سر ورق / افسانہ / دو افسانے۔ ملحیہ سید

دو افسانے۔ ملحیہ سید

مہرین ،بالی

ملیحہ سید

بالی جب مہرین کے کمرے میں داخل ہو ئی تو حیران رہ گئی،دو گھنٹے پہلے بی بی کو جس طرح بیٹھا چھوڑ کر گئی تھی وہ ہنوز اسی حالت میں موجود تھی۔بی بی جی کو کیا ہو گیا ہے،شادی سے پہلے تو وہ ایسی نہیں تھیں،لے ویاہ تے میراں وی ہوا اے پر مت سلامت اے(شادی تو میری بھی ہو گئی ہے مگر عقل سلامت ہے)۔

بالی خان ہاؤس میں بھی کام کرتی تھی جانتی تھی ۔۔۔۔۔ بی بی تو اپنے والدصاحب کہ گھر میں بھی خاموش رہتی تھیں مگر شادی کے بعد تو یہ خاموشی اور بھی بڑھ گئی تھی جیسے وہ کچھ چھپا رہی ہیں، اس نے کئی بار سوچا کہ بی بی سے پوچھے مگر ہمت نہ کر پائی حالانکہ مہرین کی لاڈلی تھی۔ تعلیم یافتہ ماحول میں رہنے کی وجہ سے کافی ہشیار ہو گئی تھی اور جب سے اس کی شادی ہوئی تھی اسکو تو جیسے پر ہی لگ گئے تھے ، اس کی سانولی رنگت سرخ قندھاری اناروں میں ڈھل گئی تھی ،اس کا انگ انگ بولتا تھا،، اس کی ہنسی کی کھنک میں جیسے مندروں کی گھنٹیاں بجنا شروع ہو گئی تھی،وہ ایک عام سی لڑکی سے کسی داستان کی ایسپرا بن گئی تھی۔مہرین نے اچانک بالی کو پکار۔۔۔۔۔۔۔۔

اے بالی ! ادھر تو آ،، میرے پا س بیٹھ۔

بالی تو تھی ہی کسی ایسے موقع کی تلاش میں کہ بی بی سے ان اداسیوں کا سبب پوچھے۔۔۔

ہائے بی بی جی ! یہ آپ نے اپنی کیا حالت بنا لی ہے؟ کیا روگ لگا لیا ہے جان کو؟ میری جان سے پیا ری بی بی ، کچھ تو بتائیں میری سوہنی بی بی،، آپ کو میری محبت کی سو(قسم)۔

بالی نے مہرین کے قدموں میں بیٹھتے ہوئے بڑے دلار سے پوچھا۔

بالی ۔۔۔۔۔

کافی دیر خاموش رہنے کے بعد مہرین نے اس سے پوچھا۔۔۔

تاجا تجھ سے پیار کرتا ہے کیا؟

بتا نہ بالی ۔۔۔۔ تاجا تجھ سے پیار کرتا ہے کیا ؟ مہرین نے ایک بار پھر سے پوچھا اور زور دے کر پوچھا۔

تاجا کے ذکر پر بالی لال ہو گئی ۔۔۔

جی بی بی !! کرتا ہے، تاجا میرے سے بہت پیار کرتا ہے۔بالی نے شرما کر جواب دیا۔

کیسے؟ مہرین نے اسی لہجے میں پوچھا۔

جی ۔۔۔۔۔۔۔مہرین کے اگلے سوال نے بالی کو چونکا دیا۔

میں نے پوچھا کیسے ؟ مہرین نے زور دے کر کہا

جی جیسے سارے مرد اپنی گھر والیوں سے کرتے ہیں،بالی نے جواب دیا۔

نہیں سارے مرد اپنی گھر والیوں سے پیار نہیں کرتے،، تو بتا کہ تاجا تجھے کیسے پیار کرتا ہے؟؟ مہرین کے لہجے میں دکھ ،تاسف اور غم کے سارے انداز تھے مگر بالی تو اپنے تاجے کے خیالوں میں کھو چکی تھی نہ اسے مہرین نظر آ رہی تھی اور نہ ہی اس کے سوال سنائی دے رہے تھے۔ وہ صرف اور صرف تاجا کو سوچے جا رہی تھی،سرخ ہو رہی تھی، اس کے دل کی دھڑکن صاف سنائی دے رہی تھی،،وہ خود میں سمٹ رہی تھی جیسے تاجا اسکو چھو رہا ہے،،پیار سے اختیار سے،،محبت سے،،، تاجا اس کے وجود میں داخل ہو رہا ہے،،، جیسے،،،، جیسے کوئی بادشاہ اپنی سلطنت میں قدم رکھتا ہے۔ تاجا جو رنگ ساز مزدور ہے،،گھروں کو رنگ کرتا ہے،،جب بالی کا دولہا بنا تو اس نے اپنی محبت کے رنگوں سے بالی کے سانولے وجود کو اس طرح سجا دیا کہ قوس قزاح کے سارے رنگ اس کے وجود کا حصہ بن گئے ۔

بی بی۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بالی جو اس وقت کسی اور ہی دنیا میں داخل ہو چکی تھی،،اسی میں گم ہو کر بولی تو مہرین کو اس کے لہجے سے لگا کہ بالی نے خالص شراب کے کئی جام ایک ساتھ اپنے اندر اتار لیے ہیں ۔ایسی نشیلی آواز پہلے تو نہیں تھی بالی کی۔

تاجا میرا مرد ،،،، بی بی جب وہ ہاتھ پکڑ کر بستر پر اپنے پاس بٹھاتا ہے اور میری آنکھوں میں دیکھتا ہے تو مجھے لگتا ہے کہ وہ اپنی آنکھوں سے ہی مجھے اپنے اندر اتار لے گا۔

بی بی وہ خود کہتا ہے کہ بالی مجھے کوئی راستہ دے کہ میں تیرے اندر اتر جاؤ،، تیری ذات میں شامل ہو جاؤں۔۔تیرا لہو بن جاؤ،، بالی کے ہونٹوں پر یہ الفاظ تھے اور آنکھوں میں تاجا کے ساتھ گزارے لمحات کا عکس ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بی بی،،،،، کیا بتاؤں،،،، اتنا بول کر بالی پھر سے تاجا کے خیالوں میں کھو گئی۔

بی بی تاجا بولتا ہے کہ بالی محبت صرف محبت ہوتی ہے،،اور میاں بیوی کی محبت تو اللہ اور رسول کو بھی بہت پسند ہے،، وہ کہتا ہے کہ بیوی کے حقوق پورے کرنے والے کی بہت عزت ہے،،، آسمانوں پر بھی اور زمیں پر بھی،، کہتا ہے کہ عورت کو صرف روٹی او ر کپڑا لتا نہیں چاہیے ہوتا،، وہ یہ سب بھی مانگتی ہے،،مگر اس سے پہلے پورے حق کے ساتھ اپنے نام لکھے گئے مرد کی مکمل چاہت چاہتی ہے۔

بالی اپنے خیالات میں گم بولے جا رہی تھی اور مہرین نم آنکھوں سے شوکت ترمذی کے سرد رویوں کو سوچے جا رہی تھی۔ ایک عورت جس کے پاس دنیا کی تمام آسا شیں موجود ہیں مگر شوہر قربت اور محبت کے معنی ہی نہیں جانتا اور ایک وہ عورت جو گھروں میں کام کر کے روزی روٹی کماتی ہے اور ایک کمرے میں رہتی ہے ، اس کے پاس سیراب کرنے والا مرد ہے۔ بالی اپنے تاجا کی سرشاری محسوس کر کے ڈوب ڈوب کر اسکی چاہتوں کے قصے سنا رہی تھی اور مہرین روتے ہوئے سوچ رہی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کاش وہ بھی کسی تاجے کی مہرو ہوتی،، کسی آفتاب ترمزی جیسے مرد کے نام نہ لکھی گئی ہوتی جیسے ایک بھر پور اور حسین عورت کے مقابلے میں نوخیز لڑکوں میں زیادہ دلچسپی ہے۔

مہاتما

 وادی کے سبھی لوگ آہستہ آہستہ دیوتاؤں سے ناراض ہو رہے تھے۔ انہیں لگتا تھا کہ موجودہ دیوتا آکاش سے پرے رہنے والی عظیم قوت کو ناراض کر بیٹھے ہیں۔ کیونکہ وادی کے حالات دن بدن خراب ہو رہے تھے اور یوں لگتا تھا کہ لوگ ایک دوسرے کو نوچ نوچ کر کھا جائیں گے۔ وادی کے کچھ سیانے اکھٹے ہوئے انہوں نے فیصلہ کیا کہ ان دیوتاؤں سے جان چھڑانے کا ایک ہی راستہ ہے ۔۔۔ ایک مہاتما کہیں سے لایا جائے جو ان دیوتاؤں کو اتنا گندہ کر دے کہ لوگ خود ہی ان سے جان چھڑا لیں ۔ مہاتما کی تلاش میں یہ سب سیانے وادی میں چاروں طرف پھیل گئے۔ انہیں مہاتما بنانے کے لیے کسی اسے شخص کی تلاش تھی جیسے لوگ کسی نہ کسی طرح پسند کرتے ہوں۔ آخر کئی دنوں کی بھاگ دوڑ بعد انہیں ایک ایسا شخص مل گیا ۔۔ جسے لوگ پسند بھی کرتے تھے اور وہ بے وقوفی کی حد تک عقل مند تھا۔ سیانوں کو اندازہ ہو گیا کہ یہ ان کے مطلب کا آدمی ہے۔ انہوں نے وادی بھر میں اس کو مشہور کرانا شروع کر دیا۔ جب سیانوں کو لگا کہ اب دیوتاؤں گندا کیا جاسکتا ہے تو انہوں نے ایک اجتماع کا انتظام کیا۔ مہاتما بولتا جاتا۔۔ لوگ سن کر قبول کرتے جاتے۔ دیوتاؤں سے ناراض لوگ جلد ہی مہاتما کے گرد جمع ہونے شروع ہو گئے ۔ مہاتما پوری وادی میں مشہور ہو گیا۔ دیوتا سب دیکھ رہے تھے۔ کچھ کر نہیں سکتے کہ ان کی نا اہلی کے سبب یہ دن آیا ہے ۔ دیوتا آج بھی تنہا نہیں تھے وادی کے اکثر لوگ ان کے ساتھ تھے جن کا خیال تھا کہ وادی کے سیانوں کا لالچ ہی دیوتاؤں کی ناکامی کا باعث ہے اور ایک دن یہ مہاتما کو بھی لے ڈوبے گے۔ سیانوں نے دیوتاؤں اور مہاتما کے درمیان مقابلہ کرانے کا فیصلہ کیا ۔ دیوتاؤں کی نااہلی اور مہاتما کے مسلسل اور بے معنی جھوٹ کام ائے۔ وادی کے اندھوں نے مہاتما کو چن لیا۔ دیوتاؤں کو وادی کے سب سے تاریک حصے میں قید کر دیا گیا ۔ لوگ مہاتما سے امید لگائے بیٹھے تھے کہ بس اب کچھ ہی عرصے میں وادی میں دودھ کی نہریں رواں دواں ہو جائیں گی۔ آسمان سے بارش کی صورت میں ہن برسے گا۔ مگر ایسا نہ ہوا۔۔ نااہل مہاتما نے وادی کو مزید تاریکیوں کی طرف دھکیل دیا ۔ دیوتاؤں کے دور میں یہ صرف خیال تھا کہ لوگ ایک دوسرے کو نوچ کھائیں گے مگر مہاتما کے دور میں لوگ ایک دوسرے کو نوچ کر کھانے لگے۔ اب وادی کے سیانے منہ چھپاتے پھر رہے تھے اور لوگ پتھر لیکر

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

بانو زلیخا ۔۔طلحہ کھرل

                              …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے