سر ورق / مضامین / افسانہ کیا ہے؟ ۔۔ ڈاکٹرجمیل حیات

افسانہ کیا ہے؟ ۔۔ ڈاکٹرجمیل حیات

افسانہ کیا ہے؟
تحریر ۔۔ ڈاکٹرجمیل حیات
کہانی کہنے کا فن ہے اور اس فن کی تاریخ اتنی ہی قدیم ہے جتنی خود انسان کی۔اوّل اوّل جب ایک آدمی نے اپنے تجربے کو دوسروں کے سامنے پیش کیا تو موضوع کی واقعیت اور منظر کشی کے تال میل سے یقیناًایک کہانی کی تخلیق ہوئی۔گویا کہانی کہنے اور سننے کا آغاز اوّلین انسانی مکالمے سے ہواجو رفتہ رفتہ نئے رنگ و آہنگ اور طرز و اسالیب میں ڈھلنے لگا۔انسانی تہذیب کی ترقی کے ساتھ ساتھ کہانی کا فن بھی ترقی کی منازل طے کرتا رہا۔سننے سنانے کی دلچسپی کو بڑھانے اور واقعے کی لذت میں اضافے کی غرض سے خیالی اور تصوراتی عناصر واقعیت اور حقیقت کے سانچے میں ڈھلنے لگے۔یوں نادیدہ دنیاؤں کا مبالغہ آمیز بیان اور مافوق الفطرت عناصر کا طلسماتی کردار انسانی کہانیوں میں جلوہ گر ہوااور لوگ ذوق شوق کے ساتھ ان کہانیوں اور قصّوں کے سننے سنانے کا اہتمام کرنے لگے۔
دنیا کی ہر زبان میں داستان سرائی کا رواج قدیم زمانوں سے چلا آتا ہے۔ جیسے جیسے انسانی زندگی کے مسائل میں اضافہ ہوا اور انسان ، زندگی کی عملی تفسیر پر غورو فکر کرنے کے قابل ہوا ، مافوق الفطرت اور غیر انسانی کہانیوں کی جگہ حقیقی کہانیوں کا چلن ہونے لگا۔ خیالی اور ماورائی مخلوقات کے ذکر اذکار کے بجائے گوشت پوست کے انسانوں کی دشواریاں ، مشکلات ، خوشیاں ، آرزوئیں ، خواب اور تمنائیں کہانیوں میں جھلکنے لگیں۔
داستان کے باطن سے ناول کا اکھوا پھوٹا، جو انسانی زندگی کے نشیب و فراز کا اظہاریہ قرار پایا۔زمانے کی تبدیلی مزاجوں کی تبدیلی کا باعث بنی۔ زمانے کی تیز روی نے فرصت و فراغت کا ماحول ختم کر دیا تو بڑی بڑی کہانیوں اور طولانی قصّوں کی جگہ مختصر کہانیوں کی ضرورت پیدا ہوئی۔چنانچہ مختصر کہانی کو رواج ملا۔یہی مختصر کہانی مغرب میں شارٹ سٹوری (short story)اور مشرق میں افسانہ کے نام سے معروف ہوئی۔
افسانے کی اصطلاحی معنویت اور تعریف سے قبل مناسب معلوم ہوتا ہے کہ افسانے کے لغوی معانی پر ایک نظر ڈال لی جائے۔ فرہنگِ آصفیہ میں افسانے کے معانی یہ ہیں:
’’حکایتِ بے اصل، قصّہ، کہانی، من گھڑت کہانی، گھڑا ہوا قصّہ، جھوٹی بات، سرگزشت، حال، ماجرا، ذکر۔‘‘[۱]
اردو لغت (کلاں) میں افسانہ کے معنی یہ بتائے گئے ہیں:
’’افسانہ فارسی کا لفظ ہے جس کے معانی قصّہ، داستان،سرگزشت، روداد، چرچا، ذکر، جھوٹی اور بے اصل بات کے ہیں جس میں کوئی داستان یا قصّہ لکھا ہو۔‘‘[۲]
سید وقار عظیم لکھتے ہیں:
’’افسانہ، کہانی میں پہلی مرتبہ وحدت کی اہمیت کا مظہر بنا۔کسی ایک واقعہ ، ایک جذبے ایک احساس، ایک تأثر ۔ایک اصلاحی مقصد ، ایک روحانی کیفیت کو اس طرح کہانی میں بیان کرنا کہ وہ دوسری چیزوں سے الگ اور نمایاں ہو کر پڑھنے والے کے جذبات و احساسات پر اثر انداز ہو، افسانہ کی وہ امتیازی خصوصیت ہے جس نے اسے داستان اور ناول سے الگ کیا ہے۔‘‘[۳]
افسانہ انگریزی اصطلاح short storyکا اردو مترادف ہے ۔ اصطلاحی مفہوم میں اس سے مراد ایک ایسی کہانی ہے جو کم سے کم وقت میں پڑھی جائے۔یہ انسانی زندگی کے کسی ایک واقعے، گوشے، پہلو، رویّے یا جذبے کا اظہاریہ ہے تاہم اپنے مرکزی خیال کی مناسبت سے اس کا مکمل ہونا ضروری ہے۔ افسانے کی متعدد تعریفیں کی گئی ہیں۔مگر دیگر ادبی اصطلاحات کی طرح اس کی بھی کوئی جامع تعریف نہیں کی جا سکی۔ معروف امریکی افسانہ نویس ایڈگر ایلن پو کے بقول:
’’یہ (افسانہ) ایک ایسی نثری داستان ہے جس کے پڑھنے میں ہمیں آدھ گھنٹے سے دو گھنٹے کا وقت لگے۔‘‘[۴]
ادبی اصطلاحات کے مؤلف کے نزدیک:
’’افسانہ زندگی کے کسی ایک واقعہ یا پہلو کی وہ خلّاقانہ اور فنی پیش کش ہے جو عموماً کہانی کی شکل میں پیش کی جاتی ہے۔ایسی تحریر جس میں اختصار اور ایجاز بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔وحدتِ تأثرUnity of impressionاس کی سب سے اہم خصوصیت ہے۔‘‘[۵]
ممتاز شیریں کے خیال میں:
’’خام زندگی سے کٹا ہوا ایک چھوٹا سا ٹکڑا بھی مختصر افسانہ بن سکتا ہے ۔طویل افسانے مختصر افسانے کے لیے تکمیل کا احساس اور زیادہ بھرپور زندگی کی پیش کش ضروری ہے۔‘‘[۶]
افسانے کے لیے اختصار بنیادی شرط ہے۔کیونکہ یہی تو اس کے وجود کا جواز ہے۔زمانے کی تیز رفتاری نے انسان کو تیز قدم بنا دیا ہے۔اب اسے اتنی فرصت اور فراغت میسر نہیں کہ لمبی لمبی داستانیں اور طویل طویل قصّے سننے سنانے کا اہتمام کر سکے۔ یہی وجہ ہے کہ افسانے جیسی اصناف کو قبولِ عام کا درجہ ملا۔سلام سندیلوی رقم طراز ہیں:
عدیم الفرصتی کی بنا پر انسان کے پاس اتنا وقت نہیں کہ وہ ضخیم کتب کا مطالعہ کر کے طولانی ناولوں سے لطف اندوز ہوسکے۔اس کو مختصر ادبی فن پاروں کی ضرورت محسوس ہوئی تا کہ وہ اپنی رومانی تشنگی کو بجھا سکے۔ان ہی حالات کے تحت افسانے کی ایجاد ہوئی۔‘‘[۷]
اختصار کے باوصف افسانے کی بنت اور اختتام اطمینان بخش ہونا ضروری ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ مختصر افسانے کو مختصر ہی ہونا چاہیے اس کے لیے واقعات اور حادثات کا مجموعہ جس میں حرکت کی رفتار تیز ہو ، ارتقا غیر متوقع ہو اور قصّہ ایک غیر یقینی کیفیت سے گزرتا ہوا نقطۂ عروج تک پہنچے اور ایک اطمینان بخش اختتام کا حامل ہو۔[۸]داستان اور ناول کے برعکس افسانہ زندگی کے ایک خاص رُخ یا پہلو کا آئینہ دار ہوتا ہے۔اس میں داستانوں یا ناولوں کی طرح قصّہ در قصّہ کی طوالت نہیں ہوتی بلکہ ایک ہی واقعے کے رُخ یا قصّے کے ایک ہی پہلو کو اجمال کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے۔ ڈاکٹر وزیر آغا افسانے کے مختصر کینوس کے متعلق رقم طراز ہیں:
’’ناول یا داستان کا کینوس نسبتاًبڑا ہوتا ہے اور اس میں ان گنت کردار اور واقعات کسی بنیادی واقعہ یا کردار کی تعمیر میں صرف ہوتے ہیں۔ یوں کہ اس واقعہ یا کردار کی نسبت سے سارا مکانی یا زمانی کینوس منوّر ہو جاتا ہے۔مگر افسانہ واقعہ یا کردار کے ایک خاص پہلو کو سامنے لاتا ہے اور سارے کینوس کو منوّر کرنے کے بجائے صرف اس گوشے کو منوّر کرنے کا اہتمام کرتا ہے۔‘‘[۹]
افسانے کے اہم اجزائے ترکیبی یا بنیادی عناصر میں وحدتِ تأثر اور پلاٹ اہمیت کے حامل ہیں۔وحدتِ تأثر کے لیے لازم ہے کہ افسانے میں ایک وقت میں ایک ہی مقصد کارفرما ہو کیونکہ اس کی ہئیت ضمنی واقعات و احوال کی اجازت نہیں دیتی۔افسانے میں وحدتِ تأثر کے لیے مرکزی خیال پر توجہ کی ضرورت ہوتی ہے اور مختلف پہلوؤں سے مرکزی خیال کو تقویت دی جاتی ہے۔ناول کی طرح پلاٹ افسانے کا بھی بنیادی عنصر ہے۔پلاٹ دراصل کہانی کی ترتیب و تہذیب کا نام ہے اور اس ترتیبِ خاص کے بغیر افسانے کا افسانہ پن باقی نہیں رہتا۔پلاٹ کے واقعات ایک دوسرے سے مربوط ہونے چاہیئیں اور یہ واقعات ارتقائی منازل طے کر کے نقطۂ عروج اور پھر منطقی انجام تک پہنچے۔واقعات کی یہی ارتقائی صورت افسانے میں تجسس اور جستجو کی فضاپیدا کرنے کا ذریعہ ہے۔
عہدِ موجود میں افسانہ نت نئے تجربات سے دوچار ہوا۔انہی تجربات کے زیرِ اثر پلاٹ سے عاری افسانے بھی لکھے جانے لگے۔فنی اور تیکنیکی اعتبار سے افسانے میں کردار یا کردار کے کسی پہلو کا ہونا ضروری ہے۔ یہ درست ہے کہ مختصر افسانے کے کرداروں میں وہ ارتقائی کیفیت نہیں ملتی جو ناول کے کرداروں میں ہوتی ہے۔اس لیے افسانے کا پلاٹ سے عاری ہونا افسانے کے تصور کو دھندلا کر دیتا ہے۔ڈاکٹر عبادت بریلوی افسانے میں پلاٹ کی موجودگی پر اصرار کرتے ہوئے رقم طراز ہیں:
’’مختصر افسانہ میں کرداروں کی ارتقائی کیفیت کی تفصیل نہیں ہوتی۔ اس سے ظاہر ہے اس میں پلاٹ کسی نہ کسی صورت میں ہونا چاہیےَ‘‘[۱۰]
اختصار کی طرح افسانے کی ایک اہم خصوصیت رمز و ایما بھی ہے۔ رمزیت اور ایمائیت افسانے کے تأثر کو گہرائی اور گیرائی عطا کرتی ہے۔ اشاراتی اور کنایاتی انداز افسانے کو غزل کے قریب کر دیتا ہے کیونکہ دونوں اصناف وضاحت ، تصریح اور توضیح کی متحمل نہیں ہو سکتیں اور ان کا ایجاز و اختصار اور رمز و ایما ہی ان کے قبولِ عام کی سند ہے۔
اردو میں افسانہ دیگر اصنافِ نثر کی طرح مغرب سے آیا۔اس کا سانچا اردو نثر میں اتنی جلدی مقبول و معروف ہوا کہ دیکھتے دیکھتے اصنافِ نثر میں اسے سب سے بلند مقام عطا ہوا۔ افسانے کی اس بے پناہ مقبولیت کا سبب یہ ہے کہ اگرچہ کہانی کی یہ مختصر صورت مغرب سے مشرق میں پہنچی لیکن مشرق داستانوں، کہانیوں اور حکایتوں کا اوّلین مرکز و منبع ہے۔ دنیا کی قدیم کہانیوں کا سراغ مشرق میں ملتا ہے۔ہماری داستانوں اور طویل کہانیوں میں مختصر افسانہ کسی نہ کسی صورت میں موجود رہا ہے۔سید وقار عظیم کے بقول:
’’فسانۂ آزاد اور باغ و بہار کے بعض اجزا کو اگر الگ کر کے دیکھا جائے تو ان کے اندر ، بعض جگہ ، مختصر افسانہ ، چھُپا ہوا نظر آئے گا۔‘‘[۱۱]
۱۸۵۷ء کی جنگِ آزادی کے بعد جب ہندوستان میں فرنگی راج نے اپنے پنجے مضبوطی سے گاڑ لیے تب ان کے افکار و نظریات ، ان کی زبان ، ان کے ادب پارے اور ان کے رسم رواج ہندوستان میں عام ہونے لگے۔ مغلوبیت کے احساس نے ہندوستانیوں کو مغربی افکار کی چکاچوند سے یک لخت آشنا کر دیا۔مگرمغربی ادب کے تراجم کا سلسلہ چل نکلااور نظم و نثر کے مغربی پیمانوں کو یہاں رواج ملنے لگا۔ کہانی ہمارے ہاں داستان کی صورت میں پہلے سے موجود تھی۔داستانوں میں اگرچہ ہماری معاشرت کا رنگ رس دکھائی دیتا ہے۔مگر بالعموم ان کا رنگ ڈھنگ ، اسلوب، پیرائیہ اظہار اور ماحول مافوق الفطرت ہے جو عام انسانی فضا کو محیط نہیں۔بلکہ ان میں مافوق الفطرت عناصر کی حکمرانی ہے۔یہی وجہ ہے کہ ان داستانوں کو تہذیب اور معاشرت کی حقیقی کہانیاں تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔
ناول کی صنف انسانی زندگی کو بہ تمام و کمال سامنے لاتی ہے۔ اس لیے اردو میں اوّل اوّل ناول نگاری کا چلن ہوا۔ڈپٹی نذیر احمد، رتن ناتھ سرشار، مرزا ہادی رسوا، عبدالحلیم شرر اور سجاد حسین وغیرہ اردو کے اوّلین ناول نگاروں میں شامل ہیں۔ان کے ناولوں میں ایک طرف داستانوں کا رنگ پایا جاتا ہے۔اور کہیں کہیں وہ افسانوی لحن اور اسلوب بھی دکھائی دیتا ہے جو بعد کی مختصر کہانیوں میں اپنی کامل شکل میں ظہور پذیر ہوا۔ناول میں چونکہ پوری انسانی زندگی کو موضوع بنایا جاتا ہے اور اس کا پلاٹ نسبتاً بڑے زمانی وقفے پر محیط ہوتا ہے ؛ اس کی وجہ سے اس کے لکھنے اور پڑھنے میں خاصا وقت لگ جاتا ہے جب کہ زمانے کی تیز روی اس کی اجازت نہیں دیتی۔سائنسی پیش رفت نے انسانی قدموں کی رفتار کو تیز تر کر دیا ہے اس لیے ایسے پیمانوں کی تلاش کی جانے لگی جس میں کم سے کم وقت میں فکر و خیال کی وسعتوں کو سمیٹا جا سکے۔یہی اجمال و اختصار افسانے کے آغاز و ارتقا کا سبب اور باعث ہے۔ سید وقار عظیم نے داستان سے ناول اور ناول سے افسانے تک آنے کی کہانی ان الفاظ میں بیان کی ہے:
’’وقت میں پہلا ساپھیلاؤ باقی نہ رہا اور انسان کو اپنے تفریحی مشاغل میں کتر بیونت اور کانٹ چھانٹ کرنی پڑی تو اس کا وہ مزاج جسے کہانی سننے کا چسکا ہمیشہ سے ہے ، افسانہ کی ایسی ذہنی سرورو مسرت کا سرمایہ بھی ہاتھ لگے ، زندگی کے مسائل کو حل کرنے اور اپنے ماحول کو حسین تر بنانے کی آرزو بھی پوری ہو اور اس کے باوجود اتنی مختصر ہو کہ وقت پر اس کی گرفت مضبوط رہے ۔وہ اپنے بے شمار مشاغل میں سے بھی کہانی پڑھنے کا وقت نکال سکے اور انسان کی یہ سب ضرورتیں مختصر افسانہ کی تخلیق کی بنیاد بنیں۔‘‘ [۱۲]
اردو میں مختصر افسانہ کب سے لکھا جانے لگا اس سلسلے میں محققین میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ایک عرصے تک منشی پریم چند کو اردو کا پہلا افسانہ نگار کہا جاتا رہا۔ان کے افسانے ’’دنیا کا سب سے انمول رتن‘‘ مطبوعہ ’’زمانہ‘‘ [۱۹۰۷ء] کو اردو کا پہلا افسانہ قرار دیا جاتا رہا ۔بعد کی تحقیقات نے اسے غلط ٹھہرایا۔ڈاکٹر سید معین الرحمن کی تحقیق کے مطابق اردو کا پہلا افسانہ سجاد حیدر یلدرم نے ’’نشہ کی ترنگ‘‘ کے عنوان سے لکھا جو ۱۹۰۰ ء کے معارف علی گڑھ میں شائع ہوا۔[۱۳]بعد کے محققین نے یلدرم کے محولہ بالا افسانے کوخلیل رشدی کے ترکی افسانے کا ترجمہ ثابت کیا اور طبع زاد افسانے کے خالق کی حیثیت سے علامہ راشد الخیری کا نام لیا جانے لگا۔ڈاکٹر مسعود رضا خاکی کی تحقیق کے مطابق ۱۹۰۳ء میں ’’مخزن‘‘ میں راشد الخیری کا ’’نصیر اور خدیجہ‘‘ شائع ہوا جس کو اردو کا پہلا افسانہ سمجھا جاتا ہے۔[۱۴]
سال و سن کے معمولی اختلاف اور تقدیم و تاخیر سے ہٹ کر دیکھیے تو ایک ہی زمانے میں ان تمام تخلیق کاروں نے اس نئی مغربی صنف کو اردو میں استعمال کرنا شروع کر دیا۔ابتداء ہی میں اردو افسانہ دو واضح دھاروں میں بٹتا چلا گیا۔ایک دھارا رومانوی خیالات اور افکار اور اسلوب کا آئینہ دار ہے جس کی قیادت سید سجاد حیدر یلدرم کے ہاتھ میں رہی اور ان کے تتبع میں علامہ نیاز فتح پوری ، سلطان حیدر جوش، حکیم احمد شجاع ، مجنوں گورکھ پوری اور حجاب امتیاز نے رومانی رنگ کو اپنے افسانوں میں پیش کیا۔دوسرا دھارا اصلاحی اور حقیقت پسندانہ دھارا ہے جس کی قیادت منشی پریم چند کے ہاتھ میں تھی۔منشی پریم چند کی اتباع میں جدید تعلیم یافتہ اور مغربی اندازِ فکر کے حامل نوجوان لکھنے والوں کی ایک پوری کھیپ سامنے آئی جنھوں نے افسانے کو سماجی زندگی کی رنگا رنگ تصویروں کا مرقع بنا دیا۔
آزادی سے پہلے افسانے کا جو دور گزرا وہ محض ترقی پسند افسانہ نگاروں کے رشحاتِ قلم سے ہی منور نہیں بلکہ یہ ایسا زرخیز اور توانا دور ہے کہ مختلف طبقاتِ حیات اور نظریہ زندگی سے تعلق رکھنے والے تخلیق کار میدانِ افسانہ نگاری میں اترے اور اس صنف کے دامن کو مالا مال کر گئے۔ترقی پسند تحریک کے زیرِ اثر اردو افسانے کے دو دھاروں حقیقت اور رومانویت کو ایک دوسرے کے قریب کرنے کی کوشش ہوئی اور ایک امتزاجی رنگ سامنے آنے لگا جو ترقی پسند افسانہ نگاروں کے ہاں ہی اپنی جھلک نہیں دکھاتا بلکہ اس دور کے دوسرے لکھنے والوں کے ہاں بھی یہ رجحان دکھائی دیتا ہے۔ اس دور سے تعلق رکھنے والے کچھ افسانہ نگاروں نے نفسیاتی افسانہ لکھنے کی طرح ڈالی ، چیخوف، موپساں اور ایڈگر ایلن پو کے اثرات بھی اس دور کے افسانہ نگاروں کے ہاں واضح طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔لارنس، جیمز جوائس اور ورجینیا وولف کے تجربات کو بھی اسی دور میں اہمیت حاصل ہونا شروع ہوئی۔افسانہ نگاروں نے ان تجربات کو اپنے افسانوں میں شامل کرنے کا شعوری جتن کیا ۔ اس دور کے رسائل میں شائع ہونے والے اور حلقۂ ارباب ذوق کی مجالس میں پڑھے گئے افسانوں کو ایک نظر دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ان میں زندگی کی متنوع جہات کو نہایت ہنر مندی اور چابک دستی سے پیش کیا جانے لگا تھا۔ترقی پسند تحریک سے باہر بھی افسانے کا ایک جہانِ دیگر سرگرمِ عمل تھا۔ان افسانہ نگاروں میں بعض بڑے اہم نام شامل ہیں۔
افسانے کی تمام تعریفوں کو مدِ نظر رکھتے ہوئے افسانے کی یہ تعریف کی جا سکتی ہے کہ :
’’افسانہ ایسی صنفِ نثر ہے جو اس قدر مختصر ہو کہ اسے آدھے گھنٹے سے دو گھنٹے کے وقت میں پڑھا جا سکے،مختصر ہو ،رمز و ایمائیت سے بھر پور ہو،پلاٹ اس میں ہونا چاہیے اور کسی ایک کردار کے گرد پلاٹ گھومتا ہو۔اس میں وحدتِ تاثر ہو اور اس کا اختتام اطمینان بخش ہو۔واقعے یا کردار کے ایک خاص پہلو کو سامنے لائے اور اس میں ارتقائی کیفیت نہ ہو۔‘‘
حوالہ جات
۱۔سید احمد دہلوی ،فرہنگِ آصفیہ(جلد اوّل) ، لاہور، اردو سائنس بورڈ، طبع دوم، ۱۹۸۷ء، ص ۱۸۶
۲۔اردو لغت(جلد اوّل) کراچی، ترقی اردو بورڈ، ۱۹۷۷ء، ص ۶۱۳
۳۔سید وقار عظیم ، داستان سے افسانے تک، مشمولہ اصنافِ ادب:تفہیم و تعبیر(مرتبہ ڈاکٹر ارشد محمود ناشاد،اسلام آباد، نیشنل بک فاؤنڈیشن، ۲۰۱۶ء، ص ۹۱]
۴۔، سید وقار عظیم، فنِ افسانہ نگاری ،لاہور، اردو مرکز، ۱۹۶۱ء، ص ۳۸
۵۔، انور جمال، ادبی اصطلاحات ،اسلام آباد، نیشنل بک فاؤنڈیشن،دوم، ۱۹۸۸ء، ص ۱۰۔۱۱
۶۔، ممتاز شیریں، معیار،لاہور، نیا ادارہ، ۱۹۳۶ء، ص ۶۳۔۶۴
۷۔، سلام سندیلوی،ادب کا تنقیدی مطالعہ، لاہور، مکتبہ میری لائبریری، طبع دوم، ۱۹۶۴ء،ص۱۴۲
۸۔سید وقار عظیم، فنِ افسانہ نگاری، ص ۳۸
۹۔ وزیر آغا، ڈاکٹر، نئے مقالات، سرگودھا، مکتبہ اردو زبان، اوّل، ۱۹۷۲ء، ص ۱۶۵
۱۰۔ مضمون، مختصر افسانے کا فن، نقوش افسانہ نمبر، مدیر محمد طفیل، لاہور، دسمبر ۱۹۵۵ء، ص ۹۹۶
۱۱۔نقوش افسانہ نمبر، لاہور، شمارہ نمبر ۱۱۹، بابت ستمبر ۱۹۷۴ء
۱۲۔سید وقار عظیم، داستان سے افسانے تک، کراچی، اردو اکیڈمی سندھ، ۱۹۶۶ء، ص ۱۳
۱۳۔سید معین الرحمن، مرتب، مقدمہ خیالستان، سجاد حیدر یلدرم، لاہور، تاج بک ڈپو، ۱۹۷۶ء
۱۴۔اردو افسانے کا ارتقا، مکتبہ خیال،لاہور، طبع اوّل، اگست ۱۹۸۷ء، ص ۱۵۵

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

اردو میں تاریخ گوئی اور داستان گوئی کی روایت اور فن ..احمد مد سہیل

اردو میں تاریخ گوئی اور داستان گوئی کی روایت اور فن احمد مد سہیل تاریخ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے