سر ورق / یاداشتیں / ڈائجسٹوں کی الف لیلہ : سید انور فراز قسط نمبر 29

ڈائجسٹوں کی الف لیلہ : سید انور فراز قسط نمبر 29

آنکھوں میں اُڑ رہی ہے لٹی محفلوں کی دُھول
عبرت سرائے دہر ہے اور ہم ہیں دوستو!
ڈائجسٹوں کی الف لیلہ :

سید انور فراز

قسط نمبر 29
جاسوسی ڈائجسٹ پبلی کیشنز کے بانی اور روح رواں معراج رسول 5 اگست 1942 ء کو لکھنو میں پیدا ہوئے، ان کے والد عبدالغفار شیخ تقسیم ہند کے بعد پاکستان آئے، ابتدا ہی سے وہ پبلشنگ کے پیشے سے وابستہ رہے، پاکستان کے شہر کراچی میں ان کا ابتدائی قیام لیاری کے علاقے بہار کالونی میں رہا، معراج صاحب کی ابتدائی تعلیم بھی یہیں پر ہوئی،پاکستان کے نامور ڈاکٹر شیرشاہ اور ڈاکٹر ٹیپو سلطان کے والد اس اسکول میں پرنسپل تھے، معراج صاحب اکثر اس زمانے کا ذکر کیا کرتے تھے اور اپنے پرنسپل صاحب کی بہت تعریف کرتے تھے، وہ کہتے تھے کہ ہمارے پرنسپل تاریخ کے مشہور کرداروں سے بہت متاثر تھے، اسی لیے انھوں نے اپنے صاحب زادوں کے نام بھی ایسے رکھے۔
والد عبدالغفار صاحب نے پچاس کی دہائی میں کراچی سے ماہنامہ نفسیات، جنسیات وغیرہ کا اجرا کیا، ان رسالوں کے ایڈیٹر جناب اسلام حسین تھے، اس کے علاوہ دیگر ناول وغیرہ بھی وہ شائع کرتے تھے، جب ابن صفی بی اے مرحوم ایک پیچیدہ بیماری میں مبتلا ہوئے اور انھوں نے جاسوسی دنیا اور عمران سیریز لکھنا بند کردی جن کی ملک بھر میں زبردست مانگ تھی، اس صورت حال سے بہت سے دوسرے پبلشروں نے فائدہ اٹھایا اور ابن صفی کے ملتے جلتے ناموں سے عمران سیریز وغیرہ کے ناول چھاپنا شروع کیے،ان پبلشروں میں معراج رسول کے والد عبدالغفار شیخ (ع، غ شیخ) بھی پیش پیش تھے، وہ این صفی، نجمہ صفی، نغمہ صفی جیسے ناموں سے ناول شائع کر رہے تھے، یہ ناول مختلف ناول نگار لکھتے تھے جن میں ایم اے راحت ، شکیل انجم، اقبال کاظمی اور بہت سے دوسرے مصنفین شامل ہیں جن کے بارے میں ہمیں زیادہ معلومات نہیں ہیں، چناں چہ ابن صفی صاحب نے جب صحت مند ہوکر دوبارہ قلم سنبھال لیا تو ایسے پبلشروں اور مصنفین سے سخت ناراضگی کا اظہار کیا، البتہ اس حوالے سے اگر کوئی نرم گوشہ ان کے دل میں تھا تو صرف ایچ اقبال کے لیے تھا،وہ کہتے تھے کہ ایچ اقبال نے اول تو میرے نام سے ملتا جلتا نام رکھ کر لوگوں کو دھوکا دینے کی کوشش نہیں کی، دوسرے یہ کہ میرے کرداروں کے ساتھ انصاف کیا، ایک مرحلے پر جب مشتاق احمد قریشی صاحب نے ابن صفی مسٹری میگزین نکالا تو ابن صفی صاحب نے ایچ اقبال کو خط لکھا اور اس میگزین میں لکھنے کی دعوت بھی دی،معراج صاحب کے والد سے بھی وہ بہت ناراض رہے۔
معراج صاحب نے بھی ابتدا میں ناولوں کی پبلشنگ سے اپنے کرئر کا آغاز کیا اور معقول آمدن ہونے لگی تو ایک ویسپا خرید لی، گزشتہ اقساط میں معراج صاحب کے بچپن کے دوست سید معروف علی کا تعارف پیش کرچکے ہیں، وہ بہار کالونی میں معراج صاحب کے کلاس فیلو رہے تھے اور دونوں ہمیشہ ساتھ ساتھ رہا کرتے تھے، سید معروف علی اب اس دنیا میں نہیں رہے،ہمارا ان کا ایک زمانے میں بہت قریبی تعلق رہا، وہ اکثر معراج صاحب کی ابتدائی زندگی کے دلچسپ واقعات سنایا کرتے تھے،ان کا کہنا تھا کہ جاسوسی ڈائجسٹ نکالنے کے ارادے کو ان کے والد نے پسند نہیں کیا تھا، یہ بات ہمیں معراج صاحب نے بھی بتائی تھی اور بقول معراج صاحب جب ابتدا میں مالی مسائل پیدا ہوئے تو والد صاحب زیادہ ناراض رہنے لگے،ایک روز میں ان کے پاس گیا اور ان سے کچھ مالی مدد کا تقاضا کیا، انھوں نے اپنی ناپسندیدگی کا اظہار تو کیا مگراس وقت دس ہزار روپے کی رقم جس کی کہ ضرورت تھی، دے دی۔
معراج صاحب کہتے ہیں کہ یہ آخری قرض تھا جو میں نے والد صاحب سے لیا لیکن اس کے بعد پھر مجھے کبھی کوئی مالی پریشانی پیش نہیں آئی اور یہ رقم بھی میں نے بہت جلد لوٹادی، جاسوسی ڈائجسٹ دن دونی، رات چوگنی ترقی کرتا چلا گیا، اس کے بعد ہی ماہنامہ پاکیزہ جاری کیا گیا جس کی پہلی ایڈیٹر نادرہ گیلانی تھیں،اسی دوران میں معراج صاحب کی زندگی میں محبت کے پھول کھلنے لگے، ان کی ملاقات ساجدہ قدوسی صاحبہ سے ہوئی اور وہ ان کے تیرِ نظر کا شکار ہوگئے، انھیں پاکیزہ میں لے آئے لیکن شادی کے حوالے سے کچھ دشواریاں موجود تھیں، ساجدہ صاحبہ بھی اس زمانے میں اپنے والد کے ساتھ ناظم آباد بڑا میدان میں رہتی تھیں اور معراج صاحب بھی بہار کالونی سے شفٹ ہوکر اپنے والد صاحب کے ناظم آباد کے مکان میں آگئے تھے، دونوں کے گھروں کے درمیان زیادہ فاصلہ بھی نہیں تھا، عین الشاہدین کا بیان ہے کہ اس زمانے میں معراج صاحب کی بے قراریاں عروج پر تھیں، وہ شام کو آفس ٹائم ختم ہونے سے پہلے ہی سیکنڈ فلور پر واقع پاکیزہ کے آفس کے سامنے گیلری میں ٹہلنا شروع کردیتے تھے اور جب ساجدہ آف کرکے دفتر سے باہر آتیں تو وہ انھیں گھر تک چھوڑنے جاتے، ہم نے ان کی بے قراری کا دور تو نہیں دیکھا لیکن جب وہ ان سے متنفر ہوئے، گویا شکل دیکھنے کے بھی روادار نہ رہے،یہ ہمارے سامنے کی بات ہے۔
اسی عرصے میں سسپنس ڈائجسٹ کا بھی آغاز ہوا، شاید 1973 ء کی بات ہے،سسپنس کے اجرا میں محترم مشتاق احمد قریشی کا بھی اہم کردار تھا، وہ معراج صاحب کے پرچوں کے تقسیم کار بھی تھے، ایک ملاقات میں انھوں نے بتایا کہ معراج صاحب نے وعدہ کیا تھا کہ سسپنس کے پہلے مدیر آپ ہوں گے لیکن اس کے لیے شرط یہ ہے کہ پہلے شمارے کے لیے ابن صفی بی اے کی کہانی آپ کو لانا ہوگی، مشتاق صاحب نے کہانی لانے کا وعدہ کرلیا لیکن کسی کو یقین نہیں تھا کہ وہ ابن صفی صاحب کی کہانی سسپنس ڈائجسٹ کے لیے حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے چوں کہ سب جانتے تھے کہ صفی صاحب معراج صاحب اور ان کے والد سے ناخوش تھے۔
مشتاق احمد قریشی صاحب ڈائجسٹ انڈسٹری کے بزرگ ترین افراد میں سے ایک ہیں اور اس کے ساتھ ہی وہ ان لوگوں میں سے ہیں جو ابن صفی صاحب کے سچے اور حقیقی پرستار ہیں اور شاید ابن صفی صاحب جیسا جہاں دیدہ بھی ان کی محبت اور عقیدت کو محسوس کرتا تھا کیوں کہ بعد میں بھی ہم دیکھتے ہیں کہ وہ قریشی صاحب کی کسی بات کو ٹالتے نہیں تھے۔
بقول قریشی صاحب، جب میں نے صفی صاحب سے سسپنس کے لیے کہانی کی درخواست کی تو انھوں نے مجھ سے پوچھا ’’ تم ان کے لیے یہ سب کیوں کر رہے ہو؟‘‘
قریشی صاحب نے جواب دیا کہ سسپنس کا ایڈیٹر میں ہوں اور میری خواہش ہوگی کہ میرے اس پرچے کا آغاز آپ کی کہانی سے ہو، یہ سن کر صفی صاحب مسکرائے اور وعدہ کرلیا۔
ادھر صورت حال یہ تھی کہ معراج صاحب، اقبال پاریکھ، غلام کبریا بیگ اور دوسرے معراج صاحب کے رفقا کو یہ امید ہی نہیں تھی کہ صفی صاحب سسپنس کے لیے کہانی دے دیں گے، جب قریشی صاحب نے ابن صفی صاحب کی کہانی معراج صاحب کے سامنے پیش کی تو وہ حیران ہوئے، بہر حال سسپنس میں یہ کہانی شائع ہوئی اور بڑے اہتمام کے ساتھ لیکن مدیر کے طور پر مشتاق احمد قریشی صاحب کانام شائع نہیں ہوا بلکہ ان کا نام پرچے کے تقسیم کار کے طور پر ہی لکھا گیا۔
مشتاق صاحب کو اس وعدہ خلافی سے سخت صدمہ ہوا، بعد ازاں وہ ادارہ جاسوسی ڈائجسٹ پبلی کیشنز سے علیحدہ بھی ہوگئے، اس معاملے میں بعض لوگوں کا خیال ہے کہ اقبال پاریکھ نے کوئی منفی کردار ادا کیا یا کسی اور نے، ہمیں نہیں معلوم، نہ ہی ہم نے کبھی معراج صاحب سے یا اقبال پاریکھ سے معلوم کرنے کی کوشش کی البتہ مشتاق احمد قریشی صاحب سے ضرور اس حوالے سے گفتگو ہوئی۔
قریشی صاحب بھی ان لوگوں میں شامل ہیں جو معراج صاحب کی پہلی شادی میں ایک فعال کردار ادا کرچکے ہیں، اصل مسئلہ یہ تھا کہ ساجدہ صاحبہ کی والدہ کا انتقال ہوچکا تھا اور وہ اپنی فیملی کی واحد سپورٹر تھیں، خود جاب کرتی تھیں اور گھر کے کام کاج کی ذمے داری بھی ان پر تھی، ان کے والد نہیں چاہتے تھے کہ وہ شادی کریں اور اپنی فیملی کو تنہا چھوڑ دیں،ہرچند کے معراج صاحب نے ان کی فیملی کی تمام ذمے داریاں اپنے ذمے لینے کا وعدہ کیا مگر گھریلو کام کاج کون دیکھے گا؟ دیگر بہن بھائی چھوٹے تھے لہٰذا وہ چاہتے تھے کہ پہلے ان کی شادی کردی جائے پھر وہ بیٹی کو رخصت کریں، چناں چہ ایسا ہی کیا گیا، پہلے ساجدہ صاحبہ کے والد صاحب کی شادی کرائی گئی اور پھر وہ رخصت ہوکر ناظم آباد میں معراج صاحب کے گھر آئیں، معراج صاحب کا طالع عروج کی طرف جارہا تھا ، تھوڑے ہی عرصے بعد معراج صاحب نے نارتھ ناظم آباد میں ایک شاندار بنگلہ خرید لیا اور اس طرح یہ جوڑا وہاں شفٹ ہوگیا۔
پہلے ذکر ہوچکا ہے کہ جاسوسی کے آغاز میں پہلے مدیر کے طور پر ایچ اقبال کا نام ادارتی صفحے پر تھا مگر بعد میں یعنی تھوڑے ہی عرصے بعد وہ بھی الگ ہوگئے اور اپنا میگزین الف لیلیٰ ڈائجسٹ نکال لیا، یہ قصہ بھی ہم نے اقبال صاحب سے بطور خاص پوچھا لیکن یہاں زیادہ تفصیل سے بیان کرنا مناسب نہیں ہے،اگر خود ایچ اقبال صاحب کبھی اس واقعے کو لکھیں تو اور بات ہوگی، اس علیحدگی کا سبب بقول ایچ اقبال بعض سازشی عناصر کی ریشہ دوانیاں تھیں لیکن ہمارا خیال اس کے برعکس ہے، ہم چوں کہ معراج صاحب کے بھی بے حد قریب رہے ہیں اور ایچ اقبال صاحب سے بھی اب تک بہت قربت ہے، دونوں کے مزاج اور فطرت سے بخوبی آگاہ ہیں، مزید یہ کہ اپنے فلکیاتی علم کی روشنی میں بھی ہم نے دونوں کی شخصیت کا مطالعہ کیا ہے،ہم سمجھتے ہیں کہ یہ دونوں افراد کبھی ایک جگہ زیادہ عرصے مل کر کام نہیں کرسکتے تھے، دونوں کی انا بہت بلند، دونوں کے کام کرنے کا اسٹائل بھی یکسر مختلف، دونوں ہی اپنے سوا کسی کو کچھ نہ سمجھنے والے، اب آپ خود فیصلہ کرلیں کہ دونوں کا اتحاد کیسے ممکن ہوسکتا تھا۔
مشتاق احمد قریشی صاحب کا معاملہ اس صورت حال سے خاصا مختلف ہے، وہ بڑے متحمل مزاج اور مدبر قسم کے انسان ہیں، ساری زندگی انھوں نے سخت محنت اور جدوجہد کرکے اپنا ایک مقام بنایا، ابن صفی صاحب ان کی ہمیشہ سے سب سے بڑی کمزوری رہے اور بعد میں بالآخر انھوں نے صفی صاحب کو ساتھ لے کر ’’ابن صفی مسٹری میگزین‘‘ کا اجرا کیا، صفی صاحب ہر طرح سے ان کے ساتھ تھے، یہ الگ بات ہے کہ اس میگزین کی اشاعت کے بعد زیادہ عرصے تک ان کی زندگی نے وفا نہیں کی۔
قریشی صاحب ہمیشہ سے اصول و قواعد کے پابند آدمی رہے ہیں لہٰذا اگر کسی سے ان کے تعلقات میں کبھی خرابی آئی ہے تو اس کی وجہ یہی رہی ہے کہ انھوں نے اصولوں پر سمجھوتا نہیں کیا، اظہر کلیم مرحوم سے ایک طویل رفاقت کے بعد علیحدگی کے حوالے سے اظہر صاحب کا مؤقف ہم پہلے بیان کرچکے ہیں لیکن پھر بعد میں جب وہ اشارہ ڈائجسٹ کو کامیاب نہ کراسکے تو دوبارہ نئے افق میں ان کی واپسی کے امکانات پیدا ہوگئے تھے لیکن افسوس! اظہر کلیم دوبارہ نئے اُفق جوائن کرنے سے پہلے ہی اپنے مالک حقیقی سے جاملے، قابل اجمیری غیر معمولی شاعرانہ مقام کے حامل شعرا میں سے ہیں اور ان کے بعض شعر تو گویا ضرب المثل بن چکے ہیں جیسا کہ یہ شعر ؂
وقت کرتا ہے پرورش برسوں
حادثہ اک دم نہیں ہوتا
نئے اُفق سے اظہر کلیم کی علیحدگی شاید کوئی نیک شگون نہ تھا کیوں کہ اس کے بعد نئے اُفق گروپ آف پبلی کیشنز کو سنبھالنا مشکل ہوگیا، ہمیں یاد ہے کہ ایک وقت ایسا بھی آیا جب ہمیں معراج صاحب نے بتایا کہ قریشی صاحب میرے پاس آئے تھے اور کہہ رہے تھے کہ معراج! میرے پرچے بھی تم ہی سنبھال لو، وہ بہت پریشان تھے، بہر حال میں نے انھیں تسلی دی ہے کہ جو ممکن ہوسکے گا میں آپ کے لیے کروں گا۔
قارئین! آپ نے دیکھا کہ اپنے وقت کے یہ متحمل مزاج اور نرم دل لوگ فطری طور پر کینہ پرور نہیں تھے، ماضی کی ناخوش گوار باتوں کو بھول جایا کرتے تھے، پہلے جو واقعہ لکھا گیا جس میں یقیناً قریشی صاحب کی دل شکنی ہوئی لیکن پھر دونوں کے تعلقات بحال ہوگئے بلکہ بہت خوش گوار ہوگئے، یہاں تک کہ اے پی این ایس میں معراج صاحب نے اپنے تمام پرچوں کے ووٹ کاسٹ کرنے کا اختیار بھی مشتاق احمد قریشی صاحب کو دے رکھا تھا، وہ خود اے پی این ایس یا سی پی این ای وغیرہ کے اجلاسوں یا فنکشن میں جانے سے گریز ہی کرتے تھے،اس حوالے سے تمام معاملات قریشی صاحب کے سپرد تھے، اسی طرح دیگر معاملات میں بھی نہایت افہام و تفہیم اور باہمی بات چیت کے ذریعے مسائل حل ہوجاتے تھے۔
جب معراج صاحب نے ہمیں بتایا کہ نئے افق اور دیگر پرچوں میں مسائل آؤٹ آف کنٹرول ہورہے ہیں تو انھوں نے خصوصی طور پر ہمیں ہدایت کی کہ تم اس معاملے میں جو بھی کرسکتے ہو ، ان کی مدد کرو۔
اس وقت نئے افق کی ادارت قریشی صاحب کے صاحب زادے عمران احمد قریشی نے سنبھال رکھی تھی،ہم نے ان سے ملاقات کی اور جو مشورے بھی انھیں دے سکتے تھے، دیے، معراج صاحب کی اجازت سے کچھ کہانیاں بھی جو ہمارے پاس اضافی تھیں، انھیں دی گئیں، مزید یہ کہ ایک نئی سلسلے وار کہانی کے لیے ہم نے انھیں مشورہ دیا کہ وہ غلام قادر سے لکھوائی جائے، قادر ’’کشتہ ء سیاست‘‘ لکھ کر اپنے آپ کو منواچکے تھے، ان دنوں نارتھ ناظم آباد کے ایک مکان میں رہائش پذیر تھے،ہم عمران کو لے کر وہاں پہنچے ، ہمارے ساتھ ذوالفقار ارشد گیلانی بھی تھے، نئی سلسلے وار کہانی کا آئیڈیا ڈسکس ہوا اور قادر نے وعدہ کرلیا کہ وہ لکھیں گے،ظاہر ہے ہماری موجودگی سے ان پر یہ بات ظاہر ہوگئی تھی کہ معراج صاحب ان کے کسی اور ادارے کے لیے کام کرنے پر ناراض نہیں ہوں گے، اس طرح ماضی کی مشہور سلسلے وار کہانی ’’زردار‘‘ کا آغاز ہوا اور اس کے بعد ہی ہمارے عمران احمد قریشی اور ذوالفقارارشد گیلانی سے تعلقات بھی مزید گہرے ہوئے جو آج تک قائم ہیں۔
کہتے ہیں جس کو عشق
اسی زمانے میں ایک دلچسپ داستان محبت بھی پروان چڑھی جس کے بیک وقت کئی رُخ تھے۔
رمضان چیمبرز جو آج کل قومی اخبار ہاؤس ہے، درحقیقت صحافت و پبلشنگ کے لیے ہی مخصوص ہوچکا تھا، جاسوسی ڈائجسٹ پبلی کیشن کے تمام دفاتر ، نئے افق گروپ آف پبلی کیشنز کے دفاتر اسی بلڈنگ میں تھے اور ساتھ ہی قومی اخبار اور روزنامہ جرأت کے دفاتر بھی یہاں موجود تھے لہٰذا صحافی ، شاعر ، ادیب، آرٹسٹ، ایڈورٹائزرزالغرض ہر قسم کے افراد کا آنا جانا اس بلڈنگ میں ہوتا تھا، متعلقہ اداروں سے وابستہ افراد کی بھی ایک بڑی کھیپ یہاں رات و دن موجود رہتی اور ہم 24 گھنٹے یہاں موجود رہتے، ہفتے میں صرف ایک روز کے لیے اپنے گھر جایا کرتے تھے،مرحوم الیاس شاکر نے ہمیں اس بلڈنگ کا بھوت قرار دے دیا تھا۔
انہی دنوں ایک مشہور آرٹسٹ بھی قومی اخبار اور جرأت سے وابستہ ہوئے، ان کا نام گلزار تھا، گلزار کسی زمانے میں ایچ اقبال صاحب کے پاس الف لیلیٰ ڈائجسٹ میں اسکیچ بناچکے تھے اور خاصے مشہور ہوئے تھے، ان کی شاہد حسین سے بھی پرانی واقفیت اور یاداللہ تھیں، ایک دن شاہد نے اپنے مخصوص انداز میں بتایا ’’او یار! گلزار پاگل ہوگیا ہے، قومی اخبار کی ایک لڑکی کے چکر میں ہے‘‘
ہم نے پوچھا ’’کون سی لڑکی؟‘‘ اس زمانے میں ہمارے دفتر میں اور دیگر دفاتر میں ایک سے زیادہ لڑکیاں کام کر رہی تھیں، خاص طور پر کتابت کا شعبہ ختم ہونے کے بعد کمپیوٹر سے کمپوزنگ کا سلسلہ شروع ہوا تو بہت سی لڑکیاں کمپوزنگ کے شعبے میں آگئی تھیں، شاہد نے بتایا کہ اس کا نام قمر تابندہ ہے اور یہ اسے بھی نہیں معلوم تھا کہ وہ قومی اخبار میں کیا کرتی ہے،ہم نے یقیناًاسے دیکھا ہوگا لیکن نام سے واقفیت نہیں تھی، اپنے حسام بٹ بھی ایسے معاملات پر خصوصی نظر رکھنے کے ماسٹر تھے اور انھیں بھی اس یک طرفہ عشق کی خبر تھی،ایک روز وہ گلزار کو ہمارے کمرے میں لے آئے اور پھر جو کچھ ہوا اس کا اندازہ صرف وہی لوگ لگاسکتے ہیں جن کا کبھی کسی عاشق ناشاد سے واسطہ پڑا ہو، وہ بندہ تو اب اٹھنے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا اور نہ ہی اس کی بپتا ختم ہورہی تھی، ہم نے ، بٹ صاحب نے سمجھانے کی بہت کوشش کی ، ہمارا سمجھانا تو خیر سنجیدگی کے ساتھ تھا لیکن بٹ صاحب تو ایسے کیسوں کی تلاش میں رہا کرتے تھے تاکہ اپنا فالتو وقت کچھ تفریحی انداز میں گزار سکیں، وہ اسے ایسے ایسے عجیب و غریب مشورے دے رہے تھے کہ اگر وہ ان پر عمل کرلیتا تو اپنی محبوبہ کو حاصل کرنے کے بجائے کسی خطرناک انجام سے دوچار ہوتا، بہر حال ہم نے گلزار سے کہا کہ بھائی! فی الحال ہم آپ کے لیے کچھ نہیں کرسکتے اور اب ہمارے سونے کا وقت ہورہا ہے کیوں کہ اس کتھا کہانی میں وقت گزرنے کا احساس ہی نہ ہوسکا، فجر کی اذان ہوئی تو ہماری جان چھوٹی۔
اب تو یہ روزانہ کا معمول ہوگیا، رات بارہ بجے کے بعد گلزار آرٹسٹ نمودار ہوتے اور انھیں دیکھتے ہی ہمارے ہاتھ پاؤں ٹھنڈے پڑجاتے، جب کہ بٹ صاحب کے لبوں پر مسکراہٹیں کھیلنے لگتیں، مزے کی بات یہ ہے کہ وہ تھوڑی دیر تو ہمارے ساتھ بیٹھ کر تفریح لیتے اور پھر اپنے مقرر ہ وقت پر سونے کے لیے لیٹ جاتے پھر انھیں کوئی خبر نہ رہتی کہ گلزار و فراز پر کیا گزری، اس دوران میں ہم نے بھی اپنے طور پر معلومات کیں تو اندازہ ہوا کہ بلڈنگ میں گلزار کے علاوہ بھی قمر تابندہ کے چاہنے والوں کی کوئی کمی نہیں ہے۔
ان دنوں چوں کہ عمران قریشی اور ذوالفقار ارشد گیلانی سے روزانہ کی ملاقاتیں تھیں تو ہم نے اس کا تذکرہ عمران سے بھی کیا، اب ایک نیا انکشاف سامنے آیا، ہمیں پتا چلا کہ قمر تابندہ اور ذوالفقار ارشد گیلانی کے درمیان نہایت سنجیدہ نوعیت کا عشق پروان چڑھ رہا ہے یا حیرت!
ذوالفقار ارشد گیلانی بہت اچھے مترجم اور تخلیق کار ہیں، انھوں نے ڈائجسٹوں کے لیے بہت لکھا، وہ پہلے سے شادی شدہ اور شاید دو بچوں کے باپ تھے، ہماری سمجھ میں نہیں آیا کہ یہ معاشقہ کس کروٹ بیٹھے گا؟عمران کی اطلاع یہ تھی کہ وہ دونوں شادی کے لیے تیار ہیں اور اس معاملے میں سب سے بڑی رکاوٹ الیاس شاکر ہیں۔
اس کے بعد ہم نے گلزار کو جب یہ صورت حال بتائی تو اسے یقین ہی نہیں آیا ، اس کا خیال یہ تھا کہ قمر تابندہ تو اسے پسندکرتی ہے اور وہ بھی یہ سمجھتا تھا کہ ولن کا کردار جناب الیاس شاکر ادا کر رہے ہیں، یہ معاملات چل ہی رہے تھے کہ ایک روز ہمیں اطلاع ملی کہ دونوں لیلیٰ مجنوں نکاح کے بندھن میں بندھ گئے ہیں، مزید خرابی یہ ہوئی کہ کسی طرح ذوالفقار کی پہلی بیوی کو بھی اس واردات کی خبر ہوگئی اور وہ فوری طور پر غلام قادر کے گھر پہنچ گئی جہاں حقوق نسواں کی چیمپئن سابقہ ڈپٹی اسپیکر سندھ اسمبلی شہلا رضا سے ان کے پہلے ہی اچھے مراسم قائم ہوچکے تھے ۔
شہلا نے ایک روز غلام قادر کے ساتھ ہمارے دفتر پر دھاوا بول دیا، وہ ہر طرح سے ذوالفقار کی پہلی بیگم کے ساتھ کھڑی تھیں، شکر ہے کہ اس وقت تک ڈپٹی اسپیکر ٹائپ کوئی عہدہ ان کے پاس نہیں تھا، صرف غلام قادر کی بیگم ہونے کا شرف ہی حاصل تھا ورنہ خدا معلوم ذوالفقار کے ساتھ کیا ہوتا، بہر حال جو ہونا تھا وہ تو ہوچکا تھا، ہمارا بھی خیال یہی تھا کہ جو کچھ ہوا ہے وہ اچھا نہیں ہوا، مزید یہ کہ اس رشتے کے آئندہ مثبت اثرات ظاہر نہیں ہوں گے اور بالآخر ایسا ہی ہوا۔
قمر تابندہ ذوالفقار کے دو بچوں کی ماں بنیں، ایک بیٹا اور ایک بیٹی، ایک طویل عرصے تک دونوں کے درمیان کھینچا تانی کی صورت حال بھی رہی، تقریباً دو سال قبل ہمیں تابندہ نے بتایا کہ ہمارے درمیان طلاق ہوچکی ہے،بہر حال وہ ایک مشہور چینل میں جاب کرکے اپنے بچوں کو پال رہی ہیں، اللہ انھیں مزید ہمت و طاقت دے، ذوالفقار ارشد گیلانی بعد میں نئے افق چھوڑ کر کسی اور پرچے میں چلے گئے اور پھر کسی اور جگہ چلے گئے ؂ اک چکر ہے مرے پاؤں میں، زنجیر نہیں۔ آج کل اسلام آباد میں ہیں اور ہماری دعا ہے کہ جہاں رہیں، خوش رہیں۔
گلزار نے اس تمام صورت حال پر جو ماتم ممکن تھا ، کیا اور پھر ایک روز اچانک غائب ہوگئے،ایسے کہ آج تک ہمیں ان کی کوئی خیر خبرنہیں ملی، ایک بار لاہور جانا ہوا تو اتنی خبرملی کہ لاہور میں ہیں، بعد میں بہت سے لوگوں سے گلزار کے بارے پوچھ گچھ کی مگر کسی نے بھی نہیں بتایا کہ وہ کہاں ہیں اور کس حال میں ہیں، اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ ایک نہایت لائق آرٹسٹ تھے ، ممکن ہے ضمیر ہاشمی یا عمران زیب کو معلوم ہو ، ان کی نظر سے بھی ہماری یہ یاد داشتیں گزرتی ہیں ، اگر گلزار کے بارے میں ان کے پاس کوئی خبر ہو تو ہمیں بھی ضرور آگاہ کریں۔(جاری ہے)

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

ڈائجسٹوں کی الف لیلہ۔ قسط نمبر 26۔ سید انور فراز

آنکھوں میں اُڑ رہی ہے لٹی محفلوں کی دُھول عبرت سرائے دہر ہے اور ہم …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے