سر ورق / کہانی / تین مختصر کہانیاں سعدیہ ہما شیخ

تین مختصر کہانیاں سعدیہ ہما شیخ

تین مختصر کہانیاں

سعدیہ ہما شیخ

 

"تشنہ محبت”

سویرے سویرے اخبار کے ٹائٹل پیج پہ ایک خبر نے کچھ افسردہ سا کردیا … "چار بچوں کی ماں اپنے آشنا کے ساتھ فرار….” یہ خبر پڑھ کر اس عورت سے کراہئیت سی محسوس ہونے لگی. تفصیل میں بی بی کا مزید بیان تھا کہ گھر سے بھاگنے کی وجہ ایک ہی تھی… "شوہر مجھ سے پیار نہیں کرتا تھا.” یا حیرت ….. چار بچے پیدا ہوگئے اور حضرت شوہر اب بھی پیار نہیں کرتا ؟ اگر پیار کرتا تو پھر آبادی میں کتنا اضافہ ہوجاتا ؟؟ اگست کا مہینہ تھا. وکالت سے فراغت تھی.. سوچا کیوں نہ اس بی بی سے ملاقات کی جائے. میرے اندر کا لکھاری پھڑپھڑانے لگا تھا.. منشی کو بھیج کر ملاقات کی اجازت لے لی. (مجھے علم ہوا تھا کہ مطلوبہ خاتون گرفتار کرلی گئی ہیں.) شہناز بی بی میرے سامنے بیٹھی تھی. پینتیس چھتیس سالہ .. بڑے سبھاو والی خاتون, اپنے چہرے مہرے سے پڑھی لکھی لگ رہی تھی اور کسی طور بد چلن کی تعریف پر پوری نہیں اترتی تھی. اسے دیکھ کر میرے تاثرات بدل سے گئے اور جو الزامات اس کے شوھر نے لگائے تھے غلط لگنے لگے. مگر اس کا قید میں ہونا یہ ثابت کر رہا تھا کہ اس نے یہ غلط قدم اٹھایا ہے. وہ بھی زرا حیرت زدہ سی نظروں سے میرا جائزہ لے رہی تھی.. منشی نے اسے بتادیا تھا کہ کوئی وکیل ملاقاتی آئی ہے اس لیئے وہ زرا محتاط سی نظر آرہی تھی… "بی بی.. چار بچوں کے بعد تم کس محبت کی تلاش میں معصوم بچے چھوڑ کر گھر سے بھاگ گئیں ؟ یہ بھی نہ سوچا کہ تم ایک عورت ہو … عورت جو نسلوں کی امین ہوتی ہے!!” میرے تیکھے سوال پہ اس نے جن کاٹ دار نظروں سے مجھے دیکھا وہ مجھے جیسے چیر گئیں. "بی بی کیا بچے پیدا کرنا محبت کہلاتا ہے؟ کیا یہی پیار ہے کہ چند گھڑی بستر میں گزاری جائیں اور ایک بچے کا تحفہ دیکر یہ بھول جائیں کہ اسکے سینے میں بھی دل ہے….” وہ ایک لمحے کیلئے خاموش ہوگئی پھر جیسے اپنے اندر کی توانائی مجتمع کرکے پھر بولنے لگی…” کیا عورت کوئی مشین ہے ؟ کہ جب شوہر بٹن دبائے تو آن ہو جائے… اور بٹن دبائے تو آف ہو جائے ؟؟ ” اسکی باتیں مجھے قائل کرتی جارہی تھیں… اس سے پہلے کہ وہ کچھ اور کہتی میں نے کہا… "جب اسلام نے راستہ بتا دیا ہے تو تم طلاق لیکر دوسری شادی کر لیتی.. لیکن اب چار بچوں کے بعد یہ اوچھی حرکت کیوں ؟ … تم دین کے ساتھ ساتھ دنیا کی بھی مجرم ہو.” "ہاں…. تب نہ جب وہ اپنی اور اپنے گھر والوں کی اس بے دام غلام کو طلاق دیتا.. دن بھر اسکے بچون اور گھر والوں کی چاکری کرتی اور رات کو اس کیلئے ڈیوٹی دیتی. میرا شوھلہر جو دن کے اجالے میں ماں بہنوں کے کہنے پہ مجھے دھن کر رکھ دیتا … اسی رات اپنی ضرورت پوری کرنے میرے پاس آجاتا.. میرے جسم پہ پڑے نیلوں میں اضافہ کرتا اور مجھے ایک خرید لی ہوئی عورت کی طرح استمال کر کے سب بھول جاتا.” اس کا تلخ لہجہ لفظوں میں زہر گھولنے لگا تھا…. "بستر پہ گزرے ان چند منٹوں میں یوں لگتا کہ میں اسے بہت محبوب ہون اور دن کے اجالے میں وہ پھر میرے لئے اسی جلاد کا روپ دھار لیتا… بی بی تم تو اتنے لوگوں سے ملتی ہو سچ بتاو کیا ہر مرد ایسا ہوتا ہے ؟ کیا ہر مرد کا پیار جسم سے شروع ہو کر جسم پر ہی ختم ہو جاتا ہے ؟ کوئی نہیں جو عورت کی روح کی پیاس بجھا سکے ؟؟ جو اسے سکون اور اپنائت دے سکے ؟ کیا عورت کو راحت اور دلجوئی کی ضرورت نہیں ہوتی ؟ بولو کیا کہتا ہے تمھارا قانون ؟؟ محبت کی تلاش میں گھر سے نکلنے پہ کون سی دفعہ لگتی ہے مجھ پر ۔۔ ؟” وہ پتہ نہیں کتنے سوال پوچھنے لگی تھی… اس کی آواز جیسے بہت دور سے سنائی دینے لگی مجھے.. میری سماعت دھندلانے لگی تھی.. منظر آنکھوں کے سامنے اوجھل ہونے لگے تھے….. چاہت میں… قربت کی خاطر وہ کرتا ہے اکثر مجھ سے میٹھی باتیں چرا کر … وصل لمحوں کی رعنائی وہ پھیر لیتا ہے نگاہیں.. اور دے جاتا ہے لمبی ہجر کی ساعتیں.

خاموش غلام

کیا مسئلہ ہے کتنی بار کہا ہے کہ پیچھے سے مت بولایا کرو تو پھر کیا کروں رات گۓ گھر آتے ہو ناشتے پہ بھی بات نہ کروں تو پھر کس وقت بات کروں انعمتہ روہانسی ہو رہی تھی بس بس اب تقریر نہ شروع کر دو مدعا بیان کرو بچوں کی فیس جمع کرانی ہے گھر میں پکانے کو بھی کچھ نہیں یہ لو دو ہزار جو منگوانا ہے منگوا لو باقی آ کر دیکھو گا کسی بھکاری کی طرح دو ہزار لیتے ہوۓ انعمتہ کے نین کٹورے ابل پڑے اور وہ یہ کہ ہی نہ پای کہ اسکی میڈیسن بھی ختم ہے شام کو حیدر گھر آیا اور چینج کرتے ہی گھر سے نکل گیا پندرہ منٹ کسی چاند کی طرح گھر میں طلوع ہونے والے شوہر سے وہ پھر اپنی بات نہ کر سکی کہ اسے پارٹی میں جانے کی جلدی تھی پارٹی اپنے جوبن پر تھی مہک علی اپنے مدہوش کرنے والے رقص سے ہر ایک سے داد وصول رہی تھی حیدر کو دیکھ کر اس نے دور سے ہی مسکراہٹ اچھالی کہ اصل قدردان تو اب آیا تھا اور پھر رقاصہ کے پیچ و خم کے ساتھ سرور میں ڈوبا حیدر ہزاروں نوٹ وارتا یہ ب،ھول گیا کہ اصل حقدار گھر میں بغیر دوا کے منتظر ہے وہ خاموش غلام جو منہ اندھیرے اٹھتی اور رات گۓ بستر پہ جاتی ہے اسکے بچوں اور گھر کو سنبھالتی ہے اسے دو ہزار دینے پہ کتنا واویلا،اور یہاں نوٹوں کی گڈیاں نچھاور کرتے ہوئے وہ رب کے اس فرمان کو فراموش کر بیٹھا غلام کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے اس کا حق دیا جاۓ اس خاموش غلام کا حق کہا ں جو دن رات کو لہو کے بیل کی طرح خود کو بھلا کر ذمہ داریاں نبھاتی اور رات کو بستر پہ اپنے آنسوؤں کے ساتھ سوتی اور مالک دوسروں پہ نثار ہوتا رات گے آتا اور اپنے بے دام غلام کی طرف دیکھے بنا سو جاتا وہ رقاصاؤں پہ ان گنت نوٹ وارتا اور بیوی کی جائز ضروریات کے لۓ دے گے پیسوں کا بھی ہزار بار ایکسرے کرتا آپ ہی بتائیں کیا کوئ غلام ایسا ہو گا جو چپ چاپ غلامی کی زنجیریں پہنے زندگی دان دے اور اگر فریاد کرے تو ستم کا نشانہ بنے؟ وہ رقاصاؤں پہ ان گنت نوٹ وارتا ہے مگر اصل حقدار کو دو آنے نہیں دیتا

"نصیب”

نشاء کی منگنی ٹوٹ گئی.. کیونکہ یہ حسان کی پسند سے ہوئی تھی. ماں نے وقتی طور پہ بیٹے کو چپ کرانے کیلئے رشتہ کر دیا یہ سوچ کر کہ جلدی خمار اتر جاۓ گا مگر جب شادی کا وقت قریب آیا تو جواب دے دیا. دونوں طرف آگ برابر لگی ہوئی تھی نشاء اپنے حواس کھو رہی تھی سب نے سمجھا یا کہ اس میں کوئی بہتری ہو گی تمہارے نصیب کسی اچھی جگہ لکھے ہوں گے مگر وہ کم عقل اپنا نصیبہ خود لکھنے چلی تھی.رات کے اندھیرے میں حسان کے ساتھ گھر کی دہلیز پار گئی اور جنم دینے والوں کے نصیب میں رسوائی لکھ گئی. دونوں بہت خوش تھے حسان اسے اپنے فلیٹ میں لے گیا اور وہ دوستوں کے ساتھ مل کر شادی کی تیاریاں کرنے لگے نشاء اپنی پسند سے ساری شاپنگ کر رہی تھی لہنگا پیک کرا کے وہ اپنے فیورٹ ریسٹورنٹ میں لنچ کر رہے تھے کہ اچانک ایک زور دار دھماکہ ہوا اور افراتفری پھیل گئی… ہوش آنے پہ نشاء کو مژدہ ملا کہ بمب دھماکے میں وہ اپنے محبوب جس کیلئے اس نے والدین اور اپنے رب کی نافرمانی کی اسے… اور اپنی ایک ٹانگ کھو چکی ہے. دارالامان میں زندگی کے دن پورے کرتے ہوئئ پہلی دفعہ اس آیت کا مفہوم اس پہ واضح ہوا… "اے ابن آدم ایک تیری چاہت ہےاور ایک میری چاہت ہے اور ہو گا وہی جو میری چاہت ہے اور میں تھکا دوں گا تجھے اس میں جو تیری چاہت ہے…” (ختم شد)

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

خوشی … شیکھا گپتا/عامر صدیقی

خوشی شیکھا گپتا/عامر صدیقی ہندی کہانی ……………. آج جیسے ہی گھر سے آفس کے لئے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے