سر ورق / کالم / اگر فردوس بر روے زمیں است!!!  غلام حسین غازی

اگر فردوس بر روے زمیں است!!!  غلام حسین غازی

اگر فردوس بر روے زمیں است!!

قسط نمبر 2

ہمیں کوچ ڈرائور کی مہارت و مشاقی کا تب درست ادراک ہوا جب گوجرانوالہ پار کرتے ہی سڑک بند ملی۔ اس نے گاڑی انتظار میں ڈالنے کی بجاے نا معلوم رستوں پر ڈال کر کوئی آدھ گھنٹے بعد واپس جی ٹی روڈ پر ڈال دی۔ اس نے دیگر گانے بھی چلاے لیکن وقفے وقفے سے "ناچ میری بلبل کہ پیسا ملے گا ” تقریبا ساری رات ہی چلایا۔ خیر دو گھنٹے بعد ھمارا پہلا سٹاپ "میاں جی ہوٹل ” پر ہوا۔ سبھی سواریاں نیچے اتریں۔۔۔لیکن اجنبیت کی دھند میں چہرے ہنوز دھندلے تھے۔ ہم میاں بیوی نے ایک صاحب کے قریب سے گزرنے پر چاے کی دعوت دی تو وہ ہمارے ساتھ بیٹھ گئے۔ تعارف پر معلوم ھوا ان کا نام محمد علی بٹ تھا اور وہ کینیڈا میں مقیم ھیں۔۔۔آج کل پاکستان آے ہوے ہیں۔ سابقہ ایڈوینچرر تھے۔ خیر کوچ دوبارہ چلی۔ لگ بھگ سبھی سو گئے۔ سواریوں میں سے صرف میں جاگ رہا تھا۔ اور ہلکی آواز میں گانے۔ نماز فجر کے لئے سواں برج سے جانب کہوٹہ مڑ کر پہلی آنے والی مسجد کے سامنے رک گئے۔ بے حد افسوس ہوا کہ خواتین کو مسجد کے واش رومز میں جانے کی اجازت نہ ملی۔۔۔ یہاں انکشاف ہوا کہ اسلام آباد سے ایک خاتون سواری کو بھی ساتھ بٹھانا ہو گا۔ تب تک جمیل رضا صاحب بھی اپنی کار میں ھمارے ساتھ آ ملے۔ ایک مردانہ سواری کو انھوں نے اپنے ساتھ کار میں لے لیا اور ان محترم خاتون کو کوچ میں سیٹ دی گئی۔ خاتون کافی خوش مزاج ثابت ہوئیں۔ کسی این جی او سے منسلک تھیں۔ بعد از نماز سفر دوبارہ شروع ہوا۔ سورج ابھر رہا تھا تو ہم کہوٹہ شہر پار کر گئے۔ سیکیورٹی انتظامات پہلے سے بھی زیادہ بڑھے ہوے محسوس ہوے۔ دوستو! کہوٹہ سے کوئی پندرہ کلو میٹر آگے اور آزاد پتن سے 19 کلو میٹر پہلے ایک قصبہ ہے "پنجاڑ”۔ گرمیوں میں کہوٹہ گرم ہوتا ہے لیکن پنجاڑ بہترین ٹھنڈا مقام ہوتا ہے۔۔۔شاید چیڑوں کے گھنے جنگلات کی وجہ سے!!! اور پنجاڑ سے ہی

جانب مغرب ایک لوکل سڑک پہاڑ کے اوپر جاتی نظر آتی ہے۔ آپ میں سے بہت سارے دوست نہیں جانتے ہونگے کہ وہ سڑک "نرڑ پلیٹیو” پر جا کر ختم ہوتی ہے۔ نرڑ کی بلندی مری سے بھی زیادہ ہے۔ گرمیوں میں خوب ٹھنڈی جگہ جبکہ سردیوں میں اچھی خاصی برف باری ہوتی ہے۔ نرڑ کو اب عام طور پر نڑ کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ اس پلیٹیو پر 80 گاوں آباد ھیں۔ یہ بلکل خالص لاوے کی چٹان کا لگ بھگ 20 مربع کلو میٹر کا قدرتی قلعہ ہے۔ اس پر ٹورازم اس لئے ترقی نہ پا سکا کہ وہاں کھڑے ہوں تو جانب جنوب کہوٹہ ایٹمی پلانٹ واضع نظر آتا ہے۔ مری سے بڑا علاقہ ھے۔ کبھی یہاں ٹورازم فروغ پا گیا تو میرا دعوی ہے مری بھائیں بھائیں کرے گا۔ یہاں راک کلائمبنگ، پیرا گلائڈنگ،لمبی لمبی ٹریکنگ، جڑی بوٹیوں کے فارمز اور چھوٹے جہازوں کا ایئرپورٹ بھی بن سکے گا۔ میں کبھی ایک بزرگ سروئیر surveyor سے ملا تھا۔ اس نے مجھے بتایا تھا کہ اس نے اپنی سروس کے داران شملہ سے لے کر کابل تک انگریزوں کے ساتھ ملکر سروے کئے تھے لیکن نڑ جیسا بلند اور نابغہ پہاڑ کہیں نہیں دیکھا۔ تو میرے عزیزو!!! آپ کو کبھی کبھی نہ کبھی پنجاڑ ویلی اور نڑ ضرور دیکھنا چاھئیے۔ آپ اگر پہاروں کی سیر کے شوقین ہیں تو آپ اس کی سیر کے بعد مجھے یقیننا دعائیں دیں گے۔ نڑ پر ہوٹل نہیں ہیں۔۔۔سواے ڈھابوں کے ۔ مقامی قومیں عباسی،ستی اور سدھن بے حد ملنسار اور مہمان نواز ہیں۔ اب پوچھیئے میں اس علاقے کے متعلق اتنا کیسے جانتا ھوں؟؟؟ نمبر ایک کہ میں کہوٹہ ایٹمی پلانٹ میں سنہ 90 91 میں ملازم رہا۔ نمبر دو یہ کہ میں نے اسی علاقہ میں بریگیڈیئر جاوید ستی صاحب کے قائم کدرہ سکول سسٹم کی ان کے گاوں میں ہائی سکول کو بطور پہلا پرنسپل ملازمت کی۔ تب میں نے یہ علاقہ بہت بہت explore کیا تھا۔ اگر اپنی ان کھوجوں کا تذکرہ شروع کر دوں تو پوری ایک کتاب لکھی جاے۔ یہ سارا علاقہ قیمتی ترین جڑی بوٹیوں،شہد ،ٹمبر اور پراسرار ٹریکس اور ہر طرح کے شکار اور کھمبیوں اور قدیم فاسلز سے بھرا پڑا ہے۔ پنجاڑ سے چند کلو میٹر آگے سڑک دریاے جہلم کے ساتھ ہو جاتی ہے۔ سب کو بھوک محسوس ہو رھی تھی۔ جنگل میں ایک ڈھابہ نما ہوٹل پر گاڑی رکی۔ گندے ترین گھی

میں انڈے،پراٹھے اور چاے سے اندھا دھند پیٹ بھرے گئے۔ گندہ گھی اس لئے کہا کہ ہم میاں بیوی کے گلے میں فورا ہی کھچ کھچ شروع ہو گئی۔ پہاڑ شروع ہوتے ہی توقع رکھیں کہ اکثر بد ذائقگی ہی ملے گی۔ خیر! 9 بجے کے قریب ہم بلبل سوار آزاد پتن پار کر گئے۔ (جاری ہے)

آزاد پتن کے پار آزاد کشمیر حکومت کی عملداری شروع ہو جاتی ہے۔ دو سمارٹ پولیس آفیسرز نے گاڑی رکنے اشارہ دیا اور گیٹ کھلنے پر حکم دیا کہ تمام سواریاں اپنے اپنے آئی ڈی کارڈ نکال کے ہوا میں بلند کریں۔ دلچسپ حقیقت یہ تھی کی میں میری بیوی اور پروین وفا ہاشمی اپنے اپنے کارڈ گھر بھول آے تھے۔ کہوٹہ ایٹامک پلانٹ پر بھی یہی استفسار ہوا تھا۔ میں لگاتار مسکراتا رہا اور دونوں جگہوں پر انھوں نے شاعرہ صاحبہ کو ہلکا ڈانٹا لیکن ہم سے پوچھا ہی نیئن۔ بیوی حیران تھی کہ ھمیں نہیں پوچھا۔۔۔میں نے رعب گانٹھا کہ میری خود اعتمادی میں جادو ہے!!!
لیجئیے جناب!!! آزاد پتن سے تولی پیر براستہ راولا کوٹ سفر یوں سمجھئے کہ ایک کنوئیں کی تہہ سے لگاتار بلندی کی طرف جانا ہے۔ اور ھمارے پائیلٹ صاحب کا جوش دیدنی۔ پوری رفتار سے ہزاروں موڑ در موڑ کاٹتے جانب بلندی رواں دواں رہے۔ کوئی ایک گھنٹہ بعد راولا کوٹ تک بہت اچھی سڑک پر سفر نے کسی خطرے کا احساس نہ ہونے دیا۔ لیکن جونہی تولی پیر کی لوکل سڑک پر چڑھائی شروع ہوئی تو سانس خشک ہونے لگ گیا۔ تنگ سڑک اور کوچ کی رفتار میں کوئی کمی نہ تھی۔ میں نے باقاعدہ احتجاج کیا کہ ہمین واپس گھروں کو بھی جانا ھے۔۔۔خدارا رفتار کم کیجئیے۔ ڈرائور صاحب نے ہنس کر کہا۔”کیا آپ قوالی نہیں سن رہے ۔۔۔۔علی مولا علی مولا علی علی!!!” میں نے عرض کیا جی بلکل سن رہے ھین تو بولے بس پھر ڈرنا کیسا؟ لیجئیے جناب! خاموشی سے بیٹھ گئے۔ اور گیارہ بجے سے کچھ کم تولی پیر چوٹی سے کوئی 4 کلو میٹر نیچے گورنمنٹ ریسٹ ھاوسز کے غیر مسطح لان میں جا پہنچے۔ جمیل رضا صاحب بھی پہنچ گئے اور فورا ہی گاڑی کی چھت سے خیمے یوں اتارے جانے لگے جسے عمرو عیار کی زنبیل کھل گئی ھو۔ ان کا عملہ پوری مہارت اور پھرتی سے ٹینٹوں کا چھوٹا سا شہر آباد کرنے لگ گیا۔ ھم مسافر(خاص کر خواتین) ریسٹ ہاوسز کے واش رومز پر ٹوٹ پڑیں۔ دوستو! اس جگہ کی بلندی تقریبا 9 ہزار فٹ بتائی گئی۔ چاروں طرف کے مناظر نے مجھے تھکاوٹ کے احساس سے بیگانہ کر دیا۔ کیل،پڑتل اور دیودار کے جنگلات اور گھاس کے سبزے میں جا بہ جا جنگلی پھولوں کی خنک ہوا کے سنگ اٹھکھیلیاں بیان کرنے کے لئے میرے پاس الفاظ نہیں ہیں۔ توقع ہے کہ شاعرہ پروین وفا جعفری اور صبا ممتاز ضرور اس ماحول کی درست ترین منظر کشی پیش کر سکیں گی۔ میں نے نامراد بوٹ اتارے اور گھاس پر لیٹ کر لوٹ پوٹ ہو کر صبح کے گند سے بھرے پیٹ کو جلد سے جلد صاف کرنے کی ورزشیں کرنے لگ گیا۔
بیوی صاحبہ دیگر پانچ خواتین میں گھل مل گئی تھیں۔
اس مقام پر کھڑے ہو کر مغرب کی طرف رخ کریں تو آپ کے جنوب مغرب میں تراڑ کھل نظر آتا ھے اور تراڑ کھل سے پرے چشم تصور میں مری اور نتھیا گلی کے مقامات۔ جب کہ بلکل شمال میں باغ کا شہر اور اس پر بلند ہوتی "گنگا چوٹی” اور گنگا چوٹی کی شمالی لائن پر آپ چشم تصور میں مظفر آباد دیکھ سکتے ھیں۔ پشت یعنی مشرق اور جنوب مشرق کی طرف فارورڈ کہوٹہ، بانڈی عباس، پلندری اور بلکل مشرق میں پہاروں کے پار وادی لیپا آتی ہے۔ ہم جہاں قیام پذیر ہوے وہاں سے تولی پیر کی چوٹی ابھی بھی ھماری نگاہوں سے اوجھل تھی۔ گھنٹے بھر میں خیمے استوار ھو چکے تھے۔ اعلان ہوا کہ اپنا اپنا خیمہ تلاش کر لیں۔ ہمیں مسرت ہوئی جب ہم نے دیکھا ھمارے ناموں کے ساتھ خیمہ نمبر 01 ھمارا نکلا۔ بیوی صاحبہ نے جھٹ بیگ اندر لانے کا حکم دیا۔ اور کوئی آدھ گھنٹے بعد وہ شاندار چست لباس میں ہلکے میک اپ کے ساتھ باہر برآمد ہوئین۔ میں نے بھی فلیس کی ہڈ والی شرٹ پہن لی۔۔۔۔لیکن ان کے اس ماحول سے چراے سبھی رنگوں کو سمیٹ کر پہنے گئے لباس کے سامنے میرے ٹریکنگ ڈریس کی کیا اھمیت۔ یہی حال قدرے دیگر خواتین کا بھی تھا۔ خیر محسوس ہوا

 

بیوی سے تجدید عشق کے لئے ایسی جگہ آنا شاید شرط ہے
ھم میاں بیوی جا کر ریسٹ ہاؤس کے برآمدے میں بچھی کرسیوں پر بیٹھ گئے۔ میں چوری چوری بیوی کو دیکھ رہا تھا کہ برسوں پہلے والی لڑکی یکدم کہاں سے برآمد ہو گئی۔۔۔جس سے مجھے محبت ہوئی تھی۔ بھایو بہنوں اگر وقت کی دھول اتار کر ماضی میں جانا چاھتے ھیں تو آپ کو تولی پیر کی یاترا کرنی پڑے گی۔ اسی اثنا میں تین سبز نمبر پلیٹوں والی فور وھیلرز دندناتی ہوئی آ رکیں۔ ان میں ایک گاڑی میں سے ایک بہت باوقار خاتون برآمد ہوئین۔ پہلے تو وہ جھجھکتے ہوے سبھی لوگ اندر کے کمروں میں چلے گئے۔ تھوڑی دیر بعد ہی اردلی نے ہمارے سارے قافلے کو ریسٹ ھاوس کی سیڑھیوں پر جمع ہونے کی گزارش کی۔ جب سب ہی اکتیس نفوس ریسٹ ہاوس کے سامنے جمع ہو گئے تو اس باوقار کشمیری خاتون نے اپنا تعارف کروایا۔” میرا نام مدحت شہزاد ھے۔ میں سیکریٹری ٹورازم و آرکیالوجی آزاد جموں و کشمیر ہوں۔ مجھے آپ کے قافلے کی کشمیر میں داخل ہوتے ہی اطلاع مل چکی تھی۔ میں آپ سب کو کشمیر ٹورازم ڈے پر تقریب میں اتنا لمبا سفر کر کے آنے اور شرکت کرنے پر تہہ دل سے خوش آمدید کہتی ہوں۔
یہ دونوں ریسٹ آپ کے ڈسپوزل پر ہیں۔” پھر ٹورازم کی ترقی پر کچھ غیر رسمی باتیں ہوئین۔ وہ نا صرف باوقار بلکہ انتہائی ملنسار اور ہنس مکھ خاتون ثابت ہوئین۔ لاھور سے ایک اسی سالہ بزرگ ٹورسٹ نے ان سے کافی مذاق کئے جن کے جوابات انھوں نے مناسب بذلہ سنجی سے دئے۔ ہم سب کا موقف تھا کہ راولا کوٹ سے تولی پیر تک سڑک فورا ڈبل کروائیے ورنہ ٹورازم نہیں پنپے گا۔ تب انھوں نے ھمیں حیران کر دیا۔” بھئی اس سڑک کے ساتھ بھی تولی پیر ھمارا نمبر ون کماو پوت ہے۔ اس پر ہر سال ملکی و غیر ملکی ایک ملین سے زائد سیاح آتے ہیں۔” دوسرا میں نے اپنی فیس بک فرینڈ ڈاکٹر رابعہ خرم کا بنجوسہ جھیل کی حالت زار پر پیغام پہنچایا۔ اس پر انھوں نے بتایا کہ بنجوسہ جھیل کے گرد تمام آبادی کو ختم کرنے کے نوٹسز جاری ہو چکے ہیں۔ انھوں نے مزید بتایا کہ رتی گلی پر صفائی ستھرائی کے لئے ھنگامی کام جاری ہے اور بھاری جرمانے بھی لاگو کئے گئے ھین خاص طور پر وہاں ہوٹلز پر۔
تھوڑی دیر بعد وہ واپس چلی گئیں۔ کھوجیوں کی کچھار کے عملہ سے ہدایت جاری ہوئی کہ کوچ میں بیٹھئے تاکہ تولی پیر کی زیارت پ:
تولی پیر کے متعلق مقامی لوگوں کے مطابق شہاب الدین غوری اپنی فتوحات ھند کے وقت یہاں اس چوٹی پر فروکش ہوا اور تبلیغ اسلام کا آغاز ہوا(واللہ عالم)۔ تولی مطلب ہی فرودگاہ یا سادہ الفاظ میں بیٹھک۔ اب اس سرسبز زمرد کی مانند چمکتے پہاڑ پر کوئی درخت نہیں۔ گاڑی سٹینڈ سے تولی پیر چوٹی تک کوئی دو کلو میٹر کا ٹریک ھے۔ عین چوٹی پر کسی بزرگ کی درگاہ ہے۔ میں نے اپنی زندگی میں عام پاکستانیوں کی نسبت زیادہ پہاڑ اور صحرا دکھے ھیں۔۔۔اور میرا محبوب پہاڑ "نڑ” ہی تھا۔۔۔لیکن اس لمحے۔۔۔پہلی نظر میں یوں محسوس ہوا کشمیر کا سارا فطری حسن اور مرد وزن کی لاجواب سادگی،سچائی اور مہمان نوازی و رعب و دبدبہ سمٹ کر تولی پہاڑ کی صورت مجسم میرے سامنے کھڑا تھا۔ میں بیوی کو لے کر قافلے سے جدا ایک تنہا Ridge پر جا بیٹھا۔ مجھے اپنے قلب پر تولی پیر کی سرگوشی میں خوش آمدید کا پیغام تھراتا محسوس ہو رہا تھا۔ میں ایک غلام کی مانند اپنے عظیم آقا کی خدمت میں سر نگوں تھا۔۔۔اور پہاڑ کی بزرگی و عظمت کو اپنی روح اپنے وجود کے ذرے ذرے میں سمونے میں مصروف تھا۔ تب بیوی(جو مجھے اپنے جمال و نزاکت میں اسی لافانی ماحول سے فانی صورت لگ رہی تھی)نے ٹہوکا دیا۔”اے فطرت کے شیدا اٹھ۔۔۔وقت کم ہے! ذرا اپنے اردگرد تو دیکھ!!!” کیا دیکھتا ہوں۔ بے حد خوبصورت پھولوں کی families اپنی اپنی بہاریں دکھا رہی ہیں۔ میں بلکل گنگ تھا۔ تبھی ایک سرخ پھول پر نگاہ نیاز مند پڑی۔ وھ چھوٹی سے ڈنڈی پر بنا پتوں کے اپنی بھڑکائی آگ میں خود ہی جلتا ہوا محسوس ہوا۔ وہ کافی کافی فاصلے پر کھلے ہوے تھے۔۔۔فیملی میں نہیں۔ میں ایک کے پاس دو زانوں بیٹھ کر آنکھیں بند کر کے مخاطب ہوا۔”اپنی تنہائی کا راز بتا؟” جواب آیا۔”جب بے وفائی برداشت سے باہر ہو جاے تو پھر تنہائی سے بڑی وفا کا سہارا نہیں مل سکتا!!!” میں نے پھر پوچھا۔”اتنی لالی کہاں سے لی؟” جواب ملا۔”سارا بدن دل بن جاے تو سارے بدن کا لہو بھی دل میں سمٹ آتا ہے۔ میں مجسم دل ہوں۔ میرے دھڑکتے غم فرقت کو سن سکتے ہو تو سن لو۔” میں تڑپ اٹھا! عاجزی اختیار کی۔اپنی کم مائگی کا رونا پیش کیا اور اس فطرت کے مجنوں سے اجازت طلب کر کے اسے اکھاڑ لیا تاکہ فوٹو میں محفوظ کرکے آپ دوستوں کو دکھا سکوں۔
تولی پیر پر ہر رات بارش ہوتی ہے۔ ٹینٹ میں ساتھ بیوی کے ہونے پر اندیشہ تھا اس لئے پر شکوہ اور بزرگ تولی پیر سے اس رات بارش نہ بھیجنے کی گزارش کی۔۔۔پھر اس رات بارش نہ ہوئی۔ دوستو! مجھ پر اس دن ایک راز منکشف ہوا کہ قدیم انسان مظاہر فطرت کی پوجا پر مجبور کیوں کر ہو جاتا ہو گا؟
فاصلہ زیادہ ہونے کی وجہ سے گھوڑا سوار ہوے۔ ابھی آدھے راستے میں ہی تھے کہ نیچے سے پیغام آنے لگ گئے واپس آ جائیں کانفرنس میں جلدی پہنچنا ہے۔ خیر واپس ہو گئے۔
واپس آ کے ایک دو ڈھابہ ہوٹلوں سے چاے پی۔ ابلے انڈے کھاے۔ بعد ازاں نیچے وادی میں ایک ہوٹل سے کھانا بھی کھایا۔۔۔تب دل پر رقت طاری ہو ہو گئی جب ہر دکاندار نے روایتی کشمیری محبت میں یہ جملہ ضرور بولا” پیسے رہن دیو ناں جی! تسیں ساڈے مہمان جو تھئیے!” میں نے چشم تصور سے دور مستقبل میں جھانکا۔۔۔جب اعلی سڑکیں اعلی ہوٹلوں کی بھر مار ہو گی۔ تولی پیر کا چپہ چپہ اینٹ سیمنٹ کے جنگل سے اٹ چکا ھو گا۔ تب شاید کشمیری لوگ اپنی مہمان نوازی کا یہ جملہ بھی بھول جائیں گے اور اور تولی پیر کی ڈھلانوں پر اپنی ذات میں گم فطرت کا مجنوں پھول بھی ناپید ہو جاے گا۔۔۔تب۔۔۔شاید۔۔۔آخری سرخ پھول کی مستقل معدومیت پر۔۔۔خدا فرشتے سے کہے گا۔۔۔قیامت کا ناقوس بجا دو۔

شام ہو رہی تھی جب ہم کوچ میں سوار ہو کر پانچ کلو میٹر نیچے سڑک پر بنے ایک بینکوئٹ ہال میں آ گئے۔ تھوڑی دیر میں ہی محترمہ مدحت شہزاد سیکریٹری صاحبہ بمعہ ڈی راولا کوٹ، ڈی سی پونچھ اور ایک وزیر صاحب جن کا نام چوہدری سعید بتایا گیا تشریف لے آے۔ ھماری ہاں کی طرح تقریب شروع ہوئی اور آزاد کشمیر کا ترانہ ھم سب نے مل کر گایا۔ مجھے جس چیز نے بہت پریشان کیا وہ تھا کشمیر کے ترانے سے آخری شعر کا غائب ہونا۔
پاکستان کے ساتھ رھے ہیں
پاکستان کے ساتھ رہیں گے!!!
ممکن ہے مجھے غلطی لگ رہی ہو۔(کوئی دوست علم رکھتا ہو تو اس بابت ضرور بتاے) خیر اس تقریب میں ایک پروفیسر ڈاکٹر محمد صغیر خان صاحب نے زبردست تقریر کی اور سب کو کھری کھری سنائیں کہ ٹورازم کی پرموشن سے قبل لوگوں میں صفائی نصف ایمان کا شعور اجاگر ہونا ضروری ہے ورنہ سب قدرتی حسن کوڑے کے انبار کے نیچے دفن ہو جاے گا۔ بعد ازاں وزیر صاحب نے اس پر اٹھاے گئے عملی اقدامات کا ذکر کیا۔۔۔اور چلتے بنے۔ اسی طرح دیگر بیوروکریٹ بھی چلتے بنے اور تقریب تب بلکل افراتفری کا شکار ہو گئی جب پاکستان سے آے سینکڑوں بائکرز کا ریلا اندر آ گھسا۔ وہ سب بے حد شاندار لگ رھے تھے۔۔۔لیکن غیر منظم۔ ان کو شیلڈوں سے نوازا گیا۔ ھمارے Explorers Den کے مالک جمیل رضا صاحب کو بھی شیلڈ عطا ہوئی۔۔۔ہم نے خوب تالیاں بجائیں۔ اسلام آباد سے کسی این جی او کی خاتون صاحبہ چند معذور بچوں کو بھی لائیں ھوئین تھیں۔ ان کو بھی تولی پیر کانفرنس میں شرکت پر شیلڈز اور اسناد عطا ہوئیں۔ دوستو!!! میں نے پہلی بار اتنی کثیر تعداد میں بائکرز کو اتنی شان شوکت میں دیکھا۔ وہیں بائکرز کوئین بھی دیکھی۔ یعنی ایک لڑکی بائکر اور ایک بزرگ بائکر۔ میری بیوی نے دونوں کے ساتھ ایک ایک تصویر بنوائی۔ تقریب میں گانوں کے آغاز پر ایک بھڑکیلے گانے پر میں نے اٹھ کر ڈانس شروع کیا تو سبھی پاکستانی بائکرز بری طرح ڈانس میں کود پڑے۔ خوب مزہ کیا۔ کھانے کا اہتمام تقریب کے آخر پر حکومت آزاد کشمیر کی طرف سے تھا لیکن میں اور بیوی خاموشی سے اٹھ کر سڑک کے پار ہوٹل میں چلے گئے۔ دوستو!!! برائلر مرغ کے گوشت کی لذت سے سر شار ہونا ہے تو پھر تولی گھوڑی مار تولی پیر سے اعلی جگہ شاید نہ ملے۔ بے حد صحت مند مرغیاں۔۔۔اچھلتی کودتی۔۔۔خوب چالاک مرغیاں موقع پر ہی پکڑ کر ذبح کر کے لاجواب پکوائی کے بعد پیش کی جاتی ھیں۔ خیر! رات گئے اپنے خیمہ گاہ میں واپس ہوے۔ تھکاوٹ سے بڑا حال تھا۔ سلیپنگ بیگز میں گھس گئے۔ مجھے پہلے سے ادراک تھا بیوی کے لئے ٹو میں ٹینٹ اور بیگ میں سونا مشکل ہو گا۔۔۔اور وہی ہوا۔ باھر نکلے تو سخت سردی۔۔۔اندر اس کا دم گھٹے۔ میں لیٹا آنکھیں بند کئے بس سنتا اور محسوس کرتا رہا۔ اسی اثنا میں Explorers Den والوں نے بون فائر کا آغاز کر دیا۔ اور کوئی تین سو بائکرز مزید آ پہنچے۔ الاو روشن ھو گے اور پھر سپیکر پر وہ لائو سنگنگ شروع ہوئی کہ الامان الحفیظ! !!! آسمان پر پورا چاند بھی نیلی روشنی کے ساتھ اتنا نیچے آیا محسوس ہو رہا تھا جیسے وہ بھی پورے پاکستان سے ایک مقام پر مجتمع بائکرز کے ساتھ موجود مستی کرنے آیا ہو۔ بیوی تو گانوں کی آواز پر خوش تھی یا پھر خیمے اور سلیپنگ بیگ کی کلفت سے توجہ ہٹا رہی تھی!!! میں بھی اتنے شور شرابہ میں کہاں سو سکتا تھا۔۔۔بس خاموش لیٹا رہا اور سوچتا رہا۔۔۔انسانی دل، نفسیات، فطرت میں انسان کا مقام، بڑھتی آبادی کا بوجھ، محبت ہونا۔۔۔شادی کرنا پھر طلاق کیوں دینا۔۔۔دوستی۔۔۔انسانی تعلقات۔۔۔خوشی کی ضرورت۔۔۔دکھ یا جبر سے فرار۔۔۔بس موضوعات تھے کہ طوفانی لہروں کی مانند امڈے چلے آتے تھے۔ خیر لگ بھگ رات دو بجے کافی بائکرز واپس ہو گئے اور باقی بھی اپنے اپنے ٹینٹس لگا کر سو گئے۔ تب مکمل سکوت طاری ہو گیا۔ سوچا اب تو نیند آ جاے گی۔ لیکن ہمارے کوچ ڈرائور نے بے حد شاندار گانے گاڑی کے اندر لگا دیئے۔ مناسب والیم نے بہت soothing کام کیا۔ نیم غنودگی میں ایک گانا سنا جو یاد رہ گیا۔ زوہیب حسن کا پرانا گانا۔۔۔
اے دل میرے چل رے دھیرے دھیرے دھیرے
تو ذرا سنبھل کے دھیرے دھیرے دھیرے
تو نہیں ہے پیار کی منزل
ایک بار گرا اٹھنا مشکل
ہو ہو اے دل میرے چل رے دھیرے دھیرے دھیرے
پیار نے جادو کیا ایسا روگ لگا
میری نظروں میں دن رات اک سپنا جگا
ہو ہو دل میرے چل رے دھیرے دھیرے دھیرے دھیرے
تو ذرا سنبھل لے دھیرے دھیرے دھیرے
ناداں نہیں دل والے ہم
دنیا نئی متوالے ہم
ہو اے دل میرے چل رے دھیرے دھیرے دھیرے
سانسوں میں خوشبو ہے
آنکھوں میں نشہ
کچھ بدلی ہے زمیں بدلا ہے کچھ آسماں

اے دل میرے چل رے دھیرے دھیرے دھیرے
دوستو! پتہ نہیں کب نیند ائی۔ بیوی سو چکی پہلے ہی سو چکی تھی۔ اسے ٹینٹ میں سلانے کی میری خواہش بلاخر پوری ہو چکی تھی۔ صبح Explorers

 

 

Den کے درویشوں نے نا جانے کہاں سے بہت اچھے ناشتہ کا بندوبست کیا ہوا تھا۔ سب اکتیس مرد و زن نے ملکر بڑے خیمے میں ناشتہ کیا۔ تب ہم نے بھی ڈرائی فروٹس کا مرتبان اور کچھ اعلی کوالٹی کے بسکٹس درمیان رکھ دئیے اور خود سرکاری ناشتہ کیا۔واپسی کے تصور سے دل مغموم تھا۔ بادل امڈ امڈ کر آ رہے تھے۔ سامان لوڈ ہوا سیٹیاں بجیں اور سفید براق کوچ اپنے پائلٹ کے اشارے پر بلبل بن کر اڑنے لگی۔ تولی پیر کی سبز زمرد بزرگ چوٹی کوئی آدھ گھنٹہ ھمیں اپنے بائیں جانب الوداع کرتی رہی۔ 45 منٹ بعد بنجوسہ تھے۔ بنجوسہ جھیل کی خاموش اطراف تو سبحان اللہ لیکن گدلا پانی بقول ڈاکٹر رابعہ خرم نیلے سے گندہ سا سبز پڑ چکا ہے۔۔۔دل کو دکھی کر گیا۔ ایک گھنٹہ وہاں رک کر چنا چاٹ اور چاے نوش کر کے روانگی پکڑی۔ جب ہماری گاڑی سہالہ سے گزر رہی تھی تو میری فرمائش پر زوہیب حسن کا گانا جب چلا تو گاڑی میں ڈانس شروع ہو گیا تب میں نے اپنی زندگی کا حیرت ناک ڈانس دیکھا۔۔۔ھماری گاڑی پوری رفتار پر بھاگتے ہوے گھوڑا ڈانس کرنے لگ گئی۔ یہ تھا ہمارے پائلٹ کا کمال۔ بخدا ایک لوڈڈ گاڑی کو میں نے ڈانس کرتے ھوے کبھی نہ دیکھا تھا۔ روح تھرل کی بلندیوں کو چھو رہی تھی۔ جب لالہ موسی میں ایک گندے

سے ہوٹل پر ہم نے کھانا زہر مار کر لیا تو الوداعی تقریب منعقد ہوئی۔ میری بیوی نے پہلی بار غیر مردوں عورتوں کے مجمع سے خطاب کیا اور Muhammad Jamil Raza صاحب اور ان کی ٹیم کا اتنے کم پیسوں میں ٹور کروانے کا شکریہ ادا کیا اور ان کو پاکستان کے ھیروز اور بہادر ترین مرد قرار دیا۔ خیموں کا ٹاون آباد کرکے سب کو گھر دینے کو علامتی آبادکاری سے منسلک کیا۔ اور گزارش کی کہ تولی پیر کے نام سے واٹس ایپ گروپ کری ایٹ کرکے ایندہ کے لئے ایسے ہی فیملی تورز پلان کرنے کی گزارش کی۔ سب نے ہی اس تجویز پر اتفاق کیا۔ تب میں نے ڈرائور صاحب کو ہزار روپے انعام دیا۔ ایک ریلوے ملازم جناب سیف اللہ صاحب اور ان کی مسز نے بھی ڈرائور صاحب کو پانچ سو روپے انعام دیا۔ وہ ایک طرح سے ہماری الوداعی تقریب تھی۔ میں جانتا تھا ہم کبھی ہی دوبارہ وہی اکتیس لوگ اکٹھے یوں سفر نہ کریں گے۔
دوستو! اکیلے آنے والے مرد حضرات ہم تین کپلز کو دیکھ کر بے حد افسوس میں تھے کہ وہ کیوں اپنی بیویوں کو ساتھ نہ لاے۔ ہم سب اس وقت تک اس قدر گھل مل چکے تھے کہ آنسوؤں کی ڈلک ہر آنکھ میں دیکھی جا سکتی تھی۔ سب ہی۔۔۔سٹاف سمیت بلا تخصیص مرد و عورت انسانی انس و پیار کی ایک لڑی میں پروے جا چکے تھے۔ محمد جمیل رضا صاحب نے بھی کہا کہ میں ان گنت ٹورز لے جا چکا ہوں لیکن ایسے شاندار لوگوں کا ساتھ پہلی بار نصیب ہوا۔۔۔میں نے اعتبار کر لیا۔۔۔کیونکہ ان کے چہرے کا اطمینان ایک سچے انسان ہونے کا غماز تھا۔
دوستو! ھم سب کو حکومت آزاد کشمیر کی طرف سے یادگاری اسناد بھی ملیں۔ اور ھم اکتیس انسان کیسے اجنبیت سے محبت و موانست کی لڑی میں بندھے۔۔۔کیسے کیسے نابغہ بائکرز سے ملاقاتیں ھوئیں اور کیسے ایک بہت بڑا پاکستانی پرچم تولی پیر پر کھولا گیا۔۔۔لمبی تفصیل ھے۔
بس لالہ موسی کے ہوٹل کے بعد ہم سواریاں سفید بلبل سے اترتے گئے۔ ڈرائور نے مجھ سے آخری بات یہ کی تھی کہ اس کی گاڑی اگلے آٹھ دن کے لئے گلگت کے لئے فون پر بک ہو چکی تھی۔
وما علینا الا البلاغ المبین!

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

ٹیلنٹ کو ضائع ہونے سے بچائیے ۔۔۔فرخ شہباز وڑائچ

ٹیلنٹ کو ضائع ہونے سے بچائیے  فرخ شہباز وڑائچ یہ سوچنا کافی دشوار ہے کہ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے