سر ورق / مضامین / نقید و تجزیہ ۔۔۔۔۔آخری کہانی باسط آزر 

نقید و تجزیہ ۔۔۔۔۔آخری کہانی باسط آزر 

نقید و تجزیہ ۔۔۔۔۔آخری کہانی

باسط آزر

افسانہ ” آخری کہانی ” کی ابتدائی لائنز میں میٹافکشن تکنیک کا استعمال ہے جو قاری کی توجہ بہت شدت سے تخلیق کی طرف مبذول کراتی ہیں ۔۔۔۔

آسمان پھٹ جانا اور زمین شق ہونا سوشل ڈسکورس ہی کا حصہ ہے ، اور یوں ابتدا ہی میں آئیڈیالوجی اور سوشل ڈسکورس نمایاں ہے ۔۔۔

دوسری اہم بات کہانی اچانک یا ایبرپٹ اوپننگ کرتی ہے ۔۔ اور ان دونوں خصوصیات کے ساتھ ایک عام قاری کے ذہن کو شدت کے ساتھ گرفت میں لیتی ہے ۔

میٹا فکشن کی اسی تکنیک سے کردار توقف اور جزیات نگاری کا جواز فراہم کرتا ہے ، اور قاری جو ایسی شدت کے جلد از جلد اختتام کا سوچ رہا ہو ، ایک سوال کا جواب ملتا ہے ۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔

اس افسانے میں جو سب سے اہم بات نظر آتی ہے ، وہ تین سوالات کے ایک یک جہتی جوابات ہیں جو وضاحت دیتے ہوئے آزاد تصور اور متغیر پر سوالیہ نشان لگاتے جاتے ہیں

کون ۔۔۔۔۔۔۔ ایک عورت ہے ۔۔

کونسی عورت ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایک بے رحم اور سفاک عورت ، قاتلہ ، جس نے ایک انتہائی معصوم بچے کے ساتھ دو انسابوں کے خون سے ہاتھ رنگ لیے

کیوں ۔۔۔۔۔۔ افسانی اس کیوں کے گرد اپنا متن بنتا جاتا ہے ۔۔

یہاں کیسے ایک مکمل جواب کی صورت نمایاں ہے ، جس میں میٹا فکشن ، ریڈیکل فیمینزم کے زبان اور الفاظ پر اٹھائے گئے سوالات کا کچھ حصہ شامل ہے جیسے فی میل ۔۔۔۔ جس میں میل کا لفظ موجود ہے ، وومین کے لفظ میں بھی ایسا ہے ۔۔ یوں متن میں ایک ایسی اہم تھیوری شامل ہو جاتی ہے جس کی طرف لاشعوری طور پر قاری کا ذہن مبزول ہوتا ہے مگر ادراک میں کمی رہ جانے سے شاید جواب نہ مل پائے ۔

کون ۔۔۔۔۔۔۔

عورت ایک کردار ، مگر یہاں عورت فقط ایک کردار نہیں رہتی ۔۔۔۔۔ وہ آپ کو کہانی کے ڈسکورس میں بیک ٹو فورتھ لاتی ہے کچھ حوالوں کے ساتھ اور مخاطب ایک پوری تاریخ ہے ۔ تہذیبی تاریخ ۔۔ ایک ایسی تہذیبی تاریخ جو اپنے نصف کو کمزور کیے جاتی ہے ، اس کے اندر موجود روح کو خود سے علیحدہ تصور کیے ہوئے ہے ، دوسرا نصف جو صرف تلذز ہے ، مفتوح ہے جسے نئے سرے سے مفتوح کیے جانے کی خواہش ہے

کون ، اور کیسے پھر سے ایک نئی مثلث کو جنم دیتے ہیں جس میں اس بار تیسرا بند کونا کیوں ہے ۔۔

کون ایک کونفرمسٹ ہے ، روایات کی پاسدار ، ہر اس مقام کی پاسدار جو اسے معاشرے نے دیا اور اس کے ساتھ سمجھائے گئے تمام معمولات (نارمز ) کی پاسدار ۔۔۔

کیسے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کا جواب مکمل متن ہے ۔۔ اس کا ابتدا میں راضی برضا ہو کر پچاس سال کی عمر کے عیاش کے ساتھ شادی پر رضامند ہونا ، اس شادی کو بچائے رکھنے کی خواہش ، ایک ذہن میں ٹھونسا گیا کمزور حیا دار کا تصور جو مسلسل چکنا چور ہو رہا ہے ، کسی مرد کے ساتھ رہنے میں ہی تحفظ کا احساس یہ سب سوشل ڈسکورس ہیں اور اس کے معاشری مقام کا تقاضا جسے وہ نبھاتی آ رہی ہے ، مگر جو پہلی طلاق کے ساتھ چکنا چور ہو رہے ہیں ۔۔ اور اس کو نیا ڈسکورس دے رہے ہیں اور وہ ایک طرح سے نئی نارمز (معمولات ) سیکھ چکی ہے ۔۔ اور یہاں معاشرتی تغیر کے ساتھ اس کی ہم آہنگی ایک نئے استحصالی مذاق کو جنم دیتی اور ایک اور کیسے پہلے کیسے سے جنم لیتا ہے

دوسرا کیسے ۔۔۔۔۔۔۔ پہلی شادی کی ناکامی کی وجوہات سے سیکھتے ہوئے نئی تبدیلیاں ، جنسی تجربات سے اس عمل میں مہارت ، اچھی تعلیم ، اور بڑا عہدہ ، دولت کا حصول ۔۔

کیا یہ سوشل ڈسکورس سے جدا ہیں ، کیا انہیں آئیڈیالوجی سے جدا کیا جا سکتا ہے ؟ ۔۔۔ نہیں ۔

استحصالی مذاق اس کی دوسری بار مس ایڈجسٹمنٹ ہے ، مفتوح کو نئے سرے سے مفتوح نہ کر سکنے میں ناکام شخص پہلے ڈسکورس کی طرف اشارہ کرتا ہوا دوسرا شوہر اور سسرال جیسے اسی معاشرے کے ان ہتھیاروں کو استعمال کرتے ہیں ۔ کہانی میں موجود عورت کا کردار یہاں تک معاشرے کی ہر عورت کی نمائیندگی کرتا ہے اور ان تمام حربوں کو سامنے لاتا ہے ، جو عورت کے خلاف استعمال ہوتے آ رہے ہیں اور ہوتے ہیں ، یہاں نیوڈزم اور جنسی افعال میں گرفتار لبرلزم گروہ کی فکر کا عنصر بھی نمایاں ہے ، جو اسی تغیر یا نئے ڈسکورس میں اس کے جسم کے ایک کموڈیٹی بن جانے کی صورت نمایاں ہوتا ہے ، یوں رجعت اور یہ مصنوعی بھٹکا ہوا لبرلزم اور ایسا تمام تغیر عورت کے معاملہ میں بے سود و بے معنی ٹھہرتا ہے

کیوں ۔۔۔۔ یا وہ ایسا کیوں کر رہی ہے ؟

اسی یہی کرنا تھا ، یہاں ہم فرد ِ واحد جو کہ ایک عورت ہے اس کو معاشرتی تناظر میں دیکھتے ہیں ۔ کارل پوپر جو کہ جبریت کے خلاف آواز اٹھاتے ہوئے بھی یاد رکھتا ہے کہ کسی حد تک جبر پایا جاتا ہے ، انسان کی تہذیب ، اس کی ثقافت اور معاشرتی طور پر اس نظام کو چلائے رکھنے کے لیے تخلیق اور نسل کو آگے بڑھانے کی ذمہ دار نصف ِ واحد عورت دوسرے نصف ِ واحد کے سامنے تہذیب کے ارتقا کے ساتھ ساتھ تابع ہوتی رہی ، اور یہ سب اسے زبان کے ذریعے ( مارکسزم پسِ ساختیات ) کے ذریعے بتایا جاتا رہا ہے ۔۔

رہا ۔۔۔۔۔۔ کے ساتھ ہے ایک مسلسل جاری عمل کی طرف اشارہ سمجھے جائیں ۔ جب کہ دوسرے نصف ِ واحد کی طرف برتری برتری منتقل ہوتی رہی ہے ۔ اور یہی وہ جبر ہے ۔۔ جس سے انکار کرنا ناممکن ہے ۔ تو کیوں وہ ایسا نہ کرتی متبادل کہاں تھا ، مگر اختتام ۔

یہاں تمام فیمینسٹ تناظر ، ساختیات و پسِ ساختیات اور مارکسزم ایک نقطہ پر باہم ہو رہے ہیں اور یہ خوبی اس افسانہ کو ایک کمال عطا کر رہی ہے ۔ اور اسے مزاحمتی ادب میں ایک بہترین اضافہ ۔۔

افسانہ کا اختتام جس کرب اور واردات کو سموئے ہوئے ہیں ، اس میں ایک کونفرمسٹ کے سامنے جرم اور وحشت کے سوا کوئی راستہ نظر نہیں آتا ۔ کیا یہ اتنی ہی سفاک عورت ہے ، جو پہلے کون ، کیوں اور کیسے میں موجود ہے ؟

مامتا کا شدید جذبہ ، ساتھ ایک قبر میں اتر جانے اور مر جانے کی خواہش ، اس کردار کے مرنے کی پہلی نہیں دوسری خواہش ہے ۔ پہلی بار وہ پہلے ڈسکورس کے رد کے ساتھ مر چکی ہے ، یہ نئی عورت جسے تٖغیر کے نئے ڈسکورس نے جنم دیا ۔ اس قتل کے ساتھ ہی مر چکی ہے ، اور اگلے دونوں جائز ٹھہرتے ہیں ، ۔۔۔۔۔۔۔ مگر

انصاف اور قانون کی نظر میں نہیں اور نہ ہی معاشرہ کی نظر میں ۔

اس تمام کونفرمیٹی اور سوشل ڈسکورس سے انحراف و بغاوت کی اس کہانی میں جابجا اپوزنگ پروپوزیشنز پائی جاتی ہیں ۔۔

یوں محسوس ہونا جیسے کہ تمام انسانیت مر چکی ہو ۔۔۔۔۔۔ ایک مذہبی بیانیہ ہے ،

شرم وحیا ۔ اور عورت کا شوہر کے ساتھ دونوں طرح کا تعلق مذہبی و معاشرتی کونفرمنگ نیریشنز ہیں ، جن کے ساتھ اس کے اندر ہونے والی ذہنی تبدیلیاں اور مقدس کتاب کا کالےجادو میں استعمال ۔۔ شوہر سے مجبوراً بے وفائی (معاشرے کی خاطر ) سب اس کے مخالف ہیں ۔

اس کے ساتھ ساتھ تمام افسانہ میں بہت مضبوط بائنری اپوزیشنز موجود ہیں ، جو اس کی ذہنی کشمکش کی صورت جابجا نمایاں ہوتی ہیں ۔ اور بظاہر ، سفاک ، مجرم ، بے راہ رو ، ( جسے بجا طور پر کنجری کا لفظ سنتے حواس کھو دینے چاہئیں ) ۔ حقیقت میں اس ثقافت ، تہذیب ، روایات ، معاشرتی مقام ، مرد ، اور اس سب کے نگہبان معاشرے کی وحشت ، جرم ، سفاکیت اور قاتلانہ روش کے حامل معاشرے کا ایک معصوم شکار ٹھہرتی ہے ۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

"امرت کور“  …خلاصہ۔۔۔ حمید اختر

"امرت کور“ تحریر۔۔۔ امجد جاوید خلاصہ۔۔۔ حمید اختر بلال احمد انگلینڈ کی بریڈفورڈ یونیورسٹی ہاسٹل …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے