سر ورق / کہانی / کرائم فائٹر۔۔۔ سید بدر سعید

کرائم فائٹر۔۔۔ سید بدر سعید

غیرت

کرائم رپورٹنگ بظاہر ایک دھانسودار بیٹ معلوم ہوتی ہے۔ عام خیال بھی یہی ہے کہ کرائم رپورٹر انتہائی بااثر اور طاقتور شخص ہوتا ہے کیونکہ اس کے بیک وقت اعلیٰ پولیس افسروں اور خطرناک مجرموں سے تعلقات ہوتے ہیں۔ اکثر کے ساتھ تو اس کی اس قدر بنتی ہے کہ ہم نوالہ و ہم پیالہ والا محاورہ صادق آتا ہے۔ اسی طرح اکثر خطرناک مجرموں اور پولیس افسران کے درمیان ہونے والے خفیہ معاہدوں، دشمنوں کا خاتمہ یا لین دین کا تنازعہ بھی کرائم رپورٹرز کو درمیان میں ڈال کر حل کیا جاتا ہے۔ یہ کرائم رپورٹنگ کا ایک رخ ہے۔ عام طور پر لوگوں کے ذہن میں کرائم رپورٹنگ کا یہی رخ نمایاں رہتا ہے۔ دوسری جانب کرائم رپورٹر کی روزانہ کی مصروفیات اور ذمہ داریاں اتنی اچھی نہیں ہوتیں۔ کرائم رپورٹنگ کے آغاز سے ہی میری ذمہ داریوں میں یہ بھی شامل تھا کہ روز ہسپتالوں کے مردہ خانوں کا چکر لگاﺅ۔ میں وہاں جاتا، مردہ خانے کے نگران سے ملتا اور اس روز آنے والے مردوں کے بارے میں سوالات کرتا۔ اس کے بعد وہ مجھے مردہ خانے میں لے جاتا۔ وہاں آنے والی بھیانک اور مسخ شدہ لاشوں کو دیکھنا اور ان کی تصاویر بنوانا دل گردے کا کام تھا۔ ہم عام لاش تو شاید آسانی سے دیکھ لیں لیکن مردہ خانوں کی اکثر لاشیں ان سے مختلف ہوتی ہیں۔ یہ حادثات میں کٹی پھٹی، جلی ہوئی اور گولیاں لگنے کی وجہ سے لوتھروں میں بٹی ہوئی ہوتی ہیں۔ اسی طرح اکثر لاشیں پھول کر مزید بھیانک ہوجاتی ہیں۔ ابتدا میں تو مجھے نیند میں بھی لاشیں ہی نظر آتی تھیں۔ پھر آہستہ آہستہ اس معمول کا عادی ہوگیا ۔ ہم ایک ربورٹ کی طرح ہسپتال جاتے، مردہ خانے کا انچارج خاموشی سے ہمارے ساتھ چلتا ہوا ہمیں سردخانے لے جاتا اور ایک ایک کرکے لاشیں دکھانا شروع کردیتا۔ میں فوٹوگرافر کو کہہ کر مختلف زاویوں سے ان کی تصاویر بنواتا۔ گنتی کرتا اور ڈاکومنٹس لے کر خاموشی سے چلا آتا۔ روزمرہ کے انہی معمولات کی وجہ سے کہا جاتا ہے کہ کرائم رپورٹرز کا دل سخت ہوجاتا ہے اورمعمولی حادثات انہیں کوئی حادثہ ہی نہیں لگتے۔ میں نے تو ایسے بھی رپورٹرز دیکھے ہیں جو پریس کلب میں بیٹھے کہہ رہے ہوتے تھے کہ کافی دن ہوگئے کوئی مزے دار خبر نہیں ملی۔ کوئی دھانسو قسم کا قتل ہوجائے تو مزہ آجائے۔

اس قسم کے معمولات کے باوجود کبھی کبھی کوئی ایسی واردات بھی سامنے آجاتی تھی جسے رپورٹ کرنے کے دوران میں بھی لرز جاتا تھا۔ یہ بھی ایسی ہی واردات تھی۔ بظاہر ایک لڑکی قتل ہوئی تھی۔ اسے قتل کرنے والوں میں کم ازکم بھی بیس افراد شامل تھے۔ میں نے اس لڑکی کی لاش بھی دیکھی تھی۔ اس کا جسم ٹکڑوں میں تبدیل ہوچکا تھا۔ اسے ڈنڈوں، کلہاڑی، چھڑی اور برف توڑنے والے سوئے کی مدد سے مارا گیا تھا، جس کی وجہ سے اس کی لاش بعض جگہوں سے ہڈی سمیت کٹی ہوئی تھی تو کہیں کہیں سے قیمہ بن چکی تھی۔ میں اس لڑکی اور اس کے خاندان کو جانتا تھا۔ جس گلی میں لڑکی قتل ہوئی اس سے چند قدم کے فاصلے پر جھورے ڈکیت کی بیٹھک تھی جہاں جوا کرایا جاتا تھا۔ جھورا ڈکیت اپنے محلے میں شریف انسان کی طرح رہتا تھا اور یہاں اس کا جوئے کا اڈا بھی پرامن رہتا تھا۔ بنیادی طور پر یہ بیٹھک جھورے اور اس کے ہم خیالوں کے بیٹھنے کا ایک بہانہ تھی۔ اس لیے یہاں چھوٹے موٹے جرائم ہوتے تھے جن میں جوائ، دیسی شراب وغیرہ شامل ہیں جبکہ بڑے جرائم کی منصوبہ بندی بھی یہیںہوتی تھی۔ جرائم کی خبروں کی تلاش ہی مجھے اس بیٹھک تک لے گئی تھی اور پھر میرا یہاں مستقل اٹھنا بیٹھنا ہوگیا۔ ہر بار یہاں سے مجھے زیر زمین مجرموں کے بارے میں کوئی نہ کوئی نئی بات ضرور معلوم ہوجاتی تھی۔ اس بیٹھک کی وجہ سے میری اس محلے کے دیگر لوگوں سے بھی سلام دعا ہوگئی تھی۔ شائستہ اس گلی میں نہیں رہتی تھی لیکن اس کا قتل اسی گلی کے ایک گھر میں ہو اتھا۔ دراصل یہاں اس کا آبائی گھر تھا جہاں اب اس کا بھائی اور بھابھی رہتے تھے۔ شائستہ شادی شدہ لڑکی تھی۔ بظاہر وہ اپنے گھر میں خوش تھی جہاں اس کا ایک چھوٹا بیٹا اور پیار کرنے والا شوہر تھا۔ اس کا بھائی شکیل اکثر جھوڑے کی بیٹھک میں آتا رہتا تھا۔ اس لیے مجھے اس خاندان کے بارے میں تھوڑا بہت معلوم تھا۔ اس کیس کی ابتدائی باتیں تو جھوڑے کی بیٹھک سے تعلق کی وجہ سے میرے علم میں تھیں۔ کچھ باتیں پولیس رپورٹ، دستاویز اور عینی شاہدین سے بعد میں معلوم ہوئی تھیں ان میں سے غیر متعلقہ باتیں حذف کررہا ہوں۔

اس کہانی کی ابتدا تو اسی وقت ہوگئی تھی جب شکیل کے والد وفات پاگئے تھے۔ ا سکی والدہ دو سال قبل ہی فوت ہوچکی تھیں۔ والد کی وفات کے بعد بنک میں موجود تھوڑی بہت نقدی شکیل نے شرعی اصولوں کے مطابق تقسیم کردی اور شائستہ کو وراثت میں حصہ دے کر اپنا فرض ادا کردیا۔ شکیل کے اس کام پر لوگوں نے اس کی کافی تعریف بھی کی۔ شائستہ کے حصہ میں چند ہزار روپے ہی آئے تھے۔ کہانی میں ہنگامہ خیزی اس وقت آئی جب شائستہ نے مکان کے حصہ کا معاملہ اٹھایا۔ اس وقت تک ان کے والد کی وفات کو دو برس سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا تھا۔ شائستہ کے شوہر کو کاروبار میں نقصان ہوا تھا۔ میاں بیوی اس سلسلے میں کافی پریشان تھے۔ اگر وہ قرض داروں کا منہ بند نہ کرتے تو کاروباری ساکھ بھی ختم ہوجاتی۔ انہی لمحات میں شائستہ کے ذہن میں آبائی مکان آگیا۔ یہ اس کے والد کے نام پر تھا جہاں اب اس کا بھائی اور بھابی رہتے تھے۔ شکیل اپنی بیوی کے ہمراہ اپنے والد کی زندگی میں بھی اسی گھر میں رہتا تھا اس لیے وہ اسے اپنا گھر ہی سمجھتا تھا۔ شائستہ کے شوہر کو کاروباری نقصان ہوا اور قرض دار سر چڑھنے لگے تو شائستہ نے بھائی کو اس آبائی گھر کے حصے کرنے کا کہہ دیا۔ اس سلسلے میں وہ باقاعدہ فتویٰ بھی لے آئی تھی جس کی رو سے والد کی وفات کے بعد ان کے گھر میں بیٹی کا بھی حصہ بنتا تھا ۔اس معاملے پر بہن بھائی میں اختلافات شروع ہوگئے۔

 شائستہ فتویٰ حاصل کرنے کی وجہ سے خود کو اس گھر میں شرعی حق دار سمجھتی تھی۔ اس کا کہنا تھا کہ بھائی شریعت کے مطابق اس کا حصہ اسے دے دے۔ اس کے خیال میں شرعی فیصلے اور حق کی وجہ سے یہ معاملہ کسی قسم کے اختلاف یا ناراضی کے بنا حال ہوجانا چاہیے۔ دوسری جانب شکیل اخلاقی جواز تلاش کررہا تھا۔ اس کا کہنا تھا کہ یہ اس کا آبائی گھر ہے۔ وہ اپنے والد کی زندگی میں بھی اسی گھر میں رہتا تھا اس گھر میں اس کی پیدائش اور شادی ہوئی۔ اس طرح شائستہ بھی شادی سے قبل اسی گھر میں پلی بڑھی۔ اب بہن کو چاہیے کہ اخلاقی طور پر یہ گھر تباہ نہ کرے اور اپنے بھائی کو گھر سے بے گھر نہ کرے۔ شائستہ نے ایک موقع پر یہ نقطہ بھی اٹھایا کہ شکیل مارکیٹ ریٹ کے مطابق اسے اس کے حصہ کے برابر رقم ادا کردے اور گھر باقاعدہ طور پر اپنے نام کروا لے۔ شکیل کا کہنا تھا کہ وہ خود انتہائی تنگدستی کا شکارہے۔ اس کے پاس اتنی رقم ہی نہیں کہ بہن کو ادا کرکے گھر اپنے نام کرسکے۔ مالی حوالے سے شکیل کی بات درست تھی کیونکہ اس نے متعددلوگوں سے ادھار لے رکھا تھا۔ جھوڑے کی بیٹھک میں ہونے والے جوئے کی محفلوںمیں وہ آگے آگے رہتا تھا۔ چند دنوں میں امیر بننے اور قسمت آزمانے کے چکر میں اکثر مقروض ہی رہتا ۔ دیگر جواریوں کی طرح اسے بھی شراب پینے کی لت لگی ہوئی تھی۔ یہ لوگ جوا ہار جاتے تو ہارنے کا غم غلط کرنے کے لیے دیسی شراب پیتے اور اگر جیت جاتے تو جیت کا جشن منانے کے لیے ولایتی شراب پیتے تھے۔ بہرحال دونوں صورتوں میں شکیل کے پاس بھی رقم نہ بچتی۔ یہاں تک کہ اس نے محلہ کے ایک آدمی سے چھوٹا موٹا کاروبا رکرنے کے لیے ایک لاکھ ادھار بھی لے رکھا تھا۔ اس کی بدقسمتی یہ ہوئی کہ رقم جیب میں آنے کے بعد اس نے پھر خواب دیکھنے شروع کردئیے۔ ایک لاکھ سے دس لاکھ تک کمانے کا لالچ اسے پھر جھورے کی بیٹھک لے گیا اور وہ وہاں یہ رقم بھی جوئے میں ہار آیا۔

اب صورت حال کچھ ایسی ہوگئی تھی کہ ایک طرف قرض خواہ شکیل کی جان کو آئے ہوئے تھے تو دوسری طرف شائستہ مکان میں سے حصہ مانگ رہی تھی۔ حالات شکیل کے سامنے تھے۔ وہ حصہ کی رقم ادا نہیں کرسکتا تھا اور مکان بیچنے کی صورت میں اسے کرایہ کے گھر کا راستہ دیکھنا پڑتا۔ انہی دنوں محلہ دار نے بھی ایک بار پھر اپنی رقم کا تقاضہ شروع کردیا۔ شکیل نے ا س سے مزید مہلت مانگی تو اس نے کہہ دیا کہ تم اگلے بیس برس تک بھی قرض نہیں چکا سکتے۔ اس لیے اپنا مکان مجھے بیچ دو۔ اس کا کہنا تھا کہ مارکیٹ ریٹ کے مطابق وہ قرض کی رقم کاٹ کر باقی رقم شکیل کو ادا کردے گا اور مکان خریدے گا۔ اس نے شکیل کو یہ مشورہ بھی دیا کہ وہ مکان بیچ کر حاصل ہونے والی رقم سے کاروبار شروع کرسکتا ہے جس سے وہ نہ صرف باقی لوگوں کا قرض ادا کرسکے گا بلکہ محنت کرے تو دوبارہ گھر بھی بناسکے گا۔ شکیل دونوں طرف سے پھنس چکا تھا۔ ایک طرف بہن گھر میں حصہ مانگ رہی تھی۔ دوسری طرف ہمسایہ مکان خریدنے کی پیشکش کررہا تھا اگر شکیل مکان فروخت کردیتا تو ہمسایہ کا قرض بھی ادا ہوجاتا اور بہن کو اس کا حصہ دے کر وہ ایک نیا کاروبار بھی شروع کرسکتا تھا۔

انہی دنوں شائستہ فیصلہ کن انداز میں شکیل کے گھر آگئی۔ اس کا کہنا تھا اب وہ مکان کا حصہ لے کر ہی جائے گی۔ اس نے واضح طور پر شکیل کو کہہ دیا کہ اگر یہ معاملہ گھر میں حل نہ ہوا تو وہ اسے پنچائیت میں لے جائے گی۔ یہ وہی پنچائیت تھی جس کے سامنے شکیل نے والد کی وفات کے بعد بہن کو اس کا حصہ دے کر داد سمیٹی تھی۔ شکیل نے شائستہ کو یقین دلایا کہ وہ ایک دو روز میں یہ معاملہ گھر میں ہی حل کرلے گا۔ دوسری جانب ہمسایہ کو بھی اس نے بیعانہ لے کر آنے کا کہہ دیا تاکہ گھر فروخت کرسکے۔ بظاہر معاملہ اپنے انجام کی طرف پہنچ رہا تھا لیکن کہانی کا ایک اور بھیانک انجام بھی سامنے آگیا۔ مجھے یاد ہے کہ اس دن میں جھورے کی بیٹھک میں ہی بیٹھاہوا ۔ اچانک شکیل بھاگتا ہوا آیا اور ایک دوست سے پستول مانگا۔ وہ اس وقت انتہائی غصے اور وحشت میں لگ رہا تھا۔ دوستوں نے اس سے وجہ دریافت کی تو ا سنے بتایا کہ ابھی ابھی وہ اپنے ہمسائے کو چھپ کر اپنے گھر داخل ہوتا دیکھ کر آیا ہے۔ اب وہ اپنی بیوی اور ہمسایے کو قتل کردے گا۔ چونکہ معاملہ غیرت اور محلہ کی عزت کاتھا لہٰذا بیٹھک میں بیٹھے دیگر محلہ دار بھی غصے کی حالت میں اس کے ساتھ چلے گئے۔ محض ایک دو افراد بیٹھک میں رہ گئے تھے۔ کچھ دیر بعد معلوم ہوا کہ مشتعل محلہ داروں نے شکیل کی بہن اور اس کے ہمسائے کو موقع پر پکڑ کر قتل کردیا ہے۔ یہ خالصتاً غیرت کا معاملہ تھا۔ کہانی کھل چکی تھی۔ شکیل کی بہن مکان فروخت کروا کر اس میں سے اپنا حصہ چاہتی تھی اور انہی دنوں ہمسایے نے مکان خریدنے کی آفر کردی۔ یعنی وہ اپنی محبوبہ کے لیے راستہ ہموار کررہا تھا تاکہ اس کی محبوبہ کا کام بھی بن جائے اور اسے بھی اپنی رقم مل سکے ۔ کڑی سے کڑی ملتی چلی گئی۔ شکیل کی بیوی اس وقت محلہ میں ایک خاتون سے ملنے گئی ہوئی تھی۔ گھر میں صرف شائستہ ہی تھی۔ اس وقت تنہائی میںہمسایے کا اس کے پاس ہونے کا مطلب سبھی سمجھ رہے تھے۔ سب نے ہمسایے اور شکیل کی بہن کی اس حرکت کو براسمجھا۔ شکیل محلہ کا ہیروتھا جس نے غیرت کے معاملے پر کسی قسم کا سمجھوتا نہیں کیا۔ ہمارے ہاں غیرت کے نام پر قتل کرنے والے کو ویسے بھی سر آنکھوں پر بٹھایا جاتا ہے۔

بظاہر کہانی ختم ہوگئی تھی لیکن پولیس کی تفتیش میں ایک اور کہانی سامنے آگئی۔ ایسے عینی شاہدین اور گواہ بھی سامنے آگئے جن کے مطابق اس روز شکیل نے خود ہمسائے کو بلایا تھا۔ جس وقت اسے بلایا گیا وہ اپنے دوستوں کے ہمراہ تھا۔ وہ انہیں ساری بات بتا کر ہی گیا تھا۔ اس کے پاس بیعانے کی رقم بھی تھی۔ شکیل نے اسے گھر بٹھا کر خود وکیل اور سٹامپ پیپر لانے کا بہانہ کیا اور جھورے کی بیٹھک میں آگیا۔ اس نے ایک تیر سے دو شکار کیے تھے۔ غیرت کے نام پر اس بہن کو قتل کردیا جو مکان میں سے حصہ مانگ رہی تھی تو دوسری طرف اس ہمسایے کو بھی قتل کروادیا جو ادھار رقم کی واپسی کا تقاضہ کررہا تھا۔ میں نے ہسپتال میں مقتولین کی لاشیں دیکھی تھیں۔ لگ بھگ بیس افراد نے انہیں انتہائی وحشیانہ انداز میں تشدد کرکے قتل کیا تھا۔ ان کی کچلی ہوئی لاشیں دیکھی نہ جاتی تھیں۔ میرے ذہن میں آج بھی وہ منظر تازہ ہے۔ جب بھی یہ واقعہ یاد آتا ہے تو سوچتا ہوں کہ کیا ہمارے ملک میں غیرت کے نام پر قتل کرنے کا حق صرف مردوں کو حاصل ہے۔ کیا ملک کی سبھی عورتیں بے غیرت ہیں کہ آج تک کسی عورت نے غیرت کے نام پر قتل نہیں کیا اور پھر یہ سوچ کر لرز جاتا ہوں کہ اگر کسی دن لڑکیوں نے غیرت کے نام پر اپنے باپ، بھائی اور شوہر کو قتل کرنا شروع کردیا تو ملک میں کتنے مرد زندہ بچ پائیں گے؟؟

………………………………………….

کرائم فائٹر

یہ کچھ پرانی بات ہے ۔ان دنوں میں ایک ایسے اخبار میں کام کرتا تھا جس کا دفتر دو کمروں کے ایک فلیٹ پر مشتمل تھا۔ ان میں سے ایک کمرہ اخبار کے مالک کے لئے مخصوص تھا جبکہ دوسرے کمرے میں لکڑی کی پارٹیشن کرکے دو تین کیبن بنائے گئے تھے۔ یہ چھوٹے چھوٹے کیبن بھی اخبار کے مختلف شعبے تھے۔ ایک کیبن میں سب ایڈیٹر کم ڈیزائنر بیٹھتا تھا۔ وہ بیچارہ اکیلا ہی اس اخبار کا ”نیوز روم“ تھا۔ وہی خبر کمپوز کرتا اور اسے ڈیزائن کرتا تھا۔ دوسرا رپورٹنگ روم تھا، وہاں کے حالات بھی زیادہ اچھے نہیں تھے، اگر تمام رپورٹر بیک وقت آ جاتے تو آدھے رپورٹرز کو رپورٹنگ روم سے باہر کھڑا ہونا پڑتا تھا۔ یہ الگ بات ہے کہ ایسا بہت کم ہوتا تھا۔ اس اخبار کے رپورٹر بھی آزاد منش تھے۔ جس کے ہاتھ کوئی خبر لگتی وہ آ کر ”نیوز روم“ کو جمع کروا جاتا، اگر خبر نہ ملتی تو دفتر آنے کی بھی زحمت نہ کرتا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ اخبار کا مالک رپورٹرز کو ایک پائی بھی ادا نہیں کرتا تھا۔ مجھ سمیت اس اخبار کے سبھی رپورٹرز شوقیہ صحافی تھے۔ لگ بھگ سبھی رپورٹرز نے روزگار کے لئے متبادل کام اختیار کر رکھا تھا۔ وحید نے دوکیری ڈبہ لے کر کرایہ پر دیئے ہوئے تھے۔ اسے کوئی خبر ملتی تو وہ اس اخبار سمیت بیک وقت دو تین ایسے ہی اخباروں کو خبر دے جاتا اور اپنی ذات میں صحافی بن جاتا۔ میں ٹیوشن پڑھا کر اتنے پیسے کما لیتا کہ گزارہ ہو جاتا۔ کچھ پیسے گھر والے بھی بھیج دیتے تھے۔ راشد پولیس میں اے ایس آئی تھا۔ ہم سب میں کئی باتیں مشترک تھیں، پہلی یہ کہ ہم سب کو صحافی بننے کا شوق تھا۔ ہم سب ہی پردیسی تھے، اسی طرح ہم چار لوگ ایک ہی کمرے میں رہتے تھے ۔شہر کے مہنگے کرایوں اور کم آمدنی کی وجہ سے ہمارے پاس اس کے علاوہ کوئی حل نہ تھا کہ ہم ایک کمرہ کرایہ پر لے کر کرایہ کی رقم چار حصوں میں تقسیم کر لیں سو ہم نے ایسا ہی کیا۔ راشد کے پاس عام طور پر دوسروں سے زیادہ خبریں ہوتی تھیں ۔وہ اپنے ساتھی اہلکاروں سے بھی کوئی نہ کوئی خبر حاصل کر لیتا تھا۔ اخبار کا مالک ان فری لانس رپورٹرز سے ملنے والی خبریں کمپوز کراتا اور ایک ایسے پریس میں لے جاتا جہاں اسی طرح کے اخبار شائع ہوتے تھے۔ پرنٹنگ پریس والے نے پہلے سے ایک مکمل اخبار تیار کر رکھا ہوتا تھا ۔اس ”ماڈل اخبار“ میں وہ ہر اخبار مالک کی دی گئی چند خبریں شامل کرتا، اخبار کے نام کا لوگو تبدیل کرتا اور جتنی کاپیوں کا آرڈرہوتا اتنا اخبار چھاپ کر اخبار مالک کے حوالے کر دیتا۔ بدقسمتی سے آج بھی ہمارے اکثر چھوٹے اخبارات کے مالک اسی طرح ٹھیکے پر اخبار شائع کراتے ہیں۔

راشد کی مثال پولیس میں صحافی اور صحافیوں میں پولیس کی سی تھی۔ اسے نہ تو ساتھی پولیس اہلکار خالص اہلکار تسلیم کرتے تھے اور نہ ہی ہم تینوں اسے صحافی ماننے پر رضامند تھے۔ اس کے صحافی ہونے کا علم صرف چند ایک قریبی پولیس اہلکار دوستوں کو ہی تھا۔ چونکہ عام طور پر اس کی خبریں ہم سے زیادہ ہوتی تھیں لہذا اخبار میں اسے زیادہ جگہ ملتی تھی۔ یہ وہ دن تھے کہ جب ہماری کوئی خبر چھپ جاتی تو ہم گھنٹوں اخبار تھامے اس خبر کو پڑھتے چلے جاتے اور خوشی سے پاگل ہونے لگتے۔ راشد کا دعویٰ تھا کہ وہ ایک دن ملک کا مشہور صحافی بن جائے گا اور پھر پولیس کی نوکری چھوڑ دے گا۔اپنی بات کی دلیل دینے کے لئے وہ ہم پر واضح کرتا کہ ہماری نسبت اس کی زیادہ خبریں شائع ہوتی ہیں لہذا وہ ہم سے بڑا صحافی ہے۔ اس کی یہ دلیل ہمیں خاموش کرانے کے لئے کافی ہوتی تھی اور اکثر ہی دھڑکا لگا رہتا کہ کہیں ظالم واقعی بڑا صحافی نہ بن جائے ۔یہ اچھازمانہ تھا اور بے تکلفی بھی انتہا کی تھی لہذا ہم اس خوف کا اظہار بھی اس کے منہ پر کر دیتے تھے جس سے وہ مزید خوش ہو جاتا تھا۔

کچھ عرصہ بعد راشد کے رویہ میں تبدیلی آنے لگی۔ اب وہ پہلے کی طرح خبریں دینے سے کتراتا تھا۔ اس کی ڈیوٹی ٹائمنگ بھی تبدیل ہو گئی۔ پہلے وہ دن کے وقت جاتا اور شام ڈھلے واپس آ جاتا۔ اب وہ سارا دن کمرے میں پڑا اونگھتا رہتا اور شام کو ڈیوٹی پر چلا جاتا تھا۔ پولیس کی ملازمت کی وجہ سے ہم اکثر اس کا مذاق اڑایا کرتے تھے۔ وہ بیچارہ کرپٹ اور راشی پولیس اہلکاروں کی عادات اور حرکتوں کی وجہ سے ہم سے طعنے سنتا رہتا تھا۔ کسی ٹی وی پروگرام یا ڈرامے میں بھی پولیس اہلکاروں کا مذاق اڑایا جاتا تو بے ساختہ ہم اس کی جانب دیکھنے لگتے اور وہ خوامخواہ شرمندہ ہو جاتا۔ پھر یہ ہوا کہ اس نے خاموشی سے کمرہ چھوڑ دیا۔ اس کی وجہ اس نے یہی بتائی کہ اب اس کی ڈیوٹی تبدیل کر دی گئی ہے لیکن ہمارا خیال تھا کہ وہ ہمارے طنز سے تنگ آ کر جا رہا ہے۔ ہم نے اسے روکنے کی بہت کوشش کی لیکن وہ چلا گیا۔

کمرہ چھوڑنے کے بعد راشد مجھے دوبارہ نہ ملا۔میں نے ایک دو بار اس سے ملنے کی کوشش کی لیکن ہر بارکوئی نہ کوئی وجہ بن گئی اور میری اس سے ملاقات نہ ہو سکی۔ کچھ عرصہ بعد معلوم ہوا کہ راشد علاقے کے اشتہاریوں کے لئے خوف کا باعث بنتا چلا جا رہا ہے۔ اس کا عہدہ بڑا نہیں تھا لیکن بڑے افسر بھی اہم مواقع پر اسے ساتھ لیجانے کی خواہش کا اظہار کرتے تھے۔ وہ تیزی سے پولیس مقابلوں کا ماہر ہوتا چلا جا رہا تھا۔ کچھ عرصہ بعد اس کو سی آئی اے پولیس میں بھیج دیا گیا۔ وہاں وہ ایک ایسے افسر کی ٹیم کا حصہ بن گیا جو پولیس مقابلوں کے حوالے سے خاصا بدنام تھا۔ بتانے والے نے یہ بھی بتایا کہ راشد کو اپنی ٹیم میں شامل کرنے کی خواہش کا اظہار اس پولیس افسر نے خود کیا تھا۔ اس وقت تک میں بھی ایک اور اخبار سے بطور کرائم رپورٹر منسلک ہو چکا تھا۔ کرائم رپورٹنگ کے باوجود راشد سے میری ملاقات نہ ہو سکی۔ خطرناک اشتہاری ملزمان کو پولیس مقابلے میں پار کرنے کی وجہ سے اس کی دشمنیوں کا دائرہ کافی وسیع ہو چکا تھا۔ اپنی نڈر اور بے خوف طبیعت کی وجہ سے وہ اعلی افسران کی ناک کا بال بن چکا تھا۔ اعلی افسران سے براہ راست رابطے اور مجرموں کی خطرناک دشمنیوں کی بدولت اسے اس قدر اہمیت حاصل ہو چکی تھی کہ تھانیدار کی سطح کے افسر کو وہ خاطر میں نہ لاتا تھا۔ مجھے اس سے متعلق خبریں اس کے محکمے کے مختلف افراد سے ملتی رہتی تھیں۔ وہ مجرموں کے درمیان بطور ضمانتی بیٹھ کر بھی معاملات حل کراتا تھا کیونکہ اب وہ مجرموں کے لیے خوف کی علامت بن چکا تھا۔ اس کے خلاف ماورائے عدالت قتل کی کئی انکوائریاں چل رہی تھیں لیکن مجھے بخوبی معلوم تھاکہ یہ انکوائریاں محض خانہ پری کے لیے ہیں کیونکہ انکوائری کرنے والے افسر ہی تو اسے خطرناک اشتہاری مجرموں کو پولیس مقابلے میں پار کرنے کے لیے بھیجتے تھے۔ اسے ڈیپارٹمنٹ میں ”کرائم فائٹر“ کے نام سے بھی جانا جاتا تھا۔ اس کے بارے میں یہ بھی معلوم ہوا کہ اس نے غیر ضروری ملاقاتوں سے منع کررکھا تھا۔ مجھے حیرت ہوئی تھی کہ وہ کیسی زندگی گزار رہا ہے۔ ایک ایک کرکے شہر سے اشتہاری مجرموں کا خاتمہ ہوتا چلا گیا۔ وہ لوگ جو اسلحہ اور ساتھی بدمعاشوں کے دم پر خود کو علاقے کا بے تاج بادشاہ قرار دیا کرتے تھے اب منظر نامے سے غائب ہوتے چلے جارہے تھے۔ کچھ لوگ مارے جاچکے تھے اور کچھ شہر چھوڑ کر کہیں دورجاچکے تھے۔

ایک دن میں روٹین کی اسائنمنٹ پر ہسپتال گیا اور اس روز مرنے والوں اور حادثات کا شکار ہونے والوںکے بارے میں معلومات حاصل کرنے لگا۔ اتنے میں میری نظر سٹریچر پر لیجاتے ہوئے ایک مریض پر پڑی تو میں چونک گیا۔ وہ سو فیصد راشد تھا۔ اسے تیزی سے ایمرجنسی لیجایا گیا لیکن اس کی ایک جھلک دیکھنے کے بعد ہی اندازہ لگا چکا تھا کہ وہ یا تو بے ہوش ہے یا پھر مرچکا ہے۔ وہیں مجھے معلوم ہوا کہ راشد کو زہر دیا گیا ہے۔ جو اپنے سبھی پرانے دوستوں سے ملنے سے انکاری تھا، وہ ملا بھی تواس حال میں کہ میرے سامنے بے ہوشی کی حالت میں پڑا تھا۔ میں نے وہیں رکنے کا فیصلہ کرلیا۔ بروقت ایمرجنسی پہنچ جانے کی بنا پر راشد کی جان بچ گئی۔ ہوش آنے پر میں اس سے ملا تو مجھے دیکھتے ہی اس کی آنکھوں سے آنسو چمکنے لگے۔ کچھ دیر گلے شکوے ہوئے اور پھر ہم پرانی یادوں میں کھوگئے۔ میں نے شکوہ کیا کہ وہ ہم سب سے اس طرح الگ کیوں ہوا کہ پھر ملنے سے ہی انکار کردیا۔ اس کا کہنا تھا کہ وہ جس راستے پر چل رہا ہے اس کا انجام قتل ہی ہے۔ وہ کسی نہ کسی روز کسی مجرم کے ہاتھوں قتل ہوگا۔ اس لیے اس نے اپنے سبھی پیاروں کو خود سے الگ کردیا تھا تاکہ کوئی مجرم ان کو نقصان نہ پہنچا سکے۔ اس کی وضاحت سے ہی ظاہر ہوتا تھا کہ وہ ہمیں اس لیے چھوڑکر گیا تھا کہ اسے ہماری فکر تھی۔

راشد سے اس کی زہر خوانی کی جو کہانی معلوم ہوئی اس کے مطابق اپنی انتہائی سخت ڈیوٹی ، خطرناک زندگی اور محدود نقل و حمل کے باوجود اسے ایک لڑکی سے عشق ہوگیا تھا۔ اس لڑکی سے اس کی ملاقات بھی حادثاتی طور پر ہوئی تھی۔ پھر یوں ہوا کہ شہر بھر میں خوف اور دہشت کی علامت سمجھا جانے والا دبنگ انسان ایک کمزور سی لڑکی کے سامنے سرنڈر کرگیا۔ راشد اس سے شادی کرنا چاہتا تھا۔ دوسری جانب بھی آگ برابر لگی ہوئی تھی، والا معاملہ تھا۔ اس روز بھی وہ لڑکی راشد سے ملنے آئی تھی اور ہمیشہ کی طرح اس نے اپنا استحقاق جتلاتے ہوئے خود کچن میں جاکر چائے بنائی۔ یہ چائے پینے کے کچھ دیر بعد ہی راشد کو احساس ہوگیا کہ اسکے ساتھ ”گیم“ ہوگئی ہے لیکن اس وقت وہ اپنے بچاﺅ کے لیے کچھ نہیں کرسکتا تھا۔ لڑکی جیسے آئی تھی ویسے ہی آرام سے چلی گئی۔ بعد میں معلوم ہوا کہ اس لڑکی کا مقصد ہی راشد کا خاتمہ تھا۔ چونکہ راشد کو اس کی رہائش گاہ پر گولی مار کر فرار ہونا ناممکن تھا اسی طرح وہاں غیر متعلقہ شخص اسلحہ لے کر نہیں جاسکتا تھا لہٰذا اسے قتل کرنے کے لیے عشق کا ڈرامہ کیا گیا۔ اس لڑکی کا تعلق ایک جرائم پیشہ گینگ سے تھا جبکہ اس کا ایک بھائی بھی راشد کے ہاتھوں مارا جاچکا تھا۔

راشد سے رابطہ بحال ہوا تو پھر ملاقاتوں کا سلسلہ چل نکلا۔ ایک روز کہنے لگا: شاہ! کوئی بڑا اخبار بطور رپورٹر میری خبر چھاپنے پر آمادہ نہ تھا۔ اب دیکھ لو ہر ماہ بڑے اخبارات مجھے بطور خبر چھاپتے ہیں۔ اشتہاری مجرموں کو پولیس مقابلوں میں قتل کرتے چلے جانے کی وجہ سے ان کے سروں پر رکھی گئی رقم اس کے اکاﺅنٹ میں منتقل ہوتی چلی گئی۔ ہر ماہ وہ تنخواہ کے ساتھ ساتھ ہزاروں یا لاکھوں روپے اس مد میں بھی حاصل کرلیتا تھا۔ اس لیے اس کی محدود زندگی میں بھی دولت کی ریل پیل نظر آتی تھی۔ راشد سے مجھے مختلف مجرموں کی پروفائل سٹوریز ملنے لگیں۔ پھر ایک روز خبر ملی کہ راشد شدید زخمی حالت میں ہسپتال لایا گیا ہے۔ میں بھاگم بھاگ ہسپتال پہنچا تو معلوم ہوا وہ آپریشن تھیٹر میں ہے۔ ایک خطرناک گینگ سے جھڑپ کے دوران اسے بھی گولیاں لگی تھیں۔ کچھ دیر بعد سرجن آپریشن تھیٹر سے باہر نکلا تو اس نے راشد کی شہادت کا اعلان کردیا۔ راشد کے ساتھیوں سے معلوم ہوا کہ زخمی ہونے کے بعد اس نے مجرموں کی بجائے ان کی گاڑیوں کے ٹائر کو نشانہ بنانا شروع کردیا تاکہ اس کے بعد اس کے ساتھی انہیں ختم کرسکیں۔ یہ مقابلہ ایک نسبتاً سنسان سڑک پر بھاگتی ہوئی گاڑیوں اور موٹرسائیکلوں پر ہورہا تھا۔ مجرم راہ فرار اختیار کرتے ہوئے دفاعی پوزیشن پر آچکے تھے لیکن راشد انہیں فرار کی مہلت دینے پر آمادہ نہ تھا۔ راشد اپنے ایک ساتھی کے ساتھ موٹرسائیکل پر تھا۔ زخمی ہونے سے قبل وہ ان مجرموں کو نشانہ بنا رہا تھا لیکن جیسے ہی اسے گولی لگی اس نے اپنے ساتھی سے کہا کہ اب وہ پیچھے آنے والی نفری کے لیے انہیں روکنے کی کوشش کرے گا۔اس دوران اس کا کافی خون بہہ گیا۔ اس مقابلے میں اس کے ساتھ موٹرسائیکل سوار بھی شہید ہوگیا تھا۔ یہ دونوں ایک ایسی جگہ گرے تھے جہاں سے فوری طور پر ان کا پیچھے جانا ممکن نہ رہا۔ ان کے ایک طرف اشتہاری مجرم تھے اور دوسری طرف پولیس اہلکار پوزیشن لیے ہوئے تھے۔ ہسپتال پہنچاتے پہنچاتے خون زیادہ بہہ جانے کی وجہ سے دونوں شہید ہوگئے جس کی حتمی تصدیق سرجن نے کردی تھی۔

راشد کی شہادت کے بعد بہت سی باتوں کا انکشاف ہوا۔ اسے بڑے اخبار میں چھپنے کا شوق تھا لیکن جب وہ بڑا رپورٹر نہیں بن سکا تو اس نے دوسرا راستہ اختیار کرلیا۔ اسی طرح وہ رشوت لینے کا قائل نہیں تھا لیکن اس کے بنک اکاﺅنٹ میں لاکھوں روپے موجود تھے۔ یہ رقم اس نے اشتہاری مجرموں کو قتل کرکے سرکار سے لی تھی۔ پولیس میں رہتے ہوئے اس نے جس راستے کا انتخاب کرلیا تھا اس پر چلتے ہوئے بڑے بڑے افسروں کے قدم ڈگمگا جاتے ہیں۔ اسے اپنا انجام معلوم تھا اس لیے اس نے شادی نہیں کی۔ بوڑھے والدین کے لیے وہ ٹھیک ٹھاک بنک بیلنس چھوڑ گیا جو گاﺅں کی سادہ طرز زندگی میں ان کے لیے کافی سے کچھ زیادہ ہی تھا۔راشد کے جنازے کو کندھا دیتے ہوئے میرے کانوں میں اس کا جملہ گونج رہا تھا۔ اس نے ایک بار کہا تھا۔ شاہ ہم کرائم فائٹرز کو معلوم ہوتا ہے کہ ہمیں طبعی موت نصیب نہیں ہوگی۔ میں بھی کسی روز ایسے ہی مارا جاﺅں گا جیسے میرے ہاتھوں ہر ماہ کوئی مجرم مارا جاتا ہے۔ میں صحافی بن کر جرائم کا خاتمہ نہیں کرسکا لیکن میں نے پولیس میں کرائم فائٹر بن کر جانے کتنے مجرموں سے دھرتی کو پاک کردیا ہے۔

میں نے بطور صحافی متعدد پولیس اہلکاروں اور افسروں کے خلاف رپورٹس فائل کی ہیں۔ ہمارے ہاں مجموعی طور پر پولیس کے بارے میں اچھی رائے نہیں پائی جاتی لیکن سچ کہوں تو اس پولیس میں راشد جیسے سچے کرائم فائٹر بھی موجود ہیں۔ جنہیں معلوم ہے وہ زیادہ عرصہ زندہ نہیں رہیں گے لیکن انہوں نے مرنے سے پہلے کئی لوگوں کی زندگیاں بچانے اور مجرموں کا خاتمہ کرنے کا فیصلہ کررکھا ہے۔ شاید یہ ماورائے عدالت قتل کے زمرے میں آئے۔ شاید یہ ایک سنگین جرم بھی ہو لیکن جب میں کسی خطرناک مجرم کو آزادی سے گھومتے اور شریف شہریوں کو حراساں کرتے دیکھتا ہوں تو مجھے راشد درست لگنے لگتا ہے۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

دیدی کا پیڑ … یوگیش کناوا/عامر صدیقی

دیدی کا پیڑ یوگیش کناوا/عامر صدیقی ہندی کہانی ……………. دفتر کے باہر،کوﺅں کی تیز کائیں …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے