سر ورق / کالم / اگر فردوس بر روے زمیں است!!!  غلام حسین غازی

اگر فردوس بر روے زمیں است!!!  غلام حسین غازی

اگر فردوس بر روے زمیں است!!!

 غلام حسین غازی
دوستو!!!
کئی روز قبل صبا ممتاز کی وال پر "تولی پیر” آزاد کشمیر میں 27 ستمبر کو ورلڈ ٹورازم پر یک روزہ کانفرنس کی بابت پڑھا۔ صبا ممتاز کی پوسٹ سے آگہی ملی کہ اس کانفرنس میں شرکت کے لئے EXPLORERS DEN نامی ایک ادارہ نے محض پینتیس سو روپے میں لانے اور واپس لانے کا انتظام کیا ہے اور اس حقیقت کی بابت اخبار میں اشتہار بھی دیا۔ دلچسپ بات یہ کہ کسی دور میں میں خود اسلام آباد کی ایک ایسی ہی کمپنی میں ایڈوینچر سیکشن کا انچارج رہ چکا تھا۔ جب میں نے اشتہار میں بتائی گئی سہولیات کا پڑھا تو میں نے اپنی زوجہ محترمہ سے کہا کہ کمر کس لو تمہیں میرے ساتھ تین دن کی ایک Gurgling مہم پر جانا ہے۔ اس کی دیدنی خوشی محسوس کرتے ہی دیے گئے فون نمبر پر ایک چغتائی صاحب کو کال ملا دی۔ میں نے کچھ اس طرح بات شروع کی:
ھیلو!!! میں شیخوپورہ سے غلام حسین غازی بات کر رہا ہوں۔ کیا آپ ایکسپلورر ڈین سے چغتائی صاحب بات کر رہے ہیں؟”
ترنت جواب ملا۔
"جی جی! میں چغتائی ہی ہوں۔۔۔آپ سنائیں غازی صاحب کیسے ہیں آپ؟ جناب! آپ گفتار کے ہی نہیں کردار کے بھی غازی ہیں۔”
میں تو حیرت سے ساکت ہو گیا اور لگا دماغ کی اتھاہ گہرائیوں سے کسی شناسا چغتائی کا چہرہ ڈھونڈنے۔ خیر جب یاداشت پر سیکنڈ کے ہزارویں حصے میں اس قدر زور پڑے تو دیودار کے پرانے تختوں پر پڑنے والے وزن کی مانند چراخ،چٹاخ، چر چر کی آوازیں برآمد ہونا کوئی اچھنبے کی بات نہیں ہوتی۔ میں نے سر جھٹکا اور براہ راست استفسار کیا:۔
” یار چغتائی! مجھے دو سیٹیں بک کروانی ہیں۔۔۔تولی پیر کانفرنس میں شرکت کے لئے۔”
چغتائی صاحب بولے۔ "تو دیر کس بات کی سیٹیں تقریبا پوری ہو چکیں۔۔۔آپ فورا تشریف لے آئیں۔۔۔ اللطیف سینٹر، میں بلیوارڈ، گلبرگ، لاہور۔”
اگلے روز ڈرائو ساتھ لیا اور شام 6 بجے گرتے پڑتے۔۔۔بھاگم بھاگ اللطیف سنٹر جا پہنچے۔ دو وجہ سے خوفزدہ تھے۔ اول یہ کہ سیٹیں بک نہ ہو چکی ہوں۔

دوئم کہ سختی سے شام 4 سے 6 بجے کے درمیان حاضر ہونا ضروری تھا اور ہم لوگ شیخوپورہ سے تھوڑی دیر سے روانہ ہوے تھے۔ اور مقررہ مقام تک پہنچتے پہنچتے ہم آدھ گھنٹہ لیٹ ہو چکے تھے۔ تیسرا، جب ہم اللطیف سنٹر پینچے تو گراونڈ فلور پر لگ بھگ آفسز بند ہو چکے تھے۔ خیر Explorers Den فرسٹ فلور پر تھا۔ دھڑکتے دل سے اوپر پہنچے تو "کھوجیوں کی کچھار” کھلا ہوا ملا۔ سارا سٹاف بھی موجود تھا اور ایک میری ہی عمر کے صاحب بڑی کرسی پر متمکن تھے۔ میں نے ہانپتے ہوے چغتائی صاحب کا پوچھا۔ جواب ملا۔”آپ تشریف رکھیے۔ وہ نماز پڑھنے گئے ہیں۔” تب وجہ سمجھ آئی کہ ہم جو چھ بجے کے بعد فون پر فون کر رہے تھے اور چغتائی صاحب جواب کیوں نہیں دے رہے تھے۔
صدر نشین صاحب نے میرا تعارف اور مدعا_ آمد سنتے ہی فرمایا صاحب مقدر والے ہیں آپ؛ گو کہ سیٹیں پوری ہو چکی ہیں پھر بھی آپ کو لازمی لے جائیں گے۔ بسم اللہ کیجئیے بکنگ کروائیے۔ ہم نے فورا مبلغ سات ہزار روپے ادا کئے اور عقیدت سے کچھ یوں رسید وصول کی کہ جیسے کوئی خاص خزانے کا پروانہ مل گیا ہو۔(یقین مانیے وہ رسید ہمارے لئے ٹھیک 26 ستمبر سے ان دیکھی ان سنی دنیاوں اور واقعات میں داخلے کی کلید ثابت ہونے والا تھی۔) تب پانی اور گرین ٹی پینے میں بے حد لطف ملا۔۔۔ساتھ ہی ساتھ صدر کرسی پر بیٹھے صاحب نے اپنا تعارف کروایا۔ وہ تھے جناب محمد جمیل رضا، مالک و موجد کھوجیوں کی کچھار۔ چھوٹا سا دفتر کیا ہے۔۔۔ٹورازم پر چھوٹا سا میوزیم!!! جمیل رضا صاحب شوقیہ مہم جو تھے اور پھر تمام مشکلات کے باوجود شوق کو پیشہ بنا بیٹھے۔ پاکستان میں ٹورسٹ انڈسٹری کے تقریبا بند ہو جانے کے باوجود میدان میں ڈٹے رہے اور ملکی و غیر ملکی یاران شوق کے لئے دوروں کا اہتمام کرتے رہے۔ انھیں نامساعد برسوں میں 82 ملکوں کا دورہ بھی کر آے اور وہاں سے لاے گئے علامتی نشانات و پوسٹروں اور دل کش تصویروں سے دفتر کو سجاتے سجاتے اسے میوزیم کی شکل دے چکے ہیں۔(یاد رہے میری بیوی میرے ساتھ تھی اور اس کی خوشی کو میں کن اکھیوں سے دیکھ دیکھ کر محفوظ ہو رہا تھا۔ ساتھ ہی ساتھ چشم تصور میں اسے پہاڑ کی چوٹی پرtwo man tent میں sleeping bag میں کسمساتے اور ساری رات جاگتے دیکھ رہا تھا )
خیر!!! جمیل رضا صاحب کو جب میری ہائکنگ اور ٹریکنگ مہمات کا پتا چلا تو وہ بے حد متاثر ہوے اور انھوں نے برملا فتوی جاری کر دیا۔” مسٹر غازی!!! آپ جوان جہان ہوتے ہوے گھر بیٹھے سارا دن افسانوں پر کمنٹس کرتے ہوے یا چند افسانے لکھ کر اپنے آپ کو ضائع کر رہے ہو۔ واپس پہاڑوں اور

صحراؤں کا رخ کروں۔۔۔زندہ ہو جاو گے۔”(تب زوجہ نے قدرے غصے سے جمیل کی طرف دیکھا۔)
تب تک ایک صاحب اندر تشریف لاے۔ ان کا تعارف بطور چغتائی صاحب کروایا گیا۔ مجھے سخت مایوسی ہوئی وہ میرے بلکل بھی واقف نہ تھے۔ اسرار اور بڑہ گیا کہ انھوں نے فون پر اتنی شناسائی کا اظہار کیوں کر کیا تھا؟ خیر! جمیل رضا صاحب میری مہم جوئی سے بےحد متاثر ہوے یا ھماری آخری وقت میں بکنگ پر خوش تھے۔۔۔ہمیں دفتر سے نکل کر ہماری کار تک وداع کرنے آے۔ ہم بھی ان کے اخلاق اور مشکل ترین پیشے میں ڈٹے رہنے پر خوش ہوتے اور کچھ کچھ آنے والے دنوں میں پیش آنے والے دل کش واقعات پر متصور ہوتے گھر آ پہنچے۔
سیٹوں کی بکنگ کروا کے آنے کے بعد زوجہ کی تیاری دیدنی تھی۔ میرا اصرار تھا ایک سوٹ پہنا ہو گا تو ایک اور ساتھ رکھ لو بھئی وہاں رہنا تو ٹینٹ میں ہے۔۔۔وہ بھی ایک رات!!! بس ایک مناسب بیگ تیار کرو مناسب سائز کا۔ بمشکل اٹیچی سے جان چھڑوائی۔ خود مجھے بند بوٹ پہنے مدت گزر چکی تھی۔۔۔وہ ایک جوڑا خرید لیا۔ بیگم کا اصرار تھا مہنگے ٹریکنگ شوز خریدو لیکن میں نے سستے سے بوٹ خرید کر گزارہ کیا جس کی سزا بعد ازاں مجھے بھگتنی پڑی۔
مورخہ 25.9.18 کی شام تک کمپنی کی طرف سے کوئی اطلاع نہ ملنے پر خود فون کیا کہ بھئی کل کتنے بجے روانگی ہے؟ جواب ملا۔” او ہو! غازی

صاحب! بھئی جانا تو رات گیارہ بجے ہے۔۔۔آپ کوئی ساڑھے نو بجے تک تشریف لے آئیں۔۔۔آپ سے باتیں کرنے کو بہت دل کرتا ہے۔” زوجہ میری فون کال پر چار چار کان لگاے بیٹھی تھیں۔ میں نے فون بند کر کے ناک پھلا کے، سینہ تان کے اس کی طرف دیکھا۔۔۔”دیکھا تم تا عمر میرے شوق کو بے کار سمجھتی رہی۔۔۔وہ کتنا نایاب ہے اور شاید میں اب ایسے نایاب انسانوں کی کھیپ کا اپنے ملک میں آخری نایاب انسان ہوں۔” بیوی واقعی متاثر ہوئی اور کچن میں جا کر میرے لئے میرے پسندیدہ قہوے میں کافی مقدار میں دیسی گھی ڈال کر لے آئی۔
اگلے روز میرے بیٹے نے ھم میاں بیوی کو بمعہ ہمارے مختصر بیگ کے ساتھ گاڑی میں لادا اور عازم لاھور ھوا۔ ھم لگ بھگ پونے دس بجے اللطیف سنٹر جا پہنچے۔ میرا محبوب ترین پوتا اذلان 001 ھمارے ساتھ تھا۔ ھمارا دل پھر گرنے پڑنے لگ گیا۔۔۔وہاں نہ کوئی اے۔سی کوچ نہ کوئی چہل پہل!!! صرف اللطیف پلازہ کے گارڈز تھے۔ بیٹے نے کہا "دیکھ لیں شاید پروگرام کینسل ہو گیا ہو؟ تو میں آپ کو ساتھ ہی واپس لے جاوں!!!” مجھے بہت غصہ اور بیٹے سے کہا "تم واپس جاو! میں 11 بجے تک انتظار کروں گا۔ اگر کوئی نہ آیا تو میں تماری ماں کو بس میں بٹھا کر راولا کوٹ لے جاوں گا۔ ان سے واپسی پر نبٹ لوں گا۔” وہ واپس چلا گیا۔

اب ہم دونوں خاصے مشکوک سے سیڑھیاں چڑھ کر اوپر گئے تو دفتر کھلا تھا۔۔۔بلکل کسی کچھار کی مانند۔ کچھ بیگ اور دو عورتیں اور ایک مرد تشریف فرما تھے۔ ایک عورت صبا ممتاز دوسری محترمہ وفا صاحبہ۔۔۔جن کے مشاعرے کاسموپولیٹن کلب لاہور میں سن چکا تھا۔ لو جو میں تو صبا ممتاز صاحبہ کو پہچان گیا۔۔۔فورا۔۔۔پر کافی زور لگا کر مجھے بتانا پڑا” میں غازی!!! فیس بک والا جی حسین!!! تب وہ کچھ کھل کر بات پر آمادہ ہوئیں۔ جمیل صاحب اور چغتائی صاحب ندارد تھے۔ میں اب حیرت زدہ تھا کہ انھوں نے تو وقت سے پہلے مجھے بلایا تھا مجھ سے میرے قیمتی تجربات سے مستفید ہونے۔ خیر کچھ دیر میں ہی علم ہو گیا کہ کوچ کی سیٹیں ہنوز خالی تھیں اور لوگ آ آ کر پیسے ادا کر رہے تھے۔۔۔تب مجھ پر راز کھلا مارکیٹنگ تکنیک کاری اور فن ہے اور ایک 82 ملک گھوما پھرا آدمی مجھے بلا کر کیونکر علم کے گا۔۔۔ایک ایسے آدمی سے وہ گفتگو کر کے کیا حاصل کر سکتا تھا جس آدمی نے اپنا ملک بھی ابھی پورا نہ دیکھا ہو!!!
ایک بہت زندہ دل صاحب آے اور دو بیٹوں کے پیسے دے کر جاتے جاتے مجھے کہہ گئے۔ "آپ کافی سیانے لگتے ہیں۔۔۔دیکھتے رہیے گا میرے بچے اجنبی لوگوں میں تین دن کس رویے میں گزارتے ہیں۔” میں پہلے ہی تھوڑا مغموم تھا اب ان صاحب کی عقل کی داد دئے بنا نہ رہ سکا۔ کس ہوشیاری سے براہ راست نگرانی کا کہنے کی بجاے مجھے ان کا نگران اور ذمہ دار بنا کر اطمینان سے چلتے بنے۔
اللہ اللہ کر کے ساڑھے گیارہ بجے ایک صاحب نے اعلان کیا کہ حضرات گاڑی تیار ہے، نیچے پہنچئیے۔۔۔تاکہ گاڑی بر وقت روانہ ہو سکے۔ میں پھر حیرت

میں چلا گیا کہ گیارہ بجے جو گاڑی روانہ نہیں ہوئی اب کون سا بروقت ھو گا؟ سیڑھیاں اترتے ہوے بیوی لگاتار بولے جاے۔”میں پچھلی سیٹوں پر نہ بیٹھوں گی۔” اللہ نے عزت رکھی اور کوچ کے دروازے کے سامنے دو سیٹیں خالی نظر میں جچ گئیں اور ہم قابض ہو گئے۔ باقی سب نا جانے کیوں افراتفری میں آ گئے۔ ڈرائور کے مقابل فرنٹ سیٹ خالی تھی۔۔۔صبا ممتاز اطمینان سے آئیں اور براجمان ہو گئیں۔ علم میں آیا کہ آخری وقت کی افراتفری دو سواریاں زائد بک ہو چکی تھیں۔ شاعرہ وفا صاحبہ گرتی پڑتی آخر میں آئیں تو کوئی سیٹ نہ تھی۔ مجھے تو جان پر بن آئی۔۔۔اب کیوں کر سیٹ چھوڑتا۔ تب جمیل رضا صاحب اور چغتائی صاحب کے چہرے نظر آے۔ میرا خیال تھا بکنگ کی ترتیب سے سیٹیں الاٹ ہونی چاھیئں۔۔۔لیکن انھوں نے آتے ہی سرسری مسکراہٹ میری طرف اچھالی اور کم عمروں کو فولڈنگ سیٹیں کھول کر بیٹھنے کا کہا۔ میں جن دو بچہ نما جوانوں کا نگران مقرر ہوا تھا انھوں نے ڈھٹائی سے اپنی سیٹیں چھوڑنے سے انکار کر دیا۔مجھے دھچکا لگا کہ ان کے ابا کو ان کی بد اخلاقی پر کیا رپورٹ دوں گا؟تب مجھے خیال آیا کہ میں بھی تو بد اخلاق ہوں!!! میں نے بھی تو بیوی کے ساتھ لمبے سفر میں لپٹ لپٹ کر بیٹھنے اور اس کا نیند میں میرے کاندھے پر سر ٹکانے کی آس میں اپنی سیٹ نہیں چھوڑی۔ خیر! جمیل صاحب اپنی کار پر تھے۔ 26 booked اور 5 کمپنی کے افراد پر مشتمل قافلہ ایک اے سی کوچ اور ایک کار میں(اللہ جانے اسے ہی بر وقت کہتے ہونگے) دس منٹ کم 12 بجے عازم سفر ہوا۔ سفر کی دعا مل کر پڑھی تو فورا ہی ڈرائور صاحب نے گانا چلا دیا۔” ناچ میری بلبل کہ پیسا ملے گا!!!”
میں نے سوچا لازما یہ کوچ اس کے لئے زندہ فرد کی حیثیت رکھتی ھو گی۔ اور پھر جی ٹی روڈ پر چڑھتے ہی اللہ جانے اس کی بلبل کا کون سا گئیر حرکت میں آیا اور کوچ میں بیٹھی چھ خواتین اور انیس مردو نے یک دم چیخنا شروع کر دیا "توبہ توبہ کرا دتی تو ظالماں!!!” اللہ جانے فرنٹ سیٹ پر بیٹھی صبا ممتاز صاحبہ کی کیا حالت ہو گی؟ میں حساب میں لگ گیا کہ اگر ٹکر ھو تو کیا ہماری سیٹوں تک اموات ہونگی یا محض زخمی ہونگے؟
ہمارے سخت احتجاج پر ڈرائور صاحب فرمانے لگے۔” بے فکر رہیں۔ میں آج صبح ہی سکردو کے آٹھ روزہ ٹور سے واپس آیا ہوں۔ میں نے نیند پوری کر لی ہوئی ہے۔اگر میں نے گاڑی آپ کی مرضی سے چلائی تو "تولی پیر” کل شام تک پہنچیں گے۔”
(جاری ہے)

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

سمجھ میں نہیں آتا ….فرخ شہباز وڑائچ

سمجھ میں نہیں آتا فرخ شہباز وڑائچ عام طور پر یہ سوال روز کسی نہ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے