھی کہ ہنی مون سوئٹرزلینڈ میں منایا جائے ، جبکہ اویس دوبئی جانا چاہتا تھا، وہ ہنی مون کے ساتھ وہاں بزنس کا بھی جائزہ لینا چاہ رہا تھا۔میں چاہتی تھی کہ ساری شاپنگ امتحانوں کے بعد میں خود اپنی مرضی سے کروں ۔ جس کے لئے بابا نے مجھے کافی ساری رقم دے دی ہوئی تھی ۔ بس امتحانوں کے ہو جانے کا انتظار تھا۔انہی دنوں اویس غائب ہو گیا۔“

” غائب ہوگیا مطلب؟اسے کیاہوا تھا؟“

”اسے کچھ نہیں ہوا تھا،ہمیں یہ لگا کہ وہ غائب ہو گیا ہے لیکن وہ خوف کی وجہ سے چھپ گیا تھا۔شام تک جب اس کے بارے میں پتہ نہیںچلا تو سبھی اس کی تلاش میں نکل کھڑے ہوئے۔میںنے بھی اپنے دوستوں کو فون کیا۔جس پر دوسروں کے ساتھ وقار حسین بھی اویس کی تلاش میں نکل کھڑا ہو ا۔وہ ساری رات گزر گئی ۔لیکن اویس کا پتہ نہیں چلا۔میرے جتنے بھی کلاس فیلو تھے ، وہ ناکام واپس آ چکے تھے مگر وقار حسین پوری رات واپس نہیں آیا۔ اگلے دن جب میں خود یونیورسٹی گئی تو وہ مجھے انتہائی بے چین لگا۔ اس کی آنکھیں سرخ تھیں اور چہرے پر خوف پھیلا ہوا تھا۔ میں اسے دیکھ کر پریشان ہو گئی ۔اس نے مجھے تنہائی میں بلا کر جو بتایا وہ سن کر میرے پیروں تلے سے زمین نکل گئی ۔“ یہ کہہ کر وہ رک گئی ، جیسے ان لمحات کو یادکے وہ بہت دکھی ہو رہی ہو ۔

” اسے پتہ چل گیا ہوگااویس کے بارے میں ۔“ طاہر نے کہا

” ہاں، دراصل اویس ایک لڑکی کے چکر میں تھاجو اس کی کلاس فیلو تھی ۔ اس کے ساتھ شادی کے وعدے کئے ،اس کے ساتھ بہت اچھا وقت گزارا، اور جب وہ ماں بننے والی ہو گئی تو اویس نے صاف انکار کر دیا ۔ جس پر اس لڑکی کے بھائیوں نے اویس کو اس لڑکی سے شادی کرلینے کا کہا، انکار کی صورت میں انہوں نے قتل کر دینے کی دھمکی دے دی ۔معاملہ چند دنوں ہی میں بگڑ گیاتھا۔ “

” ٹھہرو ذرا، یہ وقار صاحب کو ایک ہی رات میں کہاں سے اتنی تفصیل مل گئی ؟“ اس نے تجسس سے پوچھا

 ”کیا تم نے یونیورسٹی میں سٹوڈنٹ گینگ نہیں دیکھے؟کیاتم نے ….“ آیت نے کہنا چاہا تو طاہر نے اس کی بات قطع کرتے ہوئے تیزی سے کہا

” مطلب، یہ بات یونیورسٹی میں بھی پہنچ چکی تھی۔“

” بالکل ، لڑکی کے بھائیوں کی پشت پناہی یہی گینگ کر رہی تھی ۔وقار حسین کے بھی اپنے ذرائع تھے ۔ کیونکہ وقار حسین کو پہلے ہی معلوم تھا کہ اویس کسی لڑکی کے چکر میں ہے مگر اس نے مجھے صرف اس لئے نہیںبتایا تھا کہ مجھے دکھ ہوگا۔خیر مجھے پتہ چل گیا کہ اویس چھپا ہوا ہے ، وہ اس وقت تک باہر نہیںآ ئے گا ، جب تک یہ معاملہ حل نہیں ہو جاتا۔لیکن معاملہ اس وقت تک حل نہیں ہو سکتا تھا، جب تک اویس سامنے نہ آتا۔یہ ایک افتاد آن پڑی تھی جس کی گھمبیرتا اپنی جگہ لیکن میرا دل ٹوٹ گیا تھا۔ کیا مجھ سے محبت تھی اویس کو ؟وہ چاہت، وہ وعدے، وہ اپنائیت، سب کدھر گیا؟میں نے وقار حسین ہی سے کہا کہ وہ اسے تلاش کرے ، اگر مل جائے۔ورنہ گھر والوں کو تو بتانا ہی پڑے گا ۔“ اس نے تفصیل سے بتایا

” تو کیا، وقار نے اسے تلاش کر لیا؟“ طاہر نے شک بھرے لہجے میں پوچھا

” نہیں ، اس نے خود ہی گھر پر ٹیلی فون کر دیا کہ وہ کہیں پر ہے،شام تک گھر آ جائے گا ۔یہ بات مجھے اس وقت پتہ چلی ، جب میں گھر واپس گئی ۔ میں چاہتے ہوئے بھی اویس کے بارے میں کچھ نہ بتا سکی ۔“آیت نے یوں بے بسی سے کہا ، جیسے وہ لمحے ہاتھ نہ آ رہے ہوں ۔

” تو گھر والوں کو کیسے پتہ چلا، وہ تو اویس کو….“ طاہر نے پوچھا تو آیت نے اس کی بات کاٹتے ہوئے کہا

” وہ شام کو گھر آیا تواس نے خود ہی بتا دیا۔کیونکہ اسے یہ پتہ چل چکا تھا کہ اس لڑکی کے بھائی اب اسے بخشنے والے نہیں۔ کبھی توبات کھلنا تھی، سو اس نے اعتراف کر لیا۔ گھر میں جو ہنگامہ ہوا سو ہوا ، وہ ایک الگ کہانی ہے ۔ کوئی قانونی چارہ جوئی کرنے سے پہلے یہ سوچا گیا کہ ان سے براہ راست بات کر کے کوئی حل نکال لیا جائے۔اویس کے پاپا نے ہی یہ ذمہ داری لی اور ان سے رابطہ کیا۔“ اس نے بتایا

” تو کوئی حل نکلا پھر؟“ طاہر نے پوچھا

” ان کی دو ہی باتیں تھیں۔ شادی کرلو یا پھر مرنے کے لئے تیار ہو جاﺅ۔ تیسرا آپشن ہی نہیںتھا ان کے پاس ۔ “اس نے خیالوں میںکھوئے لہجے میںکہا

” اس میں تو سراسر تمہارا نقصان تھا۔“وہ تشویش سے بولا تو وہ سرخ ہوتے چہرے کے ساتھ بولی

” ہاں ۔! میرا ہی نقصان تھا۔میں جو اویس سے محبت کرتی تھی کسی طور یہ برداشت نہیں کر سکتی تھی ۔ چاہے اویس کی بے وفائی سامنے آ گئی تھی لیکن میرا دل پھر بھی اسی کے لئے تڑپ رہا تھا۔میرے پاپانے مجھے کہا بھی کہ میں اب اویس کا خیال دل سے نکال دوں ۔اویس کے دشمن کسی صورت نہیںماننے والے۔بات بھی سچ تھی ، اگر یہ بات چھپی رہتی تو شاید کوئی تیسرا حل نکل آتا ۔کب تک کوئی اویس کی حفاظت کر سکتا تھا۔مجھے یقین تھا کہ پاپا کو اویس کی یہ حرکت بہت بری لگی تھی ، جس کی وجہ سے انہوںنے مجھے اتنا بڑا فیصلہ کر نے کو کہا۔مگر میں نہیںمانی ،میںنے اویس سے بھی کہہ دیا کہ میں تمہارے ساتھ ہوں ۔ ہم ان کا مقابلہ کریں گے۔“

” تو پھر یہ معاملہ ختم کیسے ہوا؟“ اس نے حتمی لہجے میں پوچھا

” میرے امتحان شروع ہو نے میں دو یا تین دن باقی تھے۔ ہماری یونیورسٹی ہی میں کچھ لوگوں سے بات ہو گئی تھی کہ اس معاملے پر قابو پائیں اور انہیں سمجھائیں۔لڑکی کے بھائیوں سے بھی بات ہو چکی تھی۔ معاملہ کافی حد تک نرم ہو گیا تھا۔ اسی سلسلے میں اویس میرے ساتھ ہی یونیورسٹی آ گیا۔ لڑکی کے بھائی بھی آئے ہوئے تھے ۔ مجھے یقین تھا کہ معاملہ سلجھ جائے گا۔ ابھی ہم بات کی شروعات کر ہی رہے تھے کہ لڑکی کا ایک بھائی اٹھا اور اس نے اویس کو پکڑ لینا چاہا۔ ہمیں بالکل اندازہ نہیںتھا کہ وہ کیا کرنا چاہتے ہیں۔ وہاں پر موجود ہمارے دوستوں نے ہمیں ادھر اُدھر ہو جانے کا کہا۔ میں اویس کو لے کر فورا ہی ڈیپارٹمنٹ کی طرف چل پڑی۔ ٹھیک انہی لمحات میں میری نگاہ وقار حسین پر پڑی۔ وہ ڈیپارٹمنٹ کی سیڑھیاں اترتا ہوا آ رہا تھا۔ اس کی مجھ پر ابھی نگاہ نہیں پڑی تھی ۔ میں نے بد حواسی میں اسے آواز دے دی ۔ وہ فوراً میری طرف لپکا۔“ یہ کہتے ہوئے اس کی آواز یوںبھرا گئی جیسے وہ اپنے آنسو روک لینا چاہتی ہو۔

”یہ تمہیں یقین ہے یہ آمنا سامنا محض اتفاق تھا؟“ طاہر نے پھر شک بھرا سوال کر دیا

” ہاں ، وقار حسین کو اس بارے میں کچھ پتہ نہیں تھا؟“ اس نے کہا اورلمبی سانس لی

” یہ تم کیسے کہہ سکتی ہو؟‘ اس نے یوں پوچھا جیسے شک ابھی تک اس کے دماغ میں اٹکا ہوا ہے۔

” چند دن پہلے، جب یہ معاملہ حل کرنے کے لئے یونیورسٹی کے لوگوں شامل کیا گیا تھا، تب میں نے چاہا تھا کہ وقار حسین کو بھی شامل کر لوں ، مگر وہ اپنے آبائی شہرگیا ہوا تھا۔ “ اس نے صاف کہہ دیا

”اچھا، ٹھیک تو پھر ۔“ وہ مطمئن ہو گیا۔

” میں نے اسے بتایا کہ معاملہ کیا ہے، تب اس نے مجھے یہی کہا کہ تم لوگ فوراً یہاں سے چلے جاﺅ۔ بعد میں دیکھتے ہیں۔میں وہیں کھڑی بتا ہی رہی تھی کہ بات کیا ہے جبکہ اویس گاڑی لینے پارکنگ کی طرف چلا گیا تھا۔ وہ گاڑی لے کر ہماری طرف آرہا تھا تبھی ہم نے دیکھا کہ لڑکی کے بھائی اور یونیورسٹی میں ان کے حمایتی تیزی سے اویس کی جانب بڑھ رہے ہیں۔اویس ابھی راستے ہی میں تھا، گاڑی چند قدم چلی تھی ،وقار حسین تیزی سے اویس کی طرف چلا گیااور اس کی ڈھال بن گیا۔“ آیت نے ان لمحوں میں کھو کر کہا

” ڈھال بن گیا مطلب؟“ اس نے سمجھنے کو پوچھا

” لڑکی کے ایک بھائی نے اویس کو قتل کرنے کے لئے ریوالور نکال لیا تھا اور اسے مسلسل باہر آنے کا کہہ رہے تھے ۔انہوں نے وقار حسین کو سامنے سے ہٹ جانے کا کہا۔وقار نے اویس کو بھاگنے کا کہا ، جس پر وہ لوگ مشتعل ہو گئے ۔میں ابھی اسے دیکھ ہی رہی تھی کہ لڑکی کے بھائی نے وقار حسین پر گولیاں چلا دیں۔پہلی گولی اس کے سینے پر لگی ، دوسری گولی اس کے پیٹ میں۔فائرنگ کی آواز کے ساتھ ہی اویس گاڑی لے کر نکل گیا۔شاید کسی کو گمان نہیںتھا کہ ایسا ہو جائے گا۔میںنے گرتے ہوئے وقار حسین کو دیکھا تو اس کی طرف لپکی ۔یہ کیا کیا تم نے ؟میرا یہی سوال تھا اس سے تو پتہ ہے وہ کیا بولا؟“ وہ دکھی لہجے میںبولی

” کیا کہا اس نے ؟“ اس نے انتہائی تجسس سے پوچھا

” بولا…. میںنے…. اپنی محبت کی…. محبت کو…. بچایا ہے ،…. کیونکہ…. میں تم سے…. محبت کرتا ہوں…. بہت اٹک کر اس نے یہ لفظ کہے تھے۔“ یہ کہتے ہوئے آیت کی آواز بھرا گئی ۔ اگلے ہی لمحے اس کی آ نکھیں بھیگ گئیں۔وہ اٹھی اور تیزی سے باہر چلی گئی ۔

ز….ژ….ز

روشن دن کی صبح میں ہر شے کا رنگ نکھرا ہوا تھا۔ذیشان رسول شاہ صاحب اپنے کمرے میں بیٹھے ہوئے تھے ۔وہی دراز قد نوجوان سب لوگوں کے آخر میں شاہ صاحب کے سامنے جا کھڑا ہوا تھا۔ شاہ صاحب اسے دیکھ کر پہچان گئے ۔ ان کے لبوں پر مسکراہٹ تھی ۔ انہوں نے نوجوان کی طرف دیکھا پھر سامنے پڑے صوفے پر بیٹھنے کا اشارہ کرتے ہوئے کہا

” جی حکم ۔“

” جی ایسی کوئی بات نہیں، میں توبے رنگی کو سمجھنے کے لئے حاضر ہوا تھا۔“اُس نوجوان نے بیٹھ کر عاجزی سے کہا تب شاہ صاحب نے پہلو بدلا اور نرم سے لہجے میں بولے

” تو اس کا مطلب ہے کہ آپ اس بارے جاننے کے لئے کافی سنجیدہ ہیں۔“

” جی میں سمجھنا چاہتا ہوں ، مجھے علم تو ہونا چاہئے۔“ اس نے مودب لہجے میںکہا

” تو میاں بات یہ ہے کہ کسی بھی چیز کی صفت کے بارے میں سمجھنے کے لئے پہلے اس شے کو سمجھا جاناضروری ہے۔پھر بات پوری طرح سمجھ میں آ جاتی ہے ۔“ انہوں نے مسکراتی آنکھوں سے کہا

” جی بالکل ، ایسا ہی ہے۔“ نوجوان نے سر ہلاتے ہوئے کہا

”ہم انسان کی بے رنگی کے بارے میں جاننا چاہ رہے ہیں کہ یہ کیسے ہو گی؟ یا جو بھی انسان کی بے رنگی سے متعلق سوال ہو گا۔ تاہم پہلے ہم یہ جان لیتے ہیں کہ انسان کیا ہے ۔“ شاہ صاحب نے کروٹ لے کر کہا

” جی یہ لازمی ہے ۔“ وہ بولا

” انسان کے بارے میں ہی رب تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ میںنے اسے احسن تقویم پر پیدا کیا۔مطلب اس میں وہ سب کچھ رکھ دیا جو اس کی سوچ کے ساتھ ارتقاءکر سکتی ہے ۔ انسان کی بے رنگی اس کا خلقی ارتقاءہے ۔“ شاہ صاحب نے پر سکون لہجے میں کہا تو نوجوان الجھتے ہوئے بولا

” جناب شاہ صاحب یہ خلقی ارتقاء، میں سمجھا نہیں؟“

”امر اور خلق یعنی جسم اور روح کے ملنے کا نام انسان ہے۔ اکیلی روح انسان نہیں ،اکیلا جسم انسان نہیں ۔ جب تک یہ دونوں واصل نہیں ہوں گے، ایک نہیں ہوں گے ،ہم کہتے ہیں وہ نامکمل ہے ۔یہاں تک کہ انسان کاملیت تک پہنچ جاتا ہے، کامل وہ ہے جنہوں نے ظاہر اورباطن دونوں ایک کئے ہوئے ہیں۔“ شاہ صاحب نے سمجھایا

 ” اب یہ امری اور خلقی بے رنگ کیسے ہوئے ؟“ اس نے پھر الجھ کر پوچھا

”دراصل جب خلق کا امر سے اتصال ہو جاتا ہے تو دونوں بے رنگ ہو گئے ۔دونوں بے رنگ ہوں گے تو ہی بات بنے گی ۔دوقوسیں آپس میں ملیں گی تو دائرہ بنے گا ۔اکیلی قوس تودائرہ نہیںبنا سکتی۔ اب اس میں اصل بات یہ ہے کہ جسم نے اپنا رنگ چھوڑا اور روح کی حقیقی بے رنگی پر چلا گیا ۔“ شاہ صاحب نے کہا

” امری پیدائش کا پراسس کیاہوگا ،ایک بچہ پیدا ہوتا ہے وہ خلقی اعتبار سے تو پرورش پارہا ہے، کیا وہ امری طور پر بھی پرورش پا رہا ہے؟ کیسے وضاحت کریں گے؟“ نوجوان نے سمجھنا چاہا

” اب بچے اور ماں کا تعلق ہے، ماں کی مامتا ایک ایسی محبت ہے جسے ہم ایک عالمگیر سچائی کہیںگے ۔کہیںبھی چلے جائیںماں کی محبت پر کو ئی مسئلہ نہیں ہے ،لیکن بچوں کے معاملے میں ہم دیکھتے ہیں کہ جو ماں کے خلاف ہو گئے، باغی ہوگئے ،نافرمان ہو گئے ۔اب اس کی وجہ یہ ہے کہ ماں کی محبت مستحکم ہے اور بچے کی محبت غیر مستحکم ہے؟بچہ اس وقت امری طور پر پیدا ہوگا، جب وہ ماں کی محبت کو قبول کر کے اپنی محبت سے نوازے گا ۔ اپنی محبت سے اس وقت نوازے گا جب وہ روح کی مسرت سے آگاہ ہوگا ۔ تو پھر ہم یہ کہتے ہیںکہ وہ امری طور پر پیدا ہو گیا۔ اب بچے کا محبت کرنا اس کی امری پیدائش ہے ۔ ماں کی محبت تو پہلے ہی عین بے رنگی میں آ رہی ہے اور یہ پہلے ہی محبت گود سے ہوتی ہے ۔ جب بچہ بڑا ہوتا ہے۔وہ ایک عمل (پراسس)میں آجاتا ہے۔ محبت انسان کے اندر پڑی ہے ۔ جسے ہم روحانی مسرت بھی کہہ سکتے ہیں۔ اسے اجاگر کرنے کی ضروت نہیں ، یہ خود بخود اجاگر ہوتی ہے ۔اس کا سمجھنا ایک دوسرا پراسس ہے ۔واضح رہے میں جس روح کی بات کر رہاہوں و ہ روحِ حقیقی یا امری روح کہلاتی ہے۔“ شاہ صاحب نے تفصیل سے سمجھایا

” یہ روحِ حقیقی یا امری روح…. میں سمجھا نہیں؟“ نوجوان نے کہا

”ایک روح انسانی ہے اور ایک روح حیوانی ہے ۔روح تو جانوروں میں بھی ہے ۔لیکن اس روح کا اور انسانی روح کا بہت فرق ہے ۔اب اس میں دلچسپ بات یہ ہے کہ انسان کے اندر انسانی اور حیوانی دونوں روحیں ہی ہوتی ہیں ۔ جب انسان حیوانیت کی طرف جاتا ہے تو دراصل حیوانی روح کے زیر اثر ہوتا ہے اور جب احسن تقویم کی طرف جاتا ہے تو حقیقی امری روح کے ساتھ ہوتا ہے ۔ اب یہاں میں یہ کہنا چاہ رہا ہوں کہ یہاں زیر بحث روح حقیقی ہے۔“شاہ صاحب نے بات واضح کرتے ہوئے کہا

” شاہ صاحب وہ امری پیدائش کا پراسس کیاہوگا ، یہ بات تو رہ گئی ؟“ اس نے یاد دلایا

” جیسے میںنے پہلے کہا کہ انسان امر اور خلق کے ساتھ وجود میں ہے۔اب اپنے امر کا احساس کرنے کے بعد اپنے امر کے ساتھ ایک ہو جانا دراصل وہ پراسس ہے ، جس کی تکمیل پر یہ اپنے عشق کے تعاقب میں روانہ ہو جاتا ہے۔ ایک خیال آتاہے کہ میں نے لکھنا ہے ، اب لکھا کیسے جائے ؟ خیال سے عمل تک میں ایک پورا دورانیہ ہے ۔اب ہم دیکھتے ہیں فطری عمل…. ایک بچہ جوں جوں اپنی عمر میں بڑھتا ہے اس کے خیالات اور ترجیحات بدلتی چلی جاتی ہیں۔ اس کے اندر جینے کا جذبہ پیدا ہوتا ہے ۔ اس میں سوچ پیدا ہو تی ہے ۔ کیونکہ وہ فطرت کے ساتھ چل رہا ہو تا ہے وہ اپنے ارد گرد دیکھتا ہے ، اسی دیکھنے میں کوئی شے بھی اس کی دل چسپی کا مرکز بن جاتی ہے ۔ اس کی توجہ کسی ایک شے پر مرکوز ہو جاتی ہے ، یہ ” ہدف “ کوئی بھی ہو ،اس کے اپنے معاشرے میں جس شے کو اہم سمجھا جاتا ہے ، وہ اس پر غور وفکر کرے گا ،اس پر توجہ دے گا ۔ یہ ارتقائی باطن کا عمل ہے ۔جسم تو بڑھ رہا ہے خود بخود لیکن باطن کا ارتقاءخود کرنا پڑتا ہے ۔جب طلب ہوئی تو ذہن کا ارتقاءشروع ہو گیا۔ بالکل اس طرح جیسے جسم کا ہوتا ہے ۔خیال آ تا ہے تو عمل ظاہر ہوتا ہے ۔ضرورت ایجاد کی ماںہے۔“ شاہ صاحب نے نکتہ سمجھاتے ہوئے کہا

”کیا ضرورت میں امری پیدائش ہوتی ہے ؟ کیا یہ ایک فطری تقاضہ ہے ؟“اس نے پوچھا

”نہیں،ضرورت نہیں، کیونکہ عشق کا تعلق تو محبوب سے ہے ضرورت سے تو نہیں۔“ شاہ صاحب بولے

” کیا یہاں پر انسان مطمئن ہو جاتا ہے ؟“اس نے پوچھا

” ایک انسان، زندگی کی تعیشات کو لے کر مطمئن ہو تا ہے اور ایک انسان ان تعیشات کو لے کر مطمئن نہیںہوتا۔ اسی طرح ایک بندہ اپنے باطنی سکون کا ادراک کرتا ہے ، دوسرا نہیں۔انسان کے احساسات اس کے اندر ہی پڑے ہوئے ہیں۔ اب تقاضا ہے سکون کا ، تو سکون کہاں سے ملے گا ۔یہی سکون کی تلاش اس کے اندر اپنے امرکی پہچان سے ملے گا۔اب یہ سکون کہاں پاتا ہے ایک شراب کی طرف لپکتا ہے اور دوسرا ذکر اذکار کی طرف ۔“شاہ صاحب نے مسکراتے ہوئے کہا

” لیکن یہ تو متضاد عمل ہوئے دونوں میں سے کسی ایک شے میں سکون ہوگا۔“ وہ پھر سے الجھ گیا

”اب سکون کے حقیقی اقدار پر غور کرنا ہوگا۔وہ اقدار کیا ہیں ؟ جب جب جہاں جہاں دکھائی دیں گے دراصل وہ عشق ہی ہو گا۔ دنیا کے تمام معاشرے دیکھیں تو انسانی سکون کے لئے بنیاد ایک ہی ہوگی ،ان کا نظریہ چاہئے کیسا بھی ہو یعنی انسان کا مثبت عمل انسانی سکون کے لئے بنیاد ہے ۔ یوں ہم کہہ سکتے ہیں سکون کی انتہا عشق ہے۔ ہم اپنی کم علمی میں مغرب کی فلاسفی کو ریجیکٹ نہیں کر سکتے۔وہ ایک حقیقت ہے ، اس حقیقت کے موجود ہونے کے باعث نظر انداز نہیں کر سکتے ۔ اسی طرح صوفی ازم کو یکسر ختم یا نظر انداز نہیںکیا جا سکتا۔اب پوری دنیا کی فلا سفی میں دیکھیں کون سا حقیقی سکون دینے والا ہے اور کون سا غیر حقیقی ہے؟“شاہ صاحب نے نکتہ سلجھا دیا

”انسان روحانی سکون کہاں سے ملے گا ؟ کیا جب وہ حقیقت کو پا لے گا؟“ اس نے تیزی سے پوچھا

”سیدھی سی بات ہے کہ اگر پھول ہے تواس کے ساتھ خوشبو ہے ۔ اگر پھول میں خوشبو نہیں تو اس کی قدر کم ہو گی اسی طرح سکون ہے ، رَبّ تعالیٰ نے جسم کو روح کے ساتھ رکھا ہے ۔تو اس کا سکون بھی ساتھ میں دیا ہے ،جن چیزوں میں اس کا سکون ہے۔“شاہ صاحب نے حتمی لہجے میںکہا

” جس طرح خلقی طور پر انسان پرورش پاتا ہے کیا اسی طرح امری ارتقاءہوتا ہے ؟“ نوجوان نے پھر یوں پوچھا جیسے ابھی تک اس کی تسلی نہ ہوئی ہو ۔

” انسان نے خود کرنا ہوتا ہے۔انسان معاشرے کو راستہ دے رہا ہوتا ہے کہ اس کے باطن کی تخلیق کرے یا وہ خود کر رہا ہے اپنی مرضی سے۔ معاشرہ اس کی جو تربیت، تہذیب کر رہا ہے یہ خود انسان پر منحصر ہے کہ وہ اسے یکسر نظر انداز کر دے یا قبول کر لے۔اب نکتہ یہ آ گیا کہ جب تک ظاہری باطنی یا خلقی امری میں برابر نہیںہوگا، ارتقاءنہیں۔ ہم ارتقاءاسے کہہ سکتے ہیں جب دونوں برابر ہوں، وہی کامل ہونے کی سند حاصل کر سکتا ہے۔“انہوں نے سمجھایا

” وہ کون سی شے ہے جو ان میں ارتقاءپیدا کرے گی اور اس کو برابر کر دے گی ۔“اس نے پوچھا

” ظاہر ہے اس کے لئے قوت چاہئے ، اوروہ قوت ہے ،قوت عشق۔ اب عشق کو بے رنگ ہو نا پڑے گا یہ تب ہو گا جب عاشق اپنا اور معشوق اپنا رنگ چھوڑے گا اور عشق کے رنگ پر آئے گا ۔ ایک معیار اور میزان تو ہوگا، اورمیزان و معیار ہوگا عشق ۔جس طرح کتاب پڑھنے والے تو بہت ہیں لیکن کتاب سے عشق کرنے والا کوئی کوئی ہوگا۔اسی طرح عاشق اور معشوق تو ملیں گے ۔ مقام عشق پر فائز کوئی کوئی ملے گا۔“شاہ صاحب بولے

” کیا ایسا ممکن ہے یا محض فلسفہ؟“نوجوان نے تیزی سے پوچھا

”روح اور جسم برابر پیدا ہوتے ہیں تو انسان زندہ ہوتا ہے ۔ دل ہے تودھڑکن ساتھ پیدا ہوتی ہے ۔ جس طرح جسم اور روح برابر آ سکتے ہیں اسی طرح امر اورخلق کو برابر لایا جا سکتا ہے ۔جہاں غیر متوازن ہو گا وہاں بزرگ اسے برابر کر دیتے ہیں۔مرد اور عورت آپس میں مل کر یعنی پانی میں پانی مل کر اپنی تخلیق کو برقرار رکھتے ہیں۔اسی طرح امری تخلیق کی برقراری بے رنگی میں ہے۔“یہ کہہ کر شاہ صاحب سوچ میں ڈوب گئے جیسے وہ اس بات کی گہرائی میں کہیں کھو گئے ہوں۔نوجوان نے محسوس کیا کہ اب اٹھ جانا چاہئے۔وہ خاموشی سے اٹھا اور کمرے سے باہر چلا گیا۔ شاہ صاحب نے اسے جاتے ہوئے بھی نہیںدیکھا۔ وہ پورے استغراق میں ڈوب چکے تھے ۔

ز….ژ….ز

آیت اپنے گھر کے لاﺅنج میں صوفے پربیٹھی ہوئی تھی۔ اس کے سامنے میز پر لیپ ٹاپ پڑا ہوا تھا۔ اس کے ساتھ ہی چائے کا مگ دھرا ہوا تھا۔ ذرا سے فاصلے پر کچھ فائلیں رکھی ہوئی تھیں۔جن کے پاس سیل فون پڑا تھا۔ وہ پوری توجہ سے لیپ ٹاپ کی اسکرین دیکھ رہی تھی۔اس نے نیلی جین کے اوپر ہلکے کاسنی رنگ کا کرتا پہنا ہوا تھا، جس پہ پرپل رنگ کا سوتی کام تھا۔اس کا آنچل دائیں کندھے پر اٹکا ہوا تھا۔وہ اپنے کام میں اس قدر مگن تھی کہ اسے داخلی دروازے سے آتے ہوئے دادا جی کے بارے میںبھی پتہ نہیںچلا۔وہ آیت کو یوں کام میں محو دیکھ کر ایک لمحہ کو ٹھٹکے، پھر اس کے قریب صوفے پر بیٹھتے ہوئے بولے

”آیت بیٹا۔!تم پھر آفس کاکام گھر میں لے آئی ہو ؟“

داداجی کی آواز پر وہ ایک دم سے چونک گئی۔پھر ان کی طرف دیکھ کر بولی

” دادو،میں سوچ رہی ہوں کہ دو چار لوگ مزید رکھ لوں، کام بڑھ گیا ہے اور میں ….“

” کیوں اتنی محنت کرتی ہو ، جب تمہیں کام کرتے ہوئے دیکھتا ہوں تو میرا من ….“دادا جی نے انتہائی دکھ بھرے لہجے میں کہنا چاہاتو آیت نے ان کی بات کاٹتے ہوئے کہا

” دادو، میں جانتی ہوں،اب آپ کیا بات کریں گے ۔ یہی نا میرا من بہت دکھی ہوتا ہے ۔ تیرے ماں باپ زندہ ہوتے تو ایسا نہ ہوتا ، …. اور تان میری شادی پر آ کر ٹوٹے گی ۔“

” بالکل نہیں، میں تو یہ کہہ رہا تھا کہ لاﺅنج سے باہر کا موسم کیسا ہے تم نے دیکھا ہی نہیں۔ آ ج چھٹی ہے ، اور چھٹی والے دن کام نہیں آرام کرتے ہیں۔“

” دادو آ پ بھی نا۔بات بدل دی نا ۔“ یہ کہتے ہوئے وہ ہنسی تو دادا جی بھی ہنس دئیے ۔

” اچھا اب اٹھو ، اور میرے لئے چائے کا کپ بنا ﺅ، خود تم نے اکیلے پی لی ہے ۔“ دادا جی نے اس کے کپ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہاتو آیت کو یاد آ یا

” اوہ ، یہ تو پڑے پڑے ٹھنڈی ہو گئی ۔ لیکن آپ فریش ہو کر آ ئیں ، آپ کو چائے مل جائے گی، میں خود بناتی ہوں آپ کے لئے چائے۔“آیت نے مسکرا کر ٹیبل پر انگلیاں بجاتے ہوئے کہا

”گڈ گرل، اور یہ کام….؟ “ دادا نے اس کی طرف دیکھ کر سنجیدگی سے کہا

” دادو پلیز۔!وعدہ ، آئندہ گھر میں کام نہیںلاﺅں گی ، پرا مس ۔“ وہ مسکراتے ہوئے لاڈ سے بولی

” چلو اِسے سمیٹو، موسم بہت اچھا ہو رہا ہو ،باہر نکل کر انجوائے کرو۔“ داداجی نے اٹھتے ہوئے کہا

” تھینک یو دادو ، لو یو ۔ میں بس ابھی اٹھتی ہوں۔“ آ یت نے خوشی سے کہا اورپھر سے لیپ ٹاپ اسکرین پر دیکھنے لگی۔ دادا جی لاﺅنج سے چلے گئے۔ وہ لیپ ٹاپ پر تیزی سے اپنا کام سمیٹنے لگی ۔ انہی لمحات میں اس کا سیل فون بج اٹھا۔اس نے سیل فون اٹھائے بغیر اسکرین پر دیکھا تو وہ طاہر کا فون تھا۔اس نے ہاتھ بڑھا کر فون اٹھایا اور کال رسیو کر لی۔

” کہاں ہو ؟“ اس نے پوچھا

” میں گھر پہ ہوں۔“ آیت نے جواب دیا

” مطلب فری ہو ، آﺅ ، کہیں بیٹھ کر باتیں کرتے ہیں۔شاید تم نے باہر کا موسم نہیںدیکھا، بہت زبردست ہو رہا ہے ۔“طاہر نے کہا

”دوپہر سے پہلے تک میرے پاس وقت نہیں ، ہاں دوپہر کے بعدمیں فری ہوں گی ۔“ اس نے صاف کہہ دیا

” اوہ ، بزی ہو۔ چلو ٹھیک ہے ، جب فری ہو جاﺅ تو کال کرنا۔“ طاہر نے فوراً ہی کہہ دیا۔اپنی منوانے کی ذرا سی بھی کوشش نہیںکی ۔آیت اس پر ذرا سا مسکرا دی پھر بولی

”گڈ بوائے ، میں کرتی ہوں کال تمہیں ۔“

” اوکے ۔“ اس نے کہا اور فون بند کر دیا۔

وہ جانتی تھی کہ طاہر کیا چاہتا ہے۔وہ اس دن کی ادھوری بات کی تکمیل چاہتا تھا،آیت بات نہیں کر سکی تھی۔ واپسی پر بھی وہ خاموش ہی رہی تھی۔یہ اچھا ہوا کہ طاہر نے بھی کوئی سوال نہیںکیا تھا۔ وہ اچھی طرح جانتی تھی کہ اس کے ذہن میں ابھی بہت سارے سوال ہیں۔ وہ اسے یہاں اپنے گھر میں بلا سکتی تھی ، یا وہ باہر بھی جا سکتی تھی لیکن اُسے اپنے دادا کو وقت دینا تھا۔وہ چھٹی کے دن کا پہلا حصہ اپنے دادا کے ساتھ گذارا کرتی تھی اور پھر لنچ کے بعد وہ سرمد کے پاس چلی جاتی تھی۔

وہ اپنے دادا کے ساتھ لنچ لے چکی تھی۔وہ آرام کرنے اپنے بیڈ روم چلے گئے ۔ آیت نے ملازمین کو کچھ کام بتائے اور پورچ میں آ گئی ۔

” کدھر ہو ؟“گاڑی میںبیٹھ کر اس نے طاہر کو فون کیا

” تمہارے فون کا انتظار کر رہا ہوں۔“ اس نے اُلجھے ہوئے لہجے میںکہاتو آیت نے پوچھا

” اچھا، میں جا رہی ہوں فارم ہاﺅس ، سرمد کے پاس ، کیا تم وہیں آ سکتے ہو یا تمہیںپک کر لوں؟“

” میں پہنچ جاﺅں گا۔“ اس نے تیزی سے کہا

” ٹھیک ہے ، پھر آجاﺅ۔“ آیت نے کہا اور گاڑی بڑھا دی ۔

اس وقت وہ فارم ہاﺅس کے لاﺅنج میں سرمد کے پاس ہی بیٹھی ہوئی تھی ۔ وہ اپنے کسی نئے کھلونے کے بارے میں بتا رہا تھا۔ آیت اس کی بات یوں دلچسپی سے سن رہی تھی ، جسے کوئی نئی ایجاد ہو گئی ہو ۔تبھی رابعہ نے کہا

”آیت ۔! ویسے مجھ سے زیادہ تمہیں سرمد کے بارے میں پتہ ہے لیکن ایک بات کہوں۔“

” ہاں رابعہ کہو ۔“ وہ اس کی طرف متوجہ ہوتے ہوئے بولی

” سرمد ماشااللہ اب پانچویں برس میں ہے۔دو مہینے بعد اس کی پانچویں سالگرہ ہے ۔ اسے سکول نہیںبھیجنا؟“ رابعہ نے جھجکتے ہوئے پوچھا

” کیا ٹیوٹر پڑھانے نہیںآ رہا ہے ؟“ آیت نے جلدی سے پوچھا

” نہیں وہ تو آ رہا ہے لیکن سکول کی تعلیم تو بہر حال ….“ یہ کہتے ہوئے وہ خاموش ہو گئی

”اسے ابھی سکول جانے کی ضرورت نہیں۔ میں نے اس کے لئے سکول کا پلان کیا ہے اور آج بھی اسی پر کام کر رہی تھی ۔میں اس کے لئے اپنا سکول کھولوں گی ۔ جہاں میں اسے اپنے مطابق تعلیم دوں گی ۔“ آیت نے مسکراتے ہوئے کہا تو رابعہ نے خوشگوار حیرت سے پوچھا

” یہ پھر بھی سکول میں ہی پڑھے گا نا، اپنا ہو یا کسی کا ؟اور اس کے لئے کوئی خاص تعلیم ہوگی ؟“

” ہاں ، سرمد کے ساتھ بہت سارے بچے بھی وہی تعلیم حاصل کریں گے ، جو خاص ہو گی۔تم فکر نہ کرو ، وہ سارا پلان ہو گیا ہے ۔ایک لڑکی امبرین ہے ، اس کے ساتھ میںنے سب طے کر لیا ہے ۔بس تم اسے ذہنی طور پر تیار کرو وہاں جانے کے لئے ۔“ آیت نے سرمد کے بالوں میں انگلیاں پھیرتے ہوئے کہا

” ٹھیک ہے ۔“ رابعہ نے کہا تو انہی لمحات میں باہر سے ایک ملازمہ نے آ کر بتایا کہ طاہر صاحب آئے ہیں ۔آیت نے اسے اندر ہی بلا لینے کو کہا۔ کچھ دیر وہ بھی لاﺅنج ہی میں آ گیا۔ رابعہ چائے بنانے اٹھ گئی ۔ سرمد نے طاہر سے ہاتھ ملایا اور پھر اپنی ماںہی کے پیچھے چلا گیا۔

” پورا ایک ہفتہ ہو گیا ، کوئی رابطہ ہی نہیں۔“ آیت نے پوچھا توطاہر یوں بولا جیسے کسی گہری سوچ میں الجھا ہو

” میں نے کسی سے رابطہ نہیںکیا۔سچ پوچھو، میں تمہاری کہانی ہی سے نہیںنکلا۔ بس یہی سوچتا….“

” او مسٹر، وہ کہانی نہیں، میرے سچے حالات تھے۔“آیت نے ہنستے ہوئے کہا مگر وہ سنجیدگی سے بولا

” جو بھی ہیں،وقار حسین نے متاثر کیا۔وہ اس قدر محبت کرتا تھا۔ یقین نہیںآتا۔“

” یہ حقیقت تھی۔کچھ عرصہ تک تو مجھے بھی سمجھ نہیںآ سکا کہ یہ سب کیا تھا، لیکن تھوڑے ہی عرصے بعد پتہ چل گیا کہ وہ محبت نہیںعشق تھا، جسے میں پہچان ہی نہیںپائی ۔“ وہ کھوئے ہوئے لہجے میں بولی

” کیا عشق کی بھی کوئی پہچان ہوتی ہے ؟“ طاہر نے انتہائی معصومیت سے پوچھا

” ہاں ہوتی ہے ، لیکن عشق کی سمجھ عشق ہی عطا کرتا ہے۔ انہیں تو عشق کی خوشبو تک میسر نہیںہوتی جنہیں عشق نہ ہو ۔ خیر تم اپنی سیاست کی سناﺅ، یہ تمہارے اوپر کی باتیں ہیں انہیںچھوڑو۔ “آیت آخری لفظ کہتے ہوئے یوں مسکرا دی جیسے یہ مسکراہٹ زبردستی کی ہو ۔ طاہر نے اس کے طنز کو بالکل نظر انداز کرتے ہوئے کہا

”مجھے ایک بات کی سمجھ نہیںآئی ؟“

” بولو، میں کوشش کرتی ہوں سمجھانے کی ۔“ آیت نے کہا

”کیا سرمد سے تمہارا رابطہ اور اس کی اس قدر اعلیٰ پرورش صرف اس لئے ہے کہ وقار تم سے محبت کرتا تھا اور اس نے تمہارے لئے اپنی جان دے دی ۔مطلب تم اس کی تلافی کر رہی ہو ؟“اس نے الجھتے ہوئے سوچا

” نہیں، ایسا ہر گز نہیں ہے ، اگر میں تمہیں سمجھانا بھی چاہوں ،لیکن تم یہ سمجھ نہیںپاﺅ گے ۔وقت آ نے پر شاید تم سمجھ جاﺅ ، ابھی اسے چھوڑو۔“ آیت نے اس کے چہرے پر دیکھتے ہوئے انتہائی اعتماد سے کہا

” میں سمجھ نہیںپاﺅں گا ، یہ اگر تم کہتی ہو تو ٹھیک ہے ، ورنہ یہ کوئی ایسی بات نہیں ، خیر ،سرمد سے تم نے رابطہ کیسے کیا؟یا وہ…. وقار حسین کے فوری بعد….“ اس نے کہتے ہوئے جان بوجھ کر بات ادھوری چھوڑ دی

 ”نہیں میںنے پورے تین برس بعد رابطہ کیا۔وقار حسین کے جانے کے بعد تو مجھے یوں لگا جیسے زندگی مجھ پر عذاب ہو گئی ہو ۔“ لفظ ابھی اس کے منہ ہی میںتھے کہ ملازمہ اندر آ گئی ۔ اس نے انتہائی مودب لہجے میںکہا

”آپ کے کمرے میں چائے لگا دی ہے ۔“

” ٹھیک ہے۔“ آیت نے کہا پھر طاہر کی طرف دیکھ کر بولی ،” آﺅ وہاں بیٹھتے ہیں۔“

دونوں اٹھ کر اندر کی طرف چل پڑے ۔دوسری طرف کے آخر میں باہر لان تھے ۔ کونے کے کمرے میں آیت داخل ہوئی تو وہاں سے باہر کا سارا منظر یوں لگ رہا تھا ، جیسے وہ کسی باغیچے ہی میںبیٹھے ہوئے ہوں۔ چائے کی خوشگوار مہک کمرے میںپھیلی ہوئی تھی۔طاہر بیٹھ گیا تو آیت چائے بنانے لگی ۔

”وقار حسین کے جاتے ہی تمہاری زندگی کیسے عذاب بن گئی ؟“ طاہر نے کپ پکڑتے ہوئے پوچھا

”اویس نے مجھ پر پہلا الزام یہی لگایا کہ میں وقار حسین کو پسند کر تی ہوں۔ اس نے جان ہی میری محبت میں اس لئے دی کہ ہمارے تعلقات…. “آیت نے کہنا چاہا تو طاہر نے اس کی بات یوں کاٹی جیسے اسے اویس کے ذکر سے کوئی دلچسپی نہ ہو۔

” اویس کو غلط فہمی ہوگئی ؟“اس نے تیزی سے کہا

” غلط فہمی نہیں، منگنی توڑنا چاہتا تھا، کیونکہ منگنی توڑنے کا مطلب تھا کہ ہمارا خاندان ٹوٹ جاتا۔ظاہر ہے اس کے پاس کوئی وجہ نہیںتھی منگنی توڑنے کی ۔اس نے مجھ پر یہ الزام لگا دیا تاکہ منگنی ٹوٹ جائے اور خاندان میں کوئی ٹوٹ پھوٹ نہ ہو ۔“ آیت نے بتایا

” کیا تم دونوں محبت نہیں کرتے تھے؟“اس نے پوچھا

” محبت ۔!میں کرتی تھی اس سے محبت، وہ نہیں، اس کی محبت تو اسی دن سامنے آ گئی تھی ، جب اس لڑکی کی وجہ سے وہ غائب ہوا تھا۔ میں نے پھر بھی اسے معاف کر دیا۔ محبت میں یہ حساب کتاب نہیںہوتے ۔ میرے معاف کر دینے ہی کو اس نے میری کمزوری جانا۔“ وہ غمزدہ لہجے میںبولی

” وہ خوف زدہ ہو گیا ہوگا ۔ قاتل اس کے پیچھے تھے، وہ اس لڑکی سے شادی ….“ طاہر پوچھتے ہوئے رک گیا

” نہیں،وہ صرف ایک کھیل تھا، جو اویس نے رچایا تھا۔تاکہ مجھ سے جان چھوٹ جائے ، خاندان میں کوئی اسے کچھ نہ کہے ۔ خاندان والے خوف زدہ ہو کر اس لڑکی کو اپنی بہو بنالیں۔ مگر اس کے بر عکس ہو گیا۔“ آیت نے کہا تو طاہر جلدی سے بولا

” وہ لڑکی مطلب اپنے بھائیوں ….“

” ہاں ، وہ جو بھی تھا، لیکن اُس نے جو مجھ پر الزام لگایا ، وہ مجھ سے برداشت نہیںہو سکا۔میں تو ابھی وقارحسین کا غم نہیںبھول پائی تھی کہ اویس نے مجھے مار کر رکھ دیا۔اگر اویس مجھ سے یہ کہتا کہ وہ اس لڑکی سے شادی کرنا چاہتا ہے تو شاید مجھے اتنا دکھ نہ ہوتا، شاید اسے میں شادی کی اجازت دے دیتی لیکن ….“ آیت کی آواز بھرا گئی ، وہ خاموش ہو گئی۔ چند لمحوں میں اس نے خود پر قابو پا لیا۔ پھر کہتی چلی گئی،” ہمارے خاندان میں دراڑیں پر چکی تھیں،چھ ماہ ہی میں اس کا نتیجہ سامنے آ گیا۔ منگنی کیا ختم ہونا تھی، فہیم چاچا نے اپنا حصہ ہی مانگ لیا۔دادا نے کوئی بات کئے بنا، اسے الگ کر دیا۔یوں یہ دروازہ ہمیشہ کے لئے بند ہوگیا ، جب اویس نے اسی لڑکی ملیحہ سے شادی کر لی۔“

” مطلب اویس بے وفائی کر گیا۔“ طاہر نے نتیجہ اخذ کرتے ہوئے کہا

” نہیں اس نے بے وفائی نہیںکی، کیونکہ اس نے مجھ سے کبھی وفا کی ہی نہیںتھی، اسے مجھ سے محبت ہی نہیںتھی۔میںاسے دوش نہیںدیتی۔ یہ تو مجھے بعد میں ساری سمجھ آئی نا ، جو آپ سے پیار نہیںکرتا، جسے آپ سے محبت نہیںہے ، اس کےساتھ زبردستی نہیںکی جا سکتی۔ نہ اس سے محبت چھینی جا سکتی ہے۔میری اور اویس کی شادی صرف خاندان کو جوڑے رکھنے کی ایک کوشش تھی ۔ جب خاندان ہی ٹوٹ گیا تو پھر اس شادی کا کوئی جواز باقی نہیں رہ گیا۔ “ آیت نے پر سکون لہجے میں کہا

” اوہ ۔! تمہیں اس کا پہلے احساس نہیں تھا؟“ طاہر نے پوچھا

” نہیں، کیونکہ میں نے ایسے کبھی سوچا ہی نہیںتھا، میرے گمان میں بھی نہیںتھا۔“ اس نے کہا، پھر ایک ثانیہ رک کر وہ کہتی چلی گئی ،” پھر ایک ایسی افتاد مجھ پر پڑی جس نے مجھ مار کر رکھ دیا، میرے پاپا ، ماما اور دادی۔ ایک حادثے کا شکار ہو گئے ۔ وہ اس دنیا میں نہیںرہے۔ میں اکیلی رہ گئی ۔“ یہ لفظ کہتے ہوئے اس کی آواز پھر سے بھرا گئی ۔

” اوہ بہت افسوس ہوا۔“ طاہر بھی افسردہ ہو گیا

” میں بے سکون ہو گئی ۔اتنی بے سکون کے پوری دنیا سے کٹ گئی ۔دل میں یہی خیال آتا کہ یہ سب میرے ساتھ ہی کیوں ہو رہا ہے ۔ کیا مجھے اب مر جانا چاہئے ۔ ایسے ایسے منفی خیالات کہ خود کشی کے نئے نئے طریقوں پر غور کرنے لگی۔مجھے کوئی غرض نہیںتھی کہ میرے پاپا کا بزنس کون چلا رہا ہے ۔ دادا کو کتنی مشقت ہورہی ہے ۔نیند آتی تو سو جاتی ، جاگتی تو جاگتی ہی رہتی ۔ ایک انجانا خوف مجھ پر مسلط ہو گیاتھا۔انتہائی خستہ حالت ہو گئی تھی میری ۔“ وہ ماضی میں گم ہوتے ہوئے بولی

”اتنا کچھ کیوں ؟ تم اچھی بھلی سمجھدار لڑکی ہو نے کے باوجود ….؟“ طاہر نے اُلجھتے ہوئے پوچھا

” میںنے کبھی دکھ دیکھا ہی نہیں تھا۔مجھے پتہ ہی نہیں چل رہا تھا کہ یہ سارے دُکھ کیسے جھیلوں؟“ آیت نے یوں کہا جیسے وہ اب بھی انہی دکھوں کی ٹرانس میں ہو

” پھر اس فیز سے کیسے نکلی ہو؟“ اس نے پوچھا

”بس ایسے ہی میری ایک دوست تھی امبرین، اسے میرے بارے میں علم تھا، دادو نے اسے کہا کہ وہ مجھے کمپنی دے ۔ وہ میرے پاس آ جاتی یا میں اس کے پاس چلی جاتی ۔سکون تو بہرحال تھا نہیں،میںپاگلوں کی طرح ہو گئی تھی۔ مجھے سمجھ نہیںآتی تھی کہ یہ سب ہو کیسے گیا؟پھر میں اس فیز سے خود نہیںنکلی، ایک شاہ صاحب کے بارے میں کسی نے بتایا تو میں امبرین کے ساتھ ان کے ہاں چلی گئی۔ ان کا ایک لیکچر سنا اور پھر دو منٹ کی ان کے ساتھ ملاقات ہوئی ۔اس کے بعد میں وہاں باقاعدہ جانے لگی۔“ اس نے بتایا

” کون سے ہیں وہ شاہ صاحب، ان سے ملاقات ہو سکتی ہے؟“ طاہر نے پوچھا

” سید ذیشان رسول صاحب،ہاں ، ان سے ملاقات ہو سکتی ہے ۔“ آیت نے بتایا

” مطلب ، انہوں نے تمہیں اس فیز سے نکلنے میں مدد کی ۔تو کیا انہوں نے سرمد کے بارے میں کوئی ہدایات دیں یا تم خود ہی اس کی طرف متوجہ ہوگئی تھی ؟“ طاہر نے پوچھا تو آیت بولی

”ان کی باتیں عام انسانوں کے بارے میں ہوتی ہیں جو سوچنے پر مجبور کرتی ہیں۔ شاید ، یا میں سمجھتی ہوں ، انہیں سرمد کے بارے میں یا میرے بارے میں پتہ بھی نہیںہوگا۔ یہ تو میں نے سرمد اور رابعہ کو تلاش کیااور جب مجھے ان کے بارے میں پتہ چلا تو بہت افسوس ہوا۔مجھے اس سے غرض نہیںکہ وقار حسین کے بھائیوں نے تمہیںکیا بتایا، لیکن میں اتنا جانتی ہو ں کہ وہ لوگ بہت ظالم تھے۔رابعہ اور سرمد انتہائی کسمپرسی میں زندگی گذار رہے تھے۔“

” وہ کیسے ؟“ طاہر نے پوچھا

”وقار حسین کے بعد انہوں نے رابعہ کو گھر سے نکال دیا کہ اب جاﺅ اپنے ماں باپ کے پاس ۔ رابعہ کے والدین انتہائی غریب تھے۔ وہ روٹی تو دے رہے تھے ۔لیکن ایک جوان سال عورت کو گھر میں تونہیںبٹھا سکتے تھے۔ انہوں نے عدت کے بعد اس پر دوسری شادی کرنے کے لئے دباﺅ ڈالا۔ ایک شخص تھا، جس کی بیوی فوت ہو گئی تھی، دو اس کے بچے تھے۔وہاں پر سرمد بھی پل جاتا۔انہی دنوں سرمد بے چارہ بیمار ہو گیا۔ اب اس کے علاج کا خرچ بڑھ گیا تو رابعہ کے لئے وہ دن کاٹنا مشکل ہو گئے۔وہ بے چاری سرکاری ہسپتالوں میں لے کر اسے پھرتی رہی ۔ وہاں کیا ہونا تھا۔انہی دنوں میںنے اپنے ذرائع سے پتہ کیا تو مجھ پر رابعہ کے حالات کھلے۔ میرا رابعہ سے رابطہ ہو گیا تومیں فوراً بہاول پور پہنچ گئی ۔“آیت نے بتایا

” اور تبھی تمہاری مجھ سے ملاقات ہو گئی۔“ اس نے ہنستے ہوئے کہا

” ہاں ۔!ان دنوں میرے پاس پیسہ نہیںتھا۔مجھ سے جو ہو سکا میںنے کیا۔ لیکن واپس آ نے کے بعد میںنے سوچا۔سرمد میری تمام تر سرگر میوں کا محور بن گیا۔میںنے اپنا آپ اسے سونپ دیا۔میںنے دادا کے ساتھ اپنا بزنس شروع کیااور پھر اس میںکھو گئی۔ تیسرے ماہ ہی میں سرمد اور رابعہ کو یہاں لاہور اپنے ہاںلے آ ئی ۔میری ترقی ، میرے بزنس کا پھیلاﺅ ، میرا سکون صرف اور صرف سرمد کی وجہ سے ہے۔“ وہ اعتماد سے بولی

” وہ کون سی ایسی بات ہے ، جس نے سرمد کو محور بنا دیا۔ کیا یہ وقار حسین کی تلافی؟“ اس نے پوچھا

” نہیں،تلافی تو میں کر ہی نہیں سکتی۔ یہ بات شاید ابھی تم نہیں سمجھ پاﺅ گے ۔ اسے وقت پر چھوڑ دو ۔“ آیت نے مسکراتے ہوئے کہاتو وہ ہنستے ہوئے بولا

” ٹھیک ہے چھوڑ دیا وقت پر ۔“ وہ مسکراتے ہوئے بولا

”اچھا کیا۔“ اس نے کہا

”اور یہ تھی تمہاری داستان ۔“ وہ سوچتے ہوئے لہجے میں بولا

” میرا خیال ہے اب چلیں ، میری آ ج ایک میٹنگ بھی ہے ۔“آیت نے کہا تو طاہر اٹھتے ہوئے بولا

”دیکھو ، اب تک میں ہی تمہیںملنے آ تا رہا ہوں ۔ کیا تم نہیںآ ﺅ گی ۔“

” طاہر ، تم نے مجھے بلایا ہی نہیں، یہاں تک کہ بہاول پور میں بھی تم نے مجھے اپنا گھر نہیں دکھایا۔“ آیت نے ہنستے ہوئے کہا تو وہ ایک دم سے قہقہ لگا کر ہنس دیا۔

ز….ژ….ز

جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

DEVINE CHROMA Epi.2 … Abdul Hnnan Ch

DEVINE CHROMA Epi.2 Sajjid was a Bahawalpur native. His father was a famous lawyer. He …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے